کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کوئی اُمّید کوئی تمنّا

ڈاکٹر ابنِ فرید


سینٹ کینٹربری(St. Canturbury)کے  آہنی جسم میں  اُتر کر میں نے  اپنے  شانوں پرسے  سامان اُتار کر فرش پر پٹخ دیا۔ جہاز کے  اس وسطی عرشے  پر بڑی قنوط انگیز تاریکی چھائی ہوئی تھی، دیواروں میں  کافی فاصلہ پر لگے  ہوئے  برقی قمقموں کی ٹمٹماتی ہوئی روشنی رو رہی تھی اور اندھیرا اور بھی بھیانک ہوتا چلا جا رہا تھا۔ میرے  شانے  اپنا پورا فوجی سامان اتنی دور تک لے  کر چڑھنے  اُترنے  کی وجہ سے  دُکھنے  لگے  تھے، اور میرے  لئے  وہاں کی گھٹی ہوئی فضاء میں سانس لینا تک دُوبھر ہو رہا تھا۔ دوسرے  فوجی اپنے  لئے  نشستیں بنانے  کے  لئے  جلدی جلدی اِدھر اُدھر برتھوں پرسامان پھینک رہے  تھے۔ ایک عجب ہڑبونگ مچی ہوئی تھی۔ میرا دل الجھ رہا تھا۔ وسطی عرشہ بڑا گرم محسوس ہو رہا تھا۔ جہازاُسی وقت چلنے  والا نہیں تھا۔ یہ اور ایک کوفت تھی۔ تاریکی میں  وہ کسی نامعلوم وقت میں  ساحل کو خیر باد کہے  گا۔ تب جا کر کہیں  ہمیں اُوپر کے  عرشہ پر جانا نصیب ہو گا۔ اُس وقت تک یہیں  گھٹتے  رہنا پڑے  گا۔ جس اور تاریکی، تاریکی اور یاس، یاس اور تشنّج۔ اور ایسی ہی نہ معلوم کتنی کیفیتیں  مجھ پر طاری ہو رہی تھیں۔ میں نے  اپنی بے  چارگی کو دور کرنے  کے  لئے  اپنے  کندھوں کو چند ایک بار سہلایا اور پھر اپنے  سامان کی طرف متوجّہ ہوا۔ لیکن اس سے  قبل کہ میں اپنی مدد آپ کرتا۔ سینٹ کینٹربری میں  میرا ساتھی ملِک آن پہنچا۔ اور آتے  ہی اُس نے  میراسامان اپنے  ہاتھ میں  لے  لیا۔

’’ظفری۔ جلدی کرو۔ ورنہ کوئی اور قبضہ کر لے  گا۔ ‘‘

اور میں  بغیر کچھ غور کئے  اس کے  ساتھ ہولیا۔ کیسا قبضہ اور کیسی جلدی؟ میں اُس وقت اس کی وضاحت چاہنے  کے  لئے  بالکل تیّار نہ تھا۔ تاریکی، یاسیت اور تشنّج کی تثلیث میں  جکڑا ہوا میں بالکل  محبوس اور مجبورسا ہو کر رہ گیا تھا۔ ملِک نے  ایک اوپری برتھ پرمیرا بسترپھینک دیا اور سب سے  نچلی برتھ کے  پاس سامان رکھ دیا۔ اور میں  یہ سب کچھ اس طرح دیکھتا رہاجیسے  میری سمجھ میں  کچھ بھی نہیں آ رہا تھا۔

’’ظفری، تمہارے  لئے  یہ اُوپری برتھ بڑی مناسب رہے  گی۔ تم وہاں روشنی کی وجہ سے  پڑھ بھی سکو گے۔ ‘‘

اور میں نے  پہلی بار روشنی کی طرف پُر امّید ہو کر دیکھا، یہاں یاس اور قنوط میں  بھی مجھے  اتنی روشنی مل سکتی تھی کہ میں  اپنے  نہ معلوم کب کے  پُرانے  رسالوں  کا مطالعہ کر سکتا تھا۔ اور اُس وقت کو جو سمندری سفرمیں  الجھن اور اضطراب میں  گزرنے  والا تھا کسی قدردوسری مصروفیت میں  گزرسکتا تھا۔ میں نے  برتھ پر چڑھ کر اپنا بستر لگانا شروع کر دیا اور ایک اضمحلال انداز میں  کچھ نہ کچھ سوچنے  لگا۔ مجھے  یاد نہیں  میں  کیا سوچ رہا تھا، البتّہ اتنا احساس ضرور باقی رہ گیا تھا کہ دھوئیں  کے  لچّھوں اور دائروں  کی طرح  چند خیالات اور تاثرات ضرور میرے  اندر کروٹیں  لے  رہے  تھے۔ اور میں  کسی قدر اکتا رہا تھا۔ چند جھنجھلاہٹیں  مجھ پر طاری ہو رہی تھیں  اور میں اپنی بھوؤں  کو سکیڑ کر پیشانی پر متعدّد شکنیں  پیدا کر رہا تھا۔ میرے  ہاتھ غیر ارادی طور پر کچھ کر رہے  تھے  اور میں  اس میں مصروف تھا۔

’’ظفری آؤ۔ لو، چاء پی لو۔ ‘‘

ملِک نے  مجھ کو آواز دی اور میں اپنی برتھ کونادرست چھوڑ کر اُتر آیا۔ اور اُس سے  مگ (MUG)لے  کر پھیکی اور بدمزہ چاء کے  چھوٹے  چھوٹے  گھونٹ حلق کے  نیچے  اتارنے  لگا۔ میری نظریں  تمام گرد و پیش سے  بے  نیاز نہ معلوم کیا دیکھ رہی تھیں اور میں  عجب بددلی  کے  ساتھ سوچتاچلا جا رہا تھا۔

’’عجب مصیبت ہے!اِس حبس اور گرمی میں رات کیسے  کٹے  گی۔ ‘‘ ملِک نے  کہا۔ میری سوچ کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔

’’کمبخت جہاز بھی جانے  کب چلے  گا۔ ‘‘وہ بڑبڑائے  جا رہا تھا۔

’’ہاں  شاید پچھلے  پہر سے  پہلے  ہم بالائی عرشہ پر نا جاسکیں۔ ‘‘ میں  نے  کھوئے  کھوئے  انداز میں  اس کو مطمئن کرنا چاہا۔ لیکن میرا چہرہ خود ایک بے  اطمینانی کی چغلی کھا رہا تھا۔

’’اتنی دیر تک اس بھٹّی میں  کیسے  رہا جا سکے  گا۔ ‘‘ وہ عجب بے  زار سا نظر آ رہا تھا۔

میری چائے  ختم ہو چکی تھی۔ میں  ملِک کے  روتے  بسورتے  ہوئے  جملوں  سے  اپنے  ذہن کو اور زیادہ کوفت میں  مبتلا کرنا نہیں  چاہتا تھا۔ اس لئے  میں پھر اپنی برتھ پر چڑھ گیا اور اپنا سامان درست کرنے  لگا۔

’’ملِک، اپنا بستر درست کر لو، اب سونے  کا وقت ہو رہا ہے۔ ‘‘

’’اچّھا۔ ‘‘اس کا لہجہ بڑا بے  کسی کا تھا۔

میرے  سرہانے  دیوار میں  لگا ہوا بلب ٹمٹما رہا تھا۔ اور اس کی زرد روشنی دم توڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ وسطی عرشہ کی تاریکی اُس میں  مل کر اور بھی حُزن پیدا کر رہی تھی۔ اور یہ حُزن مجھ  میں غمگینی کو اس قدر اُبھار رہا تھا کہ میں بھی ملِک کی طرح رو دینے  کے  لئے  مجبور ہوا جا رہا تھا۔ اس روشنی میں  جیسے  ایک روکھا پن سا تھا، ایک بے  کیفی سی تھی، بالکل مردہ  مردہ سی، بے  جان سی۔ میں  چند لمحے  تک اس کمزور روشنی کے  منبع کو گھورتا رہا۔ اُس پر ایک بھی پروانہ نہیں  تھا۔ کوئی ادنیٰ سا بھونڈا سا کیڑا بھی اُس کے  شیشے  سے  چمٹا ہوا نہیں  تھا۔ اور آخر وہ کیوں آتا۔ اس کے  لئے  کوئی پابندی اور مجبوری تو نہ تھی۔ یہ روشنی تو ان فوجیوں  کو اپنی برتھوں میں  ٹٹول ٹٹول کرگھس رہنے  کے  لئے  بڑی ہلکی سی دھند میں  سہارادینے  کے  لئے  لگائی گئی تھی۔ یہ تو ان جانوروں  کے  لئے  لگائی گئی تھی جنھیں  مجبوراً اپنی جانیں  بیچ دینی پڑی تھیں۔ اور ان جانوروں  میں  سی ایک میں  بھی تھا۔ میں، جو اس ٹمٹماتی ہوئی روشنی کی طرف ٹکٹکی لگائے  کچھ ڈھونڈھ رہا تھا۔ وہ کیا تھا جسے  پانے  کے  لئے  میں  اس تحت الثریٰ(Hades)میں   اُتر آیا۔

چند نقوش ماضی کے  اس عرصہ میں  میرے  تصوّر میں  تازہ ہو گئے۔ وہ منظر کتنا پُر کشش ہوتا تھا جب شام کے  وقت گاؤں  کے  کچّے  مکانوں  سے  دھواں  اُٹھ اُٹھ کر فضاء میں  تیرنے  لگتا تھا اور دور تک پھیلتا بڑھتا چلا جاتا تھا۔ اور اُفق پر ڈوبتے  سورج کی  شفق دور تک پھیلتی ہوتی تھی۔ پھراُس ہلکی سُرخی میں  چراگاہوں  سے  واپس آنے  والے  جانوروں  کی گھنٹیوں  کی گونج پیدا ہوتی رہتی تھی۔ ان کے  قدموں  سے  اٹھتی ہوئی گرد بڑی ہی پیاری سی دھند میں  تبدیل ہو جاتی تھی جو ان ڈوبتی ہوئی کرنوں کی سرخی سے  رنگین بھی ہو جاتی تھی۔ میں ایسے  وقت چراگاہوں کی طرف بھاگ جایا کرتا تھا اور سب سے  آخر میں آنے  والے  ریوڑ کے  ساتھ واپس آیا کرتا تھا۔ میری جیبیں  کچّی پکّی جھر بیریوں  اور جنگلی کروندوں  سے   بھری ہوتی تھیں۔ پھر جب میں  گاؤں  میں  داخل ہوتا اور جانور اپنے  کھونٹوں  پر باندھ دیے  جاتے۔ تو مجھ پر والد کا  خوف طاری ہونے  لگتا۔ میرا دل اس انوکھی چہل قدمی سے  انتہائی مسرّت محسوس کرتا۔ اور ساتھ ہی ساتھ پیش آنے  والی خفگی ڈنک کی طرح چبھتی رہتی، سورج ڈوب چکتا۔ چمپئی روشنی  تاریکی میں  تبدیل ہو جاتی اور تاریکی گاڑھی پڑ جاتی۔ تب میں  چوروں  کی طرح پنجوں  کے  بل مکان میں  داخل ہوتا اور اچانک والد صاحب سے  مڈبھیڑ ہو جاتی۔ ان کی آنکھوں  سے  ناگواری کا اظہار ہوتا اور وہ مجھ سے  ترش لہجہ میں  پوچھتے :

’’کہاں  تھے  تم؟‘‘۔

میں  اس وقت بالکل گُم صُم ہو جاتا۔ میری سمجھ میں  کچھ نہ آتا۔ کیا جواب دوں ؟بس، خاموشی کے  ساتھ ان کے  سامنے  سے  ہٹ جاتا۔

اور جب ہم کھانا کھا کر اپنے  بستروں میں گھُس جاتے  تو والد صاحب اپنی لائبریری سے  کوئی ضخیم سی کتاب نکال لاتے  اور لالٹین کی زرد روشنی میں پڑھتے  رہتے۔ ان کا یہ مطالعہ کافی دیر تک جاری رہتا۔ ہمیں  اس کی بالکل خبر نہ تھی کہ وہ کب تک پڑھتے  رہتے  تھے۔ ہاں وہ خواہش جو اُس وقت میرے  اندر پیدا ہو جاتی۔ وہ اب تک ذہن میں  تازہ ہے۔ میں بڑے  اشتیاق سے  ان کو مطالعہ کرتے  ہوئے  دیکھا کرتا اور آپ ہی آپ تمنّا کرنے  لگتا کہ کاش میں بھی اُن موٹی موٹی کتابوں کا مطالعہ کر سکتا۔ لیکن یہ تمنّا صرف اُن موٹی موٹی کتابوں کے  لئے  ہوتی تھی، اپنی درسی کتابوں کوتوبس دفن کر دینے  ہی کو دل چاہتا تھا۔ جن کے  تصوّرسے  ہی چاروں طرف چھوٹی بری لال پیلی آنکھیں  رقص کرنے  لگتی تھیں اور ہم ان ابتدائی درسی کتابوں  کو اس طرح کس مپرسی کی حالت میں  چھوڑ کراسکول سے  بھاگ جاتے  جیسے  نعمت خانے  کی طرف بڑھتے  ہوئے  چوہے  کو ایک دم بلّی کا خیال آ جائے۔

میری یہ حرکتیں  کتنی طفلانہ ہوتی تھیں۔ میں  اُنھیں  اس وقت سوچ سوچ کر ہی اس بے  کیفی میں  مسکرا رہا تھا۔ اکثراس اشتیاق ہی کی وجہ سے  میں  والد صاحب کا سردبایا کرتا تھا اور وہ بڑی اچّھی اچّھی کہانیاں  اور نظمیں  سنایا کرتے  تھے۔ وہ نظم کتنی پیاری تھی جس میں  ایک چھوٹی سی لڑکی کا تذکرہ تھا جو میدانِ جنگ میں  زخمیوں کو پانی پلاتے  ہوئے  ماری گئی تھی۔ وہ نظم تو مجھے  اتنی پسندتھی کہ جب والد صاحب مجھ سے  خوش ہوتے  تھے  تو پوچھتے۔ ’’کہو آج کیا سنو گے ؟‘‘ اور میں اسی نظم کا تقاضہ کر دیا کرتا تھا۔ مجھے  رات کا وقت خاص طورسے  بہت پسند تھا۔ اُس وقت تاریکی بھی  بھلی معلوم ہوتی تھی اور لالٹین کی زرد روشنی تو میری نیند میں  گھل مل کر بڑا لطف دیتی تھی۔

مگراُس زرد روشنی میں  بڑی بے  کیفی تھی۔ وسطی عرشہ کی گرمی سے  طبیعت الجھ رہی تھی۔ نیندسے  میری آنکھیں  بالکل محروم ہو چکی تھیں۔ کون ہے  وہ معصوم بچّی جس کا انتظار میں  اس گھٹے  دل کے  ساتھ یہاں کر رہا ہوں ؟۔ میں نے  اپنی جیب سے  اردو کا ایک پرانا رسالہ نکالا اور اُسی زرد دھندلی روشنی میں  اُس سے  خود کو بہلانے  لگا۔ اُس وقت مجھے  الفاظ کتنے  یاس آمیز سے  محسوس ہو رہے  تھے۔ جیسے  اُن کے  کوئی معنی مطلب ہی نہ ہوں۔ بڑی دیر تک میں  یوں  ہی ورق الٹتا رہا اور پھر بد دل ہو کر رسالہ بند کر کے  رکھ دیا اور برتھ پر کروٹیں  بدلتے  بدلتے  سو گیا۔

صبح جب آنکھ کھلی توایسا محسوس ہوا کہ جیسے  برتھ بہت ہی خفیف سے  جھکولے  لے  رہی ہے۔ بس اتنے  ہلکے  کہ صرف ان کا احساس ہی ہو سکے۔ میں  بڑی دیر تک برتھ پر لیٹا ہی لیٹا ان جھکولوں  کا احساس کرتا رہا لیکن اس گھٹن جو میں  سینٹ کینٹربری میں  داخل ہوتے  ہی محسوس کرنے  لگا تھا۔ میرے  اندر پھر عود کرنے  لگی۔ میں  نے  نیچے  جھانک کر ملِک کی برتھ کا جائزہ لیا۔ وہ اُٹھ کر جا چکا تھا۔ شاید بالائی عرشے  کی بوجھل تاریکی صبح ہونے  کے  باوجود دور نہیں  ہوئی تھی اور نہ ہی وہ زرد اداس روشنی ہی گُل ہوئی تھی۔ اُس تاریکی کو چوبیس گھنٹے  مسلّط رہنا تھا اور اُس روشنی کو بھی مسلسل جلتے  رہنا تھا۔ اور میں  ان دونوں  سے  بیزار ہو چکا تھا، اس لئے  میں بھی بالائی عرشے  پر چلا گیا۔ جہاز دریا کے  مشرقی چوڑے  دہانے  میں  آہستہ آہستہ حرکت کر رہا تھا۔ دریا کا پانی کافی مٹیالا سا تھا۔ اور اس میں  جہاز کی حرکت سے  بڑی بڑی لہریں  اٹھ کر دستی کشتیوں  اور ڈونگوں  کو جھنجھوڑے  دے  رہی تھیں۔ لیکن اُن کے  مانجھیوں   پر ذرا بھی خوف و ہراس طاری نہیں  ہو رہا تھا۔ وہ جہاز کو دیکھ کر چیخ رہے  تھے  اور اشارے  کر رہے  تھے  اور جہاز کے  کناروں پر جھکے  ہوئے  فوجی ان کو بڑے  اشتیاق سے  دیکھ  رہے  تھے۔ پیچھے  چھوٹتے  ہوئے  خشکی کے  حصّے  کو وہ بڑی حسرت بھری نظروں  سے  دیکھ رہے  تھے۔ بچھڑتے  ساحلوں کو دیکھ کر میرے  اندر کوئی آبدیدہ ہو گیا۔ ہماری جڑیں  اپنی زمین کو چھوڑ رہی تھیں۔ کیسی یاس انگیز مایوسی تھی!

 میں  نے  چاہا کہ میں  ملِک کو تلاش کر لوں۔ اسی دوران مجھے  پاس ہی سے  دواؤں کی سی کیمیائی بو محسوس ہوئی اور میں نے  ناگواری کے  ساتھ پیچھے  مڑ کر دیکھا۔

’’لِزا۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’ظفری؟۔ کیا تم بھی اسی جہاز سے  چل رہے  ہو۔ ‘‘

’’ہاں!اور تم بھی؟‘‘

’’ہاں، ہاں!‘‘

لیکن ہم میں  سے  کوئی بھی ایک دوسرے  سے  یہ نہیں  پوچھ سکتا تھا کہ کہاں جا رہے  ہو۔ کیونکہ ہمیں  خود یہ بھی تو معلوم نہ تھا کہ ہم جانے  پر تیّار کیوں  ہو گئے ؟۔ البتّہ اس اتّفاقی ملاقات سے  طبیعت کا روکھاپن کچھ کم ضرور ہوا۔ اس لئے  میں  نے  اس سے  کینٹین چلنے  کا مطالبہ کیا۔ فوجی جہاز پر اس سے  بڑھ کر تفریح کی جگہ اور کیا ہو سکتی ہے ؟ ہم دونوں  کینٹین کے  کیبن کی طرف مُڑ گئے۔ ملِک کاؤنٹر سے  ٹیک لگائے  کھڑا چائے  پی رہا تھا۔ اور ہمیں دیکھتے  ہی وہ فرطِ مسرّت سے  چیخ اُٹھا:

’’ملّو!۔ ۔ ۔ لزا تم بھی موجود ہو؟۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ہاں  میری کور بھی چل رہی ہے۔ ‘‘ لزا نے  ایک سرسری سا جواب دیا۔ اور پھر ہم لوگ چائے  پینے  میں  مشغول ہو گئے۔

اب ہم سینٹ کینٹربری میں  تین ایسے  افراد جمع ہو گئے  تھے  جو ایک دوسرے  سے  بہت زیادہ مانوس تھے۔ تینوں  ایک دوسرے  کے  لئے  قابلِ رحم!

جہاز دریا کی پانی کو عبور کر چکا تھا اور سمندرکے  کاہی رنگ کے  پانی میں زیادہ تیز رفتاری سے  چلنے  لگا تھا۔ ہمارے  لئے  تفریح کے  واسطے  صرف تین جگہیں  تھیں۔ ایک کینٹین، دوسرے  تفریحی کمرہ اور تیسرے  عرشہ جہاں سمندرکی ٹھنڈی نمکین ہوا میں  بیٹھ کر ہم پہروں  ساکت و صامت مشتعل پانی کو دیکھتے  رہتے  تھے۔ سمندر کا گہرا نیلا پن  تا حذِّ نگاہ پھیلا ہوا تھا۔ صرف مختلف منازل سی گزرتے  ہوئے  اس کے  مختلف رنگوں  کا تجربہ ہو رہا تھا اور سینٹ کینٹربری کے  چلنے  سے  شور میں اور بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ ہم جنگلے  کے  کنارے  کھڑے  ہوئے  پانی کو بے  مقصد گھورا کرتے  تھے، اُسے  بغور دیکھا کرتے  تھے  جیسے  ہم اس میں  کچھ تلاش کر رہے  ہوں۔ یا شاید یہ بھی نہیں  بلکہ ہمیں  کوئی اور کام نہیں  تھا۔ سطی عرشہ کا  حبس اُس کی تاریکی اور زرد  اُداس روشنی کسی طرح وہاں  ٹکنے  نہیں  دیتی تھی۔ اس لئے  ہم بالائی عرشہ پراہنا وقت بس  یوں  ہی گزار رہے  تھے۔ شاید کوئی اشد ضرورت ہی ہمیں  اپنی برتھ تک لے  جاتی ہو ورنہ آفتاب کی تمازت کے  باوجود ٹھنڈی نمکین بحری ہوا کو چھوڑنے  کے  لئے  ہم تیّار نہ تھے۔ ہمارے  چہروں  کی کھال اس تمازت سے  جھلس چکی تھی اور مُردہ کھال کی پپڑیاں تازہ کھال کے  لئے  اپنی جگہ چھوڑ رہی تھیں لیکن پھر بھی یہ ہمارے  لئے  احتیاط اور تشویش کی بات نہ تھی۔ ہمیں  تشویش ہوتی بھی توکس بات کی؟ ہم اب کہیں  بھی تو نہ تھے۔ ہماری کوئی سمت نہیں  تھی۔ کوئی فرش کوئی عرش نہ تھا۔ بس صرف تا حدِّ نگاہ نیلا پانی اور نیلی فضاء! سورج نکلتا تو اُس سے  کوئی سایہ بھی نہ بنتا!سب کچھ لا وجود!

پورا دن میں نے  عرشے  ہی پرکاٹ دیا۔ صرف کھانا کھانے  میں  (MESS)میں  گیا اور بس پھرآہستہ آہستہ شام آنی شروع ہو گئی۔ مگر یہاں  چمپئی گرد اور دھند کہاں  تھی جو روح کی گہرائیوں  میں  بے  پایاں  فرحت بھر دیتی تھی۔ صرف دور پانی کے  کناروں پر ایک زردی سی نظر آتی رہی اور کچھ عرصے  کے  بعد وہ بھی فنا ہو گئی۔ سورج ایک بے  نام سی شام بنا کر سمندرمیں غرق ہو گیا۔ تاریکی چاروں  طرف چھا گئی۔ بالائی عرشے  پر کسی طرح کی بھی کوئی روشنی نہ کی گئی۔ تمام (Light Posts)میں  سے  برقی قمقمے  نکال لئے  گئے  تھے  اور دشمن کے  خطرہ کی وجہ سے  سگریٹ تک جلانے  کی اجازت نہ تھی۔ اور اس پُراسرار تاریکی میں  جہاز آہنی عفریت کی طرح تیز رفتاری سے  بڑھتا جا رہا تھا۔ اس پُر شور سنّاٹے  نے  مجھ پر اکتاہٹ طاری کر دی اور میں جنگلے  کے  قریب ٹہلتا رہا۔ ملِک نہ معلوم کہاں تھا۔ اور لِزا بھی شاید اپنی کور میں  ہو۔ مجھے  زینے  کے  نزدیک کوئی سایہ محسوس ہوا۔ شاید کوئی کھڑا ہو۔

’’کون ہے ؟‘‘ میں  نے  سوال کیا۔

’’میں ہوں۔ آ جاؤ!‘‘

’’کون لِزا۔ ؟‘‘

’’ہاں، ہاں، آؤ۔ ‘‘

ہم دونوں  جنگلے  کے  قریب چلے  گئے۔ یہ معلوم ہوتے  ہوئے  بھی کہ تاریکی کی وجہ سے  ہاتھ کو ہاتھ دکھلائی نہیں  دیتا۔ پھر  اس وقت مجھے  الفاطبھی ہم دونوں  تاریکی میں  دیکھنے  لگے۔ دوسرے  فوجی بھی ہماری ہی طرح اکتائے  ہوئے  پاس سے  گزر رہے  تھے۔ لِزا جنگلے  پر لٹک کر جہاز کے  زیریں  ترین حصّہ کو دیکھنے  لگی۔

’’ذرا نیچے  دیکھو ظفری!‘‘

’’کیا ہے ؟‘‘۔ میں  نے  نیچے  جھانکتے  ہوئے  سوال کیا۔

’’دیکھتے  ہو پانی کیسا چمک رہا ہے۔ ‘‘

’’جیسے  بہت سے  جگنو تیر رہے  ہوں۔ ‘‘

کھاری پانی کے  شورائی ذرات بے  انتہا رگڑ کی وجہ سے  چمکنے  لگے  تھے۔ ہم انھیں  بڑی دیر تک گھورتے  رہے۔ کیسی چمک تھی! بالکل ہماری بھولی بسری یادوں  کی جیسی۔

’’لِزا تمہیں  اپنا گھر نہیں یاد آتا؟‘‘

’’اور اگر یاد بھی آئے  تو کیا ہو سکتا ہے ؟‘‘  اُس کے  لہجے  میں  بڑی پژمردگی تھی!

کوئی ہم دونوں  کے  درمیان  ہمارے   شانوں  کو تھپک کر کھڑا ہو گیا۔

’’اوہ!۔ ملِک!۔ ‘‘

’’چلو چائے  ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ میں  تم کو کب سے  تلاش کر رہا ہوں۔ لیزا تم بھی چلو۔ ‘‘

وہ ساری رات میں نے  تقریباً آنکھوں  ہی آنکھوں  میں  کاٹ دی۔ مضطرب نیلے  پانی پر فاسفورس کے  ذرّے  جل کر چمکتے  رہے، بجھتے  رہے۔ برابر گھر کی اور اعزّاء کی یاد آتی رہی۔ میں  نے  انھیں  اس لئے  چھوڑ دیا تھا کہ میں اپنی معاش کا  کوئی حل چاہتا تھا۔ لِزا بھی یہی چاہتی تھی۔ ملِک بھی اسی وجہ سے  ہمارے  ساتھ اور ہم محض اتنے  سے  مقصد کے  لئے  اپنے  آقاؤں  کی خشونت کی آگ روشنی رکھنے  کے  لئے  اپنی جانیں  بیچ آئے  تھے۔

ہر وقت ایک عجب بے  کلی اور بے  اطمینانی میں  میں  بالائی عرشے  پر گھوما کرتا۔ پھر خدا خدا کر کے  ایک صبح چند جزیرے  نظر آ گئے  اور جہاز کے  تمام فوجیوں  میں ایک مسرّر ت کی لہر دوڑ گئی۔ ہم لوگ ایک عجیب طفلانہ سی مسرّت کے  ساتھ انھیں  دیکھتے  رہے  اور ساحل پر اترنے  کی جلدی جلدی تیّاریاں  شروع کر دیں۔ میں  نے  اپنی میلی کثیف وردی اتار کر صاف وردی  پہن لی۔ لزا اور ملِک بھی صاف بے  شکن وردی پہن کر آ گئے  تھے۔ لزا کی وردی پر بنی ہوئی آخری  صلیب (RED CROSS) ان کتابوں  کی یاد دلا رہی تھی جو فوجی ہسپتال میں  لِزا ہماری وقت گزاری کے  لئے  لایا کرتی تھی۔ میں  نے  اپنی جیبوں  میں  ٹھنسی ہوئی کتابوں  کو ہراسانی میں  اپنے  ہاتھوں  سے  چھپا لیا۔ کہیں  ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی یہ نشان اُبھر آئے۔ میرا دل خوف سے  بے  طرح دھڑکنے  لگا۔

شاید وہ آخری دن تھا جب ہم عرشے  پر یک جا کھڑے  ہوئے  تھے۔ کیونکہ جلد ہی ہمیں   اپنے  نہ معلوم محاذ پر پہنچنا تھا اور اپنے  فرض کو ادا کرنا تھا۔ لیکن  اُس وقت میں  گزرے  ہوئے  اُس دن کے  بارے  میں  سوچ رہا تھا۔ جب ہم اسی طرح یک جا کھڑے  ہوئے  تھے  اور ہمارے  چہرے  خوف و ہراس کے  ہر تاثر سے  بالکل عاری تھے۔ لِزا کی وردی صاف نہیں  تھی۔ اُس کے  ہاتھوں  سے  دواؤں  کی بو آ رہی تھی اور ملِک کی قمیص کے  بٹن کھلے  ہوئے  تھے  اور لِزا کے  جوتے  کے  بٹن بھی کھلے  ہوئے  تھے۔ میرے  ہاتھ میں  پرانے  رسالے  کے  چند بوسیدہ اوراق تھے  اور فوجی قمیص کی بڑی جیب میں  چند ایک اور پُرانے  رسالے  ٹھنسے  ہوئے  تھے۔ ملِک کا ایک ہاتھ پتلون کی جیب میں  تھا اور دوسرا ہاتھ جنگلے  پر ٹیکے  ہوئے  تھا جس میں  وہ سگریٹ پکڑے  ہوئے  تھا۔ لیکن سگریٹ شاید بجھ چکی تھی۔ چند سرحدی پٹھان دُور بحری سرنگ (Sea Mine) پر نشانہ لگا رہے  تھے۔ ہمارے  دل  منجمد سے  ہو رہے  تھے  اور ہم ٹکٹکی لگائے   ہوئے  اُسی طرف دیکھ رہے  تھے۔

’’اﷲ حفیظ۔!‘‘ میں  نے  ایک گہری سانس لیتے  ہوئے  غیر ارادی طور پر کہہ دیا۔ شاید میرا لاشعور ابھی زندگی  کا متمنی تھا۔ مگر ملِک نے  ایک پُر زور  قہقہہ لگایا۔

’’ظفری۔ ہما ری محافظ تو پٹھانوں  کی نہ بندوقیں  ہیں۔ ‘‘ اُس کے  پُرتمسخر لہجے  میں  کہا۔

لزا نے  بڑے  تعجّب کے  ساتھ  ملِک کی طرف دیکھا اور پھر پٹھانوں  کی گولیوں  کی آواز میں  محو ہو گئی۔ لیکن ملَک کے  اسِ تمسخر کے  مجھے   اس منظر سے  متنفّر کر دیا اور میں  وہاں  سے  چلا آیا۔

جہاز ساحل سے  لگ چکا تھا۔ اور سمندری علالت جو ایک حد تک ہر ایک کو لاحق ہو گئی تھی اب ختم ہوتی جا رہی تھی۔ ۔ البتّہ  میں  ضرور ایک اور اضطراب میں  مبتلا ہو گیا تھا۔ اور وہ تھا محاذ پر پہنچ کر لاشوں  کو روندنا، ان کے  ڈھیر لگانا، اور خود بھی ایک وقت انھیں  لاشوں  میں  شریک ہو جانا۔ مجھے  ساحل کے  آ جانے  سے  کوئی خوشی نہ تھی۔ ہمارے  اس سفر کی کوئی منزل نہ تھی۔ سب کچھ ایک دن اچانک ختم ہو جانا ہے۔ رخصت ہوتے  ہوئے  ہم نے  ایک دوسرے  سے  ہاتھ ملایا اور بے  اتّفاقی کے  ساتھ ایک دوسرے  سے  جدا ہو گئے۔

میرے  ذہن میں  اُس سفر کے  اثرات اب بھی باقی تھے  اور اس عرصہ کی پیدا شدہ قنوطی کیفیت مجھ میں  اب بھی زندہ تھی۔ جو کچھ تھا وہ سب کچھ خود بہ خود ہوتا چلا جا رہا تھا۔ موت آتی کسی نہ کسی کو اپنے  آغوش میں  لیتی اور رخصت ہو جاتی۔ میں  اس کا کہاں  انتظار کرتا؟ تباہ و مسمار بستیوں، جنگلوں، ویرانوں  کو عبور کرتا ہوا میں  آگے  بڑھتا رہا۔ یہاں  تک کہ موت کے  قاصد نے  مجھ سے  ہاتھ ملایا۔ اور میرے  بازو کو بازو کا زہریلا زخم دے  کر چلا گیا۔ مجھے  محاذ سے  واپس ہو کر مرکزی فوجی ہسپتال میں  داخل ہونا پڑا۔

مختلف دواؤں  کی ملی جلی بُو میں  اپنے  ہاتھ کو  سنبھالے  ہوئے  حرارت میں  تپتا ہوا مرکزی فوجی ہسپتال کے  دوا خانہ میں  بیٹھا ہوا تھا۔ ایک نرس میرے  سامنے  سے  گزر کر کاؤنٹر تک گئی اور کسی مریض کے  بارے  میں  کمپاؤڈر سے  گفتگو کرنے  لگی۔ مجھے  اس کی آواز کچھ جانی پہچانی سی محسوس ہوئی۔ لیکن میں  نے  کوئی توجّہ نہ دی۔ مجھے  زہر باد کی تکلیف اور بخار کی تپش نے  ہر چیز سے  بیزار کر دیا تھا۔ مجھے  کسی چیز میں  کوئی دلچسپی نہیں  محسوس ہو رہی تھی۔

’’ظفری؟۔ ۔ ۔ ‘‘

میں  نے  گھوم کر دیکھا۔ یہ تو لِزا تھی۔ اس کے  گال پچک گئے  تھے۔ اس کی تازگی  اُس سے  رخصت ہو چکی تھی۔ کاروان کے  گزر جانے  کے  بعد گردِ کارواں  بنی اب وہ بھٹک رہی تھی۔

’’اوہ لِزا۔ تمہاری صورت تو اتنی بدل چکی ہے  کہ میں  پہچان بھی نہ سکا۔ ‘‘ میں  نے  خفیف ہو کر کہا۔

مگر وہ خاموش رہی۔ وہ سمجھتی تھی اُسے  کچھ کہنا نہیں  ہے۔ اس کی صورت سب کچھ خود کہے  دے  رہی تھی۔

’’ملِک بھی یہیں  ہے۔ ‘‘اُس نے  کچھ دیر خاموش رہنے  کے  بعد کہا۔

’’کیسا ہے  وہ؟۔ ۔ ۔ ‘‘  بجھے  دل سے  میں  نے  پوچھا۔

’’چلو آؤ مل لو‘‘۔ لِزا نے  طنز آمیز مسکراہٹ کے  ساتھ کہا۔

میں  بے  ارادہ اس کے  ساتھ ہولیا اور مریضوں  سے  بھرے  ہوئے  وارڈوں  کے  درمیان سے  گزرنے  لگا۔ ایک عجیب کیفیت مجھ پر  طاری تھی۔ نہ امّید افزا اور نہ اطمینان بخش! کچھ عجب بے  معنی سی بے  بسی!

’’وہ ہے  ملِک‘‘۔ لِزا نے  ایک وارڈ میں  داخل ہوتے  ہوئے  ایک مریض کی طرف اشارہ کیا۔ میں  تیزی کے  ساتھ بے  قرار ہو کر اُس تک گیا۔

’’ملِک۔ ۔ ۔ ؟‘‘

اس نے  بڑی کوششوں  سے  آنکھیں  کھولیں۔

’’میرے  لئے  دعا کرنا ظفری۔ ۔ ۔ ‘‘اور اس نے  پھر آنکھیں  بند کر لیں۔

میں  نے  خود اپنا حوصلہ کھو دیا اور بے  حد متاسّف ہو کر  اس کے  پاس سے   اُٹھ کر چلا  آیا۔ میری آنکھوں  کے  سامنے  اُس ملِک کا پیکر رقص کر رہا تھا جس نے  کبھی  ہار نہ مانی تھی اور جس کے  ساتھ میں نے  بھی جنگ عظیم ثانی کے  بعد مستقبل کے  بڑے  حسین خواب دیکھے  تھے۔

میں  نے  اپنے  زہر آلود بازو کی طرف  دیکھا، شاید اُسے  کاٹ دیا جانا ہے۔ لِزا کا چہرہ بھی بالکل سپاٹ تھا۔ ہم ملے  بھی تو کہاں ملے!

 

                                      (۱۹۵۳ء)