کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

معمولی سی بات

ڈاکٹر ابنِ فرید


اے  کاش وہ اچانک آ جاتا اور میرے  سامنی  ان نوٹوں  کو رکھ دیتا، یا پھر میں  اسے  پہچان  ہی لیتا کہ وہ کون ہے! پھر، پھر تو میں  اس کی گردن دبوچ کر  وہ سو کے  نو نوٹ رکھوا لیتا۔ لیکن ؟ یہ کیسے  ممکن تھا؟ مجھے   کوئی جادو، کوئی عمل بھی تو نہیں  معلوم ہے۔ اور یہ کوفت، یہ خلجان کسی طرح ختم نہیں  ہو رہا ہے۔ اتنی  بڑی  رقم! نو سو روپے! میں  ایک سال میں  بھی ادا نہیں  کر سکتا، کیا ہو گا اب؟ میری ملازمت، میری روزی!

اس کی آنکھوں  کے  نیچے  اندھیرا چھا گیا۔ اس نے  دونوں  ہاتھوں  سے  اپنا سر تھام لیا۔ اور کاؤنٹر پر جھک گیا۔ اسے  ساری دنیا ناچتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ کل رات سے  اس کی یہ ہی کیفیت تھی۔ اس کا سر چکرا رہا تھا اور اس کے  قدم  ڈگمگا  جاتے  تھے۔ اس کے  سینے  کے  اندر ایک آگ سی پھُنک رہی تھی۔ اس کی نس نس چٹخ رہی تھی۔ اور وہ نہ معلوم کیا کچھ ہو گیا تھا۔ آج تک اس نے  اتنا برا صدمہ برداشت نہیں  کیا تھا۔ اتنی بڑی زک نہیں  اٹھائی تھی، مگر اب کیا کرے  وہ؟ دوکان بند کرنے  سے  پہلے  جب وہ اپنے  حسابات کی آخری بار جانچ کر رہا تھا تو نہ معلوم کس خریدار نے  اس کے  ہاتھ میں   سو روپے  کا نوٹ تھما دیا اور اس نے  عجلت میں   اور بے  خیالی میں   دس کی گڈّی  اٹھانے  کے  بجائے  سو کی گڈّی  اٹھا لی اور پھر اس میں  سے  ہی نو نوٹ اور ریزگاری اسے  دیدی، اور اس کا دیا ہوا نوٹ گڈّی میں  لگا دیا۔ دیر زیادہ ہو جانے  کی وجہ سے  اس پر عجلت کا بھوت کچھ اس طرح  سوار تھا کہ اس نے  خریدار کی صورت بھی نہ دیکھی، اور وہ چلا گیا۔

اس حادثہ  کی  یاد کل سے  ہی جب اس نے  دوبارہ رقم جوڑی، گولی  کی طرح سنسناتی  اور برماتی ہوئی کتنی ہی بار اس کے  سینے  کو پار کر چکی تھی۔ لیکن نہ تو اسے  کوئی ایسا زخم کاری لگا تھا کہ وہ وہیں  کا وہیں  ختم ہو جاتا، یا اس کا ہارٹ فیل ہو جاتا۔ اگر ایسا ہو گیا ہوتا تو وہ اپنے  آپ کو بڑا ہی خوش قسمت تصوّر کرتا، مگر وہ تو اب تک زندہ تھا اور وہ رہ کر گذشتہ رات کی ذرا سی چوک دل میں  ٹیس پیدا کر رہی تھی۔ اور اس کے  سینے  سے  ہوک اٹھ رہی تھی۔ وہ کیا کرے ؟۔ جانے  کیا کرے ؟

بس ایسے  ہی کچھ نہ کچھ کرنے  کو اس کا دل چاہتا تھا۔ جس سے  گزرا ہوا  حادثہ خوش بختي میں  تبدیل ہو جائے۔ مگر اس کی سمجھ میں  نہیں  آ رہا تھا کہ یہ کیوں  کر ہو سکے  گا۔ اس نے  سوچا لاؤ بھاگ جاؤں  کون پتہ پائیگا میں  کدھر گیا، کہاں  ہوں ؟ لیکن  بیوی، بچّے، والدین؟ اور اس کے  پیروں  میں  بیڑیاں  پڑ گئیں۔ میں  چلا جاؤں  گا تو ان کا  کیا ہو گا؟ اور پھر اگر  کسی نے  کہیں  سے   مجھے  ڈھونڈ ہی نکالا تو پھر اس کے  بعد کیا ہو گا؟۔ وہ تھرتھرا اٹھا۔ اس کے  گھٹنے  لرزنے  لگے۔ اس نے  سوچا  لاؤ دریا میں  چھلانگ لگا کر جان دے  دوں۔ تیرنا تو مجھے  آتا نہیں، ڈوب بہر حال جاؤں  گا۔ اس خیال نے  دل میں  ایک ذرا سی طمانیت پیدا کر دی اور وہ مکان سے  نکل کر گلی میں  آ گیا۔ میونسپلٹی  کے  بجلی کے  کھمبے  کی روشنی گل ہونے  کی وجہ سے  اندھیرا تھا۔ بس ایسا ہی سکون اسے  محسوس ہوا جیسا کہ گل شدہ بجلی کا بلب محسوس کر رہا ہو گا۔ خودکشی کے  بعد  تمام دکھ ماضی کے  اندھیرے  میں  گم ہو جائیں  گے۔ اور پھر کچھ بھی باقی نہ رہے  گا۔ کچھ بھی نہیں! اسے  ایسا لگا جیسے   سینے  کے  اندر کی خلش یکایک گہرائیوں  میں   ڈوبنے  لگی ہو۔ ہاں  ایسے  ہی اس کی لاش بھی دریا کے  گہرے  اور  آہستہ  رو پانی  میں  ڈوبتي چلی جائے  گی۔ اور کوئی اس سے  نو سو روپے  وصول نہ کر سکے  گا۔ وہ بڑی طمانیت کے  ساتھ گلی سے  نکل کر سڑک پر آیا۔ جگمگاتی ہوئی روشنی نے  اس کی آنکھوں  میں  چکا چوند کر دی۔ اس نے  اپنی آنکھوں  کو  ہتھیلیوں  سے  رگڑا۔ پیچھے  بالکل ہی قریب کسی موٹر نے  ہارن دی، وہ اچھل پڑا، اس کا دل تیز رفتاری سے   دھڑکنے  لگا۔ اُف کود کر وہ فٹ پاتھ پر ہو رہا، روشنی کے   دو تیز بہتے  ہوئے  دھارے  اس کے  سامنے  سے  نکل گئے  اور وہ اپنے  تیز دھڑکتے  ہوئے  دل کو تھامے  کھڑا رہ گیا۔ زندگی، موت، خودکشی، دریا، موجیں  اور دھڑکتا ہوا دل:۔ دریا کا آہنی پل، اندھیرا اور سنّاٹا اور سنّاٹے  میں  ہیبتناک لہریں  مارتا ہوا  پانی! اس کی پیشانی پر پسینے  کے  قطرے  چیونٹی کی طرح رینگنے  لگے۔ اس نے  گھبراہٹ میں  مڑ کر دیکھا۔ پان والا بڑے  انہماک کے  ساتھ پانوں  پر کتھّا چونا لگا رہا تھا۔ اس نے  بڑی عافیت سی محسوس کی، بڑھ کر ایک سِگرٹ خریدا۔ اور ایک پان منہ میں  رکھا۔ لیکن سِگرٹ کا کش لگاتے  اور پان کی پیک نگلتے  ہی جیسے   وہ نو سو روپوں  کی گمشدگی کا دکھ کسی بند فوّارے  کی طرح  دوبارہ  اُبلنے  لگا اور زندگی  کے  خاتمہ کا خیال ترک کر کے  ایک بار پھر  حسرت و یاس  میں  غرق ہو گیا۔ اور ہاں، اسے  اپنے  بیوی، بچّوں  اور والدین کا بھی تو خیال آ گیا تھا۔ اور وہ غم کے  عالم میں  سر جھکائے  ہوئے   گھر واپس آ گیا۔

یہ گزری رات کا واقعہ تھا اور اس واقعہ کے  بعد سے  (جو درحقیقت کوئی واقعہ نہیں  بن سکا تھا) اس نے  کتنی ہی بار گڑ گڑا کر دل سے  دعا مانگی کہ اے  اﷲ میاں، اے  میرے  پروردگار (جسے  یاد کرنے  کی مہلت اسے  کبھی نہیں  ملی تھی) تو ہی کسی نہ کسی طرح اس گھڑی کو ٹال دے۔ رات بھر کتنی ہی بار  عجب مسکینی سے  تارے  گنتے  گنتے  وہ  بستر پر اٹھ کر بیٹھ گیا اور تکئے  پر سجدے  کر کے  اس نے  التجا کی۔ لیکن  نہ کوئی شعلہ لپکا، اور نہ کوئی معجزہ ہوا۔ اس کے  ضمیر نے   اس کی اس خود غرضی پر اس کا تمسخر بھی  اڑایا۔ لیکن وہ عجب عجب حرکتیں  کرتا رہا۔ کتنی ہی بار اس نے  اپنی تکیہ کے  نیچے  یوں  ہی کسی ایسی چیز کو ٹٹولنا بھی چاہا جو نو کاغذ کے  کھڑکھڑاتے  ہوئے  ٹکڑوں  کی شکل میں  ہو۔ مگر مایوسی کے  سوا کچھ بھی میسّر نہ آیا۔ ساری رات اس نے  بڑے  اضطراب میں  کاٹی، اور اب  یہ سارا دن بھی انتہائی میں  گزر رہا تھا۔

جتنے  بھی خریدار  صبح سے  آئے، اس نے  ہر ایک کی صورت کو بڑے  غور سے  دیکھا۔ شاید کسی کی کسی ادا سے   وہ پہچان سکے  کہ نو سو روپوں  کا غاصب وہی ہے، یا پھر شاید کسی کی جیب سے  وہ نو  نوٹ جھانکتے  ہوئے  نظر آ جائیں۔ لیکن اسے  کامیابی نہ ہوئی۔ اس نے  ہر نوٹ کے  نمبر اور شکنیں  غور سے  دیکھیں  کہ شاید  ان سے  ہی کوئی سراغ مل  جائے۔ لیکن اس طرح  بھی  کوئی امّید کی کرن  نہ پھوٹی۔ اس نے  اب تک نوٹوں  کی گم شدگی کا راز فاش نہیں  کیا تھا، کیونکہ غلطی اس کی ہی تھی، اور پھر دوسری حماقت اس سے  یہ بھی ہو گئی تھی کہ اس نے  نوٹوں  کے  نمبر بھی  درج نہیں  کئے  تھے۔

جیسے  جیسے  دن گزرتا جا رہا تھا اسے  اپنے  دکھ کے  ساتھ اپنی  حرکتیں  بھی یاد آتی جا رہی تھیں۔ اور وہ عجب شش و پنج کے  عالم میں   گرفتار ہوتا  چلا جا رہا تھا۔ اس نے  بھی تو کتنی ہی بار اسی طرح کی کتنی ہی رقمیں  اپنے   ڈب میں  کر لی تھیں، اور پھر جب کوئی اس تک پوچھتا ہوا آیا تو اس نے  صاف انکار کر دیا اور لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ کتنی ہی بار اس نے  ذرا سے  حساب کے  ہیر پھیر سے  دوچار روپے  اپنے  لئے  بنا لئے، مگر یہ چوٹ جو اسے  پڑی تھی یہ تو بہت بڑی تھی۔ کبھی اس کے  اندر سے  کوئی کہتا: کہ پا گیا تو اپنے  کئے  کا بدلہ! اور کبھی وہ خود کو سمجھاتا! اب آئندہ کے  لئے  توبہ!۔ اس  نے  خیال ہی خیال میں  کئی بار اپنے  کانوں  کو بھی  مروڑا مگر وہ نو سو روپے  اسے  نہ مل سکے۔ پھر وہ تصوّرات کے

 تیز دھارے   میں  بہنے  لگا۔ کبھی اس کے  ہاتھ میں  تیز قینچی ہوتی اور وہ کسی بھاری سی جیب کو  کتر رہا ہوتا۔ کبھی وہ ریوالور لئے  ہوئے  کسی کو لوٹ رہا ہوتا۔ کبھی  وہ کسی کے  ہاتھ سے   موٹا سا پرس چھین کر پر  بیچ گلیوں  میں   بھاگ رہا ہوتا۔ مگر اس کے  پیچھے  خدشات، خطرات، ناکامی اور بدنامی کا خوف بھی تالیاں  پیٹتا ہوا دیوانے  کی طرح  دوڑائے  پھر رہا ہوتا۔ اور  اس افراتفری، اس خیالی حماقت اور ناممکن آرزو نے   بھی اس کے  غم کا مداوا نہ کیا۔

ہر طرح کے  خیالات  اور حسرتوں  سے  اکتا کر وہ بالکل نا امّید ہو چکا تھا، بار بار وہ اپنی انگلیوں  کو چٹخا رہا تھا، اپنے  خشک ہونٹوں   کو چاٹ رہا تھا، اپنی دھندلائی  ہوئی  آنکھوں   کو جھپکا رہا تھا، کہ  اس کے  ہونٹ  کپکپانے  لگے، روزی کا خطرہ بھیانک دیو کی طرح اس کی گردن دبوچ رہا تھا۔ اس نے  چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رونی  لگے، اس نے  اپنا سر کاؤنٹر پر رکھ دیا، اور ہلکی ہلکی  سسکیاں   بھرنے   لگا۔

’’اے  منشی کیا کرتا، گاہک نہیں  دیکھتا‘‘۔ سیٹھ غرّایا۔

اس نے   پیچ و تاب  کھا کر سر اٹھایا، سامنے   گاہک کھڑا ہوا تھا، لیکن  وہ اپنی جذباتی کیفیت کی وجہ سے   اس کی شکل  بھی دیکھنا نہیں  چاہتا تھا۔ اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ وہ اس  کا منہ نوچ لے۔ بڑا آیا ہے  وہاں  سے  گاہک بن کر! ایسا ہی تو وہ بھی تھا جس نے  ا اس کو اتنے   بڑے  عذاب میں  مبتلا کر دیا تھا۔ وہ بھی تو ایک گاہک تھا جس نے  ہر حال میں  اس کی روزی کے   دروازے  اس پر بند کر دیے۔ اس کے  سینے  میں  بخار سا اٹھنے  لگا۔ اس کی نسوں  میں  تشنّج سا ہونے  لگا، اس کی آنکھوں  میں  سُرخی سی دوڑنے  لگی۔

’’کیا چاہئیے  ؟‘‘ اس نے  پاگل کتّے  کی طرح  تقریباً چیخ کر کہا۔

’’کچھ نہیں! بس یہ دینا ہے!‘‘

گاہک نے  مٹّھی کھول کر  کاؤنٹر پر رکھ دی اور مسکرانے  لگا۔ اس کی آنکھیں  حیرت سے  پھٹی رہ گئیں، اور اس کا دل وفورِ مسرّت سے  دھڑکنے لگا۔

سوسو  روپے  کے  نو نوٹ!۔ اس نے  جھپٹ کر نوٹ اٹھا لئے  اور گننے  لگا پورے  نو تھے۔

۔ ۔ ’’کل رات میں  نے  نوٹ لے  کر جیب میں  رکھ لئے  اور غور ہی نہیں  کیا۔ آج دن بھر مجھے  ضرورت ہی نہیں  پڑی۔ مگر اس وقت جب جیب میں  ہاتھ ڈالا تو یہ نوٹ نکلے۔ بڑی الجھن ہوئی مجھے! پہلی بس سے  بھاگ کر آیا ہوں  کہ آپ کی چیز آپ کو واپس کر دوں۔ معاف کیجئے  بری زحمت  ہوئی آپ کو!‘‘۔

کیا اس نے  بھی کبھی ایسا کیا تھا؟ کوئی اس کے  باطن  میں   قہقہے  لگا رہا تھا۔

’’میرے  باقی پیسے  واپس کر دیجئے ‘‘۔ گاہک بولا۔ ‘‘

’’اوہ معاف کیجئے، وہ جلدی جلدی  دس کے  نو نوٹ گننے  لگا۔ لیکن پھر اس کے  دل میں  کچھ خلش ہوئی۔ کسی بات نے  اسے  گدگدایا، اس نے  مسکرا کر گاہک کی طرف دیکھا۔

’’آپ اگر یہ نوٹ واپس نہ کرتے  تو کون پکڑ پاتا آپ کو؟‘‘

گاہک نے  اپنی شہادت کی انگلی اٹھا کر اوپر اشارہ کیا۔

’’وہ، وہ سب  کو پکڑ لیتا ہے!‘‘ گاہک بدستور مسکرا رہا تھا۔

اس نے  چاہا  وہ گاہک کا ہاتھ چوم لے  اور آنکھوں   سے  لگا لے، کہے  ؟ ’’تمہارا خدا کتنا اچھّا ہے۔ اس نے  تمھیں  انسان بنا دیا۔

گاہک ریزگاری اور نوٹ لے  کر مسکراتا ہوا  چلا گیا، اور وہ حیرت اور اشتیاق کے  عالم میں   اسی رُخ  ٹکٹکی باندھے  احمق سا تکتا رہا جدھر گاہک گیا تھا۔

                                      (۱۹۵۶ء)