کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

گُم راہ

خاور چودھری


میرے پاس کر نے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ کتابیں اُلٹتے پلٹتے کافی وقت گزر گیا۔ ۔ ۔ مگر چین آ کے ہی نہیں دیا۔ ایک کے بعد ایک کتاب اُٹھاتا۔ سرورق دیکھتا۔ ۔ ۔ اور پھر واپس رکھ دیتا۔ تب بیزاری کے عالم میں گھر سے نکل کر شہر میں بہتے ہوئے آدمیوں کے ریلے کے ساتھ میں بھی بہہ گیا۔ آدمیوں کے ہجوم میں ایک لمحہ کے لیے میں نے محسوس کیا جیسے میں اپنی شخصی شناخت کھو چکا ہوں اور ایک بے ہنگم و بے مقصد بھیڑ کا جزو بن کر رہ گیا ہوں۔ ۔ ۔ مگرایسا نہیں تھا۔ میں آنے جانے والوں کے چہروں کو دیکھ کر ان پر اُمڈتے ہوئے آثار و جذبات کو سمجھ سکتا تھا۔ ۔ ۔

          کہیں بہت زیادہ اطمینان تھا۔ ۔ ۔ اور کہیں تفکر ات کے سائے بڑھ رہے تھے۔ بازار میں آزاد اور خود مختار تانگوں کی ریل پیل، رکشوں کی چنگھاڑ، سائیکلوں اور بغیر سائیلینسر موٹر سائیکلوں کی آمدورفت ایک عجیب بیزاری پیدا کر رہی تھی۔ ۔ ۔ میں نے محسوس کیا جیسے ہر شخص جلدی میں ہے اور اپنے کاموں کو جلد سے جلد نبٹانا چاہتا ہے۔ گویا حشر کا وقت قریب آیا چاہتا ہو۔ دکاندار (اکثر و بیشتر) بڑے خریداروں کی خوشامدوں میں مگن اور معمولی رقم رکھنے والے گاہکوں سے بے نیازی برت رہے تھے۔ کوچوان ظاہری لباس سے اندازہ لگا کر چلنے والوں کو سوار ہونے کی پیش کش کر رہے تھے۔ ۔ ۔ ٹھیلے والے اپنی چیزیں بیچنے کے لیے اونچی اونچی آوازیں لگا رہے تھے۔

          یہ لکھنؤ کا بازار نہیں تھا۔ ۔ ۔ جہاں کے خوانچہ فروش ادب کی تمام منازل سے آشنا ہوتے تھے۔ ۔ ۔ سو، بے ترتیب، سخت ، کٹھور آوازیں کانوں کے پردے چیر کر رکھ رہی تھیں۔ ایک گلی سے دوسری اور پھر تیسری گلی سے نکلتا ہوا شہر کا شہر چھان مارا۔ جس جس جگہ سے گزرا ایک ہی کیفیت میں سب کو مبتلا پایا۔ وہی جلد بازی اور نفسانفسی کا عالم اور  خود غرضی اور بے جہتی کے مناظر۔ ۔ ۔ میں چلتا گیا۔ ۔ ۔ چلتا گیا۔ ۔ ۔ چلتا گیا۔ دفعتاً مجھے اپنے کندھوں پر کسی ہاتھ کا لمس محسوس ہوا۔ مڑ کر دیکھتا ہوں تو ایک دیرینہ جان کار ہے۔ ہاتھ ملایا، مگر دل کہاں ملتے ہیں اور ملتے بھی کیسے ، میں بھی اسی بے کراں بھیڑ کا حصہ ہوں جو ریلے کی صورت شہر میں بہہ رہا ہے۔ پوچھا گیا کیا خریدنے آیا ہوں ، جواب دیا کچھ نہیں۔ ۔ ۔ تو کہا گیا

’’آپ اور بازار میں بلاوجہ؟ کچھ سمجھ نہیں آیا‘‘

میں نے کہا

’’بس کچھ ایسا ہی ہے ‘‘

 اور دوبارہ ہاتھ ملا کر اس سے رخصت ہو جاتا ہوں۔ اس بے کار گھوما گھومی میں نہ جانے کتنا وقت صرف ہوا۔ ۔ ۔ اور پھر کس لمحہ میں شہر کے سو سالہ پرانے وسیع و عریض اسکول میں داخل ہوا۔ ’’بزم آرائی‘‘ جاری تھی۔ ملکی سیاست، مذہب، سائنس، ایجادات و اختراعات، سماجیات، علم و ہنر ، عقل و شعور سمیت بے شمار موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ محفل کے شرکا ، کیا کچھ کہتے رہے ، کچھ یاد نہیں۔ ۔ ۔

بیزاری نے گھر چھڑوایا ، بازار اور اب اسکول کی فضا تنگ ہو رہی تھی۔ اسی عالم میں مسجد سے مؤذن کی آواز بلند ہوئی۔ ۔ ۔ ایک گھڑی کے لیے سب لوگ خاموش ہوئے اور پھر سلسلۂ کلام جوڑ دیا۔ کچھ لوگ مغرب کی نماز کے لیے اُٹھے۔ ۔ ۔ ایک پل کی تاخیر کیے بنا میں بھی صف میں موجود تھا۔

          ’’مَثَلُ الَّذِینَ ینفِقُونَ اَموَالَھُم فِی سَبیلِ اللّٰہِ، کَمثَلِ حَبَّۃٍ، اَنبَتِت سَبعَ سَنَابِلَ، فِی کُلِّ سُنبُلَۃٍمّاِ ئَۃُ حَبَّۃٍ، وَاللّٰہُ یضٰعِفُ لِمَن یشَآ ئُ، وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ۔ ‘‘

پیش امام سورہ البقرۃ کی مذکورہ آیت تلاوت کر تے ہیں۔ نماز ختم ہوتی ہے۔ شہر میں آدمیوں کا ہجوم جوں کا تو ں ہے۔ میں پیدل چلتے چلتے اپنے محلہ تک پہنچ آتا ہوں۔ میرا پڑوسی کسی شخص کے ساتھ محوِ گفتگو ہے۔ میں نرمی سے

’’ا سلام علیکم‘‘

کہہ کر گزر جاتا ہوں ، مگر پیچھے سے پکارا جاتا ہے

 ’’سنیے ! ‘‘

میں اُلٹے پاؤں مڑتا اور کہتا ہوں

’’جی فرمایئے ‘‘

اجنبی کہتا ہے

’’میں اس محلّے کی آخری گلی کے بیچ والے مکان میں رہتا ہوں۔ چا لیس سال محنت مشقت کی۔ ۔ ۔ اور زندگی کو کاٹنے کے جتن کیے۔ جیسے مقرر تھی گزرتی گئی۔ گزشتہ دنوں میری بیٹی کی رخصتی ہوئی۔ قرض لے کر بیٹی کو رخصت کیا۔ میں شہر کے ناظم اور عشر و زکوٰۃ کمیٹی کے چیئرمین کے پاس گیا۔ اُن سے درخواست کی، مگر ایک ماہ گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ قرض خواہ جان کو ا رہے ہیں۔ میں بار بار بیت المال اور عشر و زکوٰۃ کمیٹی کے مقامی سربراہ کے پاس جا رہا ہوں۔ ۔ ۔ اور اب مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ وہ لوگ مجھ سے اُکتا گئے ہیں اور شاید میری مدد نہیں کرنا چاہتے۔ ‘‘

وہ ایک دم خاموش ہوا۔ اپنی قمیص کی داہنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک کاغذ میری جانب بڑھاتے ہوئے کہنے لگا

’’آپ سوچیں گے میں جھوٹ بک رہا ہوں ، بہانہ بنا رہا ہوں یا پھر بھکاری ہوں۔ ۔ ۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ دیکھیے ! یہ میری بچی کا نکاح نامہ ہے۔ ‘‘

ایک پل کے لیے جیسے وقت کی نبضیں چلنا بھول جاتی ہیں۔ ۔ ۔ تب وہ رونے لگتا ہے اور روتی ہوئی آواز میں کہتا ہے

’’میرے بچے آٹھ پہر سے بھوکے ہیں ، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ زہر خرید کر کھا سکوں۔ ۔ ۔ میں نہیں جینا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ میں نہیں جینا چاہتا ہوں۔ ‘‘

میرے دل کے ایک کونے میں درد کی لکیر ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ میں اسے تسلی دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ صبر کی تلقین کرتا ہوں ، زندگی کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہوں۔ میرے دماغ میں مغرب کی نماز میں تلاوت کی گئی آیت کا ترجمہ

’’اللہ کی راہ میں خرچ کر نے والوں (کے اس عمل ) کی مثال اُس دانے کی سی ہے جس سے سات با لیں نکلیں ، اس طرح کہ ہر بال میں سو دانے ہوں۔ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے ، بڑھا دیتا ہے۔ اور اللہ بڑی وسعت والا ہے ، وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ ‘‘

لفظ بہ لفظ جاگتا ہے۔ میں اس کا ہاتھ پکڑ کر دباتا ہوں۔ ۔ ۔ اور اس سے ٹھہرنے کی درخواست کر کے گھر آتا ہوں اور خاتون خانہ سے کہتا ہوں

’’کھانے میں جو کچھ تیار ہے دے دیں ‘‘

پھر ماحضر اس کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ ۔ ۔ اور آنسوؤں کی ایک لڑی میری آنکھوں سے جاری ہو جاتی ہے۔ میرا پڑوسی اپنی جیب سے کچھ نقدی نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھتا ہے ؛ جسے وہ بہت حجت کے بعد قبول کرتا ہے۔ میں اجنبی کے سامنے عرض کرتا ہوں

’’صبح میں ناشتا لے کر حاضر ہو جاؤں گا اور ان شاء اللہ میں آپ کے ساتھ چیئرمین زکوٰۃ کمیٹی اور ناظم کے پاس بھی جاؤں گا۔ ‘‘

وہ ’’جی۔ ۔ ۔ ‘‘کہتا ہوا چل دیتا ہے۔

          میری رات یوں کٹتی ہے جیسے آگ کے بستر پر کسی نے ڈال دیا ہویا پھر وجود کے اُوپر کسی نے بھاری چٹان رکھ چھوڑی ہو۔ ۔ ۔ میں صبح اپنے ناواقف محلے دار کے دروازے پر دستک دیتا ہوں تو ایک معصوم اپنی آنکھیں ملتا ہوا باہر آتا ہے۔ میں اس کے والد کا پوچھتا ہوں تو وہ بتاتا ہے کہ

 ’’ابا تو  صبح ہی کہیں چلا گیا تھا‘‘

میں ناشتا اس کے ہاتھوں میں تھما کر لوٹ آتا ہوں۔ میں نے سوچا اگر ہمیں کوئی دنیاوی سودے بازی میں ایک کے بدلہ میں سات سوکی پیش کش کر ے تو ہم تمام قوت لگا کر نہ صرف قبول کریں گے۔ ۔ ۔ بل کہ دوسروں کے سروں سے گزریں گے ، مگر یہاں معاملہ اور ہے۔ ہماری کج فہمی اور نالائقی ہمیں حقیقی فائدے تک پہنچنے نہیں دیتی۔ میں اپنے آپ کو ملامت کرتا رہا اور اس معاشرہ کی بے حسی پر کڑھتا رہا ، جس کا میں بھی فرد ہوں۔ میں نے حضرت عمر فاروقؓ کے مثالی عہد کو یاد کیا ، جس میں کسی کتے کے بھوکا رہ جانے کا غم امیرالمومنین کو چین نہیں لینے دیتا تھا۔ ۔ ۔ مجھے وہ بدو یاد آتا ہے جو امیرالمومنین سے قمیص کا حساب مانگتا ہے۔ اذیت کا بارِ گراں بڑھتا گیا اور میرا سر ندامت سے جھکتا رہا۔ ۔ ۔ میں بھی تو  آدمیوں کی اسی بھیڑ کا حصہ ہوں ، جو شہر میں کسی ریلے کی صورت بہہ رہا ہے۔ اور وہ لیاقت آباد ، لاہو رکا چا لیس سالہ فدا حسین جو غربت اور بیماری سے اُکتا کر خود کو ختم کر بیٹھا ہے۔ اس کے پاس دوا لینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ ۔ ۔ مگر زہر کے لیے تھے۔

          گم راہ تھا وہ ، کیوں کہ خودکشی حرام ہے۔ ۔ ۔ ظلم کیا اس نے اپنی جان پر۔ ۔ ۔ خیانت کی اس نے۔ ۔ ۔ مگر۔ ۔ ۔ تو  کیا وہ اکیلا دوزخ میں زقوم پیے گا۔ ۔ ۔ ؟

 

٭٭٭