کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ڈھلتے سائے

ڈاکٹر ابنِ فرید


سورج کی نوخیز کرنیں  اونچی فصیل کو  پھلانگ کر اُس کی صحن میں  سے  ہوتی  ہوئی برآمدہ میں  داخل ہو رہی تھیں  اور وقت گھڑی کی سُوئیوں  کے  ساتھ لیٹتا  چلا جا رہا تھا۔ اُس نے  ایک گہری سانس لی اور دفتر کی تیّاری کرنے  لگا۔ سامنے   صبّو اپنے   چینی کے  کھلونے   سے  کھیل رہا تھا۔ اس کے  بالوں  کی  ایک تھوڑی سی ملائم لٹ پیشانی پر لٹک آئی تھی اور اس کی آنکھوں   میں   انہماک اس طرح  رچا ہوا تھا کہ جیسے  وہ نہ معلوم  کہاں  ہو۔ وہ اپنے  چینی کے  چھوٹی سے  کھلونے  کو تسلہ میں  بھرے  ہوئے  پانی سے   نہلا کر کپڑے   سے  پوچھنا چاہتا تھا  لیکن وہ ہر بار پھسل کر پھر پانی میں  گر پڑتا تھا۔ اب اس کی سنجیدگی میں   جھنجھلاہٹ کی آمیزش ہوتی چلی جا رہی تھی۔ اس نے  پھر ایک بار غصّہ میں   کھلونے  کو پانی سے  نکالا اور زور سے  کپڑے  پر رکھ کر جیسے  ہی دوسرا سرا اُس  پر ڈھکنا چاہا۔ وہ غڑاپ سے  پانی میں  آ رہا۔ اس بار اس کو  اپنی جھنجھلاہٹ  پر قابو نہ رہا اور اس نے  اپنے  ہونٹوں   کو بسورتے  ہوئے   انداز میں  لٹکاتے  ہوئے  کھلونے  کو فرش پر پٹخ دیا۔ چینی کے  سفید ریزے  چاروں  طرف پھیل گئے۔

 اس شکست  و ریخت کی آواز نے   اس کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور وہ تادیبی لہجہ میں  بے  اختیار صُبّو پر چیخ پڑا۔ ’’ہائیں، یہ کیا کیا تو نے ؟‘‘ اور  صبّو نے  فوراً اُس مداخلت  بے  جا کے  خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ وہ صُبّو کے  اس احتجاج کے  خلاف کبھی بھی نہیں  ٹِک سکا تھا۔ اس لئے   اس وقت بھی وہ اپنی ناگواریِ خاطر سے   فوراً دست بردار ہو گیا۔ اس نے  مچلتے  ہوئے  بچّے  کو  گود میں  اٹھا لیا اور بہلانے  پھسلانے  لگا لیکن  وہ بچّہ بھی  جیسے  بڑا  ہوش مند تھا، اس آسانی سے   ہتھیار ڈالنے  پر تیّار نہ تھا۔ اُس نے  جھنجھلا کر اُسے  پھر ڈانٹا، ’’چُپ ہو جاؤ ورنہ پٹخ دوں گا‘‘۔ اور صُبّو نے  اپنے  احتجاج کی  تجدید  کر دی۔ تب اس کو احساس ہوا کہ بات یُوں   آسانی سے  بننے  کی نہیں  اور دفتر کا  وقت  بھی سر پر آتا چلا جا رہا ہے۔ اُس نے  جلدی جلدی اپنے  ذہن میں  اُسے  خاموش کرنے  کی تدبیر سوچی۔

’’صبّو چپ ہو جاؤ۔ دیکھو ہم کشتی بنا کر اس تسلہ میں  ابھی  چلاتے  ہیں ‘‘۔

اور صُبّو اپنے   اس محبوب مشغلہ کا نام سن کر خاموش ہو گیا۔

اس نے  ایک پرانے  اخبار کے  ٹکڑے   کی چھوٹی سی کشتی  بنائی اور صُبّو کو پانی کے  تسلہ کے  پاس بٹھا کر کشتی کو پانی میں  تیرانے  لگا۔  صُبّو کے  ہونٹوں  پر  خفیف سی مسکراہٹ نمودار ہوئی لیکن اس میں  برہمی کا  بے  انتہا امتزاج تھا اس نے  مخصوص توجہ کے  ساتھ صُبّو  کی طرف دیکھا جیسے  اُسے  یہ خطرہ لاحق ہو رہا تھا کہ کہیں  وہ ایک بار  پھر اپنے  رونے  کو  یاد کر کے  چیخنے  نہ لگے۔ مگر صُبّو کنکھیوں  سے  اپنے  چینی کے  کھلونے  کے  ٹکڑوں  کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس نے   موقع مناسب سمجھ کر  اس ٹوٹے  ہوئے  کھلونے  کے  بارے  میں  نصیحت کرنا شروع کر دی۔

’’صُبّو دیکھو تم نے  اپنے  بے  چارے  کھلونے  کو توڑ ڈالا ہا ۓ۔ ۔ ۔ ‘‘

صُبّو نے  تاسّف کے  ساتھ کھلونے  کے  بڑے  بڑے  ٹکڑے  چننے  شروع کر دیے۔ جیسے  وہ ریت میں  سے  آنسوٗ  کے  قطرے  چن رہا ہو۔

’’بولو، اب کہاں  ملے  گا تم کو کھلونا۔ ؟‘‘

’’آپ لادیں  گے!۔ ۔ ۔  ’’ صُبّو نے  بڑی پُر امّید بشاشت کے  ساتھ کہا۔

’’میں  کہاں  سے  لا دوں  گا؟‘‘۔

’’بازار سے!‘‘

وہ صُبّو کے  سامنے  ایک اور سوال رکھنا چاہتا تھا، لیکن اس آخری جواب نے  اسے  ایک طرح کی بصیرت  دے  دی اور وہ صرف مسکرا کر رہ گیا۔ معصوم بچّے  تم سوچنا ہی نہیں  چاہتے  کہ آنے  والے  لمحوں  میں  کیا ہو گا۔ اس نے  بڑے  پیار سے  اس کی پیشانی کا بوسہ لیا، اور صُبّو نے  استفہامیہ انداز میں  اس کی طرف  دیکھا۔ اس کی نیلگوں  آنکھوں  میں  بڑی وسعت سی نظر آ رہی تھی اور وہ بڑا پیارا لگ رہا تھا۔ اسے  معاً دفتر کا خیال آ گیا اور وہ اسے  کاغذ کی ناؤ کے  ساتھ کھیلتا ہوا  چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔

اس کی بیوی  ان دونوں  کے  کھیل کو بڑی سرپرستی کے  انداز سے  دیکھ رہی تھی۔ وہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور پھر اپنی عجلت  کا احساس دلایا مگر پھر اُسے  خیال آیا  کہ وہ اپنی کاہلی کی وجہ سے   گھر کی مختلف ضرورت کی چیزیں   آج تک نہیں  لایا تھا۔ اور اس کی بیوی چند ایک تقاضے  کرنے  کے  بعد خاموش  ہو گئی تھی۔ اس نے  اپنی اس بے  پروائی کا ازالہ کرنے  کے  لئے   اُس سے   خود ہی پُوچھ لیا:

’’ہاں  ذرا لانا تو، وہ تمہاری فہرست کہاں  ہے ؟‘‘

’’کیسی فہرست؟۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ارے  وہی؟۔ ۔ ۔  کیا کیا منگا رہی تھیں  تم؟ لاؤ وہ کاغذ پر لکھ کر دے  دو۔ میں  واپسی پر لے  آؤں  گا۔ ‘‘

’’ہو گا رہنے  بھی دیجئے، آپ کو فرصت کہاں  ہو گی۔ شام تو ہو جاتی ہے، گھر آتے  آتے۔ ‘‘

’’لاؤ بھی تم! میں  لیتا آؤں  گا‘‘۔

اس نے  جلدی سے  کاغذوں  کا  پلندہ  بغل میں  دبایا اور ضروری اشیاء کی فہرست لے  کر بس اسٹاپ کی طرف چل دیا۔ دفتر کا وقت ہونے  کی وجہ سے  عام طور پر اُس وقت بس کے  انتظار میں  ایک بھیڑ کھڑی رہتی ہے۔ چنانچہ اس وقت بھی اُمّیدواروں  کی ایک لائن لگی ہوئی تھی۔ وہ بھی آخر میں  جا کر شامل ہو گیا۔ مگر جیسے  الجھن سی سوار ہو رہی تھی اس پر تو اس  قطار کو  دیکھ کر اُسے  خطرہ تھا کہ کہیں  اُس کی باری آنے  تک دفتر کے  لئے  زیادہ دیر نہ ہو جائے۔ مگر اس وقت ایک اُمّید لگائے  رکھنی کی سا چارہ نہ تھا۔

اُس کے  سامنے  ایک ادھیڑ عمر کی  عورت  قطار میں   کھڑی ہو کر بھی سُوئٹر بننے   کی کوشش کر رہی تھی اور وہ اس اُمور خانہ داری کی نمائش سے  بڑی چِڑسی محسوس کر رہا تھا۔ آخر کیا اس دکھاوے  کے  بغیر زندگی کی مصروفیت اور وقت کی اہمیت کا اندازہ نہیں  لگایا جا سکتا تھا۔ حالانکہ اگر ان کے  اندر جھانک کر دیکھا جائے  تو وہاں  کتنے  ہی بیکار لمحے  ایسے  نظر آ جائیں  گے  جن کو اہمیت ہی نہ دی گئی ہو گی۔ وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کسی نے  پیچھے  سے  دھکّا دیا۔ اُس نے  مڑ کر دیکھا ایک صاحب عجب بی ہنگم سے، منھ میں  سگریٹ دبائے  اخبار کے  مطالعہ میں  کھوئے  ہوئے  تھے  اور لوگ اُنھیں   دھکّا  دے  کر چھیڑ رہے  تھے۔ اُس نے  اُن کی اس  مضحکہ انگیزی پر کچھ تمسخرآمیز لہجہ میں  دریافت کیا۔

’’کیا تیسری عالمی جنگ چھڑ گئی۔ ۔ ۔ ؟۔ ‘‘

اور وہ اخبار مین  عجب  بدحواسی میں  اخبار بند کر کے  پہلے  صفحہ کو غور سے  دیکھنے  لگا جیسے  اتنی اہم خبر اُس کی نظر سے   اوجھل ہو گئی ہے۔ مگر  پھر خفیف ہو کر اخبار  تہہ کر کے  خاموش کھڑا ہو گیا۔ ایک بس آئی اور قطار  آگے  سے  چھوٹی اور پیچھے  سا طویل ہو گئی۔ اب اس کی جان میں  جان آئی کہ وہ آئندہ بس  میں  جگہ پا سکے  گا۔ مگر آئندہ بس کا انتظار بھی  طولِ شبِ ہجراں  سے   کم نہ تھا۔ اور یہاں  بس والوں  کا انتظار اور ان کی بے  قراری عجب پست ذہنیت کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ جیسے  ان کی زندگیاں  بھیڑوں  کے  گلّے  کی طرح  تاریک کھڈ کی طرف بڑھتی چلی جا رہی تھیں، اور وہ اس بے  نگاہی پر پوری طرح مطمئن تھے۔ اُسے  اس وقت اپنے  چاروں  طرف  پھیلے  ہوئے  انسان غلاظت میں   رینگتے  بجبجاتے  ہوئے  کیڑوں  کی طرح  نظر آ رہے  تھے  جن کو ضمیر کے  زندہ ہونے  یا نہ ہونے  کا احساس ہی نہ ہو۔ اور اس کا مظاہرہ وہاں  بس اسٹاپ پر  پوری طرح ہو رہا تھا کہ یہ نظم و ترتیب اور یہ اشتراکِ باہمی اُن کے   مزاجوں  پر گراں  گزر رہا تھا۔

دوسری بس بوجھل  جھکولا لے  کر  اُس کے  سامنے  رک گئی اور رکی تھمی ہوئی انسانی قطار میں  پھر حرکت پیدا ہو گئی۔ اور وہ اپنے  خیالات سے  چونک کر فائلوں  کا  گٹّھا سنبھالتا ہوا  بس میں  داخل ہو گیا۔ بس بھر گئی اور چل دی۔ اس نے  ایک خالی نشست  دیکھ کر خود کو  اس طرح اس پر جما دیا جیسے  اُسے  اپنی کوتاہ دستی کا خطرہ لاحق ہو رہا تھا۔

بس آہستہ آہستہ رینگی اور عمارتوں   اور دوکانوں  کی قطاریں  پیچھے  چھوڑ کر آگے  بڑھنے  لگی۔ اس نے  پیسے  نکال کر کنڈکٹر کے  ہاتھ پر رکھ دیے  اور ایک سکریٹریٹ کہہ کر  بے  توجہی کے  ساتھ اپنے  گرد و پیش کا جائزہ لینے  لگا۔ اس کے  سامنے  بیٹھا ہوا  نوجوان بار بار اپنے   کالروں   کو کھینچ کر درست کر رہا تھا جیسے  اس کو یہ شک تھا کہ وہ مل دل گئے  ہیں۔ کہ یہ احساسِ کمتری نہیں  جو اس نوجوان کو  بے  آرام کئے  ہوئے  تھا، اس نے  سوچا لیکن فوراً اس کو ٹکٹ کا خیال آ گیا۔ اس نے  مڑ کر دیکھا کنڈکٹر اُس کو چھوڑ کر آگے  بڑھ چکا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ بس کنڈکٹر کا مقصد کیا ہے۔

’’اے  مسٹر!۔ ۔ ۔  میرا ٹکٹ؟۔ ۔ ۔ ‘‘ اس نے   تحکمانہ لہجہ میں  کہا۔

’’اوہ، یہ لیجئے ‘‘۔ بس کنڈکٹر نے  بڑے  خجل سے  لہجے  میں  کہا، مگر وہ ایسی بودی رعایت کے  لئے  تیّار نہیں  تھا۔ اِس لئے  اُس نے   بے  پروائی سے  اپنی توجہ دوسری طرف مبذول کر لی۔

اس کے  سامنے  بیٹھا ہوا  نوجوان اب بھی اپنی کوشش میں  مصروف تھا، وہ بار بار کالروں  کو کھینچ کر درست کر رہا تھا، اُسے  اس کی اس حرکت پر  بے  حد ترس آیا۔ اُس نے  اپنے  بازو کی مقابل سیٹ کی طرف بِلا ارادہ دیکھا، ایک بھونڈی سی نوجوان سی لڑکی اپنے  بالوں  کے   ترشے  ہوئے  گچھّوں   کو  اس طرح  ٹھیک کر رہی تھی جیسے  وہ اُن کو محسوس  بھی کرنا چاہ رہی ہو۔ اُسے  ایک بار پھر بڑا تاسّف سا ہوا۔

اس نے  ڈرائیور کے  سامنے   لگے  ہوئے  شیشے  میں  سے  گردن اٹھا کر سامنے  سمٹتی ہوئی  سڑک کو دیکھنا چاہا مگر بے خواہش و ارادہ اس کی نظر اس آئینہ پر پڑ گئی جو ڈرائیور کے  لئے  پشت کی طرف دیکھنے   کے  واسطے  لگا رہتا ہے۔ اُسے  کچھ ایسا محسوس ہوا کہ وہاں  کچھ حریص نظریں  ایک دوسرے  سے  اُلجھ رہی ہیں۔ اُس نے  بڑی نفرت اور کراہیت کے  ساتھ اپنے  سامنے  بیٹھے  ہوئے  نوجوان کی طرف دیکھا جس کی پشت اس کی طرف تھی اور اس لڑکی  کی طرف دیکھا جس کی  سیٹ اس کے  مقابل بازو میں  تھی۔ اس عرصہ میں  بس ایک اسٹاپ پر رک چکی تھی۔ لڑکی اپنی سیٹ چھوڑ چکی تھی اور اس کے  ساتھ ہی وہ نوجوان بھی  اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے  اطمینان کا سانس لیا۔

ان اتر جانے  والوں  کی جگہ پر  کچھ نئے  داخل ہونے  والوں  نے  قبضہ کر لیا اور  بس دوبارہ چل دی۔ اگلا اسٹاپ  سکریٹریٹ کا تھا۔ ۔ اس کی منزل آ چکی تھی۔ اس  نے  فائلوں  کے  پلندہ کو بغل میں  دبایا اور فٹ بورڈ پر کھڑا ہو گیا۔ دفتر کے  وقت میں  صرف تین منٹ باقی تھے  اُسے  فوراً ہی چاردیواری عبور کر کے  پہونچنا تھا اور  اس کے  لئے  اتنا  وقت بے  انتہا قلیل تھا۔ لیکن جب بس رُکی تو منتظروں  کا جمِّ غفیر بدحواسی کے  ساتھ بس پر ٹوٹ پڑا اور وہ بڑی  کش مکش کے  بعد ان سے  چھٹکارا پا کر دفتر کی حدود میں  داخل ہو سکا۔

دفتر میں  دو منٹ تاخیر سے  داخل ہوا تھا اور یہ تاخیر اُس وقت  ہیڈ کلرک کی آنکھوں  میں  شعلہ بن کر  چمک رہی تھی جیسے   اب تک  جو وہ معمول سے   زیادہ  محنت سے  کام کرتا رہا تھا وہ قابلِ تحسین نہ تھا۔ البتّہ یہ دو منٹ بے  پناہ عتاب کا موُجب تھے۔ وہ اس وقت  ایسی  دنیا میں  سانس لے  رہا تھا، جہاں  پر  جانفشانی لائق بے  اعتنائی اور ہر ناقابل توجہ کوتاہی لائق سرزنش تھی۔ جیسے  جذبات احساسات اور بصیرت ایک سخت فرمے  میں  کستے  چلے  جا رہے  تھے۔ جیسے  روح گھُٹ رہی تھی اور سانس اکھڑ رہی تھی۔ وہ خاموشی سے   اپنی میز کی طرف  بڑھ گیا۔ جس پر فائلوں  کا ایک ڈھیر لگا ہوا تھا۔ اور اس کی بغل کا پلندہ اس آرام کے  مقابلے  میں   محض مشتے  نمونہ از خروارے  تھا۔ اس نے  اپنے  پلندہ کو ایک طرف رکھ دیا اور ان فائلوں  کے  ڈھیر میں  محو ہو گیا۔

وہ نہ معلوم کیوں  ہمیشہ ان فائلوں  کو بولتا ہوا محسوس کیا کرتا تھا، وہ اس کے  تصوّر میں  طرح طرح کے  نقش  ابھار دیا کرتی تھیں  اور یہ نقوش اس کے  لئے  بڑے  کریہہ المنظر ہوا کرتے  تھے، ان میں  نہ معلوم کتنی گھناؤنے  راز پوشیدہ ہوتے  تھے۔ اور وہ ان اوراق کے  الٹتے  ہی اس کے  سامنے  عیاں  ہو جایا کرتے  تھے، وہ اچّھی طرح جانتا تھا کہ کتنے  صفحوں  کے  محض الفاظ تبدیل کرنی کے  لئے  تجوریوں  کے  منہ کھول دیے  گئے۔ پھر یہی نہیں  ہوا کہ کچھ کاغذات نئے  آ گئے، کچھ پرانے  ہٹ گئے۔ کچھ کی ہیئت بدل گئی اور کچھ محض ظاہری تراش خراش سے  مناسب حال ہو گئے  بلکہ کتنے  ہی صفحات ایسسے  بھی تھے  جن کو محض اس لئے  ہٹایا گیا اور ان میں  سے  کچھ کو محض اس لئے  داخل کیا گیا کہ بند تجوریوں  کے  منھ صرف سم سم کھل جا کے  بول پر واشگاف ہو جائیں۔ اور پھر ایسا  ہی ہوا اور شاید  ان بنیادوں  پر  ہمیشہ ہی ایسا ہوتا رہے، اس لمحہ  وہ ان حریص چہروں  اور نمائشی  لباسوں  کے  باطن میں  نہ معلوم کیا تلاش کرتا۔ مگر ایسا لگتا تھا کہ جیسے  ہر وجود بڑا ہراساں  سا ہے۔ اور وہ ہر حرکت محض خوف کے  تحت کر رہا ہے  کہ کاش ایسا ہو جائے، کاش ایسا نہ ہو جائے۔ کتنی بے  چارگی اور پسماندگی اس کے  چاروں  طرف پھیلی ہوئی ہے۔ اور پھر جب ان کو  جھنجھوڑا جاتا ہے  تو وہ اپنی بوجھل چپچپاتی ہوئی آنکھوں   کو ہلکا سا کھول کر  کہتے  ہیں  کہ اگر ہمارے   ذمّہ جاگنا ہو گا تو ہم جاگ ہی پڑیں  گے۔

خیالات کے  اس سیلِ بے پناہ میں  بہتے  بہتے  اس کو ایک دم یہ شک گزرا کہ اس کے  چاروں  طرف کلرکوں  پر ایک غیر معمولی خاموشی مسلّط ہے  اس نے  ایک اچٹتی سی نگاہ سے  ہر ایک چہرہ کا جائزہ لیا وہاں  نہ معلوم کیوں  ایک نامانوسیت  سی چھائی ہوئی تھی اور اس اجنبیت میں  جیسے  ہر نظر  اُسی کو اجنبی  ٹھرا رہی تھی، اس نے  اس کیفیت کی تہوں  میں   اُترنے  کی کوشش کی مگر  وہ کچھ بھی نہ سمجھ سکا۔ اس نے  لاکھ غور کیا مگر بات اس کو لایعنی سی معلوم ہوئی۔

’’قیصر صاحب کہیے  کیسے  مزاج ہیں ؟‘‘

اس نے  سلسلۂ کلام  شروع کرنا چاہتا کہ وہ راز یونہی فاش ہو۔

’’اچّھے  ہی ہیں!۔ ‘‘

قیصر کی آواز میں   کچھ ایسی پژمردگی سی تھی کہ جیسے  کسی خالی ٹین کو بجا دیا گیا ہو۔ اور اس کے  ساتھ ہی  اُسے  کچھ ایسابھی محسوس  ہوا کہ قیصر  کچھ کشیدہ  خاطر  بھی ہے، گرہ  اور بھی اُلجھ کر رہ گئی! اور وہ اور بھی سنجیدگی کے  ساتھ سوچنے  لگا کہ آخر آج اُن سوقیانہ قہقہوں  کے  بجائے  خاموشی کیوں  طاری ہے ؟

’’بابو جی، آپ کو بڑے  بابو نے  بلایا ہے۔ ‘‘

’’اچّھا۔ ۔ ۔ ‘‘

وہ ایک کرسی کھینچ کر بڑے  بابو کے  سامنے  بیٹھ گیا۔

’’یہ آپ کے  لئے  آرڈر ہے!‘‘ بڑے  بابو کی نگاہ میں   بڑا  شک و  شبہ جھلکتا ہوا  محسوس ہو رہا تھا۔

اس نے  آرڈر کو اُٹھا کر پڑھا۔ اُسے  چوبیس گھنٹہ کے  اندر دفتر  چھوڑ دینا  ہے  کیونکہ اس کا تعلّق  دشمن  پرست  تخریبی عناصر  سی ہے۔ ایک زہر خند اس  کے  ہونٹوں  پر کھیل گیا۔ دشمن پرست؟۔ ۔ ۔  تخریبی عناصر؟۔ ۔ ۔  اور وہ؟۔ ۔ ۔

’’دیکھئے  آخر اس میں  آپ کا ہرج ہی کیا تھا اگر آپ یہ لکھ دیتے  کہ میں  اس  تحریک کا کارکن نہیں   ہوں  اور واقعی  آپ نہیں  ہیں!۔ ‘‘

بڑے  بابو نے   بڑے   رازدارانہ انداز میں کہا۔ اور  واقعتاً جیسے  وہ بے  چارے  اپنے  پورے  خلوص کے  ساتھ اس  وار سے  اس کو بچانا چاہتے  تھے   جس کی وجہ سے   اس پر  رزق  کے  سارے   دروازے  بند کئے  جا رہے  تھے۔

’’آپ کچھ نہیں  تو پھر بھی کم از کم  اپنے  تھے، اب نہ معلوم کون آپ کی  جگہ پر آئے  اور کیسا ہو؟۔ ۔ ۔ ‘‘ ایک وقفہ دے  کر انھوں  نے   کہا۔ ’’اور پھر  یہاں  سے  لوگوں   کو فائدہ  بھی پہنچا سکتے  تھے  باہر سے  آپ کیا کر سکیں  گے ؟‘‘

’’بابو جی آپ  تو ادب دوست ہیں۔ آپ کو  اگر ادبی  جواب دیا جائے  تو کیسا رہے ؟۔ ‘‘

اس نے  بڑے  فاتحانہ انداز میں  کہا۔

’’لیکن یہ موقع و محل اِس کا نہیں ؟۔ ‘‘ بڑے  بابو نے  انتہائی اضطراب اور کبیدگی کے  ساتھ کہا جیسے  ان کے  مشورے  کا وہ مذاق اڑا رہا ہو۔

’’پھر بھی میرے  پاس  اس کے  سا کچھ اور کہنے  کو نہیں۔ ‘‘

’’کہیئے۔ ‘‘ بڑے  بابو نے  سارے  تاثرات کو یکسر ختم کرتے  ہوئے  کہا۔

      ؂  آئینِ جواں  مرداں  حق گوئی بیباکی

          اﷲ کے  شیروں  کو آتی نہیں  روباہی۔

بڑے  بابو نے  بڑی بدمزگی کے  ساتھ کہا۔ ’’اچّھا تو آپ قیصر صاحب کو چارج دے  دیجئے۔ میرا خیال ہے  آپ ایک گھنٹہ کے  اندر فارغ ہو جائیں  گے۔ ‘‘

اس نے  برخاستگی کے  اس آرڈر کو  اس طرح توڑ مروڑ کر جیب میں  رکھ لیا جیسے  وہ بس کا ردّی ٹکٹ ہو اور اس کو اس نے  صرف اس لئے  جیب میں  ڈال لیا ہو کہ اُس سے  چند منٹ کھیل کر بیل جائے  گا ورنہ شاید وہ اُسے  فٹ پاتھ کے  کنارے  بہتي ہوئی نالی میں   پھینک  دیتا۔ پھر وہ بڑے  بابو کے  پاس سے  چارج دینے  کے  لئے  اُٹھ آیا۔

’’قیصر صاحب آئیے  میں  آپ کو چارج دے  دوں۔ ‘‘

’’آں ؟۔ ۔ ۔  قیصر کا انتہائے  استعجاب میں  رنگ فق ہو گیا تھا۔

اور  بڑی پژ مُردگی کے  ساتھ اُس کے  پاس آ گیا تاکہ کاغذات اپنی تحویل میں  لے  لے۔ دفتر میں  اس کے   سلسلۂ ملازمت کے  ختم ہونے  کی خبر بکھرے  ہوئے  کاغذ کے  ٹکڑوں  کی طرح پھیل گئی۔ کلرکوں  کے  چہروں  پر جیسے  ایک سراسیمگی سی چھائی ہوئی تھی، جیسے  ان کے  لئے  یہ ایک بہت بڑا  حادثہ تھا۔ وہ توقع کر رہے  تھے  کہ وہ اپنی میز پر اپنا سر پٹخ دے  گا اور بڑی بے  چارگی کے  ساتھ سسکیاں  بھرنے  لگے  گا اور بڑے  موٹے  موٹے  آنسو ڈھلک کر  اس کے  رخساروں  پر سے  بہتے  ہوئے   کاغذوں  پر گریں  گے، اور بڑے  بدنما دھبّے  بنائیں  گے۔ پھر وہ اُسے  تسلّی دیں  گے  اور اپنے  مخصوص انداز میں  زمانہ کو کوسیں  گے، تقدیر کو صلواتیں  سنائیں  گے  اور بڑی اوچھی جذباتیت کے  ساتھ رِقّت آمیز ہو کر  ہمدردی کا اظہار کریں  گے۔ پھر یہ سب سن کر اُس کی سِسکیاں  پھُوٹ پڑیں  گی، اور وہ زار زار رونے  لگے  گا۔ یہاں  تک کہ ان کی آنکھوں  میں  بھی میلے  میلے  سے  آنسو جھلکنے  لگیں  گے۔ مگر اُسے  غم بھی نہ تھا۔ خوشی بھی نہ تھی، عجیب شخص تھا وہ۔ ۔ ۔!۔ اس میں  کوئی تاثر ہی نہ تھا، کوئی تحریک ہی نہ تھی، کوئی ردّ عمل ہی نہ تھا، جیسے  یہ ایک بڑی عام سی بات تھی جو روز ہی ہوتی ہے۔ اُس کی اس بے  حسی نے  دفتر کے  تمام بابو لوگوں   کو بے  طرح  تحیّر  میں  ڈال دیا تھا۔ اُن کی ساری توقعات باطل ہو کر رہ گئی تھیں۔ وہ ان کے  سکوت کو اس  طرح انگیز کر رہا تھا جیسے  وہ کوئی اہم بات نہ تھی اور بابو لوگ کچھ ایسے  ہراس زدہ سے  تھے  کہ جیسے   یہ ہی ستم کل اُن پر بھی ٹوٹ پڑے  گا۔ وہ اُسے  بڑی عبرت کے  ساتھ پھٹی پھٹی آنکھوں  سے  دیکھ رہے  تھے  اور وہ کمالِ بے  اعتنائی کے  ساتھ چارج دینے  کی تیّاری کر رہا تھا۔

’’آیئے  قیصر صاحب، یہ رہیں  فائلیں ‘‘۔ اُس نے  بڑے  شگفتہ لہجے  میں  کہا۔ اور قیصر نو گرفتہ پرند کی طرح   عجیب سہما سمٹا خوف زدہ سا اُس کی طرف  متوجّہ ہو گیا، جیسے  اِس عتاب نے  اُسے  انتہائی خطرناک بنا دیا تھا اور کسی شخص کا اس سے  مَس ہو جانا اس شخص کے  لئے  بھی اُسی پاداش کا باعث ہو گا۔

اس نے  قیصر کی طرف ترس بھری نظر سے  دیکھا اور اپنی ذمّہ داریوں  سے  دست بردار ہونے  لگا۔ قیصر نے  بدحواسی کے  ساتھ سب کچھ اپنے  قبضہ میں  لے  لیا۔ اور اس نے  انتہائی اطمینان کے  ساتھ اپنی کرسی خالی کر دی۔ پھر اس نے  مسکرا کر  تمام بابو لوگوں  سے  ہاتھ ملایا اور وہاں  سے  آخری بار رخصت  ہو گیا۔ جب وہ گیٹ کے  باہر نکل آیا تو سب لوگوں  نے  تاسف بھری اطمینان کی سانس لی اور اپنے  کاغذات کے   بوسیدہ انبار میں  دفن ہو گئے۔

وہ فٹ پاتھ پر سے  ہوتا ہوا  بس اسٹاپ کے  پاس ٹھہر گیا۔ پیڑوں  کے  چھدرے  چھدرے  سائے   چاروں  طرف پھیلے  ہوئے  تھے  اور دھوپ کی جھنجھریاں  اُن کے  درمیان برص کے  داغوں  کی طرح  نظر آ رہی تھیں۔ چاروں  طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اور بس اسٹاپ پر  اس کے  اور ایک ادھیڑ عمر کے  شخص  کے  سوا کوئی نہ تھا۔ اس وقت اس پر عجلت اور جھنجھلاہٹ طاری نہیں  تھی، بے  پایاں  اطمینان سا تھا۔ جیسے  اُس کے  پاس  بہت سا فاضل ع وقت تھا۔ اور وہ کافی دیر تک بس کا انتظار کر سکتا تھا۔ اُس نے  اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔ جیسے  وہ اپنے  گرد و پیش کا جائزہ لے  رہا ہو۔ سڑک کی دوسری طرف فٹ پاتھ پر ایک سوٗر غلاظتوں  کو سُونگھتا پھر رہا تھا اُس کا جی بُری طرح  گھِن کھانے  لگا اور اس نے  بڑی تیزی کے  ساتھ نظر سڑک کی انتہائی وسعت  کی طرف پھیر دی جو خم کھاتی ہوئی  عمارتوں   کی بھیڑ میں  گُم ہو گئی تھی۔ اُسی طرف سے  بس آنے  والی تھی۔

شاید وہ بس اس کی نگاہ اُٹھ جانے  کی منتظر تھی۔ کیونکہ اُس کے  دیکھتے  ہی بس ایک موڑسے  نمودار ہوئی اور چند سیکنڈوں  میں   اس کے  سامنی آ کر ٹھہر گئی۔ بے  حد مصروف وقت گزر جانے   کی وجہ سے  بس بالکل خالی تھی۔ شاید تین سیٹوں  پر صرف تین افراد بیٹھے  تھے۔ اور دونوں  نے  مل کر  تین کی تعداد میں  دو تہائی کا اضافہ کر دیا۔ خالی بس میں  جیسے  دماغ فکر و خیال کے  تار و پود بننے   لگتا ہے۔ مگر وہ خود کو عجیب بے  فکرا سا پا رہا تھا۔ جیسے  وہ اپنے  پیچھے  تمام پستیاں  چھوڑ آیا تھا اور خود غرضانہ و خود پرستانہ ماحول کو  دریا بُرد کر آیا تھا۔ اُسے  رہ رہ کر نہ معلوم کیوں  یہ خیال آ رہا تھا کہ وہ اس نظام کے  لئے  مناسب بھی نہ تھا۔ وہ یقیناً دشمن دوست تھا کیونکہ وہ لوگوں  کی جیبیں  کتر کر اپنی  تنگ دستی کو  دور کرنے  کے  لئے  بہانہ نہیں  بنا سکتا تھا، وہ کینہ و مکر کے  جال پھیلا کر نِت نئے  شکار نہیں  کر سکتا تھا۔ وہ مکّار لومڑی کی طرح گڑ گڑا نہیں  سکتا تھا، خوشامد نہیں  کر سکتا تھا۔ کیونکہ اس  کا ضمیر اتنا مسخ  نہیں  ہوا تھا۔

بس ریڈیو اسٹیشن کے  سامنے  ٹھہر گئی۔ دو خواتین داخل ہوئی۔ انھوں  نے  شاید اس لئے  پرکشش پوشاک پہن رکھی تھی کہ خود اُن میں  کوئی کشش نہیں  تھی۔ مگر پھر بھی دو  (۲) اُنھیں  جیسے  مرد ان کے  تعاقب میں  بس میں  سوار ہو گئے  اور بس چل دی۔ وہ دونوں  عورتیں  قدرے  ڈگمگاتی سی ایک سیٹ پر بیٹھ گئیں  اور وہ دونوں  مرد بھی ان کے  پیچھے  والی سیٹ پر قابض ہو گئے۔ وہ بس کی کھڑکی میں  سے  گزرتی ہوئی عمارتوں، گلیوں، سڑکوں  اور دوکانوں  کو دیکھنے  لگا۔

وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ چکا تھا، اس لئے  اتر پڑا اور گھر کی طرف  روانہ ہو گیا۔ مگر  اب وہ  کچھ کچھ اس انداز سے  سوچنے  لگا تھا کہ کیا اس کی راہیں  مسدود ہو چکی ہیں۔ اس کے  ضعیف والدین فقر و فاقہ کی  نذر ہو چکے  ہیں۔ اس کا بچّہ اور بیوی کس مپرسی کی خندق میں  گِر چکے  ہیں ؟ پھر ایک انجانا عزم اس کے  اندر سے  بول اُٹھتا کہ وہ بودے  وسوسے  کیوں  اپنے  اندر پیدا  ہونے  دے  رہا ہے ؟ اُس نے  بڑے  تحمّل کے  ساتھ اس مایوسی کو  خود سے  دور کر دیا۔

اس نے  گھر کے  دروازے  پر دستک دی۔ بیوی نے  اس غیر متوقع وقت پر آنے   پر ایک سراسیمہ استعجاب کا اظہار کیا۔ اس نے اس کی نگاہوں  میں  بڑی محبّت سے  دیکھا، ایک پُر خلوص استفہام  جھلک رہا تھا۔

’’آؤ تم کو بتلا دوں  میں  کیوں  آ گیا۔ ؟‘‘ اُس نے  مسکراتے  ہوئے  کہا۔

اس کی بیوی خاموشی کے  ساتھ برآمدہ میں  آ گئی۔

صُبّو اسٹول پر اپنے  ٹوٹے  ہوئے  کھلونے  کے  ٹکڑوں  کو اس طرح ترتیب دے  رہا تھا جیسے  وہ کچھ نئی تعمیر کر رہا ہو، اُس نے  اُسے  دیکھا تو ایک طفلانہ مسرّت ابھرتے  ہوئے   سورج کی طرح  اُس کے  چہرے  پر پھیل گئی۔ اور وہ دوڑ کر اس کے  پاس آ گیا۔

’’ابّو، آ گئے۔ ۔ ۔ ‘‘ اس کے  اس فقرے  میں  بڑا معصوم ترنّم تھا۔

اس نے  بس کا ٹکٹ اور آرڈر جیب سے  بڑی طمانیت کے  ساتھ نکالے  اور پھر اُسے  کھول کر اس طرح دیکھا جیسے  وہ یقین کرنا چاہتا ہو کہ کیا یہ وار واقعی کاری تھا۔ مگر نہ معلوم کیوں  اُسے  یقین نہیں  آ رہا تھا۔

اُس نے  بس کا ٹکٹ  صُبّو کو دے