کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دقیانوسیت

خاور چودھری


’’ہر بات کی حد ہوتی ہے۔ ۔ ۔ جب تم یوں ہی بے دھیانی کو اوڑھنا بچھونا بنا لو گے تو  جینا مشکل ہو جائے گا‘‘

اماّں بی نے اوندھے منہ پڑے علی احسن سے کہا تو  وہ تکیہ ایک طرف اُچھالتے ہوئے ایک دم سے اُٹھا اور انھیں اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا۔ ۔ ۔

’’چل ہٹ! ۔ ۔ ۔ اب خوشامدیں نہ کر ‘‘

’’تو کیا اپنی پیاری سی امّاں بی سے محبت کرنا خوشامد ہے ؟ ‘‘

’’اچھا اچھا۔ ۔ ۔ چھوڑ مجھے اور جلدی سے تیار ہو کر نیچے آ جا۔ ۔ ۔ سب تمھارا انتظار کر رہے ہیں ‘‘

’’جی آپ چلیے۔ ۔ ۔ میں آیا‘‘

سلطانہ ڈھیلے قدموں واپس لوٹ آئیں۔ ۔ ۔ ماربل کی چکنی سیڑھیوں سے اُترنا ان کے لیے پل صراط طے کر نے سے کسی بھی طرح کم نہیں تھا۔ ۔ ۔ سیڑھیوں کے ساتھ لگے ہوئے آہنی پائپ کو اگر پکڑ نہ رکھیں تو ایک سیڑھی نہ اُتر سکیں۔ ۔ ۔ ہال میں لگے فانوس کی سارے بلب روشن تھے۔ ۔ ۔ ٹی وی بھی چل رہا تھا۔ ۔ ۔ باہر لان میں فوارہ بھی اپنے جوبن پرتھا۔ ۔ ۔ لان کے چاروں اور گنبد نما بلبوں نے رات کو دن میں بدل رکھا تھا۔ ۔ ۔ مین گیٹ کے اُوپر دونوں جانب تیز روشنی والے بلب ضیا تابی کا عنواں بنے ہوئے تھے۔ جب وہ حمنہ کے کمرے کے قریب سے گزر رہی تھیں تو وہ اپنے کمپیوٹر پر کسی سے وائس چیٹنگ میں مصروف تھی۔ ۔ ۔ ایئر کنڈیشن آن تھا مگر۔ ۔ ۔ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔

’’کس قدر لا پروا اور بے دھیان ہے یہ مخلوق؟ ‘‘

سلطانہ نے خود کلامی کی۔ ۔ ۔ ٹہلتے ٹہلتے وہ صحن تک آ گئی جہاں ریٹائرڈ پروفیسر عبد الصمد اپنے چاروں بیٹوں اور بہو کے ساتھ پہلے سے بیٹھے تھے۔

’’میاں صاحب زادے نہیں آئے آپ کے ساتھ؟ ‘‘

پروفیسر صاحب نے سلطانہ سے پوچھا۔ ۔ ۔ مگر وہ خاموش رہیں

’’اَجی ہم سے کیا بھول ہو گئی جو جناب کا مزاج نا آشنا ہو گیا ہے ؟ ‘‘

عبدالصمد نے اپنی بیگم کو کچھ مضطرب دیکھ کر کہا

’’پروفیسر صاحب! یہ سب کیا دھرا آپ کا ہے۔ ۔ ۔ اچھی گزر رہی تھی گاؤں میں ، مگر آپ کی ضد ہمیں یہاں لے آئی۔ ۔ ۔ نہ کوئی ادب آداب ہی سیکھ پایا ہے اور نہ ہی نفع نقصان کی پروا ہے کسی کو۔ ۔ ۔ میں پوچھتی ہوں ہزاروں یونٹ بجلی ضائع کر نے کی کیا ضرورت ہے ؟ بہو رانی آپ کے پہلو میں بیٹھی ہیں ، مگر ان کے کمرے کا ایئر کنڈیشن اور بلب بے کار چل رہے ہیں۔ ۔ ۔ حمنہ اور علی احسن کے کمروں کا بھی یہی عالم ہے۔ کوریڈور اور ہال سمیت صحن کی حالت بھی مختلف نہیں ہے۔ ۔ ۔ ‘‘

’’بجا ارشاد فرمایا آپ نے۔ ۔ ۔ ہم نے اس بٹا لین کا انچارج آپ کو بنا دیا تھا، تو یہ آپ کی ذمہ داری تھی کہ سپاہیوں سے مناسب کام لیتیں۔ ‘‘

شرارت کے سے انداز میں پروفیسر صاحب گویا ہوئے تو سلطانہ بیگم کو جیسے موقع مل گیا ہو۔ ۔ ۔ وار کر نے کے لیے

’’خوب سمجھتی ہوں آپ کو۔ ۔ ۔ آپ کی بٹا لین کو۔ ۔ ۔ کہے دیتی ہوں اب مجھ سے مزید یہ چونچلے برداشت نہیں ہوں گے۔ ۔ ۔ سیدھی طرح سے اپنی عادتیں بدل ڈالیے ، ورنہ میں بھائی صاحب کے ہاں گاؤں لوٹ جاؤں گی۔ ‘‘

فیصلہ کن انداز سے جب انھوں نے کہا تو  سب نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔ بہو نے گھبراتے ہوئے کہا

’’امّاں بی! بس آخری موقع دے دیں۔ ۔ ۔ ان شاء اللہ کل سے ویسا ہی ہو گا جیسا آپ چاہتی ہیں۔ ‘‘

تب تک سلطانہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ چکی تھیں۔

’’ٹھیک کہتی ہیں سلطانہ بیگم۔ ۔ ۔ بجلی کم خرچ ہو گی تو بل بھی کم آئے گا اور بچنے والی رقم کہیں اور کام آئے گی‘‘

پروفیسر صاحب نے سمجھانے کے انداز میں کہا

’’مگر اباّ جی صرف ہمارے گھر میں یوں نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ پورے بلاک پر نظر ڈالیے ہر بنگلے کی یہی کیفیت ہے۔ ۔ ۔ آپ بھی امّاں بھی کا ساتھ دے رہے ہیں ‘‘

علی محسن نے قدرے ترشی سے کہا تو  عبد الصمد نے فکر مند نظروں سے اُسے گھورا

’’اباّجی بل ہم دیتے ہیں۔ ۔ ۔ کماتے ہم ہیں ، پھر آپ لوگوں کو فکر مند ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟ ‘‘

پروفیسر صاحب بیٹے کی با تو ں سے دُکھی ہو گئے تھے۔ ۔ ۔ مگر انھوں نے خود پر ضبط کر تے ہوئے کہا

’’بیٹا! ہم دونوں تو تمھارے ہی بھلے کا سوچتے ہیں۔ ۔ ۔ ایک بات یاد رکھو! بھرا کنواں بھی سوکھ جایا کرتا ہے ‘‘

’’ہوتا ہو گا اس طرح بھی۔ ۔ ۔ مگر یہ سب اس دور کی ضرورتیں ہیں ‘‘

پروفیسر عبدالصمد کے دماغ میں ایک حقیقی کر دار روشن ہو رہا تھا۔ ۔ ۔ وہ اپنے بیٹوں کو بھی چونتیس سال اُدھر لے گئے۔

          ’’جھریوں بھرے چہرے پر دو آنکھیں یوں وا ہوتی تھیں۔ ۔ ۔ جیسے تاریک غاروں کے دہانے سے بھاری سلوں کو سرکایا جا رہا ہو۔ زبان میں لکنت بھی آخری حد کو چھو چکی تھی۔ بل کہ یوں تھا کہ منہ میں دانت نہ ہونے کے باعث بات ہی ٹھیک طرح سے نہیں ہو سکتی تھی۔ اپنی طرف سے پوری قوت کے ساتھ بات کہی جاتی۔ ۔ ۔ مگر سننے والے کو ہمہ تن گوش سے بھی کچھ زیادہ ہونا پڑتا۔ اُدھر بھی یہی عالم تھا، اِدھر سے بات ہوتی تو ایک کان کے ساتھ ہتھیلی کی دیوار بنا کر دوسرے کان پر ہاتھ رکھا جاتا۔ اچھا خاصا چیخنے کی مشق کر نے کے بعد وہاں بات پہنچتی۔ اُوپر سے کمر کا خم بھی اپنی جگہ موجود تھا۔

          یہ تھیں مائی فضیلت! شادی کے بعد ایک بیٹے کی ماں بنیں اور جوانی میں بیوگی کی چادر اوڑھ کر بیٹھ رہیں ، اللہ جانے کیوں۔ ۔ ۔ ؟ اسّی کی دہائی میں ہم ان کے پڑوسی بنے۔ بیٹا ان کا کسی عرب ملک میں بڑھئی کا کام کرتا تھا اور اِدھر بہو اور دو پوتیوں کی موجودگی کے باوجود بھی اپنا کھاتی پکاتیں۔ اسّی کے سن سے بہ ہر حال متجاوز تھیں۔ ہماری طرف آ جایا کرتیں اور پھر اپنی عمر بھر کے تجربات سے آگاہ کرتیں۔ ان کی باتیں اب جو یاد آتی ہیں تو  احساس ہوتا ہے کس قدر حقیقت پسند خاتون تھیں۔ خواجہ رحمت اللہ جری کا یہ شعر   ؂

جب بڑھاپے کا موڑ ملتا ہے

تجربوں کا نچوڑ ملتا ہے

ان پر صادق آتا تھا۔ نصف کنال کے قریب صحن میں مائی فضیلت موسموں کی سبزیاں اُگایا کرتی تھیں۔ بازاری آٹے سے انھیں سخت اذیت ہوتی تھی۔ اپنے ہاتھوں سے گھر میں پڑی چکی میں گندم کے دانے ڈالتی جاتیں اور جتنے وظائف یاد ہوتے ، ساتھ ساتھ پڑھتی رہتیں۔ مائی کا کہنا تھا جو عورتیں رزق کو بے وضو ہاتھ لگاتی ہیں یا پھر پکاتے وقت اللہ کو یاد نہیں رکھتیں ان کے ہاتھوں میں لذت نہیں آتی۔ قدرت ان کے ہاتھوں سے ذائقہ چھین لیتی ہے۔ وہ ہر لقمہ منہ میں ڈالنے سے پہلے ’’بسم اللہ‘‘ اور جب حلق سے اُتر جاتا تو  ’’الحمد للہ‘‘ کہتیں۔ وہ بازاری کھانوں اور سبزیوں پر اُٹھنے والے خرچ کو اسراف کا عنوان دیتیں۔ مائی کا خیال تھا جو لوگ صبح، دوپہر، شام کپڑے بدلتے ہیں اور خوامخواہ کی تیاریوں میں جُتے رہتے ہیں وہ حق داروں کا حق مارتے ہیں ، ضرورت مندوں پر ظلم کر تے ہیں۔ مائی کی کل ماہانہ آمدن ڈیڑھ سو روپے تھی، جو انھیں مکان کے کر ایہ کی مد میں آتی تھی۔ اسی رقم سے وہ اپنا چولھا گرم رکھتیں اور کچھ پس انداز بھی کر لیتیں۔ پائی پائی جوڑ کر مائی نے مکہ اور مدینہ بھی دیکھے۔ ۔ ۔ حج کی سعادت بھی حاصل کی۔

           کمرے میں انھوں نے چا لیس واٹ کا بلب اس انداز سے لگوایا تھا کہ وہ بہ یک وقت کمرے اور صحن کو روشن رکھتا۔ مغرب سے عشا اور پھر صبح کی نماز کے لیے بلب روشن ہوتا۔ ۔ ۔ باقی وقت میں بجھا رہتا۔ گرمیوں میں مائی کے کمرے کا پنکھا صرف دوپہر کو چلتا اور اگر رات میں گرمی بہت زیادہ ہوتی تو چلا دی اور نہ چارپائی صحن میں ڈال کر اس پر ’’مچھر دانی‘‘ تان لی جاتی اور چادر کو پانی سے بھگو کر اپنے پاس رکھ لیا جاتا۔ جب جب گرمی محسوس ہوتی ، چادر سے ٹھنڈ حاصل کی جاتی۔ وہ پانی کے زیادہ استعمال پربھی ناراض ہوتی تھیں۔ ایک بار ہمارے گھرکی ٹینکی سے پانی چھلکتا دیکھا تو  کہا

 ’’نعمتیں جب اس طرح ضائع کی جائیں تو اللہ ناراض ہو کر ان میں کمی کر دیتا ہے۔ یاد کر و ان لوگوں کو جو اُن جوہڑوں سے پانی پیتے ہیں جہاں سے جانور بھی پیتے ہیں۔ ‘‘

مائی کا خیال تھا جن عورتوں کے تین سے زائد جوڑی کپڑے ہیں ان سے قیامت کے دن پوچھ ہو گی کہ، انھوں نے فضول خرچی کیوں کی۔ سُرخی پاؤڈر کی لیپا پوتی کر نے والیاں تو  انھیں ایک آنکھ نہیں بھاتی تھیں۔ مائی کہتیں

’’یہ اشیا ان عورتوں کے لیے جہنم کی آگ ثابت ہوں گی۔ ‘‘

ایک بارہمارے گھر میں ان سے کسی نے پوچھ لیامائی دوسری شادی کیوں نہیں کی؟ تو ان کاجواب تھا۔

 ’’کم زورتھی، سوچتی تھی اگر کسی دوسرے شخص سے بول پڑھا لیے تو کہیں یتیم کی حق تلفی نہ ہو جائے۔ ۔ ۔ یتیم کامال دوسرا استعمال کر لیتا تو  روزمحشرمیری گردن پرگرفت ہوتی۔ ‘‘

کبھی کوئی اپنی تنگ دستی کاتذکر ہ کرتا تو  وہ کہتیں۔

’’انسان پر اللہ نے بہت سی نعمتیں اتاری ہیں ، اگر وہ ان کا استعمال دیانت داری اور سلیقہ سے کر ے تو  کبھی تنگ دستی کا شکار نہیں ہو گا۔ جب اعتدال کی حدوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے ، لالچ اور بے ضمیری کو فروغ دیا جاتا ہے ، حق تلفی کو عادت بنا لیا جاتا ہے تو پھر انسان کی بھوک کبھی نہیں مٹتی۔ وہ پیسوں سے نکل کر روپوں ، سیکڑوں اور ہزاروں کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ اس کی زندگی ختم ہو جاتی ہے ، مگر ہوس کی آندھیاں نہیں رُکتیں۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے یہ تیز جھکڑوں میں اُڑتا رہتا ہے۔ ‘‘

ایک بار کسی نے کہہ دیا مائی مہنگائی بہت ہو گئی ہے ، خاوند پورے نو سو روپے مہینے کے کماتا ہے ، مگر مہینے کے اخیر میں ادھار اُٹھانا پڑتا ہے۔ مائی کا جواب تھا

’’مہنگائی نہیں ہوئی ہم نے اپنی ضروریات بڑھا لی ہیں۔ اپنی چادر سے پاؤں نکال لیے ہیں۔ میں اپنے بچپن میں ایک انڈے کے بدلے پاؤ دودھ لاتی تھی۔ اب بھی انڈا فروخت کر کے اسی رقم سے پاؤ دودھ منگوا لیتی ہوں۔ ‘‘

کیا وضع دار اور حقیقت پسند خاتون تھیں وہ۔ ۔ ۔ پودینہ کی چٹنی سے کھا کر اللہ کا شکر ادا کرتیں ، پنج گانہ  نماز کے علاوہ نفلی عبادت میں بھی مصروف رہتیں۔ میں نے انھیں کبھی ناشکری کر تے ہوئے یا مایوس بیٹھے نہیں دیکھا۔ اس قدر مطمئن، اس قدر شاکر و صابر شاید کوئی اور ہو۔ پھر ایک صبح بہو نے دیکھا مائی جائے نماز پر بے سدھ پڑی ہیں۔

          وقت گزر گیا، بیٹا اور بہو بھی دنیا چھوڑ گئے۔ ۔ ۔ اور اب پوتیاں ولایت میں اپنے خاوندوں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ ۔ ۔ ان سب با تو ں کو بھول کر جوان کی دادی کہا کرتی تھیں۔ مجھے ایک جاننے والے نے بتایا تھا کہ وہ وہاں کسی فیکٹری میں کام کرتی ہیں۔ گھر کا خرچ مشکل سے چلتا ہے ، اس لیے انھیں اپنی ضروریات کے لیے کام کرنا پڑتا ہے۔ بچوں کے اخراجات کے لیے انھیں خاوند کا ہاتھ بٹانا پڑتا ہے۔ ‘‘

پروفیسر صاحب مائی فضیلت کی کہانی سنا کر خاموش ہوئے ہی تھے کہ علی محسن کہنے لگا

’’تو امّاں بی مائی فضیلت سے کون سی کم ہیں۔ ۔ ۔ ہر معاملہ میں کنجوسی اور دقیانوسیت دکھاتی ہیں۔ ۔ ۔ اور ابّاجی اسّی کے سن کو گزرے ہوئے چھبیس برس ہو گئے ہیں ، اب بھی اگر ہم اسی طرح سوچنے لگے تو ہم دنیا کے پاؤں کی دھُول بن جائیں گے۔ ۔ ۔ ہر زمانے کی اپنی ضروریات اور تقاضے ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ مائی فضیلت بغیر پنکھے کے سو سکتی ہوں گی، مگر اب ایئر کنڈیشنر کے بنا سونا ممکن نہیں رہا ہے۔ ۔ ۔ اب چا لیس واٹ کے بلبوں سے گھر نہیں روشن ہوتے بل کہ روشنی کے لیے کئی ہزار واٹ کے بلب درکار ہوتے ہیں۔ ‘‘

علی محسن نے اپنی تقریر ختم کی تو پروفیسر صاحب بغیر کچھ کہے اُٹھ کھڑے ہوئے۔

حمنہ ہاتھ میں کاغذ لیے دوڑتی ا رہی تھی۔ ۔ ۔ عبد الصمد جانے لگے تو پوتی نے کہا

’’داداجی! یہ نئی رپورٹ بی بی سی پر شائع ہوئی ہے۔ میں پرنٹ آؤٹ کر کے لے آئی ہوں۔ ۔ ۔ دیکھیے تو‘‘

’’بٹیا اپنے باپ کو دو۔ ۔ ۔ میں صبح دیکھ لوں گا، اب تھک گیا ہوں ‘‘

’’مگر آپ بیٹھیے تو۔ ۔ ۔ بہت دل چسپ رپورٹ ہے ‘‘

کاغذ اپنے باپ کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے حمنہ نے کہا

علی محسن نے کاغذ پر لکھی ہوئی رپورٹ پڑھنا شروع کی

          ’’آسٹریلیاکے سب سے بڑے شہر سڈنی میں ہفتہ کی شام سات بج کر تیس منٹ پر مشہور اوپیرا ہاؤس پر بنے ٹاور بلاکس کی بتیاں بجھا دی گئیں۔ اس کے اطراف میں بنے گھروں میں بھی کم و بیش یہی صورت حال تھی۔ اس کے علاوہ ہاربر برج اور شہر کے تجارتی مرکز میں آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتوں کی روشنیاں بھی گل کر دی گئیں۔ ۔ ۔ ’’ارتھ اور ‘‘نامی اس مہم کا مقصد عالمی حدت میں کمی کی کوشش کرنا ہے ، جس وقت سڈنی میں ’’بلیک آؤٹ ‘‘ کیا گیا اس وقت شہر کے بڑے ریستورانوں اور تجارتی مراکز میں موم بتیوں کی روشنی سے کام لیا گیا۔ ‘‘

علی محسن نے کاغذ واپس حمنہ کو دیا۔ ۔ ۔ پروفیسر صاحب بیٹے کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ ۔ ۔ بیٹا خاموش تھا۔ ۔ ۔ مسلسل خاموش۔ ۔ ۔

٭٭٭