کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کرپٹ ونڈوز

خاور چودھری


’’علی دیکھنا یار کمپیوٹر پھر نہیں آن ہو رہا‘‘

’’جی سر‘‘

’’کون بیٹھتا ہے میری سیٹ پر؟ ‘‘

’’کوئی نہیں سر‘‘

’’پھر کیوں روز میرا کمپیوٹر ڈسٹرب ہو جاتا ہے ؟ ‘‘

علی خاموشی سے سسٹم آن کر نے کی کوشش کرتا ہے ، مگر اسے بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے

’’سر۔ ۔ ۔ ونڈوز کرپٹ ہو گئی ہے ‘‘وہ کہتا ہے

’’ایک تو مارکیٹ میں کوئی چیز بھی معیاری نہیں آتی، جو بھی شے خریدو دو نمبر۔ ایکس پی ونڈوز کی نئی سی ڈی پچھلے ہفتے ہی تو منگوائی تھی۔ ایک ہفتہ میں دو بار انسٹالیشن، حد ہو گئی۔ ‘‘

 تحسین نے تلخی سے کہا تو  علی کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ ۔ ۔

’’کیوں بتیسی دکھا رہے ہو؟ ‘‘

’’سر! اگر ہم براہِ راست بل گیٹس سے معاہدہ کر کے مائیکرو سافٹ کے ونڈوز استعمال کر تے تو وہ یوں کرپٹ نہ ہوتے۔ ‘‘

علی نے کہا تو  تحسین کی باچھیں کانوں کو چھونے لگیں۔ ۔ ۔ اپنے قہقہے پر قابو پاتے ہوئے اس نے کہا

’’ہاں یار۔ ۔ ۔ ٹھیک کہتے ہو تم۔ ہم خود بھی دو نمبریے ہیں اور چور راستے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ بل گیٹس کو معلوم ہوا، تو وہ ہم پربھی ہرجانہ کا دعویٰ کر دے گا۔ روسی استاد تو خوش نصیب تھا اس کے لیے میخائل گورباچوف نے بل گیٹس سے دست بستہ معذرت کر لی تھی ، مگر ہمارے لیے کوئی نہیں بولے گا۔ ‘‘

اب قہقہہ لگانے کی باری علی کی تھی

’’ سر! مطمئن رہیے۔ بل گیٹس اتنی آسانی سے یہاں تک نہیں پہنچ سکے گا۔ چائنہ کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی مارکیٹوں میں بیٹھے ہوئے جعلسازوں سے نبٹتے نبٹتے اس کی عمر گزر جائے گی۔ ۔ ۔ اس کے چین سے لوٹنے تک ہم چین سے رہ سکتے ہیں۔ ‘‘

’’ہوں۔ ۔ ۔ چلو دیکھتے ہیں۔ ۔ ۔ ‘‘

تحسین نے کہا

’’فائر وال لگا دوں سر۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘

علی نے پوچھا

’’ہاں یہ بہتر رہے گا‘‘

’’ویسے سر آپ بھی تو کسی کو معاف نہیں کر تے ہیں ، پھر آپ کے کمپیوٹر پر وائرس کا اٹیک نہ ہو تو کیا ہو؟ ‘‘

’’تو کیا میں کسی سے زیادتی کرتا ہوں۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘

’’میں نے یہ تو نہیں کہا سر! ‘‘

علی نے قدرے لجاجت سے کہا

’’تمام پروگرامز انسٹال ہو جائیں تو مجھے بتا دینا۔ میں نیوز روم میں بیٹھا ہوں ‘‘تحسین یہ کہہ کر اپنے دفتر سے نکل جاتا ہے۔ ۔ ۔

’’سرکے دماغ میں بھی ناں۔ ۔ ۔ ‘‘

علی بڑبڑاتا ہوا کی بورڈ اپنی جانب کھینچتا ہے

٭٭٭

          پیراگون پلازا کی ساتویں منزل پر روز اس طرح کی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔ بیسیوں کمپیوٹرز پر کام کر نے والے کمپوزرز، پیج میکرز اور سب ایڈیٹرز علی کی خدمات حاصل کر تے۔ ۔ ۔ علی ایم سی ایس کر نے کے بعد طویل عرصہ تک ملکی و غیر ملکی اداروں کی دھُول پھانک چکا تھا، مگر اسے کہیں بھی مناسب جاب نہ ملی۔ ۔ ۔ تب اس نے اِس روزنامہ میں کمپیوٹر لیب انچارج کی حیثیت سے نوکری کر لی۔ ۔ ۔ تنخواہ۔ ۔ ۔ بس اتنی تھی کہ وہ خود کو صاحبِ روزگار کہہ سکتا تھا۔ ۔ ۔ اور وہ عمر احمد۔ ۔ ۔ جس نے اس کے ساتھ ہی اپنی تعلیم مکمل کی تھی، ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں قابلِ رشک تنخواہ پر کام کر رہا تھا

’’چا لیس ہزار روپے ماہ وار، سیلولر فون کا خرچ الگ اور رہائش کی سہولت الگ۔ ۔ ۔ ‘‘

علی اکثر سوچتا تھا اور پھر عمر احمد کے والد کے اثر و رسوخ کا سوچ کر خاموش ہو جاتا۔

’’ظاہر ہے لمبی سفارشوں سے ہی ایسی نوکر یاں ملتی ہیں اور جن کے پاس سفارشیں نہیں ہوتیں وہ معمولی تنخواہ پر کام کر نے پر مجبور ہوتے ہیں ‘‘

اس دن بھی علی نے سوچا تھا۔ ویسے تحسین صاحب جب سے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہو کر یہاں آئے تھے علی زیادہ خوشی سے کام کر نے لگا تھا۔ وہ کارکنوں کے ساتھ خوش سلیقگی سے پیش آتے ، ہنس مکھ ، کم گو، کام سے کام رکھنے والے اور بلاوجہ رعب نہ ڈالنے والے تحسین تو جیسے علی کے دل میں ہی اُتر گئے تھے۔ ۔ ۔ اور وہ پہلے والا ایڈیٹر۔ ۔ ۔ خبیث ! ہر وقت زیرِ لب بکتا رہتا۔ ۔ ۔ مالکوں کو بھی معاف نہیں کرتا تھا اور کارکنوں کو بھی نہیں بخشتا تھا۔ ہر وقت ایڈیٹری جھاڑتا۔ ۔ ۔ سڑیل۔ ۔ ۔ خود کو، ٹی ایس ایلیٹ، حسرت موہانی ، فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی سے بھی بڑا صحافی اور ایڈیٹر سمجھتا تھا۔ ۔ ۔ آغا شورش کاشمیری اور حمید اختر تو گویا اس کے سامنے پانی بھرتے تھے۔ ۔ ۔ علی کی چکنی جبیں پر ناگوار شکنیں نمودار ہوئیں تو اس نے سر جھٹک کر اپنا کام شروع کر دیا۔

٭٭٭

          صوبہ کے سینئر صحافیوں کا وفد ترکی جانے کے لیے تیار ہوا تو  تحسین بھی ان میں شامل تھا۔ پاسپورٹ پر ویزا لگ کر آ گیا تھا۔ ۔ ۔ مگر نہ جانے کیا بات ہوئی کہ، اس نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا۔ ۔ ۔ علی جو اس کے ساتھ صحافتی امور بھی انجام دینے لگا تھا وہ اس وفد کے ساتھ چلا گیا۔ ۔ ۔ یہ بار بار اُس کو تاکید کر تا

’’علی کھلی آنکھوں دورہ مکمل کرنا۔ ۔ ۔ ہر اہم شخصیت اور مقام کی تصویر لینا۔ ۔ ۔ جس جگہ جاؤ وہاں کا حدود اربعہ، تاریخ اور خصوصیات ضرور نوٹ کرنا۔ ۔ ۔ اور ہاں ! عام لوگوں سے بھی ملنا اور ان سے بر صغیر خصوصاً پاکستان کے مسلمانوں کے حوالے سے رائے لینا۔ ۔ ۔ یہ نہ ہو تم جا کر وہاں سو جاؤ اور پھر دوسرے اخبارات بازی لے جائیں ‘‘

٭٭٭

          گورنر ہاؤس کے سامنے معمول سے زیادہ گاڑیاں تھیں۔ تحسین اپنے تاجر دوست نجم کے ساتھ اپنی پرانی خیبر کار میں بہت دیر تک ٹریفک کی بے ترتیبی میں پھنسا رہا۔ بڑی مشکلوں سے وہ وہاں سے نکل کر مال روڈ پر طاہر پلازا تک پہنچا۔ وہاں بھی انسانوں کا بے کراں ہجوم تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے آدمی میں آدمی کاشت کیا ہوا ہے۔ شاید تل دھرنے کو جگہ نہ ہونا والا محاورہ ایسی ہی کیفیت دیکھ کر کسی نے تخلیق کیا ہو گا۔ شام کے سایے پھیل رہے تھے۔ ۔ ۔ ہجوم بھی بڑھ رہا تھا۔ گاڑی ایک طرف کھڑی کر کے یہ دونوں طاہر پلازا کی جانب بڑھ گئے

’’کوٹ ماسٹر‘‘

سائن بورڈ پڑھ کر دونوں ایک ٹیلر کے شوروم میں داخل ہوئے۔ چاروں طرف مختلف النوع اور اعلیٰ کوالٹی کے سوٹ ترتیب سے چھت تک اونچی الماریوں میں لٹکے ہوئے تھے۔ دروازے کی سمت میں شیشوں سے اندر مجسموں کو بھی خوبصورت پہناوے پہنائے گئے تھے۔ کچھ لوگ جو ابھی کچھ دیر پہلے آئے تھے ان مجسموں کو محویت سے دیکھ رہے تھے۔ عید کے لیے سلائے گئے سوٹ تحسین اور نجم نے اُٹھائے۔ ۔ ۔ رقم ادا کی اور نیچے اُتر آئے۔ باہر اندھیرا تھا۔ ۔ ۔ شاید لوڈ شیڈنگ کے باعث بجلی کی رو معطل ہو چکی تھی۔ ۔ ۔ البتہ کچھ دُکانوں میں آن ہو جانے والے جنریٹروں کے باعث بلبوں کی ہلکی لو چھن چھن کر باہر آ رہی تھی یا پھر سڑک سے گزرنے والی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس اندھیرے کا سینہ اچانک چیر جاتیں تو  دُور تک روشنی کی لہر پھیل جاتی۔

٭٭٭

’’خاموشی سے بیٹھ جاؤ گاڑی میں ‘‘

گھبراہٹ سے پلٹ کر تحسین نے دیکھا تو  دو مسلح نقاب پوش اس کے پیچھے کھڑے تھے۔ نجم کو دو اور نقاب پوشوں نے پکڑ کر پہلے ہی اپنی گاڑی میں ڈال لیا تھا۔ تحسین نے یک بارگی سوچا

’’ڈاکو ہوں گے۔ ۔ ۔ لوٹ کر چھوڑ دیں گے ، ان سے اُلجھنا بے کار ہے۔ چند روپوں کے لیے خود کو زخمی کروانا دانش مندی نہیں ‘‘

پھر فیصلہ کن انداز سے آگے بڑھا اور کالے رنگ کی ٹیوٹا کرولا کار میں بیٹھ گیا۔ دونوں کی آنکھوں پرپٹیاں باندھی جانے لگیں ، تو انھوں نے مزاحمت کر نے کی کوشش کی مگر اب یہ بے بس ہو گئے تھے۔ ۔ ۔ ایک نقاب پوش نے اُلٹے ہاتھ سے وار کیا۔ ۔ ۔ وار اس قدر اچانک اور شدید تھا کہ تحسین کے لیے سنبھلنا ممکن نہ رہا۔ ۔ ۔ نجم بھی سراپا بے بسی کی تصویر تھا۔ آنکھوں کے ساتھ ساتھ ہونٹوں پربھی ٹیپ چپکا دیا گیا اور ان کے ہاتھ پلاسٹک کی ڈوری سے باندھ دیئے گئے۔ ۔ ۔ اب تحسین کو اپنی حماقت کا احساس ہو رہا تھا

’’مزاحم ہوتا تو  زیادہ سے زیادہ ایک گولی چلا کر یہ لوگ بھاگ جاتے ‘‘اس نے سوچا

          گاڑی مسلسل بڑھتی رہی۔ ۔ ۔ راستہ پھیلتا رہا اور اس کی سوچیں بھی۔ اس کی آنکھوں میں ان تمام صحافیوں کے چہرے گھوم گئے ، جنھیں نامعلوم لوگوں نے اغوا کر کے یا تو  قتل کر دیا تھا یا پھر اپاہج بنا دیا۔ ۔ ۔ اس کے دماغ کے پردے پر قبائلی صحافی کی تصویر روشن ہوئی جس کی پشت پر ہاتھ بندھے لاش اس کے غائب ہونے کے کئی دن بعد ملی تھی۔ ۔ ۔ ایک اور قبائلی صحافی کا چہرہ سامنے آیا جس کے بھائی اور بھتیجے کو قتل کیا گیا تھا۔ ۔ ۔ خود اُسے اغوا کر کے کئی دن اذیت کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ۔ ۔ اُسے ملک کے دارالحکومت کے پوش ایریا میں قتل کیے جانے والے سینئر صحافی کا بھی خیال آیا۔ ۔ ۔ پھر اس کی بند آنکھوں کے سامنے الیکٹرونکس میڈیا سے وابستہ کیمرہ مین اور رپورٹر کا چہرہ گھوم گیا۔ تکلیف کی شدت سے اس کی کنپٹیاں سلگ رہی تھیں۔ ۔ ۔ وہ اپنی بے بسی پر کڑھتا رہا۔ ۔ ۔ واہموں اور سوچوں کے ناگ اسے ڈستے رہے۔ کئی گھنٹوں کی اذیت ناک مسافت کے بعد جب انھیں گاڑی سے اُتارا گیا تو  ان کا جسم بوجھل ہو چکا تھا۔ ۔ ۔ تھکاوٹ اور خوف نے ان کے قدموں کو زمین میں گاڑ دیا تھا۔ ۔ ۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ان کے کاندھوں پر کسی نے نانگا پربت اُٹھا کر رکھ دیا ہے۔ رات خاموش تھی۔ ۔ ۔ دُور کہیں سے گیدڑوں کی آواز گونجتی تو کتے بھی بھونکنے لگتے تھے۔ ۔ ۔ اغوا کار مخصوص لہجہ میں آپس میں باتیں کر تے۔ ۔ ۔ سرگوشی میں ایک دوسرے کو کچھ کہتے اور ساتھ ہی ساتھ انھیں بھی گھسیٹتے جاتے۔ ۔ ۔ گھنٹہ بھرکا پیدل سفر صدیوں کو محیط لگتا تھا۔ ۔ ۔ رواں رواں چٹخ رہا تھا

٭٭٭

’’کیا ہو گا ہمارے ساتھ۔ ۔ ۔ نہ جانے کون لوگ ہیں یہ۔ ۔ ۔ اور کیا چاہتے ہیں ‘‘

تحسین نے سوچا اور اس کے دماغ میں چیونٹیاں رینگنے لگیں

’’کھولو دروازہ۔ ۔ ۔ جلدی کر و۔ ۔ ۔ ‘‘

ایک کرخت آواز گونجی۔ دروازہ اس طرح کھٹکھٹایا جا رہا تھا جیسے ہتھوڑے برس رہے ہوں۔

’’کھولو سور۔ ۔ ۔ کہاں مر گئے ‘‘

دوبارہ صدا بلند ہوئی۔ ۔ ۔ گڑگڑ۔ ۔ ۔ ڑڑڑڑڑ۔ ۔ ۔ دروازہ کھلنے کی آواز پیدا ہوئی۔ ۔ ۔ پھر ایک کمرے میں انھیں دھکیل کر دروازے کو باہر سے چٹخنی چڑھا دی گئی۔ ۔ ۔ تحسین نے چیخنے کی کوشش کی، مگر چیخ اس کے گلے میں قتل ہو کر رہ گئی۔ ۔ ۔ بندھے منہ سے چیخ کہاں نکل پاتی ہے۔ دروازہ بند ہوا تو  کچھ دیر سرگوشیوں کی آہٹ ان کے کانوں سے ٹکراتی رہی، پھر خاموشی چھا گئی۔ ۔ ۔ قبر کی سی خاموشی۔ رات جیسے تھم گئی تھی۔ اور وقت جیسے زنجیروں سے باندھ دیا گیا تھا۔ ۔ ۔ جکڑے ہاتھوں ، ٹیپ چپکے مونہوں اور بندھی آنکھوں نے ان کے دماغوں کو بھی تاریک کر دیا تھا۔ خوف کے سیاہ ناگ پھن پھیلائے انھیں ڈسنے کو دوڑ رہے تھے۔ ۔ ۔ کچی اور ننگی زمین کے فرش پرنہ ان سے بیٹھا جاتا نہ لیٹا۔ ۔ ۔ حشرات الارض کی آوازیں گہری خاموشی کا سینہ چیر رہی تھیں۔ کبھی کبھی کتوں کے بھونکنے کا شور بھی خاموشی توڑ دیتا۔

          تحسین جب تھکاوٹ سے بے حال ہو کر مٹی کے فرش پر لیٹا تو  کچھ دیر بعد اسے اپنے وجود پر کوئی کیڑا رینگتا ہوا محسوس ہوا۔ ۔ ۔ اس نے سوچا

’’لال بیگ۔ ۔ ۔ ٹڈی ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔ یا کوئی زہریلا حشرہ؟ ‘‘

وہ بدک کر اُٹھ بیٹھا اور باقی رات اس نے اٹھتے ، بیٹھتے کاٹی۔ کیا قیامت کی رات تھی وہ۔ ۔ ۔

’’فہمیدہ کس حال میں ہو گی؟ ۔ ۔ ۔ اور بچے راہ تکتے تکتے سو گئے ہوں گے۔ جانے کتنی بار اس نے دفتر فون کر کے معلوم کیا ہو گا اور ہر مرتبہ اسے بتایا گیا ہو گا کہ ’’تحسین صاحب تو  سہ پہر کو گھرکے لیے نکل گئے تھے۔ ۔ ۔ ‘‘اس نے اپنے بوڑھے ماں باپ کے بارے میں سوچا۔ اور شائستہ۔ ۔ ۔ وہ سوچ رہی ہو گی کہ بھائی عید کے لیے چوڑیاں لے کر آئے گا۔ ۔ ۔ اس نے نجم کے بارے میں سوچا جو اس کے ساتھ ہی کہیں پڑا تھا۔ اسے خیال آیا ممکن ہے اس کی وجہ سے اغوا کیا گیا ہو۔ ۔ ۔ اغوا برائے تاوان ہو۔ ۔ ۔ نہیں ، نہیں میری وجہ سے اسے اغوا کیا گیا ہے۔ ۔ ۔ اُف خدایا! دکھ تو سینے سے پار ہو کر رہے گا۔ ۔ ۔ ‘‘

سوچوں کی کڑیاں زنجیر بنتی گئیں اور زنجیروں کا پھیلاؤ بڑھتا رہا۔ ۔ ۔ بڑھتا رہا۔ ۔ ۔ بڑھتا رہا۔ ۔ ۔

٭٭٭

          دروازے کی چرچراہٹ نے اس کے دماغ کو خیالوں کی دنیا سے نکالا۔ قدموں کی آہٹ مسلسل اس کے قریب آتی جا رہی تھی۔ ۔ ۔ دفعتاً کوئی ہاتھ اس کے سر تک پہنچا اور پھر بالوں کو جکڑ لیا۔ لا تو  ں اور گھونسوں کا سلسلہ نہ تھمنے کے لیے شروع ہوا۔ پسلیاں ایک دوسرے میں گھستی ہوئی معلوم ہوئیں ، پیٹ میں اُٹھنے والے درد کا طوفان بڑھتا ہی گیا۔ جب تکلیف سے ذرا آگے کی طرف جھکتا تو پیچھے سے کمر میں لات جڑ دی جاتی اور وہ گھٹی آواز میں کر اہ کر رہ جاتا۔ ۔ ۔ وہ اندازہ نہیں کر پا رہا تھا کہ مارنے والے کتنے ہیں۔ بس ایک ہی طرح کی آوازیں گونجتیں

’’ اور مارو۔ ۔ ۔ ہڈیاں توڑ دو۔ ۔ ۔ زندہ نہ چھوڑو‘‘

مکوں اور ٹھوکروں کا دور ختم ہوا تو  ڈنڈے کی عمل داری شروع ہو گئی۔ ۔ ۔ جہاں چوٹ پڑتی وہاں بجلی سی کوند جاتی۔ ۔ ۔ آنکھیں راکھ کا ڈھیر ہو گئیں ، دماغ سن اور ماؤف۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے جسم کا بال بال خون کی راہ گزر بن چکا ہے۔ کیا ہونے والا ہے اور کیا ہو گا وہ یہ نہیں جان سکتا تھا۔ ۔ ۔ البتہ ایک آواز اس کے کانوں سے ہوتی ہوئی روح تک اُتر گئی تھی۔

’’باقی کسر دوپہر کو نکالیں گے۔ ۔ ۔ چلو‘‘

دروازہ اسی چرچراہٹ کے ساتھ بند ہو گیا۔ تحسین کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس کا سر، چہرہ اور پورا جسم لہو سے تر ہو چکے ہیں۔ خون کی نمکین قطرے اس کے پھٹے ہوئے ہونٹوں سے حلق میں اُتر رہے تھے۔ وہ اپنا چہرہ صاف کرنا چاہتا تھا، مگراس کے بندھے ہاتھ اس کے ارادے پر پانی پھیر دیتے تھے۔ ۔ ۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ اسے کچھ یاد نہیں۔ ۔ ۔

٭٭٭

          نجم کے پکارنے پر تحسین کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا وہ پہچانا نہیں جا رہا تھا۔ خون اور دھول کے دھبوں نے اس کی شناخت چھین لی تھی اور یہی حالت اس کی اپنی بھی تھی۔ وہ اُس کا چہرہ صاف کر نے کے لیے اٹھنا چاہتا تھا، مگراس کے اپنے سینہ پر رکھی ہوئی درد کی گانٹھ نے اسے بے بس کر دیا۔ ۔ ۔ ایک کر اہ اس کی چھاتی سے نکلی اور فضا میں تحلیل ہو گئی۔ اس کے نتھنے بدبو سے پھٹ رہے تھے۔ ۔ ۔ ناک صاف کر نے کے لیے ہاتھ قریب کرنا چاہا ، مگر وہ دماغ کا حکم بجا لانے سے قاصر تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے اس کی دونوں بانہیں شل ہو چکی ہیں۔ بڑی مشکلوں سے وہ اپنی کلائیوں کو دیکھ پایا تھا، جن پر رسیوں کے نشان پوری طرح روشن تھے۔

’’تحسین۔ ۔ ۔ کون لوگ ہیں یہ؟ ‘‘نجم نے پوچھا

’’مجھے اندازہ نہیں۔ ۔ ۔ شاید میرے دشمن ہیں ‘‘تحسین نے کہا

ایک جھٹکے سے دروازہ کھلتا ہے اور ایک با ریش مسلح شخص اندر آن دھمکتا ہے

’’سناؤکیسی رہی ؟ ۔ ۔ ۔ فیچر لکھتے ہو۔ ۔ ۔ تحقیقی فیچر۔ ۔ ۔ سمگلنگ میں حکومتی شخصیات ملوث ہیں ، سپاہی سے لے کر آئی جی تک سب کو حصہ ملتا ہے۔ ۔ ۔ معاشرہ کو ان ناسوروں سے پاک کرنا ضروری ہے۔ ۔ ۔ ‘‘

کہہ کر وہ تحسین کی جانب بڑھتا ہے اور انتہائی حقارت سے اپنی آنکھیں اس کے وجود میں گاڑ دیتا ہے۔ بے رحمانہ انداز سے اپنا دایاں پاؤں اُٹھا کر پوری قوت سے اس کے پیٹ پر مارتا ہے تو اس کی چیخ چھت کو پھاڑنے لگتی ہے۔

’’تم کرو گے معاشرہ کو پاک۔ ۔ ۔ تم‘‘

ایک اور پاؤں اس کے سینے پر پڑتا ہے۔

’’ہمیں آئینہ دکھاتے ہو۔ ۔ ۔ ہمیں۔ ۔ ۔ ؟ اپنی منحوس شکل دیکھو‘‘

وہ جیب سے نسوار کی ڈبیا نکالتا ہے اور اس سے چمٹا ہوا آئینہ اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے۔

سارے منظر دھُندلے۔ ۔ ۔ پورا چہرہ خون۔ ۔ ۔ ٹیسوں کو ضبط کر تے ہوئے تحسین نے کہا

’’میرا موبائل فون دو میں گھر بات کرنا چاہتا ہوں ‘‘

’’دیتا ہوں تمھیں فون۔ ۔ ۔ ‘‘

مسلح شخص غصہ سے دھاڑتا ہوا اس کی جانب بڑھتا ہے اور بندوق کا بٹ اس کے سینے پراس شدت سے مارتا ہے کہ اسے اپنی چھاتی کی ہڈیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ درد سے دہرا ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔ مزاحمت چاہے بھی تو نہ کر سکے کہ، وجود میں دم ہی نہیں رہا تھا۔ ۔ ۔ نجم۔ ۔ ۔ اس کی بھی صرف زبان کار آمد تھی اور وہ اس سے کام لیتا رہا

’’مت ظلم کر و اتنا۔ ۔ ۔ خدا سے ڈرو۔ ۔ ۔ اس کے قہر کو آواز مت دو‘‘

’’خاموش ہو جاؤ، دلیہ بنا دوں گا تمھارا۔ ۔ ۔ ‘‘و ہ اس پر چیختا ہے

٭٭٭

          کئی دن گزر گئے۔ ۔ ۔ ان کے زخم مندمل ہونے لگے۔ جو لوگ انھیں اغوا کر کے لائے تھے وہ اب نہیں آتے تھے۔ ۔ ۔ ان کی نگرانی پر دو نوجوان مامور تھے جو انھیں کھانا بھی کھلاتے اور دوسری بدنی حاجات کا بھی خیال رکھتے۔ ۔ ۔ کپڑے تو نئے لا کر نہیں دیے تھے ، البتہ نہانے اور پرانے کپڑوں کو دھونے کے لیے پانی ضرور مہیا کر تے رہے۔ ان کی حالت قدرے بہتر ہوئی تو انھوں نے خدا کے سامنے سجدہ ریز ہونا شروع کر دیا۔ عبادت کر نے لگے۔ ۔ ۔ تب ایک اور وضع کا ظلم شروع ہوا۔ جوں ہی یہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ، ان کے پہرے دار بلند آواز میں گانے لگا دیتے۔ ۔ ۔ یہ منتیں کر تے اور وہ ٹھٹھا مذاق۔ پھر ایک دن پہرے داروں کے ریڈیو پر انھوں نے اپنی گم شدگی کی خبر سنی۔ ۔ ۔ ان کے صحافی دوستوں نے ملک بھر میں ان کی با حفاظت بازیابی کے لیے بھوک ہڑتالی کیمپ اور احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ ریڈیو کی خبروں سے انھیں معلوم ہوا کہ ان کو اغوا ہوئے انتا لیس دن گزر چکے ہیں۔ نوجوان چوکیداروں کو اپنی حماقت کا احساس ہوا تو  انھوں نے فوراً ریڈیو بند کر دیا۔

مگر اب انھیں حوصلہ ہو گیا تھا کہ ان کے صحافی دوست انھیں رہا کر وا لیں گے۔ ۔ ۔ دونوں اپنے بچوں کے لیے فکر مند تو تھے ، مگر اب انھیں اطمینان سا ہو گیا تھا کہ ان کے رفیقِ کاران کا بھی خیال رکھ رہے ہوں گے۔

٭٭٭

          ’’گورنر صاحب سے بات ہو چکی ہے ، وہ کہتے ہیں تحسین اور نجم کے اغوا کو زیادہ نہ اچھا لیں۔ انشاء اللہ وہ برآمد ہو جائیں گے۔ ‘‘

احتجاجی کیمپ پہنچتے ہی پریس کلب کے صدر اور ایکشن کمیٹی کے چیئرمین نے دیگر صحافیوں کو بتایا۔

’’وزیر اعلیٰ نے بھی یقین دہانی کرائی تھی ‘‘ایک صحافی نے کہا

’’وزیر اعظم کی طرف سے دیے گئے ظہرانے میں بھی تو صحافیوں نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا تھا۔ ‘‘

دوسرا صحافی بولا

’’پولیٹیکل ایجنٹ اور وفاقی وزیر داخلہ نے بھی تعاون کر نے کو کہا تھا‘‘

ایکشن کمیٹی کا چیئرمین گویا ہوا

٭٭٭

          کراچی سے لے کر خیبر تک تمام چھوٹے بڑے شہروں میں صحافتی اور سماجی تنظیموں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ خود تحسین کے اخباری مالکان کا رویہ انتہائی حوصلہ افزا رہا۔ ہر سطح پر ان لوگوں نے نہ صرف آواز اٹھائی بل کہ روزانہ اپنے اخبار میں ان کے اغوا سے متعلق خبروں اور مضامین کو نمایاں شائع کر تے رہے۔ اخبار کے ادارتی صفحہ سے وابستہ سینئر صحافیوں نے بھی کالم لکھے۔ ۔ ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ غیرملکی میڈیا پربھی کوریج آئی۔ یقیناً یہ اسی کوریج کا نتیجہ تھا کہ دنیا میں صحافت کی آزادی کے لیے کام کر نے والی تنظیم متحرک ہوئی اور اس نے یہاں آ کر احتجاج کر نے کا فیصلہ کیا۔ اور پھر غیر ملکی صحافیوں کی اس تنظیم کے آنے کا دن مقرر ہو گیا۔ ۔ ۔ قبائل کے ایک گروہ نے بھی اغوا کاروں پر لشکر کشی کا اعلان کیا۔ جس دن سہ پہر کو صحافتی تنظیم کے وفد نے پہنچنا تھا اُسی روز دن کے پہلے پہر وفاقی وزیر اطلاعات نے تحسین اور اس کے ساتھی کی بازیابی کا اعلان کر دیا۔ ۔ ۔ کچھ دیر بعد ٹیلی ویژن پر انھیں دکھایا بھی گیا۔ ۔ ۔ وزیر موصوف نے انکشاف کیا

’’اغوا کار اپنی گرفتاری کے خوف سے گھبرا گئے تھے۔ وہ مغویوں کو دوسرے کسی مقام پر منتقل کرنا چاہتے تھے۔ جب ان کا گزر آبادی سے ہوا تو  وہاں تحسین اور نجم نے شور مچانا شروع کر دیا۔ لوگ بیدار ہو گئے۔ ۔ ۔ اور فائرنگ شروع کر دی۔ اغوا کار گھبرا گئے اور انھیں وہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ ۔ ۔ ‘‘

          تحسین ، اس کے گھر والوں اور صحافیوں کے لیے اتنا ہی بہت تھا کہ وہ زندہ سلامت لوٹ آیا ہے۔ ۔ ۔ پورے باسٹھ دن بعد۔ ۔ ۔ ورنہ یہاں کون سلامت لوٹتا ہے۔

’’پاپا! آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے ؟ ‘‘

ننھی فریال نے پوچھا تو  بے اختیار تحسین کی آنکھوں سے چشمہ جاری ہو گیا۔ ۔ ۔ تب کسی اور نے کوئی سوال نہ کیا۔ ۔ ۔ فہمیدہ نے بھی نہیں ، ماں جی اور اباّ نے بھی نہیں اور شائستہ نے بھی نہیں۔ کسی نے اس سے نہیں کہا کہ اس کے بغیر عید کیسے گزری اور یہ دو ماہ اور دو دن کا عرصہ کتنی صدیوں کو محیط ہوا۔ ۔ ۔

’’اللہ نے فضل کیا۔ ۔ ۔ تحسین لوٹ آیا‘‘

بوڑھے مرزا صاحب، تحسین کے اباّجی سے کہہ رہے تھے۔ ۔ ۔ رشتہ داروں ، دوستوں اور صحافیوں کے چہرے خوشی سے سرخ ہو رہے تھے۔ ۔ ۔ مگر تحسین ابھی تک ان چودہ سو بیاسی گھنٹوں کی گرفت میں تھا جو اس نے اغوا کاروں کے ساتھ گزارے تھے۔ ایک ایک لمحہ سوئی بن کر اس کے احساس میں چبھتا رہا

’’کیا قصور تھا میرا۔ ۔ ۔ سچ لکھنا جرم ہے۔ ۔ ۔ ؟ کیوں مجھے اذیت میں مبتلا کیا گیا۔ ۔ ۔ کیوں میرے دماغ میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔ ۔ ۔ کیوں میرے گھر والوں کی نیندیں حرام کی گئیں۔ ۔ ۔ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں جھوٹ کی حکم رانی ہے اور سچ پاؤں سمیٹے چھپا بیٹھا ہے۔ ۔ ۔ ‘‘

اس نے نفرت سے سوچا مگر اگلے ہی لمحے وہ دفتر جوائن کر نے کا فیصلہ کر چکا تھا۔

    ’’قریشی صاحب! اغوا کار کوئی بھی تھے وہ مجھے سچ لکھنے سے روکنا چاہتے تھے۔ ‘‘

تحسین نے دوسرے صوبہ سے آئے ہوئے ایک صحافی کو بتایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

’’ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

علی ترکی کا سفرنامہ کمپوز کر رہا تھا۔ ۔ ۔ ایک کمپوزر نئے فیچر کا مسودہ دیکھ رہا تھا۔ ۔ ۔

تحسین نے اپنا کمپیوٹر آن کرنا چاہا، مگر اس کی ونڈوز کر پٹ تھی۔ ۔ ۔

٭٭٭