کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

روگ

ایم مبین


رپورٹ کے  آتے  ہی گھر میں  ایک قیامت آ گئی۔

گھر کا ہر فرد ایک دہکتا ہوا آتش فشاں  بن گیا۔ اور وہ پھٹ کر اس پر اپنا تپتا ہو ا لاوا برسا کر اس کے  وجود کے  خاتمے  کی فکر کرنے  لگا۔

گھر والوں  کے  چہروں  کے  تاثرات اچانک بدل گئے۔

کہاں  پہلے  اس کے  لیے  ان چہرے  پر ہمدردی کے  تاثرات ہوتے  تھے  آنکھوں  سے  اس کے  لیے  پیار امڈتا تھا لیکن اب ان کی جگہ چہر ہ پر غیض و غضب کے  تاثرات نے  ڈیر جما لیا۔ آنکھوں  سے  اس کے  لیے  نفرت کی گنگا جمنا بہنے  لگیں۔

وہ غصہ اور نفرت ہر کسی کے  ہونٹوں  سے  ابل پڑتا۔

’’میں  نے  تو کبھی خواب میں  بھی نہیں  سوچا تھا کہ میری بیٹی ایسی نکلے  گی۔ ’’پتا جی کے  لہجے  میں  تاسف تھا۔ ‘‘میر دے  وست احباب،رشتہ دار مجھے  سمجھاتے  تھے  للت بیٹی کو اتنی چھوٹ مت دو۔ زمانہ بدل گیا ہے۔ وہ زمانہ گیا جب ساری دنیا کی لڑکیوں  سے  زیادہ آزادی ہم اپنی بیٹیوں  کے  دیتے  تھے  لیکن پھر بھی وہ ہماری اس آزادی کا کبھی غلط استعمال نہیں  کر تی تھیں  ہماری عزت وناموس پر حرف نہیں  آنے  نہیں  دیتی تھیں۔ آجکل لڑکیوں  کے  قدم ڈگمگانے  میں  دیر نہیں  لگتی۔ اگر کوئی غلط قدم پڑ گیا تو اس کی شادی میں  مشکلیں  کھڑی ہو جائیں  گی اور تمھارے  لیے  وہ زندگی بھر کا روگ بن جائے  گی لیکن میں  ان سے  کہتا تھا مجھے  اپنی بیٹی پر بھروسہ ہے  کنتل کبھی کوئی ایسا قدم نہیں  اٹھا سکتی جس سے  ہماری عزت وناموس پر حرف آئے  نہ کبھی کنتل کے  قدم لڑکھڑا سکتے  ہیں۔ لیکن آج جو بات سامنے  آئی ہے۔ ہم لاکھ چاہ کر بھی اسے  ا پنے  تک محدود نہیں  رکھ سکتے۔ کل تک یہ بات سارے  رشتہ داروں  کو معلوم ہو جائے  گی۔ پرسوں  ساری برادری جان لے  گی اور کچھ دنوں  میں  سارا شہر،اف،بھگوان مہاویر تم نے  یہ کونسے  گناہ کی سزا مجھے  دی ہے۔ اس بے  عزتی سے  اچھا تھا تم مجھے  اس وقت اپنے  پاس بلا لیتے  جب مجھ پر دوسرا دل کا دورہ پڑا تھا۔

’’تو کلنکنی نکلے  گی ہم نے  تو کبھی خواب میں  بھی نہیں  سو چا تھا ‘‘ ماں  نے  رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا۔،مانا! جوانی میں  لڑکیوں  سے  نا دانیاں  ہوتی ہیں۔ جوانی کی رو میں  وہ بھٹک جاتی ہیں۔ ان کے  قدم لڑکھڑا جاتے  ہیں۔ لیکن وہ کبھی ایسا قدم نہیں  اٹھاتیں  جس سے  ان خاندان پر کوئی انگلی اٹھائے  یا جو قدم ان کی آنے  والی زندگی کے  لیے  نرک بن جائے۔ لیکن نادان لڑکی!تو نے  تو ایسا قدم اٹھا یا ہے  جس کی وجہ سے  تو نے  ہمیں  تو کہیں  کا نہیں  رکھا۔ خود کو بھی موت کے  دروازے  پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ ارے  جوانی کے  جوش میں  کوئی قدم اٹھانے  سے  پہلے  یہ تو دیکھنا تھا جس کے  ساتھ تو اپنی جوانی کے  آگ ٹھنڈی کر رہی ہے  وہ لڑکا کیسا ہے ؟ کہیں  وہ تمھیں تمھاری جوانی کی آگ بجھانے  کے  ساتھ ساتھ موت کا روگ تو نہیں  دے  رہا ہے  ؟ آخر اتنا گرنے  کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ایسے  لڑکے،لڑکیوں  کے  ساتھ۔۔۔ جو موت کا روگ دے  چھی چھی۔۔۔۔۔۔ ‘‘

ممی!مجھے  اس پر بہت بھروسہ تھا۔ منیش بولا۔ اور سچ کہتا ہوں  مجھے  اس بات پر فخر تھا۔ میرے  سارے  دوستوں  کے  کی بہنوں  کے  افیروسننے  میں  آتے  تھے۔ لیکن اس کے  بارے  میں  کبھی کوئی بات مجھے  سننے  میں  نہیں آتی تھی میں  فخر سے  اپنے  دوستوں  میں  اعلان کر تا تھا اگر میری بہن کا کوئی ایک افیر بتا دے  تو اسے  جو چاہے  وہ انعام دوں  گا۔ اور سچ مچ میرے  دوست احباب میں  سے  کوئی بھی اس کے  بارے  میں  کوئی اڑتی اڑتی خبر بھی لانے  میں  کامیاب نہیں  رہا تھا۔ لیکن یہ تو چھپی رستم نکلی اس نے  ہمارے،ساری دنیا کی آنکھوں  میں  دھول جھونکا۔۔ اور لائی بھی تو اتنی بڑی خبر جس کی وجہ سے  ہم کہیں  کے  نہیں  رہے۔ ارے  کوئی معاملہ ہوتا تو ہم اسے  جھٹلا سکتے  تھے  کہہ سکتے  تھے  افواہیں ہیں  صفائی پیش کر سکتے  تھے  کہ ہماری بہن ایسی نہیں  ہے  اسے  بد نام کر کے  لیے  یہ سازش رچی گئی ہے۔ لیکن اس نے  تو کوئی راستہ باقی ہی نہیں  رکھا۔ ایک ایسا روگ اپنی بد چلنی کی وجہ سے  پال لیا ہے  جس کے  بعد اس کی پاک دامنی کی بات کر نے  سے  بڑی بے  وقوفی ہو ہی نہیں  سکتی۔ ہر کوئی ہماری باتوں  کا مذاق اڑائے  گا ہم پر انگلیاں  اٹھائے  گا۔

بڑی بہن اسے  سمجھانے  لگی۔

’’کنتی! میں  جانتی ہوں  جوانی میں  لڑکیوں  سے  غلطیاں  ہوتی ہیں۔ تم میرے  سارے  افیر جانتی ہو۔ لیکن کیا کبھی کسی معاملے  کے  بارے  میں  ہمارے  گھر والوں  یا کسی کو پتہ چلا؟ آج بھی میرے  شوہر کو مجھ پر ناز ہے۔ لیکن تم نے  یہ کیا بیوقوفی کی۔ جس بات کا راز رکھنا چاہئے  اس بات کی وجہ سے  ایک ایسا روگ مول لے  لیا۔ جس کی وجہ سے  اب ساری دنیا میں  تیری بد چلنی کی تشہیر ہو گی۔

’’نہیں  نہیں  ‘‘میں بھگوان مہاویر کی قسم کھا کر کہتی ہوں۔ میں  بد چلن نہیں  ہوں۔ میں۔۔۔ کے  دن ساری دنیا کے سامنے  مندر میں  حلف لے  سکتی ہوں  کہ میں  ’’پوتر‘‘ ہوں  میں  نے  کوئی گناہ نہیں  کیا ہے۔ آپ لوگ میرے ’’پوترتا ‘‘پر انگلیاں  اٹھا رہے  ہیں  مجھے  آوارہ بد چلن کہہ رہے  ہیں۔ لیکن میں  آپ لوگوں  کس طرح بتاؤں  میں  نے  ایسا کوئی بھی قدم نہیں  اٹھا یا ہے  جس کی وجہ سے  سماج میں  آپ کو شرمندہ ہونا پڑے۔ ارے  بد چلنی آوارگی کی بات تو دور ہے۔ سچائی تو یہ ہے  کہ کسی لڑکے  نے  آج تک میرے  جسم کو چھوا بھی نہیں  ہے۔ میں  نے  کسی لڑکے  اپنے  جسم کو چھونے  کی اجازت بھی نہیں  دی ہے۔ اس کے  باوجود مجھ پر اتنے  گھناؤنے  الزامات لگائے  جا رہے  ہیں۔ ان الزامات کا سامنا کرنے  سے  پہلے  مجھے  موت کیوں  نہیں  آ گئی۔ ان الزامات کو لگانے  سے  بہتر تھا کہ آپ لوگ مجھے  میرا گلا دبا کر مار ڈالتے۔ تو میں  اپنا خون آپ لوگوں  معاف کر دیتی۔ و ہ دہاڑیں  مار مار کر رو رہی تھی۔

’’چوری اور سینہ زوری‘‘ منیش غصے  سے  بولا‘‘۔ ایسی بے  شرم لڑکی تو شاید ہی دنیا میں  کوئی ہوتی۔ ارے  ہم کیا تجھ پر الزام لگائیں  گے۔ ڈاکٹری رپورٹ تیرے  سارے  گنا ہوں  کا ثبوت ہے۔ تیرے  گنا ہوں  کی کہانی سناتا ہوں۔

’’بیٹی!اگر ساری دنیا آ کر مجھ سے  کہتی تیری لڑکی آوارہ ہے  بد چلن ہے  تو میں ان پر بھروسہ نہیں  کرتا

ان سے  کہتا تم لوگ چا ہو کچھ بھی کہو۔ مجھے  میری بیٹی پر بھروسہ ہے۔ میری بیٹی ایسا نہیں  کر سکتی۔ لیکن ڈاکٹری رپورٹ کو کون جھٹلا سکتا ہے۔ تمھاری ڈاکٹری رپورٹ میں  صاف طور پر لکھا تھا۔

’’ایچ آئی وی۔ پازیٹو ‘‘ایک کنواری لڑکی کو ’’ایچ آئی وی پازیٹو ‘‘

اسے  اس کے  بعد کسی کو کیا اس کی کہانی بتانے  کی ضرورت ہے ؟ یہ سننے  کے  بعد ہر کوئی اندازہ لگا لے  گا کہ اسے  ایچ آئے  وی کس طرح ہو ا ہو گا۔ اور لڑکی کا کردار کس طرح کا ہو گا۔

لیکن وہ مسلسل روئے  جا رہی تھی اور صاف کہہ رہی تھی اس پر اتنا بڑا الزام لگانے  سے  بہتر ہے  اس کا گلا دبا کر اسے  ختم کر دیا جائے۔ اگر یہ سچائی بھی ہے۔ تو یہ قصہ یہاں  پر ختم کر دیا جائے۔ جس بدنامی سے  وہ ڈر رہے  ہیں۔ وہ ڈر جاتا رہے  گا۔ کسی کو معلوم نہیں  ہو گا۔ گھر کی بات گھر تک رہیگی۔

لیکن بھلا یہ کیا ممکن ہے ؟

جو ماں  باپ جس اولا د کو جنم دیتے  ہیں۔ جسے  وہ لاکھ مصیبتوں  جتن سے  پالتے  ہیں۔ اس کی کسی بہت بڑی غلطی پر بھی کیا وہ بھی اس کی جان لے  سکتے  ہیں ؟

نہیں۔۔ ایسا ممکن ہی نہیں  تھا۔ وہ سب بے  بس تھے۔ جوان بیٹی کی نہ تو جان لے  سکتے  تھے  نہ اپنا غصہ ٹھنڈا کر نے  کے  لیے  اس پر ہاتھ اٹھا سکتے  تھے۔ نہ اس کی بات پر یقین کر سکتے  تھے۔

ویسے  بھی وہ سارے  گھر کی لاڈلی تھی۔

اس کے  ایک اشارے  پر ماں  باپ چاند ستارے  لا کر اس کے  قدموں  میں  ڈال سکتے  تھے۔ تو بھلاوہ اس پر ہاتھ اٹھا ئے  یہ ہوہی نہیں  سکتا تھا۔

سارے  گھر والوں  نے  اسے  اتنی باتیں  سنادیں  یہی بڑی بات تھی۔

وہ مسلسل روئے  جا رہی تھی۔ اور مسلسل اس بات سے  انکار کر رہی تھی کہ اس نے  کوئی غلطی کی ہے  اس پر جو الزامات لگائے  جا رہے  ہیں  جھوٹ ہیں۔

اس کے  باوجود وہ اس کی بات نہیں  مان رہے  تھے  اس کے  لیے  اس سے  بڑھ کر کوئی اور سزا تو ہو ہی نہیں  سکتی تھی۔

اس کی آنکھوں  میں  اگر آنسو آ جائے  تو سارا گھر تڑپ اٹھتا تھا۔ اور سب اسے  چاروں  طرف سے  گھیر لیتے  تھے۔

’’بیٹی! تمھارے  آنکھوں  میں  آنسو دیکھ کر میرے  کلیجے  پر چھریاں  چلنے  لگتی ہیں۔ بتا تجھے  کیادکھ ہے۔

لیکن وہ آج مسلسل آنسو بہائے  جا رہی تھی۔ لیکن اس کے  آنسوؤں  کا کسی پر بھی کوئی اثر نہیں  ہو رہا تھا۔

پھر اس کو اس کے  حال پر چھوڑ کر سب چلے  گئے۔

وہ اپنے  کمرے  میں  آ کر پلنگ پر لیٹ کر آنسو بہاتی رہی۔ کسی نے  بھی آ کر جھانک کر بھی نہیں  دیکھا کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ اس نے  کھانا کھایا یا نہیں۔ وہ کھانا کھانا چاہتی ہے  یا نہیں گھر کے  ممبران تو دور گھر کے  کسی نوکر نے  بھی آ کر نہیں  پوچھا۔

وہ رات بھر نہیں  سو سکی۔

روتے  روتے  اس کی آنکھیں  سوجھ گئیں۔ گلا رندھ گیا۔ کمزوری کی وجہ سے  اسے  چکر آنے  لگے  رات بھر طرح طرح کے  وسوسے  اسے  گھیرے  رہے۔ طرح طرح کے  خیالات اس کے  اندر ایک ادھم مچاتے  رہے۔

بار بار اس کے  ذہن میں  ایک ہی خیال آ رہا تھا۔

’’وہ خود کشی کر لے۔ ‘‘ اپنی زندگی کا خاتمہ کر کے  اپنے  غموں  سے  نجات حاصل کر لے  اور اپنے  گھر والوں  کو ممکنہ بد نامی سے  بچا لے۔

وہ غور کرنے  لگی تو اسے  محسوس ہونے  لگا گھر والوں  کوکا غصہ حق بجانب ہے۔ ایسی حالت میں  ہر گھر والے  اپنی لڑکی کے  ساتھ یہی بر تاؤ کر سکتے  تھے  بلکہ اس کو محسوس ہوا یہ گھر والوں  کا لاڈ پیار ہے۔ معاملہ باتوں پر ختم ہو گیا۔ اگر وہ کسی اور گھر میں  ہوتی تو ابھی تک اس کا جسم نیلا پیلا ہو گیا ہوتا

کوئی بھی گھر والے  کیا دنیا سے  اس بدنامی کے  بر داشت کر سکتے  ہیں  کہ دنیا والے  ان پر انگلی اٹھا کر کہے  وہ اس کنواری لڑکی کے  ماں باپ  ہیں  جسے  اس کی بد چلنی کی وجہ سے  ایڈ س کا موذی روگ لگ گیا۔

اگر یہ سچائی تھی تو سچائی یہ بھی تھی کہ اسنے  کبھی ایسا قدم نہیں  اٹھایا تھا جس کی وجہ سے  اسے  ایڈس کا مرض لاحق ہو۔

لیکن وہ اپنی اس سچائی کس طرح ثبوت دے  اس کی کچھ سمجھ میں  نہیں  آ رہا تھا۔

ڈاکٹر کی رپورٹ میں  صاف لکھا تھا۔ ایچ آئی وی۔ پازیٹو۔

ڈاکٹری رپورٹ کی بھی جھٹلایا نہیں  جا سکتا تھا۔

وہ ہمیشہ بیمار رہتی تھی۔

بیماریاں  کبھی کافی طویل ہوتی تھی تو کبھی مختصرسی۔

بیماریوں  کا باقاعدگی سے  علاج ہو تا تھا۔ اس کی بیماریوں  کے  علاج میں  غفلت نہیں  کی جاتی تھی۔ کیونکہ وہ سارے  گھر کی لاڈلی تھی۔ اور گھر میں  پیسوں  کی ریل پیل کی وجہ سے  کوئی مسئلہ ہی نہیں  تھا۔

گھر کا فیملی ڈاکٹر تھا۔ لیکن جہاں وہ کسی بیماری کے  بارے  میں  کسی دوسرے  ڈاکٹر سے  علاج کروانے  کا مشورہ دیتا فوراً اس سے  رجوع کیا جاتا تھا۔ کئی سالوں  سے  اس طرح زندگی گزر رہی تھی۔

ڈاکٹروں  کا کہنا تھا۔ وہ بہت کمزور ہے۔ اس لیے  چھوٹی چھوٹی بیماری بھی اس پر بہت جلد حاوی ہو جاتی ہیں۔

کئی سالوں  سے  یہ سلسلہ چل رہا تھا۔

اچانک ڈاکٹر کے  پتہ نہیں  کیا بات ذہن میں  آئی اس نے۔ ’ایچ آئی وی‘ ٹسٹ کا مشورہ دیا۔

اس پر کسی نے  کوئی خاص توجہ نہیں  دی۔ سمجھا یہ ڈاکٹر کا کوئی فارمل ٹسٹ ہے۔ ڈاکٹر لوگ تو اپنے  مفاد کے  لیے  اس طرح کے  عجیب و غریب ٹسٹ کراتے  رہتے  ہیں۔ اب ان کے  کسی ٹسٹ کی مخالفت بھی نہیں  کی جا سکتی ہے۔

اس لیے  اس ٹسٹ کو بھی سیریس نہ لیتے  ہوئے  اس نے  اپنا ایچ آئی وی ٹسٹ کروا لیا۔

اور ٹسٹ کی رپورٹ آتے  ہی گھر میں  یہ قیامت چھا گئی۔

دو تین دن اسی طرح گزرے۔

اس نے  اپنے  کمرے  سے  باہر قدم نہیں  نکالا۔ ایک دن تک تو کسی نے  بھی اسے  کھانے  پینے  کے  لیے  نہیں  پوچھا۔

لیکن پھر ماں  کی ممتا جاگی۔ اور وہی اسکے  کمرے  میں  آئی اور اس کی منت سماجت کر کے  اسے  کھانا کھانے  کیلئے  مجبور کر نے  لگی۔

ماں  کی منت سماجت سے  مجبور ہو کر اس نے  کسی طرح کھانا زہر ما ر کر کیا۔

ایک ہفتہ بعد گھر والوں  نے  سوچا رپورٹ پر تو انھوں  نے  طے  کر لیا کہ کنتل کو ایڈس جیسا بدنام روگ ہے۔ لیکن انھوں  نے  ابھی تک رپورٹ ڈاکٹر کو بتائی نہیں  نہ اس سلسلے  میں  اس سے  مشورہ طلب کیا۔ تو انھوں  نے  اسے  ڈاکٹر کے  پاس لے  جانے  کا طے  کیا۔ وہ ضد کرنے  لگی کہ وہ ڈاکٹر کے  پاس نہیں  جائیگی لیکن اسے  زبر دستی ڈاکٹر کے  پاس لے  جایا گیا۔

رپورٹ دیکھنے  کے  بعد ڈاکٹر نے  وہی کہا جس کے  بارے  میں  انھوں  نے  اندازہ لگایا تھا۔ لیکن جب ماں  نے  پوچھا۔

’’ڈاکٹر صاحب! کنتل کو یہ روگ کس طرح ہو ا۔ ‘‘

’’ممکن ہے  کنتل کے  کسی ایسے  لڑکے  سے  جسمانی تعلقات قائم ہوئے  ہوں  گے  جو اس موذی مرض کا مریض رہا ہو گا۔ اس کی وجہ سے  کنتل کو یہ روگ ہو ا ہو گا۔ ‘‘

تو وہ احتجاج کرنے  لگی کہ جسمانی تعلقات تو دور کی بات آ ج تک کسی لڑکے  نے  اس کے  جسم کو چھوا بھی نہیں  ہے۔ پھر یہ روگ اسے  کس طرح لگ گیا۔

اس کے  احتجاج پر ڈاکٹر کسی گہری سوچ میں  ڈوب گیا۔

پھر بولا۔

’’ایڈس صرف جسمانی تعلقات کی وجہ ہی سے  نہیں  ہوتا ہے۔ کسی ایڈس کے  مریض کا خون چڑھانے  سے  بھی ہو سکتا ہے۔ اور کسی ایڈس کے  مریض کو لگائے  گئے  انجکشن سے  بھی اگر کسی صحت مند آدمی کو انجکشن لگایا جائے  تو بھی اسے  ایڈس ہو سکتا ہے۔ کنتل کئی سالوں  سے  بیمار ہے۔ اس کا علاج کئی ڈاکٹروں  کے  پاس ہو ا ہے۔ کسی ڈاکٹر نے  لا پرواہی سے  اسے  کبھی کسی ایسی سوئی سے  انجکشن لگا دیا ہو گا جو کسی ایڈس کے  مریض کو دی گئی ہو۔ اس کی وجہ سے  بھی کنتل کو ایڈس ہو گیا ہو گا۔

ڈاکٹر کی بات سن کر وہ خوشی سے  اچھل پڑی۔

اسے  ایسا لگا جیسے  اس کے  سارے  گنا ہوں  کے  الزامات سے  بری کر دیا گیا ہے  اس نے  اپنے  گھر والوں  کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں  میں  خوشی کے  آنسو تھے  اور چہرے  سے  مسرت جھلک رہی تھی۔

مسرت اس بات کی تھی کہ انھیں  اس بات کا احسا س ہو گیا تھا ان کی بیٹی آوارہ بد چلن نہیں  ہے۔ اب وہ سماج میں  سر اٹھا کر چل سکتے  ہیں۔ انھیں  شرمندہ ہونے  کی ضرورت نہیں  ہے۔ اسے  اور اس کے  گھر والوں  کو اس بات کی کوئی پر واہ نہیں  ہے۔ کہ اس کی بیماری لاعلاج ہے۔

وہ ہنستے  ہنستے  موت کو گلے  لگا سکتی تھی۔ کیونکہ اسے  اس بات کی خوشی تھی اس کے  گھر والے  اس کی موت پر آنسو بہائیں  گے۔ ان کے  دل میں  اس کے  لیے  کوئی نفرت نہیں  ہے۔

زندگی اور موت اوپر والے  کے  ہاتھ میں  ہے۔ اوپر والے  سے  ہر کوئی زندگی چاہتا ہے۔ کبھی موت کی دعا نہیں  کر تا۔ موت کب آئے  گی کسی کو علم نہیں  ہوتا ہے۔

لیکن کسی کو علم ہو جائے  کہ وہ مر نے  والا ہے  تو اس کی زندگی کتنی کربناک بن جاتی ہے۔ ہر لمحہ دھڑکا لگا رہتا ہے  کہ ابھی موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے  کے  لئے  آیا۔ اور وہ اس دنیا سے  چل دیا۔

اس کی زندگی کو لاحق روگ کی وجہ سے  کچھ اس راہ پر چل نکلی تھی۔ لیکن کم سے  کم اسے  اس بات کا احساس اور خوشی تو تھی کہ اس کے  گھر والے  اس کے  غم میں  برابر کے  شریک ہیں۔

***