کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بلیک آوٹ

ایم مبین


۲۴گھنٹوں  سے  زائد ہو گئے  تھے  بجلی نہیں  آئی تھی اور دن بھر جو اطلاعات ملتی رہی تھیں  ان سے  تو یہ محسوس ہوتا تھا کہ ابھی اور شاید۲۴گھنٹے  بجلی نہ آئے۔

 ۲۴گھنٹے  کس طرح گزریں  گے  سوچ سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ ۲۴گھنٹے  تو گزر گئے  لیکن کس طرح گزرے  اس کی روداد جیسے  صدیوں  پر محیط تھی۔

 شام چھ بجے  جب اندھیرا دھیرے  دھیرے  چاروں  طرف پھیلنے  لگا تھا اچانک بجلی چلی گئی تو کسی نے  بھی اس جانب توجہ نہیں  دی۔ کسی بھی وقت چلا جانا اور کسی بھی وقت وارد ہونا بجلی کا معمول تھا۔ اس لئے  بجلی کے  چلے  جانے  پر کسی نے  توجہ نہیں  دی۔ سب کو اطمینان تھا ایک دو گھنٹے  میں  آ جائے  گی کیونکہ لوڈ شیڈنگ کا نام پر محکمہ دن میں  سات گھنٹے  بجلی بند رکھ کر اپنا کوٹا پورا کر چکا تھا۔

وہ صرف یہی دعا مانگ رہی تھی کہ بجلی آٹھ بجے  آ جائے  تو بہتر ہے  آٹھ بجے  پانی آتا ہے۔ ٹانکی پوری خالی ہے۔ اگر آٹھ بجے  کے  بعد آئی تو پانی نہیں  ملے  گا اور ۲۴گھنٹے  پانی کی پریشانی جھیلنی پڑے  گی۔

لیکن ۸تو بجا مگر جب ۱۰بھی بج گئے  تو اس کے  چہرے  پر ہوائیاں  اڑنے  لگیں  اور چہروں  پر پریشانیوں  نے  ایک جال بننا شروع کر دیا۔

اب تو پانی ملنے  سے  رہا۔ گھر میں  پانی نہیں  ہے۔ اگر اس وقت بجلی آ بھی گئی تو سویرے  ۷بجے  جب پانی آتا ہے  پھر چلی جائے  گی اور سویرے  بھی پانی نہیں  مل سکے  گا۔ اس طرح بن پانی کے  سارا دن کس طرح گزرے  گا؟ایک سوال پریشان کرنے  لگا۔

راجو کے  دسویں  کے  امتحانات چل رہے  تھے۔ وہ آٹھ بجے  کے  قریب ٹیوشن سے  واپس آیا تھا اس کا ارادہ تھا کھانا کھانے  کے  بعد وہ دو تین گھنٹہ اسے  لیکر بیٹھے  گی اور اس کے  پورشن کا ایک بار پھر اعادہ کرا دے  گی۔

 دو دنوں  سے  یہ معمول چل رہا تھا۔ راجو ایک بار پورا پورشن ختم کر لیتا تو اس کے  دل کو بھی اطمینان ہو جا اور راجو بھی خوش ہو جاتا اس سے  اس کو کافی فائدہ پہونچ رہا تھا وہ اچھی طرح امتحان میں  جوابات لکھ رہا تھا۔ ٹیوشن میں  بھی یہی ہوتا ہے  لیکن اسے  ٹیوشن پر اطمینان نہیں  تھا۔

جب تک راجو اس کے  سامنے  ممکنہ سوالات کے  اچھی طرح جوابات نہیں  دے  دیتا تھا اسے  اطمینان نہیں  ہوتا تھا۔ اس طرح سے  ایک طرح سے  راجو کا امتحان بھی ہو جاتا تھا کہ اس پرچے  میں  وہ کتنا پانی میں  ہے  اور کس طرح پرچہ لکھ کر کتنے  مارکس حاصل کر پائے  گا۔

 لیکن بجلی کے  چلے  جانے  سے  سب کچھ گڑبڑا گیا تھا۔

منی کر کر کر رہی تھی۔

’’ممی مجھے  ہو م ورک کرنا ہے  ! پاور کب آئے  گی؟میں  نے  ہوم ورک نہیں  کیا تو ٹیچر مارے  گی۔

’’پاور آ جانے  کے  بعد ہوم ورک کر لینا۔ اس نے  منی کو سمجھایا سنتوش آٹھ بجے  کے  قریب آیا تو پسینے  میں  شرابور تھا۔

’’پوئے  شہر میں  کہیں  بھی پاور نہیں  ہے۔ ایک ساتھ پورے  شہر کی پاور مشکل سے  جاتی ہے۔ لگتا ہے  کوئی بہت بڑا فالٹ ہوا ہے۔ پاور جلدی نہیں  آئے  گی۔ ‘‘

سنتوش کی بات پر اس نے  کلیجہ تھام لیا تھا۔

’ایسا مت کہو۔۔ راجو کے  امتحانات ہے۔ گھر میں  پانی کا ایک قطرہ نہیں  ہے۔ گرمی کا موسم ہے۔ سخت گرمی پڑرہی ہے۔ مچھروں  کی بہتات ہے۔ اگر پاور رات بھر نہیں  آئی تو ہم کس طرح رہ پائیں  گے۔ ؟‘‘

’میں  سچ کہہ رہا ہوں  یا جھوٹ معلوم ہو جائے  گا۔ ‘‘سنتوش مسکرا کر بولا۔ راجو اور سنتوش کے  آنے  کے  بعد اس نے  طے  کیا بنا پاور کے  آنے  کی راہ دیکھے  رات کے  کھانے  سے  فارغ ہو جانا چاہیے۔

 اس نے  سب کو حکم دیا۔ ہاتھ منہ دھوکر کچن میں  آئیں۔ رات کا کھانا کھا لیتے  ہیں۔

 بتی کی روشنی میں  انھوں  نے  کھانا کھایا۔ بچے  ڈرائنگ روم میں  باپ کے  ساتھ باتوں  میں  لگ گئے  وہ جھوٹے  برتن دھونے  لگی۔

 ان سے  فارغ ہوئی تو ساڑھے  نو بج گئے  تھے۔

’’ممی پاور کب آئے  گی؟مجھے  ہوم ورک کر نا ہے۔ اسے  ڈرائینگ روم میں  آتے  دیکھ کرمنی پھر سے  کہہ اٹھی۔

’’پاور آ جائے  تو ہوم ورک کر لینا ورنہ چپ چاپ سوجا نا میں  سویرے  جلدی اٹھا دوں  گی۔ جلدی اٹھ کر ہوم ورک کر لینا اور اسکول چلی جانا‘‘ ا س نے  منی کو سمجھایا تو اس کی سمجھ میں  آ گیا۔

’آج ورلڈ کپ کا بہت اہم میچ تھا۔ پاور نہیں  آئے  گا تو میچ کس طرح دیکھ سکوں  گا۔

’’سنتوش بڑبڑایا۔ ‘‘

تمہیں  تو صرف کرکٹ کے  علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہیں  ہے۔ وہ سنتوش پر بھڑک اٹھی‘اس بات کا بھی ذرا بھی احساس نہیں  ہے  کہ بچے  کے  دسویں  کے  امتحانات چل رہے  ہیں۔۔ ‘‘

’کوئی بات نہیں  کم سے  کم اسکور تو معلوم کر لیتا ہوں۔ ‘کہتے  ور اپنے  ایک دوسرے  شہر کے  دوست کو موبائل لگانے  لگا۔

’اجے۔ یار ہمارے  شہر میں بجلی نہیں  ہے۔ اسکو ر کیا ہوا بتاؤ گے ؟‘‘

ممی!آج ریوزن نہیں  کرنا ہے  ؟راجو نے  اسے  ٹوکا۔

’’کرنا ہے۔ ‘‘

’’لیکن موم بتی میں۔ ’اور کوئی راستہ بھی نہیں  ہے۔ اس نے  کہا تو راجو بادل ناخواستہ موم بتی کی روشنی میں پڑھنے  بیٹھ گیا۔

لیکن وہ آدھے  سے  بھی کم پورشن مکمل کر سکے۔

’ممی!موم بتی کی روشنی میں  پڑھا نہیں  جا رہا ہے۔ آنکھیں  درد کر رہی ہیں۔ ’’وہ کیا کر سکتی تھی۔ بے  بسی سے  راجو کو دیکھنے  لگی پھر بولی۔ ‘‘

’جاؤ سو جاؤ۔ بجلی آئے  گی تو میں  جگادوں  گی۔ اور ہم پورشن مکمل کر لیں  گے۔ ’’دن بھر کے  تھکے  ماندے  راجو کو شاید اسی بات کا انتظار تھا۔ ‘‘

فوراً بستر کی طرف دوڑا۔

تھوڑی دیر بعد راجو اور منی گہری نیند میں  کھو گئے۔

ایک دو بار وہ جا کر بلڈنگ کی ٹیرس سے  شہر کا نظارہ کر آئی۔

یوں  تو ان کے  فلیٹ سے  بھی سڑک کا نظارہ صاف دکھائی دیتا تھا۔ لیکن ٹیرس سے  شہر کا ایک بڑا حصہ دیکھا جا سکتا تھا۔

سارا شہر اندھیرے  میں  ڈوبا تھا۔

مکمل بلیک آؤٹ۔

 جن گھروں  اور دکانوں  میں  انور ٹریا جنریٹر کا انتظام تھا۔ ان سے  روشنی پھوٹ کر تاریکی کے  کچھ حصے  کے  راج کا خاتمہ کرنے  کی کوشش کر رہی تھی۔

 ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ پورے  شہر کی بجلی ایک ساتھ چلی جائے۔ ایک آدھ حصے  کی بجلی جاتی تھی تو باقی حصہ روشن رہتا تھا بلڈنگ کی ٹیرس سے  صاف دکھائی دیتا تھا کس شہر کے  کن حصے  میں  بجلی ہے  اور کس حصے  میں  نہیں۔

لیکن مکمل بلیک آؤٹ کے  حالات بہت کم پیدا ہوتے  تھے۔

اس نے  اپنے  ماں  باپ سے  سنا تھا کہ جنگ کے  زمانے  میں  کس طرح بلیک آؤٹ کیا جاتا تھا۔

 شہر کی سڑکوں  کی تمام بتیاں  گل کر دی جاتی تھیں۔

شہر والوں  کو ہدایت دی جاتی تھی کہ وہ اپنے  گھروں  کی کھڑکیاں  اور دروازے  بند رکھیں۔ روشنی کی ایک کرن بھی باہر نہ آنے  پائے۔

بلیک آؤٹ کی وجہ سے  سارا شہر تاریکی میں  ڈوب کر اس کا ایک حصہ بن جائے۔ تاکہ دشمن کے  ہوائی جہاز اگر حملہ کرنے  کے  لئے  آئے  بھی تو انھیں  اندازہ لگانا مشکل ہو آ جائے  کہ شہر کہاں  ہے  اور وہ شہر پر حملہ نہ کر سکیں۔

لیکن یہ امن کے  زمانے  کا بلیک آؤٹ تھا۔

نیچے  آئی تو سنتوش موبائل پر اپنے  دوست سے  میچ کا اسکور معلوم کر رہا تھا۔

’اب چپ چاپ سوجاؤ۔ اسکور معلوم کر کے  پیسے  برباد مت کرو۔ صبح نتیجہ معلوم ہو جائے  گا۔ وہ جھنجھلا کر بولی۔

‘اس اندھیرے  اور گرمی میں  نیند کہاں  سے  آئے  گی۔

’جب بچے  سوگئے  تو تمھیں  کیوں  نیند نہیں  آئے  گی؟‘‘

اس کے  زور دینے  پر سنتوش پلنگ پر لیٹ گیا تھا لیکن گرمی کی وجہ سے  کافی دیر تک سو نہیں  سکا تھا۔

اسے  بھی بہت دیر تک نیند نہیں  آئی پھر پتہ نہیں  کب آنکھ لگ گئی۔

آنکھ کھلی تو صبح ہو گئی تھی اور ہلکی ہلکی روشنی پھیل رہی تھی۔

اس نے  بچوں  کو جگایا۔

بجلی نہیں  آئی تھی۔ اس کا مطلب تھا رات بھر پورا شہر اندھیرے  میں  ڈوبا رہا۔

اسنے  منی کو ہوم ورک کرنے  بٹھا دیا۔ اور راجو کو اعادہ کرنے۔

سنتوش سوتا رہا۔ وہ بچوں  اور سنتوش کے  لئے  ناشتہ تیا ر کر کے  اس نے  اسے  اسکول بھیج دیا۔

راجو کا ریویزن مکمل ہو گیا تو اس نے  امتحان گا ہ میں  جا کر وہاں  پر مطالعہ کرنے  کی خواہش ظاہر کی تو اسنے  اسے  بھی ناشتہ کرا کے  رخصت کر دیا۔

تھوڑی دیر بعد سنتوش بھی جاگ گیا تھا۔ وہ بھی تیار ہو گیا اور ناشتہ کر کے  ٹفن لیکر آفس چلا گیا۔

 وہ گھر میں  اکیلی رہ گئی تھی سینکڑوں  مسائل کا سامنا کرنے  کے  لئے۔

گھر میں  پانی کی ایک بوند نہیں  تھی۔

سامنے  جھوٹے  برتنوں کا ڈھیر تھا۔ اور کپڑوں  کا بھی۔

گھر کی صفائی باقی تھی۔

کپڑے  تو خیر دوسرے  دن پر بھی اٹھا کر رکھے  جاسکتے  تھے۔ لیکن جھوٹے  برتن کپڑے  ایک دو گھنٹے  میں  ان سے  بدبو آنے  لگی گی لیکن ان کو دھونے  کے  لئے  پانی کہاں  سے  آئے ؟

پتہ چلا کہ نیچے  بلڈنگ کی ٹانکی کھولی گئی ہے۔ ضرورت مند اس سے  پانی لے  رہے  ہیں۔

چار منزل اتر کر بلڈنگ کی ٹانکی سے  پانی لانے  کے  تصور سے  ہی اس کی جان فنا ہونے  لگتی تھی۔

لیکن مجبوری ایسی تھی کہ پانی لانا بہت ضرورت تھا۔

مجبوراً وہ ایک ہنڈا لیکر چار منزلہ سیڑھیوں سے  نیچے  اتری۔

لیکن دو ہنڈوں سے  زیادہ پانی نہیں  بھر سکی۔

۱۵،۲۰لیٹر پانی کا ہنڈا لے کر چار منزلہ عمارت کی سیڑھیاں  طے  کرنا۔ دل کی دھڑکنیں  تیز ہو جاتی تھیں۔ سانسیں  دھونکنی کی طرح چلنے  لگتیں  اور جسم پسینہ پسینہ ہو جاتا تھا۔

اس نے  جو پانی تھا اسی پر قناعت کر نا ضروری سمجھا۔

کم سے  کم پینے  کے  لے  پانی تو مل گیا۔

بڑی کفایت شعاری سے  ضروری جھوٹے  برتن دھوئے۔

فریج بند تھا اس میں  بہت سا سامان تھا۔ سبزیاں،گوشت،مچھلی،بچا ہوا پکا ہوا کھانا۔

وہ ہفتے  بھر کے  لئے  ضروری سبزیاں،مچھلی گوشت لا کر فریج میں  رکھ دیتی تھی تاکہ بار بار مارکیٹ نہ جانا پڑے۔

لیکن فریج بند ہو جانے  کی وجہ سے  انکی حالت دیکھ کر پسینے  چھوٹنے  لگے  تھے۔

اگر پاور نہیں  آئی تو ساری سبزیاں،مچھلی گوشت خراب ہو جائیں  گے۔ اتنے  پیسے  حرام میں  جائیں  گے۔

دوپہر تک یہ آس تھی کہ پاور آ جائیگی تو ان مسائل سے  نجات مل جائے  گی لیکن دوپہر کے  وقت ایک ایسی خبر آئی جس کو سن کر سارا شہر دہل گیا۔

پتہ چلا کہ شہر کو بجلی سپلائی کرنے  والے  پاوراسٹیشن میں  سر کٹ کی وجہ سے  آگ لگ گئی ہے  جس کی وجہ سے  سب اسٹیشن کا بہت نقصان ہوا ہے۔

اور ممکن ہے  کہ کئی دنوں  تک شہر کو بجلی کی سپلائی بحال نہ ہو سکے۔

اس خبر سے  شہر کی عورتیں  فکر مند ہو گئیں۔

بلڈنگ کی عورتیں  کچھ زیادہ ہی پریشان تھیں۔

’بجلی نہیں  آئے  گی تو پانی کس طرح ملے  گا؟پانی نہیں  ملے  گا تو سارے  کام کاج کس طرح چلیں  گے ؟‘‘

’’بچوں کے  امتحانات ہیں۔ بجلی نہیں  ہو گی تو وہ کس طرح اسٹیڈی کر پائیں  گے ؟پڑھائی نہیں  ہو گی تو امتحانات میں انھیں  اچھے  نمبر نہیں  ملے  گے۔ ان کی زندگی تباہ ہو جائے  گی۔

وغیرہ وغیرہ سینکڑوں  باتیں  ہوتیں۔

’شہر کو شنگھائی بنانے  کی باتیں  کی جاتی ہیں۔ بجلی کی سپلائی بحال کر نے  کے  انتظامات نہیں  ہیں  شہر شنگھائی کہاں  سے  بن پائے  گا۔

دوپہر میں  راجو امتحان دیکر لوٹا تو کچھ اداس تھا۔

’’کیا بات ہے  راجو پرچہ تو ٹھیک گیا نا؟‘‘اس نے  راجو کی صورت دیکھ کر اپنا دل تھا م لیا تھا۔

’’مشکل گیا ہے  ممی!اسٹیڈی نہیں  ہو سکی نا۔ ‘‘راجو نے  سر جھکا کر جواب دیا اس کی آنکھوں کے  سامنے  اندھیرا چھانے  لگا اسے  لگا جیسے  اس کی سال بھر کی محنت پانی میں  گئی۔ راجو کا کیریئر تباہی کے  دہانے  پر ہے۔

آج بھی بجلی نہیں  رہے  گی۔ ممکن ہے  کل بھی نہ رہے۔۔ اس طرح راجو کے  اور دو پرچے  خراب جاسکتے  ہیں۔ اس کے  بعد اور کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔ ؟

موبائل کی بیٹریاں  بھی ڈاؤن ہو گئی تھیں۔ انھیں  چارج نہیں  کیا جاسکتا تھا۔

ریلائنس اور ٹا ٹا کے  نیٹ ورک نے  کام کر نا بند کر دیا تھا۔

کیونکہ ان کے  نیٹ ورلس میں  بجلی نہ ہونے  کی وجہ سے  بیٹریاں  ڈاؤن ہو چکی تھیں۔

موبائل کا رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔

سڑکوں  پر بھیڑ نظر آنے  لگی تھی۔

اس بھیڑ میں  زیادہ تعداد ان مزدوروں  کی تھی جو کا خانوں  اور فیکٹریوں  میں  کام کرتے  تھے۔ بجلی نہ ہونے  کی وجہ سے  وہ فیکٹریاں  اور کار خانے  بند تھے  وہ بیکار تھے۔ وقت گزارنے  کے  لئے  وہ سڑکوں  پر آوارہ گردی کر کے  وقت گزار رہے  تھے۔

شام ہوتے  ہوتے  پھر ایک سیاہ،گھنا تاریک اندھیرا چاروں  طرف پھیل کر شہر کو اپنی شیطانی گرفت میں  لینے  کی کوشس کر نے  لگا۔

رات ہوتے  ہوتے  شہر تاریکی کی اندھیری گپھا میں  کھو گیا۔

کل تو بھی سڑکوں  پر کچھ روشنیاں چھن کر آ رہی تھیں۔

لیکن انور ٹر کی بیٹریاں  ڈاؤن ہو جانے  کی وجہ اب وہاں  پر بھی تاریکی پھیلی ہوئی تھی جن دوکانوں  میں  جنریٹر تھے  صرف وہاں  ہلکی ہلکی روشنی دکھائی دے  رہی تھی۔ جو اس جگہ کو منور کر رہی تھی۔

باقی ایک مکمل بلیک آؤٹ سارے  شہر کو اپنے  اندر سمیٹے  ہوئے  تھا۔

کب بجلی آئے  گی کسی کو پتہ نہیں  تھا۔ کوئی اڑتی اڑتی خبر بھی اس بارے  میں  نہیں  آتی تھی نہ کوئی افواہ پھیلتی تھی۔ صرف کبھی کبھی خبر آ جاتی تھی کہ سب اسٹیشن میں  رپیرنگ کا کام چل رہا ہے۔

مرمت کا کام کتنا ہو ا ہے۔ کتنا باقی ہے  کام کب ختم ہو گا اس سلسلے  میں  کوئی خبر نہیں  تھی۔

اس دن راجو چھ بجے  ہی ٹیوشن سے  واپس آ گیا۔

’’یوں  راجو اتنی جلدی ٹیوشن سے  کیوں  آ گئے۔

’ٹیوشن کلاس میں  بیٹری ڈاؤن ہو گئی ہے  کوئی دوسرا انتظام نہیں  ہے  اس لئے  سر نے  چھٹی دے  دی ہے  اور کہا ہے  کہ اپنے  اپنے  گھروں  میں  اسٹیڈی کریں۔ ؟

لیکن گھر تو اندھیرے  میں ڈوبے  تھے۔

موم بتی کی روشنی میں  کہاں  سے  پڑھائی ہو سکتی تھی۔ ؟

۸۔ ۱۰بجے  تک باہر بھٹکنے  والا سنتوش بھی چھ بجے  گھر آ گیا تھا۔

’کیوں  !کیا بات ہے۔ آج جلدی گھر واپس آ گئے ‘‘ اس نے  اسکا مذاق اڑانے  والے  انداز میں  پوچھا تھا۔

’سارا شہر تاریکی میں  ڈوبا ہے  چاروں  طرف اندھیرے  کا راج ہے۔ سڑک پر ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں  دیتا ہے  صرف سواریوں  کی ہیڈ لائٹ سے  جو روشنیاں  ہو جاتی تھیں  انہی کی روشنی میں  لوگ آ جا رہے  ہیں۔ تو پھر بھلا میں  اور میرے  دوست اندھیرے  میں  کہا بھٹکے ؟سب نے  فیصلہ کیا چپ چاپ اپنے  گھروں  کو واپس چلے  جائیں  اسی میں  ہماری بھلائی ہے۔۔ ‘‘

اس رات انھوں  نے  سات بجے  ہی کھانا کھا لیا۔

کیونکہ دیر کر نے  کی کوئی وجہ نہیں  تھی۔

اندھیرا بڑھتا ہی جا رہا تھا۔

کھانا کھانے  کے  بعد موم بتی کی روشنی میں  باتیں  کر تے  بیٹھے  رہے۔

راجو بے  چین تھا۔

’’ممی !مجھے  بہت اسٹیڈی کرنی ہے۔ ‘‘

’موم بتی کی روشنی میں  پڑھائی کر پاؤ گے ؟

’نہیں  ممی! پاور کب آئے  گی؟

’’یہ تو کوئی نہیں  بتا سکتا۔ ‘‘

گرمی اس کمرے  میں  بھر نے  لگی۔ مچھر کانوں  کے  پاس گنگنانے  لگے۔ اور بدن میں  اپنے  ڈنک چبھونے  لگے۔

جسم سے  پسینے  کی دھاریں  بہنے  لگیں۔

جیسے  جیسے  رات گزر رہی تھی اندھیرا بڑھتا ہی جا رہا تھا۔

بلیک آؤٹ

ایک گہرا مکمل بلیک آؤٹ۔

***