کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ائیر فریشنر

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل


زوبی کو انگلینڈ آتے ہی جن چند چیزوں سے عشق ہوا تھا ان میں فش اینڈ چپس، باؤنٹی چاکلیٹ، سالٹ اینڈوینگرکریسپ، ڈائی جیسٹو بسکٹ، بگ بین اور ائیر فریشنز تھے۔ رنگ برنگی ائیر فریشنز کو جمع کرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ ہوا ذرا کثیف ہوئی۔ کوئی ناپسندیدہ ناخوشگوار بو ناک کی مہمان بننا چاہتی تو زوبی جھٹ ائیر فریشنز نکال کر لے آتی۔ سب ہی زوبی کے اس کریز سے واقف تھے اور اسے دیوانوں کی طرح ائیر فریشنز چھڑکتے دیکھ کر صرف زیرِ لب مسکرا کر رہ جاتے تھے۔

پاکستان سے گریجویشن کر کے جب وہ انگلینڈ آئی تو اسے سخت مایوسی ہوئی کیونکہ جس ولایت کے دیومالائی قصے کہانیاں وہ بچپن سے سنتی آئی تھی یہاں تو ویسا کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ دودھ اور شہد کی نہریں تھیں۔ نہ درختوں پر پتوں کی جگہ پاؤنڈز۔۔۔ نہ ہی سڑکیں اتنی صاف شفاف تھیں کہ آئینہ دیکھنے کی نوبت نہ آئے۔ بلکہ جس زمانے میں زوبی انگلینڈ آئی اس وقت تو یہاں بجلی کا بحران چل رہا تھا۔ سڑکوں پر روشنیاں کم کم ہی تھیں۔ اور جو نظر آتیں وہ بھی زرد زرد سی۔ جیسے باقی ماندہ روشنیوں سے بچھڑ کر اداس ہو گئی ہوں۔ بے سورج موسم۔ گہرے گہرے بادل دیکھ کر تو وہ گھبرا سی گئی۔ یا خدایا۔۔۔۔ یہ کیسا ملک ہے۔ نہ دن کی خبر نہ رات کا پتہ، بے رنگ سی گوری چمڑیاں۔ جن کی خوبصورتی کے قصے عظیم ماموں سناتے نہ تھکتے تھے جیسے پرستان کی پریاں راستہ بھول کر انگلینڈ میں آ اتری ہوں۔ انگلینڈ کا یہ رنگ ڈھنگ دیکھ کر تو زوبی اداس سی ہو گئی جتنے جوش و خروش سے دوستوں کو الوداع کہتے ہوئے جہاز کی سیڑھیاں چڑھی تھی لگتا انگلینڈ میں آ کر پاتال میں جا گری ہو۔۔۔ یعنی مکمل کلچر شاک۔

انگریزی زبان و ادب سے اسے ہمیشہ سے ہی دل چسپی رہی تھی۔ انگریزی کے ہر امتحان میں امتیازی پوزیشن حاصل کرتی۔ لگتا تھا انگلینڈ میں تو انگریزی کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہو گا۔ گھر کی مرغی جب چاہے حلال کر ڈالیں۔ مگر یہاں آ کر پتہ چلا کہ پاکستان میں کلاس روم میں پڑھائی جانے والی انگریزی۔ کتابوں میں چاہے ویسی ہی ہو۔ لکھنے لکھانے میں بھی ویسی ہی ہو۔ مگر لب و لہجہ الگ ہے اور اسے سمجھنے کے لیے اس کلچر میں رہنا پڑے گا۔ مقامی لوگوں سے گھلنا ملنا اور بات چیت کرنا ہو گی کیونکہ زبان ایک زندہ چیز ہے۔ یعنی Language is a living thing۔

جب کبھی اس نے کارنر شاپ کی انگریز عورت سے بات کرنے کی کوشش کی۔ اس کا لب و لہجہ زوبی کے سر کے اوپر سے گزر جاتا اور وہ مروت میں مسکراتی ہوئی دکان سے باہر آ جاتی۔ چھوٹے بھائی جو انگلینڈ کافی عرصہ پہلے آگئے تھے یہاں کے سکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہے تھے۔ ان سے انگریزی لب و لہجہ سمجھنے کی کوشش کرتی تو وہ اس کا مذاق اڑاتے۔ درمیان والا بھائی تو اس کی ٹانگ ضرور کھینچتا۔ غصے میں وہ اسے شٹ اپ کہہ کر بیڈ روم میں جا گھستی۔ ایک دن بڑے بھیا نے اسے سنجیدگی سے مشورہ دیا کہ ’’یوں گھر میں پڑے رہنے اور جلنے کڑھنے سے کچھ نہیں ہونے والا۔ بہتر ہے کہ باہر نکلو اور مقامی ایڈلٹ ایجوکیشن سنٹر  میں پارٹ ٹائم انگریزی بول چال کی کلاسز جوائن کر لو پڑھی لکھی ہو دنوں میں ہی رواں ہو جاؤ گی تو پھر نوکری ڈھونڈنے میں بھی مشکل نہ رہے گی کام مل گیا تو یہاں دل بھی لگ جائے گا۔ ویسے کوشش کرو کہ زیادہ سے زیادہ باہر جا کر مقامی لوگوں سے انگریزی میں بات چیت کرو۔ کچھ تو پلے پڑے گا۔ ‘‘ بھیا کا مشورہ اسے اچھا لگا اب روزانہ دو گھنٹے وہ لینگوئج ٹرپ پر نکل جاتی۔ اور چند ہفتوں میں ہی اسے محسوس ہونا شروع ہو گیا کہ اسے مقامی ایکسنٹ کچھ کچھ سمجھ آنا شروع ہو گیا ہے۔

ایونگ کلاسز میں ایک ہی ٹرم کے بعد وہ کافی حد تک انگریزی کے مقامی لب و لہجہ کو سمجھنے لگ گئی تھی۔ اگلی ٹرم کے لیے اس نے کالج میں ایڈمیشن لے لیا۔ وہاں پر انگلش لیکچرار کی ساری بات اس کو سمجھ آ رہی تھی۔ وہ شش و پنج میں تھی کہ آخر باہر سڑکوں بازاروں ، دکانوں میں گھومنے پھرنے اور عام لوگوں کی انگریزی سمجھنے میں اسے کیوں دشواری ہو رہی تھی تو بھیا نے بتایا کہ ’’جن لوگوں سے تم انگریزی سیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں وہ تو بیچارے ہمارے ہاں کے نیم خواندہ لوگوں جیسے ہی ہیں وہ کونسا کوینز انگلش  بولیں گے کہ تمہاری سمجھ میں سو فیصد بات آ جائے۔ تم پڑھی لکھی ہو تو پڑھے لکھے لوگوں کی انگریزی تمہیں سمجھ آ جائے گی کیونکہ اکیڈیمیا کی انگریزی پر مقامی لب و لہجہ کا رنگ نہیں چڑھا ہوتا۔ ’’بھیا کی بات سن کر میری جان میں جان آئی وگرنہ تو لگ رہا تھا سب پڑھا لکھا اکارت گیا۔ سوچ رہی تھی میں نالائق ہوں یا مجھے پڑھانے والے۔ مگر دونوں ہی باتیں غلط تھیں۔ کالج میں دو ہی ٹرم گزار کر زوبی کو انگریزی بولنے اور سمجھنے پر کافی عبور ہو گیا تھا۔

ایک دن بھیا نے مشورہ دیا کہ ’’تم جاب سینٹر میں جا کر اپنا نام رجسٹر کروا لو تاکہ کوئی مناسب جاب کی تلاش کی جا سکے۔ ‘‘ بھیا کے ساتھ بڑے فخر سے جا کر زوبی جاب سینٹر میں رجسٹر ہو گئی۔ ہر ہفتے وہاں جا کر حاضری لگانا پڑتی اور اس اقرار نامے پر دستخط کرنا پڑتے کہ ’’میں ملازمت کرنا چاہتی ہوں۔ بالکل تندرست ہوں۔ اور پوری دیانتداری سے ملازمت تلاش کر رہی ہوں۔ ‘‘ اس کے بدلے میں بیس پونڈ کا چیک ہر ہفتے بذریعہ ڈاک موصول ہو جاتا۔

روز روز جاب سینٹر کے چکر لگاتے لگاتے زوبی کچھ بور سی ہو گئی۔ ایک دن سینٹر والوں نے اسے پیکنگ کی جاب کے لیے ایک ویئر ہاؤس میں بھیجا۔ بلکہ وہ جگہ کافی دور تھی۔ راستہ پوچھتی پوچھتی وہ آخر وہاں پہنچ ہی گئی۔ وئیر ہاؤس میں کچھ نوجوان انگریز لڑکے لڑکیاں پیکنگ کے کام میں مصروف تھے اسے کن اکھیوں سے دیکھ کرکھِی کھِی کرنے لگ گئے۔ ان کے رویے سے اسے بڑی کوفت ہوئی۔ خیر مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق ان سے منیجر کے بارے میں پوچھا کہ وہ انٹرویو کے لیے آئی ہے۔ اسے لگا جیسے جواب میں ایک انگریز لڑکے نے اسے ’’پاکی ‘‘ کہا ہو۔ جسے سن کر اسے بہت غصہ آیا۔ اس نے ان سے منہ ماری شروع کر دی۔ اتنے میں وئیر ہاؤس کا منیجر آن پہنچا۔ کچھ نہ سمجھتے ہوئے ایک لڑکے سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تو لڑکے کی بجائے زوبی نے غصے سے جواب دیا کہ ’’میں پیکنگ کی جاب کے لیے جاب سینٹر کی طرف سے انٹرویو کے لیے آئی ہوں مگر انہوں نے مجھے پاکی کہا ہے۔ ‘‘ انگریز لڑکے نے کہا کہ ’’نہیں انہوں نے پیکر کہا تھا۔ ‘‘بس اس بات پر تکرار ہو گئی۔ وئیر ہاؤس منیجر واضح طور پر اپنے ملازمین کا دفاع کر رہا تھا۔ اس کا موقف تھا کہ زوبی کو ان کی بات سمجھنے میں غلطی لگی تھی۔ انہوں نے پاکی نہیں بلکہ پیکر کہا تھا۔ زوبی کو پتہ تھا کہ لڑکے سراسر جھوٹ بول رہے تھے اور دونوں لفظ خلط ملط کر کے فائدہ اٹھانا چاہ رہے تھے۔ زوبی گٹ لوسٹ کہہ کر جاب پر لعنت بھیجتی ہوئی وہاں سے آگئی۔ اور ساتھ ہی پکا ارادہ کر لیا کہ اب وہ اس قسم کی جگہوں پر نوکری کے لیے نہیں جائے گی بلکہ بہتر قسم کے پڑھے لکھے لوگوں کے ماحول میں جاب کرے گی۔ ’’ایسی جگہیں تو بالکل بھی اس کے کام کرنے کے لائق نہ تھیں۔ فضول سا ماحول، فقرے بازی، جسم کو چیرتی نگاہیں ، گندی ذہنیت۔۔۔ ‘‘ وہ بڑبڑاتی ہوئی باہر نکل آئی۔

زوبی اگلے ہفتے پھر جاب سینٹر جا دھمکی اور اب کی بار جاب سینٹر کی ایڈوائز سے شکایت بھی کی کہ اسے اس قسم کی جگہوں پر انٹرویو کے لیے مت بھیجا جائے۔ جہاں لوگوں کے رویے اس قدر غلط ہوں۔ اس کی بات سن کر جاب سینٹر ایڈوائزر اسے کچھ بے یقینی کی سی کیفیت سے گھورنے لگی۔۔۔۔ !انگریز عورت نے اس کی بات کا تو کوئی جواب نہیں دیا مگر اسے ایک مشہور ڈیپارٹمنٹل سٹور میں سیلز گرل کی نوکری کے لیے انٹرویو لیٹر بنا کر دے دیا۔ دوسرے روز وہ انٹرویو کے لیے گئی تو چند اور انگریز لڑکے لڑکیاں انٹرویو کے لیے لابی میں منتظر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ ان پر اچٹتی سی نگاہ ڈال کر آگے بڑھ گئی۔ ابھی وہ ادھر ادھر کا جائزہ لے رہی تھی کہ اس کا نام پکارا گیا۔ ’’شاید وہ انٹرویو کے لیے پہلی امیدوار تھی‘‘ اسنے سوچا جیسے ہی وہ چہرے پہ مسکراہٹ سجائے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی انٹرویو لینے والی انگریز عورت نے کمرے میں ائیر فریشنر سپرے کرنا شروع کر دیا۔ زوبی سراسیمگی کی حالت میں کرسی کے سرے پر ہی ٹک گئی۔ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ جیسے وہاں سے ابھی اٹھ کر بھاگ جائے گی۔ دماغ جیٹ کی رفتار سے بھاگ رہا تھا۔۔۔ وہ کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر ائیر فریشنر تو بوجھل گندی، کثیف ہوا کو صاف کرنے کے لیے سپرے کیا جاتا ہے۔ اس انگریز عورت نے ائیر فریشنر کیوں سپرے کیا؟ کیا میرے کمرے میں آنے سے۔۔۔۔ ؟ اس سے آگے وہ کچھ نہ سوچ سکی۔۔۔۔ اس کا ذہن ماؤف ہو رہا تھا۔

چند رسمی سی باتیں پوچھنے کے بعد انگریز عورت نے اسے پچیس پونڈ ہفتہ پر ملازمت کی پیش کش کر دی مگر زوبی اس کی ائیر فریشنر والی حرکت سے سخت غصے میں تھی کیونکہ "It was Shear insult" سراسر بے عزتی۔۔۔ مکمل توہین!  ایسی اہانت۔۔۔ !

زوبی نے سختی سے ملازمت کی پیشکش ٹھکراتے ہوئے کہا۔ ’’ بیس پونڈ تو مجھے جاب سینٹر والے بغیر کام کے ہر ہفتے گھر بھیج دیتے ہیں۔ کیا میں صرف پانچ پونڈ کے لیے تمہارے یہاں کام کروں گی؟‘‘

انگریز عورت زوبی کے دلیرانہ جواب پر حیران سی رہ گئی۔ زوبی اسے اسی حالت میں چھوڑ کر دھڑام سے دروازہ بند کر کے کمرے سے باہر آ گئی۔ اسے یوں لگا جیسے جاب اس کے منہ پر مار کر اس نے تمام نسل پرستوں سے اپنی توہین کا بدلہ لے لیا ہو۔

گھر آنے کے بعد زوبی نے سارے ائیرفریشنرز ڈسٹ بن۔۔۔۔۔ !

٭٭٭