کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مَدفون زندہ مٹّی

ڈاکٹر ابنِ فرید


اس نے  کھڑکی کھولی تو چاندنی فرش پر بچھ گئی۔ بسترپراپنی دودھیائی چادر تان کر سورہی۔ اس نے  کھڑکی کی دہلیز سے  اپنی کمر ٹکا کر، اپنے  بازوؤں  کا سہارالے  کر چاندنی کی منجمد فضا میں  دیکھا۔ دیکھنا چاہا، روپہلی کرنیں  پُراسرار خاموشی کے  ساتھ  اس کی پشت سے  ہو کر کمرہ میں  حیرت زدہ سی  داخل ہو رہی تھیں۔ اور ان کرنوں  میں وہ ایک معصوم سا بچّہ اپنے  فرشتہ والے  نازک پروں  کے  سہاری رقص کرنے  لگا۔ اس نے  اپنی چٹکی میں  کچھ پکڑنا چاہا۔ شاید وہ کوئی لمحہ ہوبچّہ ٹھٹھری سہمی ہوئی چاندنی میں   تحلیل ہونے  لگا اور ٹھنڈی کرنیں  سیمیائے  دھند میں  تبدیل ہونے  لگیں۔

اس نے  بچّے  کو اپنے  بازوؤں  میں  اُٹھا لیا۔ سب کچھ بے  شناخت سا تحلیل ہونے  لگا۔ سیمیائی غبّار گہرا ہونے  لگا اور گہرا ہو کر پھر چھٹنے  لگا۔ ایک نوعمربھولابھالالڑکاہنسوں  کے  جوڑے  کے  پیچھے  دوڑا۔ ہنسوں کاجوڑاسُست رفتاری کے  ساتھ اڑنے  لگا۔ وہ ان کا پیچھا کرتا رہا۔ ہنسوں کا جوڑا بے  پروا اڑتا رہا۔ بھوُڑی کی سفید بالیاں اور دوب کے  پیلے  پھول اس کے  پیروں  تلے  دبتے  مچلتے  اور لہراتے  رہے۔ لیکن وہ آسمان کے  نیلے  سمندرمیں بازوؤں کے  بادبان پھیلاتے  ہوئے   اڑتے  ہنسوں کے  جوڑے  پر اپنی نظریں  جمائے  بھاگتا رہا۔ وہ دونوں اب ندی پار کر کے  دوسرے  کنارے  کے  آسمان میں بے  فکری کے  ساتھ پرواز کر رہے  تھے۔

ندی کے  بیچ میں آ جانے  کی وجہ سے  وہ ٹھہر گیا۔ وہاں ببول کا خمیدہ درخت پانی میں  اپنی شاخوں کی انگلیاں  ڈبوئے  ہوئے  نہ معلوم وقت کے  کن خزانوں کو ٹٹول  رہا تھا۔ اور ہلکی ہلکی لہریں، بے  نیازی، اپنی زلفوں میں  شانہ کراتی  ہوئی ان بھیگی ہوئی شاخوں کے  درمیان سے  گزرتی جا رہی تھیں۔ ندی کے  پانی میں  اسے  اپنا لہراتا ہوا عکس نظر آیا۔ شرم سے  اس نے  اپنی نظریں  جھکا لیں۔ اس کے  گالوں  میں  گدگدی سی ہونے  لگی۔ وہ کچھ اور جھینپ گیا۔

اگر وہ اپنے  عکس سے  نظریں  ملاسکتاتو وہاں بھی نرگس(نہیں  نیلوفر) کے  پھول کھلتے۔ لیکن بہتے  پانی میں  کنول نہیں  کھلا کرتے۔

اس بھولے  بھالے  لڑکے  نے  مڑ  کر اپنے  چاروں طرف دیکھا۔ وہ ڈھلتی دھوپ بھی بڑی پُراسرارتھی۔

اس نے  پھر مڑ کر ندی کی طرف دیکھا۔

اس کا عکس پھر جھینپ کر مسکرایا۔

اس نے  پھر جھجھک کر نظریں  نیچی کر لیں۔

پھر کوئی پھول نہ کھِلا۔ نہ نرگس نہ نیلوفر!

چاندنی کی بے  شکن دودھیائی چادر پھیلی رہی۔ رات نے  دھُندلی روشنی میں سفرکیا اور پھیکی پڑتی چلی گئی۔ اور پھر تھک کر ٹھہر گئی، سُستانے  لگی۔ شاید اس کے  بعد پھر کوئی نیاسفرشروع ہو۔

اموا کی ڈال پے۔ ۔ ۔

کوئلیا کوکت رے۔ ۔ ۔

جیرٔامرا دھڑکت رے۔ ۔ ۔

بے  فکرسی گدگدی ہریالے  پیڑوں میں الجھ کر بج اٹھی، اُس نے  ہاتھ بڑھایا، شاخ لچک گئی وہ پھراُس شاخ تک گیا، وہ پھر لچک گئی۔ اس نے  پھر پیچھا کیا۔ شاخ لچکی، قہقہہ بے  قرار ہو کرگھاس کے  فرش پر اپنے  ترنّم کے  ساتھ لڑھکتا چلا گیا۔ اس نے  اس خوشبو کو سمیٹنا چاہا۔ لیکن چاندنی تحلیل ہو گئی اور کرنیں  سیمیائی دھُند میں  تبدیل ہو گئیں۔

پھر وہ دھُوپ میں آ گیا۔ ہر چیز بے  حد روشن تھی۔ اس نے  اپنے  لبوں  کو سمیٹ لیا(یہاں مَیں ہون، اور میرے  سامنے  چمکتی دھُوپ، مجھے  اپنا راستہ صاف نظر آ رہا ہے )۔ اور وہ پورے  اعتماد کے  ساتھ قدم بڑھاتا ہوا چلتا رہا۔ (اورتمہاراسایہ؟ نہیں وہ میرے  آگے  نہیں ہے!میں نے  اسے  اپنے  پیچھے  چھوڑ رکھا ہے )۔ وہ راستہ تو بالکل صاف سیدھا تھا۔ وہ بڑے  سکون کے  ساتھ لبوں پرہلکاساتبسّم لیے  قدم قدم آگے  بڑھتا رہا۔

لیکن۔ ۔ ۔

کیا یہ راستہ مڑسکتا ہے ؟

اور راستہ الجھ گیا۔ چھوٹی چھوٹی بہت سی پگڈنڈیاں اُبھر کر راستہ سے  الجھ گئیں۔ خاردار جھاڑیوں نے  راستہ کو تنگ کر دیا۔ اس نے  انھیں  ہٹا کر راستہ بنانا چاہا۔ انگلیاں  لہولہان ہو گئیں۔

تب، جب وہ شام کے  غم دیدہ جھٹپٹے  کو عبور کر کے  اپنے  گھر پہنچا تو جھینگروں  نے  خوش آمدیدکاسازبجایا، لیکن اس کے  پاس آتے  ہی، نہ جانے  کس خوف سے، خاموش ہو گئے، ایک دم خاموش!چاندنی نے  ڈیوڑھی میں  داخل ہونا چاہا(شاید اس کے  لیے  اندھیرا دور کرنے  کی خاطر) لیکن ایک قدم آگے  بڑھ کر سہم کر ٹھہر گئی۔ پھر جب وہ ڈیوڑھی کا اندھیرا پار کر کے  گھرکے  اندر آیا۔ اپنے  ہی گھرکے  اندر!۔ ۔ ۔ توسب نے  بڑے  اچنبھے  کے  ساتھ اس کی طرف دیکھا۔ وہ چپ تھا۔ سب ہی چپ تھے!ان سب کی آنکھوں میں کوئی سوال تھا۔ وہ سوال بہت اچّھی طرح سمجھتا تھا۔ لیکن اس کا جواب اسے  نہیں  مل رہا تھا۔

وہ جواب کہاں ہے ؟

چاندنی نے  کہا۔ ’’آؤ تم ساتھ میرے  چلو۔

چل کے  ہم!

زندگی کے  نشیب و فراز اپنی آنکھوں  سے  دیکھیں۔ ‘‘

اس کے  خشک لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔

اچّھا!تم میں بھی یہ امنگ ہے ؟

وہ سوئے  ہوئے  درختوں، پھوس کی غافِل جھاڑیوں کے  درمیان سے  گزرتا رہا۔ کچّے  مکان اپنے  دروازوں  کے  پپوٹے  بند کئے  ہوئے  بڑی گہری نیند میں کھوئے  ہوئے  تھے۔ ان کے  درمیان لپٹی ہوئی کچّی گدرائی ہوئی گلیاں (انگڑائی نہیں!) کروٹ بھی نہیں  لے  رہی

 تھیں۔ اونگھتے  ہوئے  کتّوں نے  اس کے  وجود کی تصدیق کی۔ لیکن اس کے  بے  منزل قدموں نے  انھیں  نہیں  پہچانا۔

خاصی منزل طے  کرنے  کے  بعد وہ کھلے  آسمان کے  نیچے  خودرَوگھاس پر لیٹ گیا۔ اس نے  دونوں  ہتھیلیوں کوسرکے  نیچے   رکھ کران کا تکیہ بنا لیا۔ چاند اوپر وہاں ہنس پڑا۔

اچّھا تو تم یہاں پڑے  ہو!

لیکن میں  اب بھی/پھر بھی معلّق نہیں ہوں۔

چاندنی ان دونوں کے  بیچ میں آ گئی، اسے  سیمیائی چادر اُڑھا دی اور اس کے  پاس ہی بیٹھ گئی۔ پھر وہ ٹکٹکی باندھے  ہوئے  خلاء میں  تکنے  لگا۔ چاندنی نے  اس کی آنکھوں کو اپنی ہتھیلی سے  ڈھک دیا۔ لیکن وہ آنکھوں کے  سہارے  کے  بغیر بھی دیکھتا رہا۔

وہ نوجوان مجسّم سوال بن کرسامنے  کھڑا ہو گیا۔ آخر میرا قصور کیا تھا؟۔ ۔ ۔  جلے  ہوئے  مکانات، جھلسی ہوئی گلیاں، جلی ہوئی لاشیں اور ہیبتناک سنّاٹا!۔ وہ اجڑے   لٹے  ہوئے  ملبے  میں برابر کچھ تلاش کرتا رہا؟ہونٹوں پر خشک پپڑیاں  چٹخنے  لگی تھیں۔ تھکن سے  عضو عضو دکھ رہا تھا۔ اور اندر دل شکستہ سفینے  کی طرح ڈوبتا جا رہا تھا۔ اچانک وہ مجھے  مل گیا۔ وہ جسے  وہ ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ بیلے  کے  سفید خوشبودار پھولوں کے  درمیان سبزپتّیوں کے  سائے  میں پڑا ہوا تھا۔ اس نے  اطمینان کے  ساتھ آنکھیں  بند کر رکھی تھیں۔ اس کے  لبوں کے  داہنے  گوشے  پر خون کا ایک قطرہ لرز کر جم گیا تھا۔ وہ فرشتوں والے  نازک پروں  کا معصوم بچّہ اس سوال کا جواب تھا۔

تو اے  میرے   بے  قصور فرشتے۔ تم اتنے  معصوم کیوں ہو؟

(کیا یہ  پھر کوئی سوال تھا؟)

بھیڑیے  اپنے  خون سے  لتھڑے  ہوئے  جبڑوں کو چاٹتے  ہوئے  دہکتے  شعلوں  کو بھڑکاتے  ہوئے۔ اگلی آبادی کی طرف بڑھ گئے  تھے۔ وہاں بھی وہی بچّے، وہی مائیں، وہی الّھڑ جوانیاں۔ اور ڈوبتے  بڑھاپے  وہی سوال لیے  منتظر تھے۔ شاید انھیں  جواب چاہئیے  تھا۔ یا شاید وہ مجسّم سوال بننا چاہتے  تھے۔ ہوا کا ایک تیز جھونکا چاندنی رات کے  سکوت کو درہم برہم کرتا ہوا اس کی سانسوں سے  الجھ گیا۔ (اوہ، جلتے  ہوئے  گوشت کی تیز بو نا قابلِ برداشت ہو گئی ہے ) لیکن وہ اس ہواکیدست رس سے  دور ہونے  میں  کامیاب نہیں  ہو رہا تھا۔ (تو کیا تم بھاگ کر پناہ چا ہو گے )۔ اس کا دم گھٹنے  لگا۔ بے  تاب ہو کروہ اٹھ بیٹھا، چیخیں، بین، فریاد کی صدائیں بلند تر ہوتی جا رہی تھیں۔ (تو کیا تم اپنے  دل کو منجمد نہیں کر سکتے ؟) کنول، کنول!خون کے  دریا میں کنول نہیں  کھِلا کرتے۔ (تو کیا تم اپنی  رگوں میں خون کا بہاؤ روک نہیں سکتے ؟)

اس نے  چاندنی کا ہاتھ اپنی آنکھوں پرسے  ہٹا دیا۔ اور اس سمت چل دیاجدھرسے  جلے  ہوئے  گوشت کی بو فریاد بن کر آ رہی تھی۔ دیواریں  زمین بوس ہو چکی تھیں۔ دروازے  کو ر دیدہ، آتش زدہ، اجڑے  ہوئے  کھڑے  تھے۔ زندگی مختلف پیکروں میں  بکھری ہوئی کٹی پھٹی، جلی جھلسی، ملبے  میں  دبی، آسمان کے  سامنے  عریاں اور فگار پڑی ہوئی تھی۔ اس نے  وہاں بہت تلاش کیا مگر آم کی شاخوں پر بور نہیں  تھے۔

تو کیا تم سمجھتے  ہو کہ تمہاری شناخت اب بھی باقی ہے ؟

اس نے  پلٹ کر بے  رُخی سے  جواب دیا:

نہیں!میں اپنی شناخت کبھی بھی ختم نہ ہونے  دوں گا!

تب آم کے  اجڑے  ہوئے  درخت نے  کہا:

تو کیا تم بستی میں  سے  ہو کر نہیں آئے  ہو؟وہ سب شناخت کے  شکار تھے!

(روشنی شہر کے  بام  و در کو جگاتی رہی۔

سایہ تاریک گلیوں میں  سہما ہواسو گیا۔ )

نہیں، میں سایہ کی طرح سونا نہیں  چاہتا۔

اور وہاں سب کو ان کی شناخت کے  ساتھ جگانے  اور دوبارہ اپنی مسرّت کے  ساتھ اپنے  گیت گانے  پراکسانے  لگا۔

دیکھو، وہ ہمارا پیارا پیارا چاند نمودار ہوا۔

ان وادیوں کے  عقب سے۔

جہاں تاریکیاں بستی تھیں۔

ہمارا چاند ہمارے  لئے  روشن ہوا۔

آؤ ہم شکر ادا کریں!

تاریکیاں ایک دن چھٹ کر رہیں  گی۔

’’تو کیا تم کو مُجھ سے  محبّت ہے ؟‘‘ان سب نے  ایک آواز ہو کر کہا: ’’کیوں  نہیں، کیوں نہیں!‘‘۔ ۔ ۔ ’’تو پھر مجھے  بھی تم سے  محبّت ہے!‘‘ درختوں کی ڈالیاں مست ہو کر جھومنے  لگیں۔ بلبل نے  جھُک کر گلاب کو بوسہ دیا۔ وہ کِھل اُٹھا۔ اور بلبل بسیط فِضا میں رقص کرتی ہوئی پرواز کرنے  لگی۔ مختلف اور متنوع زاویے  غیرمحسوس طور پر فِضا پر بنتے  چلے  گئے۔

لیکن محبّت میں اور ان میں  اتنا فاصلہ حائل ہو گیا کہ وہ بس دائرے  کے  حاشیے  پر اپنے  نام کی شناخت کے  ساتھ چکّر کاٹتے  رہے۔ اسے  اُن کی کم ہمّتی اور بے  شعوری پر بے  حد ترس آیا۔ لیکن انھوں نے  اسے  اپنوں میں  سے  نہ جانا۔ (تم اس طرح بے  بسی کے  لہجے  میں کیوں بات کرتے  ہو!) اس نے  ایک گہری سانس لی تاکہ دل کا بوجھ ہلکا ہو۔ اور ان کے  پاس سے  آگے  بڑھ گیا۔

اس نے  چاندنی کی چادر اپنے  سینے  تک کھینچ لی اور تکیہ سے  ٹیک لگا کر اپنے  خیالوں میں کھویا رہا۔ وہ سیمیائی دھند اب  کثیف غبار میں تبدیل ہو چکی تھی۔ عجب دم گھٹا دینے  والا ماحول تھا۔ ہر شکل مسخ سی، دھندلائی ہوئی، نظر آ رہی تھی۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا لیکن پھر بھی کچھ دکھائی نہیں  دے  رہا تھا۔

چاندنی آنکھوں میں  چبھنے  لگی۔ اس نے  جھنجھلا کر، اٹھ کر، کھڑکی بند کر دی۔ چاندنی بجھے  دل کے  ساتھ رخصت ہو گئی اور تاریکی نے  اپنے  ہول کو کمرے  کے  محبوس خلاء میں اُچھال دیا۔ خلاء اور بھی زیادہ بوجھل ہو گیا۔ گھٹتا ہوا اندھیرا افسردگی اور مایوسی کو پروان چڑھانے  لگا۔ کتنی بھیانک شکلیں  تھیں وہ جن کی کالونچ کے  بڑھنے  سے  دِل ڈوبنے  لگتا تھا۔

پھر وہ دروازہ بھی بند ہو گیا۔ اور منزلوں اوپرسے  سیڑھیاں  اُسے  لڑھکاتی ہوئی لائیں  اور زمین کے  فرش پر پٹخ گئیں۔ ۔ ۔ اپنی شناخت کے  ساتھ تم ہماری بلندیوں  پر نہیں ٹھہرسکتے!

ایک اور دروازہ اس کی پشت پر دھڑاکے  کے  ساتھ بند ہو گیا۔ حقارت اور نفرت سے  دہکتی ہوئی آنکھیں  اور گرجتی ہوئی آوازیں  اسے  زخمی کر گئیں۔ تم اندر تب ہی آؤ گے  جب تم اپنی شناخت مٹا دو گے!

اس نے  برآمدے  میں  قدم رکھا ہی تھا کہ تمسخرآمیزقہقہوں نے  اس کے  قدم اکھاڑ دیے۔ ان میں  سے  کوئی بھی اسے  گوارا کرنے  کے  لئے  تیّار نہیں  تھا۔ تم اور اس شناخت کے   ساتھ؟تم نے  یہاں آنے  کی جرأت کیسے  کی؟

وہ ایسے  بہت سے  ایوانوں سے  نکل کرسڑک پر آ گیا۔ لوگ اس کے  پاس سے  گزر رہے  تھے، اس کے  سامنے  سے  آ رہے  تھے۔ اس کے  پیچھے  بھی چل رہے  تھے۔ لیکن ان کی سانسوں  کی گرمی اس نے  نہیں  محسوس کی، وہ اسے  دیکھتے  تھے  اور گزر جاتے  تھے۔ وہ سب ایک دوسرے  کے  پاس سے  یوں  ہی گزر رہے  تھے۔

صبیح و ملیح و حسیں  چہرے  اب

کرخت آہنی سے  نقاب اوڑھ کر

معاً اجنبی بن گئے  ہیں۔

کسی سے  اگر پوچھ لو نام اُس کا۔

تو پھر وہ شکن در جبیں، پُر حقارت نظر سے

تمھیں  دیکھتا ہے۔

وہ ان کے  درمیان چلتے  چلتے  تھک گیا تھا۔ دوپہر کی چلچلاتی دھوپ ان سب کے  چہروں کے  نقوش جھلسا کر رخصت ہو چکی تھی۔ اور رات کی تاریکی میں چاندنی پھر ایک بارمسکراتی ہوئی  طلوع ہو رہی تھی۔ ۔ ۔ (پھر ہمارا چاند ہمارے  لئے  روشن ہوا)۔ ۔ ۔  لیکن بجلی کی روشنی خشونت زدہ اپنی کرنوں کی برچھیاں  بھالے  لہراتی ہوئی  اس پر ٹوٹ پڑی۔ چاند کی روشنی شہید ہو گئی۔ اور بجلی کی روشنی شل ہو کر پگھل گئی۔ سُرخ خون کے  دھبّے  کی طرح، چوٹ کھائے  ہوئے  جسم کی نیل کی طرح، بیوگی کے  زرد سہاگ کی طرح، بس اسی طرح/ہر طرح وہ تھک کر چور ہو کر گلیوں، سڑکوں، محلّوں  اور بازاروں میں گر پڑی تھی۔ ڈھیر ہو گئی تھی۔

اس مصنوعی روشنی میں چلتے  چلتے  وہ تھک کر پست ہو چکا تھا۔ جوتوں کے  اندراس کے  تلوؤں  میں آبلے  پڑ چکے  تھے۔ لیکن تارکول کی سنگلاخ سڑک پر کوئی کانٹا بھی تو نہ تھا جو انھیں  پھوڑتا اور ٹھنڈک پہنچاتا۔ وہاں تو ہر طرف ہارن کا شور، بریک کی چیخ۔ انجنوں  کی گھرگھراہٹ اور آوازوں کی ناگوار بھنبھناہٹ نے  ایسے  عذاب کو جنم دے  رکھا تھا کہ اس کے  اعصاب بھی جواب دینے  لگے  تھے۔ شاید یہاں  اس جہنّم میں وہ

 بکھر کر ٹوٹ جائے۔

اس نے  اپنے  آپ کو سمیٹنا چاہا تو روشنی کے  دو دہانوں  نے  اسے  اپنی زد پر لے  لیا۔ ہارن گرجا، بریک چیخے  اور اس کے  اپنے  آپ کے  اسے  اُچھال کر ایک کنارے  کر دیا۔ بے  بسی کے  ساتھ اس کے  اندر ایک آہ گھٹ کر رہ گئی۔ تارکول کی سخت سیاہ جیکٹ کے  اندرسوندھی مٹّی نے  کروٹ لینی چاہی، لیکن شاید وہ بھی کراہ کر رہ گئی۔ رات کی تاریکی میں  بجلی کی روشنی کے  نیزے  اب بھی بلند تھے۔ وہ سڑک کے  کنارے  مبہوت سا حیران کھڑا تھا۔

اس نے  ایک بار پھر اٹھ کر کھڑکی کھول دی تاکہ چاندنی کی بے  شکن چادر اسے  لاڈ کے  ساتھ لپیٹ لے  اور ٹھنڈی میٹھی نیند سلادے  تاکہ صبح جب وہ سوکراٹھے  تو تازہ دم ہو۔

                                                          (۱۹۸۴ء)