کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تھرڈ ڈائمنشن

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل


عنائیہ کافی عرصہ سے آڈاپشن ایجنسی  کے ساتھ بحیثیت سوشل ورکر کام کر رہی تھی ڈیوٹی ڈیسک پر آج سارا دن اسے ہی رہنا تھا کیونکہ مسلمان آڈاپٹرز کی ریکروٹمنٹ کا ایک خاص کیمپین چلایا جا رہا تھا اور توقع تھی کہ اس ہفتے میں مسلمان آڈاپٹرز کی طرف سے کافی انکوائریرز آئیں گی۔

آڈاپشن ایجنسی کے پاس یوں تو بہت سے مسلمان بچے آتے رہتے تھے مگر یہ خالصتاً پاکستانی بچے نہیں ہوتے تھے۔ اکثر وبیشتر یہ ملٹی ایتھنک بیک گراؤنڈ کے بچے ہوتے یعنی اگر ماں انگریز ہوتی تو باپ پاکستانی، عراقی، ایرانی پورپین یا ایسٹ افریقہ سے تعلق رکھتا۔ کبھی کبھار ماں کا تعلق کثیر الثقافتی پس منظر سے ہوتا۔ مگر آڈاپشن کے لیے آنے والے اکثر خاندان پاکستانی مسلمان بیک گراؤنڈ سے تھے جس میں اکثریت کی خواہش ہوتی کہ وہ بہت چھوٹا بچہ ہی گود لیں اور وہ خالصتاً پاکستانی بیک گراؤنڈ سے ہو۔ یا پھر وہ پاکستان، انڈیا، یا بنگلہ دیش سے اپنے عزیزوں میں سے کسی کا بچہ گود لینا چاہتے تھے۔

آج بھی ڈیوٹی پر کیمپین کے نتیجے میں ایسی ہی انکوائریرز کی بھر مار تھی۔ عنائیہ تمام دن یہ بات دہراتے دہراتے تھک سی گئی تھی کہ ’’اگر بچے کے والدین حیات ہیں تو آپ ایسے بچے بیرون ملک سے گود نہیں لے سکتے۔ کیونکہ آڈاپشن ایجنسی کو ان کی اسسمنٹ کرنا ہو تی ہے اور ہم کبھی بھی اس بات کو پروموٹ نہیں کریں گے کہ بچہ کسی دوسرے بے اولاد جوڑے کو گفٹ کر دیا جائے۔ کیونکہ بچہ کوئی کموڈٹی تو نہیں ہے جسے تحفے میں دے دیا جائے۔ اس میں آگے چل کر بہت سی قباحتیں ہو جاتی تھیں اور ایسے بچے شدید عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے کہ ان کے والدین نے صرف انہیں ہی کیوں اپنے باقی ماندہ خاندان سے اور خود سے جدا کر کے کسی اور کا گھر آباد کر دیا۔ اس کے علاوہ انٹرکنٹری آڈاپشن میں پندرہ سے بیس ہزار پونڈ کی لاگت بھی آتی ہے کیونکہ گود لینے والے خاندان کو آڈاپشن ایجنسی کی فیس، ٹریننگ کے اخراجات، وکیل کی فیس، ملک میں آنے جانے کا کرایہ۔ ایمرگریشن کے اخراجات سب خود ہی اٹھانے پڑتے جبکہ لوکل آڈاپشن کی صورت میں کوئی لاگت نہیں آتی۔ اور آڈاپشن کے تمام مراحل بھی کم وقت میں طے پاتے ہیں۔ ‘‘

آج صبح ہی صبح ایک انکوائری نے اس کا کافی وقت لے لیا۔ آڈاپشن کرنے والے پاکستانی جوڑے کا اصرار تھا کہ وہ بہت چھوٹا بچہ گود لینا چاہے تھے تاکہ وہ ’’اسے بریسٹ فیڈنگ کر سکیں تاکہ بچے سے والدہ کا حرمت کا رشتہ برقرار ہو سکے وگرنہ بڑے ہو کر تو وہ بچہ ماں کے لیے نامحرم ہی رہتا۔ ‘‘ عنائیہ ان کے مسئلے کو سمجھتی تھی اور کئی بار یہ بات آڈاپشن ایجنسی کے باس سے کہہ چکی تھی کہ جب تک وہ مسلمان بچوں کے آڈاپشن کے سلسلے میں باقاعدہ لائحہ عمل اختیار نہیں کریں گے۔ گود لینے والے مسلمان خاندان اس طرح کے بہت سے سوالات اٹھاتے رہیں گے۔ اور مسلمان بچوں کی مسلمان گھرانوں میں آڈاپشن تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔ کئی بار اس نے تجاویز دیں کہ انہیں مقامی مساجد کے علماء اکرام سے اس سلسلے میں گفتگو کر کے مسئلے کی نوعیت بتا کر کوئی فتویٰ لینا چاہیے تاکہ آڈاپشن کرنے والے مسلمان جوڑے جائز شرعی تقاضوں کے مطابق اطمینان سے بچوں کو گود لے سکیں۔ مگر نتیجہ وہی ڈھاکے تین پات۔ ۔ ۔ صرف زبانی جمع خرچ ہوتا یعنی Lip service۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

اور مسلمان جوڑوں کا مسئلہ جوں کا توں رہتا۔

ان حالات میں اکثر مسلمان بچے غیر مسلم گھرانوں کو گود دے دئیے جاتے کیونکہ ایجنسی کا موقف تھا کہ بچوں کو ایک پیار محبت کرنے والا خاندان چاہے جو اس کی مثبت نشوونما میں معاون ثابت ہو۔ مذہب کے بارے میں ان کا نقطہ نظر سیکولر تھا مگر عنائیہ کو اس بات سے بہت پریشانی لاحق ہوتی کہ غیر مسلم گھرانے ایک مسلمان بچے کو کب اسلامی تشخص کے ساتھ پروان چڑھائیں گے۔ بچہ مذہب سے دور ہو جائے گا اور کل کو وہ مذہبی اور ثقافتی شناخت کے مسئلے سے دوچار ہو جائے گا۔ مگر یہاں کس کو اس بات کی پرواہ تھی ایجنسی کا مقصد تو بچوں کے لیے ایسے خاندان تلاش کرنا تھا جو ان چکروں میں پڑے بغیر بچوں کو گود لے سکیں۔

آج ایجنسی کا دفتر بند ہونے میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا تھا کہ ایک ایشیائی نوجوان آڈاپشن انکوائری کے لیے دفتر میں آ گیا۔ اس کی باڈی لینگوئج اور حرکات و سکنات سے لگ رہا تھا کہ اس کا تعلق تیسری ڈائمنشن سے ہے یعنی کہ وہ Gayہے۔ مگر عنائیہ کچھ کنفویز سی لگ رہی تھی اس کی سیکیثولیٹی کے بارے میں تاہم ریسپشن پر موجود انگریز لڑکیوں کا خیال تھا کہ ’’وہ اصلی Gay  نہیں تھا بلکہ پوز کر رہا تھا۔ ‘‘ ’’اس میں بھلا پوز کرنے والی کونسی بات ہے؟‘‘ پھر عنائیہ کا ذہن الجھ سا گیا۔ بہر حال اس سے بات کرنا ضروری تھا۔ عنائیہ نے ریسپشن میں جا کر اپنا تعارف کروایا تو وہ بے حد خوش ہو گیا کہ سوشل ورکر اس کی ہم وطن تھی اور انگریزی کے علاوہ اردو اور پنجابی زبان بولنے میں بھی مہارت رکھتی تھی۔

عنائیہ اسے انٹرویو روم میں لے گئی اور انکوائری کے کاغذات مکمل کرنے کی غرض سے کئی سوالات کر ڈالے۔ ندیم نے بتایا کہ ’’اس کا تعلق پاکستان کے ایک بڑے شہر سے تھا اور وہ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ اس کی منگنی اپنی کزن سے ہو چکی تھی مگر اسے عورتوں سے کوئی رغبت نہ تھی اس لیے اس نے ملک سے بھاگ کر یہاں آ کر پولیٹیکل اسائلم لے لی ہے۔ ‘‘

عنائیہ کا ذوق تجسس بڑھ رہا تھا تو اس نے مزید سوال کر دیا کہ ’’کیا اس کے گھر والوں کو علم ہے کہ وہ Gay  ہے؟‘‘ تو وہ کہنے لگا ’’نہیں یہ بات ان کے علم میں نہیں ہے اور میں بتا بھی نہیں سکتا تھا وگرنہ مجھے اتنے جوتے پڑتے کہ خدا کی پناہ۔ ۔ ۔ آپ کو تو پتہ ہے ناں باجی اسلام میں یہ منع ہے مگر میں کیا کروں۔ میری مجبوری ہے۔ مجھے صرف مرد ہی اچھے لگتے ہیں ‘‘اب وہ زیادہ تر گفتگو اردو میں ہی کر رہا تھا۔ ’’ میں شادی کر کے کسی عورت کی زندگی برباد کرنا نہیں چاہتا تھا اس لیے میں کچھ بتائے بغیر ملک چھوڑ کر آ گیا ہوں مگر میں باقاعدگی سے گھر والوں کو خرچہ بھیجتا رہتا ہوں۔ میں نے اپنے دوسری ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑا۔ ‘‘اس نے گویا ہمدردی سمیٹنے کے لیے مزید وضاحت کی۔

عنائیہ کی دل چسپی بڑھتی جا رہی تھی۔ اس نے مزید کریدا کہ ’’اس قسم کی زندگی گزارتے ہوئے کیا وہ آئسولیٹڈنہیں ہو جاتا یا ایسے مزید ایشائی لوگ موجود ہیں جن نے وہ اپنی نیٹ ورکنگ کر سکے؟‘‘ تو ندیم نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’یہاں بہت سے ایشیائی مسلمان Gaysہیں اور باقاعدہ ان کے کلب ہیں جہاں ہم سب باقاعدگی سے ملتے ہیں۔ ’’اس وقت تمہارا کوئی پارٹنر ہے یا اکیلے ہی ہو۔ ‘‘عنائیہ نے آڈاپشن کے نقطہ نظر سے پوچھا کیونکہ اگر اس کا پارٹنر ہوتا تو اسے بھی آڈاپشن کے لیے اکٹھے درخواست دینا پڑتی۔ تاکہ ان دونوں کی اسسمنٹ اکٹھی کی جائے۔ ندیم نے بتایا کہ ’’اس کا پارٹنر اسے کچھ عرصہ پہلے چھوڑ گیا تھا اور آج کل وہ اکیلا ہی ہے۔ ‘‘ انکوائری مکمل کر کے عنائیہ نے اسے باقی کا طریق کار سمجھا دیا اور کہا کہ جلد ہی ایجنسی کی سوشل ورکر اس سے رابطہ کرکے مزید معلومات کے لیے گھر پر آئے گی۔ ‘‘

ندیم کے جانے کے بعد عنائیہ سوچتی رہی کہ لواطت کے بارے میں کتنی سخت وعید آتی ہے اسلام میں۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا کیا حشر ہوا تھا؟ اس کا دل چاہتا تھا کہ ایسے کڑیل جوان کو اس قسم کی غیر اخلاقی زندگی سے روکے۔ جہنم کے عذاب کا خوف دلا کر باز رکھے مگر اس کی پروفیشنل مجبوریاں اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔

جب کبھی بھی ایجنسی میں GLBٹریننگ ہوتی یعنی Gay, Lesbian and Bisexualتو وہ منافقوں کی طرح وہاں خاموش بیٹھی رہتی کیونکہ یہ سب اس کے اسلامی عقائد کے خلاف تھا اور وہ دل میں اس قسم کی جنسی زندگی کی قائل نہیں تھی مگر ’’ہر ایک کی اپنی اپنی زندگی ہے۔ اس میں میں کیا کر سکتی ہوں۔ ‘‘ عنائیہ نے بے چارگی سے سوچا۔

چند ہفتوں کے بعد ندیم کا فون آ گیا کہ باجی مجھے اب نیا پارٹنر مل گیا ہے میں نے اسے سمجھایا کہ اب نیا پارٹنرملنے کی صورت میں اسے کم از کم دو سال تک انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ آڈاپشن میں آپسی تعلقات کے لیے یہ کم سے کم مدت رکھی گئی ہے تاکہ گود لینے والے جوڑے پہلے اپنے تعلق کو اچھی طرح سمجھ کر مضبوط کر سکیں۔ ندیم کی انکوائری بند کر دی گئی۔ چند مہینے کے بعد ندیم پھر ایجنسی کے دفتر آ گیا۔ اب کی بار اس کے ساتھ ایک اور لڑکا تھا۔ اس نے اس کا تعارف راشد کہہ کر کروایا۔ اس نے بتایا کہ وہ اس کا نیا پارٹنر تھا اور دونوں جلد ہی شادی کرنے والے تھے۔ ریسپشن میں کھڑے کھڑے باتیں کرنا مناسب نہ تھا کیونکہ سب ہی لوگ متوجہ ہو رہے تھے۔ اس لیے عنائیہ انہیں انٹرویو روم میں لے گئی تاکہ اطمینان سے بات کر سکے۔

عنائیہ کچھ متجسس تھی اور ان سے Gayمیرج کے بارے میں مزید جاننا چاہتی تھی۔ بیٹھتے ہی اس نے سوال کیا کہ ’’کیا ایسی شادیوں میں بھی میاں بیوی کا کوئی تصور ہوتا ہے یا نہیں ؟‘‘ ندیم نے وضاحت کی کہ ’’ہاں بالکل ہوتا ہے جیسے میں بیوی ہوں گا اور راشد میرا خاوند ہو گا ہم اسے ٹاپ اور باٹم پوزیشن کہتے ہیں۔ میں سب بیوی والے کام کروں گا۔ ‘‘ عنائیہ نے پھر سوال کیا کہ ’’بیوی والے کام‘‘ سے اس کا کیا مطلب ہے؟ ’’کھانا پکانا۔ صفائی ستھرائی سودا سلف۔ بل اور اخراجات کا حساب کتاب وغیرہ وغیرہ۔ ‘‘ ندیم نے جواب دیا ’’اور بچے پیدا کرنا کہاں گیا جو کہ بیوی بننے والی عورت کا اہم فریضہ ہے اور عورت اگر ماں نہ بن سکے تو بانجھ عورت کو تو معاشرہ عورت تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیتا ہے۔ ‘‘ عنائیہ نے چبھتا ہوا سوال کر کے گویا ندیم کی دکھتی رگ پر  ہاتھ رکھ دیا تھا۔ ندیم نے شرمندگی سے جواب دیا۔ ’’باجی یہ تو ہماری مجبوری ہے ناں۔ اسی لیے تو ہم آڈاپشن کرنا چاہتے ہیں کیونکہ مجھے بچے بہت اچھے لگتے ہیں اور فطری طریقے سے تو ہم بچے پیدا نہیں کر سکتے۔ ‘‘ عنائیہ کا دل چاہا کہ اسے دو تھپڑ رسید کر کے کہے کہ ’’پھر یہ غیر فطری حرکتیں کیوں کر رہے ہو۔ کچھ خوف تمہیں آخرت کا ہے کہ نہیں !‘‘ مگر وہ خاموش رہی۔

اس تمام گفتگو کے دوران اس کا پارٹنر راشد بالکل خاموش تھا۔ اور اس نے گفتگو میں بالکل حصہ نہیں لیا حالانکہ ساری بات چیت اردو اور پنجابی میں ہو رہی تھی۔ عنائیہ نے مزید نوٹ کیا کہ راشد اس سے آئی کونٹیکٹ نہیں کر رہا تھا  بلکہ مسلسل زمین کی طرف سر جھکائے گھور رہا تھا۔ جس سے عنائیہ کو شک ہو رہا تھا کہ وہ واقعی Gayتھا یا۔ ۔ ۔ ؟  اس نے مزید کریدتے ہوئے راشد کے حالات کے بارے میں سوالات کرنے شروع کر دئیے تو ندیم نے بتایا کہ ’’وہ کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستان سے یہاں آیا ہے اور پولیٹیکل اسائلم ویزے پر ہے۔ شادی کے بعد میں اس کے پرمنٹ ویزے کے لیے درخواست دوں گا۔ ‘‘

پہلی بار راشد نے زبان کھولی اور کہا ’’ہم دونوں چاہے شادی کر لیں لیکن میں اس کی اصلی شادی ضرور کرواؤں گا۔ ‘‘

راشد کا یہ جملہ عنائیہ کے لیے بہت بڑا سوال چھوڑ گیا کہ کیا یہ دونوں واقعی Gayہیں یا پھر صرف پولیٹیکل اسائلم اور ویزے کے چکر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!!

٭٭٭