کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

میں

خاور چودھری


’’صبح بیدار ہوا تو  پہلی نظر وال کلاک پر پڑی۔ 11:45 کا وقت دکھاتے ہوئے گھڑیال کی سوئیوں پر غور کیا تو  وہ جامد تھیں۔ میں نے سوچا گزشتہ رات تو نئی بیٹری ڈالی گئی تھی پھر کیوں اس کی سوئیاں چلنا بھول گئیں۔ موبائل آن کیا تو  سگنل غائب تھے ، البتہ موبائل کی گھڑی 4:53 بجا رہی تھی۔ جلدی سے بستر چھوڑا اور باہر گلی میں نکل آیا۔ گلی کی بہتی نا لیوں میں محلے کے گھروں کے واش رومز سے برآمد ہونے والا مواد شامل ہو رہا تھا۔ کچھ خواتین اپنے گھروں کا کوڑا کر کٹ اپنے دروازوں سے باہر پھینک رہی تھیں۔ ۔ ۔ جس سے ماحول میں مزید تعفن پھیل رہا تھا۔ میں جس وقت گلی سے گزر رہا تھا میرے لیے آزادانہ سانس لینا ناممکن تھا۔ بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا آبادی سے دو میل باہر کھیتوں میں نکل آیا۔

          ابھی پو نہیں پھٹی تھی۔ ارد گرد کی چیزیں پوری طرح واضح نہیں دکھائی دے رہی تھیں۔ میں چلتے چلتے گندم کے کھیتوں کے قریب پہنچ گیا۔ ۔ ۔ مگر اب بھی گلی کا بدبو دار ماحول میرے نتھنوں کو چیر رہا تھا۔ اوس میں ڈوبے ہوئے گندم کے کھیتوں کو دیکھ کر مجھے قدرے راحت محسوس ہوئی ، البتہ ایک پگ ڈنڈی پر چلتے ہوئے اچانک جب میرے پاؤں سے کوئی چیز ٹکر ائی تو فطرتاً میں نے ٹھوکر میں آنے والے چیز کو دیکھا۔ یہ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے زہر کی خالی بوتل تھی۔ میں نے سوچا کسی کسان نے کھیتوں پر اسپرے کر کے بوتل یہیں پھینک دی ہو گی۔ چند قدم اور بڑھائے تو مزید کچھ بوتلیں نظر آئیں۔ مجھے کسانوں کی اس لاپروائی پر سخت افسوس ہوا۔ ان زہر آلود خالی بوتلوں کو یوں راستے میں چھوڑ دینا مجھے بہت بُرا لگا۔

          صبح کی اذانیں گونجنے لگی تھیں۔ مؤذن سونے والوں کو اُٹھ کر عبادت کی ترغیب دلا رہے تھے۔ میں اس معمول کی چہل قدمی سے واپس سیدھا محلہ کی جامع مسجد کی طرف لوٹا۔ محلے کی گلیوں میں ابھی تک تعفن کا راج تھا۔ مسجد میں وضو بنانے کے لیے استنجا خانہ میں داخل ہوا تو  یہاں بھی بدبو نے میری ناک چیر کر رکھ دی۔ خود پر ضبط کر کے وضو کیا اور جوتیاں ہاتھ میں اُٹھا کر مسجد کے اندر داخل ہو گیا۔ کہ، اس سے پہلے ایک بار اپنی جوتیاں گنوا بیٹھا تھا۔ امام صاحب نے نہایت اہتمام اور قرأت کی پابندی کے ساتھ نماز میں سورۂ رحمٰن کی مقفیٰ آیات تلاوت کیں۔ نماز کے بعد مختصر وعظ میں انھوں نے ان آیات سمیت دیگر کچھ آیتو ں کا ترجمہ بھی پڑھ کر سنایا۔ ۔ ۔ جن میں قول و فعل کے تضاد کے حوالے سے تنبیہ کی گئی ہے۔ کچھ باتیں گرہ میں باندھ لیں۔ ۔ ۔ کچھ کانوں سے سرک گئیں۔ گھر آیا تو  خاتون خانہ ناشتا تیار کر رہی تھیں۔

خاتون خانہ سے شکایت کی کہ ، آج کیوں ناشتا بنانے میں دیر کر دی ہے ؟ تو جواب ملا

’’آپ باہر گئے تو چند منٹ بعد بجلی غائب ہو گئی۔ سوئی گیس کے لگے پائپوں سے ہوا برآمد ہو رہی تھی۔ ماچس کی پوری ڈبیا جلا چکنے کے بعد تو کہیں جا کر چولھا روشن ہوا۔ ‘‘

خیر۔ ۔ ۔ لقمہ توڑ کر منہ میں ڈالا تو عجیب سی بو سانسوں میں اٹک گئی۔ خاتون خانہ سے پوچھا

پکانے میں کوئی کسرتو نہیں رہ گئی؟ جواب ملا

’’اس بار جو آٹا آیا ہے اسے پکاتے ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے باسی ٹکڑوں کو پیس کر بنایا گیا ہو۔ ‘‘

چائے کا گھونٹ بھرا تو  ذائقہ ایسا جیسے کوئی کیمیائی محلول گلے سے اُتر کر اس کی ساخت کو کھرچ رہا ہو۔

خاتون خانہ سے پوچھا کیا چائے کا برانڈ بدل لیا ہے ؟ جواب ملا

 ’’نہیں ، دودھ سے بُو آ رہی ہے۔ گوالے سے شکایت کی تھی۔ وہ کہتا ہے ان دنوں بھینسوں کو گوبھی کے پتے ڈال رہے ہیں ، اس وجہ سے شاید کچھ اثر آیا ہے۔ ذائقہ کے عادی ہو گئے تو بُو نہیں آئے گی۔ ‘‘

مجھے وہ رپورٹ یاد آئی جس میں بتایا گیا تھا کہ چائے کی پتی میں جان وروں کا خون ملایا جاتا ہے ، چنوں کے چھلکوں پر رنگ چڑھا کر بیچا جاتا ہے۔ معروف برانڈز کے خالی ڈبوں میں خود ساختہ چائے ڈال کر بیچی جاتی ہے۔ میں نے وال کلاک پر نظر ڈالی وہ وہیں رُکا ہوا تھا۔ قدرے جلد بازی سے لباس تبدیل کیا اور محلے کی بدبو دار گلیوں سے نکل کر ویگن اسٹاپ پر آ گیا۔ وین کی سامنے والی نشست خالی تھی۔ میں ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔ گاڑی کے ہیلپر نے مجھ سے پوچھا

’’کیا نہیں جانا؟ ‘‘

جانا تو  ہے لیکن خواتین کے لیے مخصوص نشست پر کیسے بیٹھوں ؟

۔ ۔ ۔ میں نے کہا تو  گاڑی میں موجود سبھی لوگ میری جانب دیکھ کر  مسکرا دیے۔ ایک ادھیڑ عمر شخص اپنی نشست سے اُتر کر نیچے آ گیا۔ اس کے ساتھ ایک جواں عمر شخص بھی تھا۔ دونوں نے فرنٹ سیٹ سنبھال لی۔ میں ان کی خالی کر دہ نشستوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا۔ اگر ہیلپر کو انسان سمجھ کر دیکھا جائے تو نشستیں مکمل ہو چکی تھیں۔ ۔ ۔ مگر نہیں ، ڈرائیور کے حساب سے ایک سیٹ خالی تھی۔ قریباً آدھ گھنٹہ انتظار کے بعد دو مسافر آ گئے۔ ۔ ۔ اب ایک کو تو سیٹ پر بٹھا لیا گیا اور دوسرا وین کے اندر کھڑا ہو گیا۔ اس کھڑے ہوئے شخص کی وجہ سے پورا سفر عذاب بن کر اُترا۔

 ’’کیوں بھائی! دو روپے زیادہ کیوں کاٹ لیے ، ڈیزل کی قیمت کم ہوئی ہے بڑھی تو نہیں ، ،

ایک مسافر کی آواز آئی۔ ہیلپر نے اسے جواب دینا ضروری نہ سمجھتے ہوئے ڈرائیور سے کہا ایک طرف گاڑی روکے اور احتجاج کر نے والے کو اُتار دے۔ سب خاموش تھے۔ ۔ ۔ کسی نے بھی احتجاج کر نے والے کا ساتھ نہ دیا اور دو روپے زائد کے حساب سے سب نے خود بھی کر ایہ ادا کیا۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ ۔ ۔ دفتر پہنچا تو ب اور دی گارڈ ’’ری پیٹرگن‘‘ اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان دابے اونگھ بل کہ، سو رہا تھا۔ اسے سلام کیا تو  وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے پوچھا کیوں بھائی رات کو سوئے نہیں ؟ ۔ ۔ ۔ کہنے لگا

’’کیا بتائے صیب، یہ کومپنی والا ہے ناں ! دو دو ڈپٹیاں لیتا ہے۔ رات کو ایک سیٹھ کے بنگلے پر جاتا ہے۔ سیٹھ لوگ کم بخت پارٹیوں پرجاتا ہے اور دیر سے آتا ہے ، اس لیے اَم سو نہیں سکتا ہے۔ صبح امارا ’’ری لیور‘‘ آتا ہے تو اَم یہاں آ جاتا ہے۔ ‘‘

 میں نے اس سے پوچھا کیا تمھاری کمپنی تم سے زبردستی دو  ڈیوٹیاں کراتی ہے ؟ کہنے لگا

’’نہیں صیب، پہلے اَم کاری لیور نہیں آتا تھا، تو زبردستی کرتا تھا۔ ۔ ۔ اب اَم خود ڈبل ڈپٹی کرتا ہے۔ صیب تم تو جانتا ہے مہنگائی کتنا ہو گیا ہے ، گذر مشکل ہے۔ ‘‘

          میں اس کی باتیں سن کر سوچنے لگا یہ محافظ ہے جو خود مسائل کا شکار ہے۔ دفتر کا چپڑاسی ابھی نہیں آیا تھا۔ میں نے ’’ڈسٹر‘‘ اُٹھایا۔ ۔ ۔ اپنی میز اور کر سی صاف کر کے بیٹھ گیا۔ مجھ سے آدھ گھنٹہ بعدچپڑاسی آیا تو  میرے پوچھنے پر ہمیشہ کی طرح کہنے لگا

’’ سر! آپ کے علاوہ سبھی لوگ تو دس کے بعد آتے ہیں اور بڑے صاحب۔ ۔ ۔ وہ تو بارہ بجے سے پہلے کبھی آئے نہیں۔ پھر میں اتنی صبح آ کر کیا کروں۔ ‘‘

لیکن تمھیں تو صبح ساڑھے آٹھ بجے یہاں ہونا چاہیے۔ بجائے میری بات کا جواب دینے کے چپڑاسی

’’بڑے صاحب کا کمرہ صاف کرتا ہوں ‘‘ کہہ کر چلا گیا۔

          ’’نہیں صدیقی صاحب نہیں ، آج یہ کام نہیں ہو سکے گا، صاحب دن بھر دفتر میں موجود ہوتے ہیں۔ پھر کسی روز میں خود فون کر کے آپ کو بتاؤں گا۔ ‘‘

میرا ’’کولیگ ‘‘اپنے سیلولر  پر کسی کو یہ کہتے ہوئے دفتر میں داخل ہوتا ہے۔ ہماری نظریں چار ہوتی ہیں ، رسماً ایک دوسرے کا حال پوچھتے ہیں۔ میرا کولیگ کہتا ہے

 ’’ماڈل ٹاؤن جب سے شفٹ ہوئے ہیں ، دفتر کا راستہ لمبا ہو گیا ہے ، اب اپنی گاڑی سے بھی دیر ہو جاتی ہے۔ ‘‘

میں اسے کوئی جواب نہیں دیتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں میرا کولیگ مجھ سے جونئرہے اور اس کی تنخواہ بھی مجھ سے کم ہے۔ میں ابھی تک اپنے اباکے مکان میں رہتا ہوں ، مگر اس نے ماڈل ٹاؤن میں کوٹھی بنا لی ہے ، نئی گاڑی خرید لی ہے ، اس کے بچے مہنگے پبلک اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ خیر! کام شروع ہوتا ہے۔ لوگ آتے جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو میں ہینڈل کرتا ہوں اور کچھ کو میرا کولیگ۔ ۔ ۔ مگر بیچ بیچ میں وہ آنے والوں کو لے کر باہر نکل جاتا ہے ، ان سے ’’معاملہ‘‘ کرتا اور واپس آ جاتا ہے۔

 اب چھٹی کا وقت ہو گیا ہے۔ میرا ساتھی دن بھرکی ’’کمائی ‘‘کو اپنے بٹوہ میں سلیقہ سے رکھتا ہے اور مجھے مخاطب کر کے کہتا ہے

 ’’کیا کریں جناب! اتنی مہنگائی میں تنخواہ پر گزران مشکل ہے۔ ویسے لوگ خوشی سے دیتے ہیں ، میں زبردستی تو نہیں لیتا۔ ‘‘

          وہ اپنے کوٹ کی جیب سے نئے ماڈل گاڑی کی چابیاں نکال کر اس انداز سے اُچھالتا ہے جیسے کوئی باؤلر گیند پھینکے سے پہلے اُچھالتا ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے رسمی جملے کہہ کر جدا ہو جاتے ہیں۔

میں سوچتا ہوں لوگ اپنے حق کے لیے خوشی سے رشوت کیوں دیتے ہیں ؟ ۔ ۔ ۔ میں سوچتا ہوں کیا میں اس مہنگائی سے متاثر نہیں ہوا ہوں ؟

          میں اسٹاپ پر کھڑا بس کا انتظار کرتا ہوں۔ کچھ لوگ اور بھی اپنے ٹھکانوں کو لوٹنے کے لیے گاڑیوں کے منتظر ہیں۔ کچھ ماڈرن ٹائپ نوجوان اپنے مخصوص انداز سے سٹاپ پر کھڑی ’’ورکنگ وومنز‘‘ کو تاک رہے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی قصاب بکر ے کو دیکھ رہا ہو۔ میں سوچتا ہوں کیا ان لوگوں کا کسی عورت سے کوئی رشتہ نہیں۔ اِن کی طرف مائیں ، بہنیں ، بیویاں اور بیٹیاں نہیں ہوتیں۔ اتنے میں ہمارے پاس سے ایک شخص ’’مالش‘‘ کی صدا بلند کر تے اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی تیل کی نصف درجن بوتلوں کو کھڑکاتے ہوئے گزرتا ہے۔ میری آنکھوں کے سامنے ریلوے اسٹیشنوں اور بڑے بس اڈوں کا منظر آ جاتا ہے ، جہاں اس طرح کے مالشی گھر سے بھاگ کر آنے والے کم سنوں کے شکار میں رہتے ہیں۔ ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کر تے ہیں ، انہیں نشے کی لت ڈالتے ہیں ، جوئے اور ڈکیتی کے طریقے سکھاتے ہیں ، معاشرے میں بدامنی پھیلانے کے گُر سکھاتے ہیں۔ اگلے ہی لمحے میرے دماغ میں سرسراہٹ ہوتی ہے اور مجھے خیال آتا ہے یہ کم سن بچے اپنے گھروں سے بھاگتے ہی کیوں ہیں ؟ پھر میری آنکھوں میں کئی ایسے منظر گھوم جاتے ہیں ، جہاں والدین اپنے بچوں کا استحصال کر تے ہیں۔ کبھی ’’ایموشنل بلیک میلنگ ‘‘کے ذریعے۔ ۔ ۔ تو  کبھی کسی اور طرح سے۔ ۔ ۔

سوچیں بڑھتی جاتی ہیں ، باتیں کھُلتی جاتی ہیں۔ گاڑی میں بیٹھتا ہوں تو آدمی میں آدمی گڑے ہوئے ہوں جیسے۔ ۔ ۔ سانس لینا بھی محال ہو جاتا ہے۔ اپنے اُوپر چھتری کی مانند پھیلے ہوئے بے سلیقہ لوگوں کو دیکھتا ہوں تو  دماغ کی رگیں چٹخ جاتی ہیں۔ سفرکی مشقت جھیلنے کے بعد جب اسٹاپ پر اُترتا ہوں تو میرے پڑوسی منشی صاحب بھی موجود ہیں۔ انھوں نے ہاتھوں میں موسمی پھلوں اور سبزیوں کے تھیلے پکڑ رکھے ہیں۔ کہتے ہیں

 ’’ کیا بتاؤں جناب ! ہر چیز کو آگ لگی ہوئی ہے۔ قیمتوں کی بڑھوتری تو ایک طرف معیار کا بھی ناس مارا گیا۔ ‘‘

میں نے سوچا کارخانے دار اپنی بنائی گئی مصنوعات سے زیادہ نفع کمانے کے لیے کوالٹی کنٹرول پر توجہ نہیں دیتے۔ پھر ہر چیز کی نقل اس کے ساتھ ہی تیار ہو کر مارکیٹ میں آ جاتی ہے۔ دودھ والا اگر پانی ملاتا ہے تو چائے والا خون اور پٹرول والا مٹی کا تیل ، قصاب گوشت میں پانی ڈال کر اس کا وزن بڑھاتا ہے ، سبزی والا باسی سبزیاں فروخت کرتا ہے ، محافظ سو جاتا ہے اور چپڑاسی وقت پر آنا توہین سمجھتا ہے ، صاحب لوگوں کے آنے کا کوئی وقت نہیں ، ملازمین کا رشوت لینا ضروری ہے۔ ۔ ۔ ورنہ مہنگائی کا مقابلہ نہیں ہو سکتا ، گاڑیوں میں انسانوں پر سوار ہو کر سفر کرنا ناگزیر ہے ورنہ زندگی کی گاڑی بھی چھوٹ سکتی ہے۔

     سوچوں کے انبار تلے دبا ہوا گھرکی دہلیز پار کرتا ہوں تو خاتون خانہ کے کھانسنے کی آواز استقبال کرتی ہے۔ میں پوچھتا ہوں ، نیک بخت کیا دوا نہیں لی ؟ جواب ملتا ہے

’’ کئی دوائیں بدل چکی ہوں ، مگر کھانسی ہے کہ جا کے ہی نہیں دیتی۔ ‘‘

مجھے ایک اخباری رپورٹ یاد آ جاتی ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت تقریباً ہر دوا کی دو نمبر موجود ہے۔ بل کہ کئی دو نمبر ادویات ساز باقاعدہ حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہیں اور اپنے ٹریڈ مارک سے دوائیں فروخت کر رہے ہیں۔ مجھے وہ رپورٹ یاد آئی جس میں اس مسیحا نما قصاب کے چہرے سے پردہ کھینچا گیا تھا جو دوا ساز کمپنی سے معاہدے کی بنا پر ہر مریض کو اس کا سیرپ بیچتا تھا۔ سردرد، بدن درد، کھانسی، جوڑوں کا درد پیٹ کا درد، دل کا درد، غرض تکلیف کوئی بھی ہو، مریض کسی بھی عمر کا ہو اسے یہ سیرپ پینا پڑتا تھا۔ میں نے سوچا کیا وہ ادارے سوئے ہوئے ہیں جنھیں ’’کوالٹی کنٹرول‘‘ کے شعبوں کی نگرانی پر مامور کیا گیا ہے۔ سیکرٹری ہیلتھ اور وزیر صحت کیا کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ ؟ پھر مجھے خیال آیا ان لوگوں نے ملک کے سیون اسٹار ہوٹلوں میں نہایت اہم موضوعات پر ہونے والے سیمینارز اور سمپوزیمز میں شریک ہونا ہے۔ اور پھر میری آنکھوں کے سامنے ، تعلیم، مواصلات، اطلاعات، خزانہ، دفاع ، خارجہ، داخلہ کے سیکرٹریوں اور وزرا کی مصروفیات کا منظر آیا۔ ہر ہر شخص درجنوں کیمرہ مینوں اور سیکڑوں صحافیوں کو اپنے سامنے بٹھا کر مستقبل کی حکمت عملیوں اور اپنی کام یابیوں کے بارے میں بتا رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ پرمٹوں ، پلاٹوں اور ٹھیکوں کے حصول کے لیے سیاست دانوں کی لمبی قطار تھی۔ ہر کوئی اپنے نفع کے لیے قومی سرمایے پر قبضہ کر رہا تھا، اسے لٹا رہا تھا۔ تب اچانک مجھے وزیر اعظم اور صدر کے ہنگامی دورے نظر آئے۔ ان کے وفود میں شامل وزرا، سیکرٹری، دیگر اہل کار اور ان کی بیگمات شان و شوکت سے غیر ملکی دورے کر تے ہیں۔ ۔ ۔ اربوں روپے اُڑاتے ہیں ، لوٹ آتے ہیں اور اپنے دوروں کی کام یابی کی نوید سناتے ہیں۔ خوش حالی کا راگ الاپتے ہیں۔ انھیں غربت اور بے کاری کے ہاتھوں جھلس جانے والے چہرے نہیں دکھائی دیتے۔ ۔ ۔ محرومیوں اور بے بسیوں میں گھرے ہوئے لوگ ان کی آنکھوں سے اوجھل رہتے ہیں۔

          خاتون خانہ میرے سامنے کھانا چن رہی ہیں۔ میں ایک نوالہ توڑ کر منہ کے قریب لے جاتا ہوں۔ روٹی سے وہی صبح والی بُو آ رہی ہے۔ ۔ ۔ مگر میں بھوکا ہوں۔ پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے مجھے یہی کھانا ہے۔ میں عشا کی نماز پڑھنے کے لیے اپنے گھر سے پاؤں باہر نکالتا ہوں تو گلی میں پھیلی ہوئی بدبو میرے نفس کو قتل کرتی ہے ، مگر مجھے نماز بہ ہر حال پڑھنی ہے۔ مسجد کے اندر داخل ہوتے ہوئے اپنے جوتوں کو ہاتھ میں اٹھائے چل رہا ہوں کہ مسجد سے جوتے چوری ہو جاتے ہیں۔ امام صاحب سورۂ یوسف کی کچھ آیات تلاوت کر تے ہیں۔ نماز مکمل ہوتی ہے۔ ۔ ۔ میرا سر جھکا ہوا ہے اور میرے دماغ پروہ واقعات روشن ہو رہے ہیں ، جو گزشتہ چند برسوں میں رونما ہوتے آ رہے ہیں۔ ۔ ۔ معبدوں میں نماز پڑھتے ہوئے بھائیوں نے بھائیوں کو بارود سے اُڑا دیا۔ میں یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو یاد کرتا ہوں۔ ۔ ۔ تاریخ کے کئی ورق چند ساعتوں میں میرے سامنے کھل جاتے ہیں۔ میں گھر آتا ہوں ، خاتون خانہ سے کچھ امور پر گفتگو ہوتی ہے اور آنے والے کل کے استقبال کے لیے تازہ دم ہونا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ اور سو جاتا ہوں۔

میرا آئندہ دن بھی اسی طرح گزرے گا جیسا کہ آج گزرا ہے۔ ‘‘

          ’’میں ‘‘کی کہانی ختم ہوئی تو میں نے سوچا ’’میں ‘‘کی یہ باتیں سن کر معلوم ہوتا ہے جیسے ملک کے اندر بہ جز اس کے کوئی اور نیک نہیں ، کوئی اور صاحب کر دار ، دیانت دار ، امین اور وفاپرست نہیں۔ میرے ذہن میں اپنا ایک شعر تازہ ہوا                  ؂

سب کے ہاتھوں میں آئنہ دے دو

سچ تو  مشکل ہے کون بولے گا

میں نے ’’میں ‘‘کے ہاتھ میں آئینہ دیا۔ ۔ ۔ آئینے کی کر چیاں چاروں اور بکھری پڑی تھیں۔

 

٭٭٭