کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مشکوک

ایم مبین


گھر آ کر وہ پلنگ پر گرا اور گہری گہری سانس لینے  لگا۔

اسے  ایسا محسوس ہو رہا تھا اس کی سانسوں  کی بڑھتی ہوئی اس رفتار سے  اس کے  سینے  میں  اسکا دم گھٹ رہا ہے۔ دل کی دھڑکنیں  جو لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی ہیں  کسی بہت بڑے  حادثہ کی خبر دے  رہی ہیں۔ اسے  محسوس ہو رہا تھا اس کا دل ایک دھماکے  سے  پھٹ جائے  گا اس کا سارا جسم پسینے  سے  شرابور تھا۔

بیوی ا سکی تلاش میں  بیڈ روم تک آئی اور اس کی حالت دیکھ کر اس کے  ماتھے  پر بھی شکنیں  ابھر آئیں۔

’’کیا بات ہے ؟تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں  ہے  کیا ؟بیوی نے  پوچھا

’’آں !وہ چونکا اور اپنی اس حالت سے  باہر آیا۔

کچھ ہے۔۔۔ بہت پریشان لگ رہے  ہو؟

’’ہاں۔ کئی دنوں  سے  بہت پریشان ہوں۔ ‘‘

’’کس بات سے ؟‘‘

’’آج پھر اسٹیشن پر پولس والوں  نے  چند داڑھی والوں  کو پکڑا اور پوچھ تاچھ تفتیش کے  نام پر ا ن سے  غیر انسانی سلوک کر نے  لگے۔ ‘‘

’’آخر تم ان باتوں  سے  پریشان کیوں  ہوتے  ہو؟’’بیوی اس کا منشاء سمجھ گئی‘ ‘پولس ایسا کرتی ہے  تو یہ ان کا کام ہے۔۔ اس سے  تمہیں  کیا لینا دینا۔ !تم نے  کوئی گناہ نہیں  کیا ہے ! تم بے  قصور ہو !تم ایک شریف انسان ہو!تمہیں  ڈرنے  کی کوئی ضرورت نہیں  ہے۔ اگر کسی وجہ سے  پولس نے  تم سے  روک کر پوچھ تاچھ بھی کی تو تمہارے  بارے  میں  اصلیت جان کر تمہیں  چھوڑ دے  گی۔ ‘‘

’’اور تب تک میر ی زندگی بھر کی کمائی، میری عزت خاک میں  مل جائیگی۔ ‘‘وہ بیوی کی بات سن کر ہی بھڑک اٹھا۔ ‘‘ہزاروں  لوگوں  کے  سامنے  مجھے  روکا ٹوکا جائے  گا۔ ہزاروں  لوگوں  کی نظریں  مجھ پر مرکوز ہو جائیں  گی۔ ان کے  دلوں  میں  میرے  لئے  طرح طرح کے  خیالات پید ا ہو جائیں  گے۔ نہ وہ مجھے  صرف شک کی نگاہ سے  دیکھیں  گے  بلکہ اس بات پر یقین بھی کر لیں  گے  کہ سچ مچ میں  نے  کوئی جر م کیا ہے  یا میرا تعلق ان کے  معاملات سے  ہے۔ ‘‘

کہتا ہوا وہ تیزی سے  آئینہ کے  سامنے  آ کر کھڑا ہو گیا اور اپنا جائزہ لینے  لگا۔

اسے  آئینہ میں  اپنی صورت بڑی بھیانک نظر آ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں  سرخ انگاروں  کی طرح دہک رہی تھیں۔ چہرے  پر ایک وحشت اور کرختگی ابھر آئی تھی جس نے  اس کے  چہرے  کے  تاثرات کو اور زیادہ بھیانک بنادئے  تھے۔ چہرے  کی داڑھی کے  بال کھچڑی سے  ہو گئے  تھے۔ اس کے  اس حلیے  نے  اسے  خود سے  جدا کر دیا تھا۔

’’دیکھو! اس چہرے  کو غور سے  دیکھو۔۔ اس چہرے  کو دیکھ کر کوئی بھی مجھ پر شک کر سکتا ہے۔ اور میں  شک کی بنیاد پر گرفتار کیا جاسکتا ہوں۔ ‘‘

’’آج جس چہرے  کی وجہ تم اپنے  آپ کو مشکوک محسوس کر رہے  ہوکیا تمہارا یہ چہرہ کچھ دنوں  میں  تبدیل ہو گیا؟‘‘یہ چہرہ یہ خدوخال تو برسوں  سے  تمہارے  جسم تمہاری شخصیت کا ایک بڑا جزوہے۔ لاکھوں  لوگ تمہیں  تمہارے  اس چہرے  کی وجہ سے  جانتے  ہیں۔ اور وہ یہ بھی جانتے  ہیں  کہ تم ایک نہایت شریف انسان ہو۔ ‘‘

’’لیکن پولس نہیں  جانتی ہے  نا!وہ بے  بسی سے  بولا۔ اور اس کی آنکھوں  میں  آنسو آ گئے۔ ‘‘

وہ جانتا تھا وہ جتنا پریشان ہے  اس سے  زیادہ اس کی بیوی پریشان ہے  وہ گھنٹوں  اسے  سمجھاتی رہتی تھی۔

’’اکبر تم اپنے  ذہن سے  یہ شک نکال دو۔ کہ تم کبھی شک کی بنیاد پر گرفتار کر لیے  جاؤگے۔ تمہارے  ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جائے  گا۔ تمہیں  حوالات میں  ڈال دیا جائے  گا۔ تم کو اذیتیں  دی جائیں  گی اور تم پر طرح طرح کے  بے  بنیاد الزام لگا کر تمہارے  نا م کی خوب تشہیر کی جائے  گی۔ اور پھر طرح طرح کی دفعات کا سہار لیکر تمہیں  جیل میں  ٹھونس دیا جائے  گا۔ ان دفعات کی وجہ سے  برسوں  تمہاری ضمانت نہیں  ہو پائے  گی۔ اور تم جیل میں  سڑتے  رہو گے۔ برسوں  بعد اگر تم ضمانت پر رہا ہوئے  بھی تو تمہارا بھرا پرا  گھر اجڑ چکا ہو گا تمھارے  پاس زندگی گزارنے  کا کوئی ذریعہ نہیں  رہے  گا۔ آج تم جو نوکری کر رہے  ہو۔ تمہاری وہ نوکری بھی جاتی رہے  گی۔ ہر کوئی تم کو مجرم سمجھے  گا اور  کہے  گا ’’ضرور تم نے  کوئی جرم کیا ہو گا تبھی تو اتنے  دنوں  تک جیل کی سلاخوں  کے  پیچھے  رہے۔ ‘‘

اس کے  بعد ۱۰،۱۵سالوں  تک تم پر مقدمہ چلے  گا۔ ۱۰،۱۵سالوں  بعد یہ فیصلہ ہوا بھی کہ تم بے  قصور ہو۔ ’’تمہیں  با عزت بری کیا جاتا ہے۔ پولس نے  تم پر جھوٹا الزام لگایا تھا تو کیا حاصل ؟  تمھاری زندگی تو تباہ ہو چکی ہو گی۔ ایسا کچھ نہیں  ہو گا۔ تمھارے  وسوسے  بے  بنیاد ہیں۔ ‘‘

’’ایسا ہو سکتا ہے  اور کبھی بھی ہو سکتا ہے۔ اور کسی کے  ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ پولس اپنی کرسیاں  بچانے  کیلئے  اپنے  سینے  پر تمغات سجانے  کیلئے  کچھ بھی کر سکتی ہے  اور کر رہی ہے۔ پولس نے  یہ اپنا طریقہ کار بنا لیا ہے۔ بڑے  سے  بڑے  معاملے  میں  تفتیش کر کے  اصلی مجرم کو ڈھونڈنے  کے  بجائے  کسی بے  قصور کو پکڑ کر سارے  معاملات اس کے  سر مڑھ کر ہونے  والی تنقید سے  نجات پالو، اپنی کرسیاں  بچا لو،واہ واہی لوٹ لو،ٹی وی اسکرین پر اپنے  کارنامے  کے  ساتھ دکھائی دو۔۔

اب اس بے  قصور، بے  گناہ کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے  تو ان کی بلاسے۔ ۱۰،۲۰سالوں  میں  جب یہ فیصلہ ہو گا کہ وہ بے  گناہ ہے  تو نہ وہ وہاں  رہے  گی نہ ان سے  کوئی باز پرس کی جائیگی نہ ان پر کوئی ایکشن لیا جائیگا۔ کیونکہ ہندوستان کے  قانون میں  ایسی کوئی دفعہ نہیں  ہے  کسی بے  گناہ کو حراساں  کرنے  پر کسی وردی والے  کے  خلاف کوئی کاروائی کی جائے۔‘‘

بیوی خود اس کی ان تاویلوں  سے  پریشان ہو کر اس کے  سامنے  ہتھیار ڈال دیتی تھی۔

   بات صرف یہاں  تک ہی محدود نہیں  تھی۔

جب بھی ٹی وی پر کوئی خبر آتی کہ پولس نے  کسی بڑے  معاملے  میں  کسی بڑے  مجرم کو پکڑا ہے  وہ دیکھتے  ہی چیخ اٹھتا۔

’’جھوٹ!پولس نے  کسی مجرم کو نہیں  پکڑا ہو گا۔ کسی بے  قصور کو پکڑ کر سارے  الزامات اس کے  سر دھر دیے  ہوں  گے  اور تفتیش کی جھنجھٹ سے  نجات حاصل کرنے  کیلئے  کسی بے  قصور کی زندگی تباہ کرنے  کا منصوبہ بنالیا ہو گا۔ ‘‘

جب بھی کسی اخبار میں  ایسی کوئی خبر آتی وہ بیوی کو پوری خبر پڑھ کر سناتا اور پھر اس خبر کی روشنی میں  جو از اور تاویلیں  پیش کر کے  یہ ثابت کر نے  کی کوشش کرتا کہ پولس نے  کوئی کارنامہ انجام نہیں  دیا ہے  ایک بے  قصور کو پکڑ کر اس پر سارے  الزام لگا دیے  ہیں۔

اسے  ہر لمحہ محسوس ہوتا تھا جیسے  وہ چاروں  طرف سے  گھر گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ پولس والوں  سے۔ پولس والے  لمحہ بہ لمحہ اس سے  قریب آتے  جا رہے  ہیں۔ وہ چاہے  تو اسے  گولیوں  سے  بھون کر چھلنی کر سکتے  ہیں۔ چاہے  تو اسے  گرفتار کر کے  جانوروں  کی اسے  مار مار بے  دم کر سکتے  ہیں۔ چاہے  تو اسے  حوالات میں  ڈال کر اذیت ناک سلوک کر سکتے  ہیں۔ یا پھر کئی سالوں  تک اسے  جیل میں  سڑا سکتے  ہیں۔

اس پر کچھ بھی الزام لگاسکتے  ہیں۔

اسے  دہشت پسند قرار دے  سکتے  ہیں۔

اسے  ملک دشمن قرار دے  سکتے  ہیں۔ اس پر ملک دشمنی کا الزام لگا کر اسے  غدار قرار دے  سکتے  ہیں۔

بڑے  بڑے  ملک دشمنی کے  واقعات میں  اسے  ملوث کر سکتے  ہیں۔

وہ اس سیا ہ دن کو بھول نہیں  سکتا ہے۔

حسب معمول چھ بجے  کے  قریب وہ ڈیوٹی سے  گھر واپس آ رہا تھا۔ کہ اچانک ٹرین ایک جگہ رک گئی۔ جب کافی دیر تک ٹرین آگے  نہیں  بڑھی تو اس نے  اور ٹرین میں  سوار دیگر لوگوں  سے  پتہ لگانے  کی کوشش کی کہ معاملہ کیا ہے ؟

تب انھیں  پتہ چلا۔

ٹرین کے  اگلے  اسٹاپ پر ایک ٹرین میں  بم دھماکہ ہو ا ہے  اس طرح کے  بم دھماکے  سات آٹھ ٹرینوں  میں  سات آٹھ مقامات پر ہوئے  ہیں۔

یہ سن کر اسکا دل تڑپ اٹھا۔

اسٹاپ زیادہ دور نہیں  تھا ایک دو لوگوں  کے  ساتھ اس نے  ٹرین چھوڑ دی اور اسٹیشن کی طرف چل دیا۔ اتھیں  اسٹیشن پہونچنے  میں  زیادہ دیر نہیں  لگی۔

انھوں  نے  اس قیامت کو اپنی آنکھوں  سے  دیکھا۔

اسٹیشن کی چھت اڑی ہوئی تھی۔ جس ڈبے  میں  دھماکہ ہوا تھا اسکی چھت غائب تھی۔ ڈبہ بری طرح جلا ہوا تھا۔ ڈبے  میں  زخمی کراہ رہے  تھے۔ کئی لاشیں  اندر بکھری ہوئی تھیں۔ انسانی اعضاء ادھر اُدھر پڑے  ہوئے  تھے۔ لوگوں  کا سامان ادھر اُدھر بکھرا ہوا تھاپولس کا کہیں  نام و نشان نہیں  تھا۔

وہ دیگر لوگوں  کے  ساتھ امداد کے  کاموں  شامل ہو گیا۔ ڈبے  سے  زخمی لوگوں  کو نکال کر سڑک تک لا کر اسپتال تک پہنچاتا۔ لاشوں  کو نکال کر ایمبولینس میں  ڈالتا۔ انسانی اعضاء کو ایک جگہ جمع کرتا۔ بکھرے  سامان کو یکجا کرتا۔

وہ ان کاموں  میں  کچھ اس طرح کھو گیا کہ اسے  اس بات کا ہوش ہی نہیں  رہا کہ گھر پر بیوی اس کا انتظار کر رہی ہو گی۔ اس کی بیوی کو ٹرین میں  ہوئے  دھماکوں  کا پتہ چل گیا ہو گا۔ بیوی کو علم ہے  وہ ڈیوٹی سے  گھرواپس آتا ہے۔ اور ابھی تک گھر نہیں  پہونچا ہے۔ کہیں  وہ بھی ان دھماکوں  کا شکار نہ ہو گیا ہو؟بیوی اس سے  مسلسل رابطہ قائم کرنی کوشش کر رہی تھی لیکن موبائیل بند تھے۔

ایک دو بار راحت کاری کے  کاموں  سے  الگ ہو کر اس نے  گھر فون لگانے  کی کوشش بھی کی تھی لیکن ناکام رہا تھا۔ اس کے  بعد وہ متاثرین کی امداد کے  کام میں  لگ جاتا تو پھر اسے  بیوی، بچوں  اور گھر کا ہوش ہی نہیں  رہتا تھا۔

اسے  پتہ چلا تھا ساری ٹرینیں  بند ہیں۔ وہ واپس گھر نہیں  جاسکتا اس لیے  متاثرین کی مدد کرنے  میں  لگا ہوا تھا۔

کام ختم ہوا تو رات کے  ۱۲  بج رہے  تھے۔ ۱۲ بجے  اس نے  بیوی کو کسی طرح پیغام دیا کہ وہ خیریت سے  ہے  اس کی فکر نہ کرے  وہ گھر آنے  کی کوشش کر رہا ہے۔

کسی طرح وہ رات کے  ۲ بجے  گھر پہونچا تھا۔

بیوی اور کئی پڑوسی اس کی راہ دیکھ رہے  تھے۔ اس نے  سارے  واقعات انہیں  سنائے  رات گزر گئی دوسرے  دن زندگی پھر معمول پر آ گئی تھی۔ وہ سویرے  پھر ڈیوٹی پر چلا گیا۔

شام واپس آیا تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے  وہ زندگی کا ایک عام سا دن ہے  کل اتنا بڑا حادثہ ہوا لوگ جیسے  بھول گئے  تھے۔ وہ بھی بھو ل گیا تھا کہ وہ حادثہ اس نے  اپنی آنکھوں  سے  دیکھا ہے۔ ایک ایک درد ناک منظر کا وہ چشم دید گواہ ہے  رات کا کھانا کھا کر وہ سو گیا۔

اچانک ایسا محسوس ہو ا جیسے  قیامت آ گئی ہو۔

آدھی رات کا وقت تھا جب آنکھ کھلی،دروازہ زور زور سے  پیٹا جا رہا تھا۔ گھبرا کر اسنے  دروازہ کھولا تو باہر کا منظر دیکھ کر اس کا دل دھک سے  رہ گیا پورا علاقہ کسی پولس چھاؤنی میں  تبدیل ہو گیا تھا۔ گلی میں  چاروں  طرف پولس کی وردیاں  دکھائی دے  رہی تھیں۔ انھوں  نے  کچھ لوگوں  کو گرفتار کر رکھا تھا۔ اور ان سے  باز پرس کر رہے  تھے۔

اس کے  دروازہ کھولتے  ہی چار پانچ پولس والے  دندناتے  ہوئے  گھر میں  گھس آئے  ایک نے  بندوق کی نال اس کے  سینے  پر رکھ دی اور باقی گھر کی ایک ایک چیز کو تہس نہس کرنے  کے  انداز میں  الٹ پلٹ کر کے  دیکھنے  لگے۔

بیوی نے  احتجاج کیا تو ایک پولس والا غرایا۔

’’زیادہ گڑبڑ کی تو لے  جا کر جیل میں  ٹھونس دیں  گے۔ ہمیں  اپنا کام کرنے  دے۔ ‘‘ایک سپاہی اس پر سوالات کی بوچھار کرنے  لگا۔

’’تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘

’’کہاں  کا م کرتا ہے ؟‘‘

’’کل کہاں  تھا؟‘‘

’’کل دن میں  کہاں  تھا؟‘‘

’’تیرے  کن کن لوگوں  سے  تعلقات ہیں۔ ‘‘

سارے  گھر کو تہس نہس کرنے  کے  بعد جب انہیں  کچھ نہیں  ملا تو جھلا کر ایک نے  آرڈر دیا۔

’’اسے  پولس اسٹیشن لے  چلو۔۔۔ صاحب اس کے  بارے  میں  فیصلہ کریں  گے۔ ‘‘بیوی نے  اس بات پر احتجاج کیا تو اسے  ایک پولس والے  نے  اس بری طرح دھکا دیا کہ وہ منہ کے  بل گر پڑی اور اس کے  منہ سے  خون نکلنے  لگا۔

اسے  پولس کی جیپ میں  ڈال کر پولس اسٹیشن لایا گیا۔ پولس اسٹیشن میں  ۲۰۰کے  قریب لوگ تھے۔

انہیں  کو میپنگ آپریشن کے  نام پر پولس اسٹیشن لایا گیا تھا۔ بم دھماکوں  کی تفتیش کے  نام پر پولس نے  شہر کے  کئی علاقوں  میں  اس طرح کی کاروائیاں  کی تھیں۔ ہزاروں  لوگوں  کو گرفتار کیا گیا تھا۔

رات بھر ان سے  پوچھ تاچھ کی جاتی رہی۔ ان کے  ساتھ پولسیانہ سلوک کیا جاتا رہا۔

کچھ سراغ ہاتھ نہ آنے  پر دوسرے  دن ان لوگوں  کو چھوڑ دیا گیا۔

گھر آیا تو پتہ چلا کہ بیوی اسپتال میں  ہے  اسے  اس گرفتار کر کے  لے جانے  کا وہ صدمہ برداشت نہیں  کر سکی تھی اور بے  ہو ش ہو گئی تھی۔ پڑوس کی چند عورتوں  نے  اسے  اسپتال پہونچا دیا تھا۔

وہ سیدھا اسپتال گیا۔ اسے  دیکھ کر بیوی کی جان میں  جان آئی شام تک اس نے  ڈاکٹر سے  ضد کر کے  رخصت لے  لی۔ اور وہ گھر آئے۔

تیسرے  دن اسے  آفس جانا پڑا۔ لیکن گذشتہ دو دنوں  کے  اثرات اس ذہن سے  مٹ نہیں  سکے  تھے۔ اور اسکے  ساتھ جو کچھ ہو ا ان واقعات کا ایک ایک منظر اس کے  ذہن میں  چکر اتا تھا۔ اس وجہ سے  وہ کچھ اکھڑا اکھڑا سا رہا۔ آفس میں  اس کا دل نہیں  لگ رہا تھا۔ اس شام جب وہ واپس آ رہا تھا تو اس نے  کچھ ایسے  مناظر دیکھے  جنہیں  دیکھ کر اس کا دل دہل گیا۔ ہر اسٹیشن پر پولس فورس موجود تھی۔ ہر آنے  جانے  والوں  کو روکا جا رہا تھا اس سے  باز پرس کی جا رہی تھی اس کے  سامان کی تلاشی لی جا رہی تھی۔ جس پر ذرا بھی شک ہوتا اسے  پولس جیپ میں  بٹھا کر پولس اسٹیشن پہونچا دیا جاتا۔ یہ مناظر دیکھ کر اس کی آنکھوں  کے  سامنے  اندھیرا سا چھا جاتا۔ اسے  محسوس ہوتا پولس والے  اسے  گھور رہے  ہیں۔ وہ انکی نظر میں  مشکوک ہے  ابھی اسے  آ دبو چیں  گے۔

اور ایک بار پھر اس کے  ساتھ وہی سب کچھ ہو گا جو دو دن قبل وہ جھیل چکا ہے۔

اف وہ سیاہ رات۔۔ اس کی اذیتیں  وہ کبھی انھیں  بھول نہیں  سکتا۔

ایک سیاہ رات۔۔ جو اس کی زندگی کا ایک سیاہ باب بن گئی۔ اگر پھر کسی وجہ اسے  شک کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا تو وہ سیاہ راتیں  اس کی زندگی کا مقدر بن جائے  گی۔

اسے  جہاں  کوئی پولس کا سپاہی دکھائی دیتا وہ اس سے  کترا کر گزر نے  کی کوشش کرتا۔

اسے  احساس تھا اس طرح وہ انگاروں  سے  کھیل رہا ہے۔ اس طرح اگر پولس کو اس پر شک نہ بھی ہو تو ہونے  لگے  گا اور وہ مصیبت میں  پھنس جائے  گا۔ لیکن پولس والوں  کا سامنا کرنے  کی اس میں  سکت نہیں  تھی۔

روزانہ ٹی وی پر خبریں  آتی کہ شک کی بنیاد پر بم دھماکوں  کے  سلسلے  میں  اتنے  لوگوں  کو گرفتار کیا گیا۔ اخبارات مشکوک لوگوں  کے  بارے  تفصیلات سے  خبریں  پیش کرتے۔

اور لمحہ بہ لمحہ اسے  محسوس ہوتا ایک دن وہ بھی ان مشکوک لوگوں  میں  شامل ہو کر اس عذاب کا شکار بن جائے  گا۔

اور اسے  محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس وقت اس عذاب میں  مبتلا رہے  گا جب تک اس سلسلے  میں  پولس کی تحقیقات ختم نہ ہو جائے۔