کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مہربانی

ایم مبین


رینو سے  پہلی ملاقات بالکل اتفاقیہ تھی۔ نہ تو اس سے  قبل اسے  کبھی دیکھا تھا نہ اس کا کبھی نام سنا تھا۔ نہ اس کے  بارے  میں  کسی بھی بات کا پہلے  سے  کوئی علم تھا۔

ایک دن آفس سے  گھر جاتے  ہوئے  آفس کا ایک ساتھی سندیپ کہنے  لگا۔

’’اگر فرصت ہو تو جا کر سنجیونی اسپتال سے  ہو آتے  ہیں  ؟‘‘

’’خیریت‘‘

میرا ایک دوست ہے  منوہر !وہ سخت بیمار ہے  اور اس اسپتال میں  ایڈمیٹ ہے  سوچتا ہوں  آج اس کو دیکھ کر گھر جاؤں۔ ‘‘

’’ٹھیک ہے۔ میں  بھی فری ہوں۔ اس نے  جواب دیا تھا۔ ‘‘

دونوں  اسپتال پہونچے  تھے  اور منوہر کو ڈھونڈھتے  اس کے  وارڈ اور اس کے  بیٖڈ تک۔

منوہر ایک ۲۰،۲۵سال کا خوبصورت نوجوان تھا اس وقت بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔

اس کی حالت بتا رہی تھی کہ وہ کئی دنوں  سے  اسپتال میں  ایڈ میٹ ہے۔ چہرے  کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی۔ آنکھیں  اندر دھنسی ہوئی تھی اور چہرے  سے  وحشت بر ستی تھی۔

’یہ میرے  آفس میں  کام کر تے  ہیں  ان کا نام دلیپ ہے  سندیپ نے  منوہر سے  اس کا تعارف کرایا تھا۔ پھر منوہر سے  پوچھنے  لگا تھا۔

’’کیا بات ہے  آخر یہ بیماری کیا ہے  کچھ سمجھ میں  نہیں  آیا؟‘‘

’کیا بیماری ہے  میری تو کچھ سمجھ میں  نہیں  آ رہا ہے۔ ‘‘منوہر نے  بیزاری سے  جواب دیا تھا۔ ‘میں  تو اس اسپتال میں  اس بیڈ پر لیٹے  لیٹے  بو ر ہو گیا ہوں  جی تو چاہتا ہے  ابھی گھر چلا جاؤں  لیکن ڈاکٹر چھوڑ نے  کا نا م نہیں  لیتے۔ ‘‘

’نمستے  بھائی صاحب۔ اسی وقت ایک میٹھی آواز گونجی تو اس نے  سراٹھا کر دیکھا۔ ‘

سامنے  ایک خوبصورت سے  ۲۰،۲۲سالہ عورت کھڑی تھی اس نے  ایک سادی ساڑی بالکل گھریلو عورتوں  کے  انداز میں  تن زیب کئے  تھی۔

لیکن اس میں  بھی اس کی خوبصورتی دوبالا ہو رہی تھی۔ اس کے  چہرے  کے  نقش و نگار بڑے  پر کشش تھے۔ رنگ گورا اور جسم متناسب تھا۔

’نمستے  رینو بھابی‘ سندیپ نے  جواب دیا تھا۔ ‘‘یہ میرے  آفس میں  کام کرتے  ہیں  ان کا نام دلیپ ہے۔

کہتے  سندیپ نے  رینو سے  اس کا تعارف کرایا تھا۔

’نمستے‘ رینو نے  مسکرا کر اس کے  سامنے  ہاتھ جوڑے  تھے۔

 رینو کی دلکش مسکراہٹ اسکے  ذہن پر ایک گہر ی چھا پ چھوڑ گئی تھی۔

اس کے  بعد منوہر اور سندیپ میں  باتیں  ہو تی رہی۔ وہ ادھر اُدھر دیکھتا رہا یا پھر چور نظروں  سے  رینو کا جائزہ لیتا رہا۔ رینو کبھی سندیپ کا منہ دیکھتی تو کبھی منو ہر سے  کچھ کہنے  لگتی۔ اس کی طرح بالکل دھیان نہیں  دیتی تھی۔ کبھی غیر ارادی طور پر دونوں  کی نظریں  مل جاتی تھیں  تو چونک پڑتی تھی اور پھر مسکرا کر رہ جاتی تھی۔

پھر جب وہ منوہر سے  رخصت ہوئے  تو رینو انھیں  چھوڑ نے  کے  لیے  گیٹ تک آئی۔

’’آخر ڈاکٹر کیا کہتے  ہیں ؟کونسی بیماری ہے ؟’’سندیپ نے  پوچھا۔ ‘‘

’بار بار ریڈ بلڈ سیل کم ہو جاتے  ہیں  جس کی وجہ سے  کمزوری پیدا ہو جاتی ہے  ڈاکٹر کہتے  ہیں  کافی لمبا علاج کر نا پڑے  گا۔ کافی خرچ آئے  گا اور بہت دنوں  تک دوا خانے  میں  رہنا پڑیگا۔

رینو نے  جب منوہر کی بیماری کے  بارے  میں  بتایا تو جسم میں  ایک جھر جھری سی آ گئی۔

اسے  باتوں  سے  پتہ چلا تھا کہ منوہر ایک نوکری پیشہ آدمی ہے۔

اس شہر میں  اس کا کوئی نہیں  ہے۔ بیماری اور علاج کا خرچ وہ زیادہ دنوں  تک برداشت نہیں  کر پائے  گا۔

پھر وہ سوچنے  لگا قدرت غریبوں  کو اتنی بڑی بڑی بیماریاں  کیوں  دے  دیتی ہے ؟

راستے  بھر وہ منوہر کے  بارے  میں  سوچتا رہا۔

کبھی کبھی رینو کا بھی خیال آ جاتا تھا۔

بیچاری رینو!

ان کی شادی کو مشکل سے  دو تین سال ہوئے  ہوں  گے۔ شاید ابھی تک کوئی بچہ نہیں  تھا۔ ابھی تو انھوں  نے  صحیح طرح سے  زندگی کو دیکھا بھی نہیں  تھا اور مقدر نے  اسے  اتنے  سخت امتحان میں  ڈال دیا۔ شوہر کی خدمت کرنا تو ہر بیوی کا فر ض ہو تا ہے۔ وہ بھی اپنے  پتی کی سیوا کر رہی ہے۔

لیکن آئندہ زندگی کس طرح گزرے  گی؟ ان کا کیا ہو گا اس بات کا وہ تصور بھی نہیں  کر سکتے۔

کچھ چہرے  ذہن پر گہر ا تاثر چھوڑ جا تے  ہیں۔

ان میں  رینو کا چہرہ بھی شامل تھا۔

اکثر وہ رینو کے  بارے  میں  سوچتا تھا جب بھی اس کے  بارے  میں  سوچتا اس کی آنکھوں  کے  سامنے  رینوکا سراپا روشن ہو جا تا تھا۔ سندیپ سے  اس کے  بعد کبھی منوہر کے  بارے  میں  کوئی بات نہیں  ہو سکی کہ اس کا کیا ہوا۔ اس کی زندگی کس طرح گزر رہی ہے۔ اس لیے  وہ منوہر کو تقریباً بھول گیا تھا۔

لیکن رینو بھولنے  جیسی چیز نہیں  تھی چاہ کر بھی وہ اسے  بھول نہیں  سکا۔

اور ایک دن رینو اس کے  سامنے  کچھ اس انداز سے  آئی کہ وہ کبھی اس کے  بارے  میں  سوچ بھی نہیں  سکتا تھا۔

اس کے  کبھی خواب میں  بھی نہیں  سوچا تھا کہ کبھی اس کی رینو سے  ملاقات ہو گی اور ایسے  حالات میں۔ 

اسکا دوسرے  شہر سے  ایک دوست آیا تھا۔

وہ کچھ رنگین مزاج کا تھا۔

’دلیپ ! میں  نے  ممبئی کے  ڈانسنگ باروں  کے  بارے  میں  بہت کچھ سنا ہے۔ آج کی شام میں  کسی بیئر با رمیں  گزار نا چاہتا ہوں۔ ‘‘

’’فکر مت کرو۔ مجھے  اندازہ ہے  تمھاری جیب تمھیں  میری اس تفریح کی اجازت نہیں  دے  گی۔ اس لیے  تم فکر مت کرو پورا خرچ میں  کروں  گا میں  اپنے  اس طرح کے  شوق کے  لیے  دوستوں  پر بوجھ نہیں  ڈالتا ہوں  خود ہی یہ بوجھ اٹھا تا ہوں۔ ‘‘

جہاں  تک بیئر بار میں  جانے کی بات تھی یہ تجربہ اس کے  لیے  بھی نیا تجربہ تھا۔

ایسی بات نہیں  تھی کہ وہ بیئر یا شراب نہیں  پیتا تھا۔

چار دوست مل گئے  تو یہ سلسلہ تو اکثر چلتا تھا۔

وہ دوستوں  ساتھ بیئر بار میں  بھی جا تا تھا۔ لیکن اس کی تفریح صرف پینے  کی حد تک محدود تھی۔

اسے  ڈانس کر تی لڑکیوں  میں  دلچسپی نہیں  تھی۔

ویسے  دوسرے  لفظوں  میں  کہا جائے  تو اس طرح کی تفریح کی اجازت اس کی جیب نہیں  دیتی تھی اس نے  ڈانسروں  کے  کئی قصے  سنے  تھے  کہ وہ کس صفائی سے  لوگوں  کی جیبیں  خالی کر تی ہیں  کہ پتہ بھی نہیں  چلتا ہے۔

لیکن دوست اور دوستی کا معاملہ تھا۔

اور پھر دوست پورا خرچ کرنے  کے  لیے  تیا ر تھا تو اس تفریح کے  لیے  وہ نا بھی نہیں  کہہ سکتا تھا۔

جب وہ بار میں  پہونچے  تو محفل شروع ہو چکی تھی۔

لوگ اپنی اپنی میزوں  پر بیٹھے  شراب کا مزہ لے  رہے  تھے  اور تھرکتی لڑکیوں  کے  تھرکتے  بدن سے  بھی لطف اندوز ہو رہے  تھے۔

اس نے  ایک اچٹتی ہو نظر ڈانس کر تی لڑکیوں  پر ڈالی۔

ان کے  چہروں  کے  خدوخال سے  وہ ان کے  جسم کے  خطوط کا جائزہ لیتے  ان میں  اپنی دلچسپی کا سامان تلاش کرنے  لگا۔

لیکن اسے  ایک بھی چہر ہ ایسا دکھائی نہیں  دیا جو اس کے  دل میں  دلچسپی جگا سکے  اس لیے  بیئر کی چسکیاں  لینے  لگا۔

اچانک اس کے  ذہن کو حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔

اور وہ آنکھیں  پھاڑ پھاڑ کر ڈانسنگ فلور پر تھر کتی ایک بار گرل کو دیکھنے  لگا۔

اسے  اپنی آنکھوں پر یقین نہیں  آ رہا تھا۔

وہ رینو تھی۔

’رینو !ایک گھریلو عورت! بار گرل کے  روپ میں۔ نہیں  نہیں ایسا نہیں  ہو سکتا۔ ‘‘

وہ رینو نہیں  کوئی اور ہو گی کئی لڑکیوں  کی شکلیں  ایک دوسرے  سے  ملتی ہیں۔ ‘‘

لیکن یقین نہ کر نے  کی کوئی بات نہیں  تھی۔

وہ رینو ہی تھی۔

لوگوں  سے  ٹپ وصول کرنے  کے  لیے  وہ کئی بار اس کے  قریب سے  گزری تھی اور اس نے  کئی بار اسے  بہت قریب سے  دیکھا اس کے  بعد تو یہ یقین نہ کرنے  کا کوئی جواز ہی نہیں  تھا کہ وہ رینو نہیں  ہے۔

پھر وہ رینو کو پہچاننے  میں  دھوکہ نہیں  کھا سکتا تھا۔

فرق صرف اتنا تھا کہ اس وقت پہلی بار اس نے  رینو کو سیدھے  سادھے  گھریلو لباس میں  دیکھا تھا۔

اس وقت اس کی آنکھوں  کے  سامنے  جو رینو تھی وہ ڈانسروں  کے  لباس میں  تھی۔ اس کے  جسم کے  کپڑے  اس کے  جسم کو ڈھانکنے  کے  بجائے  اس کے  جسم کے  عضوات کو ا جاگر کر نے  کا زیادہ کام کر رہے  تھے۔

اس نے  اس پہلے  رینو کا صرف چہرہ دیکھا تھا۔

اب اس کی آنکھوں  کے  سامنے  اس کا جسم بھی تھا۔ وہ اس کے  جسم کو ہر زاویے  سے  دیکھ سکتا تھا۔

شراب پیتے  لوگ رینو کو بلاتے۔

وہ مسکراتی ہوئی جاتی اور جا کر ان کی گو د میں  بیٹھ جاتی۔

اسے  سو روپیہ کا نوٹ دکھا تے  ہوئے  وہ لوگ اس کے  ساتھ اس کے  جسم کے  ساتھ طرح طرح کی فحش حر کتیں  کرتے۔

رینو ان کی ان فحش حرکتوں  کی کوئی مزاحمت نہیں  کرتی۔

ان کے  ہاتھوں  میں  پکڑی نوٹ کو حاصل کرنے  کی تمنا میں  مسکرا کر جواب دیتی۔ اور پھر ان کے  ہاتھوں  سے  نوٹ لیکر مسکراتی ہوئی واپس ڈانسنگ فلور پر جا کر تھر کنے  لگتی۔

اس کا دوست ایک دوسری لڑکی میں  الجھ گیا تھا۔

فلور پر ڈانس کر تی کئی لڑکیوں  میں  اس کی نظریں  صرف رینو پر جمی ہوئی تھی۔

کچھ سوچتے  ہوئے  اس نے  اپنی جیب سے  سو کا نوٹ نکال اور اسے  بتا تے  ہوئے  رینو کو اشارہ کیا۔

اس کا اشارہ سمجھ کر اور اس کے  ہاتھوں  کی نوٹ دیکھ کر رینو کے  چہر ے  پر خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی وہ تھر کتی ہوئی آئی اور آ کر اس کی گود میں  بیٹھ گئی اور مسکرا کر اٹھلا کر ایک ادا سے  اس کے  ہاتھوں  سے  نوٹ حاصل کر نے  کی کوشش کرنے  لگی۔

’’تم رینو ہو نا !منوہر کی بیوی ؟’’اس نے  رینو سے  پوچھا۔ ‘‘

اس کی بات سنتے  ہی رینو کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ خوفزدہ نظروں  سے  اسے  دیکھنے  لگی۔

’’تم کون ہو ؟اس کے  کانپتے  ہوئے  لہجے  میں  سوال کیا۔

’میں  دلیپ ہو ں۔ سندیپ کا دوست ایک بار میں  منوہر سے  ملنے  اسپتا ل میں  آ چکا ہوں۔ منوہر کیسا ہے۔ ؟

’’ویسا ہی ہے۔ ’’رینو نے  جواب دی۔ اس کا چہرہ اتر گیا تھا۔ ‘‘

وہ یونہی اس کی گود میں  بیٹھی رہی۔ جیسے  اس کی کسی فحش حر کت کی منتظر ہو۔

لیکن اسے  ایسا محسوس ہو رہا تھا اس کے  سارے  جسم کو جیسے  کسی غیر معمولی قوت نے  جکڑ لیا ہے۔

رینو اس کی گود میں  بیٹھی تھی وہ اس کے  ساتھ کچھ بھی حرکت کر سکتا تھا۔ رینو خود اس کی حر کت کی منتظر تھی۔ لیکن اس میں  جیسے  کچھ کر نے  کی سکت ہی نہیں  تھی۔

اس نے  سو کا نوٹ رینو کی طرف بڑھا دیا۔

رینو چپ چاپ نوٹ لیکر فلور واپس چلی گئی۔

فلو ر پر واپس جاتے  ہی وہی دلفریب مسکراہٹ اس کے  چہرے  پر لوٹ آئی جو دیگر لڑکیوں  کے  چہروں  پر تھی جس سے  وہ گاہکوں  کو گرویدہ بنا کر انھیں  پھانستی تھیں۔

اسی مسکراہٹ کو چہرے  پر سجائے  رینو ایک بار پھر تھرک رہی تھی۔

اس کا ساتھی شراب پیتا رہا۔ لڑکیوں  کے  ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے  ان پر پیسے  لٹا تا رہا۔

وہ بھی بیئر کی چسکیاں  لیتا رہا لیکن اس کی نظریں  صرف رینو پر جمی ہوئی تھیں۔ فلور پر رینو سے  زیادہ خوبصورت لڑکیاں  رقص کر رہی تھیں  لیکن اس کی کسی میں  دلچسپی نہیں  تھی۔

رینو کو مختلف گاہک بلا رہے  تھے۔ و ہ مسکراتی ان کے  پا س جا رہی تھی وہ اس کے  ساتھ کبھی کبھی ایسی حر کتیں  کر دیتے  جو شاید منوہر بھی نہیں  کر تا ہو لیکن رینو اس کا برا نہیں  مانتی تھی مسکر ا کر ٹال دیتی تھی۔

اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ رینو کو بلائے۔

اس سے  بلا کر باتیں  کرے۔

لیکن کیا بات کرے  اس کی سمجھ میں  نہیں  آ رہا تھا۔

اس کے  اندر کا کوئی اس سے  کہتا اسے  رینو سے  وہ باتیں  کر نے  کی کوئی ضرورت نہیں  ہے  جو وہ سوچ رہا ہے۔ اس کا رینو سے  کو رشتہ نہیں  ہے۔

پہلے  کوئی بھی رشتہ رہا ہو لیکن اس وقت تو ان کے  درمیان ایک ہی رشتہ ہے۔ ایک بار گرل کا اور ایک گاہک کا۔

ایک گا ہک کے  ناطے  وہ رینو پر پیسے  لٹا سکتا ہے  اس کے  ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہے  اور ایک بار گرل کے  نا طے  رینو پیسے  حاصل کر نے  کے  لیے  بار بار اس کے  پاس آ سکتی تھی اس کے  ہر حرکت برداشت کر سکتی تھی۔

اس کے  دوست کے  پیسے  ختم ہو گئے  اس پر نشہ طاری ہو گیا اور اس نے  واپس گھر چلنے  کی خواہش ظاہر کی تو اس نے  ایک سو کا نو ٹ اپنی جیب سے  نکالا اور رینو کو اشارہ کیا۔

رینو تھر کتی مسکرا تی ہوئی آئی اور آ کر اس کی گود میں  بیٹھ گئی۔

’’تم یہ کام کیوں  کر رہی ہو؟ اس نے  رینو سے  پوچھا۔ ‘‘

’’منو ہر کی بیماری میں  کوئی افاقہ نہیں  ہو ا ہے۔ اس کے  علاج پر ہر ہفتہ ۴سے  پانچ ہزار روپیہ خرچ آتا ہے۔ آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں  ہے  اسے  آفس سے  نکال دیا گیا ہے۔ پہلے  میں  نے  ایک دو چھوٹی موٹی نوکریاں  کیں۔ لیکن ہزار دو ہزار روپیہ میں  مشکل سے  گھر چل پاتا ہے  تو منو ہر کا علاج کہاں  سے  ہو گا۔ اس لیے  مجبوراً یہ کام شروع کر دیا۔ اس کام میں  ہفتے  میں  آسانی سے  آٹھ دس ہزار روپیوں  کی آمدنی ہو جاتی ہے۔ گھر بھی چلتا ہے۔ اور منوہر کا علاج بھی ہو رہا ہے۔ منو ہر کو بھی میرے  اس کام کے  بارے  میں  پتہ ہے۔‘‘

وہ بس یہی جاننا چاہتا تھا۔ اس کے  پاس رینو سے  پوچھنے  کے  لائق کو ئی سوال ہی نہیں  تھا۔ ا س نے  سو ر روپیہ کا نوٹ رینو کو دیا۔

رینو نے  وہ نوٹ نہیں  لیا اور واپس فلور پر چلی گئی۔

ا سکی آنکھوں  میں  آنسو تھے۔ وہ فلور پر تھر کتی اپنے  آنکھوں  کے  آنسو پونچھ کر زبر دستی ہونٹوں  پر ایک دلکش مسکراہٹ لانے  کی کوشش کر رہی تھی۔

وہ اپنے  دوست کے  سہار ا دے کر اسے  لیکر بیئر بار کے  باہر چلا آیا۔

پھر ایک عرصہ ہو گیا۔

اسے  رینو یاد بھی نہیں  آئی اسنے  رینو کو یاد بھی نہیں  کیا۔

رینو کو یاد کرنے  یا د رکھنے  جیسا کچھ بھی نہیں  بچا تھا۔ اسے  پتہ تھا اب ہر شام وہ اس بار میں  رینو سے  مل سکتا ہے۔ اسے  پیسے  دکھا کر اپنے  قریب بلا سکتا ہے۔ تو پھر اسے  یاد رکھ کر یا کر کے  کیا فائدہ۔۔

اس دن رات کے  گیارہ بج رہے   تھے۔

جو ہو چوپاٹی کی اندھیری گلی کے  پا س وہ کھڑا تھا وہاں  وہ اپنے  ایک دوست کے  ساتھ آیا تھا۔ اس کا دوست ایک کال گرل کے  ساتھ چلا گیا تھا۔ اور وہ گھر جانے  کے  لیے  کوئی سواری دیکھ رہا تھا۔

اسی وقت ایک ۱۲،۱۵سال کا لڑکا اس کے  پاس آیا۔

’ؔ’صاحب مال چاہیے۔ بالکل فریش مال ہے  بہت بھاری مال ہے  دیکھیں  گے  تو طبیعت خوش وہ جائے  گی۔ ‘‘

وہ کسی کال گرل کا دلا ل تھا جو اس کے  لیے  کسی گاہک کو تلاش میں  تھا۔ اسے  گاہک سمجھ کر اس نے  اسے  ٹوکا تھا۔

’’لے کر آؤ۔ ’’اسے  بھی شرارت سوجھی۔ ‘‘

ابھی لایا صاحب۔ کہتا لڑکا ایک طرف گیا اور تھوڑی دیر بعد ایک خوبصورت لڑکی کے  سا تھ واپس آیا۔

اس پر نظر پڑتے  ہی وہ چونک پڑا۔

وہ رینو تھی۔

’’رینو تم یہ تم ہو؟ اسے  بڑی حیرت ہوئی۔ ‘‘

رینو بھی اسے  پہچان لیا۔

’’ہاں  میں ہی ہوں۔ اس نے  بڑی بیباکی سے  مسکرا کر جواب دیا۔

’’بال گرل کا کام چھو ڑ کر کال گرل کا کام کب سے  شروع کر دیا؟ اس نے  پوچھا۔

’’نہ تو میں  نے  اپنی مرضی سے  بار گرل کا کام چھوڑ آور نہ اپنی مرضی سے  کال گرل کا کام شروع کیا ہے ؟’’ رینو لا پرواہی سے  بولی۔ ‘‘

’’کیا مطلب؟ وہ اس کے  چہرے  کو تاکنے  لگا۔ ‘‘

اب آپ اتنے  بھولے  بھی مت بنیے ! آپ تو اس طرح ظاہر کر رہے  ہیں  جیسے  آپ کو پتہ ہی نہیں  کہ حکومت نے  بیئر بار میں  ڈانس پر پابندی لگا دی ہے۔

’’ارے  ہاں  اسے  یاد آیا سچ مچ حکومت نے  بیئر بار ڈانس کر نے  پر پابندی لگا دی۔ ‘‘

’آمدنی کا کوئی ذریعہ ضرور ی تھا۔ ’’رینو بولی۔ ‘‘آپ تو اچھی طرح جانتے  ہیں۔ منو ہر کے  علاج پر ہر ہفتہ  ۵،۶ہزار روپیہ خر چ آتا ہے۔ ہر ہفتہ اتنی آمدنی ضروری تھی۔ اس لیے  یہ کام شروع کر دیا۔ پہلے  اپنا جسم دکھلا کر اپنی اداؤں  سے  پیسہ کماتی تھی۔ اب اپنا جسم بیچ کر پیسہ کما رہی ہوں۔۔۔۔ کیا کریں  سر کا ر کی مہر بانی سرکار نے  مجھے  بال گرل سے  کال گرل بنا دیا۔۔

٭٭٭