کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک ادنیٰ سا حادثہ

ڈاکٹر ابنِ فرید


چیونٹی تیز بھاگتی ہوئی آئی، مُردہ پتنگے  کے  گرد تین چار چکّر لگائے۔ کئی جگہ سے  پکڑ کر اُٹھانے  کے  لئے  آزمایا اور چھوڑ دیا۔

مارچ کے  پہلے  ہفتہ میں سردی قریب قریب رخصت ہو چکی تھی، فضا میں  خمار آلود غنودگی پیدا ہو چلی تھی۔ راتوں کے  مقابلے  میں  دن وقت کے  عرصے  پر پھیلنے  لگے  تھے  اور سورج کی تمازت کے  ساتھ ساتھ طبیعت میں بھی کسلمندی پیدا ہونے  لگی تھی۔ کونپلیں تازہ تازہ چٹخنے  تو لگی تھیں لیکن ان کے  ساتھ ساتھ کیڑے  مکوڑوں کی مصروفیات بھی بڑھ گئی تھیں۔

چیونٹی نے  پتنگے  کو دو ایک جگہ سے  پکڑ کر کھینچنے  کی کوشش کی لیکن چھوڑ دیا۔ شاید جہاں سے  اس نے  پکڑا تھا وہ مناسب جگہ نہیں  تھی۔ شایداس طرح پکڑنے  سے  صحیح توازن نہیں  بن رہا تھا۔ مُردہ پتنگے  کو اس وقت کیا کرنا چاہیئے  تھا؟ بے  جان جسم کیا جانے!

چیونٹی نے  پتنگے  کو چھوڑ دیا۔ (اس سے  کیا ہوتا ہے، پتنگا تو زندگی سے  آزاد ہو چکا تھا) پھر بے  قرار ہو کراُس نے  اُس کے  گرد تیز تیز تین چار چکّر لگائے۔ ہر چکّر میں دو چار بار وہ پتنگے  سے  ٹکرائی۔ شاید وہ گرفت کا صحیح رُخ تلاش کر رہی تھی۔ اُس کی بے  چینی کا  اظہاراُس کی  بے  تابی سے  ہو رہا تھا۔

اگر پتنگا زندہ ہوتا اور چیونٹی سے  پوچھ سکتاتوضرورپوچھتاکہ آخر تم اِس قدر بے  صبری کیوں ہو رہی ہو۔ مَیں تو بے  بس مُردہ لاش تمہارے  سامنے  پڑا ہوں۔ مگر شاید چیونٹی پھر بھی کچھ سُن نہ پاتی۔

مارچ کے  آتے  ہی پتنگوں  کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی تو لکھنا پڑھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ طبیعت جھنجھلا جاتی ہے  کہ خیالات کے  سلسلے  ٹوٹ جاتے  ہیں۔ معمولی حیثیت کے  لوگ بے  بسی کے  عالم میں روشنی کے  ساتھ کیڑوں کو بھی برداشت کر لیتے  ہیں۔ اگر برداشت نہ کریں تو کر بھی کیا سکتے  ہیں ؟لیکن ذرا بہتر مالی حالت والے  دواؤں  کے  ذریعہ کیڑوں کا خاتمہ کر دیتے  ہیں۔ کمرے  کی فضا مصنوعی ہو جاتی ہے  لیکن سکون نصیب ہو جاتا ہے۔ بدبُو دار مصنوعی سکون!

وہ کیڑے  پتنگے  جو رات کو مر جاتے  ہیں اُن کی لاشوں کو دوسرے  دن سورج نکلنے  کے  بعد چیونٹیاں  ڈھوتی رہتی ہیں۔ ان مرنے  والوں کو اپنے  لاش ڈھونے  والے  بھی میسّر نہیں  آتے۔

وہ کیڑا کہیں  اِدھر اُدھر پڑا رہ گیا تھا اور ایک راہ چلتی چیونٹی کو نظر آ  گیا جو اُسے  ذرا بھی دیر کیے  بغیر اُٹھا لے  جانا چاہتی تھی۔ شاید اتنی دیر میں کوئی چیونٹی یا کچھ چیونٹیاں آ کراُس کی  کمائی میں  بادھا ڈال دیں۔ چیونٹی نے  ایک بار پھر پتنگے  کو اپنے  زنبورسے  پکڑا اور کھینچنا شروع کر دیا۔ بے  قراری کے  ساتھ!

رات ہی وہ پتنگا مطالعہ کے  کمرے  میں  داخل ہوا تھا۔ پہلے  وہ اِدھر اُدھر اُڑتا رہا۔ کمرے  میں  کسی قسم کی ناگوار زہریلی بدبو نہیں تھی، پتنگے  نے  اپنے  اندر بڑی فرصت اور کشادگی محسوس کی۔ چنانچہ وہ لمبی لمبی اُڑانیں لے  کر کمرے  کے  ایک کونے  سے  دوسرے  کونے  تک اُڑتا رہا۔ اُس کی یہ اُڑانیں  اتنی بے  ضر ر تھیں  کہ اُن کی طرف کمرے  کی کسی چیز نے  بھی توجّہ نہ دی۔ ۔ ۔ اُس نے  بھی نہیں  جو بجلی کا لیمپ سامنے  میز پر رکھے  بڑی دیرسے  لکھنے  میں  مصروف تھا۔

پتنگے  نے  خود بھی میز پر رکھے  ہوئے  لیمپ کی طرف کوئی توجّہ نہ دی۔ اُس کے  مشغلے  کے  لئے  دیوار میں  لگی ہوئی ٹیوب لائٹ کافی تھی۔ پتنگے  نے  اپنے  نرم لجلجے  بدن سے  ٹیوب راڈ کو  چھُونے  کی کوشش کی۔  وہ کچھ ایسا گرم تو نہ تھا لیکن  پھر بھی گرم تھا پتنگے  نے  ناگواری محسوس کی اور اُڑ کر پیچھے  ہٹ گیا، لیکن کچھ لمحے  ٹیوب لائٹ کے  سامنے  ایک ہی نقطہ پر اُڑتا رہا۔

وہ کاغذ پر نظریں  جمائے  اور قلم کے  دوسرے  سرے  کو منہ میں  دبائے  نہ معلوم کیا سوچتا رہا۔ وہ جو کچھ سوچ رہا تھا۔ اور الفاظ جو صورت اختیار کر کے  اُس کے  ذہن میں  اُبھر رہے  تھے  اُن میں  وہ تال میل پیدا نہیں ہو رہا تھا جو وہ چاہتا تھا، لیکن اُس پر خود یہ بھی تو نہیں  کھلتا تھا کہ آخر وہ اصل تال میل کیا ہے  جس کے  لئے  وہ اپنے  ذہن پر اس قدر زور ڈال رہا ہے۔ اس بے  بسی کا نتیجہ یہ تھا کہ سامنے  سادہ کاغذ تھا اور ہاتھ میں  قلم، اور خیال رات کے  پُراسراراندھیرے  میں  کہیں  گُم ہو گیا تھا۔ اگراُس کی پرواز کی ہلکی سی تھرتھراہٹ بھی وہ محسوس کر سکتاتو اُسے  پہلے  کچّے  پکّے  الفاظ میں گرفتار کر لیتا۔ لیکن اُس وقت یہ بھی تو ممکن نہیں ہو رہا تھا۔

اُس نے  اکتائے  ہوئے  انداز میں ایک گہری سانس لی، کُرسی پر تھوڑاسا کسمسایا اور پھر کاغذ پر نظر جما  کر خیال کی دنیا میں  کہیں اور کچھ اور تلاش کرنے  لگا۔ نہ معلوم کیا تھا کہ ذہن میں  ایک گرہ سی پڑ گئی تھی اور کھُلنے  کا نام ہی نہ لیتی تھی۔ عجیب گھُٹن سی محسوس ہو رہی تھی۔ مگراس کے  باوجود کمرے  میں  بڑی بے  جان خاموشی سی چھائی ہوئی تھی۔ کسی چیز کو کسی چیزسے  کوئی تعلّق نہیں  تھا۔ سب کچھ سب سے  بے  نیاز!

پتنگا برابر اِدھر اُدھر چھت کے  پاس اُڑتا رہا۔ بس یوں  ہی بے  مقصد آوارہ سا!

اچانک اُس کے  دماغ میں  ایک کونداسالپکا۔ اور اُس نے  عجلت کے  ساتھ اُسے  کاغذ پر لفظوں میں  قید کر لینا چاہا، لیکن اس سے  قبل کہ وہ قلم کاغذ پر رکھے، ذہن میں آئی ہوئی بات دھندلا گئی۔ بددلی کی کیفیت میں  اور اضافہ ہو گیا۔ اُس نے  اور زیادہ توجّہ کے  ساتھ سوچنا شروع کر دیا۔ ممکن ہے  اِس طرح کھوئی ہوئی بات دو بارہ ہاتھ آ جائے۔ ایک موہوم سی آرزو!

پتنگا بہت دیر سے  اُوپر ہی اُوپر اڑتا رہا تھا۔ اب اُس نے  اپنے  پَر ٹھہرا کر اپنے  میں وزن پیدا کیا اور غوطہ لگا کر نیچے  آ گیا۔ لیکن بالکل ہی نیچے  آنے  سے  پہلے  اُس نے  اپنے  پَروں  کو کھول کر حرکت دی۔ شاید اُسے  خطرہ تھا کہ وہ زمین پر ہی نہ گر پڑے۔ اُڑتا ہوا پتنگا کبھی زمین پر گرنا پسند نہیں کرتا۔

اُس نے  اپنے  قلم کو پاس رکھے  ہوئے  ڈاک کے  استعمال شدہ لفافے  پر یوں  ہی چلایا۔ چند سطریں  ٹیڑھی میڑھی سی بنائیں، لبوں پر بے  معنی سی مسکراہٹ آئی اور پھر وہ لفافے  کی سادہ جگہوں  پر اپنے  دستخط بنانے  لگا۔ یہ سب وہ کیوں کر رہا تھا؟اُسے  خود بھی معلوم نہ تھا کیوں کہ اس سارے  عمل کو اس کی سوچ کی اصل اُلجھن سے  کوئی تعلّق نہ تھا۔ پھر بھی اگر وہ یہ نہ کرتا تو مطالعہ کی میزسے  اُٹھ کر چلا جاتا اور بسترپرلیٹ جاتا۔ لیکن یہ ضروری نہیں  تھا کہ بسترپر لیٹ کر اُسے  آرام نصیب ہوتا۔ ہو سکتا تھا کہ وہاں  بھی وہ کوئی فضول سا کام کرتا۔ مثلاً کوئی فکشن کی کتاب ہی پڑھنے  لگتا۔

وہ اپنے  آپ پر خود ہی  طنز کے  ساتھ مُسکرادیا۔

وہ خود بھی تو اس وقت فکشن ہی لکھنے  کی کوشش کر رہا تھا۔ یعنی کوئی ایسی کہانی جس کی پہچان وہ خود ہو۔

اُس نے  جب بھی لگن کے  ساتھ کچھ لکھنے  کی کوشش کی تو اپنی تخلیق کے  مقابلے  میں  اچّھی سے  اچّھی تحریر بے  رنگ اور پھیکی پھیکی سی لگی۔ یہ  فنکار کی انا ہوتی ہے۔ اور اس کی تسکین کے  لیے  وہ خود کو ہی اپنے  لیے  مثالی نمونہ بناتا ہے۔

لیکن اُس وقت اِس طرح سوچنے  کے  معنی تو یہ تھے  کہ اصل بات ذہن میں اور بھی زیادہ دھندلی پڑتی جائے۔ اس لئے  اُس نے  سوچنے  کے  اس  بوجھل اندازکوسرسے  بیکار بوجھے  کی طرح جھٹک دیا اور کاغذ قلم کی طرف مستعدی سے  متوجّہ ہو گیا۔

شاید یہ آمادگی اُسے  تازہ دم کر دے۔

جب پتنگے  نے  اپنے  پروں کو کھول کر حرکت دی اور اُوپر اُٹھنا چاہا تو اُسے  لیمپ میں  ساکت و جامد روشن بلب نظر آ گیا۔ اُس نے  اپنے  پروں  کو مسرّت بھری جنبش دی اور ٹھیک اُس بے  حس روشنی کے  سامنے  منڈلانے  لگا۔ اُس کا سایہ کاغذپرمسلسل جھلملا رہا تھا۔ مگر وہ اِس عمل سے  بے  خبر تھا۔

پتنگے  کے  جھلملاتے  ہوئے  سائے  نے  اُس کے  قلم کے  سامنے  اَن گنت دھُندلاتی مٹتی ہوئی لکیریں  کھینچ دیں  اور اس کے  ذہن میں آیا ہوا خیال کٹ پھٹ گیا۔ اُس نے  کچھ اُلجھن سی محسوس کی اور پتنگے  کی طرف ناگواری کے  ساتھ دیکھا لیکن پتنگا پرواز کی کمان بناتا ہوا  اُوپر اُٹھ چکا تھا۔ پتنگے  نے  یقیناً اُس کی ناگواری کی طرف کوئی دھیان نہ دیا۔

اُس نے  اپنی توجّہ کو دوبارہ ایک مرکز پر سمیٹا اور کاغذ قلم کی طرف متوجّہ ہو۔ خیال کا ریلا تیزی کے  ساتھ آیا اور اس نے  تیز رفتاری کے  ساتھ  لکھنا شروع کر دیا۔ اُسے  ایسا محسوس ہوا کہ جیسے  اُس کے  سینے  میں  بہت بڑا بوجھ سما گیا ہے  اور وہ اپنی جگہ سے  ہٹنے  کی راہ نہیں  پا رہا ہے۔ اس بوجھ کو ہلکا کرنے  کے  لئے  وہ برابر لکھے  جا رہا تھا۔

پتنگا اب لیمپ کی روشنی سے  مانوس ہو چکا تھاس۔ اس لئے  اس نے  دوبارہ غوطہ لگایا اور بلب کے  شیشے  پر بیٹھنے  کے  لئے  پروں  کو لہرا کر توازن قائم کرنے  لگا۔ لیکن شیشہ اتنا چکنا تھا کہ وہ اپنی کوشش میں  کامیاب نہ ہو سکا۔ اُسے  بہرحال اُس کی بالکل کوئی خبر نہ تھی کہ اُس کے  اِس طرح پنکھ لہرانے  سے کسی کے  خیال پربھی سایہ پڑ رہا ہے۔

پتنگے  کے  بے  چین سے  لرزتے  ہوئے  سائے  نے  اُس کے  خیال کو پھر جھٹکا دیا۔ اُس نے  قلم کے  پچھلے  سرے  سے  پتنگے  کو اُڑانا چاہا، لیکن وہ پہلے  ہی اُڑ کر دوسری طرف نکل گیا تھا۔ پتنگے  نے  اس بار بھی جان بوجھ کر ایسا نہیں  کیا تھا۔

اُس نے  پھر لکھنا شروع کر دیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اب خیال کا سلسلہ ٹوٹ نہیں رہا تھا۔

پتنگا پھر نیچے  آیا اور بلب کے  سامنے  منڈلانے  لگا۔

اُس نے  پھر پتنگے  کو اُڑانا چاہا۔

پتنگا پہلے  ہی اُڑ چکا تھا۔ اُس نے  اِس بار بھی سوچ کر ایسا نہیں  کیا تھا۔

اُس نے  پھر لکھنا شروع کر دیا۔

پتنگا پھر نیچے  آیا اور روشنی کے  سکوت میں  سایہ کی حرکت پیدا کرنے  لگا۔

اُس کے  خیال کی رَو میں پھر رکاوٹ پیدا ہونے  لگی۔

پتنگا اب بلب کے  سامنے  ایک ہی نقطہ پر دیوانہ وار رقص کر رہا تھا۔

اُس نے  قلم کے  بالائی سرے  سے  پتنگے  پر چوٹ لگائی۔ اور پتنگا عین اُس جگہ گرا اور مر گیا جہاں اُس کا نامکمّل جُملہ قلم کا انتظار کر رہا تھا۔ اُس نے  قلم کی اُسی نوک سے  پتنگے  کی لاش کو اچھال دیا، اور وہ لاش میز کے  نیچے  فرش پر جا گری مگر کوئی آواز نہ ہوتی۔

اور وہ دوبارہ اُسی انہماک کے  ساتھ لکھنے  لگا۔

کمرے  میں  کسی طرح کی کوئی حرکت نہیں  تھی، صرف بے  صدا الفاظ کاغذ پر اُگتے  چلے  جا رہے  تھے  اور سطریں  گنجان ہوتی جا رہی تھیں۔

اِس سکوت میں  وہ بڑی دیر تک لکھتا رہا۔ پھراُس نے  روشنی بند کی اور بسترپرجا کر لیٹ رہا۔ مگر خیالات کا ریلا بہت دیر تک اُس کی نیند کے  ساتھ کشمکش کرتا رہا۔

صبح جب وہ سوکراُٹھاتواُس نے  بڑی بے  قراری محسوس کی۔

ناشتہ کے  فوراً بعد وہ لکھنے  بیٹھ گیا۔ اُسے  حیرت اس بات پرتھی کہ جہاں  سے  اُس نے  لکھنا چھوڑا تھا وہیں سے  اُس کی صبح کی تحریر پر مربوط ہو گئی تھی۔ اِس کامیابی نے  اُسے  خوشی سے  بے  چین کر دیا۔ اور وہ اور زیادہ لگن کے  ساتھ لکھنے  لگا۔

چیونٹی پتنگے  کی لاش کو فرش پر کھینچ کر جب لے  چلی تو راہ میں میز کا پایہ آ گیا۔ اِس رکاوٹ نے  اُس کا راستہ کھوٹا کرنا چاہا لیکن وہ ایک ذرا سی کوشش کے  بعد پتنگے  کو لے  کر پایہ پر چڑھنے  میں  کامیاب ہو گئی۔ پایہ کا فاصلہ ختم ہوتے  ہی میز کا بالائی تختہ آ گیا۔ اُس تھوڑے  سے  فاصلے  کو اُسے  اِس طرح طے  کرنا تھا کہ اُس کے  پیر اُوپر ہوں اور دھڑ نیچے  اور زنبور میں  پتنگے  کی لاش! چیونٹی نے  کوشش کی لیکن پتنگے  کے  بوجھ کی وجہ سے  وہ مُردہ لاش کے  ساتھ فرش پر گر پڑی۔

وہ برابر لکھے  جا رہا تھا، مبادا خیالات کی آمد ختم ہو جائے۔

چیونٹی کے  زنبورسے  پتنگا چھوٹ کر الگ گرا تھا، بے  قراری کے  ساتھ چیونٹی نے  اُسے  تلاش کیا اور زنبور میں  جکڑ کر لے  چلی۔ اس بار اُس کی رفتار قدرے  تیز تھی۔ اُس نے پایہ کی مسافت جلد ہی طے  کر لی۔ لیکن جب بالائی تختے  کے  نچلے  رُخ پر آئی تو پھر وہ اپنا بوجھ سہارنہ سکی اور پتنگے  کے  ساتھ ہی نیچے  گر گئی۔

جو ورق بھر جاتا تھا اُسے  وہ اپنے  سامنے  سے  ہٹا نہیں  رہا تھا بلکہ اُسی پر سادہ ورق رکھ کر لکھتا جا رہا تھا۔ اُس وقت وہ چاہتا تھا کہ اُس کا خیال کسی اور طرف بھٹکنے  نہ پائے۔ وہ برابر لکھتا رہا تاکہ جو کچھ ذہن میں ہے  وہ سب کاغذ پر آ جائے۔

اِس بار چیونٹی نے  اور زیادہ بے  قراری کے  ساتھ پتنگے  کو تلاش کیا اور اسے  اُٹھا کراُسی راستے  پر لے  چلی جس پر اُسے  بار بار ناکامی کا سامنا ہوا تھا، اور ایک بار پھر اُسی دُشوار گزار مرحلے  پر پہنچ کر پتنگے  سمیت نیچے  ٹپک پڑی۔

کافی دیرسے  لکھتے  لکھتے  اُس کے  بدن میں  اکڑن سی پیدا ہو گئی تھی مگر اپنی  تخلیق کی خاطر وہ اُس بے  آرامی کو برداشت کئے  ہوئے  تھا۔

چیونٹی پتنگے  کو ڈھونڈکرپھراُسی راستے  پرلے  چلی۔

وہ اپنے  گرد و پیش سے  بے  خبر ہو کر لکھے  جا رہا تھا۔

چیونٹی کا اشتعال اس کی ناکامی کے  ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا تھا۔

الفاظ کے  انبار میں  اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ سطروں  کا جنگل پھیلتا جا رہا تھا۔

اچانک چیونٹی مُردہ پتنگے  کو لیے  ہوئے  میز کے  کونے  پر نمودار ہوئی اور عجلت کے  ساتھ اپنا بوجھ کھینچتے  ہوئے  لے  چلی۔ اُسے  نہیں  معلوم تھا کہ وہ کتنی کوششوں  کے  بعد کامیاب ہوئی ہے۔ بس وہ تو اپنی مہم میں  کامیابی پر خوشی  سے  بے  قابو ضرور ہو رہی ہو گی۔

وہ لکھنے  میں  اس حد تک منہمک تھا کہ اُس کو چیونٹی نظر نہیں آئی۔

چیونٹی تیزی کے  ساتھ ایک سیدھ میں  مُردہ پتنگے  کو کھینچتی ہوئی اُلٹی بھاگ رہی تھی یہاں تک کہ وہ اس کاغذ پر چڑھی جس پروہ لکھ رہا تھا۔ چیونٹی  الفاظ کے  وجود کو اپنے  پیروں  تلے  روندتی اور سطروں  کی صفیں  پامال کرتی پتنگے  کی لاش کھینچے  لیے  جا رہی تھی۔ جب سطروں کی فصیلیں  ختم ہو گئیں  تو وہ نوکِ قلم سے  ٹکرا گئی۔ یہ رکاوٹ چیونٹی کے  لیے  غیر متوقّع ہی نہیں ناپسندیدہ بھی تھی۔

اُس کی سوچ اُس کے  ذہن سے   گری اور ماضی کے  فرش پر کھوٹے  سکّے  کی طرح لڑھک گئی۔ پھر وہ ہی پتنگا اور یہ چیونٹی!

اُس نے  ناگواری کے  ساتھ اُن پر ہاتھ مارا۔

چیونٹی مر گئی۔

پتنگا تو رات ہی ایک بار مر چکا تھا، اب دوبارہ کیسے  مرتا۔

اُس نے  بے  دلی کے  ساتھ کاغذ اُٹھایا اور دونوں  لاشیں  کمرے  کے  باہر پھینک آیا۔ واپس آ کروہ پھر لکھنے  لگا۔

باہر ہلکی ہلکی ہوا ان دونوں  کو چھوتی ہوئی گزر رہی تھی۔ پتنگے  کے  پَر ہوا میں  ہل رہے  تھے، چیونٹی بے  حِس تھی۔ شاید پتنگے  کے  پَر بکھرنے  والے  تھے۔ مگر پھر وہاں کیا تھا؟کیا ہو رہا تھا؟اِس کی خبر نہ پتنگے  کو تھی اور نہ چیونٹی کو!

خود اُس کے  ذہن میں  بھی وہ سارا واقعہ ماند پڑ گیا تھا۔ اتنی معمولی سی بات بھی کون سی اہم تھی؟ حشرات  الارض تو روز ہی مرتے  رہتے  ہیں!

                                                          (۱۹۸۳ء)