کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دو بیل

ایم مبین


گھر آیا تو اسنے  جو خبر سنی اسے  سن کر اس پر بجلی سی گر پڑی۔

شبینہ نے  بتایا کہ شاہ رخ اور سلمان کو پولس اٹھا لے  گئی ہے۔

اور پولس اسے  گرفتار کرنے  کے  لیے  اسے  ڈھونڈھ رہی ہے۔

’’کیا کہہ رہی ہو بیوی کی بات سن کر وہ سناٹے  میں  آ گیا۔ ‘‘میرا کیا قصور ہے  جو پولس مجھے  گرفتار کرنے  کے  لیے  ڈھونڈھ رہی ہے ؟ اور ان معصوم بے  زبان شاہ رخ اور سلمان نے  کیا قصور کیا تھا جو پولس انھیں  پکڑ کر لے  گئی؟‘‘

’اب میں  کیا بتاؤں !شبینہ بولی اچھا ہوا تم گھر پر نہیں  تھے۔ ورنہ پولس سب سے  پہلے  تمھیں  گرفتار کر تی کیا ہنگامہ مچا ہوا تھا میں  بتا نہیں  سکتی۔ پولس کی گاڑی آئی تھی اس میں  آٹھ دس پولس والے  تھے۔ اور آٹھ دس بھگوا لباس والے  تھے۔ ان کے  ماتھے  پر بڑے  بڑے  چندن کے  تلک لگے  ہوئے  تھے  ایک آدمی نے  ایک تو شول اٹھا رکھی تھی۔ سب اسے  ’منو بھائی منو بھائی ‘ کہہ رہے  تھے۔ پولس تمھارے  بارے  میں  پوچھنے  لگی تو میں  نے  کہہ دیا کہیں  گئے  ہیں  کہاں  گئے  ہے  کہہ کر نہیں  گئے۔ تو پولس نے  شاہ رخ اور سلمان کو کھولا اور بولی۔ ہم انھیں  لے  جا رہے  ہیں۔ تمھارا پتی آئے  تو اسے  پولس تھانہ روانہ کر دینا۔ ورنہ پولس خود آ کر ہتھکڑیاں  لگا کر لے  جائے  گی۔ شاہ رخ اور سلمان مچل رہے  تھے۔ اپنی جگہ سے  ہل نہیں  رہے  تھے۔ ان لوگوں  کے  ساتھ جانے  کے  لیے  تیار نہیں  تھے۔ اس پر چاروں  طرف سے  پولس اور ان کے  ساتھ آئے  ہوئے  لوگ ان پر ڈنڈے  برسائے ؟

 ارے  میں  نے  جنہیں  کبھی پھولوں  کی چھڑی سے  نہیں  مارا ان ظالموں  نے  ان پر ڈنڈے  برسائے ؟ سن کر اس کی آنکھوں  میں  آنسو آ گئے۔

’’ہاں  ٹھیک طور پر انھیں  کھانے  بھی نہیں  دیا۔ میں  ے  دوپہر کا کھانا ان کے  سامنے  رکھا تھا۔ انھوں  نے  کھانا شروع بھی نہیں  کیا تھا کہ وہ ظالم آ گئے  ظالموں  نے  انھیں  نہ ٹھیک طرح سے  کھانے  دیا اور نہ پانی پینے  دیا۔ ‘‘

’’تو میرے  شاہ رخ اور سلمان بھوکے  پیاسے  ہوں گے ؟ کہاں  لے  گئے  وہ انھیں ؟ اس نے  بیوی سے  پوچھا۔

’’مجھے  نہیں  پتہ کہاں  لے  گئے۔ کہہ کر تو گئے  تھے  کہ تھانے  لے  جا رہے  ہیں۔۔ ‘‘

’میں  ابھی تھانے  جاتا ہوں  اور انھیں  لیکر آتا ہوں۔ وہ الٹے  قدم واپس ہونے  لگے۔

 ’نہیں  نہیں۔ تم اکیلے  ابھی مت جاؤ۔ کھانا کھا کر کسی کو ساتھ میں  لیکر جاؤ۔ پولس تمھیں  گرفتار کرنے  والی ہے۔ پتہ نہیں  کیا معاملہ ہے ؟‘‘

’’پولس مجھے  کیوں  گرفتار کرنے  والی ہے۔ ؟کیا گناہ کیا ہے  میں  نے ؟‘‘

وہ میرے  شاہ رخ اور سلمان کو کیوں  پکڑ کر لے  گئی؟ ان کا کیا قصور ہے ؟

وہ پاگلوں  کی طرح زور زور سے  چیخا۔

اس وقت دو تین پڑوسی گھر میں  آ گئے۔

’عالم بھائی! عالم بھائی! اچھا ہوا آپ آ گئے۔ کچھ دیر قبل آپ کے  گھر اور سارے  محلے  میں  ہنگامہ ہوا تھا۔ ایک پڑوسی بولا۔

’آخر معاملہ کیا ہے ؟ اس نے  پڑوسی سے  پوچھا۔

’بجرنگ دل والے  پولس کے  ساتھ آئے  تھے ! اور وہ میرے  بیلوں  کو اٹھا لے  گئے  ؟ وہ کون  ہوتے  ہیں  میرے  بیلوں  کو لے  جانے  والے۔۔۔

’عالم بھائی۔ بقر عید قریب ہے۔ یہ ہنگامے  تو ہوں  گے  ہی۔ سمجھئے۔ ہنگامہ آپ سے  شروع ہو گیا۔

’’لیکن وہ میرے  پالتو بیل تھے۔ میں  نے  بچپن سے  انھیں  اپنے  بچوں  کی طرح پالا تھا۔ آپ لوگ اچھی طرح جانتے  ہیں۔۔ ‘‘

’ہم کیا سارا محلہ جانتا ہے۔ لیکن پولس اور ان بجرنگیوں  کو کون سمجھائے۔

پڑوسی بولا۔

’’میں  ابھی پولس اسٹیشن جاتا ہوں۔۔ ‘‘وہ بولا۔

’’عالم بھائی۔۔ ہمارا مشورہ ہے۔ آپ پولس اسٹیشن ضرور جائیے۔

لیکن اکیلے  مت جائیے۔ کسی کو ساتھ لیکر جائے۔ ہو سکتا ہے  پولس آپ کو گرفتار کر کے  حوالات میں  ڈال دیں۔ پڑوسی نے  مشور ہ دیا۔

جب پڑوسی بھی اس طرح کی باتیں  کرنے  لگے  تو اس کے  ذہن میں  بھی خطرے  کی گھنٹی بجی۔

اس نے  جلدی جلدی کھانا زہر مار کھایا۔

اور محلے  کے  کارپوریٹر کی تلاش میں  چل دیا۔

کارپوریٹر گھر پر نہیں  تھا کسی کام سے  شہر کے  باہر گیا تھا۔

’نہ تو میں  کوئی جرم کیا ہے  نہ میرے  شاہ خاور  سلمان نے  جو پولس ہمیں  گرفتار کر نا چاہتی ہے۔ مجھے  ڈرنے  کی کیا ضرورت ہے۔ اکیلا ہی پولس اسٹیشن جا کر دیکھتا ہوں  کیا معاملہ ہے۔ ‘‘

سوچ کر وہ اکیلا ہی پولس اسٹیشن کی طرف چل دیا۔

دوپہر کا وقت تھا۔ پولس اسٹیشن میں  زیادہ لوگ نہیں  تھے۔

’میرا نام پرویز عالم ہے۔ سویرے  پولس میرے  گھر مرغی محلے  سے  میرے  دو بیل اٹھا کر لائی ہے۔ ‘‘ اس نے  رپورٹ لکھنے  والے  محرر سے  پوچھا۔

’اچھا تو تم پرویز عالم ہو۔ اسے  دیکھتے  ہی اس کی بانچھیں  کھل گئی۔

’بوراڈے۔ آروپی حاضر جھالا ہے۔ یالات گھال۔ (ملزم حاضر ہو گیا ہے  اسے  اندر ڈال دو)

’’لیکن میرا قصور کیا ہے ؟ ‘‘اسنے  حیرت سے  پوچھا۔

’ارے  تمھارے  خلاف بجرنگ دل کے  صدر منو شر ما نے  رپورٹ لکھائی ہے  کہ تم نے  قربانی کے  لیے  دو تندرست بیل اپنے  گھر میں  باندھ رکھے  ہیں۔ ‘‘

’’لیکن یہ تو کوئی جرم نہیں  ہوا۔۔۔

’جرم نہیں  ہوا۔ ‘‘وہ اس پر برس پڑا ‘‘سالے  جانوروں  کو قربانی کرنے  کا پلان بنا تا ہے  اور کہتا ہے  یہ کوئی جرم نہیں  ہوا۔ ٹھہر جا ابھی تجھے  حوالات میں  ڈالتا ہوں۔ رات میں  جب ڈنڈے  پڑیں  گے  تو معلوم پڑے  گا تیرا جرم کیا ہے۔ بوراڈے  اسے  اندر ڈال۔ ‘‘

اس کی آواز سن کر ایک سپاہی آ گیا۔

’کیا بات ہے  اوکڑے ‘‘

’دیکھ سویرے  جس کے  بیل ضبط کر کے  لائے  تھے  نا وہ مجرم حاضر ہو گیا ہے۔ ‘‘

’’صاحب کو فون کرو۔۔ ‘‘

’اچھا۔ کہہ کر وہ چلا گیا۔

تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا اور کہنے  لگا۔

’اسے  بٹھا کر رکھو۔ صاحب ابھی آتے  ہیں۔۔ ‘‘

اے ‘اوکڑے  نے  تحکمانہ لہجہ میں  کہا ‘جاؤ اس بینچ پر چپ چاپ بیٹھ جاؤ صاحب ابھی آتے  ہیں۔۔

’لیکن حولدار صاحب! میں  پوچھنا چاہتا ہوں  میرا قصور کیا ہے۔۔ ‘

’تیرے  خلاف بجرنگ دل کے  صدر منو شرما نے  شکایت درج کرائی ہے۔ ‘‘

اوکڑے  بولا۔ تو دو تندرست کھیتی کے  لائق جانور کی قربانی کرنے  والا ہے۔ اس لیے  تیرے  دونوں  بیل ضبط کر لیے  گئے۔

اب تیرے  خلاف اینسمل ہبنڈری ایکٹ کے  تحت کاروائی کی جائیگی۔ بول وہ بیل کہاں  سے  لایا تھا؟

حولدار صاحب!ان بیلوں  کو میں  نے  بچپن سے  پالا ہے۔ وہ مجھے  اپنی جان اور اولاد کی طرح عزیز ہے۔ میں  ان کا اپنے  بچوں  کی طرح خیال رکھتا ہوں۔ ایک سال سے  میں  انھیں  پال پوس رہا ہوں۔ ابھی ان کی قربانی کرنے  کا خیال بھی میرے  دل میں  نہیں  آیا ہے۔ اور آپ مجھ پر یہ الزام لگا رہے  ہیں۔۔۔ وہ بولا۔

’ٹھیک ہے  ٹھیک ہے۔ اپنی صفائی عدالت میں  پیش کر نا۔ وہ طے  کرے گی کہ تیری باتوں  میں  کتنی سچائی ہے۔ تجھے  رہا کر دیا جائے  یا پھر تیرے  خلاف کاروائی کی جائے۔ روکڑے  بولا۔

’صاحب !میرے  بیل تو مجھ کو واپس مل جائیں  گے  نا؟

’اگر تیرے  بیل تجھے  واپس دینے  ہو تے  تو انھیں  تیرے  گھر سے  ضبط ہی کیوں  جاتا۔ ان کی جانیں  بچانے  کے  لیے۔ تجھے  تیرے  خونی ارادوں  سے  باز رکھنے  کے  لیے  ہی تو ان بیلوں  کو ضبط کر کے  گؤ شالہ میں  بھیج دیا گیا ہے۔ اوکڑے  بولا۔

’’تو کیا میرے  شاہ رخ اور سلمان مجھے  واپس نہیں  ملیں  گے ؟

یہ کون ہے  بے،روکڑے  اسے  حیرت سے  دیکھنے  لگا۔

’ساری حولدار صاحب یہ میرے  دونوں  بیلوں  کے  نام ہیں۔۔

واہ!نام تو بڑے  خوبصورت رکھا ہے۔ شاہ رخ اور سلمان۔۔ بیل دکھتے  بھی ہیرو سے  کم نہیں  ہیں۔ ٹھیک ہے  ٹھیک ہے  اب میرا زیادہ دماغ مت چاٹ۔ اس بارے  میں  صاحب سے  بات کرنا۔ مجھے  بہت کام کر نے  ہیں۔ کہہ کر وہ اپنے  کام میں  مصروف ہو گیا۔ ‘‘

وہ بینچ پر بیٹھ کر سوچ رہا تھا۔ وہ یہ کس مصیبت میں  پھنس گیا ہے۔ اس نے  تو کبھی خواب میں  بھی نہیں  سوچا تھا کہ وہ کبھی اس طرح کی مصیبت میں  پھنس جائے  گا۔

اس کی آنکھوں  کے  سامنے  اپنے  دو بیل گھوم رہے  تھے۔

شاہ رخ اور سلمان۔

ان کی بچپن سے  لے  کر آج تک کی ساری باتیں،واقعات اس کے  ذہن کے  پردے  پر چکرا رہے  تھے۔

اس نے  ان دونوں  کو اس وقت سے  خریدا تھا جب وہ مشکل سے  ایک دو مہینے  کے  بچھڑے  ہوں  گے۔ بڑے  ہی خوبصورت تھے۔

دیکھتے  ہی اس کا دل ان پر آ گیا۔ ان کا مالک تو انھیں  فروخت کرنے  کے  لیے  ہی لایا تھا۔ اسے  بھی جانوروں  سے  بہت پیار تھا اس نے  دونوں  بچھڑوں  کو خرید لیا۔ 

اور انھیں  لیکر گھر آ گیا۔

اس کے  گھر میں  کافی جگہ تھی۔ ان بچھڑوں  کے  باندھنے  کے  لیے  ایک شیڈ بنا ہوا تھا۔

اس نے  ان کا نام شاہ رخ اور سلمان رکھ دیا۔

اس کی بیوی اور بچوں  کو بھی دونوں  بچھڑے  بہت پسند آئے۔

بچے  دونوں  بچھڑوں  سے  کھیلتے  تو وہ اور اس کی بیوی ان کی خدمت کرتی۔

انھیں  اچھی سے  اچھی غذا کھانے  کے  لیے  دی جاتی۔ دن میں  دو بار انھیں  نہلایا جاتا اور جس جگہ وہ رہتے  تھے  دن میں  دو بار اس جگہ کی صفائی کی جاتی تھی۔

اتنا ہی نہیں۔ صبح شام وہ بچوں  کے  ساتھ دونوں  کو سیر کے  لیے  لے  جاتا تھا۔

اتنی محبت اور اتنی اچھی خوراک انھیں  مل رہی تھی کہ وہ دو تین مہینے  میں  ہی ہٹے  کٹے  جانور بن گئے۔ دونوں  اس کے  پورے  گھر والوں  پر ہلے  ہوئے  تھے۔ اس کے  گھر کا چھوٹا سابچہ بھی دونوں  کی رسیاں  پکڑ کر آدھے  شہر کا پھیرا مار کر آ جاتا دونوں  چپ چاپ اس کے  پیچھے  پیچھے  چلتے  رہتے۔ کبھی کوئی خر مستی کر کے  ادھر ادھر نہیں  بھاگتے  تھے۔

محلے  والے  اور شہر کے  بہت سے  لوگ دونوں  کے  بارے  میں  جانتے  تھے  اور ان دونوں  سے  اس کے  گھر والوں  کی محبت سے  بھی واقف تھے۔

محلے  کے  بچوں  کے  لیے  تو وہ کھیل کا سامان تھے۔

کیونکہ اکثر اس کے  بچے  دونوں  کو لیکر محلے  میں  نکل پڑتے  تھے  اور بچوں  کا ایک ہجوم دونوں  بیلوں  کو گھیر لیتا تھا۔

وہ ہر روز جس طرح اپنے  بچوں  کو کھانے  کے  لیے  دوکان سے  مٹھا ئیاں  لاتا تھا۔ شاہ رخ اور سلمان کے  لیے  بھی کھانے  کے  لیے  کچھ نہ کچھ لاتا تھا۔

دونوں  اس کی آہٹ اور بو پہچانتے  تھے۔ وہ گلی میں  ہوتا تھا تو اس کی بو سونگھ کر دونوں  اس کو آوازیں  دینے  لگتے  تھے۔

ان کے  اس پیار پر اس کا بھی دل بھر آتا تھا۔ اور وہ جا کر دونوں  کو تھپتھپا تا اور گھنٹوں  ان سے  باتیں  کر نے  لگتا۔

 ان دونوں  کی وجہ وہ کبھی اتنی بڑی مصیبت میں  پڑ جائے  گا اس نے  تو خواب میں  بھی نہیں  سوچا تھا۔

یا شاہ رخ اور سلمان کبھی اس سے  اس طرح چھین لیے  جائیں  گے  اس نے  کبھی اس بات کا تصور بھی نہیں  کیا تھا۔ بینچ پر بیٹھا وہ انہیں  باتوں  کے  بارے  میں  سوچ رہا تھا۔

وقت کچھوے  کی رفتار سے  آگے  بڑھ رہا تھا وہ انسپکٹر کا انتظار کر رہا تھا۔ لیکن انسپکٹر کا کو ئی پتہ ٹھکانا نہیں  تھا۔

انسپکٹر شام چھ بجے  آیا۔ تو روکڑے  نے  اسے  اس کے  بارے  میں  سب کچھ بتا دیا۔

’ارے  تو اس کو باہر کیوں  بٹھا کر رکھا ہے  حوالات میں  ڈال دو۔۔۔

’لیکن انسپکٹر صاحب میرا جرم کیا ہے ؟ مجھے  کس بات کے  لیے  حوالات میں  ڈالا جا رہا ہے۔

’تیرے  خلاف بجرنگ دل کے  صدر منو شرما نے  شکایت درج کرائی ہے  کہ تو نے  کاٹنے  کے  لیے  دو کھیتی کے  لائق جانور لائے  ہیں۔ سچ مچ وہ دونوں  بیل کھیتی کے  لائق ہیں   اور ان سے   ۱۰،۱۲سالوں  تک کھیتی کا کام لیا جاسکتا ہے۔ کھیتی کے  لائق جانور کاٹنا یا کاٹنے  کی نیت سے  خریدنا کتنا بڑا جرم ہے  جانتا ہے ؟خیر یہ تو تجھے  بعد میں  پتہ چلے  گا۔ میرا کام کل تجھے  عدالت میں  پیش کرنا ہے۔

باقی عدالت جانے  اور تو جانے۔۔ انسپکٹر بولا۔

انسپکٹر صاحب! میں  نے  ان بیلوں  کو بچپن سے  پالا ہے۔ بھلا میں  انھیں  کاٹنے  کے  بارے  میں  کیسے  سوچ سکتا ہوں۔

’ارے  ایک مسلمان گائے  بیل اور کس نیت سے  گھر میں  رکھ سکتا ہے۔

’کیوں  ! کیا ہندوؤں  کو ہی گائے  بیل سے  پیار ہے۔ ایک مسلمان ان سے  محبت نہیں  کر سکتا؟ انھیں  پال نہیں  سکتا۔

’یہ مجھے  مت بتا یہ کورٹ کو بتانا۔ میرا کام تجھے  کورٹ میں  پیش کر نا ہے۔ وہ میں  کل کر دوں  گا۔ ‘‘

انسپکٹر بولا۔

’’روکڑے  اس کے  کیس کے  کاغذات تیا ر کر اور اسے  حوالات میں  ڈال دے۔ ‘‘

وہ لاکھ احتجاج کر تا رہا لیکن پھر بھی اسے  حوالات میں  ڈال دیا گیا۔

شام تک جب وہ گھر نہیں  آیا تو اسکی بیوی کو تشویش محسوس ہونے  لگی۔

اس نے  ایک دو آدمیوں  کو اس کی خبر لینے  کے  لیے  پولس اسٹیشن بھیجا تو وہ اس سے  ملنے  کے  لیے  لاک اپ میں  آئے۔

اس نے  ان کے  ہاتھوں  شبینہ کو پیغام دیا۔

’’انسپکٹر میری کسی بات کو ماننے  کے  لیے  تیا ر نہیں  ہے۔ اس نے  مجھے  حوالات میں  ڈالنے  کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تم جلدی سے  کچھ کرو ورنہ مجھے  حوالات میں  رات کاٹنی پڑے گی۔۔۔ ‘‘

 اس کی بات اس کی بیوی تک پہونچی تو وہ تڑپ اٹھی۔

اسنے  فوراً ایک دو لوگوں  سے  رابطہ قائم کیا۔ ان میں  ایک منا نام کا آدمی بھی تھا جس کا پولس اسٹیشن میں  بہت رسوخ تھا۔

وہ اسے  حوالات میں  آ کر ملا۔

’عالم بھائی !آپ فکر مت کیجئے  میں  سب سنبھال لوں  گا۔ یہ پولس اسٹیشن ہے  یہاں  پیسہ چلتا ہے۔ پیسے  کی طاقت سے  قاتلوں  کو آزاد کرایا جا سکتا ہے  تو تم نے  تو کوئی بھی جرم نہیں  کیا ہے۔ ‘‘

انسپکٹر کسی کام سے  باہر گیا تھا ور رات نو بجے کے  قریب پولس اسٹیشن میں  آیا۔ دس منٹ میں  منا نے  اپنی باتوں  سے  اسے  رام کر لیا۔

’منا بھائی! یہ میں  بھی سمجھتا ہوں  کہ اس آدمی نے  ان بیلوں  کے  بچپن سے  پالا ہو گا۔ اسے  جانوروں  سے  بہت محبت ہے  اس کا ارادہ انھیں  ذبح کر نے  کا نہیں  ہے۔ لیکن بجرنگ دل کے  لیڈر منو شر مانے  شکایت کی تو ہمیں  کاروائی کر نی ہی پڑے  گی۔ ورنہ تم تو جانتے  ہو وہ کتنے  کمینے  لوگ ہیں۔ میرے  خلاف دہلی تک پہونچ جائیں  گے  اور دہلی ہلا دیں  گے  میری زندگی تباہ کر دیں  گے۔ اس لیے  ان کی جھوٹی شکایت پر بھی مجبوراً مجھے  کاروائی کر نی پڑی۔۔۔

انسپکٹر ۱۵ہزار روپیہ پر اس بات کے  لیے  راضی ہو گیا کہ اسے  حوالات میں  نہیں  رکھا جائے  گا۔ چھوڑ دیا جائے  گا۔ وہ کل عدالت میں  حاضر ہو کر اپنی ضمانت کرالے۔ چھوٹا موٹا کیس بنا لیں  گے  جو  ۱۰،۲۰سالوں  تک چلتا رہے  گا۔ اس طرح منو شرما بھی ناراض نہیں  ہو گا۔

’لیکن ان دونوں  بیلوں  کا کیا ہو گا؟

’’دیکھئے  ہم نے  ضبط کر کے  انھیں  گؤ شالہ والوں  کے  حوالے  کر دیا ہے  اب آپ کورٹ سے  آرڈر لیکر وہاں  سے  اپنے  بیلوں  کو آزاد کرا لیجئے۔۔ یا پھر اگر آپ کے  پاس پیسہ ہے  تو منو کا منہ بند کر دیجئے۔ وہ پیسوں  کے  لیے  ہی یہ سب دھندہ کر تا ہے۔ اسے  گؤ رکشا دھرم سے  کوئی لینا دینا نہیں  ہے۔۔ ‘‘ انسپکٹر بولا۔

منا نے  آ کر ساری باتیں  اسے  بتائی کہ اگر وہ آ کر ۱۵ہزار روپیہ انسپکٹر کو دے  سکتا ہے  تو اسے  حوالات سے  نہ صرف نجات مل جائے  گی بلکہ کیس بھی نرم بنے  گا جس سے  وہ عدالت میں  نپٹ سکتا ہے۔

وہ حوالات میں  ایک لمحہ اور رہنا نہیں  چاہتا تھا۔ انسپکٹر کو پیسے  دینے  کے  لیے  راضی ہو گیا منا جا کر گھر سے  پیسہ لیکر آیا اور اس نے  انسپکٹر کو دیا۔

انسپکٹر نے  فوراً اسے  رہا کر دیا اور بولا۔

’ جا کر منو شرما سے  بات کر لو۔ کچھ پیسوں  کے  عوض شاید وہ تیار ہو جائے۔ اس طرح تمھارے  بیل بھی تم کو مل جائیں  گے۔ اور کیس بھی ختم ہو جائے  گا۔

حوالات سے  رہا ہو کر منا بھا ئی کے  ساتھ وہ فوراً منو شرما کے  گھر پہونچا۔

منا بھائی کی منو سے  پہچان تھی۔ اس لیے  وہاں  بھی معاملہ آسانی سے  طے  ہو گیا۔

’ٹھیک ہے۔ اگر آپ مجھے  دس ہزار روپیے  دیں  تو میں  اپنی شکایت واپس لے  لوں  گا جس کیس خود بخود ختم ہو جائے  گا۔ اور آپ لوگ عدالت کی جھنجھٹ سے  بچ جائیں  گے۔ اور میں  آپ کے  جانور بھی آپ کو واپس دلوا دوں  گا۔

وہ اسکے  لیے  راضی ہو گیا۔

اس نے  دس ہزار روپیہ منو کو دے  دئیے۔ منو نے  پولس اسٹیشن میں  فون کر کے  کہہ دیا کہ وہ اپنی شکایت واپس لیتا ہے۔

پرویز عالم پر کیس داخل نہ کیا جائے۔

اور گؤ شالہ میں  بھی فون کر دیا کہ کل پرویز عالم اور منا بھائی بیل لینے  آئے  تو دونوں  بیل انھیں  واپس کر دینا۔ معاملہ طے  ہو گیا ہے۔

دوسرے  دن سویرے  وہ منا بھائی کو ساتھ لیکر گؤ شالہ پہونچ گیا۔

اور شاہ رخ اور سلمان کو وہاں  سے  لیکر اپنے  گھر کی طرف چل دیا۔

جب محلے  والوں نے  شاہ رخ اور سلمان کے  گلے  کی گھنٹیوں  کی آوازیں  سنی تو وہ خوشی سے  اچھل پڑے  اور دونوں  کو پیار کر نے  لگے۔

سب یہ بھول گئے  تھے  کہ شاہ رخ اور سلمان کی وجہ سے  عالم کتنی بڑی مشکل میں  پھنس گیا تھا۔

***