کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پرانا منظر

خاور چودھری


’’اسکندر کا نام تم نے ضرور سن رکھا ہو گا، اس کی فتوحات کا سلسلہ دنیا تک پھیلا ہوا تھا۔ اس کی ہیبت سے انسان لرزاں رہتے تھے ، ملکوں کے سربراہ اس کا نام سن کر چکر ا جاتے تھے۔ جو دم خم ظاہر کرتا وہ کچلا جاتا تھا اور جو زندہ رہنا چاہتا وہ اس کا تابع فرماں ہو جاتا۔ ہلاکو اور چنگیز کی کہانیاں بھی تو تم نے سن رکھی ہوں گی۔ ۔ ۔ اور ہٹلر کو تو  تم جانتے ہی ہو گے ؟ وہی نازی آمر ایڈولف ہٹلر جس نے دوسری جنگ عظیم میں اپنی سربراہی میں قائم کیے گئے کیمپوں میں مقیم لاکھوں یہودیوں کا صفایا کر دیا تھا۔ جس نے روس نواز ہندوستانی راہ نما سبھاش چندر بوس کو ہندوستان کی آزادی کے لیے ان قیدیوں پر مشتمل فوج بنانے میں مدد دی تھی جنھیں جنرل رومیل نے اتحادی افواج کے لیے لڑنے پر گرفتار کیا تھا۔ اور اسی ہٹلر کی ہیبت ناکی سے دنیا کا سکون غارت ہو کر رہ گیا تھا۔ ۔ ۔ مگر وہ لمحہ بھی آیا جب اس نے اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔ اور اب بش کی وحشت ناکیوں سے انسان کا سکون برباد ہو کر رہ گیا ہے۔ پُر امن رہنے والے بے گناہ لوگوں کو ان کے گھروں کے اندر موت کی وادی میں دھکیلا گیا۔ بغداد کے گلیوں سے شروع ہونے والے ظلم کا سفر کابل اور اس کے نواحی علاقوں کو محیط ہو گیا۔ خون کے ذائقہ سے زبان عادی ہو گئی تھی، اس لیے صبر نہ ہو سکا اور اب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دندناتا پھر رہا ہے۔ ہزاروں کا خون پی چکا ہے ، مگر ہنوز پیاسا ہے۔ پہلے طالبان کی یہاں موجودگی کا بہانہ بنا کر یہاں نکل آتا تھا اور اب براہِ راست اسامہ کی یہاں موجودگی کا الزام لگا کر آیا کھڑا ہے۔ بے گناہ انسانوں کو ان کی اپنی زمین پر روند دینا چاہتا ہے۔

 ہاں۔ ۔ ۔ ! میں جانتا ہوں بش بھی اسکندر کی طرح دنیا کو فتح کر نے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اسی پر کیا موقوف عراق میں شب خون تو اس کے باپ نے مارا تھا اور اس کے پیش رو، ویت نام میں بھی تو اُترے اور لڑے تھے ، مگر۔ ۔ ۔ مگر کیا ہوا، کیا ہوتا ہے ؟ کسی کو بھی اپنی سانس پر قدرت نہیں ، کوئی بھی اپنی مرضی سے اپنی زندگی کو طول نہیں دے سکتا۔ اسکندر نہیں رہا ، چنگیز ، ہلاکو اور ہٹلر بھی۔ ۔ ۔ تو بش کیوں کر رہ سکتا ہے۔ البتہ تاریخ کے اوراق پران کے مظالم کی تصویریں اب بھی ملتی ہیں اور انسان اب بھی ان کے نام سن کر ناگواری ظاہر کر تے ہیں۔ ‘‘

 احسان الٰہی صاحب کاسلسلۂکلام دفتر میں آنے والے ایک شخص نے کچھ دیر کے لیے معطل کر دیا تھا، سلسلہ بہ حال ہوا تو  کہنے لگے :

          ’’انقلابی راہ نما سبھاش چندر بوس ہندوستان کو آزاد دیکھنا چاہتا تھا۔ اس کی آزادی کی خاطر وہ گیارہ مرتبہ برطانوی حکومت کے ہاتھوں پا بہ زنجیر ہوا اور آخرکار ایڈولف ہٹلر کے کہنے پر ہندوستان سے فرار ہو کر جرمنی چلا گیا۔ جس طرح کہ سبھاش چندر بوس کی فوج بنانے میں ہٹلر نے معاونت کی تھی، اسی طرح اس نے اسے ہندوستان کا جلاوطن راہ نما بھی تسلیم کر نے کا عندیہ دے رکھا تھا۔ ۔ ۔ مگر جب روس نواز اس ہندوستانی انقلابی پر ہٹلر کے سویت یونین سے ٹکرانے کے عزائم ظاہر ہوئے تو وہ وہاں سے فرار ہو کر جاپان چلا گیا۔

          تم جانتے ہو ہٹلر نے اسے ہندوستان کا حکمران تسلیم کر نے کا عندیہ کیوں دیا تھا ؟ اس لیے کہ وہ اتحادی افواج پر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ ’’ہٹلر کی طاقت ہندوستان تک پھیلی ہوئی ہے ‘‘ اسے ہندوستان اور اس کے عوام کی غلامی یا آزادی سے کوئی مطلب نہیں تھا، بالکل اسی طرح بش کے پیشواؤں نے کیا اور اب وہ خود کر رہا ہے۔ عراق، افغانستان اور پاکستان کی ترقی اور خوش حالی سے اسے کوئی دل چسپی نہیں اور نہ ہی ان ممالک کے راہ نماؤں سے۔ ۔ ۔ اگر ہے تو اسے اپنے ذاتی مقاصد سے۔ جنھیں حاصل کر نے کے لیے گاہے وہ ’’امداد‘‘ دیتا ہے اور گاہے دھمکیاں۔ جب ان سے کام بن نہیں پڑتا تو  بلا روک ٹوک ان ممالک پر چڑھ دوڑتا ہے۔ ‘‘

          ’’تم ہٹلر کا پوچھتے ہو! ہٹلر بہت منظم شخص تھا۔ نازی افواج کے کاندھے اس کے لیے ایسے استعمال ہوئے جیسے خود اس کے اپنے ہوں۔ اس کے ساتھی ایسے تھے کہ اس کے اَبرو کی جنبش پر جان وارنے کو تیار رہتے۔ چٹانوں سے ٹکرا جاتے ، مگر پیچھے نہ ہٹتے۔ ہٹلر کے نظم و ضبط کا اندازہ اس سے کر و کہ اس کے پروپیگنڈا چیف جوزف گوبلز (جو ہٹلر کے مرنے کے بعد نازی افواج کا خود ساختہ سالار بنا) کی بیوی نے اپنے چھ کم سن بچوں کو زہر دے کر ہلاک کر دیا تھا اور خود بھی زہر کھا لیا تھا، تا کہ مخالف افواج کی قید میں نہ آئے۔ یہی نہیں اس کے اکثر ساتھیوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنی جان پر گولیاں چلائیں اور بعض بھاگ نکلے مگر۔ ۔ ۔ مگر انھیں میں اس کا ایک انتہائی قریبی ساتھی ، فوج کا اعلیٰ افسر سٹوفن برگ جو جرمنی کے رئیس خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ ۔ ۔ بھی شامل تھا۔ اس شخص نے 22 جولائی1944ء کو مشرقی پروشیہ (اب پولینڈ) میں واقع ہٹلر کے دفتر میں بریف کیس کے اندر بم نصب کر کے رکھ دیا تھا۔ وہ تو  ہٹلر کا جینا باقی تھا، اس لیے بچ گیا اور پھر اس دھماکا کے صرف چند گھنٹوں کے بعد ہٹلر نے سٹوفن برگ اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کروا کے تختہ دار پر لٹکا دیا تھا۔

          حیران ہونے کی ضرورت نہیں اب جرمن قوم ہٹلر کو ولن اور سٹوفن برگ کو ہیرو سمجھتی ہے۔ 20جولائی 2004ء کو جرمن چانسلر نے برلن میں ہزاروں افراد اور ملک کے صدر کے ساتھ مل کر سٹوفن برگ اور اس کے ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کر نے کا اہتمام کیا تھا۔ اب 18اگست 2006ء میں ممبئی میں شا کر صدیقی اور اس کے ہندو ساتھی نے مل کر ’’ہٹلر کر اس‘‘ کے نام سے کیفے کا افتتاح کیا تو اسرائیلی قونصلر جنرل ڈینیل زونشائین نے برہمی ظاہر کی۔ اس کا حق بنتا تھا ، مگر ہندوستان میں موجود جرمنی قونصلر جنرل نے بھی کیفے کو ہٹلر کے نام منسوب کر نے پر افسوس کا اظہار کیا۔ گویا ہٹلر خود جرمنوں میں بھی ناپسندیدہ ٹھہر چکا ہے۔

          ٹھیک ہے کچھ لوگ ہٹلر کے حامی ہو سکتے ہیں اور ہونے بھی چاہییں کہ شر اور خیر کی طاقتوں کا سفر ساتھ ساتھ رہتا ہے ، مگر ضروری نہیں جو ہٹلر کا نام لے وہ اس کے نظریات اور فلسفے کی حمایت بھی کرتا ہو۔ تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو، جن لوگوں نے ہٹلر کے ہاتھوں کی بنی ہوئی پینٹنگز اور اسکیچ 2 لاکھ 24 ہزار ڈالرز میں انگلینڈ کے نواحی قصبہ میں خریدے ہیں۔ ۔ ۔ وہ ہٹلر سے عقیدت رکھتے ہیں ، مگر ممکن ہے یہ لوگ بھی سٹوفن برگ کی طرح ہوں۔ ۔ ۔

           وہ جو خود کو طاقت کا سر چشمہ سمجھنے لگا تھا۔ ۔ ۔ مگر آخر آخر اپنے آپ سے خوف کھانے لگا۔ ہٹلر کی ذاتی نرس 93سالہ ایرنا فلیگیل نے 2 مئی2005ء  کو اپنے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ایڈولف  ہٹلر آخری دنوں میں بہت زیادہ خوف زدہ تھا۔ اسے یہ بھی دھڑکا لگا رہتا تھا ، کہیں جاسوس اس کے زہریلے کیپسولوں سے زہر نکال کر نقلی زہر نہ ڈال دیں اور وہ زندہ بچ جانے پر دشمنوں کے ہتھے چڑھ جائے۔ دشمنوں کی طرف سے ممکنہ اذیت کا تصور اس کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ ‘‘

’’آپ کے خیال میں ہٹلر ہیرو تھا یا ولن؟ ‘‘

میں نے سوال کیا، جس کے جواب میں انھوں نے کہا

’’راشد منہاس شہید کے حوالے سے نذیر ناجی کا کالم تم نے ضرور پڑھا ہو گا، میرا جواب وہی ہے۔ ‘‘

احسان الٰہی صاحب خاموش ہوئے تو میں نے اپنا سوال دہرایا جس کے جواب میں کہنے لگے

’’میں سمجھتا ہوں کوئی بھی شخص اعتدال کی حدیں تجاوز کرتا ہے وہ خیر کا ساتھی نہیں ہو سکتا، اب ہیرو اور ولن کا لیبل خود لگا لیجیے۔ ‘‘

          احسان صاحب چلے گئے ہیں اور میں۔ ۔ ۔ پرانے اور نئے منظر کے درمیان کی گم شدہ کڑیاں تلاش کر رہا ہوں۔

٭٭٭