کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

IMPOSTOR

خاور چودھری


’’ اُسے خواب میں چلنے کی عادت تھی یا پھر چلنے میں سونے کی، جب ہی تو وہ را تو ں کو اپنی آرام گاہ میں ٹہلتا رہتا۔ اگر بستر پر وجود کو گرا بھی دیتا تو  اس کا دماغ اور آنکھیں جاگتے رہتے۔ اکثر اوقات وہ خود کلامی میں ایسی ایسی باتیں کہہ جاتا کہ سننے والے انگشت بہ دنداں رہ جاتے۔ ۔ ۔ حیران ہو جاتے اور سوچتے بھلا یہ بھی کوئی کہنے کی باتیں ہیں۔ ۔ ۔ خود کلامی ہی سہی ؛ ہے تو  پریشان کن۔ اس کا خیال تھا کہ اس کے ارد گرد رہنے والے تمام لوگ زر خرید غلام اور لونڈیاں ہیں۔ روشنیوں ، ہواؤں ، پانیوں ، موسموں ، آسمانوں ، زمینوں اور دھُوپ چھاؤں جیسی سبھی نعمتوں کا حق دار بہ جز اس کے کوئی اور نہیں ہے۔ ان شدت پسند اور غیر حقیقت پسندانہ خیالات سے اس کے سوچنے ، سمجھنے ، بولنے اور برتنے کی حسیات زنگ آلود ہونے لگی تھیں۔ اس کے قریب رہنے والے لوگوں کے خیال میں وہ نفسیاتی مریض بن چکا تھا اور انھیں یہ بھی دھڑکا لگا رہتا تھا کہیں اس کے ہاتھوں کسی کی جان نہ ضائع ہو جائے۔ مجبوراً قرابت دار اس کی جائز و نا جائز فرمائشوں اور مطالبات کو بے چون و چرا مان لیتے۔ ۔ ۔ اور پھر وہ اس راہ ہو لیتا جس پر اس کا جی چاہتا۔

          مہینوں وہ غائب رہتا، اس کے جاننے والے نہیں جانتے تھے کہ وہ کہاں نکل جاتا ہے اور کیا کرتا رہتا ہے ، مگر یہ ضرور جانتے تھے کہ وہ خود کو کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتا، کیوں کہ اس نے کسی بھی حالت میں ، کبھی بھی ، کوئی ایسی حرکت نہیں کی تھی ، جس سے اندازہ ہو سکتا ہو کہ وہ ایسا کر سکتا ہے۔ البتہ یہ ممکن تھا، جب وہ کسی اور کو نشانہ بنائے تو سامنے والا بھی وار کر دے۔ وہ بلا کا ذہین دکھائی دیتا تھا، کبھی کبھی تو یوں معلوم ہوتا جیسے علوم کے تمام دفاتر اس کے دماغ میں کھلے ہوئے ہیں اور وہ انھیں صرف ایک نظر دیکھ کر آگے نکلتا جا رہا ہے۔ علم الکلام کا ماہر تھا یا کم از کم اندھوں میں کانا تھا، اس کے ہم محفلوں اور جاننے والوں میں اس جیسا خوش گفتار ، خوش سلیقہ اور موقع شناس کوئی اور نہیں تھا۔ بولتا تھا تو  یوں دکھائی دیتا جیسے اب کبھی خاموش نہیں ہو گا۔ ۔ ۔ مگر جب خاموش ہوا تو  سالوں کسی سے بات نہیں کی۔ آس پاس کے لوگوں میں بعض کا خیال تھا کہ وہ ’’مرشد کے حکم سے چلّہ کاٹ رہا ہے ‘‘ اور بعض اسے IMPOSTORکہتے ، مکار اور مکر وہ خیال کر تے۔ یہ تمام باتیں وہ جانتا تھا۔ ۔ ۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے قریب رہنے والوں میں کون کیا رائے رکھتا ہے ، لیکن وہ عموماً اپنا تاثر ظاہر نہیں کرتا تھا اور پھر کسی دوسرے وقت میں کسی اور طریقہ سے حساب بے باق کر دیتا۔ اس کے اس رد عمل کو کم لوگ جانتے تھے۔ ۔ ۔ کیوں کہ وہ براہِ راست کچھ نہیں کرتا تھا، جس طرح اس کی ہر بات تہ در تہ ہوتی ، اسی طرح اس کا عمل تھا۔ ۔ ۔ ہر پرت کے نیچے سے دوسری پرت نکل آتی اور آدمی حیران رہ جاتا۔ اگر وہ پیالی توڑنا چاہتا تو  اسے سیدھے انداز سے پکڑ کر زمین پر نہیں پٹخ دیتا تھا۔ ۔ ۔ بل کہ اس کے لیے وہ میز سے ٹھوکر کھاتا اور اپنی ٹانگ سہلانے کے ساتھ ساتھ ٹوٹی پیالی کو دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنی حکمت پر مسکراتا رہتا۔ اس کی ان عادتوں اور حکمت عملیوں سے کم لوگ واقف تھے۔ ایک دفعہ اس نے کہا تھا کہ

 ’’طاقت صرف طاقت ہوتی ہے ، خیر اور شر کی بحث بے معنی ہے ، مجھے کوئی بھی طاقت ہاتھ آ جائے میں اسے استعمال کروں گا۔ شیطان اگر دنیا کو زیر کر نے میں معاونت کرتا ہے تو  اسے دوست کہنے اور دوست رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ میں طاقت چاہتا ہوں ، حکم رانی چاہتا ہوں ، دوام چاہتا ہوں۔ ‘‘

اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا، اس کے ایک ہم محفل نے اپنا جوتا اُتار کر اس کے منہ پر دے مارا۔ ۔ ۔ اور پھر ایک ساعت کے اندر اسے گردن سے پکڑ کر دبوچ لیا، اس کے کندھوں پر اپنے دانت گاڑھ لیے اور اس دوران اپنی لا تو ں کا استعمال بھی جاری رکھا، جب خود نڈھال ہوا تو  اس کی جان چھوٹی۔ مٹی اور خون میں لتھڑا وجود لیے جب وہ اپنے گھر پہنچا تھا تو  گھر والے حیران نہیں ہوئے تھے۔ ۔ ۔ اسی لیے انھوں نے اس سے کوئی سوال بھی نہیں کیا، کیوں کہ وہ جانتے تھے وہ انھیں کچھ نہیں بتائے گا۔ اس واقعہ کا اتنا اثر ضرور ہوا تھا کہ وہ اب کھلے عام اس طرح کی باتیں نہیں کرتا تھا اور جاننے والوں کو تو  اس پربھی حیرت ہوئی تھی کہ اس نے مارنے والے سے نہ صرف معافی مانگ لی تھی ، بل کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کی تعریفیں بھی شروع کر دی تھیں۔ ‘‘

بزرگِ محترم کی بات کاٹتے ہوئے سائل نے کہا کہ یہ فرضی داستان مجھے کیوں سنانا چاہتے ہیں آپ۔ ۔ ۔ ؟ کیوں آپ چاہتے ہیں کہ میں اس سوا ل کو بھول جاؤں جو میں نے آپ سے کیا ہے۔ جواباً ان کے چہرے پر مسکراہٹ کی ہلکی سے لکیر کھنچ گئی اور کہنے لگے

’’یہ تمھارے سوال کا جواب ہی تو ہے ، ذرا صبر سے کام لو‘‘

اب سائل نے تفنن طبع کے لیے ان سے کہا۔ ۔ ۔ کہیں یہ غلام عباس کی کہانی ’’بہروپیا‘‘ کا دوسرا ظہور تو نہیں۔

’’قطعاً بھی نہیں۔ ۔ ۔ وہ مثبت کردار تھا، جس کی جستجو اور طلب خیر کی جانب تھی جب کہ جو تذکر ہ ہم کر رہے ہیں وہ منفی ہے۔ ۔ ۔ سراسر منفیIMPOSTORکا لفظ اس کے لیے کم ہے۔ وہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور مہلک شخصیت کا مالک تھا۔ ‘‘

مکرر قطع کلامی پر معافی کا خواست گار ہوں ، میرا سوال تو  ابھی تک جواب طلب ہے ، سائل نے کہا تو  محترم فرمانے لگے

 ’’میں مختصر کرتا ہوں ! وہ فریبی تھا، اپنی حیثیت سے زیادہ جھوٹے دعوے کرتا تھا، جس عرصہ میں وہ غائب رہا نہ جانے وہ کیا کرتا رہا۔ ۔ ۔ لیکن واپسی پر اس نے مشہور کر دیا تھا کہ جس طاقت کے حصول کے لیے وہ برسوں مارا مارا پھرتا رہا ہے ، اسے حاصل ہو گئی ہے ، اب وہ دنیا پر حکم رانی کی قدرت رکھتا ہے ، مگر وہ ایسا کر ے گا نہیں ، کیوں کہ جس مرتبہ پروہ فائز ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس چھوٹے کام کو اوروں کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ وہ کہتا

’’حکومت اور حکم رانی تو چھوٹے کام ہیں ؛ میرا منصب ان سے بڑا ہے۔ ‘‘

کج فہموں نے اس کی اس بات کو مان لیا تھا اور اس کے ساتھ ہو بھی لیے۔ ان نادانوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ۔ ۔ جوں جوں یہ طبقہ بڑھتا گیا بہروپیے کی طاقت بھی بڑھنے لگی۔ پھر اس نے اپنی اسی حکمت کے تحت شہر پر قبضہ کر لیا۔ وہ جو کہتا تھا کہ حکومت اور حکم رانی سے مجھے کوئی نسبت نہیں باقاعدہ حکمران ، بل کہ جابر حکمران بن بیٹھا۔ اس نے اپنے معاون کے کہنے پر چن چن کر ان لوگوں کو خس و خاشاک بنایا جو ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے مگر۔ ۔ ۔

          مگر اب اسے سونے میں چلنے یا پھر چلتے میں سونے کی عادت ہو گئی تھی۔ رات رات بھر وہ عام لوگوں کی طرح سو نہیں سکتا تھا۔ ۔ ۔ اور ایسے عالم میں جب وہ خود کلامی کرتا تو  اس کے گھر والے اس کی ہذیان گوئی پر اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے۔ دل ہی دل میں اس پر لعنت بھیجتے اور پھر اس کی یہ خود کلامی اس کے گھرکی دیوار پھلانگ کر باہر نکل آئی۔ ۔ ۔ سڑکوں اور گلیوں پر پھیل گئی اور اب اسے اپنی بھی خبر نہیں رہی تھی۔ ۔ ۔ ! شیطانی طاقت اس سے چھن چکی تھی اور اس کے معاون نے ایک اور IMPOSTORکا تقرر کر دیا  تھا۔ ‘‘

وہ خاموش ہوئے تو سائل نے عرض کیا، جناب آپ نے تو ساری بات کو اُلجھا کر رکھ دیا ہے میں نے تو صرف اتنا پوچھا تھا کہ ’’بادشاہ مکر م‘‘ نے جاپانی وزیر اعظم جونی شیرو کوئی زومی کو ملّا محمد عمر کی بابت جو لطیفہ سنایا ہے اس پر آپ کا کیا رد عمل ہے۔ ۔ ۔ ؟ جس کے جواب میں آپ نے فرضی داستان سنا ڈالی۔ بزرگ بولے

’’کہانی کوئی بھی فرضی نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ اور کوئی کہانی عبرت سے خالی بھی نہیں ہوتی۔ میں تمھارے سوال کا جواب وضاحت سے دے چکا ہوں ، مگر ایک بات تمھارے سامنے اور بھی رکھتا ہوں۔ ہیو گو شاویز نے بش کو بر سر عام شیطان کہا۔ ۔ ۔ بہ قول شاویز کے

’’ شیطان اور اس کی قوتیں خیر کا تعاقب کر رہی ہیں۔ ‘‘

بزرگ خاموش ہوئے۔ ۔ ۔ اپنی چادر اُٹھا کر کاندھے پر رکھی اور چلے گئے۔ ۔ ۔

ریڈیو پر خبر نگار کی آواز آئی

’’آج فلوجہ، تکریت، بغداد اور بعقوبہ میں امریکی افواج کی فائرنگ سے سات سوکے قریب شہری جاں بہ حق ہو گئے۔ ۔ ۔ اُدھر افغانستان کے علاقہ زابل میں بھی امریکی بمباری سے سیکڑوں شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع آئی ہے اور پاکستان کے قبائل میں جھڑپوں سے سینتالیس شر پسند ہلاک اور چھ سیکورٹی اہل کار شہید ہو گئے ہیں۔ ‘‘

 

٭٭٭