کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

زہر

خاور چودھری


بہت سال بعد جب میرا اس سے سامنے ہوا تو  ایک لمحہ کے لیے میں اسے پہچان ہی نہ پایا، سراپا وہی تھا۔ ۔ ۔ مگر جس رُوپ سے وہ ظاہر ہوا تھا، گزشتہ سالوں میں اس کی یہ حالت کب دیکھ سکا تھا؟ اور دیکھتا بھی کیسے۔ ۔ ۔ پانچ ہزار روپے ماہ وار کمانے والا شخص بھلا تین ہزار کا سوٹ اور پچیس سوکے بوٹ کیسے برداشت کر سکتا ہے۔ 25ہزار کا موبائل فون اور نئی آلٹو سے اُسے کیوں کر مطابقت ہو سکتی ہے ؟

لگ بھگ سات سال پہلے جب پہلی مرتبہ وہ میرے پاس آیا تھا تو   حلیہ سے کسی چورا ہے کا مزدور لگتا تھا، مگر اب۔ ۔ ۔ اب تو وہ ٹھیک ٹھاک ’’مزے ‘‘ میں تھا۔ میری حیرتوں کو توڑتے ہوئے اس نے کہا

’’اَجی کیا دیکھ رہے ہیں ، میں ہوں اسحاق، میرا مطلب ہے خاکا‘‘

 اور پھر بازو پھیلا کر میری طرف بڑھ گیا۔ میں نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا، ابھی میں اس سے سوال کر نے ہی والا تھا کہ، اس کے موبائل سے چڑیوں کی چہچہاہٹ سنائی دی۔ نہ جانے دوسری طرف کون تھا، البتہ یہاں سے کہا گیا

’’نہیں ، نہیں اس مرتبہ میرے تمام آدمی جائیں گے ، کسی ایک کو بھی ڈراپ نہیں کیا جا سکتا، یہ آپ کا مسئلہ ہے ، میرا اعتبار خراب نہ کریں۔ ‘‘

 اور پھر موبائل بند کر دیا گیا۔

’’یہ حال ہے ان لوگوں کا، کام نہ دو تو  تب منتیں کر تے ہیں اور جب دے دو تو ان کے نخرے بڑھ جاتے ہیں۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے ، 25 افراد کی رقوم تین ماہ سے اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں اور اب کہہ رہا ہے کہ دس آدمیوں کو اگلی بار روانہ کر دیں گے۔ ‘‘

مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا تھا۔ لیکن ایک نئے سوال نے دماغ میں سرسراہٹ کی کہ، خاکے جیسا شخص اتنا بڑا کام کیوں کر کر سکتا ہے ؟ وہ تو جب میرے پاس بیٹھتا تھا ، گھنٹوں اس کا منہ نہیں کھلتا تھا۔ ۔ ۔ اور جو کبھی زبان چلتی بھی تھی تو جی، ہونہہ، بہتر سے بات آگے نہ بڑھتی۔ یقیناً اتنی بڑی تبدیلی میرے لیے تعجب خیز تھی۔ میں اسی کش مکش میں تھا کہ اس سے پوچھوں۔ ۔ ۔ مگر اسی دوران اس کے موبائل میں پھر چہچہاہٹ پیدا ہوئی، موبائل آن ہوا

’’ہاں عمران! زرنگار کارپوریشن والوں کو دس آدمیوں کی فہرست دے دو، افضل ریکر وٹنگ ایجنسی والے کیا کہتے ہیں ؟ ، چلو ٹھیک ہے ، ایک گھنٹہ بعد مجھے بتاؤ۔ ‘‘

          ٹیلی فون کو ایک طرف رکھتے ہوئے اسحاق نے بتایا کہ وہ گزشتہ چار سال سے بندے باہر بھجوا رہا ہے ، مختلف اداروں کے ساتھ اس کی کمٹ منٹ ہے ، کراچی ، لاہور اور پش اور میں اس نے اپنے دفاتر کھول رکھے ہیں۔ جہاں لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ تم اس طرف آئے کیسے ؟ وہ مسکرایا اور پھر بولنا شروع کیا

’’جن دنوں میں آپ کے یہاں آیا کرتا تھا، تب میں گھر کا خرچ چلانے سے قاصر تھا۔ اس دوران ایک عزیز نے بتایا کہ سعودی عرب کے لیے بھرتی آئی ہے ، اگر تم چا ہو تو  تمھاری بات کروں ؟ میں اپنے حالات سے تنگ تھا، مجھے سہارا چاہیے تھا اس لیے فوراً تیار ہو گیا۔ رشتہ داروں سے اُدھار پکڑا، بیوی کے زیور فروخت کیے اور ایک لاکھ روپے جمع کر کے ایجنٹ کے حوالے کر دیے۔ پانچ ماہ گزر گئے لیکن میں باہر نہ جا سکا، ایجنٹ غائب ہو گیا۔ جس نے جہاں کا بتایا، میں وہاں اسے ڈھونڈنے نکل گیا۔ ۔ ۔ اور آخر اس تک پہنچ ہی گیا۔ ملنے پر اس نے کہا کہ ’’میرے ساتھ فراڈ ہو گیا تھا، اس لیے غائب ہو گیا۔ اب ایک صورت ہے ، ملائشیا کے لیے بندے بھجوا رہا ہوں ، بندے لاؤ اور اپنی رقم وصول کر لو ، کام پکا ہے۔ ‘‘اس طرح میں نے کام شروع کر دیا۔ خود تو  مزدوری کے لیے باہر نہیں جا سکا۔ ۔ ۔ مگر لوگوں کو بھجوانے کا راستہ مل گیا ہے ، صاف ستھرا کام کرتا ہوں ، کام ہو جانے پر معاوضہ لیتا ہوں۔ ‘‘

میں نے پوچھا اتنا سب اسی کام سے کمایا ہے تو کہنے لگا

’’اللہ دے بندہ لے۔ ‘‘

سنا ہے اور مشاہدہ بھی ہے ایجنٹوں کے ہاتھوں کئی گھر اُجڑے ہیں ، لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہوئی ہیں اور کئی ایجنٹوں کو رو پوش ہوتے دیکھا ہے ، کہیں تم کسی گرداب میں نہ پھنس جاؤ۔ میں نے کہا تو  اس نے بلند آواز میں قہقہہ لگایا اور گویا ہوا

’’ہاں۔ ۔ ۔ ! ہوتا ہے اس طرح، میرے ساتھ بھی ہوا تھا، میری زندگی بھی اجیرن ہو گئی تھی ، قرض خوا ہوں کے ہاتھوں عزت تک غیر محفوظ ہو گئی تھی، لیکن میں نے سمجھ داری سے کام لیا اور آج آپ کے سامنے ہوں۔ ‘‘

اگر تمھیں چانس نہ ملتا تو  تمھارا کیا حال ہوتا؟

’’شاید میں بھی اوروں کی طرح پریشان ہوتا‘‘

اس نے کہا۔ ۔ ۔ اور پھر کہنے لگا

’’چھوڑیے صاحب! یہ دنیا ہے یہاں اسی طرح چلتا ہے ، آپ سنائیں ؟ ‘‘

تمھارے سامنے ہوں ، میں نے کہا۔ ایک نظر اس نے میرے دفتر کی چھت پر ڈالی، پھرسیاہ شیشوں سے باہر کی طرف دیکھا، دفتر میں پڑی ہوئی چیزوں پر اچٹتی نگاہ دوڑائی اور کہنے لگا

’’کافی خستہ حالت ہے۔ آپ کو دفتر بدلنا چاہیے یا کم از کم ڈیکوریٹ  کرنا چاہیے اور نیا فرنیچر بھی ڈلوانا چاہیے۔ ‘‘

 ہے تو ! ۔ ۔ ۔ مگر گزر ہو رہی ہے۔ ۔ ۔ میں نے کہا۔

’’آپ چاہیں تو  میں اس دفتر کو بنوا دیتا ہوں ، ہمارے ساتھ کام کیجیے ، دن پھر جائیں گے۔ ‘‘

جب خاکا یہ کہہ رہا تھا تو   میرے ذہن میں ایک واقعہ نے انگڑائی لی جو اسی زمین پر پیش آیا اور مجھے ایک مہربان نے سنایا تھا۔ پھر خود بہ خود میری زبان سے اس واقعہ کا بیان شروع ہو گیا۔

          ’’کوئی دولت مند شخص کسی بزرگ کا عقیدت مند تھا، وہ مہینہ میں ایک آدھ مرتبہ ان کے ہاں حاضری دیتا۔ ایک بار جب وہ اپنے مرشد کے پاس بیٹھا تھا تو  اس نے کہا:

’’ حضرت ہمارے یہاں طلائی دھاگے کا کھسہ (جوتا) بنتا ہے اگر آپ کہیں تو لے آؤں ‘‘

بزرگ نے کہا لے آؤ۔ ۔ ۔ مگر جب پاپوش اعلیٰ ہو تو پوشاک بھی بڑھیا ہونی چاہیے۔ مرید نے کہا وہ بھی پیش کر دوں گا۔ تو پھر بزرگ نے کہا جب پیزار اور ملبوس اچھے ہوں ، تو پگڑی بھی ہونی چاہیے۔ مرید نے کہا وہ بھی حاضر کر دوں گا، بزرگ نے کہا جب انسان اس قدر اچھے حلیے میں ہو تو اس کے پاس گھوڑا بھی ہونا چاہیے۔ مرید نے کہا وہ بھی حاضر کر دوں گا، بزرگ ایک قدم اور آگے بڑھے اور کہا جب یہ سب ہو تو گھوڑے کی نگاہ داشت کے لیے ملازم بھی ہونا چاہے۔

مرید نے کہا یہ بھی ہو جائے گا۔ ۔ ۔ تو بزرگ نے کہا گھوڑے اور ملازم کی موجودگی میں مناسب رہائش بھی ہونی چاہیے۔ مرید نے کہا حضرت اس کا بھی انتظام ہو جائے گا۔ مرحلہ بہ مرحلہ جب بزرگ بڑھتے جاتے تو مرید بھی حکم کی تعمیل میں آگے نکلتا جاتا۔ مآلِ کار بزرگ نے کہا جب تم میرے لیے اتنے ترددات میں پڑو گے تو  کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ تم کھسہ ہی نہ لاؤ۔ مرید عقیدت مند ہونے کے ساتھ ساتھ دانا بھی تھا۔ اپنے کہے ہوئے پرشرم سار ہوا اور معذرت کر کے رخصت ہو گیا۔ ‘‘

میں خاموش ہوا تو  اسحاق کہنے لگا

’’میرا خیال تھا کہ آپ کے نظریات بدل گئے ہوں گے۔ ۔ ۔ مگر آپ ہنوزاسی چکر میں گھرے ہوئے ہیں۔ آپ دولت سے کیوں نفرت کر تے ہیں ، آپ زندگی کی آسائشوں سے اپنا حصہ کیوں نہیں وصولتے ؟ ‘‘

میں نے جواب دیا مجھے دولت سے نہ اس وقت نفرت تھی نہ اب ہے۔ ۔ ۔ مگر اس دولت سے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نصیب تھی، ہاں میں نفرت کرتا ہوں قارون کی دولت سے اور میں پناہ مانگتا ہوں ایسی آسائشوں سے جو میرے لیے وبال بن جائیں۔ دوسروں کے گھروں کو اجاڑ دیں ، ان کا سانس لینا محال کر دیں۔ لمحہ بھرکے لیے میں نے سکوت اختیار کیا تو  اسحاق کہنے لگا

’’آپ کفرانِ نعمت کر تے ہیں ، دولت اور آسائشیں اللہ کی نعمت ہیں۔ ‘‘

یقیناً! لیکن اس صورت میں جب وہ حلال ہوں ، پانی بھی اللہ کی نعمت ہے ، سمندروں کے سمندر اور دریاؤں کے دریا بھرے ہوئے ہیں ، ان کی زیادتی ناگوار نہیں ہے۔ ۔ ۔ مگر جب یہی پانی کشتی کے اندر داخل ہو جائے تو زحمت بن جاتا ہے اور بعض اوقات انسان کی زندگی لے کر رہتا ہے۔ میں اس دولت اور اس آسائش سے پناہ مانگتا ہوں جو کشتی کے اندر آ جانے والے پانی کی مثال ہیں۔ اور جب آدمی اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کس وقت پانی کشتی کے اندر داخل ہوا۔ ۔ ۔ اس کی آنکھ تو تب کھلتی ہے جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے۔ پھر کوئی بھی دولت، کوئی بھی گاڑی ، کوئی بھی واسطہ کام نہیں آتا بہ جز اللہ عزوجل کی رحمت کے۔

’’آپ چاہتے ہیں کہ انسان ہمیشہ دوسروں کے ہاتھ دیکھتا رہے۔ ‘‘

اسحاق نے کہا۔

نہیں ! دوسروں کے نہیں اپنے ہاتھ پر بھروسہ کر ے اور اپنے ہاتھ کا میل کام میں لائے اور اس میل کے حصول میں اللہ کی رضا شامل کر لے تو  یقیناً اسے تنگی نہیں ہو گی۔ جب ہم ایک خواہش کے پیچھے بھاگتے ہیں تو  اگلے ہی قدم پر ایک اور خواہش پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔ ۔ ۔

 اور یہ سلسلہ سانس کی آخری کڑی تک زنجیر ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا۔

’’ہاں ! بات تو ٹھیک ہے ، لیکن شاید اس طرح کی بندشوں کو قبول کرنا، اپنے بس کی بات نہیں ، شاید آپ کے بس میں بھی نہ ہو۔ ‘‘

یقیناً میں بھی انسان ہوں ، لیکن اللہ کا فضل مانگتا رہتا ہوں۔ جن راستوں کے تم اب آشنا ہوئے ہو، میں بہت پہلے ان سے آگاہ تھا، لیکن ربِّ کر یم کی رحمت نے مجھے ان پر چلنے نہیں دیا۔

 

’’ بجا سہی! لیکن جس دور میں ہم جی رہے ہیں اس کے بڑے تقاضوں میں سے ایک تقاضا بے تحاشہ دولت بھی ہے۔ جس کے پاس جس قدر زیادہ دولت اور بڑی گاڑی ہو گی وہ معاشرے میں مہذب کہلاتا ہے۔ شرفا کی صفوں میں شمار ہوتا ہے اور جو، جس قدر غریب ہوتا ہے ، اتنا ہی کم تر اور تہذیب نا آشنا کہلاتا ہے۔ ‘‘

اسحاق خاموش ہوا تو  میں نے کہا

رضوانی صاحب کو جانتے ہو؟

’’ ہاں ! انھیں کون نہیں جانتا‘‘

 اسحاق تم بہت زیادہ ہوئے تو کروڑ پتی ہو گے۔ ۔ ۔ رضوانی صاحب کھرب پتی نہیں تو ارب پتی ضرور ہیں۔ ملک بھر میں ان کا کاروبار پھیلا ہوا ہے۔ بل کہ یورپ کے کئی ممالک میں بھی ان کا کاروبار ہے۔ پچھلے ہفتے انھوں نے مجھے اپنے ہاں دعوت پر بلایا۔ ۔ ۔ اور لوگ بھی شریک تھے۔ کھانا شروع ہوا تو تمام مہمانوں کے سامنے انواع و اقسام کے کھانے چن دیے گئے۔ ۔ ۔ مگر جانتے ہو رضوانی صاحب نے سلاد کے چند پتے اور ماش کی دال کے ساتھ چپاتی کے گنے ہوئے نوالے لیے۔ ۔ ۔ اور جب کھیر لائی گئی تو وہ بھی انھوں نے نہ چکھی۔ میں نے کہا آپ کچھ لے نہیں رہے ، شاید بعد میں کھائیں گے۔ جس پر رضوانی صاحب کہنے لگے

 ’’نہیں ! میں اتنا ہی کھاتا ہوں ، اللہ کی طرف سے مجھ پر کچھ پابندیاں عاید ہو گئی ہیں۔ کبھی تھوڑی سے بے احتیاطی ہو جائے تو مہینوں بیمار رہتا ہوں۔ ‘‘

میرے خاموش ہونے پر اسحاق نے کہا

’’خدا کے لیے مجھے مت ڈرائیں ، زندگی بار بار نہیں ملتی اور میں زندگی سے اپنا پورا حصہ وصول کرنا چاہتا ہوں۔ ‘‘

کون جانے زندگی کے پاس اس کا کتنا حصہ ہے ، لیکن آدمی یہ ضرور جانتا ہے کہ آخرت کے لیے اسے کتنا سرمایہ چاہیے۔ ابھی تم اس مقام پر نہیں ہو کہ لوٹ نہ سکو۔ جب سفید کپڑے پر ایک داغ لگتا ہے تو اسے مٹایا جا سکتا ہے۔ ۔ ۔ مگر جب داغوں کی تعداد بڑھنے لگے تو سفیدی کم ہوتی جاتی ہے۔

ابھی میرے اور اسحاق کے درمیان مکالمہ جاری تھا کہ مسجد سے مؤذن کی آواز آئی

 ’’اللہ اکبر، اللہ اکبر‘‘

 اور پھر ہماری محفل برخاست ہو گئی۔

٭٭٭