کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آنر کلنگ

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل


مولوی امیر الدین کا پارہ ہمیشہ کی طرح آج بھی ساتویں آسمان پر تھا۔ گرجتے برستے مولوی کا ہوائی فائر کرنے میں تو کوئی ثانی ہی نہیں تھا۔ حالانکہ سیّدانی بھی بڑی دل گردے والی عورت تھی۔ زبان کی کافی تیز۔ کرنے پر آتی تو ذرا لحاظ نہ کرتی مگر جب مولوی امیر الدین فائر کھولتے تو سیّدانی سیز فائر کر دیتی۔ زندگی کی گاڑی بس یونہی چھک چھک کرتی ہوتی چلی جا رہی تھی۔ کسی اسٹیشن پر ذرا زیادہ دیر رک جاتی اور جب تک سبز جھنڈی ہلتی نظر نہ آتی زمین و آسمان سانس روکے رکھتے۔

مگر آج تو حد ہی ہو گئی تھی مولوی امیر الدین کو رہ رہ کر غصے کے دورے پڑ رہے تھے۔ سب بچے اپنے اپنے کمروں میں دبکے بیٹھے تھے بس تیروں کی بوچھاڑ سہنے کے لیے سیّدانی میدان میں ڈٹی ہوئی تھی بات کچھ بھی نہ تھی بڑی بیٹی شرمین نے کالج میں داخلے کی ضد کر ڈالی تھی مولوی امیر الدین کو یوں لگا جیسے اس نے باپ دادا کی عزت پر کالک پوت دی ہو۔ بیٹی بھی دھن کی پکی تھی۔ ایک ہی رٹ تھی کہ ’’آخر وہ کب تک گھر میں بیکار بیٹھی رہے گی۔ نہ آگے پڑھنے کی آزادی۔۔۔ نہ ہی کوئی ملازمت کرنے کا ماحول۔۔۔ ایسے میں کوئی کرے تو کیا کرے؟ انگلینڈ میں رہتے ہوئے بھی اس قدر دقیانوسی ماحول۔۔۔ ؟‘‘ شرمین اکثر بڑبڑاتی۔۔۔۔ ! مولوی امیر الدین بیوی اور بیٹیوں کو تو تہہ خانے میں چھپا کر رکھتا مگر محلے بھر کی نئی نئی جوان ہوتی ہوئی شوخ و شنگ لڑکیوں کو کن اکھیوں سے دیکھنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتا تھا۔ مولوی کے اسی دوغلے پن سے اس کی بیٹی شرمین کو چڑ تھی کہ ’’خود میاں فضیحت اور دوسروں کو نصیحت۔۔۔۔ !‘‘ مولوی کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ شرمین اور ریان جڑواں بہن بھائی تھے اس کے بعد نرمہ اور کامران۔۔۔۔ بچے ماں باپ کے درمیان ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں ملوث نہ ہوتے وگرنہ ماں کی طرفداری کرنے کی پاداش میں ان کی شامت آ جاتی۔

سیدانی محلے بھر کی بچیوں کو قرآن پاک پڑھا کر ثوابِ دارین حاصل کرتیں۔ بسم اللہ۔ آمین۔۔۔ عقیقے۔۔۔ میلاد۔۔۔ گیارہویں۔۔۔ نذر نیاز۔۔۔۔ نذرانے بس ایک شور سا مچا رہتا۔ چند ایک عورتیں ہمیشہ سیّدانی کے پاس دعا کروانے کی غرض سے موجود رہتیں۔ ہر جمعرات کو خاص دعا کا اہتمام کیا جاتا۔ درودسلام کی محفل منعقد ہوتی۔ جو مولوی امیر الدین کے گھر لوٹ آنے سے پہلے ہی ختم کر دی جاتی۔

اگر کبھی عورتوں کو اٹھنے میں دیر ہو جاتی اور مولوی امیر الدین گھر لوٹ آتا تو اس کے قدموں کی چاپ سن کر سبھی عورتیں دوپٹے، چادریں دوبارہ سے درست کرنے لگ جاتیں۔ سیّدانی ہاتھ کے اشارے سے انہیں خاموش رہنے کو کہتی کہ ’’مولوی امیر الدین راہداری سے گزر جائیں تو وہ پھر نکلیں۔ ‘‘ گویا ایک ہنستا بستا گھر نہ ہوا بیگار کیمپ ہو گیا۔ جہاں ہر وقت کسی انہونی کا دھڑکا لگا رہتا۔

مولوی کی بڑی بیٹی شرمین زندگی سے بھرپور لڑکی تھی۔ جی بھر کر جینا چاہتی تھی۔ ہنسنا۔ کھیلنا۔ کودنا چاہتی تھی مگر گھر کا ماحول یوں تھا جیسے شہر خموشاں۔ ایسے میں تنہائی سے گھبرا کر وہ کسی نہ کسی سہیلی کو گھر پر بلاتی کیونکہ اسے کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

چھوٹی بیٹی فرمین اللہ میاں کی گائے تھی۔ سکول ختم کرتے ہی گھر کی زیادہ تر ذمہ داری اس کے کندھوں پہ ڈال دی گئی تھی۔ کیونکہ اس کے اندر ایک فطری رکھ رکھاؤ اور سلیقہ تھا جو کہ شرمین میں قدرے کم تھا۔ اس کی نٹ کھٹ طبیعت اسے کبھی سنجیدہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دیتی۔ جبکہ فرمین بہت کم ہنستی اور بولتی۔۔۔ اس نے کبھی شکایت کا موقعہ ہی نہیں دیا تھا۔ اس کے مقابلے میں شرمین ہمیشہ مولوی کے لیے دردِ سر بنی رہتی۔ شکل و صورت اور رنگ روپ میں فرمین سے کافی دبتی تھی اس لیے اور کئی حیلوں بہانوں سے نمایاں ہونے کی کوشش میں لگی رہتی۔ کبھی بھڑکیلا لباس تو کبھی تیز میک اپ بات بے بات قہقہے لگانا۔ جن کی آواز سے مولوی کو سخت چڑ تھی۔ مولوی کا بس نہیں چلتا تھا کہ بے فکری سے قہقہے لگاتی ہوئی شرمین کا گلا دبوچ لے کیونکہ مولوی کے خیال میں ’’عورتوں کو زیادہ وقت گھرداری، عبادت، توبہ استغفار اور گریہ زاری میں گزارنا چاہیے کیونکہ اپنے ناشکرے پن کی وجہ سے جہنم میں زیادہ عورتیں ہی ہوں گی اور انہیں اس دنیا میں ہی اپنی بخشش کا سامان کرنا چاہیے۔ ‘‘

مولوی امیر الدین کو فکر تھی کہ کسی طرح شرمین کے ہاتھ پیلے کر دے۔ کئی جاننے والوں سے رشتے کے بارے میں کہہ رکھا تھا مگر جب بھی کوئی رشتہ آتا شرمین کوئی نہ کوئی ڈرامہ رچا کر لوگوں کو گھر سے بھگا دیتی اور سیّدانی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اس کی نادانیوں پر پردہ ڈال دیتی۔ دراصل شرمین کو شادی کے نام سے ہی نفرت تھی۔ ابا اور اماں کے بے جوڑ رشتے کی نوعیت دیکھ کر تو وہ شادی کے نام سے ہی کانوں کو ہاتھ لگاتی تھی کیونکہ وہ ابا جیسے کسی اور شخص کے پلے پڑ کر گھٹ گھٹ کر مرنا نہیں چاہتی تھی۔

اس قدر بے رنگ زندگی سے شرمین سمجھوتہ نہیں کر پا رہی تھی۔ ایک دن بڑے بھائی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اس نے رنگین ٹی وی اور وی سی آر کرایے پر لے لیا۔ مولوی امیر الدین جیسے ہی گھر میں داخل ہوا۔ غیر مانوس سی آواز سن کر اس کے کان کھڑے ہو گئے۔ لونگ روم میں ٹی وی اور وی سی آر دیکھ کر تو وہ جیسے پاگل ہی ہو اٹھا۔ پہلے تو بیوی کی خوب خبر لی۔ کہ وہ جہنمی عورت تھی جو اولاد کو غلط راہ پر لگا رہی تھی۔ سیدانی کے ترکی بہ ترکی جواب کے نتیجے میں آج پہلی بار مولوی امیر الدین کا ہاتھ اس پر اٹھ گیا تھا۔

’’ہائے پاجی۔ مردود۔ ظالم۔ ارے لوگو دیکھو۔ بڑھاپے میں زندگی بھر کے صبر کا کیا صلہ مل رہا ہے۔ ارے میں تو سہاگن سے رانڈ بھلی۔ یہ خصم نہیں۔ سینے کا زخم ہے۔ ہائے کدھر جاؤں میرے مولا۔ ایسے دوزخی سے کب رہائی ملے گی۔ ‘‘ آج سیدانی کے صبر کا پیمانہ چھلک اٹھا تھا۔۔ ’’ٹھہر جا حرامزادی۔ حرافہ۔ ابھی مزہ چکھاتا ہوں تجھے۔۔۔ ‘‘ ایک اور زناٹے دار تھپڑ سیدانی کا دوسرا گال بھی گلال کر گیا۔ سیدانی نے سینہ پیٹ پیٹ کر لال کر لیا۔ مولوی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بیٹے کو پیٹنا شروع کر دیا۔ شرمین بھاگ کر بیڈ روم میں جا چھپی۔ بڑا سا لوہے کا راڈ اٹھا کر مولوی نے پوری قوت سے ٹی وی اور وی سی آر توڑنے شروع کر دئیے۔ جیسے اس کے اندر الہ دین کے چراغ کا جن گھس گیا ہو۔ ٹی وی اور وی سی آر پر زور آزمائی سے تھک جاتا تو بیٹے کو پیٹنا شروع کر دیتا۔ بیٹا بھی ایسا بسم اللہ کا تخم کہ اُف تک نہیں کی۔ وگرنہ کڑیل جوان تھا۔ باپ کا ہاتھ تو روک ہی سکتا تھا۔ مگر مولوی امیرالدین نے گھر میں اپنی کچھ ایسی دہشت پھیلا رکھی تھی کہ کوئی اس کے مقابل نہ آتا۔ سیدانی اپنے گال سہلاتی ہوئی جھر جھر روئے جا رہی تھی۔ آج تو اس نے مولوی امیر الدین کو بے نقط سنا ڈالیں گویا اگلے پچھلے سب حساب برابر کر ڈالے۔ ’’بے غیرت، رانڈ۔ تیری کبھی بخشش نہ ہو گی۔ تو دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں پھینکی جائے گی۔۔۔ ناشکری۔۔ بے حیا۔ ‘‘ مولوی بکتا جھکتا گھر سے باہر چلا گیا۔

گھر میں درجہ حرارت ابھی کم نہیں ہوا تھا۔ دوسرے دن پھر ہنگامہ ہو گیا۔ مولوی کا خیال تھا کہ شرمین اور ریان دونوں کی اب شادی کر دینی چاہیے۔ ریان کے لیے تو اس نے رشتے کے بھائی کی بیٹی سے۔ بغیر کسی سے مشورہ کیے۔۔۔ پاکستان میں بات طے کر لی تھی، آج سیدانی نے اسے فون پر بات کرتے سنا تو گھر پھر سے پانی پت کا میدان بن گیا۔ سیدانی کا موقف تھا کہ ’’بچے جب پاکستان میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتے تو تم کیوں بضد ہو ؟‘‘ ’’دیکھتا ہوں کس میں میرے فیصلے کے خلاف جانے کی مجال ہے۔ یہ سب تیری ہی شہہ کا نتیجہ ہے۔ تو ہی ایک دوزخن ہے اس گھر میں۔ اور سب کو اپنے ساتھ جہنم میں لے کر جائے گی۔ ‘‘مولوی امیر الدین پھر شعلہ بیانی پر اتر آیا تھا۔ اس سے پہلے کہ سیدانی کوئی جواب دیتی۔ دروازے پر کسی نے کال بیل بجا دی۔ اور سیز فائر ہو گیا۔ اب ہر دوسرے تیسرے روز شادی کے مسئلے کو لے کر جھگڑا کھڑا ہو جاتا۔ پھر یوں ہوا کہ مطلع بالکل صاف ہو گیا۔ شادی کے ذکر سے جیسے مولوی کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ گھر بھر پر سکون سا ہو گیا تھا۔ اس کایا پلٹ پر سب حیران سے تھے۔ مولوی اور سیدانی میں بات چیت ابھی تک بند تھی۔

چند ہفتوں کے بعد مولوی امیر  الدین نے ایک دن اچانک اعلان کر دیا کہ وہ کچھ عرصے کے لیے پاکستان جا رہا تھا۔۔۔ سب نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔۔ تقریباً دو ماہ پاکستان میں رہ کر مولوی امیر الدین واپس انگلینڈ آیا توا س کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے تھے۔ خوشی چہرے سے پھوٹی پڑتی۔ بات بات پہ باچھیں کھل جا رہی تھیں۔ سیدانی اور بچوں نے اسے اس سے پہلے کبھی اتنا نرم خو، ہنس مکھ اور مرنجاں مرنج نہیں دیکھا تھا۔ انہیں اندازہ ہی نہ ہوا کہ اس پرسکون تالاب کی تہہ میں کیسے کیسے طوفان چھپے بیٹھے تھے۔ مگر پوچھنے کی جرات کس میں تھی؟

چند روز بعد مولوی امیر الدین نے بیوی بچوں کو لونگ روم میں بلاکر ایک لرزہ خیز انکشاف کر دیا۔ ’’ہم عزت دار خاندانی لوگ ہیں۔ باپ دادا کی قائم کی ہوئی روایات پر مرنے والے۔ زبان کا پاس رکھنے والے۔ غیرت مند لوگ اپنی منگ کبھی نہیں چھوڑتے۔ اس لیے خاندانی عزت اور ناموس کو بچانے کی خاطر میں نے ریان کی منگیتر سے پاکستان میں شادی کر لی ہے۔ ‘‘

بچوں کے چہرے شرم سے زمین میں گڑ گئے۔۔۔۔ سیدانی کے تن بدن میں جیسے آگ لگ گئی اور اس نے آہ و بکا شروع کر دی۔ ’’ہائے ہائے اٹھارہ سال کی معصوم بچی تیری ان بیٹیوں سے چھوٹی۔ یہ کیا ظلم کیا تو نے۔ ہائے ہائے وہ اپنا سر پیٹتی جا رہی تھی۔ کیسے لوگوں سے نظر ملاؤں گی۔ ان بیٹیوں کی ڈولیاں اس گھر سے کیسے اٹھیں گی۔ اے میرے مولا۔ مجھے اٹھا لے۔ اب کچھ اور دیکھنے کی حسرت نہیں ہے۔۔۔ ‘‘وہ انتہائی درد ناک انداز میں بین کر رہی تھی۔ مگر مولوی امیر الدین سنی ان سنی کر کے اپنے کمرے میں چلا گیا۔

شرمین کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ باہر سڑک پر جا کر چیخ چیخ کر لوگوں کو بتائے کہ غیرت کے نام پر صرف جسموں کا قتل ہی آنر کلنگ نہیں بلکہ معصوم لڑکیوں کے ارمانوں۔ ان کے جذبوں ، ان کی آرزوؤں ان کی امنگوں اور خوابوں کا قتل بھی آنر کلنگ ہی ہے۔۔۔ !

مگر ایسے قتل کی سزا۔۔۔۔۔ ؟

٭٭٭