کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آئی وَری ٹاور

ڈاکٹر ابنِ فرید


جانے  کیا دیوانوں  کی طرح وہ اوٹ پٹانگ   سوچتی چلی جا رہی تھا، جیسے  جیسے۔ ۔ ۔

زندگی کی رعنائیاں  آہستہ آہستہ، قدم قدم دور ہوتی جا رہی تھیں، دور، دور۔ ۔ ۔  افق کی سرحدوں  سے  بھی دور! ایک بھیانک سنّاٹا چاروں  طرف چھاتا چلا جا رہا تھا۔ ویرانیوں  میں   کبھی ہولناک بازگشت کی آواز  سنائی دے  جاتی تھی۔ اور کچھ نہیں! اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ رو دے۔ ایک بھرپور چیخ کے  ساتھ، تاکہ وہ جو ہر دم ایک گھٹی گھٹی سی کیفیت اس پر طاری رہتی ہے۔ اس نالہ و فریاد کے  سیلاب میں  بہہ جائے۔ مگر، بس وہ ہاتھ مسوس کر رہ جاتی، یہ بھی تو ممکن نہ تھا، کون سنے  گا اس کی آہ و زاری؟ اس ویرانے  میں  یہ آوازِ گریہ بھی تو حیران و پریشان، سرگرداں  رہے  گی۔ دل کے  ارمان دل ہی مین رہتے  ہیں۔ اور جی کڑھتا رہتا ہے۔

اس پر اپنی جان سے  اجیرن ہونے  والی  کیفیت طاری تھی۔ اور لان کے  ایک کونے  میں   وہ بڑی فکرمند سی صورت بنائے  ہوئے  بیٹھی تھی۔ اس سے  کچھ فاصلے  پر نجمہ  اون اور سلائی لئے  ہوئے  نہ جانے  کیا بڑی تیزی کے  ساتھ بن رہی تھی۔ اس کے  چہرے  پر شگفتگی تھی، بالوں  کی ایک لٹ چہرے  پر لٹک رہی تھی اور سرد ہوا کے  ہلکے  ہلکے  جھونکے  سے  لہرا رہی تھی۔ مگر وہ اپنے  تبسّم زیرِ لب کے  ساتھ اپنے  کام میں  مگن تھی۔ اسے  بالوں  کی اس لٹ کی بے  ترتیبی کی بالکل فکر نہیں  تھی۔

نجمہ!۔ ۔ ۔  ایک احساس نے   اسے  مضطرب کر دیا۔ یہ بالوں  کی لٹ کتنی دیر سے  یونہی جھول رہی ہے۔ اور اسے  کوئی فکر نہیں!۔ بدسلیقہ!۔ کوئی دیکھے  گا تو کیا کہے  گا۔ بے  ہنگم لڑکی!۔ اُس  کے  دل میں  آیا کہ وہ نجمہ کو آواز دے، اُسے  تنبیہ کرے۔ مگر نجمہ کے  مسکراتے  ہوئے  چہرے  نے  اس کے  لبوں  کو سی دیا۔ اور دل گھٹنے  لگا۔ اس نے  اپنے  پالش کئے  ہوئے  ناخنوں   کی طرف دیکھا۔ جگہ جگہ سے  رنگ کی پپڑیاں  اکھڑ گئی تھیں، اور ناخنوں  کی سطح پر  برس کے  دھبّے  سے  نمودار ہو رہے  تھے۔ اس نے  بڑی بے  چینی سی محسوس کی۔ ناخنوں  پر تازہ پالش فوراً کر لینی چاہیئے۔ کسی کی نظر پڑ گئی تو کیا ہو گا؟ اسے  ایک جھجھک سی محسوس ہوئی۔ مگر پھر اس نے  اپنے  ہونٹ دانتوں  سے  کاٹ لئے۔ اپنے  ناخنوں  کو ہتھیلیوں  پر رگڑ ڈالا۔ کوئی دیکھ لے  گا، کسی کی نظر پڑ جائے  گی!۔ آخر کہاں  تک دوسروں  کی پسند کے  لئے  میں  یونہی جیتی رہوں  گی؟ جینے  کے  لئے  میری اپنی کوئی پسند نہیں، میری اپنی کوئی خوشی نہیں ؟۔

اور ایک نجمہ تھی جسے  ایسی کوئی فکر نہیں  تھی۔ نجمہ کی زندگی نے  جیسے   اس کی زندگی کے  درد کو  ایک کراہ میں  تبدیل  کر دیا تھا۔ اسے  نجمہ کے  ذہنی  اطمینان پر رشک  آتا تھا۔ لیکن  جب اس کو یہ سب فراہم نہیں  ہوتا تھا تو وہ اپنے  آپ سے  نفرت کرنے  لگتی تھی۔ نجمہ سے  نفرت کرنے  لگتی تھی۔ جو اسے  ان زندگی کے  بندھنوں  میں  باندھے  ہوئے  تھے۔ اس نے  غیر ارادی طور پر نجمہ کی طرف دیکھا اور پھر وہی رشک کا احساس ابھرنے  لگا اور اس نے  نفرت  کے  ساتھ اپنی نظریں  پھیر لیں۔ اسے  نجمہ کی طرف نہیں  دیکھنا چاہیئے۔ اس کی طرف توجّہ نہیں  دینا چاہیئے۔ ہو گی نجمہ، اور اس کی زندگی! اُس  کی اپنی زندگی میں  کس چیز کی کمی ہے ؟ ذہن میں  دو متضاد  خیالات برابر ٹکرا رہے  تھے  اور وہ اس پراگندگی سے  نجات پانا چاہتی تھی لیکن زندگی کا ایک ایک لمحہ فریاد و فغاں  کرتا ہوا  اس کے  تصوّر میں   ایک مجسّم سوال کی شکل میں  سامنے  آ کر کھڑا ہوتا تھا۔ اس کے  اپنے  پاس کوئی ایسا جواب نہیں  تھا جو ان سوالوں  کو پھر گردن نہ اٹھانے  دے۔ مگر، مگر ایسا جواب کہاں ؟ اُس  کی کس مپرسی کی کیفیت میں  اور اضافہ ہو گیا۔

’’شمّی، کیا سوچ رہی ہو؟۔ ‘‘

اس نے  بڑی بے  زاری کے  ساتھ نجمہ کی طرف دیکھا۔

نجمہ مسکرا رہی تھی، اس کے  بالوں  کی جھولتی ہوئی لٹ لہرا رہی تھی۔

’’کیا بات ہے  شمّی؟۔ ‘‘

’’مجھے  ذرا نِشّو کے  یہاں  جانا ہے۔ ‘‘

’’اچھّا اتنی سی بات!‘‘۔

وہ وہاں  سے  اٹھ کر چلی آئی۔

یہ اتنی سی بات نہیں  تھی۔ یہ کوئی بات ہی نہیں  تھی۔ یہ تو ایک  بہانہ تھا۔ وہاں  سے  ہٹ آنے  کا۔ مگر یہ بات ضرور تھی کہ اسے  نِشّو کے  یہاں  جانا تھا۔ وہ انتہائی کسل مندی کے  ساتھ اپنے  کمرے  میں  چلی گئی۔ سوچا شاید  نِشّو کے  یہاں  جانے  سے  ہی طبیعت کا غبّار صاف ہو جائے۔ آئینہ کے  سامنے  کھڑے  ہو کر اس نے  دیکھا تو اندازہ ہوا کہ جانے  کے  لئے  اسے  کافی  تیّاری کرنی پڑے  گی۔ بال سوکھی ہوئی گھاس کی طرح وحشت اثر تھے۔ ہونٹوں  پر بھی  سرخ چنّیاں  اور بادامی لکیریں  اُبھر آئی تھیں، اور آنکھوں   کے  حلقوں   میں   دھوئیں  کا سا سرمئی رنگ نمایاں  ہو گیا تھا۔ گویا میک اپ کرنے  میں  اچھّی خاصی جدوجہد کرنی پڑے  گی۔ اور بہت سا وقت  صرف کرنا پڑے  گا۔ وہ بڑی بددلی کے  ساتھ ڈریسنگ ٹیبل کے  سامنے  بیٹھ گئی۔ پہلے  اس نے   چہرے  کو ہلکے  ہلکے  نم تولئیے  سے  صاف کیا اور پوڈر کی ایک تہہ جمانے  کی کوشش کی۔ مگر سفید پھپھوندی سی اُبھرتی ہوئی اسے  انتہائی  مصنوعی معلوم ہوئی۔ اس نے  صدّی بچّے  کی طرح دونوں  ہتھیلیوں  سے  اپنے  چہرے  کو رگڑ ڈالا۔ اور پھر دوسری تہہ جمائی۔ اور یونہی نہ جانے  وہ کتنی دیر تک خود کو سنوارنے  میں  مشغول رہی۔

میک اپ کرنے  کے  بعد اس نے  اپنے  کپڑوں   پر نظر ڈالی تو  اسے  سخت جھنجھلاہٹ ہوئی۔ آخر یہ آج اسے  کیا ہو گیا ہے ؟ کپڑے  بدلنے  سے  پہلے  میک اپ کر لینا تو حماقت ہو گئی۔ اب کپڑے  بدلنے  کے  بعد اسے  دوبارہ میک اپ کرنا پڑے  گا۔ کپڑوں  کی الماری اور کیبنٹ کھول کر وہ کافی دیر تک جمپر، شلوار اور  دوپٹّوں  کو الٹتی پلٹتی رہی۔ لیکن اس کی سمجھ میں   نہ آیا کہ وہ رنگوں  کے   کس امتزاج و تناسب کو  منتخب کرے۔ اس کی طبیعت جھنجھلا گئی۔ ایک ذرا کی ذرا نِشّو کے  یہاں  ہو آنے  کے  لئے  بھی اُسے  اتنے  سوانگ  کرنے  پڑ رہے  تھے۔ کیا وہ اپنے  آپ کو نِشّو کو دکھانے  جا رہی تھی؟ نِشّو کو نہیں، تو پھر  کون ہے ؟ کسے  دکھانا  ہے  اپنے  آپ کو؟ اس نے  ان دلیلوں  سے  اکتا کر بغیر سوچے  سمجھے  ایک  سوٹ نکال لیا۔ کپڑے  بدلنے  کے  بعد وہ پھر ڈریسنگ ٹیبل کے  سامنے  بیٹھ گئی۔ آئینے  میں  اپنے  چہرے  کو غور سے  دیکھتی رہی۔ ویران ویران سی شکل پر نہ معلوم کتنی اداسی کی تہیں   جمی ہوئی تھیں۔ وہ اپنی ہی آنکھوں   میں، آئینے  میں   گھورتی رہی۔ جیسے  وہ کسی فکر میں  کھو گئی تھی۔ وہ اس دنیا میں  نہیں  تھی، اس کے  ارد گرد کچھ نہیں  تھا۔ اس کے   سامنے   کچھ  نہیں  تھا۔ صرف اپنی شکل!۔ وہ بھی  اسی طرح  بالکل  گُم سُم!۔

نجمہ نے   اُس کے  شانے  پر آہستگی سے  ہاتھ رکھ دیا تو وہ چونک  پڑی، نجمہ اب بھی مسکرا رہی تھی۔ نہیں!۔ اُسے  ایسا محسوس ہوا جیسے   نجمہ اُس کا منہ چڑا رہی تھی۔ اس نے  ایک لمبی سانس لی، اور پوشاک تبدیل کرنے  میں  کپڑے  کی رگڑسے  پوڈر کی مٹی ہوئی تہہ کو  سلیقے  سے  برابر کرنے  لگی۔ وہ نجمہ سے  اس وقت بالکل بولنا ہی نہیں  چاہتی تھی۔ اسی لئے  اس نے  اس کا ہاتھ بھی اپنے  شانے  پر سے  نہیں  ہٹایا۔ نجمہ  نے  ایک ذرا آہستگی  کے  ساتھ اس کے  شانے  کو دبایا۔

’’شمّی اب اٹھ بھی چکو!‘‘

’’کیوں ؟‘‘

اسے  نجمہ کے  اس تقاضے  پر شدید تعجّب ہوا۔ آخر اس سے  کیا مطلب؟‘‘۔

’’نِشّو کے  یہاں  چلو گی نہیں  کیا؟‘‘۔

’’کیا تم بھی جا رہی ہو‘‘۔

اس نے  انتہائی لا تعلقی کے  ساتھ کہا۔ پوچھا نہیں!۔

’’ہاں !۔ میں  نے  سوچا تمہارے  ساتھ میرا بھی نِشّو سے   تعارّف ہو جائے  گا‘‘۔

’’ذرا اپنی شکل تو درست کر لو!۔ ‘‘

اس نے  بپھری ہوئی ناگن کی طرح ڈسنا چاہا۔

’’کیا میرے  درست کرنے  سے   بدل جائے  گی میری شکل؟‘‘

نجمہ نے   بڑے  اچنبھے  کا اظہار کیا اور شرارت آمیز مسکراہٹ کے  ساتھ  اس کے  شانے  پر  جھک کر  آئینے  میں  جھانکنے  لگی۔ جیسے  کچھ ڈھونڈھ  رہی ہو۔

وہ تلملا اٹھی۔ اس نے  نجمہ کے   بالوں  کی لٹکتی ہوئی لٹ کو زور سے  کھینچ لیا۔

’’اوئی!۔ ارے  ہاں  ان کو تو ٹھیک کر لوں  گی، لیکن!‘‘۔ اور اس نے  شمّی کے  گالوں  کو ہتھیلیوں  سے  رگڑ دیا۔

’’شریر!۔ چڑیل!۔ ‘‘

شمّی نے  نجمہ کے  منہ پر کُشن پھینک کر مار دیا۔

لیکن نجمہ کی مسکراہٹ بدستور قائم رہی، اور شمّی کو ایک بار پھر اتنی ہی محنت کرنی پڑی جتنی وہ اتنی دیر پہلے  سے  کرتی رہی تھی۔

جب وہ دونوں  تیّار ہو کر نِشّو سے  ملنے  کے  لئے  روانہ ہوئیں  تب بھی شمّی مستقل خاموش رہی اور  اکتاہٹ سی محسوس کرتی رہی۔ نجمہ نے  لاکھ اُسے  کریدنے  کی کوشش کی لیکن اُس کے  لئے  اپنے  اضطراب کا راز فاش کر دینا  کسی طرح ممکن نہ تھا۔

پھر جب وہ دونوں  نِشّو کے  مکان کی چاردیواری میں  داخل ہوئیں  تو لان کو پار کرنے  سے  پہلے  پہلے  اُس نے  جبراً اپنے  چہرے  پر شگفتگی کے  آثار پیدا کرنے  کی کوشش کی۔ اندر سے  اس کا دل گریاں  تھا لیکن اس کے  لب خنداں  تھے۔ اس کے  لئے  وہ مجبور تھی۔ دوسروں  کے  یہاں  محرّمی  چہرہ لے  کر جائے  گی تو کیا کہیں  گے  لوگ؟ لیکن اس کے  دل و دماغ پر کیا بیت رہی ہے ؟ کوئی پوچھنے  والا نہیں۔ سب یہی چاہتے  ہیں  کہ ان کے  زندگی کے  پیمانوں  میں  کوئی تلخی نہ گھولے۔ ایک نجمہ ہے  جو نہ جانے  کب سے  اس کو بہلانے  کی کوشش کر رہی ہے۔ مگر (اُس نے  چلتے  چلتے  نجمہ کے  چہرے  پر ایک نظر ڈالی) نہ اس کے  چہرے  پر غازہ ہے، نہ اس کے  ہونٹوں  پر لپ اسٹک، نہ اس کی پوشاک میں  کشش! اس ماحول سے  اس کا تو قریب کا بھی واسطہ نہیں۔

اُسے  پھر اپنے  آپ سے  وحشت ہونے  لگی۔ یہ کیوں  وہ دیوانوں  کی طرح  پراگندہ خیالی کا  شکار ہوئی جا رہی ہے۔ اس نے  تمام خیالات  کو اپنے  ذہن سے   نکال دینے  کی کوشش کی۔ سامنے  نِشّو کھڑی اُسے  گھور رہی تھی۔ اس نے  سفید سوٹ پر بڑی شوخ سیاہ مخملی چادر اوڑھ رکھی تھی۔

’’ میں  تو بڑی دیر سے  تمہارا انتظار کر رہی تھی‘‘۔

’’ہاں! ذرا نجمہ کی وجہ سے  دیر ہو گئی‘‘۔

’’اوہ آپ!۔ بھئی تعارف تو کراؤ ‘‘۔

’’ یہ میری سہیلی ہیں، ابھی پچھلے  ہفتے  آئی ہیں  چھٹّیاں  منانے  ‘‘۔

’’مگر نہ میری بغل میں  پامسٹری کی کتاب ہے، اور نہ میرے  گھر میں  پوسی ہے ‘‘۔

’’کیوں ؟‘‘۔

نِشّو نے  بے  جانے  بوجھے  سوال کر دیا۔

’’نہ مستقبل کا دھڑکا ہے، اور نہ بے  وجہ بور ہوتی رہتی ہوں ‘‘۔

’’ اچّھا!۔ ‘‘

نِشّو نے  فرمائشی قہقہہ لگایا۔ اور شمّی کو یہ قہقہہ کھل گیا۔

آخر یہ کون سا مذاق ہے  اور یہ کیا وقت ہے  مذاق کا؟ مگر پھر بھی اسے  مسکرانا پڑا۔ اس  لئے  کہ جب دوسرے   ہنس رہے  ہوں  تو اخلاقاً کم از کم مسکرانا پڑتا ہے، چاہے  آنکھوں  سے  آنسوؤں  کے  سیلاب اُمنڈ آنے  کے  لئے  بے  قرار ہوں۔ اسے  اس وقت یہ الجھن بری طرح ستا رہی تھی کہ نجمہ  کو آخر وہ کون سا اطمینان میسّر تھا جو اسے  رنجیدہ نہیں  ہونے  دیتا۔ اور ایک وہ ہے، اس کا ماحول ہے  کہ روح کی ہر چیخ کو دنیا جہان کے  ہنگاموں  میں  دبا دینے   کی کوشش  کے  باوجود ایک درد انگیز دھواں، سا اٹھتا ہوا  محسوس ہوتا رہتا ہے۔

نجمہ نے  نِشّو کو کچھ اس طرح اپنی دلچسپ باتوں   میں   محو کر لیا کہ وہ عافیت سی محسوس کرنے  لگی تھی۔ وہ نِشّو کے  یہاں  آئی تھی تاکہ اپنے  خلجان سے  کچھ دیر  کے  لئے  تو نجات پا سکے۔ مگر یہاں  آنے  پر اسے  معلوم ہوا کہ اس کا خیال غلط تھا۔ وہ بری دیر تک اپنے  آپ میں  کھوئی رہی، اور جب اس کیفیت سے  بھی اُکتا گئی تو وہ چلنے  کے  لئے  اُٹھ کھڑی ہوئی۔

’’ارے  بس؟ اتنی جلدی؟‘‘۔

’’ہاں  نِشّو، آج شام چچی آنے  والی ہیں۔ کچھ تیّاری کرنی ہے۔ ‘‘

’’کس کے  لئے ؟ چچی کے  لئے  یا چچی کے  بیٹے  کے  لئے ؟‘‘۔

نِشّو نے  بڑا بھونڈا مذاق کیا۔

’’صرف ممّی کی وجہ سے!‘‘

اس نے  انتہائی رکھائی سے  جواب دیا اور اُٹھ کر چلی آئی۔

واپسی پر بھی شمّی اسی طرح کھوئی کھوئی رہی۔ نجمہ  اس طرح ایک  مرمریں  مجسّمے  کے  ساتھ چلنے  کے  لئے   تیّار نہیں  تھی۔ وہ بے  وجہ کی سوگواری کی عادی نہیں  تھی۔

’’شمّی تمہیں  کیا ہو گیا ہے ؟ اس قدر خاموش کیوں  ہو؟‘‘

’’میں  خود بھی سمجھنے  سے  قاصر ہوں۔ نہ معلوم کیوں  میں  اپنی طبیعت اندر سے  بجھی بجھی سی محسوس کر رہی ہوں ؟‘‘۔

’’پھر بھی آخر کوئی بات تو ہو گی؟‘‘

’’اگر یہی معلوم ہوتا تو بتا نہ دیتی‘‘۔

نجمہ اس جواب سے  اکتا گئی۔

اور پھر جب وہ دونوں  اپنی کوٹھی میں  داخل ہوئیں  تو نجمہ خاموشی کے  ساتھ اپنے  کمرے  میں  چلی گئی۔ اور وہ اپنے  پلنگ پر بیماروں  کی طرح  پڑ رہی۔ اس نے  اپنے  چاروں  طرف بے  کسی سے  نظر ڈالی۔ اسے  کیا کرنا چاہیئے ؟ کیوں  کر وہ اپنے  آپ کو مشغول کرے  تاکہ یہ ذہنی تشّنج دور ہو جائے۔ مگر اس لمحے  نہ کتابوں  میں  زندگی  محسوس ہو رہی تھی اور نہ ریڈیو گرام میں۔ خبروں  کا وقت ہے، گانوں  کا وقت ہے، ریکارڈوں  کا ایک انبار لگا ہوا ہے، مگر ان سب میں  وہ خود کہاں  ہے ؟۔ صرف  باہر باہر!

نہ معلوم کب تک وہ اس طرح  اپنے  آپ سے  الجھتی رہتی کہ کسی نے  دوسرے  کمرے  میں  ریڈیو  لگا دیا۔ فلمی گانی کی اونچی دھن اس کے  کانوں   سے  ٹکرانے  لگی۔ پہلے  اسے  کچھ سکون سا محسوس ہوا پھر اضطراب کی  کیفیت بڑھ گئی۔ دل بہلانے  کا  یہ بھی کیسا عجیب طریقہ ہے، وقت کا  گلا گھونٹ دو دل بہل جائے  گا!۔ کیسی کم عقلی ہے، اسے  گانے  سے  نفرت سی ہو گئی۔ اس نے  لیٹے  ہی لیٹے  چیخ کر آواز دی۔

’’بند کر دو یہ ریڈیو!۔ ‘‘

ممّی اور شاد دونوں  ایک ساتھ اس کے  کمرے  میں  داخل ہوئے۔

’’کیا ہو گیا ہے  تم کو شمّی‘‘۔ ممّی نے  تعجّب سے  کہا۔

’’آج کئی دن سے  باجی میں  تمہاری یہی کیفیت دیکھ رہا ہوں۔ کیسی ہوتی جا رہی ہو تم؟‘‘

مگر اس نے  ان دونوں  کو جواب دینے  کے  بجائے  کروٹ بدل کر تکیہ میں  چہرہ چھپا لیا اور سسکیاں  بھرنے  لگی۔ ممّی نے  بڑے  پیار کے  ساتھ  اس کے  بالوں  پر ہاتھ پھیرا۔

’’شمّی کیا بات ہے ؟‘‘

’’ممّی دیکھو میں  نجمہ سے  پوچھتا ہوں ؟‘‘۔

’’نہیں!۔ ۔ ۔

اس نے  تکیہ میں  ہی منہ  چھپائے  ہوئے  چیخ کر منع کیا۔ لیکن شاد باہر جا چکا تھا۔

اس نے  نجمہ کے  آنے  سے  پہلے  ہی اپنے  آنسوؤں  کو  پلّو سے  خشک کیا، اور اٹھ کر باورچی خانے  کی طرف چلی گئی۔ چچی کی آمد کے  سلسلے  میں   اسے  شام کے  کھانے  کا  اہتمام کرنا تھا۔ وہ بغیر کسی سے  بولے  ہوئے  اپنے  کام میں  لگی رہی، ممّی فکرمند سی اس کا منہ تکتی رہیں۔ ان کی سمجھ میں  یہ معمّہ نہیں  آ رہا تھا، نجمہ بھی کچھ بتانے  سے  قاصر تھی۔

’’بیٹیاس طرح بے  وجہ دل دکھانے  سے  فائدہ؟۔ ۔ ۔  ہنسو، بولو، خوش رہو، یہی زندگی ہے ‘‘۔

’’اتنی حقیر ہے  زندگی؟ ممّی اور کچھ نہیں  زندگی میں ‘‘۔

’’پاگل ہو گئی ہو! اور کیا ہے  زندگی؟

’’مجھے  تو یہ سب ایک ڈھونگ معلوم ہوتا ہے ‘‘۔

’’کیسا ڈھونگ؟‘‘

’’یہی جب ہم زندگی کی قدر نہ کر سکیں، تو نادان بچّے  کی طرح اسے  ضائع کرنا شروع کر دیں ‘‘۔

’’اونھ، تم تو خبطی ہوتی جا رہی ہو نری!‘‘۔

ممّی نے  جھنجھلا کر کہا۔ اور اس نے  خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا، ممّی اس کے  دل کی آواز پر کان نہیں  رکھ رہی تھیں۔ وہ اس کے  جملوں  کی پہنائیوں  کو نہیں  پا سکتی تھیں۔ البتّہ ان کو اتنا احسا س ضرور ہو گیا تھا کہ یہ شمّی کچھ بے  چین سی رہنے  لگی ہے۔ مگر پھر ان کو خیال آیا کہ شاید جب بھاوج اور ان کا لڑکا شاہد آ جائے  گا تو اس گھر کی یکسانیت میں  بھی تبدیل ہو گی اور کچھ نئے  رشتے  کی بات اس کے  سوچنے  کے  ڈھنگ کو  بدل دے  گی۔

مگر شمّی کے  لئے   ان سب کا آنا بھی کچھ کم پریشان کن نہیں  تھا۔ چچی کے  آتے  ہی جیسے  اس کے  گھر کی چار دیواریاں  بھی زندان میں  تبدیل  ہو گئی تھیں۔ ہر وقت نِک سُک سے  تیّار رہنا، پوشاک کا خیال رکھنا، میک اپ پر دھیان رکھنا، گویا یہ سب اتنی پابندیاں  تھیں  جن سے  وہ پوری طرح اکتا چکی تھی۔ مگر وہ کیا کر سکتی تھی؟۔ ان میں  سے  کسی چیز کی طرف سے  بھی تو وہ غافل نہیں  ہو سکتی تھی۔ اسے  یہ سب اپنے  لئے  نہیں  کرنا تھا۔ اس کی اپنی  ذات کے  لئے  ان سب کی کوئی اہمیت نہیں  تھی۔ اس کے  لئے  اپنے  ظاہر کے  فریب میں   مبتلا  ہونی کی ضرورت تھی؟ وہ تو اپنے  باطن سے  بھی خوب اچھّی طرح واقف تھی۔ پھر آخر کس کے  لئے ؟۔ اس کا دل دھک دھک کرنے  لگا، ہاں! صرف دوسروں  کے  لئے۔ دوسرے  دیکھیں  گے  نا، تو انہیں  اپر سے  یہی سب کچھ تو نظر آئے  گا۔ اس لئے  ان کی نظریں  خیرہ ہو جائیں  گی۔ اس کا  خیال یہی تھا۔ اور امّی کی ہدایت بھی یہی تھی کہ شاہد کی بارے  میں  انھوں  نے  جو کچھ سوچ رکھا تھا وہ اس مرتبہ پکّا ہو جائے۔

مگر ممّی کی آنکھیں  وہ سب کچھ دیکھنے  سے  قاصر تھیں  جو شاہد کی آنکھیں   دیکھنا چاہتی تھیں۔ شاہد  جن نا تجربہ کار اور  متحیّر آنکھوں  کو  پہلے  لے  کر آیا تھا وہ اب ویسی نہیں  رہی تھیں۔ ان میں  کچھ ایسی تبدیلی ہو چکی تھی جن کو دیکھنے  کے  لئے  بھی ایک نظر  چاہیئے۔ وہ اس بات کو بہت اچھّی طرح محسوس کر رہی تھی۔ مگر وہ کیا کر سکتی تھی۔ اس نے  کئی بار چاہا کہ وہ تہذیب کے  اس  مینار سے  باہر نکل آئے۔ جس میں   روما کی محصور شہزادی کی طرح مقیّد ہے۔ مگر جب بھی اس نے  قدم بڑھایا، ممّی نے  وہیں  ٹوک دیا۔

’’ شمّی کچھ تو ہماری عزّت کا  خیال کرو!‘‘۔

’’دوسرے  کیا ہماری اوقات پر تھوکیں  گے ‘‘۔

اور وہ مجبور ہو جاتی کہ اُس شیشہ خانے  میں  واپس  چلی جائے، جہاں  سے  وہ بڑے  جرأت کے  ساتھ باہر آئی تھی۔ اس کا دل روتا، مگر آنکھوں  سے  آنسوؤں  کے  چھلکنے  کی اجازت نہ تھی۔ یہ کیسی پابندی تھی؟ وہ اپنے  آپ سے  عاجزی سے  پوچھتی مگر ایک گھٹی گھٹی خاموشی کے  سوا  وہاں  بھی اسے  کوئی جواب  نہ ملتا۔ ممّی کو اس کیفیت کا بھی اندازہ نہ تھا۔ ان کو اطمینان تھا  کہ سمّی  اُن کا کہنا کس قدر  سعادت مندی سے  مانتی ہے۔ اور بھاوج پر کس قدر اعتماد تھا کہ وہ شمّی کے  لئے  وعدہ کر چکی ہیں۔

مگر ان سب کو کیا خبر تھی کہ ان بنیادوں  میں  نیچے  نیچے  کوئی نوخیز بیل بھی اگتی چلی آ رہی ہے۔ کوئی عشقِ پیچاں  ان کے  قلعوں  کی عقبی دیواروں   سے  لپٹی ہوئی  اوپر بھی چڑھتی چلی آ رہی ہے۔ پھر جب سب کو اس کا علم ہوا  تو سب چونک پڑے۔ ممّی حیران رہ گئیں، چچی خجل ہو کر شاہد پر برس پڑیں۔

’’آخر یہ کیا بے  ہودگی ہے  شاہد؟‘‘

’’کیسی بے  ہودگی ؟ امّی!‘‘۔

’’تم نے  شمّی کے  لئے  انکار کس بات پر کیا ہے ؟‘‘

’’امّی مجھے  تو ایک ایسی عورت چاہیئے  جو ہم سب کی جیسی ہو ہم سب میں  ہماری ہی طرح رہ سکے، ایسی عورت کا کیا مصرف جس کے  لئے  اپنا  آپ سنبھالنا بھی خلجان ہو؟۔ ‘‘

’’مگر شمّی۔ ۔ ۔  شمّی تو!‘‘۔

’’کچھ نہیں  امّی! شمّی  بے  چاری تو صرف اپنی سنگارمیز میں   جڑی ہوئی ہے  وہ صرف اسی سے  محبّت کرتی ہے۔ دنیا میں  اس کے  لئے  صرف اس چہرے   کا وجود ہے  جو اسے   اپنی سنگارمیز کے  آئینے  میں  نظر آتا ہے ‘‘۔

جیسے  سب کے  ارمانوں  پر اوس پڑ گئی۔ اس کا دل چاہا کہ وہ اپنی سنگارمیز سے  سے ٹکرا دے۔ ممّی کا راستہ روک لے  اور پوچھے۔ ۔ ۔ ’’ممّی کیا اسی کے  لئے  آپ مجھے  ٹوکتی رہتی تھیں۔ اور یہ دیکھئے، یہاں  اس چہرے  پر کوئی تھوک کر چلا گیا ہے!۔ ‘‘

مگر ممّی  بے  چاری خود  اتنی سوگوار تھیں  کہ اسے  ان کی حالت پر ترس آنے  لگا۔ اس نے  چاہا کہ  وہ اب اپنے  دل کی بات کہے۔ مگر اس نے  خاموش رہنا  ہی مناسب سمجھا۔ وہ اس کے  سوا کر بھی کیا سکتی تھی؟۔ وہ تو بالکل روما کی اس محصور شہزادی کی طرح  تھی جو اپنے  مینار سے  جھانک کر  نیچے  دیکھتی ہے۔ دریا کا موّاج پانی لہریں  مارتا ہوا  فصیلوں  کو  چومتا ہوا بہہ رہا ہے۔ دریا کے  اس  پار خود رو جھاڑیاں  اُگی ہوئیں  ہیں اور ہوا کے  نرم نرم جھونکوں  سے  لہرا رہی ہیں۔ اور جنگلی پرندے  اس آزاد فضا میں   چہک رہے  ہیں۔ ایک شاخ سے  اُڑ کر  دوسری شاخ پر بیٹھ رہے  ہیں  پوری فضا پر  ایک  سرور طاری ہے۔ اور اس کا دل مسوس رہا ہے۔ کاش  وہ بھی  اس مینارِ زنداں  سے  نکل کر  آزاد فضا میں  ایک  بار  سانس لے  سکتی، صرف ایک بار!

                                         (۱۹۵۹)