کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دَاغ داغ اُجالے

ڈاکٹر ابنِ فرید


کئی دنوں  سے   ہو اپنے  کمرے  کے  دریچہ سے  کیتھڈرل کے  گھڑیال کی  منجمد  سوئیوں  کو گھورتے   گھورتے  جھنجھلاہٹ سی محسوس کرنے  لگی تھی۔ اُسے  اُس  دریچہ سے  جھانکتے  ہوئے   گھڑیال سے  نفرت  سی  ہو گئی تھی۔ جب بھی وہ تازہ ہوا کے  لئے   دریچہ  کھولتی تو وہ ساکت، جامد کھڑا ہوا گھڑیال اُسے  یوں   نظر آتا جیسے  وہ اس کا منھ  چڑا رہا ہو۔ اور اس کی سُست رفتار  سوئیاں  اس کے  اس احساس پر کچوکے   لگایا کرتیں  کہ کاش وقت کا چکّر اس تیز رفتاری سے   گھوم جاتا کہ صبح اور شام، اور رات اور دن آپس میں  خلط ملط ہو کر رہ جاتے  اور تمام عالم مبہوت ہو کر  اپنا سر اپنے  ہاتھوں  میں  تھام لیتا۔ اور اس بھونڈی سی امّید پر اُس نے   کیتھڈرل کے  گھڑیال کو  پہروں  گھورا تھا اُسے  ٹکٹکی لگا کر  دیکھا تھا۔ مگر اس پتلی سی لمبی سوئی نے   اسے  اس کا بھی  ادراک نہیں  ہونے  دیا تھا کہ وہ منٹ کا فاصلہ کب طے  کر پاتی ہے۔ اس کے  اس ٹھہراؤ نے   اسے  اکتا دیا تھا اور وہ ایک دم  بجھ کر رہ گئی تھی جیسے   برسوں   سے  دوپہر کی تمازت کے  بعد شام کی  سنہری کرنیں  نہیں  آئی ہیں  اور اس کی آنکھیں  اس تیز روشنی کا سامنا  کرتے  کرتے  دکھنے  سی لگی ہیں۔ اور اس کے  گرد و پیش اور  اس کے  اپنے  اندر ایک اجاڑ پن سا چھا گیا تھا۔

یہ دن رات کب نہیں  آئے  تھے۔ گرمیوں  کی تعطیلات ہمیشہ ہی آتی تھیں  اور وہ  پورے  پورے  دن بھی بیکاری ہی کے  ہوتے  تھے  لیکن پھر بھی وہ اس سرعت  سے   گزرتے  تھے  کہ بارہا اس نے  چاہا تھا کہ وہ کیتھڈرل کے  مخروطی منارے  پر چڑھ کر  ان سوئیوں  کو باندھ دے  اور کچھ ایسا کرے  کہ وقت اپنی جگہ پر تھم کر  رہ جائے  مگر وہ زمانہ  ہی اور تھا۔ کئی ایک بے  فکری  لڑکیاں  جمع ہو جایا کرتی تھیں  اور گھر کی چاردیواری کتنے  ہی بچکانے  کھیلوں  سے  بھر جاتی تھی۔ تیز تیز پر مسرّت  آوازیں  اطراف و جوانب سے  ٹکرانے  لگتی تھیں۔ اور اس کی ماں  اس اُودھم  پر اس طرح بگڑتی تھی کہ جیسے  وہ چاہ رہی ہو کہ اسے  ختم نہ کیا جائے۔ اور وقت بھاگتا چلا جاتا تھا۔ مگر اب اس احساس نے  کہ وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے  گی۔ اس کو بے  انتہا مضمحل کر دیا تھا۔ وہ بے  فکری لڑکیاں  اس بار بھی آئی تھیں  اور انھوں  نے  گھر کی چاردیواری میں  اس بار بھی ایک گہماگہمی  سی پیدا  کر دینی چاہی تھی مگر اس بجھے  بجھے  ماحول نے  انہیں  بہت جلد اکتا دیا اور وہ سب تِتر بِتر ہو گئیں۔ اور وہ ایک دم باؤلی سی ڈیڈی اور ممّی کے  سے  سنجیدہ افراد کے  درمیان اکتائی اکتائی سی رہنے  کے  لئے  مجبور ہو گئی تھی۔

اس نے  سستے  ایڈیشنوں  کے  انگریزی ناولوں  اور افسانوں  کی کتابوں  میں  اپنے  وقت کو دفن کر دینا چاہا۔ مگر کیتھڈرل کی وہ بے  ہنگم سی دقیانوسی سوئیاں  برابر اس کا مذاق اڑاتی رہیں۔ اور ایک دن اکتا کر وہ مجبور ہو گئی کہ وہ ڈیڈی کی تپائی پر سے  تازہ اخبار اٹھا لایا کرے۔ اور اس میں  ’’ضرورت ہے ‘‘ کے  اشتہاروں  کو  لالچ بھری نظروں  سے  دیکھا کرے۔

جب پہلی بار اس نے   انہی اشتہاروں  کی رہنمائی  میں  ایک ملازمت کے  لئے   درخواست دینے  کا  فیصلہ کیا  تو بے  اختیار  اس کی آنکھوں  میں  آنسوٗ آ گئے۔ اور اس کے  لبوں  کے  گوشے  اور تھوڑی رقّت کی وجہ سے  کپکپا نے  لگے۔ اور یہ خیال ایک  تپتے  ہوئے   بگولے  کی طرح اس کی پسلیوں  کے  درمیان  منڈلانے  لگا کہ اب تک  اس نے اخبار  کو صرف  پیکٹ باندھنے  کے  لئے  ہی استعمال کیا تھا اور اب وہ مجبور ہو گئی تھی کہ وہ ان کی ورق گردانی بھی کرے۔

اس دن کے  بعد سے  وہ مستقلاً اُداس رہنے  لگی تھی اور عجب پھیکاپن اس پر مسلّط ہو گیا تھا۔ جیسے  وہ اب برابر سنجیدہ ہوتی  چلی جا رہی تھی اور وقت سے  پہلے  بڑھاپے  میں  داخل ہو رہی تھی۔ اس نے  بار بار اس احساس کو  خود سے  نوچ کر پھینک دینا چاہا مگر جیسے  یہ سب کچھ اس سے  اور بھی  زیادہ چمٹتا چلا جا رہا تھا۔ یہاں  تک کہ ایک دن  اس کی درخواست  کا جواب آ گیا اور وہ ملازم ہو گئی۔ مگر اس خبر نے  اسے  طمانیت بخشنے  یا اسے  خوش کرنے  کے  بجائے  اسے  اور پژمردہ کر دیا۔ اب جیسے  اسے  یقین ہو گیا تھا کہ وہ لاکھ تمنّا، خواہش اور شوق کے  باوجود آئندہ تعلیم سے  محروم ہو گئی ہے۔ اُس کی آنکھیں  ایک بار  پھر  آنسوؤں   کی لڑیاں   پرونی لگیں  اور وہ بڑی حسرت کے  ساتھ اپنی  حالت پر غور کرنے  لگی کہ اسے  ڈیڈی کی مالی تنگ دامانی کی وجہ سے  یونیورسٹی کی جیتی جاگتی  فضاؤں   کو خیرباد  کہہ دینا پڑ رہا ہے۔

کتنی بجلیاں  تھیں  جو اس کے  حسین خوابوں  پر  ایک ساتھ ٹوٹ پڑی تھیں۔ اور یہ غیر متوقع بات ہوتے  ہوئے  وہ یوں  دیکھ رہی تھی جیسے  کسی کے  ہاتھ سے   نوگرفتار پرند  چھوٹ جائے  اوہ وہ کھڑا دیکھتا رہ جائے۔ بالکل یوں  ہی  وہ اپنے  آپ کو یونیورسٹی  کے  عزیز ماحول  سے  دور ہوتے  ہوئے  دیکھ رہی تھی اور بے  بس تھی۔ وہ ڈیڈی کو مجبور نہیں  کر سکتی تھی۔ پہلے  کی طرح ضد نہیں  کر سکتی تھی، مچل نہیں  سکتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ایک آفس سپرنٹنڈنٹ کی بساط اس سے  زیادہ کیا ہو سکتی تھی کہ وہ اپنی اولاد کو۔ ۔ ۔ ا اور وہ بھی لڑکی۔ ۔ ۔ زیادہ سے  زیادہ  بی۔ اے  تک تعلیم  دلائے۔ اتنے   ہی کے  لئے  کیا کم پاپڑ بیلنے  پڑے  تھے  جو وہ اس سے  بھی زیادہ  کا مطالبہ کرے۔ مگر وہ کیا کر سکتی تھی؟۔ ۔ ۔  یونیورسٹی کی زندگی کے  واقعات اور اس کا ماحول اس کے  تصوّر میں   بالکل  تر و تازہ تھا۔ وہ یونین ہال سے  لے  کر اسپورٹس پویلین تک سایہ دار گھنی درخت  اب بھی  اس کے  آنکھوں   کے  لئے  سامانِ فرحت  لئے  ہوئے  تھے۔ اور اتنے   فاصلے  کو طے  کرتے  ہوئے  وہ کتنی مسرّت محسوس کیا کرتی تھی۔ کتنی نگاہیں  اس کے  گروپ کی طرف  اٹھتی تھیں  اور کتنی سرگوشیاں  قدموں  پر دم توڑتی رہتی تھیں  کہ وہ ایک  مخصوص استغناء کے  ساتھ دور  وسعتوں  میں  دیکھنے  لگتی تھی۔ اور اسی طرح  پھولوں  کے  قطعوں  کو پار  کرتے  ہوئے  لائبریری میں  داخل ہوتے  ہوئے  وہ کتنا پسند کرتی تھی۔ لائبریری میں  کسی  لڑکی  کا داخل ہو جانا  گویا  ساری نگاہوں  کو  اپنے  آپ پر  مرکوز کر لینا تھا۔ ایسے  لمحہ اپنی اہمیت کا احساس  کتنا لطیف ہوتا تھا۔ اُسے  اپنی اس  چھچوری  حرکت پر کتنی ہی بار ہنسی آئی تھی کہ وہ ریڈنگ روم  محض اس احساس سے   لطف اندوز ہونے  کے  لئے  ہی جایا کرتی تھی۔ مگر ا اس  لطیف لذّت کے  ساتھ ایک کانٹا تھا جو برابر اس کے   ذہن میں  کھٹکا کرتا تھا۔ وہ اس واقعہ کو اب تک  بھلا نہیں  سکی تھی جب وہ ایک دن ریڈنگ روم میں  داخل ہوئی تو تمام نگاہیں  اس کی طرف اٹھ گئیں  اور چند سیکنڈ کے  لئے  ایک بھنبھناہٹ پورے  ہال میں  گونج  گئی۔ اور وہ ایک امریکن رسالے  کو لے  کر  یوں  ہی ورق الٹنے  پلٹنے  لگی۔ اس وقت شاید وہ کچھ سوچ بھی رہی تھی کہ دوسری میز کی کرسیوں  پر بیٹھے  ہوئے  گرم گرم مباحثہ کرنے  والے  لڑکوں  کی آواز اس کے  کانوں  سے  ٹکرائی۔

’’میں  تو وثوق کے  ساتھ کہہ سکتا ہوں  کہ یہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے  والی لڑکیاں  تعلیم کے  معاملے  میں  سنجیدہ نہیں  ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد صرف اپنی  قیمت میں  اضافہ کرنا ہوتا ہے ‘‘۔

’’یہ تمہاری ہٹ دھرمی ہے ‘‘۔

’’نہیں  ہٹ دھرمی نہیں۔ تمہیں  بتاؤ  کہ ایک بی اے  پاس لڑکی کبھی کسی کلرک یا مزدور کے  ساتھ  زندگی نباہنے  کے  لئے  تیّار ہو گی یا ہوئی ہے ؟ تم ہندوستان کیا غیر ملک کی بھی کوئی مثال دے  کر  ثابت کر دو۔ ‘‘

’’خاموش رہیئے۔ ورنہ  میں  پراکٹر سے  شکایت کر دوں گی۔ ‘‘ اس نے  جھنجھلا کر کہا۔

اُس لڑکے  نے  تیکھی نظروں   سے  اس کی طرف دیکھا جیسے  وہ اسے  انتہائی ذلیل سمجھ رہا ہو۔ اور پھر وہ ریڈنگ روم  سے  باہر چلا گیا۔

اور اب بھی  یونیورسٹی   کو خیرباد  کہہ دینے  کے  بعد اسے  اس لڑکے  پر  غصّہ آ گیا اور اس کی انگلیوں  میں   تشنّج پیدا ہو گیا۔ اُس نے  اپنے  ہاتھوں  کی کتاب کو میز پر  ڈال دیا اور دریچے  کے  باہر  دیکھنے  لگی۔ سامنے   کیتھڈرل  کا منجمد سوئیوں  والا گھڑیال اس کا منھ چڑا رہا تھا۔ اور وہ جھنجھلا کر اٹھ کر باہر چلی گئی۔ ڈیڈی مختلف پھولوں  کے  پودوں  کو پانی دے  رہے  تھے۔ وہ بھی دل بہلانے  کے  لئے  ان کے  ساتھ لگ گئی۔ اسی اثناء میں  میریا بھولی بھٹکی آن پہنچی۔ اسے  دیکھ کر جیسے  اسے  اپنے  اندر ایک مسرّت کی کرن پھوٹتی ہوئی محسوس ہوئی اور اس کے  تصوّر میں  یونیورسٹی کے  خاکے  ابھرنے  لگے۔ وہ دوڑ کر  میریا  سے  لپٹ گئی اور برآمدہ ہی میں بید کی کرسیوں  پر دونوں  بیٹھ گئیں۔

’’ابھی صبح ہی میں  نے  شیلا سے  سنا تھا کہ تم کو کوئی ملازمت مل گئی ہے۔ بڑی  خوشی ہوئی سن کر۔ میں  نے  کہا چلو میں  بھی مبارکباد دے  آؤں۔ ‘‘

’’ہاں! آئندہ ہفتہ سے  کام پر چلے  جانا ہے۔ ‘‘ اس نے  ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔

’’چلو اچھّا ہے۔ بیکار پڑے  رہنے  سے  دل تو نہیں  گھبرائے  گا۔ ‘‘ میریا  جیسے  اس کو دلاسا دے  رہی تھی۔

اور اس کے  بعد بھی جتنی دیر تک  میریا  اس سے  گفتگو کرتی رہی اسے   یہی محسوس ہوتا رہا کہ جیسے  وہ ان بے  فکری لڑکیوں  کے  گروپ سے  دور ہوتی جا رہی ہے۔ اور میریا  اسے  کافی بزرگ  تصوّر کر رہی ہے، جیسے  ا ب وہ قہقہے  اور وہ چہلیں  اس کا حصّہ نہیں  رہی ہیں۔ اور جیسے  جیسے  یہ احساس  اس کے   اندر پرورش پاتا جا رہا تھا وہ اور بھی زیادہ مضمحل ہوتی جا رہی تھی۔ اس کا  دل  بیٹھتا چلا جا رہا تھا۔ اور وہ یہ تمنّا  کرنے  لگی تھی کہ میریا  اس کے  پاس سے   اٹھ کر چلی جائے  ورنہ وہ پاگل ہو جائے  گی۔

پھر وہ جلد ہی دفتر کے  کام میں  مشغول ہو گئی۔ اور اس کا سارا  دن کم از کم وہاں   کی مصروفیتوں  میں  گزرنے  لگا۔ وہاں   بھی  نگاہیں  اس کی طرف اٹھتی تھیں۔ وہاں  بھی سرگاشیاں  ہوتی تھیں۔ مگر ان میں   ایک تھکن تھی۔ بوسیدگی تھی اور زندگی  کے  بھاری بوجھ کی کراہیں   تھیں۔ اسے  ان کھسیائی ہوئی حریص  نگاہوں   سے  گھِن سی آنے  لگی اور پھر دفتر کا کام ایک اور بوجھ  بن کر  اس پر مسلّط ہو گیا۔ جس کے  نیچے   اس کی اپنی پچھلی  خیال  آرائیاں   سسکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔

فائلوں  کے  ارم جب اس کے  سامنے   لگ جاتے  تھے  اور وہ ان میں  مشغول ہو جاتی تھی تو وہ ایک اونچا  اٹھتا ہوا پہاڑسا معلوم ہونے  لگتی تھیں۔ جیسے   کوئی  ڈگمگاتا سا بوسیدہ بے  ہنگم منارہ بنا کر اس کے  سامنے  کھڑا کر دیا گیا ہے۔ اور وہ  اپنے  قلم کے  قدموں   سے  اس پر چڑھنے  کے  لئے  مجبور ہو رہی ہے  اور جب وہ کوئی قدم رکھتی ہے  تو منارہ اور بلند ہو جاتا ہے  وہ ایک قدم اور رکھتی ہے  اور منارہ  اور بلند ہو جاتا ہے۔ منارہ بلند ہوتا جا رہا ہے  وہ قدم رکھتی جا رہی ہے۔ اس کے  قدم تھک جاتے  ہیں۔ قلم کراہنے  لگتا ہے  اور روشنائی بد ہیئت خون  کے  دھبّوں   کی طرح پھیلنے  لگتی ہے  اور منارہ  ڈگمگانے  لگتا ہی اور ایک تمسخرانگیز قہقہے  کی گونج  اٹھتی ہے۔ بڑی پُر ہول۔ بڑی تکلیف دہ!۔ ۔ ۔  اور وہ پھر خوف زدہ سی اپنے  کام میں  مشغول ہو جاتی ہے۔

دن کا یہ وقت  گزر تو ضرور جاتا تھا لیکن جب شکنجہ سے  آزاد  ہو کر وہ گھر واپس  لوٹتی تھی تو اس کی ہڈّی ہڈّی  چٹخ رہی ہوتی تھی۔ اس کی نس نس ٹوٹ رہی ہوتی تھی اور اس کا  اپنا وجود  ایک اور بوجھ بن جاتا تھا، پھر گھر کا خاموش  وحشت  انگیز ماحول اسے  اور بھی کاٹ کھانے  کو دوڑتا تھا۔ دن بھر کی محنت کے  بعد  جو تھکن اس پر سوار  ہو جاتی تھی اس میں  اس خاموش گھر کی وجہ سے  ذرا بھی کمی نہیں  ہوتی تھی اور دوسرے  دن جب وہ پھر دفتر جاتی تھی تو  اضمحلال پوری طرح طاری رہتا تھا اور اس کا دل  قطعاً نہ چاہتا تھا کہ وہ ایک قدم بھی اس طرف اٹھائے۔ مگر اس طرح ایک عرصہ  گزر چکا تھا۔ ۔ اور وہ اس اتوار کے  روز ہمیشہ کی طرح پوری طرح سستا لینا چاہتی تھی کہ صبح ہی صبح ایک  دستی  دعوت نامہ  اس کے  نام آن پہنچا اور وہ مجبور ہو گئی کہ وہ شام  اس پارٹی میں  گزارے۔ اس نے  دو تین بار دعوت نامہ کو پڑھا اور اپنے  فیصلہ پر مزید غور کیا مگر اس نے  اسی کو بہتر سمجھا کہ بیکار وقت گزارنے  سے  بہتر یہی ہے  کہ ایک شام ’’ایمبیسڈر میں  گزاری جائے۔ کچھ تبدیلی ماحول سہی!۔ ‘‘

ایمبیسڈر کے  باہر ہی اس کی چند ایک پرانی سہیلیاں  کھڑی ہوئی تھیں۔ انھیں  دیکھ کر اس کی پرانی یادیں  پھر تازہ ہو گئیں  اور پھر یہ تمنّا ایک کسک کے  ساتھ اس کے  اندر کروٹیں  لینے  لگی کہ کاش وہ بھی یونیورسٹی میں ایک بے  فکری کا زمانہ گزار سکتی۔ وہ ان سہیلیوں کے  ساتھ ایمبیسڈر کے  اندر تو چلی گئی مگر چیسے  وہ اپنے  اور ان کے  درمیان ایک خلیج سی حائل دیکھ رہی تھی۔ وہ اپنے  آپ میں  اور ان میں  بڑا  بُعد محسوس  کر رہی تھی اور اس احساس نے  اس  کے  ہونٹوں  پر پھیلی ہوئی مسکراہٹ کے  پیچھے  سے   مسرّت  کا عنصر چوس لیا تھا۔ ۔ ۔

ایمبیسڈر کے  اندر اب بھی وہ وہی پرانی فضا محسوس کر رہی تھی۔ کار نسوں  کے  پیچھے   لگے  ہوئے   برقی  قمقموں  کی کرنیں   چھت پر اس طرح  الجھ رہی  تھیں  کہ ان کے  انعکاس سے  پورا ہال جگمگا رہا تھا۔ وہی نور کی دھند وہی آرکسٹرا کا پس منظر اور وہی مخصوص بھنبھناہٹیں  جیسے  اسے   دوبارہ  مجبور کرتی رہیں  کہ وہ فائلوں  کے  ڈگمگاتے، بوسیدہ اور بے  ہنگم مینار سے  اپنی جان چھڑانے  کے  بعد یہیں  پناہ لیا کرے۔

یہ خیال برابر  بجلی کی طرح  اس کے  ذہن میں  کوندا کیا۔ اور وہ آرکسٹرا کی آواز سے  ایک سرورانگیز کیف حاصل کرتی رہی۔ اس کی سہیلیوں  نے  مختلف ناچوں  میں  حصّہ لیا اور ان کی قہقہے  اور پُر مذاق فقرے   اس کے  دل پر چھائی ہوئی تھکن کے  بوجھ کو ہلکا کرتے  رہے۔ اُس نے  ناچ میں  حصّہ نہیں  لیا۔ اُس کو  اِس سے  اتنی دلچسپی نہیں  تھی۔ اُس نے  کبھی بھی ناچ میں  حصّہ نہیں  لیا تھا۔ البتّہ وہ اس وقت تک ان کے  ساتھ رہی جب تک ایمبیسڈرکی بھیڑ ہلکی نہ پڑ گئی اور پھر وہ میریا  کے  ساتھ ہی گھر کے  لئے   روانہ ہو گئی۔ دونوں  خاموشی کے  ساتھ برقی قمقموں   سے  منوّر، ویران ہوتی ہوئی سڑک پر چلی جا رہی تھیں۔ لیکن اس وقت وہ بڑا ہلکا پن محسوس کر رہی تھی۔

’’دفتر کے  کام سے  تم اکتا تو نا جاتی ہو گی؟‘‘۔ میریا  نے  سکوت توڑتے  ہوئے  کہا۔

’’اکتانا تو ایک طرف، میں  تو پاگل ہو جاتی ہوں ‘‘۔ اس نے  دوبارہ بوجھ محسوس کرتے  ہوئے  کہا۔

’’نجمہ! میرا کہا مانو تو شام  کو یہیں  چلی آیا کرو، کچھ  نہ کچھ وقت تو ہنسی خوشی کٹ جایا کرے  گا۔ ‘‘ میریا  نے  کہا۔

۔ ۔ ’’ہاں  میں  بھی یہی سوچ رہی ہوں۔ ‘‘

اُس نے  اپنے  فیصلہ کو  قطعیّت بخش دی۔

پھر اُس کی ہر شام  ایمبیسڈر  میں  گزرنے  لگی اور ایک عرصہ تک وہ اپنے  بوجھ کو ہلکا  محسوس  کرتی رہی۔ مگر  جلد ہی اس کی طبیعت اکتانے  لگی تھی۔ وہ روز ہی دیکھتی تھی کہ لوگ آتے  تھے  لڑکیوں  کی طرف  ہاتھ بڑھاتے  تھے  وہ ان کے  ساتھ  ہال کے  فرش پر آرکسٹرا کے  آہنگ کے  ساتھ ناچ میں  مشغول ہو جاتی تھیں۔ اور وہ ان ادھیڑ عمر عورتوں   کے  ساتھ گیلری  میں  بیٹھی اکتایا کرتی تھی، اونگھا کرتی تھی، جو اپنی گزری ہوئی زندگی  کو ان پیکروں  میں  حسرت کے  ساتھ دیکھا کرتی تھیں۔ اس صف میں  خود کو  دیکھ کر وہ یہ سوچنے  کے  لئے  مجبور ہو گئی تھی کہ کیا اس کو دن بھر کی مشقّت اس قدر بوڑھا کر دیتی ہے۔  

دوسری شام اس نے  اپنا فیصلہ بدل دیا۔ آئینہ کی مدد سے  اپنے  خدوخال کو سنوارا۔ اور ایمبیسڈر کی حدود میں  داخل ہو گئی۔ وہ بے  چینی کے  ساتھ ناچ کے  عرشہ کے  کنارے  چکّر  کاٹتی رہی۔ آرکسٹرا کے  باکس تک  کئی بار گئی۔ لیکن ہر آنے  والا اُس سے  کترا کر کسی اور کی طرف بڑھ جاتا تھا اور وہ اپنی ناکامی پر جھنجھلا کر رہ جاتی تھی۔ اُس نے  گیلری پر ایک  چھچھلتي  ہوئی نظر ڈالی اور پھر  اور دوسرے  باکسوں  کی طرف دیکھا  اور اس کے  سینے  پر سانپ لوٹ گیا۔ اب وہ اکیلی رہ گئی تھی۔ ناچ برابر ہو رہا تھا اور وہ  اکیلی کھڑی تھی۔ پھر ایک ادھیڑ عمر کا شخص داخل ہوا۔ اُس نے  چاروں  طرف نظر دوڑائی۔ اُسے  کوئی بھی ناچ میں  حصّہ  لینے  والا نظر نہ آیا۔ اب اس نے  جھجھکتے  ہوئے  اُس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اُسے  شاید خوف تھا کہ آج بھی وہ ہمیشہ کی طرح صاف انکار کر دے  گی، مگر وہ سرعت کے  ساتھ اس کے  ساتھ ناچ کے  عرشہ میں  اتر گئی اور پھر جس جوڑے  کے  پاس سے  وہ گزرتی رہی وہ تعجّب سے   اس کی طرف دیکھتا رہا اور مسکراتا رہا۔ پھر اس نے  کئی پھیروں  میں  حصّہ لیا اور جب کسے  ہوئے  جوتوں  میں  اس کا پنجہ دکھنے  لگا تو وہ واپس چلی آئی۔ اس روز اسے  بڑی مسرّت سی محسوس ہو رہی تھی۔

صبح جب اس نے   آئینہ میں  منہ دیکھا تو پاؤڈر اور سرخی کے  دھبّے  بڑے  ڈراؤنے  نظر آ رہے  تھے۔ اس نے  صابن سے  رگڑ رگڑ کر  انھیں  چھڑا ڈالا اور پھر آئینہ میں  دیکھا مگر  اب اسے  وہ بات نظر نہیں  آ رہی تھی۔ اس نے  دوبارہ میک اپ کیا اور دفتر کی تیّاریوں  میں  مشغول ہو گئی۔

جب وہ دفتر پہنچی تو اس نے  اُٹھنے  والی نگاہوں  میں  بڑا استعجاب دیکھا اور ہونے  والی مخصوص بھنبھناہٹ بھی کافی بلند ہو چکی تھی۔ مگر اس نے  کوئی پرواہ نہ کی اور اپنے  کام میں  لگ گئی، مگر بار بار کے  افسر کے  بلاوے  کی وجہ سے  وہ روز کے  مقابلے  میں  کچھ بھی کام نہ کر سکی۔

اس طرح صبح و شام کی  متضاد زندگیاں   گزارتے  ہوئے  جیسے  اب وہ بالکل اکتا چکی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ بہت جلد  اس کی یہ گاڑی کسی بہت بڑے  حادثے  کا شکار ہو جائے  گی اور پھر کسی کے  بس کا نہ ہو گا کہ اسے  اس خطرہ  سے  بچا سکے۔ اس لئے  اس نے  ڈیڈی کی بات مان لی اور گھر گرہستی  کی زندگی  گزارنے  کے  لئے  تیّار ہو گئی۔

یہ زندگی اس کے  لئے  بالکل نئی تھی۔ دفتر سے  اس نے  طویل  چھٹّي لے  لی تھی اور ڈیڈی  کے  گھر سے  اُٹھ کر  اپنے  شوہر کے  گھر چلی گئی تھی۔ دن بھر کئی ایک کام اپنے  ہاتھ سے  کرنے  میں   اسے  بڑا لطف  آتا تھا۔ مگر دس پندرہ دن کے  بعد ہی اس کی طبیعت اس سے  بھر گئی۔ وہ سوچنے  لگی تھی کہ میں  ایسے  ذلیل کام کروں۔ مجھے  ان کاموں  سے  کیا نسبت۔

اس کی طویل چھٹّیاں  ختم ہو رہی تھیں۔ صرف دو چار دنوں  میں  ہی اسے  دفتر میں  حاضری دینی تھی۔ شادی سے  پہلے  وہ اس تذبذب میں  مبتلا ہو گئی تھی کہ  میں  ملازمت کروں  یا نہ کروں  لیکن ان چند دنوں  کی مصروفیات نے  اس پر  یہ ظاہر کر دیا تھا کہ شوہر کے  چلے  جانے  کے  بعد دن بھر وہ بیکار ہی رہا کرے  گی اور پھر اس کی طبیعت اکتایا کرے  گی۔ اس لئے  اس نے  اپنی ملازمت جاری  رکھنا ہی پسند کیا۔

اس کے  شوہر نے  بہت اصرار کیا۔

’’تم کو اب چاکری کرنے  سے  فائدہ بھی کیا ہے۔ میں  غریب نہیں  کھانے  پینے  بھر کا  میں  ہی کیا کم پیدا کر  لیتا ہوں۔ چھوڑو مارو گولی اس ملازمت کو۔ تمہاری وجہ سے  کسی بے  روزگار ہی کا بھلا ہو جائے  گا۔ ‘‘

’’میں  تنخواہ کے  لئے  ملازمت کب کرنا چاہتی ہوں، مجھے  تو دن بھر بیکار پڑے  رہنا عذاب ہو جائے  گا۔ اس واسطے   وہیں  مشغول رہوں  تو کیا برا ہے۔ ‘‘

اُس نے  اور بھی زور دے  کر سمجھایا۔

’’تو کوئی اور مشغلہ تلاش کر لو۔ کیا ضروری ہے  کہ دفتر ہی کی خاک چھانو۔ ‘‘

مگر وہ  اس کی  بات پر دھیان دینے  کے  لئے  تیّار نہ تھی۔

’’میں  کہتی ہوں  اس میں  ہرج ہی کیا ہے۔ ‘‘

اور اس کا شوہر مجبوراً خاموش ہو گیا۔

اور وہ شادی کے  بعد دوبارہ فائلوں  کے   ڈگمگاتے، بوسیدہ، بے  ہنگم، مینار کو اپنے  قلم کے  قدموں   سے  ناپنے  کی مشق کرنے  لگی۔ پہلے  وہ اکتا جاتی تھی۔ وہ یہاں  بھی دلچسپیاں  تلاش کرنے  کی کوشش کیا کرتی تھی۔ اسے  یہاں  کے  ماحول  میں  بھی  یونین ہال سے  لے  کر  اسپورٹس پویلین تک  کے  گھنے   درختوں  کے  فرحت بخش سایہ کی تلاش  رہا کرتی تھی۔ مگر اب وہ پہلے  سے  بھی زیادہ  دن کے  ایک طویل عرصہ کو  اس مصروفیت میں  گزارنا چاہتی تھی۔ البتّہ شام کے  وقت ایمبیسڈر کا چکّر اس کے  لئے  کچھ نا گزیر سا تھا۔ وہاں  کا وہ جانا پہچانا ماحول اور ڈانس ہال کے  آرکسٹرا کی گونج نظر انداز  کرنے  کے  لئے  تیّار نہیں  تھی۔ گھر کی چار دیواریوں  میں  وہ شاید  ایک طرح کی قید  محسوس کرتی تھی، اس لئے  وہ اپنے  شوہر کو بھی اپنے  ساتھ کھینچ لے  جایا کرتی تھی۔ اور اگر وہ جانے  کے  لئے  تیّار نہ ہوتا تھا تو وہ اکیلی ہی چلی جاتی تھی۔

پھر بہت جلد  وہ اپنی ازدواجی زندگی کی اس منزل کو طے  کر گئی۔ جب ایک بیوی ماں  بن جاتی ہے۔ مگر یہ ماں  بننا اُسے  کچھ زیادہ پسند نہیں  تھا۔ کتنے  ہی دن اسے  دفتر سے  چھٹّي لینی پڑی تھی اور کتنے  ہی دن وہ ایمبیسڈر  جانے  سے  بھی محروم رہی تھی۔ اسے  صرف گھر کی چار دیواریوں  میں  پڑے  ہوئے  چھوٹے  موٹے  کام کرنے  پڑے  تھے۔ انھیں  میں  اپنے  آپ کو  مشغول رکھنا پڑا تھا۔ بیکار ایک الجھن اور

 اکتاہٹ اس پر مسلّط رہتی تھی۔ اور اب جب وہ اس بوجھ سے  ہلکی ہوئی تھی تو ایک طرف مامتا تھی اور دوسری طرف دفتر اور ایمبیسڈر!۔ ۔ ۔  مامتا وہ سمجھ رہی تھی کہ کسی وقت بھی پوری کی جا سکتی ہے  لیکن ان دلچسپیوں  کو ترک کر دینا گویا اپنے  آپ کو بالکل بوڑھا  ثابت کر دینے   کے  مترادف تھا۔ اور وہ اس کے  لئے   قطعاً  تیّار نہیں  تھی۔ اس فرض کی ادائیگی کے  بعد اس نے  دوبارہ شوہر سے  ضد کر کے  اپنی ملازمت کے  سلسلہ کو جاری رکھنا مناسب سمجھا اور بچّہ کو ملازمہ کے  سپرد کر دینے  میں  کوئی قباحت محسوس نہ کی۔

لیکن اب اس کو یہ احساس ہونے  لگا تھا کہ اس کی مصروفیات دن  بہ دب بڑھتی چلی جا رہی ہیں  اور اس کے  تمام افعال اتنے  مشینی  ہوتے  چلے  جا رہے  ہیں  کہ وہ ایک سیکنڈ کے  لئے  بھی  خالی نہیں  رہ پاتی تھی۔ دفتر، کلب، گھر، شوہر اور بچّہ! یہ سب مصروفیات اس کے  لئے  اتنی ناگزیر تھیں  کہ وہ ان میں  سے  کسی ایک کی طرف سے  بھی  بے  پرواہ نہیں  ہو سکتی تھی۔ مگر وہ دیکھ رہی تھی یہ کڑیاں  کافی عرصہ تک ایک میں  پروئی نہیں  رہ سکتی ہیں  ان کا کھنچاؤ دن بہ دب بڑھتا چلا جا رہا ہے  اور وہ وقت جلد آنے  والا ہے  جب یہ سب منتشر ہو جائیں  گی۔

اور آخرکار اس کے  شوہر نے  ایک دن اس کو ٹوک دیا۔

’’آخر کچھ گھر کی بھی فکر کرو۔ بچّہ کی طرف بھی توّجہ  دو۔ نہ معلوم کیسے  پل رہا ہے، کیسے  لوگوں  کی عادتیں  سیکھے  گا۔ رہ گیا میں  تو میرا کیا ہے۔ میری طرف سے   تو تم اوّل دن سے  ہی بے  اعتنا ہو۔ ‘‘

یہ وار کچھ  اتنا کاری پڑا کہ وہ تلملا اُٹھی اور دل سے  قائل ہوتے  ہوئے  بھی اس سے  الجھ پڑی۔

’’نہ معلوم آپ مجھ سے  کیا چاہتے  ہیں ؟ کہئے  تو میں  بھی ان ملازماؤں  کی سی بن کر رہوں۔ ‘‘

’’میں  کب کہتا ہوں  تم ملازمہ  بن کر رہو۔ تم خود ہی غیروں  تک کی ملازمہ بنی پھر رہی ہو۔ ۔ ۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ جھنجھلایا ہوا سا چلا گیا۔

اور وہ اپنے  تمام کاموں  میں  ایک کوفت سی محسوس کرتی رہی۔ عجب  چڑچڑا پن سا وہ اپنے  آپ میں   محسوس کرتی رہی اور ہر چیز اسے  بے  کیف سی نظر آتی رہی۔ شام کو ایمبیسڈر میں  بھی وہ کوئی لطف نہ حاصل کر سکی۔ اُسے  وہاں  بھی آرکسٹرا بڑی غم انگیزی نے  چھیڑتا ہوا محسوس ہوا، جیسے  آندھیوں  اور طوفانوں  کی سیٹیوں  کا امتزاج ہو۔

واپسی پر وہ اپنے  کمرے  میں  چلی گئی۔ اس کا بدن بڑا بوجھل سا ہو رہا تھا اور سارے  اعصاب جیسے  ٹوٹ رہے  تھے۔ اس نے  خود کو بستر  پر گرا دیا اور آنکھیں  بند کر لیں۔ لیکن اتنے  میں  ملازمہ روتے  ہوئے  بچّہ کو  لئے  ہوئے  کمرے  میں  داخل ہوئی اور اس پر بری طرح چیخ پڑی۔

’’پٹخ دو موذی کو، ایک منٹ بھی چین نصیب نہیں۔ لے  جاؤ، دور ہو جاؤ، میرے  پاس سے۔ ۔ ۔ ‘‘

اور ملازمہ سہمی ہوئی بچّہ کو لے  کر چلی گئی۔

صبح اس کی پیشانی بخار سے  تپ رہی تھی۔ جیسے  وہ ہریانی کیفیت میں  بک رہی تھی، چیخ رہی تھی۔ اس کے  شوہر نے  فوراً ڈاکٹر کو بلایا اور علاج شروع ہو گیا۔

مگر بیماری کا  سلسلہ بھی اتنا طویل ہوتا چلا گیا۔ اس کی ماں  بھی اس کی تیمار داری کے  لئے  چلی آئی تھی۔ اور وہ بستر پر پڑے  ہوئے  دیکھا کرتی تھی کہ اس کی ماں  کس طرح اس کے  لئے  پریشان رہا کرتی تھی۔ اس کے  چہرے  پر ہوائیاں  اڑتی رہتی تھیں  اور وہ دعا کرتی رہتی تھی کہ اس کی بچّی اچھّی ہو جائے۔ وہ رات رات بھر اس کی وجہ سے  جاگتی رہتی تھی اور ڈاکٹر کے  آنے  پر پہروں  اسے  پریشان کرتی رہتی تھی۔  اس سے  عجب لایعنی باتیں  پوچھا کرتی تھی۔ اُس نے  اس بیماری کے  زمانہ میں  کئی بار اپنی ماں  سے  ضد بھی کی تھی اس سے  روٹھی بھی تھی اور ایسا کرنے  میں  اسے  کتنا لطف حاصل ہوا تھا، بالکل طفلی کے  زمانے  کا سا۔

اب وہ رفتہ رفتہ اچھّی ہو رہی تھی۔ اور سب کے  منع  کرنے  کے  باوجود وہ بستر پر  پڑے  رہنا  پسند نہ کرتی تھی۔ اور جب وہ کچھ  اور سنبھل گئی تو وہ  اپنے  شوہر اور بچّہ کے  ساتھ اپنی ماں  کے  گھر چلی گئی۔ اُس نے  دیکھا وہاں   کی فضا  اب بھی  ویسی  ہی تھی جیسی  وہ کچھ سال  پہلے   چھوڑ کر آئی تھی۔ اُس کا کمرہ اب بھی  اُسی طرح  آراستہ تھا اور اس کی چیزیں  قرینہ سے  رکھی ہوئی تھیں۔ اس کے  شوہر نے  اُس کی ماں  سے  پوچھا۔

’’یہ کس کی چیزیں  ہیں  سب؟۔ ‘‘

’’میری بچّی کی، اس کی ماں  نے  بڑے  پیار سے  جواب دیا۔

اور وہ چونک اٹھی کیا اُس کی ماں کی کوئی بچّی اس کے  علاوہ بھی کوئی ہے ؟۔

صبح  جب وہ اپنے  شوہر کے  لئے   چائے  لے  کر داخل ہوئی تو کیتھڈرل کے  گھڑیال نے  سات بجائے۔ اُس نے  نظر اٹھا کر  دریچہ سے  گھڑیال کی طرف دیکھا اور پھر اس کے  ہونٹوں  پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ جیسے  جس آسودگی کی تلاش میں  وہ اب تک  سرگرداں  رہی تھی وہ خود ہی ایک تشنگی تھی۔

اب میں  نے  ملازمت کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ ‘‘

اس نے  اپنے  شوہر کو چائے  دیتے  ہوئے  کہا۔

 

  (۱۹۵۳ء)