کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بوڑھا درخت

خاور چودھری


ان گنت سالوں سے اپنی بانہیں پسارے ، سر نیہوڑائے وہ زمین میں گڑا ہوا تھا ، زمانوں کی گریز پا گھڑیوں اور لمحوں نے اس کے وجود پر کھردراہٹوں کی داستان رقم کر دی تھی ، ہر نئی ساعت میں اس کے وجود پر ایک لکیر کا اضافہ ہو جاتا اور یہ لکیر کچھ توقف کے بعد گہری شکن میں بدل جاتی۔ پھر یہ شکنیں اس کے وجود کا حصہ بن جاتیں ، اس کی شخصیت کی پہچان ہونے لگتیں۔ دیکھنے والوں نے خیال کیا کہ شاید اس کی جلد ازل سے ہی ایسی ہے ، لکیروں کا لباس اس نے پہلے دن سے ہی پہنا ہوا ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے ، ایسا نہیں تھا۔ اس کا وجود کبھی بہت نازک ، بہت دل کش، بہت خوب صورت تھا اور آج۔ ۔ ۔ آج صدیوں کی تھکاوٹ پہنے وہ زمین میں گویا گڑتا جا رہا تھا، اس کی بانہیں سکڑتی جا رہی تھیں ، اس کی خوشبو گھٹتی جا رہی تھی، اس کی ٹھنڈک مٹتی جا رہی تھی، موسموں کے تغیرات اور لوگوں کی بے اعتنائیوں نے اس سے اس کا اعتبار، اس کا حسن، اس کا دبدبہ، اس کا قد اور خوش بو تک چھین لیے تھے۔ ۔ ۔ اور اب وہ گئی رتوں کی راکھ میں انگلیاں پھیرتے پھیرتے کچھ تھک سا گیا تھا۔ ۔ ۔ بل کہ اکتاہٹ کے نشانات اس کے چہرے پر ثبت ہو گئے تھے۔ وہ کسی اور زمین میں نمو پانے کی خواہش رکھتا تھا۔ بے رُخی اور ستم شعاری پر مائل لوگوں کے پاس اس کے دکھ کو سمجھنے کے لیے کوئی وقت نہیں تھا۔ ہر کوئی اپنی انا کا اسیر ہو کر اپنی زندگی میں مگن تھا۔ ۔ ۔ وہ بھی جن کی موم سی نازک جلد کو اس نے اپنے میٹھے فرحت بخش سایوں میں پروان چڑھایا تھا اور۔ ۔ ۔ وہ بھی جو عمر کا ایک طویل حصہ اس کی چھاؤں میں گزار کر زندگی کی بو قلمونیوں سے آشنا ہوئے تھے۔ بیزاری اور بے دلی کے اس عالم میں تو اس پر اس کے سائے بھی گھٹ رہے تھے ، یوں وہ اپنی ذات کا اعتبار بھی ختم کر چکا تھا۔ کتنے ہی لوگ اس کے ٹھنڈے سایے میں بیٹھ کر خوشیاں سمیٹ گئے اور کتنوں نے جھلساتی دھوپ سے گھبرا کر اس کی میٹھی، ٹھنڈی چھاؤں میں سکھ کا سانس لیا۔ ۔ ۔ اس کا اندازہ ممکن ہی نہیں۔ اس نے کبھی بھی کسی آنے والے کو اپنے سے دُور نہیں رکھا، جو بھی آیا اسے کھلے دل سے اپنی بانہوں میں سمیٹ کر سینے سے چمٹا لیا ، مگر وقت نے دیکھا ، انھی لوگوں نے اس پر پہلا وار کیا جن کو زمانہ کے سرد و گرم سے اس نے محفوظ کیا۔ اتنا محفوظ کہ موسموں کی شدت ان پر اثر انداز ہونے سے قاصر ہو گئی۔ طوفانِ باد و باراں کی سختی بجائے خود ان کے لیے لطف کا باعث ہو گئی۔ ۔ ۔

          او خدایا! ۔ ۔ ۔ آج تیشہ انھی ہاتھوں میں ہے جنھیں پکڑ کر اس نے چلنا سکھایا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ، اب اس کی فریادسننے والا کوئی نہیں ہے ، جلد یا بہ دیرکسی ستم ایجاد کے ہاتھوں اس کی زندگی کا چراغ گل ہو جائے گا۔ ۔ ۔ یا پھر نئی ہوائیں اس کے وجود خستہ کو خس و خاشاک کی مانند اُڑا لے جائیں گی اور یہ نشان چھوڑ کر بھی بے نشان کہلائے گا، مگر پھر بھی۔ ۔ ۔ پھر بھی وہ چاہتا تھا کہ ایک بار ہی سہی، ایک لمحہ کے لیے ہی سہی وہ چلے آئیں جن کی ہریالی میں اس کا خون بہتا تھا۔

          وہ جنھیں کسی اور ہوا نے آ لیا تھا بوڑھے درخت کی زبان کہاں سمجھنے والے تھے ، انھیں تو یہ بھی یاد نہیں رہا تھا کہ ان کی اصل یہی تو ہے جو پکار رہا ہے اور وہ تو  یہ بھی بھول گئے تھے کہ، ان کے تن اور وجود پر بھی ایک دن کھردرے ملبوس نے اُترنا ہے۔ ان کے مضبوط بازوؤں نے سکڑ کر کمزور ہونا ہے ، تنی ہوئی گردن نے ڈھلک جانا ہے اور کھلے سینہ نے اپنے آپ میں سمٹ جانا ہے۔ اور شاید وہ یہ بھی فراموش کر بیٹھے تھے کہ ان کے چھوڑے ہوئے نشانات وجود میں ہو کر بھی معدوم ہو جائیں گے ، بالکل اسی طرح جیسے ان کی موجودگی میں بوڑھا درخت بے نشان تھا۔

          دُور شیشم کے گھنے درختوں میں فاختاؤں کی صدائیں بیدار ہوئیں اور ہوا کے دوش پر سفر کر تے ہوئے آگے نکل گئیں ، کبھی کبھی اس گونج میں لٹورے کی آواز بھی مدغم ہونے لگتی۔ ان دہری آوازوں کی آمیزش نے احمد علی کو ماضی میں دھکیل دیا تھا۔ ایک ایک منظر اس کے دماغ پر رقص کرتا اور پھر خود میں محو ہو کر آنسوؤں کی صورت اس کی پتلیوں تک نکل جاتا۔ اس لمحے وہ بائیں ہونٹ کے کونے کو اپنے بوڑھے دانتوں میں داب لیتا اور ایک کوشش سے اشکوں کو پینے کی دھن میں نکل جاتا۔ ۔ ۔ مگر پھر بھی چہرے پر ثبت دو غاروں کے کونے بھیگ جاتے اور وہ اپنی میلی آستین سے غاروں کے دھانوں کو رگڑ کر اُلجھ بیٹھتا۔ مسلسل رگڑنے کے باعث غاروں کے گردا گرد سرخیوں کے پہاڑ اُٹھتے جا رہے تھے۔ اس نے سوچا کہ اکہتر سال کے طویل عرصہ میں ایک بار بھی تو اس نے کانٹوں کی فصل نہیں بوئی تھی، پھر اس کے تمام کھیتوں میں ہمیشہ کانٹے کیوں اُگتے چلے آئے تھے۔ ۔ ۔ کبھی اس نے میلا منظر نہیں دیکھا تھا پھر اس کی آنکھیں پھوڑے کیوں بن گئیں تھی، کبھی اس نے غیر لمس کو محسوس نہیں کیا پھر اس کی بانہیں شل کیوں ہو گئیں تھی۔ وہ سوچتا گیا اور روتا گیا۔ ۔ ۔ مگر کہیں اسے یہ سراغ نہ مل سکا کہ وہ کن بے ضابطگیوں کا صلہ پا رہا ہے ، کس تخم کی فصل کاٹ رہا ہے ؟ اسے یاد آیا کہ شاہ جہاں پور سے چلنے والا قافلہ آٹھ افراد پر مشتمل تھا، جو منٹگمری تک پہنچتے پہنچتے سکڑ گیا تھا۔ اب ایک وہ اور اس کی بیوہ پھوپھو تھیں۔ ۔ ۔ جنھوں نے زندگی کو نئے سرے سے آغاز کیا۔

          بارہ کا سن ہوتا ہی کیا ہے ، اس عمر میں تو آدمی کو اپنی شناخت تک نہیں ہوتی زمانوں کی خبرداری کیوں کر ممکن ہے۔ اسی سن میں احمد علی نے ایک تھڑا ہوٹل پر کام شروع کیا تھا۔ زندہ رہنے کے لیے جو ضروری تھا وہ اسے وہاں سے مل جاتا۔ اس کی شرافت کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا تھا کہ چار سال بعد ہوٹل کے مالک نے اسے اپنی فرزندی میں لے لیا۔ اور پھر زندگی کی راہ پراس کا سفر رواں دواں ہو گیا۔ ۔ ۔ جوں جوں وقت کینچلی بدلتا گیا احمد علی کے چہرے پر شکنیں بڑھتی گئیں۔ یہ شکنیں اس کے اپنے لیے نہیں تھیں بل کہ ان تینوں کے لیے تھیں جو اس کی تقسیم تھے۔ تینوں کو اس نے بڑی چاہ سے شہر کے مہنگے ترین پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھایا اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے گوروں کے دیس بھیجا۔ دو وہاں ٹھہر گئے۔ ۔ ۔ اور ایک پلٹ آیا۔ اس لیے نہیں کہ اسے احمد علی کی فکر تھی بل کہ اس لیے کہ وہ جس سے وابستہ ہو گیا تھا وہ وہاں رُکنا نہیں چاہتی تھی۔

          اسجد علی سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر مقرر ہو گیا تھا۔ انگریزی ڈگری کے باعث اسے جلد مقبولیت حاصل ہو گئی تھی۔ جب اس کا تبادلہ نسبتاً پسماندہ قصبہ میں ہوا تو  اس کی چاندی ہو گئی۔ دھن اس پریوں برسنے لگا جیسے ساون کا بادل۔ چند ہی سالوں میں اس نے شہر میں سب سے بڑا بنگلہ اور تمام سہولیات سے آراستہ پہلا اسپتال تعمیر کیا۔ سرکاری اسپتال میں تعیناتی کے دوران اس نے خوب اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔ جائز و نا جائز مقدمات میں لوگوں کو اُلجھا کر علاقہ کے سر کر دہ لوگوں کے ساتھ تعلقات بنائے ، ان سے مال بٹورا۔ ۔ ۔ اور پھر خود کو ان جیسا بنانے کے لیے ان کے سانچے میں ڈھال لیا۔ اب اس کے پاس کالے شیشوں والی انٹر کولر اور درجن بھر اعلیٰ نسل کے کتے اور مسلح محافظ ہر وقت موجود رہنے لگے تھے۔ اکلاپے کا مارا احمد علی جو کبھی اس جانب نکل آتا تو  اسجد علی کا توہین آمیز رویہ اس کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتا ، ناچار وہ اپنے گھر لوٹ جاتا۔ ۔ ۔ جو اس نے حلال کا ایک ایک روپیا جمع کر کے بنایا تھا۔ ۔ ۔ وہ گھر جو اسے شاہ جہاں پور کا بدل محسوس ہوتا تھا۔ ۔ ۔ وہ گھر جو اس کے رفیقِ سفر کی یادوں سے مہکتا اور کھلتا تھا۔ ۔ ۔ وہ گھر جہاں اسجد علی پیدا ہوا اور پھر پہلا قدم اُٹھایا۔ ۔ ۔ حتیٰ کہ جوان بھی اسی گھر میں ہوا۔

          پھر ایک رات تیز آندھیاں چلیں۔ ۔ ۔ بوڑھا درخت اپنی جڑوں سے اکھڑ چکا تھا۔ صبح دم لوگوں نے دیکھا تو   نام ور سرجن ڈاکٹر کا باپ اپنی چارپائی کے نیچے تڑپ تڑپ کر دم تو ڑ چکا تھا۔ ۔ ۔ اور جب اس کے بیٹے کو اطلاع دی گئی تو وہ سیکڑوں میل دُور اپنے جاگیر دار دوستوں کے پاس بیٹھ کر کتوں کی عادات پر گفتگو کر رہا تھا۔ ۔ ۔ مگر کتے کی وفاداری کا وصف اس کی آنکھوں سے اوجھل تھا۔

٭٭٭