کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

شہر بدر

ایم مبین


ساری کوششیں  بیکار گئیں۔ ساری امیدیں  خاک میں  مل گئیں۔ ساری ترکیبیں  غلط ثابت ہوئیں۔ آس کی آخری ڈور بھی ٹوٹ کر ٹکڑے  ٹکڑے  ہو گئی۔

آخر وہ گھڑی آ پہونچی جس کا سب کو خدشہ تھا۔

خوفزدہ سے  لوگ اپنے  اندر اپنے  گھروں  سے  نکلنے  کی ہمت بھی نہیں  جٹاسکے۔

جو ہمت کر کے  گھروں  سے  نکلے  سلیم بھائی کے  مکان کے  قریب جانے  کی ہمت نہیں  کر سکے  دور کھڑے  ہو کر تماشائیوں  میں  شامل ہو گئے۔

سلیم بھائی کے  حق میں  احتجاج کرنے  والا اس کی بیوی اور تین چھوٹے  چھوٹے  بچوں  کے  علاوہ کوئی نہیں  تھا۔

ایک گھنٹہ سے  سلیم بھائی شہر کے  لیڈران سے  مسلسل رابطہ قائم کئے  ہوئے  تھے  اور ان کو صورت حال سے  مطلع کر تے  ہوئے  انھیں  جلد از جلد ان کے  مکان پر پہونچنے  کی درخواست کر رہا تھا۔

ہر کسی کا ایک سا جواب تھا۔

’بہت ضروری کام میں  ہے  میٹنگ میں  ہیں۔ کام میٹنگ ختم ہو تے  ہی ان کے  گھر پہونچنے  کی کوشش کریں  گے۔ وہ گھبرائیں  نہیں  ہمت سے  کام لیں۔ سب کچھ ٹھیک ہو جائے  گا۔ اس سلسلے  میں  ہائی کمان کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے  امید ہے  اب تک وزیر داخلہ کو ہائی کمان کا فون پہونچ گیا ہو گا اور انھوں  نے  کمشنر کو حکم دے  دیا ہو گا کہ وہ سلیم کی شہر بدری کا حکم نامہ فوراً منسوخ کر دے  یا واپس لے  لیں۔

لیکن ایسا کچھ بھی نہیں  ہوا تھا۔

دئے  گئے  وقت کے  گزر جانے  کے  بعد فوراً ہی تین چار گاڑیاں  محلے  میں  داخل ہوئیں  ان میں  ہتھیا روں  سے  لیس پولس کے  سپاہی تھے  جو گاڑی سے  اتر کر چاروں  طرف پھیل گئے۔

انھوں  نے  پوزیشن لیکر اپنے  ہتھیار تیار کر لیے۔ بس انھیں  حکم ملنے  کی دیر تھی ان کے  ہتھیا ر آگ کا دریا بہا کر کشت و خون بہانے  کے  لیے  تیار تھے۔

 پورا محلہ کسی چھاؤنی میں  تبدیل ہو گیا تھا۔

ہتھیاروں  سے  لیس پولس کے  ارادوں  کا محلے  والوں  نے  اندازہ لگا لیا تھا  اس لیے  ان کے  دل دہل گئے  تھے۔ اگر انکے  دلوں  میں  سلیم بھائی کی شہر بدری کے  خلاف احتجاج کر نے  کا کوئی ارادہ ہو گا بھی تو ہتھیار بند پولس کے  چہروں  سے  ٹپکتے  ان کے  ارادوں  کو دیکھ کر انھوں  نے  اپنا ارادہ بدل دیا تھا۔

ایسی صورت حال میں  کون احتجاج کرنے  کی ہمت کر سکتا تھا؟

ہرکسی کو پولس کی وحشیانہ گولیوں  کا شکار ہونے  کا خوف تھا۔

سلیم خود اپنے  آپ کو بے  بس محسوس کر رہا تھا۔

جن شہر والوں  کے  لیے، محلے  والوں  کے  لیے  اس نے  وہ اقدامات اٹھائے  تھے  جن کی بدولت اسے  شہر بدری کا حکم سنایا گیا ان میں  سے  آج کوئی بھی اس کے  ساتھ نہیں  تھا۔

کل تک اس کے  گھر میں  محلے  والوں  اور شہر والوں  کی ایک بھیڑ لگی ہوئی تھی۔

ہر کوئی اسے  دلاسہ دے  رہا تھا۔

’سلیم بھائی! آپ دل چھوٹا نہ کیجئے  ہمت نہ ہاریئے، ہم عدالت میں  تو اس معاملے  کے  خلاف گئے  ہیں  ہو سکتا ہے  ہمیں  اسٹے  مل جائے۔ اور ہمیں  اسٹے  یقیناً مل جا تا لیکن بدقسمتی سے  دو دن کورٹ بند ہے۔ لیکن کل جیسے  ہی کورٹ کھلے  گا ہمیں  امید ہے،ہمیں  اسٹے  مل جائے  گا۔

’سلیم بھائی !سارے  شہر کے  لوگ ان راستوں  پر جا کر پولس کو للکاریں  گے  کہ اگر تم کو سلیم بھائی کو گرفتار کر نے  جانا ہے  تو تم پہلے  ہماری لاشوں  پر سے  جانا ہو گا۔

‘اگر پولس نے  کل تمھیں  دھکا بھی لگا یا تو احتجاج میں  پورے  شہر میں  ہڑتال ہو جائے  گی۔ ساری دوکانیں  کاروبار بند کر دیا جائے  گا۔ ہماری پارٹی آپ کے  ساتھ ہے۔ اور آپ کو انصاف دلانے  کے  لیے، آپ پر ہونے  والے  مظالم،نا انصافی کے  خلاف ہماری پارٹی کے  سارے  ورکر سڑکوں  پر اتر آئیں  گے۔

ایک سیاسی لیڈر نے  کہا تھا۔

اس طرح کی سینکڑوں  باتیں ہو ئی تھیں۔

جس سے  اس کی ایک ڈور بندھی تھی۔ امید کی ٹمٹماتی لو میں  ایک نئی قوت سرایت کر گئی تھی اور وہ مکمل طور پر روشن ہو گئی تھی۔

سلیم کو لگا اسکے  سارے  خدشات بے  بنیاد ثابت ہوں  گے۔

وہ اپنے  شہر میں  اپنے  گھر میں  اپنے  با ل بچوں  کے  ساتھ رہے  گا۔

جب سارا شہر، شہر کے  اتنے  بڑے  بڑے  لوگ احتجاج کریں  گے  تو پولس کو جھکنا پڑے  گا۔ اور امن وامان قائم رکھنے  کے  لیے  اپنا حکم نامہ واپس لینا پڑے  گا۔

لیکن سورج کے  نکلتے  ہی مایوسی اور نامرادی کے  گھنے  بادلوں  نے  ان کے  وجود کو دھکنا شروع کر دیا تھا۔

سورج اوپر چڑھ رہا تھا اس کی روشنی اور تمازت بڑھتی جا رہی تھی اور سلیم کے  گرد مایوسی کے  گہرے  اندھیرے  پھیلتے  جا رہے  تھے۔

سویرے  سے  بلند دعوی کر نے  والوں  میں  سے  کوئی بھی نہیں  آیا تھا۔

شہر کے  لیڈر، لوگ تو دور محلے  کے  کسی فرد نے  بھی اس کے  گھر پر قدم نہیں  رکھا تھا۔

اس کا دل ڈوبتا جا رہا تھا۔

تو اس کا مطلب دو سالوں  کے  لیے  اسے  اپنا شہر، محلہ،بیوی بچوں  کو چھوڑ کر ایک انجان شہر جانا ہو گا؟

کہاں  جاؤں  گا میں  کس شہر میں  اکیلا رہوں  گا؟ میری بیوی چار بچے  کیا اکیلے  اس شہر میں  رہ پائیں  گے ؟ان کا گزر بسر کس طرح  ہو گا؟ یہاں  اس شہر میں  میرا چھوٹا سا کاروبار تھا جس میں  میرا اور میرے  خاندان کے  افراد کا گزربسر ہو جاتا تھا۔ لیکن میں  اکیلا کیا ایک نئے  شہر میں  پھر سے  نیا کاروبار شروع کر پاؤں  گا ؟

ابھی تک تو اس بات کا بھی اسے  خود علم نہیں  تھا کہ وہ شہر کے  بعد کس شہر میں  جائے  گا۔ یا پولس اسے  کس شہر میں  لیجا کر چھوڑ ے  گی۔

آس پاس کے  شہروں  میں  کوئی بھی ایسا شہر نہیں  تھا جہاں  اسے  سر چھپانے  کا کوئی ٹھکا نہ تھا۔

دور دراز کے  شہر جانے  کا تو وہ سوچ بھی نہیں  سکتا تھا بیوی بچوں  کا مسئلہ تھا۔

شہر بدر ہونے  کے  بعد بیوی بچوں  سے  رابطہ کسی قریبی شہر میں  رہ کر ہی رکھا جا سکتا تھا۔ وہ تو ان سے  ملنے  کے  لیے  نہیں  جا سکتا تھا وہ ہی اس سے  ملنے  کے  لیے  آ سکتے  تھے۔ ہفتے  ۱۵دنوں  میں  ایک آدھ بار۔ بچوں  کی اسکول کا مسئلہ تھا اس لیے  وہ کسی نئے  شہر میں  بس کر بچوں  اور بیوی کو اپنے  پاس بلانے  کا سوچ بھی نہیں  سکتا تھا۔

۱۱بجے  کے  قریب آخری امید بھی ٹوٹ گئی تھی۔

کچھ سوشل ورکر جو اس کی شہر بدری کے  خلاف عدالت سے  اسٹے  حاصل کر نے  لیے  عدالت گئے  تھے  وہ مایوس لوٹ آئے۔ اس کا جج چھٹی پر تھا اس لیے  نہ تو اس کی عرضی داخل ہو سکی اور نہ اسے  اسٹے  دینے  پر غور ہو سکا۔

اور وقت متعین پر پولس فورس دندناتی ہوئی محلے  میں  پہونچ گئی۔ مشین گنوں  کو نوک پر اسے  پولس کی جیپ میں  بیٹھنے  کا حکم دیا گیا۔

احتجاج کر تی اس کی بیوی کو دو تین لیڈیز پولس کا نسٹبلوں  نے  اپنے  گھیرے  میں  لے  لیا۔ احتجاج کر تے  بچوں  کو دو چار کا نسٹبلوں  نے  دبوچ لیا۔

اور تو کوئی نہ احتجاج کر نے  والا تھا اور نہ آگے  آنے  والا تھا سب خاموش تماشائی بنے  دیکھ رہے  تھے۔

کسی میں  نہ تو احتجاج کرنے  کی قوت تھی اور نہ لب کشائی کی۔

کسی بھی جرأت کا انجام و ہ اچھی طرح جانتے  تھے۔

پولس کی جیپ ایک انجان منزل کی طرف چل دی۔

اس نے  جیپ کی کھڑکی سے  ہاتھ نکال کر کھڑے  لوگوں  کو الوداع کہا۔

ہاتھ ہلاتے  ہلاتے  اس کا دل بھر آیا۔ پہلے  آنکھوں  سے  آنسو نکلے  پھر منہ سے  سسکیاں  نکلنے  لگیں  گلا رندھ گیا اور پھر وہ بچوں  کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے  لگا۔

اس کے  رونے  کی آواز اور اس کے  آنسو دیکھ کر جیپ میں  بیٹھے  ایک پولس کانسٹبل کا دل بھی پسیج گیا۔

’اب بچوں  کی رونے  سے  کیا ہو گا سلیم بھائی!جو تقدیر میں  لکھا ہے  اس کا سامنا تو کر نا پڑے گا۔ تم کو شہر بدر کرنے  سے  کم سے  کم میں  تو خوش نہیں  ہو ں۔ میں  جانتا ہوں  تمھارا کوئی قصور نہیں  ہے  تم نے  کوئی ایسا گنا ہ نہیں  کیا ہے  جس کی سزا کے  طور پر تمھیں  شہر بدر کیا جائے۔ لیکن پولس کی انا کاسوال ہے۔

پولس اپنی قوت کا مظاہرہ کر کے  دہشت پھیلانا چاہتی ہے  تاکہ سب کو پولس کی قوت کا پتہ چل جائے اور پھر کوئی سلیم پولس کے  خلاف آواز نہ اٹھائے۔ پولس سے  ٹکرانے  کی کوشش نہ کرے۔۔۔

بات تو سچ تھی۔

اس نے  پولس کے  خلاف آواز اٹھائی تھی اس نے  پولس سے  ٹکرانے  کی کوشش کی تھی۔

لیکن یہ کوئی اس کا گنا ہ نہیں  تھا۔ ایک سچائی تھی اس نے  انصاف کے  لیے  نا انصافی کے  خلاف آواز اٹھائی تھی۔

گذشتہ دنوں  احتجاج کرتی عوام پر پولس نے  اندھا دھندہ گولیاں  برسائی تھیں۔ پولس کی اس وحشیانہ فائرنگ میں  کئی لوگ مارے  گئے  تھے۔ اور کئی زخمی ہوئے  تھے۔

ظاہر سی بات تھی پولس کی اس بربریت کے  خلاف سبھی نے  آواز اٹھائی تھی اور  اس نے  سب سے  زیادہ اس لیے  اٹھائی تھی کیونکہ وہ وہ پولس کی بربریت کا چشم دید گواہ تھا۔

وہ پولس کے  خلاف احتجاج کر والوں  میں  شامل تھا کیونکہ وہ محلے  کا ایک شوسل ورکر تھا۔ ایک سیاسی جماعت کا رکن اور سرگرم ورکر بھی تھا۔ جب عوام اپنے  کسی مطالبہ کے  لیے  احتجاج کر رہی ہو تو اس میں  اس کا شامل ہو نا لازمی تھا۔

اور وہ حادثہ ہو گیا۔

جیسے  ہی پولس فائرنگ کی خبر میڈیا کو ملی۔ چاروں  طرف سے  میڈیا کے  نمائندے  چاروں  طرف سے  امڈ پڑے۔ ان کو اپنے  اخبارات کے  صفحات سیاہ کرنے  تھے  اپنے  چینل کے  دھماکے  دار گرم گرم خبریں  مہیا کر نا تھا۔

مورچے  میں  شامل ایک ایک فرد کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر اس کے  پاس پہونچتے  اور اس سے  انٹر ویو لیتے۔

وہ تو ایک سوشل ور کر تھا۔ اس کے  پاس گفتار کے  قوت بھی کافی مضبوط تھی اس لیے  میڈیا کے  ہر فرد نے  اس سے  انٹر ویو لیا۔ اس نے  بھی اپنے  فن تقریر کی مہارت کا استعمال کر کے  سارے  واقعات کیمرے  کا سامنے  بیان کر دیے  اور پولس کے  رویے  کے  خلاف کافی سخت سست کہا۔

ہر ٹی وی چینل نے  اس خبر کو دکھایا اور ساتھ ہی اس کو انٹر ویواس طرح سے  وہ ہیرو بن گیا۔

اپنے  ظلم کو چھپانے  کے  لیے  اور اپنے  آپ کو ظالم کے  بجائے  مظلوم ظاہر کرنے  کے  لیے  اور پولس نے  پینترا بدلا۔

پولس نے  پولس فائرنگ کا جواز پیش کیا مظاہرین نے  پولس پر سخت پتھراؤ کیا تھا اس پتھراؤ کی وجہ سے  کئی پولس والے  جن میں  اعلیٰ افسر بھی شامل ہیں  شدید زخمی ہوئے  اس وجہ سے  پولس کو فائرنگ کرنی پڑی۔

ان پولس والوں  کو سول اسپتالوں  میں  داخل کر کے  ان کے  زخمی ہونے  کے  ثبوت اکٹھا کر لیے  گئے  اور اعلیٰ افسر بڑے  بڑے  پرائیوٹ اسپتالوں  کے  اے  سی وار ڈ میں  داخل ہو کر سرکار کے  خرچے  پر اپنی مختلف بیماریوں  کا علاج کروانے  لگے۔

ڈنڈے  کی زور پر پولس نے  ماحول بنا دیا کہ پولس کا قدم جائز تھا۔

اب پولس نے  مظاہرین کے  خلاف دنگے  فساد کرنے  کا مقدمہ قائم کیا۔

مظاہرے  میں  شامل افراد کو چن چن کر گرفتار کیا گیا۔ زخمیوں  کو اسپتالوں  سے  گرفتار کر کے  لاک اپ میں  ٹھونس دیا گیا۔

یہاں  تک کہ فائرنگ میں  مرنے  والوں  کے  خلاف بھی مقدمے  درج کئے  گئے  مقدمہ اس پر بھی قائم کیا گیا لیکن وہ اپنے  اثر و رسوخ کی وجہ سے  جلد باہر آ گیا۔

بار آنے  کے  بعد اس کی نا انصافی کے  خلاف آواز کچھ زیادہ ہی بلند ہو گئی۔

پولس کی زیادتیوں  سے  وہ پھر ایک بار عوام، خواص، ارباب اقتدار،ہائی کمانڈ کو متعارف کرنے  لگا جس کی وجہ سے  پولس کی نظر میں  آ گیا۔

ایک دو بار پولس کے  اعلیٰ حکام نے  بلا کر اسے  وارننگ دی۔

’سلیم !پولس سے  ٹکرانے  کی کوسش مت کرو ورنہ اس کا انجام بہت بر ا ہو گا۔ پولس جو کر رہی ہے  اس کو اپنا کام کرنے  دو ان کے  معاملے  میں  ٹانگ اڑانے  کی کوشش مت کرو نہیں  تو کہیں  کے  نہیں  رہو گے۔ ‘‘

لیکن اس وارننگ کی وجہ سے  وہ کچھ زیادہ ہی بیباک ہو گیا۔

’میری زبان بند کرنے  کی کوشش کا جا رہی ہے۔ مجھے  دھمکیاں  دی جا رہی ہیں  لیکن میں  ظلم کے  سامنے  ہتھیار نہیں  ڈالوں  گا۔ سچ کہنے  کے  لیے  کسی بھی دباؤ سے  نہیں  ڈروں  گا۔

اور پھر اس کے  اسی رویہ کی وجہ سے  اس کے  خلاف ایک بار پھر پولس کی انتقامی کاروائیوں  کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

دو دو سال پرنے  معاملوں  میں  بھی اسے  گھسیٹا جانے  لگا۔

جن معاملوں  سے  اس کا کوئی تعلق بھی نہیں  تھا اس کو ان معاملوں  میں  گھسیٹا جانے  لگا۔

یہاں  تک کے  ایک دو بار چوری،ڈکیتی، ہفتہ وصولی کے  دو چار معاملوں  میں  بھی اسے  ملوث کر کے  اس پر کیس بنا دیا گیا۔

پولس اس کی پہونچ سے  ڈرتی تھی۔ کیونکہ جب بھی اسے  اس طرح کے  کسی معاملے  میں  گھسیٹا جاتا کسی معتبرآدمی کا پولس کو فون پہونچ جاتا تھا کہ انھوں  نے  اسے  کیوں  گرفتار کیا ؟ اس کو اس معاملے  میں  ملوث کیا جا رہا ہے  اسے  فوراً چھوڑ دیا جائے  ورنہ انجام اچھا نہیں  ہو گا۔

پولس کا ایک ہی جواب ہوتا۔

ہم نے  سلیم کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے ؟

’’آپ کے  پاس یہی تو ایک دفعہ ہے  جس کے  تحت آپ صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کے  بھی بلا وجہ گرفتار کر سکتے  ہیں۔ اپنی دفعات کا استعمال ظلم کرنے  کے  لیے  بند کرو۔۔ ورنہ ہمیں  بھی اس کے  خلاف کچھ کر نا پڑے  گا۔۔ ‘‘

پولس اسے  ضمانت پر یا وارننگ دیکر چھوڑ دیتی لیکن ایک کیس تو اس پر تیا ر ہو جا تا۔

اس طرح اس پر پولس نے  اتنے  کیس تیا ر کر لئے  جن کی بنیا د پر وہ اسے  نامی غنڈہ بد معاش قرار دے  سکتی تھی کہ اس کی وجہ سے  شہر میں  امن و امان کی صورت حال کو خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

اس لیے  اسے  شہر بدر کر دیا جائے۔

پولس کو یہ کار وائی چند سیاسی بے  لگام گھوڑوں  پر لگام کسنے  کے  لیے  کر نی بھی تھی اور عوام میں  دہشت پھیلانا چاہتی تھی کہ وہ پولس سے  الجھنے  کی کوشش نہ کریں۔

اپنی وردیاں  اور کرسیاں  بچانے  کے  لیے  پولس جو بھی کاروائی کریں  تماشائی بن کر چپ چاپ دیکھا کریں  ان میں  کوئی دخل نہ دیں  نہ ان کے  خلاف آواز اٹھائے۔

او پولس نے  کمشنر سے  ان کیسوں  کے  پس منظر میں  اس کا شہر بدر کیے  جانے  کا حکم نامہ حاصل کر لیا۔

یہ خبر سنتے  ہی سارے  شہر میں  ایک بے  چینی سی پھیل گئی۔

یہ ظلم ہے۔ نا انصافی ہے۔

’پولس راج ہے۔ ‘

’’غنڈے  بد معاش تو شہر میں  آزاد دندناتے  پھر تے  رہے  اور شریف عزت دار لو گوں  کو شہر بدر کیا جائے۔ ‘‘

لیکن عوام اور خواص کا احتجاج صرف زبانی طور پر تھا۔ پولس کے  کانوں  پر اس سے  جوں  کہاں  ہے  رینگنے  والی تھی۔

یہ طے  کیا گیا کہ اس کے  خلاف احتجاج کیا جائے  گا۔ پارٹی ہائی کمان سے  شکایت کی جائے  گی۔

لیکن ساری باتیں  زبانی چلتی رہیں۔

اور اس کے  شہر بدر کا وقت آ گیا۔

اب وہ ایک انجان شہر کی طرف انجان منزل کی جانب ایک انجان سی زندگی شروع کر نے  جا رہا تھا۔

اپنے  ماضی پر نظر ڈالتے  سوچ رہا تھا کہ اس کا ماضی صحیح تھا یا غلط جو اسے  اس انجان مستقبل کی سزا مل رہی ہے۔

***