کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ہیروں کا سوداگر

خاور چودھری


دل آرام ریسٹورنٹ کے باہر جب پہلی مرتبہ میری نظر اُس پر پڑی تو میں نے اُسے کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔ ۔ ۔ مگر جب وہ اکثر شام کے بعد وہاں دکھائی دینے لگا تو   میں نے ایک دن اُس سے پوچھ ہی لیا۔

’’میں یہاں ہیرے فروخت کر نے آتا ہوں ‘‘

اُس کے اِس جواب سے میں شش در و متعجب ہو کر اُس کا منہ تکنے لگا۔ میری حیرتوں کو بھانپتے ہوئے اُس نے اپنے کندھے سے بوری اتاری اور گویا ہُوا

’’اِس طرح کیوں تک رہے ہو؟ ‘‘

 اور پھر جلدی سے بوری کا منہ کھولا اور اُس سے درجنوں رنگ بہ رنگ پتھر نکال کر زمین پر پھیلا دیے۔ ایک گول مٹول سرخی مائل پتھر میری طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگا

’’یہ ملکہ الزبتھ دوم کے استعمال میں رہا ہے ، جب وہ آئینے کے سامنے جایا کرتی تھی تو یہ پتھر سنگھار میز پر موجود ہوتا۔ اس کی قیمت ایک لاکھ امریکن ڈالر ہے۔ ‘‘

 سرمئی پتھر میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا

’’براہم  لنکن کو یہ موتی اُس کی اعلیٰ خدمات پیش نظر رکھتے ہوئے ایک امریکی سرمایہ کار جان ای ایگر نے تحفہ میں دیا تھا؛ اس کی قیمت پچپن لاکھ امریکن ڈالر ہے۔ ، ،

بادامی رنگ کے چھوٹے سے پتھر کو دکھاتے ہوئے اس نے کہا کہ

’’یہ محبت کی نشانی ہے۔ ۔ ۔ ویسے تو اربوں ڈالر بھی اگر مجھے کوئی دے تو میں اسے نہ دوں۔ ۔ ۔ مگر میرا کاروبار اس نوعیت کا ہے کہ میں اسے زیادہ دیر تک اپنے پاس نہیں رکھ سکتا؛ یہ دو کروڑ  ڈالر کا ہے۔ لیڈی ڈیانا کو اس کے آخری عاشق دودی الفائد نے محبت کے آخری تحفے کے طور پر دیا تھا۔ جب ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا تو  وہاں موجود ایک شخص نے اِسے اُٹھا لیا تھا۔ ‘‘

 نہ جانے کتنے اور موتی اور ہیرے اس کی بوری میں تھے۔ ۔ ۔ جو کئی نام ور ہستیوں کے زیر استعمال رہ چکے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا

’’یہ موتی کون خریدتا ہے ؟ ‘‘

تو اس نے بتایا

’’یہاں کورین، چائنیز، ملائشینز ، جرمنز اور عریبک لوگ آتے رہتے ہیں۔ میرا زیادہ کاروبار ان سے رہتا ہے ، تاہم بعض اوقات کوئی پاکستانی تاجر بھی مال اُٹھا لیتا ہے ، لیکن میں اِن سے زیادہ تجارت اِس لیے بھی نہیں کرتا کہ یہ لین دین ٹھیک نہیں کر تے۔ چھ ماہ پہلے کراچی کے ایک تاجر کو ڈیڑھ ارب ڈالر کے ہیرے دیے تھے۔ ۔ ۔ اُس نے ایک ماہ کے اندر رقم دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر تا حال رقم نہیں آئی۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے وہ انتہائی تیزی سے ہوٹل کی طرف دوڑا۔ ۔ ۔

٭٭٭

          صحیح نام اس کا غالباً عبد الشکور ہے۔ ۔ ۔ لیکن لوگوں میں وہ کئی ناموں سے مشہور ہے۔ کچھ نام اس نے خود چُنے تھے اور بعض اس کے القابات اور خطابات شمار کیے جا سکتے ہیں۔ ایک زمانے میں وہ ’’شِکر ا‘‘ کے نام سے شہرت کو پہنچا۔ ۔ ۔ یہ اس کا اپنا رکھا ہوا نام ہے۔ پھر وہ ’’دو نمبر‘‘ کے نام سے جانا گیا۔ یہ نام اُسے ان لوگوں نے دیاجو اس کے ’’کاروبار‘‘ کو جعلی سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ ’’آن وڑئی اوئے ‘‘ (*) کہہ کر بھی اُسے مخاطب کر تے ہیں۔ جس کے جواب میں اس کے منہ سے پھول جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ۔ ۔ اور وہ ہیرے جن کی مالیت اربوں سے زیادہ ہوتی ہے مخاطب کی جانب برسنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اپنی توہین شکر ے سے کبھی برداشت نہیں ہو پاتی ، بھلے اس کا اربوں میں نقصان ہو جائے۔ پھینکے ہوئے ہیروں کو دوبارہ سمیٹنے کے بعد بیس کلو سے زیادہ وزن دار بوری کاندھے پر اُٹھا کر کسی اور جانب چل پڑے گا۔

          میں نے جب ہوش سنبھالا تو  وہ اس شہر میں موجود تھا۔ اُس وقت یہ حالت نہیں تھی اُس کی۔ 1986ء میں ایک مرتبہ اس نے بتایا تھا کہ وہ سائیکل پر دو مرتبہ تین ہزار کلو میٹر فاصلہ طے کر کے کراچی گیا اور آیا ہے۔ تن سازی کے مقابلوں میں بھی حصہ لیتا رہا۔ جس وقت مجھے یہ بتا رہا تھا اُس وقت وہ اپنے موٹر سائیکل کو رکشا میں تبدیل کر رہا تھا۔ رکشا جب تیار ہوا تو  وہ بڑے فخر سے شہر میں اُسے پھراتا رہا۔ ۔ ۔ کیوں کہ اس کی بناوٹ میں استعمال ہونے والے پرزے اس کی اپنی انجینئرنگ کا نتیجہ تھے۔ دوسری بات یہ بھی تھی کہ وہ اس شہر کا پہلا رکشا تھا۔ رکشا کی تکمیل کے بعد اُس نے خواہش ظاہر کی تھی۔

 ’’اگر میرے پاس وسائل ہوتے تو میں بڑے پیمانے پر رکشا سازی کا کام شروع کر تا۔ ‘‘ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ’’شکر ا‘‘ دن بھر میلوں کی مسافت طے کر کے رکشا پر آئس کر یم ، اچار اور دیگر کئی چیزیں بیچا کر تا۔ پھر یوں ہوا کہ اس کی موٹرسائیکل خراب رہنے لگی۔ ۔ ۔ اور آخرکار اس نے موٹرسائیکل بیچ کر گدھا خرید لیا۔ موٹرسائیکل کے پیچھے باندھی گئی گاڑی کو اس نے موٹرسائیکل سے جدا کر دیا تھا۔ ۔ ۔ پھروہی گاڑی اس کے گدھے کے کام آئی۔ یعنی رکشا ، چاند گاڑی میں بدل گیا۔ میں بتا چکا ہوں کہ شِکرا میلوں پھرنے کا عادی تھا اور گدھے کے لیے یہ مسافت ناقابل برداشت تھی۔ ۔ ۔ اس لیے وہ جلد ہی اسے چھوڑ گیا۔ بس یہی دن تھے جو اسے معاشرے کی ٹھوکروں پر چھوڑ گئے۔ شروع میں وہ تفننِ طبع کے لیے اپنی ذات کے حوالے سے بھی مزاح کرتا تھا۔ لوگ سن کر خوش ہو جاتے اور اسے چائے۔ ۔ ۔ سگریٹ پیش کر تے۔ پھر لوگوں نے اسے مذاق کا نشانہ بنانا معمول بنا لیا۔ اور اب تو چھوٹے بڑے نے اس کی وہ خبر لی تھی کہ وہ خود سے بے خبر ہو گیا۔ اس کی حالت یہ ہے کہ وہ نصف من پتھروں کو ہیرے سمجھ کر دن بھر کاندھے پر اٹھائے پھرتا ہے۔ ۔ ۔ اور رات کو ان کو اپنے پہلو میں دبا کر سوتا ہے۔

          کئی برس گزر گئے۔ ۔ ۔ شکر ے سے متعلق باتیں ہوا میں تحلیل ہونے لگیں۔ ۔ ۔ لوگوں کی دل چسپیاں بدلنے لگیں۔ ۔ ۔ ماحول میں تبدیلی آئی۔ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ دل آرام ریسٹورنٹ کے باہر پڑی کر سیوں پر بیٹھا ہوں۔ ۔ ۔ دفعتاً دو نمبر آ جا تا ہے۔ ۔ ۔ اب اس کی حالت انتہائی قابل رحم ہے۔ چوکور میز کے ایک کونے پر پیر جما کر کہتا ہے

’’مال چاہیے۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘

میں اُسے اس کے پرانے حال میں سمجھتے ہوئے کہتا ہوں

’’کیا جارج ڈبلیو بش سے ڈیل نہیں ہوئی۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘

وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر تالی کے سے انداز میں مارتے ہوئے بہ آواز بلند قہقہہ لگاتا ہے۔ ۔ ۔ تو سب لوگ ہماری طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ قدرے توقف کے بعد کہنے لگتا ہے

’’جناب۔ ۔ ۔ ! وہ پرانی باتیں ہیں۔ ۔ ۔ اب اور مال بکتا ہے ‘‘

’’اب کون سا مال بکتا ہے۔ ۔ ۔ شکر یا؟ ‘‘میں نے دل چسپی سے پوچھا

’’شراب۔ ۔ ۔ افیون۔ ۔ ۔ ہیروئن۔ ۔ ۔ چرس۔ ۔ ۔ نن باؤ۔ ۔ ۔ ویاگرا۔ ۔ ۔ ‘‘

دو نمبر کے اس انکشاف سے میں چونک سا گیا۔ ۔ ۔ اب وہ مجھے حقیقتاً دو نمبر محسوس ہو رہا تھا۔ ۔ ۔ میں نے سوچا شاید اس نے پاگل پن کا بہروپ بھر رکھا ہے اور وہ اس انداز سے اپنا گھٹیا کام کرتا چلا آ رہا ہے۔ مجھ سے رہا نہ گیا تو  میں نے پوچھا

’’تم بیچتے ہو یہ سب چیزیں۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘

وہ پھر کھلکھلا کر ہنسا اور اُسی انداز سے اپنے ایک ہاتھ پر  دوسرا ہاتھ مارا۔ ۔ ۔ کہنے لگا

’’میں کہاں بیچتا ہوں۔ ۔ ۔ چودھری صاحب، رانا صاحب، میاں صاحب اور شیخ صاحب بیچتے ہیں ‘‘

’’کیا وہ خود بیچتے ہیں۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘

’’بھلا خود کیوں بیچیں گے ؟ کیا وہ شرفا نہیں ہیں ؟ ‘‘

’’تو کون بیچتا ہے پھر۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘

’’پیپا۔ ۔ ۔ لاٹو۔ ۔ ۔ سوہنا۔ ۔ ۔ مندری۔ ۔ ۔ بجنس۔ ۔ ۔ کارتوس۔ ۔ ۔ ‘‘

وہ خاموش ہوتا ہے اور پھر ٹکٹکی باندھے مجھے دیکھتا ہے۔ ۔ ۔ جیسے مجھے سننا چاہتا ہو۔ میں پھر اُس سے سوال کرتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

’’تم کیا بیچتے ہو۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘

’’میں۔ ۔ ۔ میں تو آئینے بیچتا ہوں۔ ۔ ۔ آنکھیں بیچتا ہوں اور آنکھوں کے موتی بیچتا ہوں۔ ۔ ۔ لفظوں کے ہیرے بیچتا ہوں۔ ‘‘

٭٭٭

                                                                                                                              (*آ گھسا ہے )