کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

چیخوں میں دبی آواز

خاور چودھری


میں بہت دیر سے اپنے وجود کو نوچ رہا ہوں ، چٹکیاں لے رہا ہوں ، چوٹ لگا رہا ہوں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا مجھ میں زندگی کی کوئی رمق باقی ہے ؟ میں بہت دیر سے اپنے دماغ کے خوابیدہ خلیوں کو جگانے میں مصروف ہوں ، اپنے دل کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے خون کی حالت دیکھنا چاہتا ہوں ، مگر شاید میرے وجود کی ساری حسیات زنگ آلود ہو چکی ہیں ، میرے دماغ کے تمام تر خلیے مر چکے ہیں ، ٹھاٹیں مارتا ہوا دل کا لہو برف میں بدل چکا ہے اور میری ذات کے اظہار کی تمام علامتیں مٹی میں مٹی ہو چکی ہیں۔ میرے وجود کی گواہی دینے والی تمام قدریں تباہ ہو چکی ہیں ، میرے جسم کو خوب صورتی اور رعنائی عطا کر نے والے تمام لباس وقت کی بے لحاظ و بے قدر ہواؤں کی نذر ہو چکے ہیں۔ ۔ ۔ اور میں اپنے شکستہ و برہنہ وجود کے ساتھ کھڑا ہوا ہوں۔ نہیں جانتا ہوں کہ دنیا کی نظریں ایسے انسان میں کیا تلاش کر رہی ہیں جو اپنے دماغ کے مردہ خلیوں اور اپنے دل کے سرد اور جمے ہوئے لہو کے ساتھ عریاں موجود ہے۔

          آپریشن کاپہلا دن۔ ۔ ۔ دوسرا۔ ۔ ۔ تیسرا۔ ۔ ۔ چوتھا۔ ۔ ۔ اور پھر آخری دن بھی گزر گیا۔ میں ساکت و مبہوت ان تمام واقعات سے ایک طرف مٹی میں گڑا رہا۔

کتنی جانیں اپنے بھائیوں کے ہاتھوں جل کر خاکستر ہوئیں ، کتنے ارمان رزقِ خاک ہوئے ، کتنے جواں بدن گولیوں کی آگ پی گئے ، کتنی اَدھ کھلی کلیاں بے لحاظ بارُود سے جھلس گئیں ، کتنے تازہ کھلے پھول مٹی میں روند گئے۔ ۔ ۔ ؟ میں نہیں جانتا۔

باپوں نے اپنے بیٹوں کے زخموں کو کیسے چاٹا یا چاٹا ہی نہیں ، میں نہیں جانتا کہ ماؤں نے اپنی بیٹیوں کو اپنے سینے سے کیسے لگایا یا پھر لگایا ہی نہیں ، میں نہیں جانتا بھائیوں نے اپنی بہنوں کے سروں پر دستِ شفقت کیسے رکھایا پھر رکھا ہی نہیں ، میں نہیں جانتا بے تاب گودیں اپنے وجود کے حصوں کی حدت سے کیسے لذت آشنا ہوئیں یا پھر ہوئیں ہی نہیں۔ میں نہیں جانتا سہاگنوں کے سروں کے تاج کیسے سلامت لوٹے یا پھر لوٹے ہی نہیں۔ جلتی آگ اور کھولتی گولیوں کی بارش نے کتنے گھر اُجاڑے اور کتنے در توڑے ، میں کہاں جانتا ہوں۔ ۔ ۔ رسول مکر م صلی اللہ علیہ و الہٖ و سلم کے سینۂ پاک سے نکلی ہوئی کتاب کی حالت کیا ہوئی، منبر و محراب کی عظمتوں کا کیا بنا، حدیث و فقہ کے اظہاریے کیا ہوئے ؟ میں نہیں جانتا۔ ۔ ۔

وہ ایک شخص۔ ۔ ۔ ایک شخص، جسے ہٹ دھرم، انتہاپسند، خودغرض، ایجنسیوں کا گماشتہ، ریاکار، بڑ بولا، اغوا کار و منتشر دماغ کہا گیا۔ سیکڑوں بے گناہ جانوں کے ضیاع کا قصور وار ٹھہرایا گیا ، کیا ہوا؟ ۔ ۔ ۔ میں نہیں جانتا۔

          لوگ جلتے رہے ، پھول گرتے رہے ، کلیاں مسلتی رہیں ، سہاگ لٹتے رہے ، کوکھیں اُجڑتی رہیں ، بیبیاں بے پردہ ہوتی رہیں ، بیٹیاں درد سے بلکتی رہیں ، بھائی زخموں سے کراہتے رہے۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ اور میں ایک طرف زمین میں گڑا رہا۔

کتنے لوگ معبد خانہ میں بھوک اور پیاس سے نڈھال و بدحال رہے ؛ میں نہیں جانتا۔ کون پتے کھا کر اور بارش کے پانی کی بوندیں پی کر زندگی سے جنگ لڑتا رہا اور کون دھوئیں کی آندھیوں سے نبرد آزما رہا، میں نہیں جانتا ہوں۔

          آپریشن کا پہلا دن۔ ۔ ۔ دوسرا۔ ۔ ۔ تیسرا۔ ۔ ۔ چوتھا۔ ۔ ۔ اور پھر آخری دن بھی گزر گیا۔ میں زمین میں گڑا ہوا تھا، گڑا ہوا ہوں۔ وہ جگہ جہاں سر و سینہ خالق کے سامنے جھکتے تھے۔ ۔ ۔ خون سے لال تھی۔ ۔ ۔ گولیوں کی آواز مدھم ہوئی تو اس کی جگہ بوٹوں کی آواز نے لے لی۔ میرے بھائی اپنی ’’فتح‘‘ پر بکتر بند گاڑیوں سے سر نکالے ’’وکٹری‘‘ کا نشان بنائے گزرتے رہے ، میرے بھائی اپنی فتح کی داستانیں مسلسل سناتے رہے۔

          لوگ چلتے رہے ، جیتے رہے اور میں مرتا رہا۔ ۔ ۔ مرتا رہا۔ اور دُور بیٹھے ہوئے لوگ ہمارا تماشا دیکھتے رہے۔ ہمارا تماشا! کہ ہم نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے جسموں کو چھلنی کیا ، اپنی ہی زبانوں سے خود پر زہر اُگلا اور اپنے ہی غلبہ سے خود کو مغلوب کیا۔

           اور اب۔ ۔ ۔ اب میں ’’زندہ‘‘ ہوا ہوں تو مجھے اس ظلم کا احساس ہوا ہے ، جو آپریشن کی صورت ظاہر ہوا تھا۔ اب میں احتجاج کروں گا۔ ۔ ۔ پُر امن احتجاج۔ ۔ ۔ غیر مسلح احتجاج۔ ۔ ۔ اور پھر آنے والے دنوں میں ، نئے موقعوں سے مستفید ہوں گا۔ ۔ ۔

یہ احتجاج، دکھ، غم تو چند گھڑی کے ہیں یا پھر دکھلاوے کے۔ ۔ ۔

          حیف ، صد حیف! دماغ کے مردہ خلیوں اور سینے کے ٹھنڈے لہو کے باوجود میں خود کو زندہ سمجھتا ہوں ، سمجھتا رہا، سمجھتا رہوں گا۔ ۔ ۔ گولیاں چلتی رہیں گے ، معبدیں پامال ہوتی رہیں گی، سینۂپاک صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلم سے نکلی ہوئی باتیں بے قدروں کا نشانہ بنتی رہیں گی ، بوٹوں کی آواز سنائی دیتی رہے گی اور وکٹری کا نشان بنائے ہاتھ اُٹھتے رہیں گے۔

ہم اپنے زخموں کو چاٹتے رہے ہیں ، چاٹتے رہیں گے۔ ۔ ۔

الاماں و الحفیظ! بہروپوں ، خود غرضوں ، مکاروں اور بے ترسوں میں گھری ہوئی یہ قوم اپنے دماغ کے مردہ خلیوں کے باوجود خود کو زندہ سمجھتی ہے ، اپنی نسوں میں جمے ہوئے خون کو زندگی کی علامت تصور کرتی ہے۔ اور آسماں بھی خاموش ہے ، نہ ہی ٹوٹ کر گرا۔ ۔ ۔ اور نہ ہی زمین پھٹی۔ ۔ ۔ مگر میں زندہ ہوں

میں زندہ ہوں ، تبھی تو اس گونجتی آواز

’’تو کیا کوئی معجزہ نہ ہو گا؟

ہمارے سب خواب وقت کی بے لحاظ آندھیوں میں جل بجھیں گے

دونیم دریا و چاہِ تاریک و آتشِ سرد جاں نوازی کے سلسلے ختم ہو گئے کیا؟

تو کیا کوئی معجزہ نہ ہو گا؟

خدائے زندہ! تیری سجدہ گزار بستی کے سب مکینوں کی التجا ہے

کوئی ایسی سبیل نکلے کہ تجھ سے منسوب گل زمینوں کی عظمتیں پھر سے لوٹ آئیں

وہ عفو کی، درگزر کی، مہر و وفا کی بھولی روایتیں پھر سے لوٹ آئیں

وہ چاہتیں ، وہ رفاقتیں ، وہ محبتیں پھر سے لوٹ آئیں۔ ۔ ۔ ‘‘

کو میں نے سنا اور اس کا ہم نوا ہوا۔ ۔ ۔ مگر کیا محض لفظوں ، خواہشوں سے یہ سب ممکن ہوا ہے ؟ اگر ممکن ہوتا تو  سانحۂ لال مسجد رونما نہ ہوتا۔ اپنے جسے ایجنسیوں کا آلہ کار کہتے رہے ؛ پیوندِ خاک نہ ہوتا۔

اب خدا جانے کون سرخ رو ہوا؟ ۔ ۔ ۔ اگرچہ ہر ایک خود کو دانا و حق پرست سمجھتا ہے ، میں سوچتا ہوں ، اپنی بات پر جم جانے والوں اور وعدوں کو توڑ کر فخر کر نے والوں میں کتنا فرق ہوتا ہے ؟

          بادشاہِ وقت کو للکارنے والے اس شخص کا جرم۔ ۔ ۔ ؟

مسجدوں کی شہادت کا گلہ اور نفاذ شریعت کا مطالبہ سبھی نے کیا۔ ۔ ۔ مگر مجرم ایک وہ۔ ۔ ۔ ؟ آنٹی

کا قضیہ۔ ۔ ۔ مساج سینٹر کی روداد ، ویڈیو سینٹرز کا جلاؤ گھیراؤ۔ ۔ ۔ جرم ہی نہیں بہت بڑے جرائم ہیں۔ ۔ ۔ کراچی میں گرنے والی اڑتا لیس بے گناہ لاشوں سے بھی بڑے۔

          بات کچھ اور تھی ، بات کچھ اور ہے۔ جسے ہر ایک جانتا ہے ، مگر زبان  پر لانے کی قدرت نہیں رکھتا کہ جان ہر ایک کو عزیز ہے۔

جہاں بولنے والوں کا انجام ’’اس‘‘ کی طرح ہو، وہاں بولنے کی جرأت کون کر ے ؟ جلتی آگ میں کون کو دے کہ، جب یہ ایمان ہی نہ ہو کہ نار گلزار ہو بھی سکتی ہے۔ گھاٹے کا سودا کون کر ے ؟ مگر اُس نے کیا، جان گنوا دی، الزام سر لیے اور لیتا رہے گا۔

اب رونے ، کر لانے والوں کو خبر ہو کہ ، جو سفر بادشاہ نے شروع کیا تھا۔ ۔ ۔ وہ جاری ہے اور رونے والوں کی زندگیوں تک جاری رہے گا۔

          بادشاہ کی ڈھیل۔ ۔ ۔ ؟ مذاکرات۔ ۔ ۔ ؟ مذاکرات میں ناکامی۔ ۔ ۔ ؟ وقت پرست عالموں کی خاموشی۔ ۔ ۔ ؟ بادشاہ کے دنیاوی بادشاہ کی خوشی اور بادشاہ کے دوست کی ناراضگی۔ ۔ ۔ ؟ حقیقت کیا ہے ؟ سب جانتا ہوں ، سب جانتے ہیں ، مگر۔ ۔ ۔ !

          وقت کے بے ہنگم شور میں اس کی آواز بھی دب گئی تھی۔ ۔ ۔ تو میری آواز کون سنے ؟ چیختا ہوں تو اپنے ہی کانوں کے پردے پھٹتے ہیں۔ ۔ ۔ اور آواز۔ ۔ ۔ آواز تو  مردہ چیخوں میں دب بھی چکی۔ ۔ ۔ مر بھی چکی۔

 

٭٭٭