کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

گھنی چھاؤں

ایم مبین


اس دن پنکی نو کرانی کے  ساتھ اسکول آئی۔

وہ رو رہی تھی رونے  کی وجہ سے  اس کی آنکھیں  سوجھی ہو ئی تھی۔

’’کیا بات ہے  پنکی تم کیوں  رو رہی ہو؟ آج تمھارے  ڈیڈی تمھیں  چھوڑ نے  کے  لیے  نہیں  آئے۔ ‘‘

’’ڈیڈی ہاسپٹل میں  ہے۔ ڈاکٹر کہتے  ہیں  ان پر دل کا دورہ پڑا ہے۔ ‘‘پنکی سسکتی ہو ئی بولی۔

’راج صاحب پر دل کا دورہ پڑا ہے ! یہ سنتے  ہی اس کا دل دھک سے  رہ گیا‘ کب؟

’’رات میں  دو بجے  کے  قریب دورہ پڑا تھا نوکرانی بولی۔

’’انھیں  مہر ہاسپٹل میں  داخل کیا گیا ہے  میم صاحب ان کے  پاس ہے۔ بچوں  اور گھر کی نگرانی مجھ پر ہے۔

یہ سن کر وہ تڑپ اٹھی۔ اس نے  راجو کو اسکول چھوڑ ا اور فوراً رکشا پکڑ کر مہر اسپتال کی طرف چل دی۔

اسپتال پہونچ کر راج صاحب کو ڈھونڈھنے  میں  اسے  زیادہ وقت نہیں  لگا۔ پتہ چلا کہ راج صاحب کو آئے  سی یو میں  رکھا گیا ہے۔

انھیں  دیکھنے  کے  لیے  آنے  والوں کا تانتا لگا ہو ا تھا۔

ان لوگوں  میں  زیادہ تو وہ لوگ تھے  جن کے  راج صاحب سے  بزنس کے  تعلقات تھے  یا ان کی فرم میں  کام کر نے  والے  ورکر۔۔۔۔

اسے  بھی کچھ لمحوں  کے  لیے  راج صاحب کو دیکھنے  کی اجازت ملی۔

آئی سی یو نٹ میں  صرف ایک یا دو آدمی ہی جا سکتے  تھے  اور وہ بھی صرف مریض کو اچٹتی نگاہوں  سے  دیکھ سکتے  تھے  انھیں  نہ مریض سے  بات کر نے  کی اجازت تھی اور نہ انھیں  چھونے  کی۔

وہ بھی یہ رسم نباہ آئی۔

راج صاحب کی آنکھیں  بند تھیں  ان کی ناک پر آکسیجن ماسک لگا تھا۔

سر طرح طرح کی مشینوں  سے  ڈھکا تھا۔ دل کے  قریب ایک دو تار لگے  تھے  جو جس مشین سے  جڑے  تھے  اس پر ایک روشن لکیر تھرک کر دل کی حرکت کے  بارے  میں  اطلاعات دے  رہی تھی۔

آئی سی یو نٹ کے  باہر راج صاحب کی بیوی رشمی کھڑی تھی۔

اس دن پہلی بار اس نے  رشمی کو دیکھا۔

اس سے  قبل اس نے  رشمی کے  بارے  میں  راج صاحب اور پنکی سے  بہت سنا تھا رشمی کو دیکھنے  کے  بعد اسے  محسوس ہو ا اس نے  رشمی کو بارے  میں  جو کچھ سنا تھا بالکل درست تھا۔

ورنہ عام طور پر مرد اپنی بیویوں  کے  بارے  میں  غلط معلومات اور تصور دیتے  ہیں  وہ جو بھی اپنی بیویوں  کے  بارے  میں  بتاتے  ہیں  اس سے  ان کی بیویاں  اس کے  بالکل برعکس ہو تی ہیں۔

لیکن اس نے  راج صاحب سے  رشمی کے  بارے  میں  جو کچھ سنا تھا رشمی بالکل اس کے  مطابق تھی۔ اس کے  چہرے  پر کوئی شکن نہیں  تھی۔

جب اس کا شوہر زندگی اور موت کی لڑائی میں  مصروف ہو۔

رشمی ملنے  والوں  سے  بتا رہی تھی کہ سب کچھ کس طرح ہوا۔

وہ شاید رشمی کے  شناسا یا قریبی تعلقات والے  تھے۔ وہ اسے  نہیں  جانتی تھی اس لیے  اس نے  اس پر صرف ایک اچٹتی نگاہ ڈالی اور اندازہ لگایا شاید وہ راج صاحب کی فرم کی کوئی ورکر ہو گی۔

اس لیے  اس نے  رشمی سے  باتیں  کر مناسب نہیں  سمجھا۔

قریب کھڑی نر س سے  راج صاحب کے  بارے  میں  پوچھا۔

۱اس کی آخری بات سن کر اس کا دل دھک سے  رہ گیا۔

راج صاحب کے  بچنے  کی امید کم ہے  یہ سن کر اس دل بھر آیا اور آنکھ کے  سامنے  اندھیر اسا چھا نے  لگا۔

اسے  لگا جیسے  اس نے  کسی اپنے  کے  بارے  میں  کوئی بری خبر سنی ہو۔

یوں  تو راج صاحب نہ تو اس کے  اپنے  تھے  اور نہ پرائے۔

راج صاحب سے  اس کا کوئی رشتہ نہیں  تھا لیکن پھر بھی ان سے  اس کا جو رشتہ تھا وہ اس رشتے  کو کیا نام دے  اس کی سجھ میں  کچھ نہیں  آ رہا تھا۔

وہ غور سے  رشمی کو دیکھتی رہی۔ رشمی اس کی طرف سے  بے  پروا موبائل پر کسی سے  بات کر رہی تھی۔

وہ رشمی کی باتوں، حرکات و سکنات سے  ان باتوں  کا موازنہ کر رہی تھی جو راج صاحب نے  اسے  رشمی کے  بارے  میں  بتا ئی تھیں۔

اس عورت نے  راج جیسے  آدمی کو کتنے  دکھ دیے  تھے  یہ تو راج صاحب ہی جانتے  تھے  یا وہ۔۔ وہ اس لیے  کہ راج صاحب ان کا دل،ان کی زندگی ان کے  سکھ دکھ سب کچھ کھول کر رکھ دیا تھا۔

راج صاحب کی زندگی اس کے  لیے  ایک کھلی کتاب تھی۔

راج صاحب سے  دو دن ملاقاتوں  میں  ہی اس نے  جان لیا تھا راج ایک سچا انسان ہے۔ اس کی باتوں  میں  جھوٹ چھل، کپٹ،عیاری مکاری نہیں  ہو تی ہیں۔

اس لیے  اسنے  راج کی ہر بات پر یقین کر لیا تھا اور ان باتوں  کی روشنی میں  راج کی زندگی کسی فلم کی طرح اس کے  ذہن کے  پردے  پر تھرکتی رہتی تھی۔

راج سے  اس کی پہلی ملاقات راجو کی اسکول میں  ہو ئی تھی۔

وہ راجو کو اسکول چھوڑ نے  کے  لیے  گئی تھی اور راج صاحب اپنی بیٹی پنکی کو چھوڑ نے  کے  لیے  اسکول آئے  تھے  اس وقت اسے  پتہ چلا کہ راجو اور پنکی ایک ہی کلاس میں  پڑھتے  ہیں۔

بچوں  کو چھوڑ تے  ہوئے  دونوں  نے  ایک دوسرے  پر اچٹتی نظریں  ڈالیں  اور پھر واپس چل دئیے۔ پہلی ملاقات اس سے  زیادہ نہیں  تھی۔

لیکن راج صاحب کی شخصیت میں  ایک کشش تھی جس سے  وہ متاثر ہوئے  بنا نہیں  رہ سکی۔

اسے  اس بات کا احساس تھا کہ اس کی شخصیت میں  بھی ایک ایسی کشش ہے  جس سے  کوئی مرد متاثر ہو ئے  بنا نہیں  رہتا تھا۔ وہ مرد بھی جو عورتوں  کو خاطر میں  نہیں  لاتے  تھے۔

اس کے  حسن، شخصیت،کشش سے  اگر کوئی متاثر نہیں  ہو سکا تو وہ امیت تھا اس کو شوہر امیت۔

امیت نے  اسے  ہمیشہ اپنے  پیروں  کی جوتی سمجھا اور اسے  کبھی بھی ایک استعمال کر نے  والی چیز سے  زیادہ اہمیت نہیں  دی۔

اس لیے  اسے  امیت سے  نفرت تھی۔ لیکن اس نفرت کا نہ تو وہ اظہار کر سکتی تھی اور نہ کبھی اس نفرت سے  کام لے  سکتی تھی۔

کیونکہ امیت اس کا شوہر تھا۔

اور ایک شوہر کے  سامنے  عورت سب سے  زیادہ بے  بس ہوتی ہے۔

وہ ایک بیوی کے  فرائض انجام دیتی تھی یہ اس کے  فرائض میں  شامل تھا۔

اسے  امیت سے  کسی بات کی توقع بھی نہیں  تھی بس اس کے  ساتھ زندگی گزارنی تھی۔

دونوں  کا ایک دو بار اور  آمنا سامنا ہوا تو راج صاحب نے  اسے  مسکرا کر دیکھا اور اس نے  بھی راج کی مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے  دیا۔

اس کے  بعد ایک دو باتیں  ہوئیں۔

’’راجو آپ کا لڑکا ہے ؟‘‘

’’ہاں ‘‘

’’بڑا پیارا بچہ ہے۔ پنکی ہمیشہ اس کا ذکر کر تی رہتی ہے۔

’’ہاں  راجو بھی اکثر پنکی کے  بارے  میں  بتا تا رہتا تھا کہتا تھا اس کے  ڈیڈی بہت اچھے  ہیں  پنکی کی ہر ضد پوری کرتے  ہیں۔ ‘‘

’’دونوں  کلاس میں  ایک ہی ڈیسک پر بیٹھتے  ہیں  نا! اس لیے  دونوں  کو ایک دوسرے  کے  گھروں  کے  بارے  میں  سب کچھ معلوم ہے۔ ‘‘

پہلے  اسکول میں  باتیں  ہو جاتی تھیں  ایک دن راج نے  اسے  چائے  پینے  کی دعوت دی تو وہ انکار نہ کر سکی۔

وہ راج کی کار میں  جا بیٹھی وہ کا ر ایک شاندار ہوٹل کی طرف چل دی اس شاندار ہوٹل میں  داخل ہو نے  کے  بارے  میں  بھی اس نے  کبھی نہیں  سوچا تھا۔ راج صاحب نے  اس دن اسے  وہاں  کافی پلائی اور اپنے  اور اپنے  کاروبار کے  بارے  میں  بتا یا۔

راج کا بہت بڑا کاروبار تھا۔ کاروبار کی وجہ سے  تجارتی حلقہ میں  انکا اچھا خاصہ رسوخ بھی تھا۔

پھر اس کے  لاکھ انکار کر نے  کے  باوجود راج اسے  اپنی کار میں  اس کے  گھر تک چھوڑ گیا۔

اس دن وہ دن بھر راج کے  بارے  میں  سوچتی رہی۔

اس کو راج کی باتوں  یا حرکتوں  میں  کہیں  بھی کوئی ناشائستہ حرکت نظر نہیں  آتی تھی نہ اسے  ایسا محسوس ہو ا تھا جیسے  راج اسے  اپنی دولت سے  مرعوب کر کے  اس پر ڈورے  ڈالنا چاہتا ہے۔

اسے  راج کی باتوں  اور برتاؤ میں  ایک خلوص محسوس ہوا۔

اور راج کے  اس خلوص کے  جذبے  کی وجہ سے  اس کے  دل میں  راج کے  لیے  نہ صرف ایک مقام بن گیا بلکہ عزت بھی بڑھ گئی۔

اس لیے  دو دن بعد راج نے  جب دوبارہ اسے  کافی کا آفر دیا تو اس نے  انکار نہیں  کیا۔

اس دن وہ بہت دیر تک ساتھ رہے۔

اسے  بھی گھر میں  کوئی کام نہیں  تھا۔ امیت جو سویرے  گھر سے  جاتا تھا تو دیر رات ہی گھر واپس آتا تھا۔

اس دوران اس کے  پاس راجو کو اسکول چھوڑ نے  اور اسے  اسکول سے  لانے  کے  علاوہ کوئی کام نہیں  تھا۔

اس دوران راج کچھ کھلا تو اسے  پتہ چلا کہ اوپر سے  اتنا بڑا آدمی ایک کامیاب بزنس مین اندر سے  کتنا ٹوٹا ہوا ہے۔

صرف اپنی بیوی کی وجہ سے۔

رشمی ایک امیر باپ کی بگڑی ہوئی اولاد ہے۔ اس لیے  کسی کو خاطر میں  نہیں  لاتی ہے۔ شوہر اس کے  لیے  ایک تمغہ ہے  جس کا نام وہ اپنے  نام کے  ساتھ سجاتی ہے۔ اس کی زندگی میں  نہ تو شوہر کی کوئی اہمیت ہے  اور نہ ضرورت۔۔ اس کے  پاس تو اپنی بیٹی کو بھی دینے  کے  لیے  وقت نہیں  ہے۔

وہ اپنی دنیا میں مست رہتی ہے۔ ہائے  سوسائیٹی میں  اٹھتی بیٹھتی ہے  اور شوہر کی دولت اڑاتی پھر تی ہے۔

رشمی کی کہانی سن کر اس کے  دل میں  راج کے  لیے  عقیدت دوگنا ہو گئی سچ مچ وہ ایک دیوتا صفت انسان ہے  جو رشمی جیسی عورت کے  بیوی کے  طور پر برداشت کئیے  ہوئے  ہے۔

راج کھلا تو وہ بھی اپنے  اوپر قابو نہیں  رکھ سکی۔

اس نے  بھی اپنی زندگی کسی کتاب کی طرح کھول کر راج کے  سامنے  رکھ دی۔ اپنی زندگی کے  سارے  تاریک گوشے  اس کے  سامنے  عیاں  کر دیے  اور امیت کے  مظالم کو بھی۔

اس کی کہانی سن کر راج افسردہ ہو گیا۔

’’میں  سمجھتا تھا دنیا میں  میں  ہی سب سے  زیادہ دکھی انسان ہوں۔ ‘‘مگر کوملا جی !آپ کی کہانی سن کر مجھے  احساس ہو ا دنیا میں  تو مجھ سے  زیادہ آپ دکھی ہیں۔ آپ کسی دیوی سے  کم نہیں  ہیں  جو ایک شیطان کے  مظالم چپ چاپ صرف اس لیے  برداشت کیے  جا رہی ہیں  کیونکہ وہ آپ کا شوہر ہے۔ ‘‘

اتنی ملاقاتوں  کے  بعد بھی اس نے  کبھی ایک لمحہ کے  لیے  بھی محسوس نہیں  کیا کہ اس کے  لیے  راج کی آنکھوں  میں  کبھی شہوانیت کا جذبہ جاگا ہے۔

دونوں  دو دوستوں  کی طرح ملتے  گھنٹوں  ایک دوسرے  سے  دو دوستوں  کی طرح باتیں  کر تے  اور پھر واپس اپنے  اپنے  گھروں  کو چل دیتے۔

راج کے  منہ سے  کبھی کوئی ایسی بات نہیں  نکلی کہ اس کے  دل میں  اس کے  لیے  دوستی کے  جذبے  کے  علاوہ بھی کوئی اور جذبہ ہے۔ اور نہ کبھی اس کی آنکھوں  سے  کبھی اس طرح کا جذبہ عیاں  ہو ا۔

جہاں  تک اس کا تعلق تھا اس نے  بھی کبھی راج کو نہ تو ان نظروں  سے  دیکھا اور نہ کبھی اس نظریے  سے  سوچا۔

امیت نے  اس کیساتھ جس طرح کا سلوک کیا تھا اس کے  بعد اسے  دنیا مے  تمام مر دوں  سے  نفرت سی ہو گئی تھی۔ اس کی نظروں  میں  دنیا کے  سارے  مرد امیت کی کاپیاں  تھے۔ جو عورت کو صرف ایک بھوگ کی چیز سمجھتے  ہیں۔

لیکن راج سے  ملنے  کے  بعد اس کے  نظریات تبدیل ہو گئے  تھے  اور اسے  محسوس ہوا تھا اس کی سوچیں  یکسر غلط ہیں۔ دنیا کا ہر مرد امیت نہیں  ہے۔ دنیا میں  راج صاحب جیسے  شریف النفس مرد بستے  ہیں۔

ان کی روزانہ ملاقات ہو تی تھی۔

پہلے  وہ کبھی کبھی پنکی کو چھوڑ نے  کے  لیے  اسکول آتے  تھے۔ نوکر پنکی کو اسکول لا کر چھوڑ تا تھا۔ رشمی کے  پاس تو ان باتوں  کے  لیے  وقت ہی نہیں  تھا۔

راج کاروبار کی وجہ سے  مصروف بھی رہتا تھا۔

لیکن اس سے  ملاقات کے  بعد اس سے  ملنے  کی چاہ کے  لیے  وہ اپنی تمام کاروباری مصروفیات کو بالائے  طاق رکھ کر پنکی یو چھوڑ نے  کے  لیے  اسکول آتا تھا۔

جہاں  تک اس کا سوال تھا اس کی تو ڈیوٹی تھی۔ اور وقت گزری کا ذریعہ بھی۔ بچوں  کو اسکول چھوڑ نے  کے  بعد وہ کسی ریستوران یا یا کافی ہاؤس،ہوٹل میں  جا بیٹھتے  اور باتیں  کرتے۔

باتوں  کا سلسلہ کبھی طویل ہو جا تا اور دوپہر کے  کھانے  کا وقت ہو جا تا تو دوپہر کا کھا کسی ہوٹل میں  کھا لیتے  تھے۔

اسے  راج صاحب سے  باتیں  کرتے  ہوئے  ایک ذہنی سکون ملتا تھا۔

جب بھی اس کے  ساتھ کوئی ایسی بات ہوتی جو اس کا ذہنی سکون غارت کر دیتی جب تک وہ راج کو نہیں  بتا دیتی اس کے  ذہن میں  ایک اتھل پتھل مچی رہتی۔ اسے  راج کو وہ بات بتا کر ایک سکون مل جاتا تھا وہ اپنے  آپ کو ہلکا محسوس کرتی تھی۔

یہ راج کے  ساتھ بھی ہوتا تھا۔

جب بھی راج اور رشمی کے  درمیان کسی بات پر تضاد ہوتا۔ راج کی بھی وہی حالت ہوتی تھی۔ اور راج کو بھی اس وقت سکون ملتا تھا جب وہ ساری باتیں  کومل کو نہیں  بتا دیتا اسے  سکون نہیں  ملتا تھا۔

انھیں  ایسا محسوس ہوتا تھا اگر ان کے  غم دکھ ان کے  لیے  کڑی دھوپ ہیں  تو وہ ایک دوسرے  کے  لیے  اس کڑی دھوپ میں  گھنی چھاؤں  ہیں  جس کے  تلے  بیٹھ کر وہ اپنے  غموں  دکھوں  کی کڑی دھوپ سے  نجات پا لیتے  تھے۔

کبھی وہ سوچتی بھی کہ وہ آگ سے  کھیل رہی ہے۔

اگر امیت کو اس کے  اور راج کے  تعلقات کے  بارے  میں  پتہ چلا تو وہ آتش فشاں  کی طرح پھٹ پڑے  گا اور اس کے  وجود کو جلا کر راکھ کر دے  گا۔ اس کے  ساتھ کیا سلوک کریگا وہ اس کو تصور بھی نہیں  کر سکتی تھی۔

لیکن پھر وہ سوچتی آخر وہ ایسا کونسا قدم اٹھا رہی ہے  جس کی وجہ سے  اسے  امیت کے  سامنے  شرمندہ ہو تا پڑے  اس کے  قہر کا سامنا کر نا پڑے۔

اس کے  اور راج کے  تعلقات ایسے  تھے  ہی نہیں  جس کی وجہ سے  پتی ورتا پن پر آنچ آئے۔

راج اور وہ دو دوستوں  کی طرح ملتے  باتیں  کر تے  اور اپنے اپنے  گھروں  کو چل دیتے  ہیں  جس طرح وہ اپنی کسی سہیلی کے  گھر جاتی ہے،یا کوئی سہیلی اس کے  پاس آتی ہے۔ یا کہیں  مل جاتی ہے  دونوں  باتیں  کر تی ہیں  اور اپنے اپنے  گھروں  کو چل دیتی ہیں۔

دونوں  کے  تعلقات میں  صرف اتنا فرق تھا کہ راج ایک مرد تھا اور وہ ایک عورت۔ اب یہ دنیا کی بات ہے  کہ وہ ایک مرد اور ایک عورت کے  دوستی کے  تعلقات کو ہضم کر پاتی ہے  یا نہیں۔

دنیا تو ایک مرد اور ایک عورت کے  تعلقات کو ایک ہی نظر سے  دیکھتی ہے۔ مرد اور عورت کے  تعلقات کی نظر سے۔

آج وہی راج موت و حیات کی کشمکش میں  تھا۔

اسے  اندازہ تھا کیا بات ہوئی ہو گی جس کی وجہ سے  راج اس حالت کو پہونچا ہے۔

کچھ دنوں  سے  راج بہت پریشان اور تناؤ کا شکار تھا۔ دو تین دن تک اس نے  جب اس بارے  میں  پوچھنا چاہا تو وہ اسے  ٹالتا رہا۔

لیکن آخر ایک دن اس نے  اس کو سب بتا دیا۔

’’اب تک میں  سمجھتا تھا رشمی صرف ایک بگڑی ہوئی امیر زادی ہے  جو دولت اڑانے  پر یقین رکھتی ہے۔ ‘‘لیکن اب مجھے  پتہ چلا کہ وہ آوارہ اور بد چلن بھی ہے۔ پرائے  مردوں  کے  ساتھ عیاشی بھی کرتی ہے۔ ایک شوہر کچھ بھی برداشت کر سکتا ہے  لیکن یہ کس طرح برداشت کر سکتا ہے  کہ اس کی بیوی غیر مردوں  کے  ساتھ عیاشی کرے۔ جب سے  مجھے  یہ بات معلوم پڑی ہے  میری راتوں  نیند حرام ہو گئی ہے۔ سوچتا ہوں رشمی سے  قطع تعلق کر لوں توں  پنکی کا خیال آتا ہے۔ پھر اس بات کا بھی ڈر ہے  کہ اگر اس سے  قطع تعلق کر لوں  تو اس کے  دل میں  جو کچھ میرا تھوڑا سا ڈر ہے  وہ بھی جاتا رہے  گا۔

اور وہ اور زیادہ آزاد ہو جائے  گی۔ ‘‘

سچ مچ یہ ایسی بات تھی جس کو کوئی بھی غیرت مند برداشت نہیں  کر سکتا ہے۔

اسی معاملے  پر دونوں  کے  درمیان جھگڑا ہو گیا ہو گا اور رشمی نے  کچھ ایسی باتیں  کہہ دی ہوں  گی جو راج برداشت نہیں  کر پایا ہو گا اوراسے  ہارٹ اٹیک آ گیا ہو گا جس کے  ساتھ اس کا برین ہیمریج بھی ہو گیا ہو گا۔ اور وہ کوما میں  چلا گیا۔

دوسرے  دن جب وہ راجو کو اسکول چھوڑ نے  کے  لیے  گئی تو پنکی اسکول نہیں  آئی تھی۔ پتہ چلا کہ راج صاحب کا کوما کی حالت میں  رات انتقال ہو گیا۔

یہ سن کر اس کی آنکھوں  کے  سامنے  اندھیر اسا چھانے  لگا۔ اس کے  دل چاہا وہ دہاڑیں  ما ر ما ر کر روئے۔ لیکن اس نے  بڑی مشکل سے  خود پر قابو رکھا۔

آخر اس کے  سر سے  وہ گھنی چھاؤں  چھن ہی گئی جس کے  سایے  میں  بیٹھ کر وہ اپنے  غموں  کی کڑی دھوپ سے  کچھ دیر کے  لیے  نجات حاصل کر لیتی تھی۔

٭٭٭