کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مودی جیت گیا

ایم مبین


سویرے  اویناش کا فون آیا تھا۔

’بابو جی کی طبیعت بہت خراب ہے۔ انھیں  اسپتال میں  داخل کیا تھا۔

’طبیعت خراب ہے۔ ’’سن کر وہ بڑبڑایا ‘‘لیکن دو دن پہلے  تک تو وہ بالکل اچھے  تھے۔ میرے  ساتھ دو گھنٹے  تک باتیں  کی تھی۔۔ ‘‘

’بس اچانک طبیعت خراب ہو گئی۔ ‘‘اویناش بولا۔

’وجہ‘ اس نے  پوچھا۔

’’اور کیا وجہ ہو سکتی ہے  ؟اویناش کے  لہجے  میں  بیزاری تھی ’’اس عمر میں  اپنا یا اپنے  خاندان کا تو کوئی غم نہیں  ہے  دنیا کے  غم کی وجہ سے  بیمار ہیں  آپ آئیے  تو سب معلوم ہو جائے  گا۔ ‘‘

’ٹھیک ہے  میں  شام کو آفس سے  سیدھا اسپتال آتا ہوں۔ ‘‘

ہری بابو کو کس اسپتال میں  داخل کیا گیا یہ پوچھنے  کی کوئی ضرورت نہیں  تھی اسے  علم تھا ہری بابو اپنا علاج کس اسپتال میں  کراتے  ہیں  کسی اور اسپتا ل میں  داخل کیا گیا ہوتا تو اویناش اسپتا ل کا نام ضرور بتاتا۔ ویسے  ہری بابو کو ڈھونڈنے  میں  کوئی پریشانی نہیں  پیش آ سکتی تھی ان کے  پاس سیل فون تو تھا ہی ان سے  یا اویناش سے  آسانی سے  رابطہ قائم کیا جا سکتا تھا۔

کل دن بھر ہری بابو کا فون نہیں  آیا۔ جبکہ ان کا فون آنا چاہئے  تھا۔

دل میں  آیا کہ وہ ہی فون کر کے  ہری بابو سے  باتیں کر ہیں۔

’دیکھا ہری بابو! میں  نہیں  کہتا تھا ایسا کچھ نہیں  ہو گا  جیسا آپ سوچتے  ہیں  یا آپ نے  جو اندازہ لگایا ہے۔ ریزلٹ وہی آنے  والا ہے  جس کے  بارے  میں  میں  نے  پیشن گوئی کر چکا ہوں۔ وہی ہوا نا۔۔ ‘‘

 لیکن اس نے  سوچا ایک ۷۰سال کے  بوڑھے  کو اس طرح کی کسی بات سے  زک کر نا اچھی بات نہیں  ہے۔

اسے  یقین تھا خود ہری بابو کا فون آئے  گا۔

’انیل میں  ہار گیا تم جیت گئے  میری ساری محنت پانی میں  گئی لاکھ کوشش کے  باوجود ہم ایسا کچھ کر نہیں  پائے  جیسا سوچ رہے  تھے۔ تم سچ کہتے  تھے  کہ ہم کیا ساری دنیا گجرات کے  و وٹروں  کی سوچ نہیں  بدل سکتے۔ وہ وہی کریں  گے  جو ان کی فطرت ہے  جس میں  ان کا مفاد ہے۔ مودی پھر جیت گیا۔ اور مجھے  محسوس ہوتا ہے  آئندہ پچاس سالوں  تک گجرات میں  مودی جیتتا رہے  گا۔ ’’لیکن ان کا فون نہیں  آیا تھا۔

 دو دن پہلے  ملے  تھے  تو بے  حد خو ش تھے۔

’’گجرات کے  دس دنوں  کے  دورے  سے  واپس آیا ہوں۔ بہت مزہ آیا ایسی ایسی دھواں  دھار تقریریں  کیں  کے  سامنے  والوں  کی بولتی بند ہو گئی۔ گجراتی زبان کی تھوڑی بہت جو جانکاری تھی کام آئی۔ دیکھنا اس بار گجرات کا نتیجہ بالکل بر خلاف آئیں  گے۔ مودی کا ڈبہ گل ہو جائے  گا۔

’’آپ گجرات گئے  تھے ؟‘‘ اس نے  حیرت سے  پوچھا۔

’ہاں ! انھوں  نے  جواب دیا۔

’لیکن کس لیے ؟‘

’ارے  الیکشن پرچار کے  لیے  اور کس لیے۔۔ تم تو جانتے  ہو دیش میں  پنپ رہے  مودی واد سے  مجھے  سخت نفرت ہے۔ یہ ہماری صدیوں  کی روایت میں  اگا ایک ایسا زہریلا پودا ہے  اگر اس کو آج جڑسے  اکھاڑ کر نہیں  پھینکا گیا تو یہ ہماری صدیوں  کی ہم آہنگی رواداری روایت کو زہر آلود کر کے  نیست نابود کر دے  گا۔۔ ‘‘ وہ بڑے  جوش میں  بولے۔

’’یہ ٹھیک ہے  ہری بابو! لیکن اپنی عمر کا تو خیال کیا ہوتا۔ ۷۰سا ل کی عمر میں  پرچار کے  لیے  نکل گئے۔ ‘‘

’’یہ کام میں  بوڑھا نہیں  کروں گا تو کون کریگا؟ تم جیسے  نوجوانوں  کے  پاس تو ان باتوں  کے  لیے  وقت نہیں  ہے۔ پھر اس زہر کے  پودے  کو کاٹنے  کے  لیے  ہم جیسے  بوڑھوں  کو تو آگے  آنا ہے۔ ‘‘

اس کے  دل میں  آیا کہ کہہ دے  ’’ہری بابو! یہ زہر کا پودا اتنا مضبوط اور  تناور ہو چکا ہے  کہ ان جیسے   لاکھوں  بوڑھے  ملکر بھی شاید اسے  جڑسے  کیا اکھاڑ کر پھینک سکتے  ہیں  اس کی ایک جڑ بھی کاٹ نہیں  سکتے  ہیں۔ ‘‘

لیکن وہ ہری بابو سے  کبھی مایوسی یا ان کے  حوصلہ شکن کرنے  والی باتیں  نہیں  کرتا تھا۔

ان کے  ہر کام کی تعریف کر کے  انھیں  نہ صرف حوصلہ دیتا تھا بلکہ اپنی تعریف سے  ان کے  اندر ایک نیا جوش پیدا کر دیتا تھا۔

یہ سن کر اسے  حیرت ہو رہی تھی کہ ہری بابو گجرات میں  پر چار کے  لیے  گئے  تھے۔

’ہری بابو !آپ نے  گجرات میں  کیا دیکھا؟ سنا ہے  مودی کے  راج میں  گجرات نے  بہت ترقی کی ہے۔ ‘‘

’ار ے  کیا خاک ترقی کی ہے۔ نہ وہاں  پر ہماری صدیوں  پرانی روایتیں  ہیں  نہ قدریں  ہیں۔ نہ دھرم ہے  نہ ایمان ہے۔ بس چاروں  طرف پیسہ ہی پیسہ ہے۔ پیسوں  کے  لیے  لوگ کچھ بھی کرنے  کو تیار ہیں۔ اپنی جان دینے  کے  لیے  بھی تیار ہیں  اور کسی کی جان لینے  کیلئے  بھی۔۔۔۔

اور۔۔۔۔۔ ‘‘

’’اور کیا وہی جو سنگھ پریوار کا ایجنڈہ ہے   اس پر پوری میں  عمل ہو رہا ہے۔ اقلیتوں  پر ظلم کر نا، جبر کرنا، ان کا استحصال کر نا جیسے  ایک ثواب کا کام ہے۔ اور اس ثواب کے  کام کو انجام دیکر سنگھ کا ہر ہر کارہ اپنی انا کی تسکین کر رہا ہے۔ ‘‘

 ’’کیا آپ کو لگتا ہے  مودی اس بار گجرات میں  ہار جائے  گا؟‘‘

’ہم نے  تو پوری کوشش کی ہے۔ اور عوام بھی ہمارے  ساتھ ہیں۔۔۔

’تو اب میری بھی سن لیجئے،اس نے  پہلی بار ہری بابو کی دل شکنی کرنے  والی بات کی تھی۔ ’’گجرات میں  تیسری بار بھی مودی آئے  گا اور پوری اکثریت سے  آئے  گا۔ آپ نے  گجراتی عوام کو سمجھا ہی نہیں  ہے۔ ‘‘

وہ ظاہر میں  کچھ ہے  اور باطن میں  کچھ۔ جو ان کے  مفادات میں  حفاظت کر ے۔ انکو دو پیسوں  کا فائدہ دے  وہ سر کار انکی ہے۔ چاہے  پھر وہ مودی کی ہو یا پھر کسی کیشو بھا ئی پٹیل کی۔۔ یا شنکر وا گھیلہ کی۔

’’یہ بات تو سچ ہے۔ اس کی بات سن کر وہ اداس ہو گئے  تھے۔

’گجرات نے  اگر بہت ترقی کی ہے  تو ذرا گجرات کے  اعداد و شمار جمع کیجئے۔ گجرات سے  کتنا انکم ٹیکس جمع ہوتا ہے ؟ گجرات سے  سرکار کو اتنا ریونیو وصول ہوتا ہے۔ اور مرکزی سرکار گجرات پر کتنا خرچ کرتی ہے۔ ؟مودی گجرات کی عوام میں  اس لیے  مقبول ہے  کیونکہ وہ عوام کی جیب سے  پیسہ نہیں  نکالتا۔ بلکہ وہ سرکار کا پیسہ عوام کی جیب میں  ڈالتا ہے۔۔ کبھی اس بارے  میں  کسی نے  سوچاہے۔ ‘‘

ہر کوئی آواز اٹھاتا ہے  مودی اقلیت دشمن ہے  مسلمانوں  کا قاتل ہے  اسنے  مسلمانوں  کا قتل عام کر ایا ہے۔ کبھی مودی کی ملک سے  غداری کے  اس پہلو پر آپ نے  آواز اٹھائی ہے  ؟

’سچ مچ ہم نے  کبھی اس بارے  میں  نہیں  سوچا۔

’آپ نے  مودی کو ہندو وادی بنا کر ہندوؤں  کی اور گجرات کے  و وٹروں  کی نظر میں  بھگوان بنا دیا ہے۔ اس سے  اس کی طاقت بڑھی ہے۔ اچھا ہوتا اگر آپ اپنی انرجی مودی کو ہندوتو وادی ثابت کر نے کے  بجائے  معاشی طور پر اس کی اصلیت عوام کے  سامنے  رکھتے۔ ‘‘

پھر ادھر اُدھر کی باتیں  ہونے  لگی۔

اور اس سے  رخصت لیکر وہ چلے  گئے۔

جاتے  ہوئے  بھی وہ پر امید ہی تھے  کہ اس بار مودی کو دھکا ضرور لگے  گا۔

اسے  ان کے  خیالات پر ہنسی آ گئی۔

’۷۰سال کا بوڑھا۔ آج بھی آزاد،خوبصورت ہندستان کے  خواب دیکھ رہا ہے۔ اسے  پتہ نہیں  دنیا کتنی آگے  نکل گئی ہے۔ ‘‘

ہری بابو سے  اسکی ملاقات چار پانچ سال قبل اچانک ہو گئی تھی۔

ایک سیاسی جلسہ تھا جس میں  وہ وقت گزارنے  کے  لیے  شریک ہوا تھا۔

اس نے  وہاں  پر ہری بابو کی تقریر سنی تھی۔

اسے  تقریر اسی لحاظ سے  پسند آئی تھی کہ ان کی تقریر میں  ہندوستان کی دو نسلوں  کے  درمیان جو خلیج ہے  اس کی عکاسی انھوں نے  بڑی خوبصورتی سے  کی تھی۔ اور اس بات پر دکھ ظاہر کیا تھا کہ اس خلیج کو پاٹنے  کی کوشش نہیں  ہو رہی ہے۔

نئی نسل طاقت اور تشدد کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔ انھیں  باپو کے  اہنسا کے  دکھائے  راستے  پر اعتبار نہیں  ہے۔ ان کے  رجحانات سنگھ پریوار کی طرف زیادہ ہے۔

اس نے  جلسہ ختم ہونے  کے  بعد انھیں  مبارکباد دی۔ اور اپنا تعارف کرایا اور بتا یا ہ وہ کس آفس میں  کام کر تا ہے۔

ہری بابو اس کی باتیں  سن کر بے  حد خوش ہوئے۔

دو دن بعد وہ اس کے  آفس میں  اس سے  ملنے  کے  لئے  آ گئے۔

اور اس کے  بعد وہ اکثر اس سے  ملاقات کرنے  کے  لیے  اس کے آفس آ جاتے  تھے۔ اس دوران وہ اس پر مکمل طور پر آشکارا ہو گئے  تھے۔

وہ ایک ریٹائرڈ ٹیچر تھے۔ بچپن میں  وہ گاندھی جی سے  بہت متاثر تھے۔ گاندھی جی کے  خیالات کا ان پر اثر تھا اس لیے  اپنی پوری سروس میں  گاندھی جی کے  خیالات اور آدرش کا پر چار کرتے  ہے  تھے۔

ریٹائر ہونے  کے  بعد وہ عملی سیاست میں  بھی حصہ لینے  لگے  اور اس کے  لیے  انھوں  نے  کانگریس پارٹی کی ممبر شپ اختیار کر لی تھی۔

وہ کانگریس کے  ایک سر گرم رکن بن کر بڑھ چڑھ کر سیاست میں  حصہ لینے  لگے۔ لیکن اس کے  پیچھے  ان کا کرسی اور عہدہ حاصل کرنے  کا منشا نہیں تھا۔ وہ کرسیوں  اور عہدوں  سے  دور بھا گتے  رہے۔ سبھی کو اس بات کا علم تھا اس لیے  سب ان کی عزت کرتے  تھے۔ ملک و قوم کی بھلائی کے  لیے  وہ کسی بھی پارٹی کے  ساتھ کام کرنے  کے  لیے  تیا رہتے  تھے۔

ان سے  ملاقاتیں  ہونے  لگی تو ان کی زندگی اور ان کے  خیالات بھی اس پر کھلتے  چلے  گئے۔

کبھی کبھی اس کا د ل ان کے  لیے  عقیدت سے  بھر جاتا تھا۔

اس عمر میں  اس شخص کے  دل میں  ملک و قوم کی خدمت کرنے  کا اتنا جذبہ ہے۔ اس عمر میں  تو لوگ رام رام کرتے  ہوئے  کاشی جانے  کا سوچتے  ہیں۔ اور پوتے  نواسوں  کے  درمیان رہ کر وقت گزارتے  تھے  اور ہری بابو کو اس عمر میں  خدمت خلق کی سوجھی۔

وہ جب بھی آتے  آس پاس بحث کے  لیے  کوئی موضوع ضرور لاتے  تھے۔ وہ بھی موجودہ سر کار یا کانگریس کی غلط پالیسیوں پر ہری بابو کو آڑے  ہاتھ لینے  کے  لیے  ہمیشہ تیار رہتا تھا۔

یہ بات نہیں  تھی کہ ہری بابو اس کی ہر بات کا جواب دیتے  تھے۔ بلکہ اس کی اچھی اور صحیح باتوں  کو دل سے  قبول کر لیتے  تھے۔ اور اس کی کئی غلط بات پر نہ صرف اسے  ٹوکتے  تھے  بلکہ صفائی پیش کر تے  تھے۔

کبھی کبھی اس سے  کہتے۔

’یار انیل بابو! تم تو پورے  کمیو نسٹ لگتے  ہو۔ ‘‘

’غلط۔ ’’وہ جواب دیتا۔ ‘‘

’کیوں  ؟وہ پوچھتے۔ ‘

’آج کے  زمانے  میں  کمیونسٹ ہیں  کہاں !میں  ہر واقعہ،بات پالیسی کو معاشی نظریے  سے  دیکھتا ہوں  اس لیے  آپ کو محسوس ہوتا ہے  کہ میں  کمیونسٹ ہوں۔ میں  کمیونسٹ وغیرہ کو نہیں  مانتا ہوں۔

آج کل جو تبدیلیاں  آ رہی ہیں  اس میں  سب سے  نمایاں  کردار معیشت ادا کر رہی ہے۔ ہر تبدیلی کی روح معیشت ہے۔ اس لیے  میں  ہر بات واقعہ کو اسی کے  میزان میں  پرکھتا ہوں۔ ‘‘

’ہاں  سچ مچ تمھارا نظریہ بڑا ترقی پسند نظریہ ہے۔ ‘‘

 گجرات میں  الیکشن ڈکلیر ہوئے  تو وہ پڑے  جوش میں  تھے۔

’اب گجرات کی عوام کے  ہاتھ موقع آیا ہے  کہ وہ اس کلنک کو دھوئے  جو دس سالوں  سے  ان کے  ماتھے  پر لگا ہوا ہے۔ جس نے  ہمارے  دیش کو ساری دنیا میں  شرمندہ کیا ہے۔ وہ اپنی ریاست سے  مودی نامی زہر کے  پودے  کو جڑسے  اکھاڑ کر پھینکے  اور ثابت کر دیں  کہ گجرات گاندھی کا دیش ہے۔ اس ریاست میں  مودی واد اور مودی پریوار کے  نظریات کا کوئی مقام نہیں  ہے۔ اف گجرات کے  وہ فسادات۔ ہے  بھگوان انسانوں  پر ایسے  ایسے  ظلم کئے  گئے  کہ بھگوان نرک میں  بھی اپنے  پاپی بندوں  کو سزا کے  طور پر نہ کر تا ہو گا۔ حاملہ عورتوں  کے  پیٹ سے  پیٹ چاک کر کے  بچہ نکالنا۔ معصوم بچوں  کو ترشولوں  پر اچھالنا۔ لوگوں  کو زندہ جلانا۔ اور یہ سب ایک شیطان بھی کی قیادت میں  ہوتا رہا۔ جو ان باتوں  پر لوگوں  کو  ’گرو‘ کرنے  کا بھاشن دیتا رہا۔ چھی چھی بھگوان۔ شیطان بھی ایسے  کام نہیں  کر سکتا۔ ‘‘

جب وہ جوش میں  آتے  تو کہتے  ہی جاتے  تھے۔

’ہری بابو !آپ کے  چاہنے  سے  کچھ نہیں  ہو گا۔ فیصلہ عوام کے  ہاتھ میں  ہے۔ وہی فیصلہ کرے  گی عوام جو چاہے۔۔۔۔۔۔ ‘‘

’’دیکھنا اس بار گجرات کی عوام اپنے  ماتھے  سے  کلنک مٹانے  کی کوشش ضرور کرے  گی۔

’’ہری بابو! آپ بڑے  بھولے  ہیں۔ جس کو آپ کلنک کہہ رہے  ہیں۔ گجرات کی عوام اس کو تلک سمجھتی ہے۔ اگر وہ کلنک کو کلنک سمجھتی تو اس کلنک کو اپنے  ماتھے  پر لگاتی ہی کیوں ؟‘‘

اس کی بات سن کر ہری بابو کسی گہری سوچ میں  ڈوب جاتے۔

’’انیل بابو! گجرات میں  جو کچھ ہو رہا ہے۔ وہ ہماری صدیوں  کی روایتوں  کے  خلاف ہے۔ ساری دنیا اس بات کو مانتی ہے  پھر گجرات کے  و وٹر کیوں  نہیں  مانتے  ہیں ؟ وہ ان سے  سوال کرنے  لگے۔

’’ہری بابو! اس کا جواب بہت لمبا چوڑا ہے۔ سارے  فساد کی جڑپیسہ ہے۔ اور پیسے  کے  لیے  کچھ بھی کیا جاسکتا ہے۔ دوسری کوئی وجہ نہیں  ہے۔ دھرم مذہب کی تو آڑ ہے۔ اس کی آڑ میں  اصل کھیل  کھیلا جا رہا ہے۔ ‘‘

شام کو وہ جب اسپتال پہو نچا تو ہری بابو گہری نیند میں  سو رہے  تھے۔ ان کے  پاس اویناش بیٹھا تھا۔

اس نے  ایک تشویش بھری نظر ہری بابو پر ڈالی اور پھر اویناش سے  پوچھنے  لگا۔

’’اب طبیعت کیسی ہے ؟‘‘

’’اب تو ٹھیک ہے  لیکن ان کے  دماغ سے  ان باتوں کا اثر نہیں  گیا ہے۔ اس لیے  ڈاکٹر نے  نیند کا انجکشن دے  دیا ہے۔ ڈاکٹر نے  کہا ہے  اگر وہ ان باتوں  کے  بارے  میں  اسی طرح سوچتے  رہے  تو کبھی بھی ان کا بلڈ پریشر Lowہو سکتا ہے۔ اگر دباؤ بڑھا تو ان کے  دماغ کی کوئی رگ پھٹ سکتی ہے۔ انہیں  برین ہیمریج بھی ہو سکتا ہے۔ انھیں  ان باتوں  سے  پرہیز کر نا چاہئے۔ ‘‘

لیکن آخر ہوا کیا تھا؟

‘اور کیا ہو نے  والا تھا ‘ اویناش بیزاری سے  بولا ‘گجرات میں  مودی کی جیت کا صدمہ لے  لیا۔ وہاں  کانگریس کی طرف سے  پر چار کرنے  جو گئے  تھے۔ ‘‘

’ارے  یہ بھی کوئی بات ہے  جس کے  لیے  جان کی ہلکانی کی جائے۔ ‘‘

اس نے  مڑ کر گہری نیند میں  سوئے  ہری بابو کی طرف دیکھا۔

’اس کے  علاوہ بھی جو کچھ ہو ا۔ وہ ہم بر داشت نہیں  کر پا رہے  تھے  تو بھلا بابو جی کس طرح بر داشت کر پاتے۔ ‘‘اویناش آگے  بولا۔

’اور کیا ہوا؟ اس نے  سوال کیا۔

’سویرے  آٹھ بجے  ہی دو سو لوگوں  کا ایک ہجوم ہمارے  گھر کے  سامنے  جمع ہو گیا اور مودی کی جیت کا جشن منانے  لگا۔ نعرے  لگانے  لگا۔ بابو جی اور کانگریس کو گالیاں  دی جانے  لگی۔ ‘‘’کیا کہہ رہے  ہو؟یہ اس کے  لیے  نئی بات تھی۔ ’وہ سب بی جے  پی اور شیو سینا کے  ورکر تھے۔ بابو جی کے  سیاسی حریف۔ ‘‘

انھیں  پتہ تھا بابو جی گجرات کانگریس کے  لیے  پر چار کرنے  گئے  تھے۔

کئی گھنٹوں  تک گھر کے  سامنے  پٹاخے  چھوڑ ے  گئے۔ آتش بازیاں  اڑائی گئیں۔ ڈھول تاشے  بجائے  گئے۔ بابو جی کے  خلاف نعرے  لگائے  گئے۔ وہ نعرے  لگائے  گئے  جن سے  بابو جی چڑ تھی جن نعروں  کے  خلاف جنگ کو بابو جی نے  اپنا آدرش بنا رکھا تھا۔ ‘‘

’’اوہو۔ اویناش کی بات سن کر اس کے  ہونٹ سکڑگئے۔

’بڑے  بڑے  کئی پوسٹر لا کر ہمارے  گھر کے  سامنے  لگا دئے  گئے۔ جس پر مودی کی تصویریں  تھیں  شیر گجرات۔ نریندر مودی زندہ باد۔ آج گجرات کل ساراہندوستان۔ گجرات جاگا ہے  ہندو جاگا ہے۔ نریندر مودی کی جیت پر دلی مبارکباد۔ ‘‘

جیسے  پتہ نہیں  کیسے  کیسے  اشتعال انگیز نعرے  ان پوسٹر اور بینرس پر تھے۔

’’چھی چھی۔ چھی۔ ’’یہ سن کر اس نے  کہا۔ ‘‘اگر یہ سب ہری بابو کے  لیے۔ ان کے  گھر کے  سامنے  ہوئے  ہے  تو پھر بھلا وہ کس طرح اپنے  آپ پر قابو رکھ سکتے  ہیں۔

’لیکن ان کا قصور کیا ہے ؟یہی نا کہ وہ اپنے  اصولوں  کی لڑائی لڑتے  ہیں  اس عمر میں  بھی اپنے  اصولوں  کے  لیے  سرگرم ہے۔ اور انہی اصولوں  کے  لیے  گجرات گئے  تھے۔ مودی گجرات میں  جیتا ہے۔ اور پھر اس کی جیت کا جشن بابو جی جیسے  بوڑھے  آدمی کو زک کرنے  کے  لیے  ہمارے  گھر کے  سامنے  منانے  کی کیا ضرورت؟

وہ یہ سن کر لاجواب ہو گیا۔

ایسی بات نہیں  تھی کہ وہ اس بات کا جواب نہیں  دے  سکتا تھا۔

لیکن جواب دیکر کوئی فائدہ نہیں  تھا۔

جا کر ہری بابو کے  پلنگ کے  پاس کھڑا ہو گیا اور غور سے  ان کو دیکھنے  لگا۔

ان کی آنکھیں  بند تھیں۔ ان کے  چہرے  پر بے  چینی اور کرب کے  تاثرات تھے۔

اس نے  اپنا ہاتھ ہری بابو کے  ماتھے پر رکھ دیا اور دھیرے  دھیرے  ان کا ما تھا سہلانے  لگا۔

ہری بابو کے  ہونٹ کھلے  اور ان کے  ہونٹوں  سے  پھسپھسا ہٹ بھری نحیف کمزور سی آواز آنے  لگی۔

’مودی جیت گیا۔۔ میں  ہار گیا۔        

***