کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

حمدا

ڈاکٹر ابنِ فرید


چاندنی چھٹکی ہوئی تھی، فضا خاموش تھی۔

حمدا نے  چاند پر ہاتھ سے  اوٹ کرتے  ہوئے  اپنی بوڑھی  آنکھوں   کو سکوڑ کر دیکھا۔ ارے  یہ کھیت میں   کوئی  پڑا ہے۔ ‘‘ وہ اسی طرح  اپنے  جسم کو  خم دیتے  ہوئے  آگے  بڑھا۔ ارہر کی ٹھونٹھیاں  قدموں  کو ہموار نہیں   پڑنے  دیتی تھیں۔ لیکن وہ انہیں  ٹھیلتا ہوا وہاں  تک پہنچ گیا۔

فتّے!۔ ۔ ۔

وہ ایک دم چونک پڑا۔ آج ضرور کوئی واردات ہوئی ہے۔ یہ شخص  اپنی حرکتوں  سے  باز نہ آئے  گا۔ جھنجھلاہٹ سے  اس کی نسیں  تن گئیں  اور مٹّھیاں  کس گئیں۔ لیکن ارہر کی ٹھونٹھیاں  اس کے  جسم میں   سوراخ کئے  دے  رہی ہوں  گی۔ یہ سوچتے  ہی جیسے  وہ مضطرب ہو گیا۔ اس نے  فتّے  کے   بے  حس و حرکت جسم کو اٹھانے  کی کوشش کی لیکن جلدی ہی اسے  محسوس ہو گیا کہ اس بھاری بھرکم کو بوڑھے  بازوؤں   میں  اٹھا لینا آسان  نہیں۔ تھوڑی دیر  کھڑا وہ کچھ سوچتا رہا۔ پھر اس نے   کچھ اس طرح عجلت کے  ساتھ اِدھر اُدھر  دیکھا جیسے  اسے  کوئی  بات  سوجھ گئی ہو۔ وہ پاس بہتی ہوئی ندی کی طرف  بھاگا۔ بدحواسی میں  اس نے  دو تین بار ندی سے  چُلّو میں  پانی بھر کر فتّے   تک لے  جانے  کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں  ہوئی۔ پھر کچھ اور سوچ کر اس نے  اپنی کھدّر کی پگڑی کو ندی میں  ڈبویا اور بغیر نچوڑے  ہوئے  فتّے   کی طرف لپکا۔ فتّے  اب تک  ارہر کی ٹھونٹھیوں  پر  بے  حس و حرکت پڑا ہوا تھا۔ اس نے  پگڑی کو آہستہ آہستہ فتّے  کے  چہرے  پر نچوڑنا شروع کیا اور دو تین قطرے  پانی  اس کے  منہ میں   ٹپکانے   کی کوشش کی۔ بے  حس و حرکت جسم  میں  جنبش سی پیدا ہوئی۔ ایک کرب انگیز  کراہ لے  حمدا  کے  دل میں   امّید کی  رمق پیدا کر دی۔ اس نے  فتّے   کو جھنجھوڑا اور اونچی آواز میں  کئی بار پکارا۔ فتّے  نے   نہ دقّت تمام آنکھوں   کو تھوڑا  سا کھولا اور بے  ہنگم  سی آواز میں   چیخ اٹھا، اور پھر بیہوش ہو گیا۔

حمدا کی سمجھ میں  نہیں  آ رہا تھا کہ اب کیا کرے ؟ لیکن پھر اس نے  اپنے    حواسمجتمع کئے  اور دوبارہ  بھاگتا ہوا ندی سے  اپنی پگڑی بھگو لایا۔ ایک بار اور پانی کے  چھینٹوں  سے   فتّے   کو ہوش میں  لانے   کی کوشش کرنے  لگا۔

فتّے  نے  ہوش میں  آتے  ہی اپنے  سامنے  ایک اور دشمن کو دیکھا۔ جو اس کی بے  بسی سے  پورا پورا فائدہ  اٹھا سکتا تھا۔ فتّے  نے  اپنی ساری قوّت کو  مجتمع کرنے  کی کوشش کی۔ کاش اس وقت وہ اس بوڑھے  کھوسٹ کو مزہ چکھاتا جو اس کی معذوری کو اپنی فتح کا ذریعہ سمجھ کر اس کے  سر پر مسلّط ہو گیا تھا۔ لیکن  لاکھ کوشش کے  باوجود  وہ اپنی  مٹّھیوں   کو بھی اچھّی  طرح نہ کس سکا۔

فتّے  کے  جسم میں  حرکت دیکھ کر  حمدا کی بوڑھی   سلوٹوں   میں   مسرّتوں  کی لہریں   دوڑنے  لگیں  اور بے  قابو ہر کر وہ پکارنے  لگا۔ ’’فتّے! فتّے ‘‘۔

اور فتّے  بے  بس و مجبور منتظر تھا کہ حمدا  اس کے  ساتھ اب  کیا کرے  گا۔ وہ ٹکٹکی  باندھے   ہوئے  گھور رہا تھا۔ اور اس کے  سینے  میں   پچھتاوے  کا  الاؤ بھڑک رہا تھا۔

فتّے!۔ ہمّت  کر، اٹھ بیٹھ، دیکھ یہ ٹھنٹھیاں  تیرے  بدن کو  چھیدے  دے  رہی ہوں  گی۔ ‘‘

حمدا نے   فتّے   کو سہارا دینے  کی کوشش کی۔

اور فتّے  اشاروں  پر  ناچنے  والی کٹھ پتلی کی طرح  اٹھنے  کی کوشش، کرنے  لگا۔ وہ خود کو  مجبور  سا پا رہا تھا۔

حمدا نے  فتّے   کے  ایک بازو کو اپنے  شانوں  پر سے  گزرتے  ہوئے  دوسرے  ہاتھ سے  تھام لیا۔ اور پہلے  ہاتھ کو  اس کی کمر میں  ڈال کر اسے   مضبوطی سے  پکڑ لیا۔ تاکہ فتّے   کے  بھاری جسم  کا زیادہ سے  زیادہ بوجھ اس کے  جسم پر آ جائے۔

’’فتّے  ہمّت کر، گاؤں  یہاں  سے  میل بھر ہی ہے۔ میں  تجھے  اٹھا نہیں  سکتا ورنہ گود  ہی میں  لے  جاتا۔ پر اب تو کسی نہ کسی طرح  چلنے  کی کوشش کر‘‘۔

فتّے  کا خون کھولنے  لگا۔ اس کے   زخم دکھنے  لگے۔ یہ شخص میری بے  بسی سے  کتنا  فائدہ اٹھانا  چاہتا ہے۔ اگر یہ اٹھا سکتا تو گود میں   لے  جاتا۔ اور پھر  کیا کرتا؟۔ اور اب کیا کرے  گا؟۔

لیکن اس کے  لہجے  میں  اس قدر نرمی کیوں  ہے ؟ کیا یہ وہ حمدا  نہیں   جو میرے  مقابلے  میں   لٹھ لے  کر آ کھڑا ہوا تھا۔ جب جوئے  میں  سب کچھ ہارنے  والے  نتّھو  تیلی کا مریل بیل میں  زبردستی کھولے  لئے  جا رہا تھا نا کہ قصائی کے  ہاتھ اونے  پونے  بیچ کر اگلی پھڑکا  انتظام کر سکوں ؟ کیا یہ وہی منحوس نہیں  جس نے  کہا تھا کہ فتّے  تو کسی کی روزی پر ہاتھ ڈال کر  میرے  جیتے  جی عیش نہیں  اڑا سکتا؟۔ کیا یہ وہ ہی پاجی نہیں  جس کو میں  نے  بڈّھا سمجھ کر  طرح دے  دی تھی۔ اور آج یہ میرا کیا کرے  گا؟۔ کاش مجھ میں  اتنی قوّت واپس آ جاتی کہ میں  اس کی مکّاری کا مزہ  اس کو چکھا سکتا۔

اس نے  اپنے  اعصاب کو ایک بار پھر آزمانا چاہا۔

’’فتّے  تو اپنے  چہرے  کو میرے  اوپر ہی رہنے  دے ‘‘۔ حمدا نے   فتّے  کے  جسم میں   کھنچاؤ سا محسوس کرتے  ہوئے  کہا۔ ‘‘ تو فکر نہ کر میں  بوڑھا ہوں  تو کیا۔ ابھی اتنی سکت مجھ میں  ہے  کہ تھے  گاؤں   تک پہنچا دوں ‘‘۔

اور فتّے  کے  تمام اعضاء ڈھیلے  پڑ گئے۔ آخر آج اس کے  لہجے  میں   اس قدر نرمی کیوں  ہے ؟ وہ مسلسل سوچ رہا تھا۔ چوٹوں  کے  درد سے   اس کے  اعضاء دکھ رہے  تھے  اور خیالات  کے  الجھاوے   سے  اس کے  ذہن  میں  چنگاریاں   چھوٹ رہی تھیں۔ وہ اپنی بوجھل آنکھوں  سے   فضا میں  گھور رہا تھا۔ اور انجانے  انجام کے  بارے  میں   غور کر رہا تھا۔ آخر  اس کا حشر  کیا  ہونے  والا ہے؟۔

’’فتّے  مجھے  معلوم ہوتا ہے  آج تو نے  پھر کوئی واردات کر ڈالی ہے ‘‘ حمدا نے  سکوت توڑا۔

فتّے  کچھ نہیں  بولا۔ وہ اندرونی  تکلیف  کی شدّت سے  مجبور تھا۔ بس وہ چاندنی سے  چمکتی ہوئی روپہلی بل کھاتی پگڈنڈی پر  چلتا رہا۔

’’لیکن  فتّے، تو آخر کب تک  اسی طرح اپنی جوانی  برباد کرتا  رہے  گا؟‘‘

اور فتّے  اس دردمندانہ  لہجے  پر  جھنجھلا اٹھا۔ وہ اپنی جوانی برباد کر رہا تھا یا نہیں، یہ اُس کا اپنا معاملہ تھا۔ لیکن اب اس کی جوانی کا جو حشر ہونے  والا تھا اس کی خود اسے  بھی خبر نہ تھی۔ اس نے  چاہا کہ وہ حمدا کے  شانوں  پر  رکھے  ہوئے  اپنے  بازو کو اس طرح  سمیٹ لے  کہ وہ بوڑھی گردن  اس کے  درمیان  چرمرا کر رہ جائے۔ لیکن آج اس کی ہڈّیوں  میں  اور اس کے  پٹّھوں  میں  اتنی توانائی بھی باقی نہیں  رہ گئی تھی۔ وہ محض گوشت پوست کا ایک ڈھیر سا ہو کر رہ گیا تھا۔

’’فتّے، معلوم ہوتا ہے  تو تھک گیا ہے۔ ‘‘ حمدا نے  غم انگیز لہجے  میں  کہا۔ ’’لیکن  بچّے  میں  کیا کر سکتا ہوں۔ مجھ میں  اتنی طاقت کہاں  کہ میں  تجھے  اس سے  زیادہ آرام پہنچا سکوں۔ ‘‘

یہ مجھ سے  کیا چاہتا ہے ؟ فتّے  نے  سوچا۔ یہ اتنی ہمدردی کیوں  جتا رہا ہے۔ ضرور اس میں  اس کی کوئی چال ہے۔ اس لئے  ایک بار اور بڈّھے  کو شکست دینے  کی کوشش کی۔ اگر وہ اپنے  آپ کو حمدا کے  اوپر گرا ہی دے  تو وہ دب کر چپاتی ہو جائے  گا۔ اس نے  حمدا پر گرنے  کی کوشش کی۔ لیکن  نقاہت کی وجہ سے  صرف لڑکھڑا کر رہ گیا۔

’’فتّے  تیرے  قدم ڈگمگا رہے  ہیں۔ ‘‘ حمدا نے  پھر ہمدردی کا اظہار کیا۔ ’’مگر ذرا اور ہمّت سے  کام لے۔ اب ہم گاؤں   کے  پاس ہی۔ آ گئے  ہیں۔ ‘‘

اور فتّے  کے  ذہن میں  مسلسل گتّھیاں  پڑتی چلی جا رہی تھیں۔ اس کا دماغ پھٹا جا رہا تھا۔ اس کے  زخم دکھ رہے  تھے۔ اس کی آنکھیں  بوجھل ہو رہی تھیں۔

’’فتّے  ذرا ٹھنڈے  دل سے  سوچ۔ تجھ میں  کتنی قوّت ہے۔ کتنی ہمّت ہے، اور کتنا نڈر ہے  تو! لیکن ان سب کا کیا فائدہ؟۔ آج گاؤں  میں  کوئی بھی تیرا نام پیار، محبّت سے  نہیں  لیتا۔ تو نے  اپنی ذات سے  کسی کو فائدہ پہنچانے  کی کوشش نہیں  کی، الٹا سب کو دکھ ہی دیتا رہا ہے۔ ہر ایک کی آنکھوں  میں  تیرا  نام  سن کر  آنسو آ جاتے  ہیں۔ جیسے  اگر ان سے  بن پڑتا تو وہ تیرے  ساتھ کیا کچھ نہ کر ڈالتے ‘‘۔

فتّے  اس کی کمزوری اور لاچاری کے  باوجود  غصّے  سے   بپھر اٹھا۔ اس نے  بولنے  کی کوشش کی:

’’حمدا، تو۔ ۔ ۔ آخر۔ ۔ ۔ چاہتا کیا ہے۔ ۔ ۔ ؟‘‘

حمدا نے  فتّے  کو  پر امّید نگاہوں  سے  دیکھا۔

’’میں  کیا چاہتا ہوں۔ انسان ہونے  کے  ناتے  میں  تیرا  بھلا ہی چاہتا ہوں۔ ‘‘

’’تو میرا۔ ۔ ۔  بھلا۔ ۔ ۔   چاہتا ہے ؟‘‘

فتّے  نے  اپنی اکھڑی ہوئی آواز میں   غضبناکی پیدا کرتے  ہوئے  کہا:

’’جس نے۔ ۔ ۔ میرے  مقابلے۔ ۔ ۔  میں لٹھ۔ ۔ ۔ اٹھایا تھا؟‘‘

’’فتّے  مدد مظلوم کی کی جاتی ہے، ظالم کی نہیں ؟‘‘

’’تو کیا۔ ۔ ۔ اب میں۔ ۔ ۔ مظلوم ہوں ؟‘‘

’’نہیں! ظالم تو، تو اب بھی ہے۔ لیکن ایسی حالت میں  تجھے  دیکھ کر مجھے  ترس آ گیا‘‘۔

فتّے، نہ جانے  کیا سوچنے  لگا۔ پیڑوں  کے  جھنڈ پر چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ سائے  گہرے  ہو رہے  تھے، اور چاروں  طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ جھینگروں  کی آواز  میں  صرف دونوں  کے  قدموں  کی آواز ابھر رہی تھی۔ اور اس آواز کے  زیر و بم میں  فتّے  کے  ساتھی گاؤں  کے  کسی کونے  میں  چھپے  ہوئے  اس کا منہ چڑا رہے  تھے، جو اس کے  ساتھ جان دینے  آئے  تھے  لیکن اپنی جانیں  بچا کر  بھاگ گئے  اور اسے  گیدڑوں  اور بھیڑیوں  کی خوراک بننے  کے  لئے  چھوڑ گئے  تھے۔ فتّے   اپنی مٹّھیاں  بھینچ کر رہ گیا۔

’’فتّے  تو خود سوچ۔ کیا بھلا ایسا ہو سکتا ہے   کہ بچّھو تجھے  ڈنک مارے  اور تو اسے  پیار کرے۔ سانپ  تجھے  ڈس لے  اور تو اسے  دودھ پلائے ؟‘‘

فتّے  روپہلی چاندنی کے  سناٹے  میں  اپنے  بی ہنگم سائے  کو دیکھنے  لگا۔

اس کے  سائے  کا سر نفی میں  ہل گیا۔ شاید حمدا کے  سوال پر!

’’بس یہ ہی حال تیرا ہے۔ تو دوسروں  کو ڈنک مار رہا ہے۔ دوسروں  کو  ڈس رہا ہے۔ پھر  وہ تجھے   کیوں   خوش  رہنے  دیں  گے۔ فتّے  مجھ بوڑھے  کی بات  یاد رکھ! دوسروں  کو سُکھ  دیئے  بغیر سُکھ نہیں   ملتا۔ ‘‘

فتّے  اندر سے  ٹوٹ پھوٹ کر  ریزہ ریزہ ہو گیا۔ شاہ میر احمد! میں  نے  تمہیں  نہیں   پہچانا۔ بے  حد شرمندہ ہوں  اپنی نادانی پر!

وہ اب گاؤں  کے  اندر داخل ہو چکے  تھے۔ چاندنی میں   چھپّروں   کے  بیچ سے  اٹھتا ہوا نیلا  دھواں   بڑا دلکش  لگ رہا تھا، کچّی دیواروں  کی سیلی سیلی بو، دماغ کو ایک طرح کے  اس کا احساس  دلا رہی تھی۔ اور پیڑوں  اور چھپّروں  کے  نیچے  بیٹھے  ہوئے  ناریل کا حقّہ  پیتے  ہوئے  کسان  اور چاندنی  میں   کبڈّی کھیلتے  ہوئے   بچّے  بڑے  معصوم  لگ رہے  تھے۔ آج جیسے  وہ پہلی بار بالکل نئی اور پر خلوص دنیا میں  قدم رکھ رہا تھا۔ جہاں  چاندنی آج پہلی بار کسی  نامعلوم  سمت سے  رحمتوں  کی بارش کرتی معلوم ہو رہی تھی۔

’’حمدا  چاچے۔ ۔ ۔ ‘‘ اس نے  پھر بولنے  کی کوشش کی:

’’تو مجھے  اپنے  ہی گھر لئے  چل۔ میں  تیرے  چھپّر کے  نیچے  ہی پڑ رہوں  گا۔ میں  ان کے  پاس اب واپس نہیں  جاؤں  گا‘‘۔

اس نے  دور کھڑے  ہوئے   اپنے  ساتھیوں  کی طرف حقارت سے  دیکھتے  ہوئے  کہا۔ اور حمدا تعجّب اور مسرّت سے  بھونچکّا سا  ہو گیا۔

اور جب فتّے، حمدا کے  ساتھ، اپنے   ساتھیوں  کے  درمیان  سے  گزرنے  لگا تو وہ پھٹی پھٹی آنکھوں  سے  اس کی طرف دیکھنے  لگے۔

                                                      (  ۱۹۵۵ء)