کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

چارہ گری

ایم مبین


شا م گھر آنے  تک جو جو واقعات اس کے  ساتھ ہوئے  اس کی وجہ سے  ذہن میں  ایک تناؤ چھایا ہوا تھا۔

سویرے  لوکل ٹرین میں  آفس جاتے  ہوئے  سیٹ پر سے  ایک عورت سے  تکرار ہو گئی تھی ٹرین میں  کافی بھیڑتھی۔ وہ عورت آئی اور اس سے  تھوڑا ا سرکنے  کے  لئے  کہا۔ سیٹ پر صرف تین عورتیں  بیٹھی تھیں۔ تھوڑا سرکنے  پر چوتھے  کی گنجائش نکل سکتی تھی۔ لیکن اسے  علم تھا اگر وہ سرک گئی اور وہ عورت سیٹ پر بیٹھ گئی تو پورا راستہ اسے  تکلیف میں  سفر کرنا پڑے  گا۔ اس لیے  فوراً بول اٹھی۔

’’اگر سرک بھی جاؤ تو،کہاں  جگہ ہو پائے  گی۔ ‘‘

’ارے  تھوڑا سرک گئی تو تیرا کیا بگڑ جائے  گا۔ موٹی بھینس خود تو دو سیٹوں  کی جگہ گھیر کر بیٹھی ہے۔

’’مجھے  موٹی بھینس کہا !اس کا پارہ چڑھ گیا۔ ‘‘

’’موٹی ہے  تو موٹی نہیں  تو کیا دبلی کہوں۔ ‘‘  عورت بھی اس سے  الجھ گئی۔

بات بڑھ جاتی لیکن آس پاس بیٹھی ایک دو عورتوں  نے  بیچ بچاؤ کر کے  معاملہ ٹال دیا۔

وہ روزانہ ان کے  ساتھ آتی جاتی تھی اس لئے  شناسائی تھی۔

ابھی اس معاملے  کا تناؤ کم بھی نہیں  ہوا تھا کہ آفس میں  باس سے  جھگڑا ہو گیا۔

اس سے  ایک غلطی ہو گئی۔ اور باس کے  منہ سے  نکل پڑا۔

’’تم جنتی موٹی ہو ا تمھاری عقل بھی اتنی موٹی ہے  ‘‘

اور وہ آپے  سے  باہر ہو گئی۔ بنا یہ سوچے  کہ باس سے  الجھنا اچھی بات نہیں  ہے۔

’’دیکھئے  سر آپ مجھے  کچھ بھی کہیں ؟لیکن میرے  موٹاپے  کا مجھے  طعنہ نہ دیجئے۔ غلطی مجھ سے  ہوئی ہے  اس میں  میرے  موٹاپے  کا کیا دخل۔ ؟‘‘

باس کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اس نے  اپنی غلطی مانتے  ہوئے  معافی مانگ لی۔ لیکن باس اپنے  ماتحت سے  معافی مانگے  ماتحت کے  لئے  اس سے  بڑھ کر کوئی سزا نہیں  ہو سکتی۔

 دن بھر اسے  اس کی سزا بھگتنی پڑی تھی۔

باس نے  پانچ زائد کام اس پر لاد دئیے  تھے۔ اور کام پورا نہ ہونے  پر دل کھول کر باتیں  سنائی تھیں۔

اس وقت اسے  اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔

’’موٹی ‘‘کہنے  پر اسے  باس سے  الجھنا نہیں  چائیے  تھا۔

لیکن بات ہی کچھ ایسی تھی کہ ’موٹی ‘سنتے  ہی وہ آپے  سے  باہر ہو جاتی تھی۔

آفس سے  واپسی پر سینڈل خریدنے  ایک دکان میں  گئی تو سیلز میں  نے  اسے  دیکھ کر مذاق سے  کہہ دیا۔

’’ساری میڈم !آپ کے  ناپ کی سینڈل موجود نہیں  ہے۔ آپ کے  ناپ کے  لئے  کمپنی کو اسپیشل آرڈر دینا پڑیگا۔ کیونکہ آپ دنیا میں  اپنے  آپ میں  یونک سائز ہیں۔ ‘‘

سیلز میں  نے  خوش مز اجی کا مظاہر ہ کیا تھا لیکن وہ سمجھی اس نے  اس کے  موٹاپے  کا مذاق اڑایا ہے۔

اور اس سے  الجھ پڑی۔ سیلز میں  لاکھ اسے  سمجھاتا رہا کہ اس کا منشائاس کے  موٹاپے  کا مذاق اڑانا نہیں  تھا لیکن وہ نہیں  مانی۔ اور آخر سیلز مین کو بھی معافی مانگنی پڑی۔ دراصل زندگی میں  اتنے  واقعات اس کے  ساتھ پیش آئے  تھے  اور اپنے  موٹاپے  کی وجہ سے  وہ لوگوں  سے  اتنی بار الجھ چکی تھی کہ چند جملے  اسے  یاد ہو گئے  تھے  اور وہ اس ہنر میں  یکتا ہو گئی تھی کہ اس جملوں  کا استعمال کر کے  کس طرح اپنا مذاق اڑانے  والوں  کوسبق سکھانا چاہئیے  اسے  معافی مانگنے  پر مجبور کر نا چائیے۔

آج تک ایسا کبھی نہیں  ہو ا تھا کہ اسے  معافی مانگنی پڑی۔ یا تو اسے  چھڑنے  والے  کو اس سے  اپنے  رویے  کی معافی مانگنی پڑی یا سامنے  والا اڑ گیا تو لوگوں  نے  مصالحت کرا دی۔

کوئی اسے  موٹا کہے  یا اس کے  موٹاپے  کا مذاق اڑائے  وہ اس معاملے  میں  بہت جذباتی ہو جاتی تھی۔

اس لئے  گھر والے،اس کی سہیلیاں  اسے  سمجھاتی رہتی تھیں۔

’’رشمی!اس معاملے  میں  اتنا غصہ ہو کر سامنے  والے  سے  الجھنے  اور اتنا جذباتی ہونے  کی کوئی ضرورت نہیں  ہے۔ تم موٹی ہو یہ تو حقیقت ہے۔ تم اس حقیقت کو قبول کر لو تو تمہارے  آدھے  تناؤ دور ہو جائیں  گے۔ اگر خوبصورت کو کوئی خوبصورت نہیں  تو کیا بد صورت کہے  گا۔ تم یہ ما ن لو سچ مچ میں  بہت موٹی ہوں۔ اس کے  بعد تمہیں  کوئی موٹی بھی کہے  گا تو معاملہ نہیں  الجھے  گا۔ ‘‘

وہ لاکھ چاہتی کہ وہ اس سچائی کو قبول کر لے۔

لیکن شاید وہ اس سچائی سے  فرار حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس معاملے  میں  اس کے  دل اور ذہن کا دخل زیادہ تھا۔ وہ ہزار بار سوچتی کہ اگر آئندہ کوئی اسے ’’ موٹی ‘‘کا طعنہ دے  گا یا موٹی کہہ کر مخاطب کریگا تو و ہ اس کی بات کا مسکرا کر جواب دیکر معاملے  کو ٹال دے  گی۔

لیکن اس کا ذہن اس لفظ کو سنتے  ہی بھڑک اٹھتا تھا اور سارا معاملہ گڑبڑ ہو جاتا تھا۔

بچپن میں  وہ ایسے  مزاج کی نہیں  تھی۔

جب بھی کوئی اسے  موٹی کہتا وہ مسکرا کر ا س کا جواب دیتی تھی۔

بلکہ اس کی سہیلیاں  اور رشتہ دار تو اسے  موٹی کہہ کر ہی مخاطب کر تے  تھے۔

وہ کبھی اپنے  موٹاپے  کے  بارے  میں  سوچتی بھی نہیں  تھی۔

لیکن جیسے  ہی اسنے  جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا اسے  شدت سے  اپنے  موٹاپے  کا احساس ہونے  لگا۔ اور وہ اس احساس کی شدت سے  چڑچڑی ہو گئی تھی۔

کیونکہ جوانی میں  قدم رکھنے  کے  باوجود موٹاپے  کی وجہ سے  اس کا شمار لڑکی میں  نہیں  عورت میں  ہونے  لگا تھا۔

سب اسے  لڑکی کم عورت زیادہ سمجھتے  تھے۔

اس سے  بڑی عمر کی لڑکیاں  اور لڑکے  بھی اسے ’’ آنٹی ‘‘کہہ کر مخاطب کر دیتے  تھے۔ اور وہ اس وقت جھنجھلا جاتی تھی اور ان سے  الجھ کر وبال کھڑا کر دیتی تھی۔

بچپن میں  ماں  باپ اپنے  بچوں  کو موٹا دیکھ کر خوش ہوتے  ہیں۔

کیونکہ بچوں  کا موٹاپا انکی صحت مندی کی علامت ہوتی ہے۔

بڑھتی عمر کے  ساتھ جب ان کے  موٹاپے  میں  اضافہ ہوتا جاتا ہے  تو ماں  باپ تھوڑے  فکر مند ہوتے  ہیں۔

اور اگر بچہ لڑکی ہو تو تشویش میں  مبتلا ہو جاتے  ہیں  اور اس کے  موٹاپے  کا علاج کر نے  کی سوچتے  ہیں لڑکی ذات کا زیادہ موٹا ہونا اچھی بات نہیں  ہے  موٹاپے  کی وجہ اس کی شادی بیاہ میں  پریشانیاں  کھڑی ہو سکتی ہیں۔

جب اس نے  جوانی کی دہلیز میں  قدم رکھا تو اس کے  ماں باپ کو بھی اس کے  موٹاپے  کی وجہ سے  تشویش ہونے  لگی۔ انھوں  نے  اس سلسلے  میں  کی ڈاکٹروں  سے  رجوع کیا۔

اس کی کی ٹسٹ کئے  گئے  اور اسے  کئی دوائیاں  اور انجکشن دئے  گئے۔ لیکن اس کے  موٹاپے  میں  کوئی فرق نہیں  آیا بلکہ وہ بہ تجرید بڑھتا ہی گیا۔

ڈاکٹروں  کا کہنا تھا کہ اس کے  جسم میں  ہارمون بہت زیادہ ہیں۔

لاکھ علاج کے  باوجود ان کی مقدار میں  کمی نہیں  ہو پا رہی ہے۔ اس وجہ سے  اس کا موٹاپا کم ہونے  کی بجائے  بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

دوائیوں  کے  اثر سے  ہارمون کے  بننے  کی رفتار میں  کچھ حد تک کمی ہوئی ہے  جس کی وجہ سے  موٹاپے  سے  نجات حاصل نہیں  ہو سکتی۔

اسی لیے  ۲۲سالوں  کو پار کرتے  کرتے  اس کا وزن ۸۰کلو کے  قریب ہو گیا تھا۔ اونچائی ساڑھے  پانچ فٹ کے  قریب اور بدن کا سائز ۸۰۔ ۶۴۔ ۷۰ہو گیا تھا۔

پڑھنے  لکھنے  میں  وہ بہت ذہین تھی۔ اسی وجہ سے  اس نے  بی ایس سی کا کورس بھی کر لیا تھا ا س دوران اس نے  ایک کمپیوٹر کا کورس بھی کر لیا تھا جس کی وجہ سے  اس کے  ایک پرائیوٹ کمپنی میں  سسٹم اینالاسس کی نوکری مل گئی تھی۔

اس کے  تنخواہ بیس ہزار کے  قریب تھی۔

جوانی کا جوش اور طاقت کی وجہ سے  موٹاپا جسمانی طور پر اس کے  روز مرہ کے  کاموں میں  کہیں  حائل نہیں  ہو تا تھا۔

وہ اتنے  موٹے  ڈیل ڈول کے  ساتھ اس رفتار سے  چلتی تھی کہ دبلے  پتلے  لوگوں  کو بھی اس کی رفتار سے  رشک ہوتا تھا۔

سارے  کام اس پھرتی سے  انجام دیتی تھی جیسے  عام آدمی پھرتی سے  اپنے  روز مرہ کے  کام کرتے  ہیں۔

اسے  اپنے  موٹاپے  کی وجہ سے  کوئی تکلیف نہیں  تھی نہ زیادہ چلنے  سے  سانس پھولتا تھا نہ کسی کام سے  دم گھٹتا تھا۔

وہ چلتی تھی تو لوگوں  کو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے  گوشت کا کوئی پہاڑ چلا آ رہا ہے۔ اس کے  ڈیل ڈول سے  ہر کوئی تصور کرتا تھا کہ اس کا چہرہ بھی اس کے  ڈیل ڈول کی طرح بھدا ہو گا۔

لیکن چہرے  پر نظر ڈالتے  ہی ہر کوئی دھوکہ کھا جاتا تھا۔

اس کا چہرہ بڑا ہی خوبصورت اور معصوم تھا۔ اس کے  جسم سے  اس کی عمر کا اندازہ لگانا نا ممکن تھا لیکن اس کے  چہرے  سے  ہر کوئی اس کی عمر کا اندازہ لگا سکتا تھا۔

لیکن اس کے  باوجود اس کے  گھر والوں  کے  سامنے  سب سے  بڑا مسئلہ تھا اور وہ مسئلہ تھا اس کی شادی کا۔

جوان لڑکی گھر میں  ہو تو گھر والوں  کے  سامنے  ایک ہی مسئلہ ہوتا ہے  اس کی شادی کا اور اس کے  لئے  وہ ہزاروں  کوششیں  بھی کرتے  ہیں  لیکن رشمی کا معاملہ اس کے  بالکل برعکس تھا۔

گھر والے  لاکھ کوششیں  کرنا چاہتے  تھے  لیکن وہ کر نہیں  پاتے  تھے  اس معاملے  میں  وہ بڑے  لاچار اور بے  بس تھے۔

وہ تعلقات میں  کسی لڑکے  کے  ساتھ رشمی کے  رشتہ کی بات بھی چلاتے  تو انہیں  ایک ہی جواب ملتا تھا۔

’’ماتھر صاحب!باقی ساری باتیں  ٹھیک ہیں۔ لیکن آپ اچھی طرح جانتے  ہیں۔ آپ کی لڑکی کتنی موٹی ہے۔ بھلا ہمارے  لڑکے  کو کس طرح سوٹ کرے  گی؟‘‘

کئی لوگوں  سے  اس سلسلے  میں  بات کی۔ تجارتی طور پر شادی بیاہ کروانے  والوں  سے  بھی اس سلسلے  میں  صلح مشورہ کیا۔

لیکن رشمی کو دیکھتے  ہی وہ سوچ میں  پڑ گئے۔

’’ماتھر صاحب !رشمی میں  ساری باتیں  تو ٹھیک ہیں۔ وہ تعلیم یافتہ ہے  اچھی نوکری پر ہے  اس کی آمدنی اچھی سے۔ عمر بھی زیادہ نہیں  ہے۔ لیکن اس کا موٹاپا ا س کی مصیبت ہے  آپ تو جانتے  ہیں  لڑکا چاہے  رکشا چلاتا ہو لیکن بیوی ماڈل کی طرح سلم چاہتا ہے۔ پھر بھی کوشش کریں  گے  مالک نے  جیسابنایا ہے  اس کے  مطابق جوڑ بھی بنایا ہو گا۔ ‘‘

ان کی باتیں  سن کر اس کے  ماں  باپ کو مایوسی ہی ہوتی۔ کیونکہ اتنا کہنے  کے  بعد کوشش کرنے  کا مطلب ہوتا ہے  کام ذرا مشکل ہے  اسے  بھی اس بات کا شدت سے  احساس تھا کہ اس کے  ماں  باپ اس کے  لئے  بہت پریشان ہیں۔ اس سے  بھی ماں  باپ کی پریشانی نہیں  دیکھی جاتی تھی۔

اس لئے  ایک دو بار ان کا دل بہلانے  کے  لئے  اس نے  کہہ دیا۔

’’ماں  !پتا جی!آپ میری شادی کے  لیے  کیوں  پریشان ہیں  مجھے  اتنی جلد ی شادی نہیں  کرنی ہے۔ جب میرے  دل میں  آئیگا میں  خود آپ سے  کہوں گی اس کے  بعد میرے  لئے  لڑکا ڈھونڈھنا۔ میں  اتنی جلد ی گرہستی کے  بندھن میں  بندھنا نہیں  چاہتی ہوں۔ کچھ دن آزادی کی زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔

لیکن اس کے  لہجے  کے  کھوکھلے  پن کو اس کے  ماں باپ نے  بھی محسوس کر لیا تھا۔

وہ لاکھ اس موضوع پر سوچنا نہیں  چاہتی تھی لیکن تنہائی میں  اکثر سوچنے  پر مجبور ہو جاتی تھی۔

کیونکہ وہ آخر ایک عورت تھی۔

اور عورت کے  ہزاروں  خواب ہوتے  ہیں۔

ایک خوبصورت سا شوہر،چھوٹا ساگھر،چھوٹے  چھوٹے  بچے۔۔۔۔۔۔

اس کی آنکھوں  کے  سامنے  اپنی سہیلیوں  کی زندگیاں  گھومنے  لگتی تھیں۔

اس کی زیادہ تر سہیلیوں  کی شادیاں  ہو گئی تھیں۔ اور ان میں  سے  زیادہ تو سہیلیاں  اپنے  اپنے  شوہروں  کے  ساتھ اپنے  گھروں  میں  خوش تھیں۔

جب بھی ملتیں،اپنے  شوہر اپنے  گھر اور اپنی زندگی کے  قصے  مزے  لے  لیکر سنانے  لگتیں۔

اور جاتے  ہوئے  اس سے  کہتیں۔

’’اب تم بھی جلدی سے  شادی کر لو‘‘

ان کی اس بات پر وہ صرف مسکرا کر رہ جاتی تھی۔

کوئی بہت زیادہ قریبی سہیلی ہوتی تو جواباً کہہ اٹھتی۔

’مجھ جیسی موٹی لڑکی سے  کون شادی کرے  گا۔ اگر کوئی کرنے  والا ہو۔ تو مجھے  بتاؤ۔۔۔۔ ‘‘

اس کی بات سن کر سہیلی کے  چہرے  کا رنگ بدل جاتا تھا۔اور وہ سوچنے  لگتیں  تھیں  ک انھوں  نے  اس سے  اس موضوع پر بات ہی کیوں  کیں۔

کیونکہ ان کے  پاس اس کی اس بات کا کوئی جواب نہیں  تھا۔

وہ جب ا س بارے  میں  سوچتی تو اسے  اپنی زندگی ایک لق و دق صحرا سی محسوس ہوتی تھی۔

کیونکہ آج تک اسے  کسے  لڑکے  نے  میٹھی نظروں  سے  بھی نہیں  دیکھا تھا جو اس کے  اندر گدگدیاں  پیدا کر کے  ایک ہلچل مچا دے۔

اس نے  تو سوچ رکھا تھا اگر کوئی لڑکا اسے  میٹھی نظروں  سے  بھی دیکھے  تو وہ اس کی راہ میں  بچھ بچھ جائے  گی۔

کیونکہ گھر والوں  نے  خود اسے  مجبوری کے  تحت اس بات کی آزادی دے  دی تھی۔

’’رشمی بیٹے ! تمھاری نظر میں  کوئی لڑکا ہے ؟ا گر کوئی لڑکا ہو تو بلا جھجھک ہمیں  بتا دو۔ ہم تمھاری خوشیوں  کے  آڑے  نہیں  آئیں  گے۔ تمھیں  لڑکا پسند ہو ہمارے  لئے  بس یہی کافی ہے  اگر وہ لڑکا ہماری برادری سماج کا نہ بھی ہوا تو چلے  گا۔ آجکل ذات پات برادری سماج کو کون دیکھتا ہے  اور کون اس کی پر واہ کرتا ہے۔ ‘‘

 اپنے  ماں باپ کی اس بات کا وہ کیا جواب دے۔

اگر کوئی ایسا معاملہ ہو تو وہ خود پہل کرے۔ لیکن ساری رہ گزر سنسان اور ویران تھی۔

لڑکے  اس میں  دلچسپی لیتے  تھے  اسے  چھیڑنے  کے  لیے  اس کے  ساتھ شرارت کنے  کے  لئے،اسے  تنگ کرنے  کے  لئے۔

اس کے  علاوہ ان کے  دل میں  کوئی دوسرا جذبہ نہیں  ہوتا تھا۔

اگر وہ کسی لڑکے  کے  قریب بھی جانے  لگتی تھی تو اس کے  چہرے  پر ہوائیاں  اڑنے  لگتی تھی اور  وہ اس سے  معافی مانگتا بھاگ کھڑا ہوتا تھا۔

اس نے  اکثر مردوں  کو دیکھا تھا۔

کسی عورت یا لڑکی کے  جسم کا صرف لمس حاصل کرنے  کے  لیے  وہ گھنٹوں  تک ان کا پیچھا کرتے  تھے اور جب تک لمس کی لذت حاصل نہیں  کر لیتے  تھے  ان کا پیچھا نہیں  چھوڑ تے  تھے۔

یہ لذت انھیں  کبھی کبھی گھنٹوں  کے  تعاقب کے  بعد ہی مل پاتی تھی۔ کبھی کبھی اس کے  لیے  پورا دن تو درکار ہوتا تھا۔ اور کبھی کبھی تو انھیں  یہ حاصل کرنے  میں  ہفتوں  لگ جاتے  تھے۔

وہ سوچتی کوئی تو مرد اس کی چاہ میں  اس کے  قریب آئے  تو وہ اسے  اس طرح پریشان نہ کرتے  ہوئے  کچھ دیر میں  ہی ان کے  دل کی مراد پوری کر دے۔

لیکن اس کے  ساتھ ایسا ایک بھی واقعہ پیش نہیں  آیا تھا۔

مرد اس کے  قریب آنے  کے  بجائے  اس کے  ڈیل ڈول کو گھورتے  ہوئے  اس سے  کترا کر آگے  بڑھ جاتے  تھے۔ کوئی اس کے  جسم پر بھوکی نگاہ نہیں  ڈالتا تھا۔

ہاں  اس نے  یہ ضرور محسوس کیا تھا کہ بہت زیادہ اونچے  پورے،لمبے،تڑنگے  پختہ عمر کے  بھاری بھرکم جسم کے  مالک مرد ضرور اس کے  جسم میں  دلچسپی لیتے  تھے۔ وہ اس کے  جسم کو ٹٹو لتی نظروں  سے  دیکھتے  تھے۔

لیکن وہ چہر ے  اور ڈیل ڈول سے  اتنے  بھیانک ہوتے  تھے  کہ ان کی شکلیں  دیکھ کر ہی وہ ان سے  ڈر جاتی تھی۔

اور ان سے  کترا کر آگے  بڑھ جاتی تھی۔

ان کو دیکھ لیتی تو وہ اپنا راستہ بدل دیتی تھی۔

اس کو ایسے  مردوں  سے  بہت ڈر لگتا تھا۔ اس لئے  وہ نہ تو انھیں  اپنے  قریب آنے  کا موقع دیتی تھی اور نہ ان کے  قریب جانے  کی کبھی جسارت کرتی تھی۔

کیونکہ اس کا اس طرح کا ایک آدھ بار کا تجربہ بڑا گھناؤنا تجربہ تھا۔

اور اس کے  بعد اس نے  توبہ کر لی تھی اور بھگوان سے  دعا کی تھی کہ آگے  کبھی اسے  اس طرح کے  حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کیونکہ موقع ملنے  پر اس طرح کے  کسی مرد نے  اس کے  جسم کا لمس حاصل کرنے  کے  لئے  اس کے  ساتھ جو حرکت کی تھی وہ جانوروں  سی تھی۔

اچانک اس کے  گھر والوں  اور شناساؤں  نے  اس میں  ایک حیرت انگیز تبدیلی محسوس کی۔

انھوں  نے  دیکھا اکثر وہ خالی اوقات میں  موبائل کانوں  سے  لگائے  کسی سے  باتیں  کرتی رہتی ہے۔ اور باتیں  بھی اتنی لمبی کہ کبھی کبھی گھنٹوں  گزر جاتے  تھے  لیکن اس کو اس کا ہوش ہی نہیں  رہتا تھا۔

باتیں  کرتے  ہوئے  وہ اپنے  آس پاس سے  بالکل بے  خبر ہو جاتی تھی۔

اس کے  آس پا س کیا چل رہا ہے  اسے  اس کا بھی ہوش نہیں  رہتا تھا۔

اس کے  منہ سے  دبی دبی آوازیں  نکلتی رہتی تھیں۔

’’اکیلی ہوں۔ ہاں  کام ہو گیا ہے۔ اچھا ہوا تمھارا فون آ گیا۔ ورنہ میں  خود تمھیں فون کرنے  والی تھی۔۔۔ نہیں تمھارے  پاس آنے  میں  بہت وقت لگتا ہے۔ گھر پہونچنے  میں  دیر ہو جاتی ہے۔ یہ معاملہ کسی چھٹی تک ملتوی کر کے  رکھو تو اچھا ہو گا۔۔۔ ارے  بابا وعدہ کرتی ہوں  نا۔ اس دن سارے  کام چوڑ کر آؤں  گی۔۔ وعدہ رہا۔۔ پرامس۔۔۔ اب تم بھی تو میری طرح بہت مصروف آدمی ہو۔۔۔ تمھارے  بھی کئی گھنٹے  ضائع ہو جائیں  گے۔۔ تو سمجھ لو۔ میرا ہی وقت  ضائع ہو گیا۔

’’آخر وقت کاٹنا بھی تو ہوتا ہے۔۔ ‘‘

سب حیران تھے   یہ کیا چکر ہے۔

لیکن کوئی اسے  نہیں  ٹوکتا تھا نہ پوچھنے  کی ہمت کر تا تھا کہ آخر وہ کون ہے  جس سے  وہ موبائل پر گھنٹوں  باتیں  کیا کرتی ہے۔ اس کے  ساتھ کیا چکر ہے۔

اس کے  بہی خواہ سوچتے  تھے  اس سے  پوچھنے  کی ضرورت نہیں۔ ایک دن وہ خود ہی سب کچھ بتا دیگی۔ تو آخر اس سے  اس بارے  میں  پوچھ کر اسے  شرمندہ کرنے  سے  کیا حاصل۔ ؟

اس کے  ماں  باپ نے  نوٹ کیا تھا وہ اکثر راتوں  کو بھی اسی طرح اپنے  کمرے  میں  گھنٹوں  موبائل پر باتیں  کرتی رہتی ہے۔

انھوں  نے  اس پر نہ تو اعتراض کرنا مناسب سمجھا نہ ا س سلسلے  میں  اس سے  پوچھنا ہی مناسب سمجھا۔

لیکن دل میں  ایک تجسس تو تھا۔ آخر وہ کون ہے  ؟ اس نے  کس کو پسند کیا ہے ؟وہ کس کے  من کو بھا گئی ہے ؟

اس لیے  یہ طے  کیا گیا کہ اس موضوع پر بنا اس سے  بات کئے  چپکے  سے  پتہ لگایا جائے  کہ وہ لڑکا کون ہے  جس سے  وہ گھنٹوں  موبائل پر بات کرتی ہے۔

اور ا س سے  اس کے  دل کا منشا پوچھا جائے۔

یہ کوئی مشکل کام نہیں  تھا۔

وہ اس کی ٹوہ میں  رہے۔

ایک دن تقریباً ایک گھنٹہ موبائل پر بات کرنے  کے  بعد رشمی اپنا موبائل رکھ کر جیسے  ہی دوسرے  کمرے  میں  گئی انھوں  نے  اس کا موبائل اٹھا لیا اور موبائل میں  وہ نمبر تلاش کرنے  لگے  جس نمبر پر و ابھی ایک گھنٹہ سے  باتیں  کر رہی تھی۔

لیکن یہ دیکھ کر ان کے  ذہن کو ایک جھٹکا لگا۔ موبائل میں  تو ایسا کوئی نمبر تھا ہی نہیں  جس پر اس نے  ایک گھنٹہ تک بات کی تھی۔ 

***