کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پھرفضامُسکرانے لگی

ڈاکٹر ابنِ فرید


تاریک اور پُرسکون رات سائیں  سائیں  کر رہی تھی۔ بوندا باندی کی وجہ سے  باہر کیچڑ ہو گئی تھی۔ اور بوٹوں  کے  ساتھ اندر آ جانے  سے  فرش پر پھسلن پیدا ہو گئی تھی۔ ہال میں  چاروں  طرف سگرٹوں  کا نیلا نیلا دھواں  پھیل رہا تھا۔ وہ ہال، وہ رات اور وہ کیچڑ تمام عمر اسے  یاد رہے  گی۔ خواب میں  بھی وہ انھیں  نہیں  بھول سکتا۔ اور اس لمحہ بھی جب کہ اس کی نگاہیں  ونڈاسکرین سے  گزرتی ہوئی۔ دو بادلوں کو چیرتی ہوئی گزر رہی تھیں اور اس کے  ذہن  میں  خیالات کی فراوانی اس کو اپنے  گرد و پیش سے  بے  نیاز کئے  دے  رہی تھی۔ گزری ہوئی رات کی پاد اس کے  ذہن میں  تازہ تھی۔ دریچوں  کے  چھجّوں پر ہلکی ہلکی بوندوں کی وجہ سے  آہنگ سے  محروم آواز مسلسل پیدا ہو رہی تھی۔ پردے  نم ہوا کے  جھونکوں  سے  ہل رہے  تھے  اور وہ ہوابازافسروں  کی  کینٹین میں  خلاف معمول ایک کونے  میں  بیٹھا ہوا تھا۔ اسکوئش کا گلاس اُس کے  سامنے  بھرا رکھا تھا، جس میں  گرتی ہوئی عمارت کے  شہتیر کی طرح سِپر (Sippar)ڈوبا ہوا تھا اور سفید بے  داغ میز پوش  عجب المیہ جذبہ کو اکسا رہا تھا۔ افسروں کی کثرت کی وجہ سے  پاس کی کرسیاں  دوسری میزوں   کے  گرد پہنچ چکی تھیں اور وہ اس تنہائی سے   قدرے  سکون محسوس کر رہا تھا۔ حالانکہ پورے  ہال میں   ایک بھنبھناہٹ سی گونج رہی تھی۔ جوتوں کی چرمراہٹ اور وردیوں  کی سرسراہٹ اور دبی آواز میں  سرگوشیاں  ایک ایسیاضطراب کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔ جو دوسری صبح ہونے  والے  کسی غیر معمولی واقعہ سے  متعلق تھیں اور جس کے  نتیجہ میں  وہ اس  وقت جہاز کے  بازوؤں  میں  بم نصب کئے  ہوئے  ایک ایسے  مقام کی طرف اڑتا ہوا چلا جا رہا تھا جس کا تصوّر ہی اُسے  بے  چین کئے  دے  رہا تھا۔

وہ رات بڑی ہی افسردہ سی تھی۔ لیکن ہوا باز اپنے  ان غموں کو ان دکھوں  کو قہقہوں  میں  گُم کر دینا چاہتے  تھے، ان کی زندگی مختصر تھی، زندگی کا کیا اعتبار؟صرف ایک رات اور وہ ہی ایک رات جو اس صبح سے  پہلے  گزر گئی ان کے  لئے  یقینی تھی۔ صرف اسی رات وہ جس قدر اپنے  آپ کو شاد کام رکھنا چاہتے  رکھ سکتے  تھے۔ صرف اُسی ایک رات موت کے  تاریک بازوؤں کو اپنے  سروں پر پھڑپھڑاتے  ہوئے  محسوس کرنے  کے  باوجود وہ اپنی خواہشوں کی آسودگی کا سامان کر سکتے  تھے، کل آنے  والے  دن جب وہ بمباری کے  لئے  روانہ ہوں گے۔ وزنی بم ان کے  جہازوں  کے  پہروں  میں  لاتعداد موتوں  کا  پیغام  بنے  ہوئے  لٹک رہے  ہوں گے۔ تو کیا معلوم ان میں  سے  کون ان بموں  کی  تباہ کاری کے  ساتھ خود بھی تباہ ہو جائے۔ آنے  والا یہ ہی خطرہ ان کے  دلوں میں  کانٹے  کی طرح چُبھ رہا تھا۔ تمام مسرتّیں، تمام قہقہے، تمام خوش گپّیاں، تمام بے  اعتنائیاں جیسے  اسی ایک خدشہ کی وجہ سے  بیکارسی، پھیکی سی، دکھاوامحسوس ہو رہی تھیں۔ صرف یہی ایک خدشہ جو ان کی اپنی ذات سے  تعلّق رکھتا ان کی حرماں نصیبی کی وجہ تھا۔

ادھیڑعمراسکویڈرن لیڈرگلوسٹراپنی گھنی بھوری مونچھوں  کو گدیلیوں  سے  رخساروں  پر چپکاتے  ہوئے  مضطرب سا اِدھر اُدھر ٹہل رہا تھا، بیرے  اس کے  پاس سے  کسی قدر ادب کے  ساتھ گزر جاتے  تھے  اور وہ اس وقت تک نہ معلوم کتنے  نوجوان افسرزکے  ساتھ بیٹھ چکا تھا۔ ان کے  ساتھ کتنے  جلسوں میں شریک ہو چکا تھا۔ اس کے  ہونٹوں پرمسکراہٹ تھی۔ لیکن اس کی آنکھوں  میں  جو یاس سا  گھلا ہوا تھا وہ نہ معلوم کس خدشہ کی غمّازی کر رہا تھا؟اسکویڈرن لیڈرگلوسٹر!۔ ۔ ۔ بادلوں  کے  ٹکڑے  ہوائی جہاز کے  نیچے  سے  تیرتے  ہوئے  گزر رہے  تھے  اوپر نیلا اور شفّاف آسمان چمک رہا تھا۔ انجن کی تیز آواز کانوں  میں  گونج رہی تھی، ۔ ۔ ۔ وہ مسکرایا، اس عمر میں بھی وہ تشنہ ہی ہے ؟گلوسٹرکنٹین میں اس وقت بھی جذبات کی آسودگی کے  لئے  دیوانہ ہو رہا تھا۔ ہر نوجوان افسرسے  وہ بڑی جذباتی گفتگو کر رہا تھا، جیسے  وہ اس وقت اپنے  سارے  ارمان نکال لینا چاہتا تھا۔ وہ کنٹین میں  داخل ہونے  والی ویلفز (Waalfs)کو بڑی حریص نگاہوں سے  دیکھ رہا تھا۔

’’پیارے  دوستوں، آؤ آج کی رات ہم جی بھر کر عیش منا لیں، کیا معلوم کل ہم میں  سے  کس کو آنے  والی رات نصیب نہ ہو!‘‘ اسکویڈرن لیڈرگلوسٹرنے  کسی کو مخاطب کئے  بغیر کہا، اور تمام افسرمسکرادئے۔ ان کی مسکراہٹ  میں  کھوکھلا پن تھا۔ ان کی مسرّت ایک ٹریجڈی تھی۔ ان کے  سامنے  دنیا اپنے  بازو پھیلائے  کھڑی تھی۔ لیکن ان کی زندگی کی مہلت بہت مختصر تھی۔ وہ کچھ کرنا چاہتے  تھے، کچھ ایسا کچھ کہ اُن کے  دل میں  کوئی حسرت نہ رہ جائے، لیکن جیسے  اُن کے  اندر تشنگی بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی اور ان کی روحیں  محروم بچّوں  کی طرح رو رہی تھیں، جس کا اظہار ان کے  چہروں  پر چھائی ہوئی بدحواسی سے  ہو رہا تھا جس کو بڑی کوشش سے  دبانا چاہتے  تھے۔ لیکن  وہ ماند نہیں  پڑ رہی تھی۔

رات پُرسکون تھی لیکن ایک دوسرے  سے  طویل گفتگوئیں کر رہے  تھے، اور ویلفز کے  ساتھ زیادہ بے  تکلّفی برت رہے  تھے۔ قہقہوں  سے  ہال گونج جایا کرتا تھا۔ لیکن باہر ہلکی ہلکی بارش جیسے  بین کر رہی تھی۔ نم آلود پردے  جب ہوا کے  جھونکوں  سے   ہلتے  تھے  تو دل کو تھکاوٹ کا احساس ہونے  لگتا تھا۔ مگر وہ سب یہ سوچنا نہیں  چاہتے  تھے۔ وہ آج زندگی سے  نہیں  دنیا سے  بہت قریب ہونا چاہتے  تھے۔ دنیا، دنیا، دنیا!۔ ۔ ۔ دور دور سے  یہی آواز ان کو اپنے  کانوں  تک آتی ہوئی محسوس  ہو رہی تھی۔

پائلٹ افسرنپٹّو گھبرایا ہوا سا بار بار بیرے  کو بلا رہا تھا۔ اُس کے  ہاتھوں  کا  اضطراب بالکل نمایاں  نظر آریا تھا۔ نپٹٔو کے  تصوّر سے  ہی جیسے  اس کے  ہونٹوں  پر ایک مسکراہٹ کھیل گئی۔ اس نے  تھراٹل کنٹرول کو  ذرا اور آگے  کر دیا، بوسٹ کے  ڈائل پر  سوئی کچھ اور آگے  گھوم گئی۔ انجن کے  ارتعاش میں  تیز رفتاری نے   دباؤ سا پیدا کر دیا۔ ونڈاسکرین سے  دور پھیلے  ہوئے  زمین کے  غیر واضح ٹکڑے  تیزی کے  ساتھ دوسری طرف سرکنے  لگے  اور وہ پائلٹ افسر نپٹّو کے  تصوّر میں  گُم ہو گیا۔ بے  چارہ اب پھر کسی  ہوائی حادثہ سے  دوچار ہو گا اور افسر کمانڈنگ اظہارِ ہمدردی کرنے  کے  بجائے  پھر اسے  جھڑکیاں  سنائے  گا، اور وہ منہ لٹکائے  ہوئے  کینٹین کے  کسی گوشہ میں  میزپرسرڈال کر بیٹھ جائے  گا۔ بیرا اس کے  سامنے  مشروبات اور دوسری اشیاء رکھ دے  گا۔ لیکن اس کا دل خوف سے  اس قدر دھڑک رہا ہو گا کہ وہ اسی طرح منہ چھپائے  پڑا رہے  گا۔ وہ آج تک اپنی کسی پرواز میں  کامیاب نہیں  ہوا۔ زندگی میں  کسی پرواز میں  نہیں!۔ وہ مکمل ناکامی تھا۔ جو اپنے  احساسِ کمتری کے  ہاتھوں  ہمیشہ مات کھاتا رہا اور دوسرے  اس کا مذاق اڑاتے  رہے۔ وہ دوسروں  کے  لئے  تفریح کا  سامان بنتا رہا۔ مگراسکویڈرن لیڈرگلوسٹر اس وقت اس کو بھی زندگی کی مسرّتوں  سے  ہمکنار کرنا چاہتا تھا۔

فلائٹ لفٹنٹ اور فلائنگ افسرکی ایک ٹولی جو اپنے  حلقے  میں   تین ویلفز کو لئے  ہوئے  تھی ہال کے  ایک کونے  میں  بیٹھی ہوئی بڑے  عریاں  مذاق کر رہی تھی۔ ان کے  قہقہے  بار بار ہال میں  گونج رہے  تھے  اور گلوسٹراپنی گھنی بھوری مونچھوں  کو گدیلیوں  سے  رخساروں  پر چپکاتے  ہوئے  اس طرف نظر چرا کر یوں  حسرت سے  دیکھ لیتا تھا۔ جیسے  وہاں اس کی ان تمنّاؤں  کی تکمیل ہو رہی تھی جن سے  وہ خود بھی محروم تھا۔ ہال میں  ایک ہنگامہ سا برپا تھا۔ لیکن زیادہ پر شور نہیں!وہ افسرتھے۔ اگر وہ اودھم مچانے  لگیں گے  تو گراؤنڈسروس کے  عام ایرمین کیا کہیں گے ؟ان کی نگاہ میں  اُن افسرز کی کیا وقعت رہ جائے  گی؟پھر بھی دنیا چھوٹ رہی تھی، آخری بار بالکل آخری بار!وہ اسے  کیسے  برداشت کر سکتے  تھے ؟

اس نے  تصوّرات میں  گم ہو جانے  کے  باوجود محسوس   کیا کہ جیسے  ہوا کے   ثقل کے  کم ہونے  کی وجہ سے  جہاز گر رہا ہے   اس نے  راڈر کنٹرول کو اپنی طرف کسی قدر کھینچ لیا جہاز بلندیوں پر چڑھنے  لگا۔ اور پھر ایک بار جہاز بادلوں سے  کافی اوپر پرواز کرنے لگا اور کانوں میں  ’’ڈاں، ڈ ڈ، ڈاں ‘‘کے  وائرلیس سگنل گونجنے  لگے۔ ایک بارپھراس نے  راڈر کنٹرول کو جنبش دی اور گزری ہوئی رات کی یاد کو ذہن میں تازہ کرنے  لگا۔ اس وقت کتنے  ہی آفیسرز کے  دلوں میں ایک بے  نام سی خواہش پیدا ہو رہی تھی۔ کاش بارش  نہ تھمے، مطلع صاف نہ ہو، اور محکمۂ موسمیات پرواز کو ممنوع قرار دے  دے۔ ۔ ۔ لیکن صبح جو کچھ ہوا وہ ان کے  سامنے  تھا۔ اور خود انھیں بھی یقین تھا کہ ان کی تمنّا کا  بر آنا یقینی نہیں!اس لئے  جیسے  جیسے  رات گزرتی گئی۔ بیرے  مشروبات کے  یخ بستہ بوتل میزوں پرسجانے  لگے  اور خمار کی وجہ سے  ہال میں  شور بڑھنے  لگا اور فرش پرپھسلن کی وجہ سے  قدم لڑکھڑانے  لگے۔ اور اسمارٹ وردیوں میں بے  سلیقگی پیدا ہونے  لگی۔

فلائنگ آفیسر فرڈیننڈ ایک بیرے  سے  الجھ پڑا اس نے  اپنا بوتل اٹھا کر فرش پر پٹخ دیا اور زورزورسے  چیخنے  لگا۔ اسکویڈرن لیڈرگلوسٹرنے  لپک کر فرڈیننڈ کو اپنے  بازوؤں میں  تھام لیا اور تھپتھپاتا ہوا ایک طرف لے  گیا۔ لیکن فلائنگ آفیسرفرڈیننڈ چیخ رہا تھا:۔ ’’سر، آپ نہ بولیں۔ میں تو ان لوگوں کے  لئے  جان دینے  جا رہا ہوں اور میرا مذاق اڑا رہے  ہیں ؟اگر میں کل زندہ نہ بچا تو یہ لوگ مجھے  یاد کریں  گے۔ ‘‘اور بیرے  مسکرا رہے  تھے، یہاں کوئی کسی کو یاد نہیں رکھتا۔ بیکار زندگیاں ٹوٹی ہوئی بوتل کی طرح ہیں جسے  کوڑے  میں  پھینک دیا جاتا ہے۔

فلائنگ آفیسرفرڈیننڈجس چھپی ہوئی مسرّت کا اظہار کر رہا تھا، وہ اس کے  ذہن میں چبھن سی پیدا کرنے  لگی۔ اُف ہم محروم بچّوں کی طرح  بسور رہے  ہیں اور واقعی پائلٹ آفیسرٹائردل ویف روزنٹائن کے  کندھے  پرسر رکھے  ہوئے  بچّوں کی طرح رو رہا تھا اور نشے  کی حالت میں اسے  بالکل خیال نہیں  تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

اس وقت جبکہ وہ زمین سے  بہت بلند اُڑ رہا تھا نیچے  پیڑ پودے  سبز نقطوں کی شکل میں  نظر آ رہے  تھے  میدان مٹھائی کے  ٹکڑوں کی طرح، دریا دودھیائی لکیروں  کی طرح اور پہاڑیاں  چھوٹے  چھوٹے  بھورے  بھورے  ڈھیروں کی طرح، تواس کے  دل میں وہ ہراس نہیں تھاجواس وقت وہ کینٹین ہال میں  محسوس کر رہا تھا۔ اور جب ہال بالکل خالی ہو گیا تھا اور دوچا رہی آفیسرباقی رہ گئے  تھے  تو فلائنگ آفیسربیوفورٹ اس کے  قریب آ گیا۔ لیکن اس نے  اس سے  کوئی بات چیت نہ کی، فلائنگ آفیسر پہلے  تو اپنے  بالوں میں اپنی انگلیوں سے  کنگھی کرتا رہا، پھراس نے  اپنی کرسی کو جنبش دی اور گلا صاف کرتے  ہوئے  بولا:’’سر، ہماری زندگیاں  کتنی نا آسودہ ہیں۔ ‘‘

لیکن اس نے  کوئی جواب نہ دیا۔

بیوفورٹ تھوڑی دیر خاموش رہنے  کے  بعد پھر بولا:

’’سر، ہم بھی کتنے  نادان ہیں۔ ہمیں امن بھی تباہی و بربادی کے  بغیر قائم کرنا نہیں  آتا۔ ‘‘

وہ اکتا کر کھڑا ہو گیا:۔ ’’بیوفورٹ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ ‘‘

لیکن بیوفورٹ اس وقت اس کے  ساتھ خرابیِ دماغ کے  باوجود کسی جہاز پر  پرواز کر رہا ہو گا۔ اور اس کی باتیں اس کے  ذہن میں  بازگشت کر رہی تھیں۔ وہ ابھی جائے  گا متواتر بم گرائے  گا، آبادیوں  کی آبادیاں  تباہ و برباد ہو جائیں  گی۔ لیکن اس سے  کیا حاصل ہو گا؟ تباہی، تباہی!۔ ۔ ۔ ساری رات اپنی تباہی کے  ماتم میں گزر گئی۔ اور اب امن کے  نام پر پھر تباہی برپا ہونے  والی ہے۔ ایک الجھن، ایک اضطراب، ایک ہراس مسلسل روح پرچھایا ہوا ہے۔ صرف اس کی روح پر نہیں، تمام انسانیت کی روح پر۔ اس نے  بوسٹ کنٹرول کو بالکل ہی آخری حد پر لگا دیا۔ انجن بڑی تیزی سے  بھرّانے  لگا اور بوسٹ کی ڈائل پرسوئی ایک دم گھوم گئی۔ نیچے  زمین کے  کھلونوں  کیسے  چھوٹے  چھوٹے  قطعے  پیچھے  سرکنے  لگے۔ بادل روئی کے  گالوں کی طرح پھیلنے  لگے۔ زندگی میں  مسرّت نہیں!زندگی میں  آسودگی نہیں!لیکن انسان ترقّی کر رہا ہے۔ وہ ونڈاسکرین میں  سے  سامنے  فضا میں  گھورنے  لگاجیسے  اس کا دل ڈوب رہا ہو، بلندی پر خنکی میں زیادتی کے  باوجود وہ  پسینہ سا نکلتا ہوا محسوس کرنے  لگا۔ زمین کے  ان سرکتے  ہوئے  چھوٹے  چھوٹے  قطعوں  کی طرف دیکھتے  ہوئے  جیسے  اسے  شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ زمین کے  ایسے  ہی کچھ قطعے  ہوں گے  جن کو وہ تباہ کر دے  گا۔ جہاں  سے  شادابی اور زندگی کا وجود ختم ہو جائے  گا۔ اور پھر یہ ہی عمل دوسری طرف سے  دہرایا جائے  گا۔ سکون، امن اور آسودگی کے  نام پرانسانیت تباہ ہوتی رہے  گی۔ اور اس تباہی کی نذر وہ نہ ہوں گے  جو اس کے  ذمّہ دار ہیں بلکہ نشانہ وہ بنیں  گے  جنہوں نے  کسی کا کچھ نہیں  بگاڑا ہے۔

بوڑھی عورتیں، بوڑھے  مرد اپنے  ماضی کے  سنہرے  دنوں میں  جینے  کی کوشش کر رہے  ہوں گے۔ اُن کے  بعد کی نسل آنے  والے  کل کی ضرورتوں  کے  لئے  فکرمند ہوں  گے۔ اُن کے  معصوم بچّے  گھروں، گلیوں، باغوں، کھیتوں، جنگلوں  میں  اپنی آج کی  زندگی کی خوشبوئیں  محسوس کر کے  کھیل رہے  ہوں گے، کلکاریاں  بھر رہے  ہوں گے، ایک دوسرے  کے  پیچھے  دوڑ رہے  ہوں گے۔ یہ سب جوکسی کے  دشمن نہیں  تھے، ان کے  سروں پر موت کے  مشینی پرندے  اپنے  بازوؤں میں  ہلاکت خیزی سمیٹے  گرج رہے  تھے۔

جہاز پھر ہوا کے  ثقل کی کمی کی وجہ سے  نیچے  گرنے  لگا۔ بادل امنڈنے  لگے۔ سامنے  ہر ڈائل پر سوئیاں  غیر معمولی حرارت، اسراف اور قوّت کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔ اس نے  جلدی جلدی جہاز کو سنبھالا اور اپنے  دماغ کو تمام خیالات سے  پاک کر دینا چاہا۔ مگر فرڈیننڈ کی حسرت، ٹائرل کی گریہ و زاری اور گلوسٹر کی تشنگی اس کے  ذہن کو الجھانے  لگی۔ انسان رو رہا ہے  اپنی ناکامی پر!اپنی ناآسودگی پر۔ ۔ ۔ اور بیوفورٹ کے  سوالات نے  گتّھیاں  پیدا کرنی شروع کر دیں۔ اس نے  راڈر کنٹرول کو پھر جنبش دینا چاہا۔ تاکہ جہاز بلندیوں کا رخ کری مگر جیسے  کسی نے  اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ایرکنٹرول آفس کے  وائرلیس سگنل اس کے  کانوں میں  گونج رہے  تھے۔ ڈاں، ڈاں، ڈاں، ڈ ڈ، اور وہ سوچ رہا تھا۔ انسان ترقّی کر رہا ہے۔ اور تباہی بڑھتی جا رہی ہے ؟کاش کوئی اسے  اس آہنی پرندے  کے  چنگل سے  چھڑاسکتا۔ بچا لیتا۔ کوئی؟کون؟ وہ ایک دم چونک پڑا۔ پھراس نے  بڑے  سکون کے  ساتھ سوچا۔ گزری ہوئی رات کی دنیا ا اسے  اپنی طرف استعجاب بھری نظروں سے  دیکھتی ہوئی معلوم ہونے  لگی۔ وہ غیر اختیاری طور پر مسکرادیا۔ پھراس نے  ناگہانی ضرورت کے  دریچہ کو کھول دیا۔ اس کے  قدموں  کے  نیچے  زمین کا وسیع خطّہ تیزی سے  پیچھے  کھسک رہا تھا۔ کبھی کبھی بادل کا کوئی ٹکڑا بھی گاڑھی بھاپ کی طرح بیچ میں  حائل ہو جایا کرتا تھا۔

اس نے  حفاظتی تسموں  کے  تالے  کو نصف گھما کر دبا دیا۔ اور جہاز سے  چھلانگ لگا دی۔ چھلانگ لگاتے  ہی اُس نے  پیراشوٹ کھول دیا۔ وہ بڑی تیز رفتاری کے  ساتھ گرنے  لگا۔ لیکن فوراً ہی پیراشوٹ کے  غبّارہ نے  اس پر سایہ کر لیا۔ جہاز کچھ دور ہوا میں  بڑھا اور پھر اس کی نظروں کے  سامنے  اس سے  بھی زیادہ تیز رفتاری کے  ساتھ پرشکستہ پرندے  کی طرح ناچتا ہوا  پستیوں  میں  گر گیا۔

وہ جیسے  جیسے  نیچے  اُتر رہا تھا۔ زمین اس سے  نزدیک ہو رہی تھی، یہاں  تک کہ سبز و شاداب فرشِ زمین کو اس کے  قدموں  نے  مَس کر لیا، اور وہ دو تین قلابازی کھانے  کے  بعد کھڑا ہو گیا۔ غبّارہ پچک کر بیٹھ گیا اونچے  اونچے  پیڑوں کی چوٹیوں سے  بھی کافی بلندی پر اجلے  اجلے  بادل  اُڑتے  چلے  جا رہے  تھے۔ نیلا نیلا آسمان مسکرا رہا تھا اور پرندوں  کی چہکار اُس کے  دل میں  گدگدی کر رہی تھی۔

اس نے  اپنے  گرد و پیش کا  بڑے  اطمینان کے  ساتھ جائزہ لیا اور پھر آبادی کی تلاش میں  نکل کھڑا ہوا۔ مصنوعی انسانوں  کی آبادی کی تلاش میں   نہیں!

                                                           (۱۹۵۶ء)