کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آزادی

خاور چودھری


یہ14اگست1995ء  کی سہ پہر تھی۔ مزار قائد کے چاروں اور بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کا ہجوم تھا۔ لوگ اپنے قائد سے عقیدت کے اظہار کے لیے یہاں جمع تھے۔ بچے خصوصیت کے ساتھ مزار کی جا لیوں تک پہنچنے کی کوشش کر تے اور جو کام یاب ہو جاتے وہ اندر جھانک کر منظر کو آنکھوں میں بھر لینے کی کوشش کر تے۔

مجھے دفتر سے چھٹی تھی اور صبح ہی سے میں اپنے دوست خالد محمود کے ساتھ شہرِ قائد کی گلیوں میں مٹر گشت کر رہا تھا۔ صدر سے مزار قائد تک کا سفر ہم نے پیدل ہی طے کیا تھا۔ اب جو یہاں بیٹھے تھے تو قوم کی تین نسلوں کو قائد سے محبت کا اظہار کر تے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ جب میں نے مزار پر فاتحہ خوانی کی تو کم و بیش میرے بھی وہی جذبات تھے جو ایک پاکستانی کے ہو سکتے ہیں۔ ۔ ۔ تب بھی میں نے سوچا تھا اور اب بھی سوچ رہا ہوں کہ14اگست تو اس خطہ کی آزادی کا دن ہے پھر میری آنکھوں میں اشکوں کا سیلاب کیوں اُترا تھا۔ ۔ ۔ کیوں میری ہچکیاں تھمنے کا نام  نہیں لی رہی تھیں۔ ۔ ۔ کیوں میرے پاؤں بھاری ہو گئے تھے ؟ ہوش کی دنیا میں تو تب لوٹا تھا جب میرے ساتھی نے ٹھنڈا مشروب میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا

’’تمھیں یوں اچانک کیا ہو جاتا ہے ؟ 23مارچ کو ہونے والی تقریب کے موقع پربھی تم یوں ہی روتے رہے ہو‘‘

میں اسے کیا جواب دیتا، مجھے تو خود معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ خوشی کے ان موقعوں پر میری آنکھوں سے چشموں کا جاری ہونا خود میرے لیے بھی عجیب ہی نہیں بہت عجیب ہے۔ آج بارہ سال بعد بھی میری کیفیت وہی ہے۔ اگرچہ میں مزار قائد سے سیکڑوں میل دور ہوں۔ ۔ ۔ مگر میرے دل و دماغ کی کیفیت بالکل ویسی ہی ہے جیسی کہ تھی۔ لیکن اب مجھے یہ معلوم ہو گیا ہے کہ اس خوشی کے موقع پر میری آنکھوں میں نمی کیوں اُتر آتی ہے۔ خیر۔ ۔ ۔ !

          میں 14اگست1995ء  کی بات کر رہا تھا۔ جس لمحے میں ٹھنڈا مشروب اپنے حلق میں انڈیل رہا تھا عین اسی وقت ایک باریش نحیف و نزار بزرگ میرے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے۔ ان کے ہاتھ میں بچوں کے لیے ٹافیاں پکڑی ہوئی تھیں۔ میرے دوست خالد محمود نے بزرگ کو مخاطب کر کے کہا

’’بابا! کچھ نہیں چاہیے ‘‘۔ ۔ ۔

مگر وہ اپنی جگہ سے نہ سرکے اور برابر میرے چہرے پر نظریں جمائے رہے۔ میں آنسوؤں کو پونچھتا ہوا۔ ۔ ۔ اپنی ہچکیوں پر قابو پانے کی کوشش کرتا اور وقفہ وقفہ سے شربت کا گھونٹ بھی حلق سے اُتار دیتا۔ یوں ہی کچھ دیر گزری تو  بزرگ گویا ہوئے

 ’’کیوں روئے تھے میاں۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘

میں کیا بتاتا، میں تو خود نہیں جانتا تھا۔ ۔ ۔ بس اتنا کہا

’’معلوم نہیں ‘‘

تو بزرگ نے سرگوشی کے سے انداز میں کہا

 ’’مگر مجھے معلوم ہے ‘‘

 اور پھر خلاؤں میں گھورنے لگے۔ ۔ ۔ تب آنسوؤں کی ایک ایک لڑی ان کی دونوں آنکھوں سے جدا ہو کر ان کے جھریوں بھرے چہرے پر پھیل گئی۔ ان کے چہرے کا رنگ لمحہ لمحہ بدلتا گیا۔ ۔ ۔ اور پھر ان کی ہچکیاں بند ھ گئیں۔ پھر میں نے وہی سوال دہرایا جو انھوں نے مجھ سے کیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ، ان کی آنکھوں میں ایک غیر مانوس سی چمک نے سر اُٹھایا اور پھر یکایک غائب ہو گئی۔ انھوں نے اپنی میلی آستین کو آنکھوں پر یوں ملا جیسے ان کے سامنے سے اندھیارے کی دیوار ہٹا رہے ہوں۔

’’میں گیارہ برس کا تھا جب پاکستان بنا۔ اباّ جالندھر کے نواح میں اسکول میں استاد تھے۔ اماں گھر کا کام کاج ہی کرتی تھیں۔ تین بڑی بہنیں تھیں مجھ سے ، جو گھر میں ہی پڑھی تھیں اور اماں کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ بجیا شائستہ میرے پھوپھی زاد منیر احمد سے منسوب تھیں ، اپیا آمنہ ان کے چھوٹے بھائی نذیر احمد سے اور میرا رشتہ ان کی بہن عذرا سے طے تھا۔ ہمارے خاندان میں مذہبی تعلیم عام تھی، اسی سبب سے اڑوس پڑوس کے لوگ احترام کی نگاہ سے دیکھتے۔ ہمارے اباّجی تو کبھی کبھار محلہ کی مسجد میں نماز بھی پڑھا دیا کر تے تھے۔

          یہ پاکستان بننے کے کچھ دن اِدھر کی بات ہے۔ ہمارا قافلہ ہماری پھوپھو اور ان کے بچوں اور دیگر رشتہ داروں کو ملا کر ستائیس افراد پر مشتمل تھا۔ اماں نے دو گٹھڑیوں میں ضروری سامان باندھا۔ ایک گٹھڑی اپنے پہلو میں دبا لی اور دوسری اباّ کو دے دی۔ دوسرے رشتہ داروں کے پاس بھی رختِ سفر اس سے زیادہ ہر گز بھی نہیں تھا۔ ہر ایک کو ایک ہی لگن تھی کہ، بس کسی طرح سے اپنے دیس کی خوابوں ایسی سرزمین کو چوم لے۔ اپنے دیس تک پہنچنے کی خوشی میں قدم تیزی سے اُٹھتے جا رہے تھے۔

ابھی صبح کے آثار نہیں جاگے تھے ، جب ہم روانہ ہوئے۔ خوشی سے قدم خود بہ خود اُٹھ رہے تھے۔ قیامت تو تب ٹوٹی جب تاک میں بیٹھے ہوئے ہندوؤں کے جتھے نے ہمیں آ لیا۔ گننے میں نہیں آتے تھے۔ خاندان کے مردوں نے اپنی جانیں کٹوا دیں۔ ۔ ۔ مگر اپنی عورتوں کی عصمتوں  پر آنچ نہ آنے دی۔ ۔ ۔ مگر کب تک جوں ہی ان کے لاشے گرے ظالم ہندو ، بھیڑیوں کی طرح خواتین پر ٹوٹ پڑے۔ ‘‘

تب ایک چیخ سی ان کے حلق میں دم توڑ گئی۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ساون کی جھڑی برس کر ہی دم لے گی۔ زبان ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے ان کی آواز کو قتل کیا جا چکا ہے۔ میلی آستین کو بار بار اپنی آنکھوں پر ملتے اور پھر خلاؤں میں گھورنے لگتے۔ کچھ سنبھلے تو دوبارہ کہنے لگے

’’مجھے اماں نے پکڑ کر سرکنڈوں کی اوٹ میں چھپا لیا تھا۔ وحشت سے میرے اوسان خطا ہو چکے تھے۔ اس کے بعد کیا ہوا، مجھے معلوم نہیں۔ جب مہاجر کیمپ میں ہزاروں افراد میں خود کو موجود پایا تو  ستائیس میں سے صرف دو باقی تھے۔ اور لوگ کیا ہوئے ان کا کچھ سراغ نہ ملا۔ ہمیں بتایا گیا کہ ، ہم لوگ خوابوں کی سرزمین تک پہنچ آئے ہیں۔ ۔ ۔ مگر اب خوابوں کی تعبیر لانے والے جو نہیں رہے تھے۔ ۔ ۔ بجیا، اپیا، شازیہ اور عذرا۔ ۔ ۔ اباّ، کوئی ایک بھی تو  نہیں رہا تھا۔ اماں کو تو  جیسے چپ ہی لگ گئی تھی۔ ۔ ۔ اور جب بولتیں تو کسی ایک کا نام پکار کر بے سدھ ہو جاتیں۔ ۔ ۔ انہیں غشی کے دورے پڑنے لگے تھے۔ کیمپ میں موجود ڈاکٹروں نے کوشش کی انھیں بچانے کی۔ ۔ ۔ مگر وہ پچیس جانوں کا صدمہ نہ برداشت کر پائیں اور مجھے بار بار مرنے کے لیے زندہ چھوڑ گئیں۔ ‘‘

رونے کا سلسلہ تھما کہاں تھا۔ ۔ ۔ روتے گئے ، روتے گئے۔ ادھر میری اور خالد کی آنکھیں بھی جل تھل تھیں۔

’’ کیمپ سے نکلا تو  خوابوں کی زمین کاٹنے کو دوڑتی تھی۔ ۔ ۔ کہیں جائے پناہ نہ ملی۔ کسی نے رحم کھا کر سیٹھ چونے والے تک پہنچا دیا۔ انھی کے پاس جوان ہوا۔ تنخواہ تو  نہیں تھی ، البتہ ان کے گھر اور دکان پر کام کے عوض کھانا اور رہائش میسر آ گئے تھے۔ سیٹھ کاہے کو تھے بس نام ہی نام تھا۔ جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو  میں بھی دنیا کے رنگ دیکھنے نکل کھڑا ہوا۔ ریلوے اسٹیشن پر قلی گیری شروع کر دی۔ ایک مزدور ساتھی نے بتایا کہ صبح کے وقت میں اخبار بیچنے سے آمدن بڑھتی ہے ؛ تو  یہ بھی کیا۔ کب گھر بسا، بچے ہوئے اور انھیں پالا پوسا۔ ۔ ۔ اور پھر وہ جوان ہوئے ، سب رام کتھا ہے۔ بس اتنا یاد ہے جب بڑے بیٹے نے ماسٹر کیا تو  ایک لمحہ کے لیے مجھے یوں محسوس ہوا، جیسے خوابوں کی سرزمین تعبیر آشنا ہونے کو ہے۔ ۔ ۔ مگر بدقسمتی ایسی نہ تھی جو جان چھوڑتی۔ ایک نو دولتیے نے اپنی گاڑی کے نیچے اسے کچل کر ہمیشہ کے لیے معذور کر دیا۔ یہاں تو اچھے بھلے شخص کو نوکری آسانی سے نہیں ملتی پھر میرا معذور بیٹا کیوں کر میرا سہارا بن سکتا تھا۔ تین بیٹیاں ہیں۔ وہ اپنے گھروں کی ہو گئی ہیں۔ ۔ ۔ اور میں اپنے ناکارہ ڈگری ہولڈر کے ساتھ زندگی کے دن گن رہا ہوں۔ ‘‘

ایک لمحہ کے لیے وہ خاموش ہوئے اور پھر گویا ہوئے

’’ویسے سچی بات یہ ہے کہ یہ وہ پاکستان نہیں ہے جس کے خواب اباّ نے مجھے دکھائے تھے۔ ‘‘

           میں جس شہر میں رہ رہا ہوں ، وہاں سے ہندوؤں کی بڑی تعداد نکلنے پر مجبور ہوئی تھی۔ ۔ ۔ وہی دکھ بے چارگی، لوٹ مار اور تشدد کی کہانیاں۔ ۔ ۔ خدا جانے ان ہندوؤں کے ساتھ وہاں ہندوستان میں کیا پیش آیا ہو گا۔ کیا وہ بھی دو وقت کی روٹی کے لیے اپنے بانی کی سمادھی پر ٹافیاں بیچتے پھر رہے ہوں گے یا پھر۔ ۔ ۔ ؟

***