کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سانسوں کی مالا

خاور چودھری


گھر تو کیا اس نے خود کو ہی بھلا دیا تھا۔ سڑکوں کی فٹ پاتھوں پر رات سے دن کرنا اور بیزاری کا نمونہ بنے بے وجہ گلیاں چھانتے پھرنا اس کا معمول تھا۔ ۔ ۔ جاڑے کی سرد را تو ں میں کسی دکان کے چھجے تلے ، کانپتے ، ہانپتے بے طرح کے سود و زیاں کے شمار میں یوں مصروف رہتا، گویا اب اس کی تدبیریں کار گر ثابت ہوں گی۔ ۔ ۔ اور وہ زندگی کے دھارے میں پھر سے شامل ہو جائے گا۔

          تکیہ اصحاب بابا کے وسیع دالان میں صدیوں کی سزا کاٹتے بوڑھے پیپل کے کشادہ تنے سے پشت ٹکائے گھنٹہ بھر سے بیٹھے زمین کے سینے پر کڑھائی کر تے کر تے اس کی انگلیاں اچانک رک گئیں۔ ۔ ۔ لگا جیسے لمحوں کی سسکیاں سنتے سنتے وہ خود بھی رو دیا ہو۔ خود رو جھاڑیوں کی طرح بڑھی ہوئی اس کی ڈاڑھی اور مونچھوں کے بیچوں بیچ نسبتاً سیاہی مائل ہونٹ لرز نے لگے۔ ۔ ۔ اور پل جھپکے کی ساعت میں اکھیوں کی برسات نے خود رو جھاڑیوں کو سیراب کر دیا۔ ایک ہچکی سی بندھ گئی۔ ۔ ۔ یوں جیسے بادل گرج رہے ہوں۔

          بابا اصحاب کی گزوں کو محیط قبر کے سرہانے بنے ہوئے طاقچوں میں روشن دیے دھمال ڈالنے لگے ، پیپل کے پتوں نے ہوا سے تال ملاتے ہوئے ماحول کی نغمگی میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔ تب کسی طرح سے فیقے کی نظر اس پر آن تھمی۔ وہ یک بارگی اس کی طرف لپکا۔ بے دھیانی پاؤں کی زنجیر ہوئی اور وہ ایک جھٹکے سے اوندھے منہ زمین پرا رہا۔ ۔ ۔ رانا ہوٹل سے لائے گئے آلوؤں کے سالن نے اصحاب بابا کے دالان کے حسن کو چار چاند لگا دیے۔ مٹی کی ساختہ کشکول نما پلیٹ، درد سینے میں اُتار کر تین ٹکڑوں میں بٹ گئی، صوفی کی تندوری روٹیوں پر خارش زدہ کتیا بے دھڑک جھپٹ پڑی تھی۔ ادھر فیقے کی کراہیں بھی موجی سائیں کے ہچکیوں میں مدغم ہو گئیں۔

          موجی سائیں لگ بھگ تین برس پہلے اس شہر میں وارد ہوا۔ ۔ ۔ اور اصحاب بابا کا تکیہ نشیں بنا۔ جس قدر اصحاب بابا کے مزار کا صحن وسیع ہے اس سے کہیں زیادہ بابا کا دل کشادہ ہے۔ جو کوئی بھی مہمان ہوا۔ ۔ ۔ آخر کو میزبانی سے شرف یاب رہا، گویا مالک ٹھہر گیا۔ اصحاب بابا کے حوالے سے دو طرح کی باتیں مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اشاعت دین کے سلسلہ میں کوئی صحابی رسولؐ یہاں آ رُکے تھے یہ انھیں کا مزار ہے۔ ۔ ۔ جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بابا موصوف کا نام صحاب یا اصحاب تھا۔ اصل حال سے کوئی واقف نہیں۔

٭٭٭

          مجیب اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے انتہائی حساس واقع ہوا تھا۔ اسے بچپن ہی سے دینی و دنیاوی علوم حاصل کر نے کا شوق رہا تھا۔ صبح کا آغاز نماز فجر سے کر تا، نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد میں ہی تلاوت کلام پاک کرتا اور باقاعدگی کے ساتھ مولوی صاحب سے تفسیر پڑھتا۔ کالج بھی تسلسل سے جاتا اور کوئی ایک ’’پیریڈ‘‘ بھی ’’مس‘‘ نہ کر تا۔ اِدھر تفسیر قرآن مکمل کی تو اُدھرMScبھی شان دار نمبروں سے پاس کر لی۔ اس کے والدین اسے دیکھ دیکھ کر جیتے۔ ۔ ۔ گویا ان کے سانسوں کی ڈوری مجیب کے ہاتھ ہو۔

          حسب معمول شہتوت کا گھنا درخت اپنی بانہیں پھیلائے اس کا منتظر تھا۔ اس کی میٹھی، مسحور کر دینے والی چھاؤں ہمیشہ اس کے اعصاب جکڑ لیتی۔ یہیں۔ ۔ ۔ اسی لذت آمیز سایے میں بیٹھ کر وہ علینہ کی راہ تکا کر تا۔ ۔ ۔ اور جب وہ کھیتوں کی پگ ڈنڈیوں پر ایک ادا سے سنبھل کر چلا کرتی تو مجیب اس سارے منظر کو اپنی آنکھوں میں قید کر لیتا۔ اور پھر اس خوش کن جادوئی کیفیت کا اسیر ہو جاتا۔

مگر۔ ۔ ۔ آج شہتوت کی میٹھی چھاؤں بھی اس کے اضطراب میں کمی نہ کر سکی تھی۔ کوئی پل تھا ، جو اسے چین لینے دیتا؟ لمحے صدیوں کو محیط، وہ بے کل اور بے قرار۔ ۔ ۔ علینہ دُور سے آتی دکھائی دی تو وہ رات بھرکے سوچے ہوئے محبت آمیز لفظوں کو دُہرانے لگا۔ جوں جوں وہ قریب آتی گئی ، مجیب کی حالت سنبھالے نہ سنبھلتی۔ پورے وجود پر گویا کپکپی طاری ہو گئی۔ شب بھرکے سوچے ہوئے تمام لفظ گونگے ہو گئے۔ کسی اَن دیکھی طاقت نے اسے خوف زدہ کر دیا تھا۔ اتنا کہ کھڑا رہنا اس کے لیے مشکل ہو گیا۔ اس قدر کم زور تو وہ کبھی نہیں تھا۔ ساری قوتیں جمع کر کے اس نے علینہ کو روک ہی لیا۔

’’علینہ۔ ۔ ۔ اپنا قُرب دے دو، ورنہ میں مر جاؤں گا‘‘

لرزتی زبان اور کپکپاتے ہونٹوں سے سرکنے والے الفاظ فضا میں تحلیل ہو گئے۔ زمین میں گڑی ہوئی نظریں علینہ کے سامنے کہاں اُٹھ پائی تھیں۔ ۔ ۔ اس وقت بھی نہیں جب علینہ نے کہا تھا

’’مجیب! میں کب سے منتظر و مضطرب تھی، جانتے ہو ایک ایک پل کانٹوں پے گزرا ہے میرا‘‘

علینہ یہی کہہ پائی تھی کہ مائی شمّو کی آواز نے دونوں کو چونکا دیا۔

٭٭٭

          علینہ اس کے اپنے ہی گاؤں کی تھی، مقامی اسکول میں بچوں کو پڑھاتی۔ ۔ ۔ کس سلیقے سے فرشتوں نے اسے سنوارا تھا۔ مصور ازل کی تمام تر عنایتوں اور مہربانیوں نے اسے شاہ کار بنا دیا تھا۔ گاؤں کا گاؤں ہی تو اس کا متمنی تھا۔ کون تھا ایساجو اس نوبہارِ ناز کا اسیر نہیں تھا۔ بولتے نقوش، کھنکتی، مسکراتی آواز۔ ۔ ۔ مجیب سے لوگ بھی جو پاگل ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ تو ایسے ہی نہیں۔

’’مجیب ! کس قدر چاہتے ہو مجھے ؟ ‘‘

علینہ نے اس سے پوچھا۔ ۔ ۔ اور پھر مجیب نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا تھا

’’بھلا یہ کیا سوال ہوا۔ ۔ ۔ خود سے کوئی کتنی محبت کرتا ہے ؟ میں تمھیں خود سے الگ تھوڑی سمجھتا ہوں۔ تیری محبت میری شریانوں میں خون کی طرح دوڑ رہی ہے۔ میری سانسوں کا اعتبار تم سے ہے ‘‘

علینہ اس کے جواب پر خوشی سے نہال ہو گئی تھی۔ ۔ ۔ وقت نے رُکنا کہاں سیکھا ہے ، جو وہ مجیب اور علینہ کا انتظار کر تا۔ بس سبک رفتاری سے گزرتا ہی رہا۔

          وہ رات مجیب پر بہت بھاری تھی۔ فیصلہ کرنا اس کے لئے ناممکن تھا۔ ایک طرف اپنے اور علینہ کے والدین کی عزت کا سوال تھا، تو دوسری طرف سانسوں کی مالا کے بکھرنے کا خدشہ۔ علینہ اس کے لیے گھر تو کیا زندگی چھوڑنے کو تیار تھی۔ اس نے دردمندی سے ہی سہی فیصلہ تو سنا دیا تھا

’’مجیب! جیا نہیں جائے گا مجھ سے تیرے بغیر، اباکا انکار میں کہاں برداشت کر پائی ہوں۔ ۔ ۔ علینہ کو اس دنیا سے کہیں دُور لے چلو! ۔ ۔ ۔ دُور بہت دُور۔ ‘‘

 یہ کہتے ہوئے اس نے مصحف رُخ پر اپنی ہتھیلیوں کا غلاف چڑھا لیا تھا۔ مجیب لفظوں کو تصویر کر نے کے ہنر سے ناواقف۔ ۔ ۔ بس سوچتا ہی چلا گیا۔ وہ کم ہمت تھا یا پھر معاملہ فہم۔ ۔ ۔ جبھی تو اس نے یہ کہا تھا

’’علینہ! میں مایوس نہیں ہوں ، تمھارے ابو مان جائیں گے ، تم حوصلہ رکھو‘‘

٭٭٭

          کوئی نہیں جانتا تھا کہ مجیب کہاں چلا گیا۔ البتہ اس کے عشق کے چرچے ضرور عام ہوئے۔ اس کی والدہ غم سے نڈھال، نیم پاگل، جو کوئی دکھائی پڑتا۔ ۔ ۔ اس سے مجیب کے بارے میں معلوم کرتی۔ ۔ ۔ دیواروں سے کہتی پھرتی۔ اس کا والد اس کی تلاش میں کہاں کہاں نہیں پھرا۔ اخبارات میں اور ٹی وی پر گم شدگی کے اشتہارات چلے۔ ۔ ۔ مگر سب بے سود۔ ایک سال، دو سال اور پھر تیسرے سال کا آخری سورج بھی غروب ہو گیا، لیکن مجیب نہیں پلٹا۔

٭٭٭

          بابا اصحاب کے دالان میں عرس شریف کی تقریبات بڑے زور و شور سے جاری تھیں۔ مزار کے چاروں اور قطار اندر قطار دیے جلنے بجھنے کے عمل سے گزر رہے تھے ، فضا پر علی۔ ۔ ۔ علی۔ ۔ ۔ کے نعروں کی گونج چھائی ہوئی تھی۔ زائرین عقیدت سے مزار کی طرف دیکھتے ، دعائیں کر تے ، منتیں مانتے۔ ۔ ۔ موجی سائیں زائرین کے شور سے بے نیاز، دنیا و ما فیہا سے بے خبر، مزار شریف کے احاطہ کی خستہ جا لیوں کاسہارا لیے بہ چشم نیم باز نیم دراز تھا کہ، ایک شخص اس کی طرف لپکا اور گھڑی بھر میں اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ اسے سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ پہلی بار اسے اپنی شکستگی کا احساس ہوا۔ خواہش اور کوشش کے باوجود وہ کچھ نہ کر سکا۔ انسانوں کے دائرے میں وہ ساکت و جامد صدیوں سے پڑے پتھر کی مانند دکھائی دیا۔ حملہ اور نے اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی بلا لیا۔ ایک شور۔ ۔ ۔ قیامت برپا کر دینے والا شور۔ ۔ ۔ جو تھمنے کانام ہی نہیں لے رہا تھا۔ آوازیں چاروں اور سے اس کا تعاقب کرتیں اور وہ چیخ چیخ کر کہتا

’’میں مجیب نہیں ہوں ، موجی ہوں ، موجی سائیں ‘‘

پھرحملہ اوروں میں سے ایک اس قریب آیا، نہ جانے اس نے کیا بات اس سے کہی کہ وہ خاموشی سے ان کے ساتھ ہولیا۔ موجی سائیں کا خدمت گار۔ ۔ ۔ فیقا بھی دبے قدموں پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ زائرین عقیدت مندی میں مصروف ہو گئے۔ موجی سائیں کے جان کاروں میں سے ایک نے کہا

’’آ جائیں گے سائیں ! ۔ ۔ ۔ انھیں کوئی کیا کہہ سکتا ہے۔ ‘‘

٭٭٭

          بابا اصحاب کے احاطہ سے نکل کر وہ سب موچی بازار کی تنگ و تاریک گلیوں سے ہوتے ہوئے بڑی سڑک پر آ گئے ، جہاں زندگی حسب معمول رواں دواں تھی۔ لاری اڈے پر موجی سائیں نے فیقے کو اپنے سینے سے لگایا۔ ۔ ۔ اور واپس کر دیا۔ کہنے والوں نے کیا نہیں کہا تھا اُسے۔ مجیب کی والدہ کی حالت۔ ۔ ۔ علینہ کی جرأت کی داستاں۔ ۔ ۔ گاؤں بھرکی باتیں۔ ۔ ۔ رفتہ کے قصے ، فردا کے اظہاریے ، مگر اس کے لفظ تو کہیں کھو گئے تھے ، گویا وہ بولنا ہی بھول گیا تھا۔ اسے کچھ کہنا ہی نہیں تھا شاید۔ لاری سے اُتر کر وہ ایک تانگے پر سوار ہو گئے۔ ارد گرد کا ماحول اسے کچھ مانوس، کچھ اجنبی دکھائی دیا۔

          رانی ماں کی تاریک کنویں جیسی آنکھیں روشن ہو گئیں۔

 ’’مجیب یہ کیا حال بنا لیا ہے تو نے ؟ ‘‘

کہتے ہوئے اس نے اپنی بانہیں موجی سائیں کو سینے میں بھر لینے کیلئے پھیلا دیں۔ جانے کتنی ہی دیر موجی سائیں رانی ماں کی چھاتی سے چمٹ کر روتا رہا۔ شاید دونوں روتے رہے۔ پھر کتنی ہی شرمندگی، لجاجت اور منت کر تے ہوئے موجی سائیں نے رانی ماں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا

’’ماں ! مجھے معاف کر دے ، میں نے تمھیں ستایا ہے نا‘‘

 اور رانی ماں۔ ۔ ۔ جی واری، جی صدقے ، جی کہول۔ ۔ ۔ کا ورد کرتی رہی۔

٭٭٭

          مجیب کی واپسی پر گاؤں بھر خوش تھا۔ ہر کوئی اس کی دل جوئی میں مصروف رہتا۔ ۔ ۔ گزرے وقت کی باتیں سناتا۔ اور علینہ۔ ۔ ۔ ؟ بھلا علینہ سے زیادہ اس کی واپسی کی خوشی کسے ہوئی ہو گی؟ اس نے تو  مجیب کی خاطر اپنی زندگی داؤ پر لگائی تھی۔ گاؤں کی کون لڑکی تھی بہ جز اس کے جس نے پسند کی شادی کا نہ صرف اعلان کیا، بل کہ مجیب کے سوا کہیں بھی شادی سے انکار کر دیا تھا۔ علینہ نے مجیب کی خاطر بے غیرتی، بے حیائی کے طعنے تک سنے۔ وہ تو  لمحہ لمحہ اس کے لئے مرتی اور جیتی رہی۔

          علینہ اور مجیب کا رشتہ طے ہو گیا۔ محرم کی بیس تاریخ شادی کے لیے مقرر ہوئی۔ دونوں خاندان قریب سے قریب تر ہو گئے۔ ۔ ۔ غم اور خوشی کے موسم بتا کر تھوڑی آتے ہیں۔ خوشی سی خوشی تھی۔ ۔ ۔ وہ دونوں تو گزرے ہوئے سالوں کی راکھ تک کو دفن کر چکے تھے۔ زخم یوں مندمل ہوئے گویا کبھی تھے ہی نہیں۔ اور جانیے۔ ۔ ۔ رستے زخموں پر کھرنڈ آ جائیں تو دُکھ کا احساس کسے رہتا ہے ؟

          دونوں طرف پوری شد و مد سے شادی کی تیاریاں جاری تھیں ، ٹھیک چار دن بعد مجیب اور علینہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ایک ہونے والے تھے۔ شادی کے لیے خریداری کی غرض سے مجیب اپنے ماموں زاد بھائی شاہ میر کے ہم راہ نواحی شہر گیا۔ وہ جمعہ کا دن تھا۔ ۔ ۔ سولہ محرم کا دن۔ انھوں نے کچھ خریداری کر لی تھی، کچھ باقی تھی۔ دونوں بھائی شہر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے داخل ہو گئے۔

کس قدر سرشاری اور ممنونیت سے وہ خدا کے حضور جھکا تھا۔ ۔ ۔ رہ رہ کر اُسے علینہ  یاد آ رہی تھی۔ جوں جوں علینہ اس کے اعصاب پر حاوی ہوتی گئی وہ خدا کی شکر گزاری میں بڑھتا گیا۔

٭٭٭

          سانسوں کی مالا ٹوٹ کر بکھر گئی تھی۔ مجیب اور شاہ میر کی میتیں جب گاؤں لائی گئیں تو گاؤں بھر میں کہرام مچ گیا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہر زبان پر قاتلوں کے لیے بد دعائیں۔ ۔ ۔ نامعلوم دہشت گردوں نے ان سمیت سات افراد کو نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے دوران اندھا دھند فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔

٭٭٭