کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بے چارے لوگ

ڈاکٹر ابنِ فرید


دیوان چندن گڑھ کے  پوتے  صاحب آنکھیں بند کر لیجئے، وقت درد انگیزی کے  ساتھ آگے  بڑھ گیا ہے۔ اور آپ کو گزرتی شام کے  اندھیرے  میں  خنکی محسوس ہو رہی ہے۔

حضور آپ آنکھیں بند کر لیجئے۔ یہ روز میری ہال کی فضا کتنی پر تصنّع ہے۔ یہ اَیرکنڈیشننگ نہیں اَیر کولنگ ہے۔ یہ آپ کے  لیے  اجنبی ہے۔ گذشتہ پینتس (۳۵) سال میں  ’’مغرب کے  ملکوں میں ‘‘یہ تصنّع فضا آپ کو کہاں  ملی تھی۔

یہاں  چاروں  طرف سب ہی لوگ آپ کے  لئے  اجنبی ہیں۔ کوئی بھی تو آپ کو نہیں  پہچانتا۔ جو بھی آپ کے  پاس سے  گزرتا ہے۔ یوں  گزر جاتا ہے  کہ جیسے  آپ کچھ بھی نہیں  ہیں۔

دیوان چندن گڑھ کے  پوتے  صاحب، کیا آپ اس قدر بے  حقیقت ہو چکے  ہیں ؟

تیز ڈسکو میوزک ان کے  سینے  میں  خنجر کی طرح پیوست ہو گئی اور انہوں نے  بے  بسی کے  ساتھ آنکھیں  بند کر لیں۔ کافی کی پیالی ہاتھ میں  ہلکی سی لرزی اور ٹھہر گئی۔ انہوں  نے  اسی عالم میں اپنا سر کرسی پر ٹکا لیا۔

بند آنکھوں کے  سامنے  پھیلی تاریکی میں  ایک لکیر روشن ہوئی۔

وہ کمسن لڑکا کانوینٹ کی یونیفارم میں، چھوٹی کوٹھی کے  سامنے  کے  برآمدے  میں  نمودار ہوا۔ اس کے  پیچھے  خدمت گار بڑے  احترام کے  ساتھ اُس کا بستہ لیے  ہوئے  تھا۔ اس کے  باہر آتے  ہی اردلی نے  جھک کر فرشی سلام کیا۔ شوفر نے  پورٹیکو میں  کھڑکی کا دروازہ  کھولا اور تعظیم کے  ساتھ سرجھکادیا۔ وہ بڑی تمکنت کے  ساتھ کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔

انھیں  ایسا محسوس ہوا کہ جیسے  کوئی ان  کے  پاس ہی بیٹھ گیا ہے۔ انھوں نے  بے  یقینی کے  ساتھآہستہ آہستہ آنکھیں  کھولیں۔

روز میری ہال کی بے  اعتنا فضا ان کے  دل کو پھرمسوسنے  لگی۔

وہ  جو اُن کے  پاس بیٹھ گیا تھا وہ کسی فرم کا ایگزیکیوٹیو تھا۔ لیکن اُس نے  کسی طرح کے  ادب آداب کا خیال نہ کیا۔ اس کے  سگریٹ کا دھواں   دیوان چندن گڑھ کے  پوتے  کے  چہرے  کو رگڑتا ہوا پھیل رہا تھا، لیکن وہ خاموش رہے، ضبط کیے  رہے۔ ایگزیکیوٹیو نے  ان کی طرف قطعاً کوئی دھیان نہ دیا اور اپنی انگلیوں میں امپورٹڈ سگریٹ کو گھُماتا رہا۔

ان کی  ناک نے  ان کا تھوڑا سا ساتھ دیا۔

’’آپ شاید کوئی  برطانوی سگریٹ پی رہے  ہیں۔ ‘‘

ایگزیکیوٹیو نے  ان کی طرف قدرے  تعجّب سے  دیکھا، اور منھ پھیر لیا۔

انھوں  نے  اس کی بے  رخی کو نظر انداز کر دیا۔

’’ایک زمانہ تھا کہ ان کے  علاوہ کوئی سگریٹ چلتا ہی نہ تھا۔ ‘‘

’’ہان جی!ہان جی!‘‘ایگزیکیوٹیو نے  بس یوں  ہی کہہ دیا۔

’’مجھے  اِس اَیرکولنگ میں  سردی لگ رہی ہے۔ ‘‘

’’آپ کافی اور لے   لیویں جی؟‘‘

’’اُپالا میں اتنی سردی پڑتی ہے، پھر بھی کسی عمارت میں آپ کو سردی کا احساس نہ ہو گا۔ یہاں تو ہوا بھی ناگوار گزر رہی ہے۔ ‘‘

’’اوہ، ایگزیکیوٹیو نے  محسوس کیا کہ وہ کسی سے  بھی بات نہیں کر رہے  ہیں۔ ‘‘

وہ تو خود اپنی دنیا میں  سفر کر رہے  ہیں۔

وہ تو ایک خواب ہے  جس کا کردار وہ خود ہیں۔

دیوان صاحب چندن گڑھ کے  پوتے  تھکے  ہوئے  سے  اپنی  جگہ سے  اٹھے  اور ہال میں  لوگوں  کی بھیڑ میں  گُم ہو گئے۔

چاروں  طرف دیسی کوسمیٹکس کی مصنوعی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ مردوں نے  انمل بے  جوڑ پوشاکیں  پہن رکھی تھیں۔ عورتوں نے  اپنے  چہروں  کو اس طرح بنا رکھا تھا کہ وہ ان کے  نہیں لگ رہے  تھے۔ سب ہی لوگ اپنے  اپنے  ہاتھوں میں اپنی اپنی پلیٹیں  لیے  ہوئے  یوں  ٹہل رہے  تھے  کہ جیسے  کوئی بھیڑ لگ گئی ہو۔

دیوان صاحب چندن گڑھ کے  پوتے  اپنے  خاص بالا قامت مشکی گھوڑے  پر سوارچندن گڑھ کے  بازار سے  گزر رہے  تھے۔ ان کی دستار بیش قیمت جواہر اور موتیوں  کی کلغی سے  مزیّن تھی۔ نقیب آگے  تھا، محافظ دائیں  بائیں، اور پیادے  پیچھے!۔ بازار میں  بھیڑیوں چھٹتی جاتی تھی جیسے  شیر کے  گزرنے  سے  کھڑی فصل پھٹ جائے۔

لیکن اچانک چھن سے  سب کچھ ٹوٹ کر بکھر گیا۔

کوئی ان کے  شانے  کو دھکّا دیتا ہوا ان کے  پاس اے  گزر رہا تھا۔

اسٹیریوپربجتی ہوئی دھن جانجھ کی تھرّائی ہوئی آواز کے  ساتھ ختم ہو گئی۔

اوہ، لوگ اب مجھے  کندھے  سے  دھکّا دیتے  ہوئے  گزریں گے۔

انھوں نے  یہ بھی برداشت کر لیا۔

عورتیں  الگ الگ جھنڈ بنائے  ہوئے  کھڑی ہوئی تھیں۔ مرد ان کے  حاشیوں  کے  پاس سے  گزر کر پھر اپنے  حلقوں میں  آ جاتے  تھے۔ اس کے  علاوہ اور کچھ بھی نہیں  ہو رہا تھا۔

جب مہاراج ادھیراج کو نائٹ ہُڈ  کا بڑا خطاب ملا تھا تو پلیس کے  وسیع ڈائننگ ہال میں  ڈنر کا  انتظام کیا گیا تھا۔ چھت سے  بھاری بھرکم بلجین فانوس جگ مگ جگ مگ لٹک رہے  تھے۔ کارنس سے   مخفی روشنی کا اپسرائی عکس چاروں  طرف  پھیلا ہوا تھا۔ ہال کے  ایک سرے  سے  دوسرے  سرے  تک بچھی ہوئی کھانے  کی میز ولایتی کرا کری سے  سجی ہوئی تھی۔

جب مہمان ڈنرسوٹ پہنے  ہوئے  کرسیوں کی طرف بڑھے  تو ان کے  قدموں میں وقار تھا۔ انھوں نے  اپنے  پاس کی کرسیوں کو بڑے  چاؤ سے  پیچھے  کھینچا اور خواتین کو پیش کیا۔

شکر گزاری  کی مسکراہٹ اور فرانسیسی کوسمیٹکس کی لطیف خوشبو!

دیوان صاحب چندن گڑھ کے  پوتے  نے  بڑے  تجسّس سے  دیکھا۔ ۔ ۔

یہ کون ہیں ؟

’’اگر میں غلطی نہیں  کر رہا ہوں تو آپ مادام علمدار ہیں۔ ‘‘

’’شکریہ۔ لیکن آپ نے   کیسے  پہچانا؟۔ ‘‘

’’شاید آپ کو یاد ہو، جب آپ کے  والد راجکمار کے  اتالیق تھے  تو میرے  دادا مہاراجا دھیراج کے  دیوان تھے۔ ‘‘

’’اوہ!‘‘ مادام علمدار نے  بڑی حسرت سے  سانس لی۔

’’آپ کو میں نے  کبھی دیکھا نہیں۔ ‘‘

’’جی ہاں میں  پینتس سال مغربی ممالک میں  گزارنے  کے  بعد واپس آیا ہوں۔ ‘‘

’’گذشتہ نئے  سال کا عشائیہ جب ہم نے  لندن میں  شیراٹن میں  منایا تھا تو شہزادہ صاحب کا  صدر دروازہ پر میں نے  ہی استقبال کیا تھا۔ ‘‘

دیوان زادہ  صاحب نے  بڑے  افتخار کے  ساتھ یاد دلایا۔

’’اگر آپ اُس رات وہاں  رہی ہوں گی تو آپ نے  بھی دیکھا ہو گا مجھے!۔ ‘‘

مادام علمدار دُکھ بھری خاموشی میں  کھو گئیں۔

پھر وہ دونوں  آہستہ آہستہ چلتے  ہوئے  شیشے  کے  پینل کے  پاس جا کر کھڑے  ہو گئے۔

’’دیوان زادہ صاحب!کیا پینتس سال بعد آپ نے  یہ محسوس نہیں کیا کہ یہاں  ہمارے  لئے  اب صرف خواب ہی خواب رہ  گئے  ہیں ؟‘‘

’’مادام میرے  لئے  تو یہ دنیا ہی بڑی عجیب سی ہو گئی ہے۔ ‘‘

دونوں  پھرافسردہ ہو گئے۔

ہوٹل پاروتی کی پانچویں  منزل کے  روز میری ہال کے  شیشے  کے  پینل سے  سڑک کی دوسری طرف  مہاراجہ کوشل دیو کی شکستہ حویلی نظر آ رہی تھی۔ اُس کی ڈیوڑھی جس میں  کبھی نوبت بجا کرتی تھی، جس کے  پھاٹک سے  مرصّع ہو دج اور چھتر کے  ساتھ ہاتھی گزر جایا کرتے  تھے۔ ان کے  ساتھ روشن چوکیاں، ماہی مراتب، وردیاں، سواریاں، پیادے، تماشائی۔ ۔ ۔! پوری فضا سازوں  اور آوازوں  سے  بھر جایا کرتی تھی۔

مگر کان کے  پردوں  کو چیرتی ہوئی فاسٹ پاپ میوزک نے  وہ سحرتوڑ دیا۔

دیوان چندن گڑھ کے  پوتے  صاحب نے  مڑ کر دیکھا، مادام علمدار بوفے  کی بھیڑ میں  تحلیل ہو چکی تھیں۔

وہاں  مہاراجہ کوشل دیو کی ڈیوڑھی کی اینٹیں  اُکھڑ چکی تھیں، جگہ جگہ گھاس اُگی ہوئی تھی، اور اُس کی محراب ہوٹل پاروتی کے  صدر دروازہ کے  پائیدان سے  بھی پست نظر آ رہی تھی۔

اوہ!یہ کیا ہوا۔ ۔ ۔ ؟!‘‘

دیوان چندن گڑھ کے  پوتے  صاحب لِفٹ میں  داخل ہوئے  اور لِفٹ انھیں  چوبیسویں  منزل کی طرف لے  چلی۔ جہاں  ان کا  کمرہ تھا۔

انھوں نے  آنکھیں  بند کر لیں۔

لِفٹ اوپر اٹھتی رہی۔

انھوں نے  ایسا محسوس کیا کہ جیسے  وہ مہان تال کی تہہ سے  اُٹھ کر اس کی سطح تک آنے  کی کوشش کر رہے  ہوں۔

لیکن وہ سطح تھی کہ آ ہی نہ چکتی تھی۔

 

                                      (۱۹۸۴