کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کب صبح ہو گی

ایم مبین


رات کے  بارہ بج رہے  تھے  اور رنگی کو ایسا محسوس ہو رہا تھا وہ اس سر د رات میں  صدیاں  گزار چکی ہے۔

چاروں  طرف تاریکی پھیلی ہوئی تھی سڑک پر کالا کتا بھی دکھائی نہیں  دیتا تھا۔ سڑک کے  اس کو نے  سے  اس کونے  تک جہاں  تک نظر جاتی تھی سنسان تھی۔ سرد ہوائیں  جسم میں  سوئیاں  سی چبھو رہی تھیں  اس نے  اپنی ساڑی اپنے  جسم کے  گرد لپیٹ رکھی تھی پھر بھی سر کا حصہ کھلا ہوا تھا۔ سرد برفیلی ہوائیں  اس حصے  سے  چھیڑخانیاں  کر کے  لطف اندوز ہو رہی تھیں۔

سال میں  دو چار راتیں  تو آتی ہی تھی جو قیامت کی ہوتی تھیں۔

وہ رنگی اور اس کے  خاندان والوں  کے  لیے  بھی قیامت کی ہوتی تھیں  اور ان کے  لیے  بھی جن کے  بڑے  بڑے  بنگلے  یا ایک ایک فلور کے  فلیٹ ہیں۔

بنگلے  اور فلیٹ والوں  کے  لیے  تو سرد راتیں  گزارنے  کا کوئی مسئلہ ہی نہیں  تھا سرد راتوں  میں  وہ اپنے  مکانوں  کے  دروازوں  کو اچھی طرح بند کر لیتے  اور گرم کپڑے  نکال کر تن زیب کر لیتے،کمروں  میں  ہیٹر جلا لیتے  یا گرم کمبلوں  میں  دبک کر سوجاتے۔

کچھ دیر میں  ہی ان کے  لیے  سردی کا احساس مردہ ہو جاتا تھا اور وہ سویرے  دیر تک سوتے  رہتے  تھے  جب تک سردی کا اثر ختم نہ ہو جائے۔

لیکن رنگی اور اس کے  خاندان والوں  کے  لیے  تو وہ راتیں  قیامت کی راتیں  ہوتی تھیں۔

شام پانچ بجے  سے  ہی یخ بستہ ہوائیں  چلنے  لگی تھیں۔

اس وقت وہ اپنے  تینوں  بچوں  کے  ساتھ پارک میں  تھی۔ سردی کی وجہ سے  اس دن پارک میں  بھی بھیڑ نہیں  کے  برابر تھی۔

اس کے  دونوں  بڑے  بچے  پارک میں  کھیل رہے  تھے۔ اور وہ اپنے  چھ مہینے  کے  بچے  کے  ساتھ ایک بینچ پر بیٹھی کھیل رہی تھی۔

اس بینچ کے  قریب اسکی زندگی کا کل اثاثہ دو گٹھریوں  اور ایک پیٹی کی شکل میں  رکھا تھا۔

رنگا کہیں  گیا تھا اسے  یقین تھا وہ سات بجے  کے  قریب پارک میں  ضرور آ جائے  گا۔                                                                                                         

رنگی اس کا نام نہیں  تھا اس کا بام وینکما تھا۔ لیکن لوگوں  کو اس کا نام وینکما ذرا مشکل سا لگتا تھا اس لیے  انھوں  اس کا نام اس کے  شوہر کی نسبت سے  رنگی رکھ دیا تھا اور وہ رنگی کے  نام سے  مشہور ہو گئی تھی۔

اس کا شوہر چھوٹے  موٹے  کام کر تا رہتا تھا۔ دن بھر جو مل جاتا وہ شام کو لیکر آ جاتا وہ لوگ ایک سستے  سے  ہوٹل کچھ سستا سا کھانا خرید کر کھا لیتے   اور اس دوکان کے  شیڈ کی طرف چل دیتے  جس کے  نیچے  وہ اپنی رات بسر کرتے  تھے۔ پارک سات بجے  بند ہو جاتا تھا۔ سات بجے  کے  بعد نہ صرف پارک میں  داخلہ منع تھا بلکہ پارک کے  واچ مین پارک میں  بیٹھے  لوگوں  کو بھی سات بجے  کے  بعد نکال دیتے  تھے۔ ان میں  رنگی کا خاندان بھی شامل تھا۔

یہ تو اچھا تھا پارک سات بجے  صبح کھل جاتا تھا۔ اس لیے  رنگی اپنے  خاندان کے  ساتھ ایک بڑے  سے  درخت کے  سائے  تلے  ڈیرہ ڈال دیتی تھی اس طرح دن بھر سر چھپانے  کے  لیے  انھیں  جگہ مل جاتی تھی۔

پارک میں  اس کے  بچے  کھیلتے  رہتے۔ وہ اپنے  چھ مہینے  کے  بچے  کے  ساتھ کھیلتی رہتی۔

دونوں  بڑی لڑکیاں  تھیں  اور لڑکا کچھ ماہ کا تھا۔

لڑکیاں  پارک میں  آنے  والوں  سے  بھیک مانگتی تھیں۔

ان کے  بھیک مانگنے  کے  طریقے  بھی عجیب و غریب تھے۔

اپنے  چھ ماہ کے  بھائی کو گود میں  لیکر وہ لوگوں  کے  سامنے  کھڑی ہو جاتیں  اور کہتیں۔

انکل! میرے  بھائی کو دودھ کے  لیے  پیسہ دو نا یہ سویرے  سے  بھوکا ہے۔ ‘‘

اگر کوئی صاحب حیثیت ہو تا تو وہ بچے  پر ترس کھا کر ایک دو روپیہ ان کے  ہاتھوں  پر رکھ دیتا تھا۔

لیکن پارک میں  زیادہ تو لوگ ان کے  لیول کے  ہی آتے  تھے۔

بیکار نوجوان جو بیکاری سے  تنگ آ کر وقت گزارنے  کے  لیے  وہاں  آ تے  تھے۔

چرسی،نشے  کے  عادی لوگ جو نشہ کرنے  کے  بعد دنیا سے  بے  خبر ہو کر پارک کے  کسی گوشے  میں  دبک کر سارا دن گزار دیتے  تھے۔

عاشق جوڑے،جو دنیا کی نظروں  سے  بچ کر تنہائی میں  کچھ وقت گزارنا چاہتے  تھے۔

ان لوگوں  سے  بچوں  کو بھیک کے  نام پر ایک پیسہ بھی نہیں  ملتا تھا۔

انھیں  صحیح طور پر بھیک یا تو سویرے  ملتی تھی یا شام میں جب پارک میں  صاحب حیثیت وہ لوگ آتے  تھے  جو اپنی صحت کے  لیے  ’’جاگنگ پارک‘‘ میں  دوڑتے  تھے۔ یا جو بلڈ پریشر، شکر وغیرہ بیماریوں  کے  مریض تھے  اور انھیں  ڈاکٹر نے  سویرے  شام چلنے  کی ہدایت کی تھی۔

ایسے  لوگ اپنی بیماریوں  کے  صدقے  میں  ایک دو روپیہ ان بچوں  کے  ہاتھ پر رکھ دیتے  تھے۔

بچوں  کو جو بھی ملتا وہ پارک کے  باہر جا کر دوکانوں  سے  چیزیں  لیکر اڑا دیتے  تھے  یا پھر اگر زیادہ ہی مل جاتا تو اس کا کچھ حصہ لا کر ماں  کے  ہاتھوں  پر رکھ دیتے  تھے۔

بچے  دن بھر اس طرح کی چیزیں  کھاتے  رہتے  تھے  اس لیے  انھیں  بھوک کی کوئی پر واہ نہیں  ہوتی تھی جب اسے  کبھی بھوک ستاتی وہ پارک کے  باہر جا کر گاڑیوں  سے  کبھی وڑا پاؤ،کبھی پکوڑے  وغیرہ کھا کر اپنی بھوک مٹا لیتی تھی۔

شام کو وہ اپنی زندگی کے  کل اثاثے  کے  ساتھ پارک چھوڑ دیتے  تھے۔

اس دوران اس نے  اور رنگا نے  پارک کے  واچ مینوں  کو بہت رجھانے  کی کوششیں  کیں  انھیں  لالچ بھی دیا کہ وہ انھیں  پارک میں  رات گزارنے  کی اجازت دے  دیں  لیکن وہ اس بات کے  لیے  راضی نہیں  ہوئے۔

ان کا کہنا تھا اگر رات کے  ۱۰  بجے  کے  بعد ان کے  آفیسر نے  کسی کو پارک میں  دیکھ لیا تو ان کی نوکری جاتی رہے  گی۔

اس طرح انھیں  اس پارک میں  رات کا ٹھکانہ نہیں  مل سکا۔

رات کا ٹھکانہ وہ بڑی سی دوکان کا بڑا سا چبوترا تھا۔

وہ دوکان رات میں  نو بجے  کے  قریب بند ہوتی تھی۔ اس کے  دونوں  طرف دوکانوں  کا سلسلہ تھا۔

۱۰  بجے  تک تو اس سڑک پر کی تمام دوکانیں  بند ہو جاتی تھیں۔

اس طرح انھیں  کسی بھی دوکان کے  شیڈ کے  نیچے  پناہ مل سکتی تھی۔

لیکن انھوں  نے  اس کپڑے  کی دوکان کو ہی چنا تھا۔

اس دوکان کا چبوترا بہت اچھا بنا ہو ا تھا۔ برسات کے  دنوں  میں  ان کی برسات کے  پانی سے  حفاظت کر تا تھا۔ اگر وہ طوفانی بارش میں  بھی اس شیڈ کے  نیچے  سوتے  رہے  تو بارش کے  پانی کا ایک قطرہ بھی آ کر ان کی نیند میں  خلل نہیں  ڈالتا تھا۔

اس لیے  انھوں  نے  اسی دوکان کے  رات گزارنے  کے  لیے  پسند کیا تھا۔

وہاں  سونے  میں  بھی کئی مسائل تھے۔

رات میں  اس سڑک کے  واچ مین آ کر ان سے  الجھتے  تھے۔

ایسا شروع شروع میں  ہو ا تھا۔

جب واچ مین انھیں  وہاں  سے  بھگانے  کی کوشش کر تے۔

لیکن جب واچ مین نے  دیکھا کہ وہ شریف لوگ ہیں  اس دوکان کے  شیڈ کے  نیچے  سوتے  رہے  گے  تو دوکان کی حفاظت بھی ہوتی رہے  گی اور اس کی ذمہ داری بھی کم ہو گی تو اس نے  ا ن سے  الجھنا چھوڑ دیا۔

بلکہ جب بھی وہ راؤنڈ پر آتا اور ان میں  سے  کسی کو جاگتا پاتا ان سے  خیر و خیریت دریافت کر کے  آگے  بڑھ جاتا تھا۔

رات میں  اکثر پولس کی جیپ راؤنڈ پر آتی تھی۔

پولس والوں  نے  بھی شروع شروع میں  انھیں  ٹوکا۔ پھر جب انھیں  اس جگہ کی مستقل سکونت کا پتہ چل گیا تو وہ بھی وہاں  بنا رکے  پوری رفتار سے  آگے  بڑھ جاتے  تھے۔

اس طرح وہ اپنے  خاندان والوں  کے  ساتھ آرام سے  اس دوکان کے  شیڈ کے  نیچے  سوتی تھی۔

کبھی کبھی رات کو جب اس کی نیند اچاٹ ہو جاتی تھی تو وہ اکثر اپنے  بچوں  رنگا اور اپنی زندگی کے  بارے  میں  سوچتی رہتی تھی۔

کیا یہ دوکان، اس کا شیڈ یہ سڑک اور پار ک اس کی زندگی کا مقدر ہے۔ اسے  کبھی چھت کا سایہ نصیب نہیں  ہو گا۔ چھت چاہے  کسی جھگی جھوپڑے  کی ہی کیوں  نہ ہو۔

آٹھ سال سے  تو یہی اس کا مقدر ہے۔ آٹھ سالوں  میں  نہ تو اس کا مقدر بدل سکا اور نہ زندگی کے  معمولات۔

آٹھ سال قبل جب وہ اپنے  گاؤں  سے  رنگناتھ کے  ساتھ اس شہر میں  آئی تھی تو اس بڑے  سے  شہر اس کی چکا چوندھ، اس میں  رہنے  والے  صاف ستھرے  لوگ،ان کی امارت،دولت،ان کی زندگی کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئی تھی۔

اس وقت اس نے  بھی ایک خواب دیکھا تھا۔

ایک دن وہ بھی اس شہر کا ایک حصہ بن کر رہ جائے  گی اور ان لوگوں  میں  شامل ہو جائے  گی۔

آٹھ سالوں  میں  وہ اس کا خاندان اس شہر کا ایک حصہ تو بن گیا ہے  لیکن وہ اس کا خاندان ان لوگوں  میں  شامل نہیں  ہو سکا۔

آٹھ سال قبل بھی اس کے  پاس سر چھپانے  کے  لیے  چھت نہیں  ہے۔ آج بھی ان کے  وجود چھت کے  سائے  سے  محروم ہیں۔

آٹھ سالوں  سے  وہ پارک اور اس کپڑے  کی دوکان کے  شیڈ کے  نیچے  زندگی گزار رہے  ہیں۔

وہ آٹھ سال قبل اپنے  گاؤں  سے  کام کی تلاش میں  اور ایک نئی زندگی شروع کرنے  کے  لیے  شہر آئے  تھے۔

انھیں  شہر میں  کام تو بے  شمار ملے۔ لیکن ڈھونڈھنے  پر بھی ایک نئی زندگی نہیں  ملی۔ اور انھیں  شہر آ کر پتہ چلا شہروں  میں  لوگ نئی زندگی کی تلاش میں  آتے  ہیں  لیکن شہروں  میں  نئی زندگی ڈھونڈھنے  سے  نہیں  ملتی۔ انھیں  اپنی نئی زندگی پیسوں  کے  بل پر خریدنی پڑتی ہے  یا پھر طاقت کے  بل پر چھیننی پڑتی ہے۔

جنھیں  نئی زندگی مل جاتی ہے  پھر اس کو حفاظت میں  انھیں  بقیہ زندگی گزارنی پڑتی ہے۔

شہر میں  رنگا کو اتنا کام ملتا تھا کہ انھیں  گاؤں  کی طرح بھو کا نہیں  رہنا پڑتا تھا۔ وہ بھر پیٹ کھا لیتے  تھے۔ وہ بھی چھوٹے  موٹے  کام کر نے  میں  لگ گئی تھی۔ تھوڑی بہت بچت ہو جاتی تھی۔

لیکن اتنی نہیں  کہ وہ سر چھپانے  کے  لیے  کہیں  پر ایک جھونپڑا ہی خرید سکے۔

جب وہ پہلے  بچے  کی امید سے  تھی تو ان کے  آگے  ایک مسئلہ کھڑا ہو گیا۔

سوال یہ سامنے  تھا کہ وہ اپنے  پہلے  بچے  کو کہاں  جنم دے۔ ؟

شہر میں  تو سر چھپانے  کا ٹھکانہ نہیں  تھا۔ اس لیے  یہ طے  کیا گیا کہ وہ اپنے  پہلے  بچے  کو جنم دینے  کے  لیے  گاؤں  جائیں  گے۔ گاؤں  میں  رنگا کا ایک ٹوٹا پھوٹا مکان تھا۔ وہ وہاں  رہ سکتے  ہیں۔

چنی کی پیدائش سے  ایک ماہ قبل وہ گاؤں  چلے  گئے  اور چنی کو دو ماہ کی گود میں  لیکر شہر آئے۔

ا ن تین مہینوں  میں  اتنے  دنوں  میں  جو کچھ انھوں  نے  بچت کی تھی وہ ختم ہو گئی کیونکہ گاؤں  میں  کوئی کام تو نہیں  تھا جس کے  کرنے  سے  دو پیسوں  کی آمدنی ہو اور خرچ چل سکے۔

شہر میں  چھوٹے  بچے  کے  ساتھ رہنا ایک مسئلہ تھا۔

بچے  کو سردی گرمی بارش سے  بچانا۔ اور ہر لمحہ اس کا خیال رکھنا بڑا مصیبت بھرا کام تھا۔ اس کے  لیے  اسے  کام چھوڑ نا پڑا۔ اب صرف رنگا کام پر جاتا تھا۔ اور وہ چنی کا خیال رکھتی تھی۔

آمدنی محدود ہو گئی تھی خرچ بڑھ گئے  تھے  اس پر رنگا کو شراب کی لت لگ گئی تھی۔ وہ کبھی پیسہ دیتا اور کبھی سارے  پیسوں  کی شراب پی کر آ جاتا۔ اسے  اس بات کا بھی احساس نہیں  رہتا کہ وہ بھوکی ہو گی۔

مجبورآس سے  نجات حاصل کرنے  کے  لے  اس نے  بھیک مانگنا شروع کر دیا۔ چنی کو گود میں  لیے  جب وہ بھیک مانگتی تو دبلی پتلی مریل سے  چنی کو دیکھ کر کوئی بھی اس کے  ہاتھوں  پر ایک آدھ روپیہ رکھ دیتا تھا۔ یہی سب کچھ گومتی کی پیدائش کے  وقت بھی ہو ا اور کرشنا کے  جنم کے  وقت بھی۔

آٹھ سالوں  میں  وہ تین بچوں  کی ماں  بن گئی تھی۔ ان کا پریوار د و فرد سے  بڑھ کر پانچ نفوذ پر مشتمل ہو گیا تھا۔

لیکن تقدیر میں  وہی پارک کی چلچلاتی ہوئی دھوپ کی تمازت سہتے  دن تھے  اور کپڑے  کی دوکان کے  شیڈ تلے  کی سرد یخ بستہ منجمد کر دینے  والی راتیں۔۔۔

سرد رات کا اس نے  شام سے  ہی انتظام کر لیا تھا۔

پارک میں  ہی اس نے  گرم کپڑے  نکال لیے  تھے۔

دوکان کے  شیڈ میں  پہونچنے  کے  بعد اس نے  بستر لگایا اور تینوں  بچوں  کو چار چار پانچ پانچ کپڑے  پہنا دئیے۔ ان کے  پاس گرم کپڑے  تو تھے  نہیں  اس طرح چار پانچ کپڑوں  سے  ہی وہ گرم کپڑوں  کا کام لیتے  تھے۔

رنگناتھ نے  بھی اپنے  پاس کے  چار پانچ کپڑے  پہن لیے۔

کرشنا کو نہ اس نے  صرف دو تین کپڑے  پہنائے  بلکہ اپنے  پاس کے  ایک بڑے  سے  کپڑے  سے  لپیٹ دیا۔

طریقہ کارگر ثابت ہوا تھا۔ اس طرح بچوں  اور رنگا کے  جسم میں  گرمی آ گئی۔ اسنے  بھی دو ساڑیوں  کو اچھی طرح اپنے  گرد لپیٹ لیا۔

بچے  اور رنگا سو گئے  تو اس نے  ان کے  اوپر کمبل یا اوڑھنے  کے  لیے  جو بھی چادریں  وغیرہ تھیں  ڈال دیں۔

سردی کے  احساس کو دور کر نے  کے  لیے  رنگا نے  اس دن کچھ زیادہ ہی پی لی تھی اس لیے  اس کے  لیے  سرد ی کا احساس پہلے  ہی دور ہو چکا تھا وہ بستر پر گرتے  ہی بے  خبر سو گیا۔

بچے  بھی سو گئے۔

لیکن وہ نہیں  سو سکی۔

اسے  ڈر تھا اگر وہ سو گئی تو کوئی بہت بڑا حادثہ ہو جائے  گا۔ اس کی نیند اس کے  خاندان کے  افراد کے  لیے  مضر ثابت ہو سکتی ہے۔

اس لیے  چاہے  کچھ بھی ہو جائے  اسے  رات بھر جاگنا ہے۔

اس لیے  وہ جاگ رہی تھی۔

اس کے  پاس کوئی کپڑا یا چادر نہیں  تھی جو وہ اپنے  جسم کے  گرد لپیٹ کر خود کو سردی سے  بچانے  کی کوشش کر سکے۔

اپنے  پاس کی دو ساڑیوں  سے  وہ خود کو جتنا لپیٹ کر خود کو سردی سے  بچا سکتی تھی اس نے  وہ کوشش کر لی تھی۔ اس سے  زیادہ وہ خود کو سردی سے  بچانا بھی نہیں  چاہتی تھی۔

اسے  خوف تھا اس نے  اگر اس سے  زیادہ خود کو سردی سے  بچایا تو اسے  نیند آ جائے  گی اور آج کی رات ا س کی آنکھوں  میں  نیند اس کے  خاندان والوں  کے  مضر ثابت ہو سکتی ہے۔

اس لیے  وہ چاہ رہی تھی کہ اسے  سردی لگے  سردی کی وجہ سے  اس نیند نہ آئے۔ وہ جاگ کر اپنے  پریوار والوں  کو سردی سے  بچاتی رہے۔

اور اس کوشش میں  ایک ایک لمحہ صدیوں  کی طرح کاٹ رہی تھی۔

من تو چاہ رہا تھا کہ آس پاس پڑے  کاغذات،گتوں  کے  ٹکڑوں، لکڑی کے  ٹکڑوں  سے  آگ جلا کر اسے  تاپ کر جسم میں  گرمی لائے  اور سردی کا احساس دور کرے۔

لیکن اسے  ڈر تھا آگ جلانے  سے  چبوترے  کا قیمتی گرینائٹ خراب ہو جائے  گا اور دوکاندار کو پتہ چلے  گا کہ اس نے  اس چبوترے  پر آگ جلائی تھی تو پھر وہ اس کے  خاندان کو رات میں  اس چبوترے  پر سونے  نہیں  دیگا۔

بچے  یا رنگا کروٹ لیتے  اور ان کے  جسم سے  چادرسرک جاتی تو وہ سردی سے  بچنے  کے  لیے  اپنے  جسم کو سکوڑ کر گٹھری بن جاتے۔ فوراً اس کی توجہ ان کی طرف جاتی اور وہ ان کے  جسم پر چادر درست کر تی وہ اسی لئے  تو جاگ رہی تھی۔

بے  خبر نیند میں  اگر ان کے  جسم سے  چادر، گرم کپڑے  سرک جائے  تو وہ تو سوتے  رہیں  گے  اور سردی اپنا کام کر کے  دوسرے  دن اس کے  پریشانیاں  بڑھا دے  گی۔ چاہتی تو و ہ بھی چادر میں  گھس کر بچوں  یا رنگا کے  جسم سے  لپٹ کر اس کڑکڑاتی سردی میں  بھی گھوڑے  بیچ کر سو سکتی تھی۔

رات کے  شاید دو بجے  ہوں  گے۔

سردی اس کے  لیے  نا قابل برداشت ہو گئی تھی۔ اس سڑک پر آگ جلا کر تاپنے  کا طے  کیا اس نے  چبوترے  کے  نیچے  سڑک پر کاغذ،لکڑی کے  ٹکڑے، گتے  وغیرہ جمع کر کے  آگ جلائی آگ کی حرارت جیسے  ہی اس کے  جسم سے  ٹکرائی ایک فرحت بخش احساس اس کے  اندر سرایت کر گیا۔

ہاتھوں  کے  ذریعے  گرمی سارے  جسم میں  پھیلنے  لگی۔ برف کی طرح سرد ہو تا جسم دھیرے  دھیرے  برف کی طرح پگھل کر گرم ہو نے  لگا۔

اچانک کرشنا کے  رونے  کی آواز ابھری اور وہ ایک جھٹکے  سے  آگ کے  گرد سے  اٹھی اور اوپر بھاگی۔

اس کے  جسم سے  کپڑا ہٹ گیا تھا اور اسے  سردی لگ رہی تھی اس لیے  وہ رونے  لگا تھا۔ اس نے  دوبارہ اسے  کپڑے  میں  لپیٹا اور تھپک کر سلانے  لگی وہ پھر سو گیا۔

تب تک اسکا جسم برف کی طرح سرد ہو گیا تھا۔

آگ کے  پاس آئی تو آگ بھی بجھ چکی تھی۔ اس نے  پھر کاغذات وغیرہ جمع کئیے  اور آگ جلائی اور اپنے  سرد ہوئے  جسم کو تاپ کر گرم کر نے  لگی۔

آگ تاپتے  ہوئے  وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اٹھ کر جاتی اور بچوں  اور رنگا پر ایک نظر ڈال دیتی۔ ان کے  جسم پر بستر کپڑوں  کو درست کرتی۔ جب سرد ہوائیں  اس کے  جسم میں  سوئیاں  سی چبھونے  لگتیں  تو وہ پھر دوڑ کر آگ کے  پاس آتی اور آگ تاپ کر اپنے  جسم کو گرم کر نے  کی کوشش کرتی۔

رات کا ایک ایک پل صدیوں  کی طرح گزر رہا تھا۔

اس کی قسمت میں  زندگی کا ہر پل صدیوں  کی طرح ہی گزرتا ہے۔

کہتے  ہیں  امیر لوگوں  کے  پاس وقت نہیں  رہتا ان کے  لیے  وقت سکڑ کر کم ہو جاتا ہے  لیکن غریبوں  کے  لیے  زندگی کا ہر پل صدیوں  سا ہو تا ہے۔ جو کاٹے  نہیں  کٹتا۔

اور وہ بھی صدیاں  کاٹ کر انتطار کر رہی تھی کب صبح ہو گی؟

ان کی زندگی کی طرح اس رات کی بھی کب صبح ہو گی اسے  خود پتہ نہیں  تھا۔   

***