کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک دن وہ بھی!

ڈاکٹر ابنِ فرید


ایک طویل عرصہ کے  بعد وہ اسے  ملی۔ زمانہ کی بے  رحم رفتار کے  آثار اس کے  چہرے  سے  نمایاں  تھے۔ وہ بہت توجہ سے  کچھ ریڈی میڈ کپڑے  دیکھ رہی تھی۔ لیکن محسوس ایسا ہو رہا تھا کہ جیسے  وہ سکتہ کا لمحہ ہو۔ کاؤنٹر کی دوسری طرف نوعمر سیلز گرل صبر آزما انتظار میں  اس کے  سامنے  کھڑی تھی۔ وہ ذرا ہٹ کر، بے  کار محض، سامنے  اسٹَیک میں  آراستہ چیزوں  کو دیکھنے  لگا، لیکن اس کی پتلیاں  بے  ارادہ آنکھ کی داہنی کور کی طرف کھسک آ ئی تھیں۔ پھر ایک بار اکتا کر اس نے  گہری سانس لی اور گردن گھما کر داہنی طرف دیکھا۔ وہ اچانک اس طرح مڑی کہ پشت اس کی طرف کر کے  تیزی سے  باہر چلی گئی۔ ایک جھونکا تھا ہوا کا جو آیا اور گزر گیا۔ تیز و تند گرد باد اٹھے  اور فضا میں  تحلیل ہو گئے۔ وقت کے  بے  شمار تھپیڑے  تھے  جو اپنی چوٹ لگا کر بے  نیازانہ معدوم ہو گئے، لیکن دل جو تھا وہ ماضی کے  سمندر میں  غرق ہوتا چلا گیا۔ کیا دن تھے  وہ جو فراموشگاری میں  تحلیل ہونے  لگے۔ اس نے  خود کو سنبھالنا چاہا لیکن دل اس کے  لئے  آمادہ نہ ہوا۔ کاش کوئی اس طرح مندمل ہوتی ہوئی خراشوں  کے  نشانوں  کو کریدا نہ کرے، لیکن جو کچھ ہوا وہ اچانک اور بے  قصد و ارادہ ہوا۔ اس نے  اپنے  آپ کو سمجھانا چاہا، لیکن الجھی ہوئی ڈور کا کوئی سرا نہ تھا، ہوتا تو ہاتھ آتا۔

          سیلز گرل نے  اسے  سوالیہ نظروں  سے  دیکھا۔ اسے  گمان ہوا کہ شاید وہ اِس گاہک کے  اچانک چلے  جانے  کا سبب تلاش کر رہی تھی، مگر وہ خاموش رہا۔ چاہتا تو بتا دیتا، لیکن اس کی اس نے  ضرورت محسوس نہ کی۔ بس، بددلی کے  ساتھ وہ بھی وہاں  سے  چلا آیا، اپنے  سینے  کے  بوجھ کو خود اٹھائے  ہوئے۔ اسے  کوئی اور محسوس بھی تو نہیں  کر سکتا۔

          ایک دن اور ایسا ہی ہوا کہ ایک جنرل اسٹور میں  ان دونوں  کا آمنا سامنا ہو گیا۔ اس نے  اس کے  چہرے  میں نظریں  پیوست کر کے  دیکھا، مگر اس نے  جلدی سے  منھ پھیر لیا اور سرعت کے  ساتھ اسٹور سے  باہر نکل گئی۔ وہ اسے  محویت کے  عالم میں  دیکھتا رہا لیکن اس کی نظریں اس کی پشت سے  ٹکرا کرواپس آتی رہیں۔ کچھ تھا جو دھندلا گیا تھا، اسے  وہ واضح کرنا چاہتا تھا مگر وہ ہو نہیں  رہا تھا۔ بیچ میں  ایک پردے  کی پشت جو آ گئی تھی۔ ایک درد تھا جسے  وہ کھول کر رکھ دینا چاہتا تھا، لیکن بے  اعتنا پشت کی دیوار کو وہ ہٹا نہیں  سکتا تھا۔

           ایسا لگتا تھا کہ وہ اب اسی شہر میں  اور اس کے  جوار میں  کہیں  آ گئی ہے۔ اسی لئے  یہ اچانک ملاقات بار بار ہونے  لگی ہے۔ مگر اس نے  اس سے  زیادہ کوئی فکر نہ کی۔ زندگی معمول کے  مطابق چلتی رہی، البتہ اب ذہن کے  پچھلے  ورق الٹ پلٹ کر کھل جایا کرتے  تھے  اور درد آگینی طاری ہو جایا کرتی تھی۔ لیکن وہ سب کچھ پُر گداز گہری سانس میں  ڈبو دیا کرتا۔ جب راکھ ٹھنڈی پڑ چکی ہو تو پھر کیوں اسے  کریدا جائے۔ مندمل ہوتی ہوئی پگڈنڈیوں  پر واپس جانے  سے  کیا فائدہ ؟ اپنے  آپ سے  الجھ کر ایک بار پھر وہ حال میں  واپس آ جاتا اور زندگی معمول پر آ جاتی۔ لیکن اسی عالم میں  پھر کہیں  کسی جگہ اس سے  ملاقات ہو جایا کرتی اور دل ڈوبنے  لگتا۔

          ایک چھٹی کے  دن وہ اپنے  ایک دوست کے  یہاں  بیٹھا ہوا تھا۔ گپ شپ ہو رہی تھی۔ اسی دوران ایک لڑکی آئی، دونوں  کو بڑے  ادب کے  ساتھ سلام کیا اور اندر چلی گئی۔ وہ اسے  دیکھ کر چونک گیا۔ سادہ سوتی لباس، بغیر میک اپ کا چہرہ، بے  تصنع چال، بے  ریا آداب و اطوار! یہ سب تو ممکن ہے، لیکن چونکا وہ اس بات پر تھا کہ وہ چہرہ جانا پہچانا سا لگتا تھا۔ اِسے  کہیں  دیکھا ہے۔ کہاں  دیکھا ہے ؟ بہت غور کرنے  کے  بعد بھی کچھ سمجھ میں  نہیں  آ رہا تھا۔ سفید بادلوں  کے  پیچھے  چاند ڈوبتا ابھرتا رہا اور چاندنی اور اندھیرے  کو آپس میں  خلط ملط کرتا رہا۔ شفاف چاندنی اور دھندلے  اندھیرے  کے  کس لمحے  میں  کون کہاں  ٹھہرے ؟ساری بے  قیام منزلوں  میں  سے  کون اپنی ہے ؟ کوئی فیصلہ نہیں  کرپا رہا تھا۔ بس وہ حیرانی سے  تیرتے  ہوئے  ناقابلِ اعتبار لمحوں  کو شمار کرتا رہا۔  

           تب سے  وہ اس خلجان میں  مبتلا ہو گیا: آخر اس لڑکی کا چہرہ جانا پہچانا ساکیوں  لگا تھا؟کوئی بات تو تھی۔ کیا بات تھی؟ دونوں  باتیں  ایک دوسری سے  ٹکرا جاتیں۔ اس کے  تصور میں  بہت شدید تصادم ہوتا اور وہ شل ہو جاتا۔ ایسا کبھی کیوں  ہو جایا کرتا ہے ؟بے  وجہ کا ایک دکھ پیدا ہو تا ہے  اور برابر ستایا کرتا ہے۔ جھنجھلا کر وہ اس کشمکش کو فراموش کر دیتا، لیکن اچانک پھر کسی جگہ وہ اس کے  سامنے  آ جاتی، اسے  بہت احترام سے  سلام کرتی اور نظر نیچی کر کے  آگے  بڑھ جاتی۔ یہ کون ہے ؟ کون ہو سکتی ہے ؟ نہ جانتے  ہوئے  بھی یہ اتنی مانوس کیوں  لگ رہی تھی؟لیکن یہ معمّہ حل نہیں  ہو رہا تھا۔ اس کے  حل ہونے  کی ضرورت بھی کیا تھی؟ زچ ہو کر وہ ذہن کا بوجھ جھٹک کر پھینک دیتا۔ بڑا سکون محسوس ہوتا اسے  اس عالم میں! 

          بچوں  کا کوئی فنکشن تھا۔ وہ بہت غور سے  دیکھ رہا تھا۔ پاس بیٹھی ہوئی دس بارہ سال کی بچی انعام لے  کر ابھی دوبارہ اس کی بغل کی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ اس نے  جیب سے  چاکلیٹ کا بار نکالا اور بچی کی طرف بڑھا دیا۔ بچی کی بغل میں  بیٹھی میڈم نے  بچی کو کھینچ کر سیٹ پر سے  اٹھا لیا اور اپنی بغل میں  بیٹھی ہوئی بڑی لڑکی کو اس سیٹ پر بٹھا دیا۔ بڑی لڑکی نے  اسے  بڑے  احترام سے  سلام کیا اور چاکلیٹ لے  لی۔ میڈم نے  اپنی انتہائی ناگواری کا اظہار اس طرح کیا کہ وہ ان دونوں  لڑکیوں  کو لے  کر آڈیٹوریم سے  باہر چلی گئیں۔ جاتے  جاتے  اسے  نظر آیا کہ یہ تو وہی ہیں۔ اس نے  اطمینان کی ٹھنڈی سانس لی۔ اچھا، تو یہ اُنسیت اس وجہ سے  تھی۔

          ایک شام، ایک پارٹی میں شرکت کے  لئے  وہ گیا ہوا تھا۔ ایک میز کے  پاس سے  گزرا تو اس لڑکی نے  اسے  بڑے  ادب سے  سلام کیا۔ اس نے  بہت شفقت سے  جواب دیا۔ اس کی ماں  تلملا گئی۔ وہ خاموشی سے  آگے  بڑھ گیا۔ کیا وہ اتنا قابلِ نفرین ہے ؟ اسے  بددلی ہوئی، مگر اس نے  کسی رد عمل کا اظہار نہ کیا اور آگے  بڑھ گیا۔ اگلی میز پر اس کا دوست بیٹھا ہوا تھا۔ وہ اس کے  پاس بیٹھ گیا۔ اس کے  بد حظ چہرے  نے  دوست کو متوجہ کر لیا۔

          ’’کیا بات ہے ؟کیوں ؟ کیا ہوا؟‘‘

          ’’یہ فیملی کون ہے ؟‘‘

          ’’میرے  پڑوسی ہیں۔ یہ حضرت ابھی ٹرانسفر ہو کر آئے  ہیں۔ یہ انھیں  کی فیملی ہے ‘‘۔

          اس نے  کچھ اور نہ پوچھا اور خاموش ہو گیا۔

          ’’کیوں  کیا بات ہے ؟ کیوں  پوچھا تم نے ؟‘‘

          ’’بس یوں  ہی!‘‘

          ’’چلو میں  تمہیں  ان سے  ملواتا ہوں ‘‘۔

          ’’نہیں  کوئی ضرورت نہیں ‘‘۔

          ’’عجیب بات ہے۔ ان کے  بارے  میں  پوچھتے  بھی ہو اور ملنا بھی نہیں  چاہتے۔ آخر کیوں ؟‘‘

          ’’چھوڑو، کچھ اور بات کرو‘‘۔

          لیکن اس دن جب وہ اپنے  دوست کے  یہاں  گیا تو وہ بڑی لڑکی اور اس کے  والد دونوں  وہاں  بیٹھے  ہوئے  تھے۔ لڑکی اس کو دیکھتے  ہی کھڑی ہو گئی، ادب سے  سلام کیا اور اندر چلی گئی۔ دونوں  اجنبیوں  کا تعارف ہوا تو لڑکی کے  والد چونکے۔

          ’’آپ وہ تو نہیں  ہیں  جو کبھی ہمارے  شہر میں  تھے ؟‘‘

          ’’جی، آپ نے  صحیح پہچانا۔ میں  بالکل وہی ہوں ‘‘۔

          ’’پھر آپ یہاں  کیوں  چلے  آئے ؟‘‘

          ’’یہاں  میں  خوش اور مطمئن ہوں۔ اسی کی تلاش میں  یہاں  آ گیا تھا‘‘۔

           ان سوالوں  کے  وہ کیا جواب دے  جواس سے  آج تک کئے  ہی نہ گئے، لیکن وہ سوال اس کے  ماضی کے  ویرانے  میں  مسلسل بھٹکتے  رہے۔ کبھی کبھی وہ ماضی کے  بند دروازوں  پر دستک دینے  لگتے  تھے، لیکن وہ ان کے  جواب میں  بہرا ہو جایا کرتا تھا۔ پھر بھی اگر وہ یاد کی دہلیز پر سے  رینگ کر سامنے  آ جاتے  تو جواب میں وہ گونگا ہو جایا کرتا۔ کوئی ایک صحرا تھا، بے  ہنگم، بے  ترتیب پیڑوں  اور جھاڑیوں  سے  بھرا ہوا! پھول مرجھا کر بے  رنگ ہو چکے  تھے، ٹہنیاں  اور پتیاں  دھول گرد سے  اٹ کر بے  رونق ہو چکی تھیں۔ انھیں  دوبارہ تازگی کون عطا کرے ؟اس نے  گھبرا کر ان سوالوں  سے  منھ موڑنا چاہا، لیکن وہ سَمت کون سی تھی جس طرف کوئی منھ پھیرے ؟

          اسے  پورا شعور تھا کہ وہ زمین پر ہے  اور سفید بادل کے  گالے  اس سے  بہت ہی زیادہ بلندی پر اڑ رہے  ہیں۔ وہ ان کو پکڑنے  کی کوشش کرے  گا تواس کے  قدم اس کی اپنی زمین سے  اکھڑ جائیں  گے۔ بادلوں  تک تو شاید وہ پہنچ نہ سکے، لیکن اپنی زمین سے  اس کا رشتہ ضرور ٹوٹ جائے  گا۔ اس نے  رشتہ سے  انکار کر دیا تھا، مجھے  ہمیشہ نظریں  اٹھا کر دیکھنا پڑے  گا۔ ہر وقت دستار سنبھالتے  رہنا، یہ کس کے  بس کی بات تھی۔ تھک جاتا وہ اس عمل سے! قدم سے  قدم ملا کر وہ چل ہی نہ پاتا۔

          ’’لیکن اب کیا وہ کمی باقی نہیں  رہی ہے ؟‘‘

          ’’نہیں، اب مجھے  وہ احساسِ کمتری نہیں  رہا ہے ‘‘۔

          ’’اخّاہ، تو یہ پیمانہ احساس کا تھا!‘‘

          ’’جو بھی سمجھ لیجیے ‘‘۔

          ’’آپ کو معلوم ہے  کہ آپ کے  احساس نے  ہمیں  کتنی بڑی آزمائش میں  ڈال دیا تھا؟‘‘

          وہ متحیر ہو کر اسے  دیکھنے  لگا، دیکھتا رہ گیا۔

          ’’میں  اس لئے  ٹھکرائی جاتی رہی کہ مجھے  پہلے  ہی رشتہ میں  ٹھکرا دیا گیا تھا۔ ریگزار سے  گزرتے  ہوئے  معدوم راستہ کے  کنارے  کھڑی ہوئی میں  ہر کاروان کی طرف پُر امید نظروں  سے  دیکھتی رہی اور ہر ساربان مجھ سے  بے  اعتنا تیز گامی کی حدی الاپتا ہوا آگے  بڑھتا رہا۔ میرے  ہونٹ خشک ہو گئے، میری آنکھیں  پتھرا گئیں، میری سانس کمزور پڑ گئی اور میرے  پیر کھڑے  رہنے  کی طاقت کھو چکے  تو ایک آخری قافلہ سالارآیا اور اس نے  مجھ پر ترس کھا کر اٹھا لیا اور اپنے  محمل میں  جگہ دے  دی۔ کیا میں  اتنی گئی گزری تھی؟ وہ بے  اعتنا تھا، بے  نیاز تھا، لیکن وہ کیا کرتی؟ اسے  تو امان چاہیے  تھی۔ لیکن کبھی کبھی اس کے  سینے  میں  ایک ٹیس اٹھتی: کیا میں  اتنی بے  وقعت تھی؟ مجھے  سفر پر ساتھ لے  چلنے  پر آمادہ ہوا جائے  تو میری اپنی ذات کی وجہ سے  نہیں، مجھے  قابلِ رحم سمجھ کرترس کھایا جائے۔ کس نے  بنائی تھی میری یہ حالت؟‘‘

          ’’قصور وار میں  ہوں۔ یہی سمجھتی ہیں  نا آپ؟لیکن تب میرے  پاس کوئی ناقہ نہ تھی، کوئی محمل نہ تھا۔ بے  قافلہ حدی خوانی کرتا بھی تو کون ؟ زندگی کے  ریگ زاروں  میں میں  آپ کو اپنے  ساتھ بھٹکانا نہیں  چاہتا تھا۔ یہ انکار میں  نے  آپ کو لامتناہی آزمائشوں  سے  بچانے  کی وجہ سے  کیا تھا، اپنی اِنا کے  لئے  نہیں ‘‘۔

          بڑی لڑکی نے  آ کر اسے  ادب سے  سلام کیا اور ماں  کے  پاس بیٹھ گئی۔ کاش اتنی پیاری بچی اس کی گود میں  پروان چڑھی ہوتی۔ وہ ارمان اس کے  دل میں  برابر گدگدی کرتا رہا۔ اس آرزو کے  ساتھ اس نے  آنکھیں  بند کر لیں۔ وہاں  ایک وسیع مرغزار تھا۔ ہر طرف سبزہ ہی سبزہ، جگہ جگہ پھولوں  کے  تختے  اپنے  رنگوں  میں  مستانہ وار جھوم رہے  تھے۔ خوشبوئیں  ہر مشامِ جاں  کو معطر کر رہی تھیں۔ پھر وہاں  ایک دنبال کھلا۔ ایک تبسم ایک معصوم ہیولے  میں  ڈھل گیا۔ اس نے  چاہا کہ وہ اسے  مس کرے، لیکن وہ اتنی دور تھا کہ دل کی حسرت دل میں لئے  افسردہ ہو گیا۔

          دور سے  اس لڑکی نے  اسے  دیکھا اور دوڑنے  کے  انداز میں  تیز قدم اس کی طرف آئی۔ اس نے  اسے  دیکھا اور محسوس کیا۔ وہ لڑکی آ کر اس کے  پاس کھڑی ہو گئی، لیکن اس نے  اس کی طرف توجہ نہ دی۔ ایک درد تھا جس میں  وہ کھویا ہوا تھا اور وہ درداسے  اس طرح اذیت دے  رہا تھا کہ وہ، مجہول سا، شل ہو رہا تھا۔ لڑکی کچھ دیر تک چپ کھڑی رہی، پھر اکتا کر اس نے  پوچھا:

          ’’انکل، آپ اس طرح کیوں  بیٹھے  ہوئے  ہیں ؟‘‘

اس نے  اس کے  سوال کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔

’’اداس، گم سم!‘‘

اس نے  ایک گہری سانس لی، لیکن کچھ بولا نہیں۔

’’انکل آپ کچھ چھپا رہے  ہیں ‘‘۔

’’نہیں، ایسا نہیں  ہے  میری بیٹی، میرے  اندر جو ایک درد ہے، وہ میں  کیسے  بیان کروں ؟ میں  خودسمجھ نہیں  پا رہا ہوں ‘‘۔

وہ لڑکی اس کے  سامنے  لان پر بیٹھ گئی اور ٹکٹکی باندھے  اسے  دیکھتی رہی۔ پھر وہ مسکرائی، اس کی آنکھوں  میں  جھانک کر دیکھا اور بولی، ’’انکل، آپ کی آنکھوں  میں کوئی سایہ تیر رہا ہے ‘‘۔

وہ ایک دم چونک گیا۔ کوئی چھپی ہوئی بات کا سراغ لگا لے  تو آدمی چونکتا تو ہے  ہی۔ پھر بھی وہ خاموش رہا، اس سایہ کو آنکھوں  میں  بسائے  مستور رکھنے  کی سعی کرتا رہا۔ دل ہی دل میں  اس نے  کہا، اس سایہ کو پیکر میں  نہ تراشو۔ یہ زندگی بھر میرے  لئے  راحت بنا رہا ہے۔ میں  جب بھی زندگی کی کڑی دھوپ میں  جھلسنے  لگا تو اس نے  مجھے  اپنی آغوش میں  لے  لیا۔ راستہ ناہموار تھا لیکن اس سایہ نے  میری پیشانی پر پسینہ نہ جھلکنے  دیا۔ میں  جب بھی ہمت ہارنے  لگا تو اس سحاب کے  سیمیائی حاشیے  سے  تبسم جھلکنے  لگا۔ یوں  ساتھ ساتھ چلو کہ زندگی ہمیشہ آباد رہے، کوئی رکاوٹ ہمتیں  توڑ نہ سکے، کوئی آزمائش صبر وسکون کومسمارنہ کر سکے۔

لیکن اس لڑکی نے  اندر بہتے  ہوئے  دھارے  کاتسلسل توڑ دیا، ’’انکل، آپ میری بات کا جواب کیوں  نہیں  دے  رہے  ہیں ؟‘‘

اس دوران وہ دُور لان میں  بیٹھے  ہوئے  جوڑے  کو گھورتا رہا، بالکل خاموش! لڑکی کو جب اس بار بھی اپنے  سوال کا جواب نہ ملا تو اس نے  اس کی نظر کے  رخ کو دیکھا اور اطمینان کی ٹھنڈی سانس لی۔ اس ردِ عمل پر اس نے  محسوس کیا کہ اس کا چور پکڑا گیا ہے۔ وہ مسکرا دیا۔ دل کے  نیم وا دروازے  سے  تازہ ہوا کا ایک جھونکا آیا۔

’’دیکھو، وہ لوگ کس قدر بے  فکر ہو کر بیٹھے  ہوئے  ہیں ‘‘۔

لڑکی نے  اس پرتر س کھاتے  ہوئے  دیکھا اور پوچھا، ’’ کیا یاد آ رہا ہے  آپ کو؟‘‘

زندگی کا وہ لامتناہی سلسلہ جو اچانک ختم ہو جایا کرتا ہے  اور ہم سوچ بھی نہیں  پاتے  کہ کیا ہو گیا، کیوں  ہو گیا۔ اب تو میں  ان دنوں  کی طرح بے  فکرا نہیں  ہو سکتا۔ ہر لحظہ ایک بوجھل پتھر کی طرح راہ میں  آ گیا ہے  اور میں  اکیلا اسے  ہٹا بھی نہیں  پا رہا ہوں۔ جیسے  میں  سر سے  پیر تک جامد ہو گیا ہوں۔ میں  انتظار کے  وقفے  میں  گرفتار ہوں  اور جس کا میں  منتظر ہوں  وہ آ ہی نہیں  چکتا۔ اس کا دل پگھلنے  لگا۔

جس طرح اچانک وہ چھوڑ کر چلی گئی بالکل اسی طرح وہ اس کی زندگی میں  بھی اچانک آ گئی تھی، اور آئی تو بھرپور آئی، سارا سب کچھ ساتھ لے  کر۔ ایک سفر تھا جو وہاں  سے  نئے  سرے  سے  شروع ہوا تھا۔ یہ طمانیت اور اعتماد زندگی بھر قائم و باقی رہا۔ ہم جب بھی ایک دوسرے  کی طرف دیکھتے  تو مسکرا دیتے۔ ایک دوسرے  پریہ انحصار و امتنان، ایک مرغزار تھا جو دور تک پھیلا ہوا تھا اور اس سرسبزی و شادابی کے  بیچ میں  وہ اُس کے  ساتھ اُس جوڑے  کی طرح بیٹھا ہوا تھا جو گرد و پیش کو بھول کر اپنے  آپ میں  گم تھا۔

اس نے  یہ سب کچھ اس لڑکی کو سمجھانا چاہا، لیکن بیچ میں  ہی اس نے  سوال کر دیا، ’’انکل، کیا آپ کو یہ سب کچھ کہیں  اور نہیں  مل سکتا تھا؟‘‘

’’ہم نے  ہمیشہ ایک دوسرے  کی آنکھوں  میں  جھانک کر دیکھا اور دور تک ایک دوسرے  کی ذات میں اترتے  چلے  گئے، لیکن جن کو تم نے  بیچ میں  کھڑا کر دیا ہے  وہ ایسی بلندی پر تھیں  کہ میں  تب ان آنکھوں  میں جھانک نہیں  سکتا تھا۔ دیکھتا تو نظریں  اجنبی ہی رہتیں۔ اندر باطن تک اتر نہ سکتیں ‘‘۔

یہ سب کچھ وہ کیسے  باور کر لے ؟ لڑکی سوچ میں  پڑ گئی۔

دور ایک تختۂ سبز پر چھوٹے  چھوٹے  بچے  کھیل کود رہے  تھے، دوڑ بھاگ رہے  تھے۔

جب پھل پک جایا کرتے  ہیں  تو  پیڑ کا ساتھ چھوڑ دیتے  ہیں  اور کہیں  اور کونپل پھوڑ کر اپنا پیڑ خود اگا لیتے  ہیں  اور درخت تنہا رہ جاتا ہے۔ اس کی شاخیں  اجاڑ ہو جاتی ہیں۔

’’میں  آپ کا درد سمجھتی ہوں  انکل!‘‘

’’نہیں، ابھی تمہاری یہ عمر نہیں  ہے، تم میرے  درد کو سمجھنے  کی کوشش نہ کرو‘‘۔

وہ جانے  کے  لئے  اٹھ کھڑا ہوا۔ لڑکی نے  ملتجیانہ نظر سے  اسے  دیکھا، ’’انکل!‘‘

اسے  لڑکی پر پیار آ گیا، ’’کیا بات ہے  بیٹی؟‘‘

’’میں  جب بھی آپ کے  پاس ہوتی ہوں  تو مجھے  ایسا محسوس ہوتا ہے  کہ جیسے  آپ مجھ سے  دور ہی دور ہیں۔ آپ میرے  پاس کیوں  نہیں ہو پاتے ؟‘‘

’’میں  سمجھتا ہوں  بیٹی، تم نے  میرے  بارے  میں  اتنا بہت سنا ہو گا کہ میں  ایک مانوس ہستی بن کر تمہاری یاد میں  بس گیا ہوں، لیکن تمہیں  کیا معلوم کہ خیال کو اس طرح حقیقت نہیں  بنایا کرتے۔ اس طرح ہم آوارہ گرد باد کی طرح بھٹکتے  رہتے  ہیں  اور ہمارے  ہاتھ کچھ نہیں  آتا۔ ہم جو کچھ ہیں  وہ حقیقت ہے۔ اس سے  آگے  جانے  کی ضرورت نہیں۔ وہ سب خلا ہے ‘‘۔

’’لیکن انکل، کچھ اپنے  پن کا تعلق تو ہے ؟‘‘

’’ہاں  ہے!‘‘ یہ کہتا ہوا وہ چلا گیا۔

اور جاتے  ہوئے  لڑکی نے  محسوس کیا کہ وہ بالکل اکیلا ہو گیا ہے۔ اس کا ہر اٹھتا ہوا قدم بوجھل ہو رہا تھا اور آگے  کی سمت میں  اس کا وجود سمٹتے  سمٹتے  معدوم ہو گیا۔

اس نے  اپنا چراغ اپنی دہلیز پر روشن کر کے  رکھ دیا، جو اس کی دہلیز پر خاموش و پر سکون لَو کے  ساتھ جلتا رہا۔ شایداسے  کسی کا انتظار تھا، اسی لئے  وہ مسلسل جامد و ساکت رہا۔ بس کبھی کبھی ہوا کے  کسی غیر محسوس جھونکے  سے  اس کی لَو لہرا جاتی تھی، لیکن وہ خود اپنی روشنی کے  ساتھ مستحکم رہا۔ پھر ایک دن اس کے  بزرگوں  نے  اس کے  چراغ کے  بالکل برابر ایک اور چراغ رکھ دیا۔ اس کی لَو سے  دل کش رنگ برنگے  ستارے  چٹخ کر بکھر جایا کرتے  اور روشنی اور بھی زیادہ دل کش ہو جایا کرتی۔ وہ چراغ اس کے  بالکل برابر روشن رہا۔ دونوں  لَویں  یکساں  روشن رہیں، روشنی بڑھ گئی۔ گھر کا کونہ کونہ آباد ہو گیا۔ سنّاٹا نغمہ بار چہل پہل سے  معمور ہو گیا۔ اگر کبھی ہوا کا کوئی غیر محسوس جھونکا ایک شعلہ کو لرزا دیتا تو دوسرا اس کی محافظت کے  لئے  اس پر جھک جایا کرتا۔ ان دونوں  میں  اتنا انس پیدا ہو گیا تھا کہ کسی کو کسی طرح کا کوئی امتیاز محسوس ہی نہ ہوتا تھا۔ زندگی بے  رس اور سپاٹ نہیں  تھی۔ ان کی لَویں  ایک دوسری میں  کبھی الجھ بھی جایا کرتی تھیں تو فوراً اپنی گرہیں  گرہیں  سلجھا کر وہ ایک دوسرے  کے  شانہ بہ شانہ استواری کے  ساتھ مستحکم ہو جاتیں۔ زندگی اپنی پوری حرارت کے  ساتھ رواں  دواں  تھی۔ انھوں  نے  ہمیشہ کوشش کی کہ ان کی باتیں  ان کی دیواروں  سے  باہر نہ جانے  پائیں۔ اس کوشش میں  انھیں  امکانی حد تک کامیابی ہوئی اور وہ صابر و شا کر رہے۔    

ایک تنہا رات میں وہ اپنی زندگی کے  بیتے  دنوں  کا شمار کرنے  کے  عذاب میں  مبتلا ہو کر کچھ حاصل نہیں  کر پا رہا تھا، لیکن وہ دن تھے  کہ ایک خلش دل کی گہرائی میں  پیدا کر رہے  تھے۔ ان دنوں، جب وہ ساری زندگی کے  لئے  ایک رشتہ میں  بندھ گئے  تھے، وہ اکثر سوچاکرتاکہ کیا میں  اس ذمہ داری کو صحیح طور پر ادا بھی کر سکوں  گا؟

’’یہ آپ کیوں سوچتے  ہیں ؟ کچھ ذمہ داری میری بھی تو ہو گی، میں  کوئی بے  حس پتھر تو نہیں  ہوں ‘‘۔

’’لیکن بوجھ تو مجھے  ہی اٹھانا ہے ‘‘۔

’’یہ بوجھ اٹھانے  میں  میں  آپ کی مدد کروں  گی‘‘، اس کے  لبوں  پر تبسم تھا اور چہرے  پر شگفتگی۔

وہ بھی مسکرا دیا۔ زندگی میں  کلیاں  کھل اٹھیں۔ چاروں  طرف بہار ہی بہار، مسرت ہی مسرت، شکستِ رنگ میں  الوان ہی الوان۔ ہر خار شاخِ گل میں  سج جایا کرتا اور بے  ضر ر محسوس ہونے  لگتا۔ پھول اور بھی زیادہ نرم و نازک محسوس ہونے  لگتا۔ معطر فضا قہقہہ زار بن جاتی اور وہ اس بہجت آمیز موسم میں  خوشبوؤں  سے  سرشار ہو جاتے۔ کوئی تھا جو ان کے  اندر زندہ تھا، آنے  والے  کل کی آغوش میں  کروٹیں  لے  رہا تھا۔ وہ آیاتواس نے  اسے  محبت کی آغوش میں  بھر لیا۔ اس کی آنکھوں  میں  نور تھا اور اس کے  چہرے  پرسایہ فگن ہستی کی معصومیت! لیکن پھر وہ اچانک بیمار پڑ گئی، وہ بھی اس حد تک کہ زندگی اور موت کی کشمکش خطرناک بن گئی۔ دوپہر کو جب وہ دوا لے  کر شہر سے  واپس ہوتا تو دھوپ کی تمازت سے  سلگ جاتا۔ بل کھا کر سڑک کے  پاس سے  گزرتی ہوئی ندی اپنے  ٹھنڈے  پانی کی حرص پیدا کر دیتی۔ وہ اس کے  کنارے  تک جاتا، اپنے  منھ پر چلو بھر بھر کر چَھپکّے  مارتا، کُلّیاں  کرتا، کچھ اندر کی آگ بجھتی تو وہیں  ندی کے  کنارے  بیٹھ جاتا اور خم کھا کر بہتے  ہوئے  دھارے  کو محو ہو کر دیکھنے  لگتا۔ اس میں  ایک زندگی تھی اور اپنی زندگی کے  لئے  ہی پر امید ہو کر وہ پھر چٹختی دھوپ میں  اپنا وجود لے  کر آ جاتا اور اپنا سفرپھر شروع کر دیتا۔ پُرتبسم پیکراس کا اس طرح استقبال کرتی کہ جیسے  وہ دوبارہ مژدۂ حیات لے  کر واپس آئی ہو۔ یہ امید تھی جو زندگی کو واپس لے  آئی۔

بات یہیں  ختم نہیں  ہوتی۔ اس کے  کنبہ میں  پہلا وجود ایک بیٹی کی صورت میں  آیا اور اس نے  ان کی ویران زندگی میں بہار کی خوشبو بکھیر دی۔ ہر طرف مسرتیں  ہی مسرتیں، نور ہی نور! یہ تو وہ دولت تھی جو تمام دولتوں  میں  سب سے  اعلیٰ تھی۔ اس کے  علاوہ انھیں  اور کیا چاہیے  تھا۔ اس ایک معصوم ہستی نے  انھیں  سرشار کر دیا۔ انھیں  تو سب کچھ مل گیا تھا۔ لیکن ابھی اس نعمت کو ملے  دوسال بھی نہیں  ہوئے  تھے  کہ ایک مہلک بخار نے  اس معصوم اور بے  حد خوبصورت کلی کے  وجود کومسخ کر دیا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے  لئے  ذہناً معذور ہو گئی۔ اس نے  اس ابتلا پر بھی صبر کیا۔ یہ تو اس کی طرف سے  ہے  جس نے  اسے  بنایا ہے۔ ہمیں  تو اس حال میں  بھی راضی رہنا ہے۔ زندگی بھر اس نے  صبر وسکون سے  کام لیا اور کبھی کوئی حرفِ شکایت زبان پر نہیں  آیا۔

اس نے  گھبرا کر اس کے  چہرے  کی طرف دیکھا۔ اوپر سے  پرسکون پانی کی تہہ میں  کتنے  خوفناک طوفان کروٹیں  لے  رہے  ہیں۔ وہ انھیں  روکنا چاہتی تھی، لیکن باطن کی ان گہرائیوں  کو چھیڑنے  کی اس میں  ہمت نہ ہو ئی۔

’’جانتی ہو، اب وہ بچی کتنی بڑی ہے ؟‘‘

’’کتنی بڑی؟‘‘

’’تم سے  بڑی ہی ہے  وہ! اور اس کو سنبھالے  رکھنے  پراس کی ماں  کو قدرت حاصل ہے۔ لیکن اس کے  دل کا اطمینان اور چہرے  کا سکون کبھی بھی متاثر نہیں  ہوتا‘‘۔

اوہ! وہ اندر سے  کانپ گئی۔ ایک بھیانک خدشہ اس کے  دل میں پھن کاڑھ کے  کھڑا ہو گیا۔ اگر وہ میری ممی ہوتیں  اور وہ میں  ہوتی، تو کیا سب کچھ اسی طرح مستور و مخفی رہتا؟

’’بیٹی، تمہارا چہرہ تمہاری دلی کیفیت کی چغلی کھا رہا ہے۔ مجھے  اندازہ ہے  کہ تم کیا سوچ رہی ہو۔ صبر و برداشت اسی میں  ہوتی ہے  جس میں  اس کی صلاحیت ہو۔ خطرہ تم نے  کیوں  محسوس کیا؟‘‘

وہ خاموش ہو کر اپنے  خیالوں  میں  گم ہو گیا۔ غنچہ مسکرایا اور مرجھا کر بکھر گیا۔ موت منڈلاتی رہی، زندگی امید و بیم کے  درمیان ڈولتی رہی۔ وہ خود بھی مایوس ہو چکی تھی، زندگی کی ڈور اس کے  ہاتھ سے  چھوٹتی جا رہی تھی۔ آنکھوں  میں  حسرت تھی، پھر بھی وہ اپنی روشن آنکھوں  سے  اس کی آنکھوں  میں جھانکتی رہی، کچھ تلاش کرتی رہی۔

’’کیا بات ہے ؟ تم اس طرح کیا دیکھتی رہتی ہو؟‘‘

’’میرے  بعد آپ دوسری شادی کر لیجیے  گا‘‘۔

وہ چپ ہو گیا، نم دیدہ ہو کر اس نے  چھوٹتے  ہوئے  دامن کو مضبوطی سے  تھام لیا۔ اس کے  ہونٹ کپکپا گئے، ’’ضرور کروں  گا، ضرور! بشرطے  کہ وہ دوسری بھی تم ہی ہو‘‘۔ اس نے  بہت چاہا لیکن روکنے  کے  باوجود آنسوؤں  کے  دو قطرے  اس کے  سینے  پر ٹپک پڑے۔

’’حوصلہ رکھیے، ابھی میں زندہ ہوں ‘‘۔

’’میں  کیا کروں، یہ زہریلے  لفظ جب بھی میری طرف پھینکے  جاتے  ہیں  تو میرا سینہ چیر کے  رکھ دیتے  ہیں ‘‘۔

          وہ چپ ہو گئی اور بہت بھروسہ کے  ساتھ اس کا ہاتھ سہلانے  لگی۔

          اب اس کی بیماری کو ساڑھے  تین مہینے  سے  زیادہ عرصہ ہو رہا تھا۔ بسترسے  وہ اٹھ نہیں  سکتی تھی۔ دن رات مسلسل پڑے  پڑے  جیسے  وقت بھی کاٹے  نہیں  کٹتا تھا۔ بعض وقت جب یہ کس مپرسی کی حالت ناقابل برداشت ہو جاتی تواس کی آنکھوں کے  گوشے  بھیگ جاتے۔ اس کی ٹھوڑی لرزنے  لگتی اور وہ تکیہ میں  منھ چھپا کر سسکیاں بھرنے  لگتی۔ ایسے  وقت اس سے  بھی اس کی یہ کیفیت دیکھی نہ جاتی اور اس کے  سینے  میں  جیسے  دکھ کے  بادل رندھنے  لگتے  اور وہ بے  چارگی کے  ساتھ اس کی طرف دیکھنے  لگتا۔ یہی عورت جواب تک ہر مرحلے  پراس سے  زیادہ با ہمت ثابت ہوئی ہے  آج کس طرح مجبور محض ہو کر رہ گئی ہے۔ زندگی کے  ساتھ کشمکش نے  اسے  جہاں چٹان کی طرح مستحکم رکھا اب ریت کے  تودہ کی طرح ریزہ ریزہ ہو گئی ہے۔ پھر وہ  اپنی اندرونی حالت پر قابو پانے  کی ناکام کوشش کرتے  ہوئے  اسے  دلاسا دینے  کی کوشش کرتا۔

          ’’دیکھو، مدّو، یہ کیا تم بچوں کی طرح جی چھوڑ رہی ہو۔ خدا پر بھروسہ رکھو، جلد ہی اچھی ہو جاؤ گی‘‘۔

          اور وہ بے  بسی کے  ساتھ اپنی ہتھیلیوں سے  آنسو خشک کرنے  لگتی۔

          ’’کیا تم اس قدر مایوس ہو چکی ہو، اپنی صحت سے ؟‘‘

          ’’نہیں میں  مایوس نہیں ہوں مگر اس طرح  بسترپرکب تک پڑی رہوں گی؟‘‘

          ’’جب تک خدا کی مرضی ہو۔ اس میں  کسی کو کیا دخل ہو سکتا ہے ‘‘۔

          اورپھراس کی آنکھوں سے  بے  اختیارآنسووں  کا سیلاب امنڈ پڑتا۔

          ’’مدّو، جب تم جیسی عورت کا یہ حال ہو گاتوسوچوکہ میں اپنے  آپ پرکیسے  قابوپاسکوں گا‘‘۔

          ’’مجھے  اپنی ذات سے  زیادہ اِس کی فکر ہے ‘‘، اس نے  نومولود بچے  کی طرف اشارہ کر کے  کہا۔

          ’’ٹھیک ہے  تمہاری بیماری کا اثر بچے  کی صحت پر ضرور پڑے  گا، لیکن تم ذرا اپنے  دل کو مضبوط کرو، جلدی سے  اچھی ہو جاؤ تو بچہ بھی سنبھل جائے  گا‘‘۔

          اور وہ بچے  کو مامتا بھری نظروں سے  دیکھنے  لگی۔

          ’’تمہاری صحت پر ہی بچے  کی صحت کا انحصار ہے ‘‘۔

          وہ کچھ اس طرح خاموش ہو جاتی کہ جیسے  وہ کسی گہری فکر میں کھو گئی ہو، اور دل ہی دل میں  مصمم ارادہ کر رہی ہو کہ اسے  صحت یاب ہونا ہے۔

          اس کی یہی ادا اسے  سب سے  زیادہ پسندتھی، اوراسی ادا نے  آج شادی کے  بارہ سال بعد بھی اس کے  اندر محبت کی کلیوں کواسی طرح تازہ اور خوشبودار بنائے  رکھا تھا جس طرح وہ پہلے  دن اور پہلی چاندنی راتوں میں تھیں۔ وہ جب ہمت چھوڑ دیتا تھاتواس کی طرف پُر امید نظروں  سے  دیکھتا جیسے  اس کے  سہارے  کی تلاش میں ہو۔ اس کی آغوش میں سر رکھ کر جب وہ آنکھیں بند کر لیتا اور وہ اپنی انگلیوں سے  پیار بھرے  انداز میں اس کے  بالوں میں کنگھی سی کرنے  لگتی اور عزم و یقین سے  بھری ہوئی دھیمی آواز میں  سمجھانے  لگتی، اور حالات کا مقابلہ کرنے  کی ہمت دلاتی تو وہ اپنے  آپ کواس کی آغوش کے  اس طرح سپردکر دیتا کہ جیسے  اسے  ساری کامرانیاں ایک ساتھ نصیب ہو گئی ہیں، اور اب اس کے  سامنے  کوئی مشکل نہیں  رہی ہے، اسے  کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے، وہ گویا ایک ایسے  آرام دہ گہوارہ میں لیٹا ہوا ہے  جس میں  اسے  پپوٹے  بند کرتے  ہی نیند آ گئی ہو اور حسین خواب اس کی غنودگی میں  بسیرا کر چکے  ہوں  اور یہ خواب کبھی نہ ٹوٹیں گے۔ یہ لذت اس کے  لئے  اتنی بے  پناہ ہوتی کہ وہ اس کی کلائیوں کو پکڑ لیتا، اور جذبات سے  لرزتی ہوئی آواز میں کہتا:

          ’’مدّو!‘‘

          ’’جی!‘‘

          اس ’’جی‘‘ میں  مٹھاس کی کتنی گھلاوٹ ہوتی، وہ بیان نہیں کر سکتا تھا۔

          ’’مسکرادو۔ ۔ ۔!‘‘

          ’’نہیں!۔ ‘‘

          اس ’’نہیں ‘‘میں شوخی بھی ہوتی اور مسکراہٹ بھی!

          ایک کلی چٹختی اور وہ اسے  بری طرح گدگدا دیتا۔ وہ گدگدی سے  بے  حال ہو جاتی۔

          ’’اف، اﷲ! یہ کیا مصیبت ہے ‘‘۔

          لیکن اب یہ خوشگوار لمحات جیسے  خواب و خیال سے  معلوم ہوتے  تھے، وہ پہروں  اس کے  پلنگ کی پٹی پر بیٹھا رہتا۔ اس کے  چہرے  کو ٹکٹکی باندھے  دیکھا کرتا اور ماضی کی یادیں اس کے  مضمحل سے  چہرے  پر ناچتی ہوئی نظر آتیں  اور ہریاداُسی طرح شوخ ہوتی جس طرح اپنے  کردار کے   مختلف رنگوں سے  اس نے  زندگی کو شوخ بنا رکھا تھا۔

          اس کی آنتوں میں پھنسیاں پڑ گئی تھیں، ان پھنسیوں میں پیپ پڑ گئی تھی اور ہر وقت ناقابل برداشت ٹیس اٹھتی رہتی۔ اس تکلیف کو برداشت کر لینا اسی کے  بس کی بات تھی۔ بھرابھراجسم سوکھ کر ہڈیوں کا پنجر ہو گیا تھا، آنکھوں کے  گرد گہرے  سیاہ حلقے  پڑ چکے  تھے، اور چہرے  پرسفیدی کھنڈ آئی تھی۔ ایسے  عالم میں جب وہ دردسے  بے  تاب ہو جاتی اور دانتوں سے  ہونٹ چبانے  لگتی تو دیکھنے   والا یوں  محسو س کرتا کہ جیسے  سارا درد اس کے  اندر منتقل ہو گیا ہے۔ اور پھر یہ حالت دیکھے  نہ دیکھی جاتی۔ کلیجہ پانی ہوتا ہوا محسوس ہوتا اور وہ اپنی آنکھوں کی نمی کو چھپانے  کی کوشش کرتا۔

          وہ اس وقت بھی اس کے  پلنگ کی پٹی پر بیٹھا ہوا تھا اور وہ درد  کو ضبط کرنے  کی ناکام کوشش کر رہی تھی، پھراس نے  کروٹ لی اور منھ دوسری طرف کر لیا۔ اسے  فوراً شبہ ہوا کہ وہ اپنے  آنسو چھپانے  کی کوشش کر رہی ہے۔ اس نے  آہستہ سے  اس کے  شانے  پر ہاتھ رکھا اور اس کے  چہرے  کو اپنی طرف پھیرنا چاہا۔ اس نے  بغیرکسی مزاحمت کے  اپنا رخ اس کی طرف کر لیا۔ اس کی آنکھیں  نم تھیں  اور ناک سرخ ہو چکی تھی، نتھنے  آہستہ آہستہ لرز رہے  تھے۔

          ’’مدّو‘‘، وہ اپنی آواز کی لرزش پر قابو نہ پاسکا۔

          ’’پانی!‘‘

           اس نے  سرعت کے  ساتھ اپنے  آنسو پونچھ لئے، اس کے  حلق میں تین چار چمچے  پانی ٹپکایا اور پھر تولیہ سے  اس کے  ہونٹوں  اور آنکھوں کو خشک کیا۔

          ’’کیا بات ہے ؟‘‘

          ’’کچھ نہیں ‘‘۔

          ’’کچھ تو ضرور ہے ‘‘۔

          ’’اس بیماری سے  اب طبیعت گھبرا چکی ہے ‘‘۔

          ’’ٹھیک ہے، لیکن حوصلہ نہ ہارو۔ خدا نے  چاہا تو اب تم اچھی ہو جاؤ گی‘‘۔

          وہ بالکل خاموش رہی۔

          ’’دیکھتی نہیں ہو۔ اب پہلے  سے  تم کتنی بہتر ہو، تمہاری تکلیف میں بھی کمی ہونے  لگی ہے  اور اب پیپ کا اخراج بھی کم ہو رہا ہے ‘‘۔

          پھر بھی وہ خاموش رہی اور نہ معلوم کس سوچ میں  ڈوب گئی۔

          اس نے  اس کی توجہ بٹانے  کے  لئے  بچے  کو اس کے  پہلو میں لٹا دیا۔ اس نے  پہلے  ایک بے  توجہی کی نظر بچے  پر ڈالی پھر سینے  میں  مامتا نے  کروٹ لی اور بے  چینی کے  ساتھ بچے  کوسینے  سے  چمٹا لیا۔ اس کی آنکھوں سے  بے  اختیارآنسو چھلکنے  لگے، بڑی دیر تک وہ اسی طرح روتی رہی اور اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ کیا کرے۔

          ’’مجھے  بٹھا دیجئے!‘‘اس نے  خود ہی اپنی کیفیت پر قابو پاتے  ہوئے  کہا۔

          اس نے  سہارادے  کراسے  بٹھایا اور خوداس کی پیٹھ کے  پیچھے  سہار ا بن کر بیٹھ گیا۔ اس نے  بچے  کو اپنی گود میں  لٹانے  کے  لئے  کہا۔ شایداس طرح اس کی مامتا جاگ اٹھے  جس کے  جوش میں  وہ بچے  کو لاڈ پیار کرے  اور اس کی ڈوبتی نبض میں  حرکت آ جائے۔ اس نے  مامتا بھری گود میں بچہ کو لٹا دیا۔ بڑی دیر تک وہ اس کے  چہرے  کو اپنی نرم ہتھیلیوں سے  سہلاتی رہی، پھراس نے  پاؤڈر، سرمہ، پانی اور تولیہ مانگا۔ اس نے  ساری چیزیں  پاس کی میزپرسے  اٹھا کراسے  دے  دیں، اس نے  بڑے  انہماک کے  ساتھ بچے  کوسنوارا اور ٹکٹکی باندھے  دیکھتی رہی۔ اسے  یہ احساس تھا کہ یہ محنت اسے  بری طرح تھکا دے  گی، اس کا اثراس کی اَلسر سے  داغ داغ آنتوں پربھی پڑے  گا۔ لیکن اس نے  اس کے  انہماک میں خلل ڈالنامناسب نہ سمجھا تاکہ وہ تھوڑی دیر کے  لئے  اپنی تکلیف کو بھولی رہے۔

          ’’مدّو، لاؤ میں بچے  کو تمہارے  بسترپرلٹادوں۔ تم بھی اس کے  پاس لیٹ جاؤ‘‘۔

          اس نے  آہستہ سے  بچے  کواس کی گود سے  اٹھا کربسترپرلٹادیا اور وہ بھی قدرے  مطمئن سی اس کے  پاس ہی لیٹ گئی۔ پھر اس کی آنتوں میں شدید درد اٹھا اور وہ بے  حال ہو کر تڑپنے  لگی۔

          یہ کیفیت مسلسل ساڑھے  تین مہینے  سے  چل رہی تھی۔ اس کی علالت کی شدت کی وجہ سے  بے  چارہ بچہ توجہ سے  محروم ہو رہا تھا، نہ وقت پر دودھ ملتا تھا اور نہ اس کی ضروریات کی بروقت تکمیل ہو پاتی تھی۔ نتیجہ ظاہر تھا کہ اس کی صحت بھی متاثر ہوئی اور بچہ بھی بیمار رہنے  لگا۔ رفتہ رفتہ اس کی کمزوری اس قدر بڑھی کہ زندگی کو خطرہ لاحق ہو گیا، اس کے  لئے  یہ ایک نئی آزمائش تھی۔ صرف اسی کے  لئے  کیا، گھرکا ہر فرد  دو گونہ پریشانیوں میں مبتلا ہو گیا۔ وہ جب بھی بچے  کی اس حالت کو دیکھتی تو اپنی بیماری بھول کر بچے  کے  لئے  فکرمند ہو جاتی اور رہ رہ کر آنکھوں  میں  سیلاب امنڈنے  لگتا۔

          ’’مدّو، دل تھوڑا نہ کرو۔ بچہ اچھا ہو جائے  گا‘‘۔

          مگراس کی غم زدہ آنکھوں کی نمی کم نہ ہوتی۔

          ’’دیکھو نا، اگر تم رو رو کر ہلکان ہو گی تو بڑی مشکل ہو جائے  گی۔ تم کو تو صرف اپنی صحت کی فکر کرنی چاہیے  تاکہ جلد سے  جلد اچھی ہو جاؤ اور دوبارہ تم خود بچے  کی طرف توجہ دے  سکو‘‘۔

          وہ اس کی نصیحت کو کچھ اس طرح سنتی جیسے  وہ صرف دل بہلاوے  کی بات ہو، کیونکہ اس کی سانس دن میں  چار پانچ بار اکھڑ جایا  کرتی تھی اور سب ہی اس کی زندگی سے  مایوس ہو جایا کرتے  تھے۔ زندگی کے  کگار پانچ مہینے  تک اسی طرح ٹوٹتے  رہے  اور وہ سب دریا کے  بڑھتے  ہوئے  پاٹ کو حسرت و مایوسی کی حالت میں  دیکھتے  رہے، اپنی کیفیت کو اپنے  سینے  میں  دبائے  وہ اسے  دلاسا دیتا رہا۔

          ’’جتنی جلد تم اچھی ہو گی، بس سمجھو، اتنی ہی جلد بچے  کو صحت نصیب ہو گی۔ ماں سے  بڑھ کر کون تیمار دار ہوتا ہے ‘‘۔

          وہ یہی سمجھتا رہا کہ میرے  ان دل بہلاووں  کا اس پر کوئی بھی اثر نہیں  ہو رہا ہے، لیکن ایک ہفتہ کے  اندر ہی اسے  احساس ہوا کہ اس کے  مرض میں  کمی ہو رہی ہے، اور وہ محض بچے  کے  لئے  کافی دیر تک اپنے  بسترپراس کے  سہارے  بیٹھی رہتی اور بچے  کی تیمار داری کرتی رہتی، لیکن وہ ایک خوبصورت ننھا پرندہ تھا اڑ جانے  کے  لئے، اس لئے  وہ اُڑ گیا۔

پھر ایک دن اسے  ایک بہت ضروری کام سے  باہر جانا پڑا۔ اس بیچ اس بیمار عورت نے  خواب دیکھا کہ وہ گود میں  بچہ کو لئے  بیٹھی ہے  اور اس کے  گرد بہت سی عورتیں  بیٹھی ہوئی ہیں۔ اس نے  ان عورتوں  کے  سامنے  بچے  کے  ڈھانچے  کو رکھتے  ہوئے  کہا، ’’لیجیے، یہ تو ختم ہو گیا‘‘۔

دوسرے  دن کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہ خواب تھا یا کہ حقیقت کی پیشن گوئی۔

 وہ جب کام سے  لوٹا تو بچے  کو ختم ہوئے  چار دن ہو چکے  تھے۔

’’یہ کیا ہو گیا؟‘‘ اس کا گلا رندھ گیا اور آنکھیں  اشک بار ہو گئیں۔

’’جس کی امانت تھی اس نے  واپس لے  لی ‘‘، کمزوری اور