کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سانتا کلاز

ڈاکٹر ابنِ فرید


شام کے   دھندلکے  چاروں  طرف  چھانے  شروع ہو گئے۔ دسمبر کے  آخری ہفتوں  کی کہر آلود  سشاموں  میں  تاریک پڑنے  والے  سائے  اور گہرے  ہو گئے۔ کالونی کی باؤنڈری کے  اندر  اپنی گھنی شاخوں  کو پھیلائے  ہوئے  درختوں  کے  نیچے  بچّے  اور بچّیاں  حلقے  بنائے  کھیل رہے  تھے۔ ناچ رہے  تھے۔ چھوٹی چھوٹی مناجاتیں  گائی جا رہی تھیں۔ ان کے  شور  اور قہقہوں  سے   ساری فضا گونج رہی تھی۔ چاروں  طرف  سرشاری چھائی ہوئی تھی۔ یہ خوشی اور مسرّت کے  جذبات میں  ڈوبے  ہوئے  بچّے  اس ماحول کو بڑا ہی پاکیزہ اور دل خوش کن بنا رہے  تھے۔

کرسمس کے  یہ دن بڑے  مصروف سے  تھے  اپنی تمام مصروفیتوں  کا جیسے  وہ اس وقت  کھڑی ہوئی جائزہ لے  رہی تھی۔ کھڑکی پر اس کی پرانی ساڑی کے  پردے  ہلکی ہلکی جنبشوں  کے  ساتھ ہل رہے  تھے، یہ ہفتہ، یہ شام، یہ رات اور آنے  والا دن اس کالونی کے  لئے  خوشیوں  کا زمانہ تھا پھر یہ سارا ماحول سنسان اور  خاموش ہو جائے  گا۔ پھر ایک سکوت اور ایک اداسی چاروں  طرف چھا جائے  گی، آج کی اس فضا میں  کچھ ویسا ہی تقدّس تھا جیسا  تقدّس اسے  کلیسا میں  یسوع کے  مجسّمے   کے  سامنے  دعا پڑھتے  ہوئے  محسوس ہوتا تھا۔

کلیسا کا تصوّر آتے  ہی وہ اپنے  اندر ایک کسک سی محسوس کرنی لگی صبح صبح جب ابھی  چاروں  طرف کہر سی چھائی ہوئی تھی اور دھوپ بڑی اپرائی اور بے  اثر سی لگ رہی تھی۔ اس نے  بچّوں  کو  تیّار کرنا شروع کر دیا۔ بچّے  چہک رہے  تھے  اور وہ ایک اندرونی  طمانیت محسوس کرتے  ہوئے  انہیں  بار بار ٹھیک ہونے  کی تاکید کر رہی تھی۔ لیکن بچّے  اس کی ہدایتوں  میں   بے  انتہا  محبّت اور خلوص محسوس کرتے  ہوئے  بھی اس کی باتوں  پر کان نہیں  دھر رہے  تھے۔ باہر کالونی کے  بچّے  ارغنوں  بجاتے  ہوئے  دوڑ رہے  تھے  اور ان کے   پر مسرّت شور کی آواز پوری کالونی میں  گونج رہی تھی۔ اسے  وہ منظر بڑا پیارا لگ رہا تھا۔ کاش زندگی کا لمحہ لمحہ اسی خوشی اور مسرّت کے  لئے  وقف ہو جائے۔ کاش یہ مسرّت ابدی ہو جائے۔

اور اس مسرّت میں  کھوئی ہوئی   اس نے   اپنے  بچّوں  کو معمولی پاپلین اور گبردین کی قمیص اور پتلونیں  پہنائیں  اور اوپر سے   سستے  اون کے  پُل او وَر پہنا دئے۔ بچّوں  نے  اپنے  ہاتھوں  اپنے  بالوں  کو سنوارا اور اپنے  پالش کئے  ہوئے  جوتے  پرانے  دھلے  ہوئے  موزوں  کے  ساتھ پہن لئے۔ اس وقت ایک ہڑبونگ مچی ہوئی تھی لیکن یہ سب اس کو  اس وقت  گوارا تھا۔ وہ مقدّس ہفتے  کا ایک دن تھا۔ وہ برے  دن کی نوید  دینے  والا دن تھا۔ وہ کرسمس کا زمانہ تھا۔

لیکن بچّے  جیسے  ہی تیّار ہوئے  اپنی پوشاک کی نمائش کے  لئے  کوارٹر کے  باہر نکل گئے  اور ایک دم شور کے  بعد  کامل  سکوت چھا گیا۔ اس نے  اب خود بھی تیّاری  کرنی شروع کر دی۔ اُس کا شوہر بازار سے  پھولوں  کے  گلدستے  لینے  چلا گیا تھا۔ اس نے  اس کے  کپڑے  بھی  بکس سے  نکال کر رکھ دیئے۔ پھر خود باورچی خانہ میں، جو ٹین کا شیڈ ڈال کر بنایا گیا تھا۔ چلی گئی۔ اس نے  پلیٹوں  میں   آش جو کا دودھ میں  ابلا ہوا دلیا نکالا۔ ڈبل روٹی کے  قتلے  کاٹے  اور آگ پر ہلکا ہلکا سینک کر  مکھّن کی بڑی ہی باریک پرت ان پر چڑھانے  لگی۔

 آج وہ بڑی شگفتگی محسوس کر رہی تھی اور سارے  کام بڑے  انہماک اور بڑی دلچسپی سے   کر رہی تھی۔ اس کا شوہر بچّوں  کے  ساتھ کوارٹر میں  داخل ہوا۔ اس کے  ایک ہاتھ میں  پھولوں  گلدستے  تھے  اور دوسرا ہاتھ وہ ٹام کی پشت پر  رکھے  ہوئے  تھا، اور ٹام، جم اور پنٹو مرجھائے  مرجھائے  سے  اس کے  سا تھ تھے۔ وہ چونک پڑی، آخر یہ کیا ہوا۔

اس سے  پہلے  کہ وہ بولتی اس کا شوہر اس سے  پوچھ بیٹھا!

یہ بچّوں  کو کیا ہوا؟ یہ باہر کیوں  کھوئے  کھوئے  سے  کھڑے  تھے ؟‘‘

’’میں  کیا بتا سکتی ہوں ؟ ابھی تو یہ ہنستے  کھیلتے  باہر گئے  تھے۔ ‘‘ اور اس نے  پھر تمام بچّوں  سے  پوچھا لیکن سب خاموش رہے۔ کوئی کچھ بھی نہ بولا۔ اس نے  جلدی جلدی تمام ناشتہ سائبان کے  نیچے  بچھی ہوئے  میز پر لگا دیا اور پھر باری باری ایک ایک بچّے  سے   پوچھنے  لگی۔ بالاآخر  پنٹو نے  بسورتے  ہوئے  لہجے  میں  حقیقت حال  کھول دی۔

’’فلٹن ہماری ہنسی اڑا رہا تھا۔ ہمارے  کپڑے  خراب ہیں  اور ہم بُرے  ہیں  اور ہم سے  اس کی ممّی اور پاپا بات کرنا پسند نہ کریں  گے  اور وہ ایسے  لڑکوں  کو  اپنے  ساتھ نہیں  کھلانا چاہتا۔ ‘‘

اوہ۔ یہ مسرّت کے  دنوں  کا زمانہ اس دنیا میں  گزر رہا ہے۔ وہ کہاں  کس خیالی دنیا میں  پرواز کر رہی تھی۔ وہ کیسی جھوٹی مسرّتوں  میں  کھوئی تھی۔ فلٹن کے  جملے  اس کے  سینے  کو برماتے  ہوئے  پار ہو گئے  لیکن فلٹن ابھی بچّہ ہے  اس کی بات کا خیال کیا کرنا، البتّہ یہ الفاظ جو فلٹن کی زبان سے  نکلے  تھے  کسی  اور ہی کے  تھے  ایک ایسی ذہنیت کے  جو سال بھر  اس کو اوس اس کے  شوہر کو پسماندگی میں  مبتلا رکھتی تھی اور جس کو وہ کرسمس کے  مقدّس ہفتے  میں  بھلا دینے  کی کوشش  کرتی تھی۔ اس نے  ایک ٹھنڈی سانس لی اور اس کے  اندر کی مسرّت دیر سے  رکھی ہوئی آئس کریم کی طرح گھلنے  لگی۔ اس نے  دیکھا کہ اس کے  بچّوں  کے  بال  کچھ الجھ گئے  ہیں  اور ان کے  کپڑوں   پر مٹّي کے  ہلکے  ہلکے   سے  دھبّے  آ گئے  ہیں۔ اس نے  یوں  ہی افسردہ سے  انداز میں ان کے  کپڑوں  سے  گرد کو جھاڑ دیا۔ ان کے  بالوں  کو درست کر دیا اور پھر اس  غم آگیں  تاثّر کو فنا کرنے  کے  لئے  سب سے  ناشتہ کرنے  کے  لئے  کہا۔

’’ہو گا تم فلٹن کی بات کی پرواہ نہ کرو جلدی سے  ناشتہ کرو۔ چرچ چلنے  کا وقت ہو رہا ہے۔ ۔ ‘‘

کلیسا کا نام سن کر بچّوں  میں  پھر ایک اشتیاق جاگ اٹھا اور وہ اپنے  ناشتے  میں  منہمک ہو گئے۔ وہ تھکے  تھکے  انداز میں  خلاؤں  میں   تکتی رہی اور نہ معلوم کیا سوچتی رہی۔

کلیسا میں   داخل ہو کر اس نے  یسوع کے  مجسّمہ کے  سامنے  گھٹنے  ٹیک دیئے   اور غم انگیز سی، سر جھکائے  مؤدب بیٹھی رہی۔ اس وقت اس کے  دل سے  لاکھوں  صدائیں  اٹھ رہی تھیں۔ کتنی ہی التجائیں  اور آرزوئیں! وہ تمنّا کر رہی تھی۔ کاش یسوع کا یہ  مجسّمہ اس کی سن سکے۔ پھر وہ وہاں  سے  اٹھ کر چلی آئی اور  چیپل کے  لئے   اگلی نشستوں  کے   پاس سے  گزرتی ہوئی پچھلی بنچوں  میں  اپنی خاوند کے  پاس بیٹھ گئی جو اس کے  بچّوں  کے  ساتھ اس سے  پہلے  وہاں  بیٹھ چکا تھا۔ اس وقت چیپل میں  شرکت کے  لئے  کتنے  ہی لوگ کلیسا میں  داخل ہو چکے  تھے  اور چاروں  طرف ایک موّدبانہ بھنبھناہٹ گونج رہی تھی۔ اگلی نشستوں  پر زرق برق کپڑوں  میں  ملبوس عورتیں  اور مرد  بیٹھنے  شروع ہو گئے  ان کے  بچّے  بھی قیمتی کپڑوں  اور اعلیٰ آرائشوں  کے   کے  ساتھ  ان کے  پاس خاموش بیٹھے  ہوئے  تھے۔ جیسے  وہ اس  وقت اپنی ساری شرارتوں  کے  طوفان کو سینے  میں  دبائے  بیٹھے  ہوں  پچھلی بنچ کے  بچّے  کئی بار گردنیں  اونچی کر کے  انھیں  دیکھنے  کی کوشش کر چکے  تھے  اور مقدّس باپ نے  ایسا کرنے  سے  انہیں  کئی بار منع بھی کیا تھا۔ وہ کھوئی کھوئی سی، مقدّس شمعوں  اور پردوں  کو تکتی رہی، جیسے  وہ اس وقت  اس مقدّس کلیسا سے  بہت دور ہو۔ بڑے  فاصلے  سے  اس کے  ایک ایک منظر کو دیکھ رہی ہو، دھندلائے  ہوئے  سے، غیر واضح سے۔

پھر مارگرٹ اپنے  ولایتی سرج کے  سکرٹ اور ریشم کی طرح چمکتے  ہوئے   گاؤن اور  سمور کے  بالوں  کے  کالر کے  درمیان بہترین میک اپ کے  ساتھ آ کر پیانو کے  سامنے  بیٹھ گئی۔ اس کی انگلیاں  پیانو سے  مناجات کی دھن پیدا کرنے  لگیں  اور تمام لوگ کھڑے  ہو گئے۔ سب نے  اپنے  سروں  کو جھکا لیا اور بڑی تقدّس آمیز دھیمی لے  میں  مناجات  گاتے   رہے۔ مارگرٹ نے  پیانو بند کر دیا۔ مناجات ختم ہو چکی تھی۔ تمام لوگ خاموش بیٹھ گئے۔ ۔ مقدّس باپ نے  وعظ کہا اور پھر سب لوگ کھڑے  ہوئے۔ مناجات پڑھی گئی، مارگرٹ نے  پھر پیانو کو چھیڑا اور پھر تمام لوگ چہروں  پر ایک مسکراہٹ لئے  ہوئے  رخصت ہونے  لگے۔ وہ کچھ دیر چیپل کے  بعد رکی رہی۔ چند ایک لوگوں  سے  ملاقات کی۔ وہی لذّتیں، وہی مسکراہٹیں، وہی مقدّس ہفتہ کی مبارکبادیں! ان سب چیزوں  نے  جیسے   اس کے  غم کو  ایک حد تک  ہلکا کر دیا۔ وہ  اب پھر اپنے  سینے  پر سے  ایک بوجھ کو ہٹتے  ہوئے  محسوس کر رہی تھی۔ جب  مارگرٹ اپنے  بچّے  کو لئے  ہوئے  اس کے  سامنے  سے  گزرنے  لگی تو اس نے  اس کو رشک کے  ساتھ دیکھتے  ہوئے   مقدّس ہفتہ کی مبارکباد پیش کی۔

’’شکریہ مرتھا! مبارک مبارک۔ ‘‘

مارگرٹ بھی  اس کو دیکھ کر مسکرانے  لگی۔ اور اس وقت اس کو  باوجود  اس ظاہری تفاوت کے، وہ اسے  اپنے  سے  بہت نزدیک  محسوس ہوئی۔ جیسے  یہ قیمتی ملبوسات اس کے  غرور اور بڑے  پن کو نہیں  اس کی خوش مزاجی اور بھولی طبیعت کا مظاہرہ کر رہے  تھے۔ اس کو نہ جانے  کیوں، اس وقت مارگرٹ پر پیار آنے  لگا اور اس پیار کے  جذبہ کے  تحت ہی اس نے  اپنے  ہاتھ کا پھولوں  کا گلدستہ بڑی شفقّت کے  ساتھ مارگرٹ کے  بچّے  کے  ہاتھ میں  تھما دیا۔ اسے  اس وقت بڑا سکون سا محسوس ہونے  لگا۔

لیکن مارگرٹ کے  بچّے  نے  اس کے  سامنے  ہی پھولوں  کی پتّیاں  نوچنا شروع کر دیں  ذرا سی دیر میں  وہ نیچی ہوئی۔ ٹہنیوں  کا ایک چھوٹا سا گھٹّا لگنے  لگا اور جب مارگرٹ کلیسا  کے  پورٹیکو سے  نکل کر  روش پر آ گئی تو اس نے  بچّے  کے  ہاتھ سے  بغیر پھولوں  کا گلدستہ لے  کر ایک جھاڑی میں  پھینک دیا۔

وہ اب تک کھڑی ہوئی مارگرٹ کو بڑی  پر امّید نظروں  سے   جاتے  ہوئے  دیکھ رہی تھی۔ لیکن یہ دیکھتے  ہی اس کا دل مسوس کر رہ گیا۔ جیسے  وہ اور اس کے  بچّے   اور اس کا شوہر، سب  بغیر پھولوں  کا ایک گلدستہ تھے  جو کالونی کی باؤنڈری کے  ایک کونے میں  اسی طرح پھینک  دیئے  گئے  تھے، وہ بالکل اسی طرح  ناقابلِ التفات تھے  جیسے  یہ سارے  ڈنٹھل پنکھڑیوں  کے  نوچ لئے  جانے  کے  بعد! اس کی دل گرفتگی اور  بڑھتی گئی، وہ اور زیادہ اضمحلال محسوس کرنے  لگی۔ اور اس  کے  ارد گرد گونجتی ہوئی مبارکباد کی آوازیں   بڑی  ہی بی اثر سی ہو گئیں۔ وہ ان سے  بہت دور تھی، بہت دور! جہاں  ان میں  ایک مبارکبادی بھی اس کے  لئے  نہ تھی۔

وہ اپنے  بچّوں  کو لئے  ہوئے  بازار چلی گئی جو کالونی کے  ایک حصّہ میں  کرسمس کے  لئے  لگایا گیا تھا۔ یہ مبارک ہفتہ تھا، یہ مقدّس ہفتہ تھا، آج رات سانتا کلاز اپنی بے  پہیّوں  کی گاڑی پر سوار  رینڈیر کو ہانکتا ہوا، فضا میں  پرواز کرتا ہوا آئے  گا۔ اس کے  سرخ و سفید، مضحکہ خیز کپڑے  اور اس کی سفید لمبی داڑھی اور سفید بال سرد برفانی جھونکوں  سے   لہرا رہے  ہوں  گے، اس کی گاڑی کھلونوں، چاکلیٹوں  اور ٹافیوں  سے  بھری ہو گی اور وہ دریچوں  میں  جھلملاتی جگمگاتی ہوئی  شمعوں  کو دیکھ کر چھت پر اتر آئے  گا اور بچّوں  کے  ہاتھوں، آتش دان کی کارنس میں  لٹکاتی ہوئی جرّابوں  میں  تحفے  تحائف بھر کر شجرِ کرسمس کے  پاس رکھ دے  گا اور صبح اٹھ کر بچّے  اپنی جرّابوں  کو تحفوں  سے   بھری ہوئی دیکھ کر خوش ہو جائیں  گے۔ بھاگے  بھاگے  پھریں  گے  اور دوسروں  کو دکھائیں  گے۔

لیکن اس تصوّر کے  پیدا ہوتے  ہی اس کے  ہونٹوں   پر ایک  زہر خند پھیل گیا۔ وہ جانتی تھی کہ سانتا کلاز کے  یہ تحفے  اس کو  کتنے  مہنگے  پڑتے  تھے، اور ہیرس کی کتنے  دنوں  کی مشقّت محض سانتا کلاز کی اس فیاضی کی نذر ہو جاتی تھی۔

بازار میں  گوٹہ کناری کی دکان کے  سامنے  سے  گزرتے  ہوئے  بچّے  ٹھہر گئے۔ اس نے  چاہا کہ وہ آگے  بڑھ جائے  لیکن بچّوں  نے  بڑے   ملتجیانہ لہجے  میں  اس کے  قدموں  کو آگے  بڑھنے  سے  روک دیا۔

’’ممّی گوٹہ کناری لیں  گے ‘‘۔

’’کیوں ؟ کیا ضرورت ہے ؟‘‘ اس نے  انجان بنتے  ہوئے  پوچھا۔

اس کا لہجہ چغلی کھا رہا تھا کہ اس کا خریدنا تو پیسے  خراب کرنا ہے۔

’’ممّی کرسمس ٹِری کے  لئے!‘‘

’’لیکن گھر پر تو بہت سا رکھا ہے۔ اب اور لینے  کی کیا ضرورت ہے ؟‘‘۔

اور بچّے   روہانسی صورت بنا کر چپ ہو گئے۔ جیسے  وہ کہہ رہے  ہوں، سانتا کلاز کو یوں  ٹالا نہیں  جا سکتا ورنہ وہ بھی ہمیں  نظر انداز کر جائے  گا۔ وہ حسرت سے  کھڑے  ہوئے  گوٹے  کناری کو  دور سے  دیکھتے  رہے۔ اس کا دل پسیج گیا اور اس نے  اپنے  آپ پر جبر کرتے  ہوئے  دو ایک روپے  کا سامان لے  ہی لیا، بچّوں  کے  چہرے  ایک بار پھر کھل اٹھے  اور وہ آگے  بڑھ گئے۔

تمام دوکانیں، جھنڈیوں، مالاؤں  اور پھولوں  سے  سجی ہوئی تھیں۔ جگہ جگہ  سازوں  پر  مناجات کی دھنیں  بجائی جا رہی تھیں  وہ آہستہ آہستہ دکانوں  کے  سامنے  سے  گزرتی رہی۔ معمولی پلاسٹک اور ربر کے  کھلونے  خریدتی رہی۔ پھر اس نے  ٹافیوں   اور  چاکلیٹوں  کے  سستے  پیکٹ خریدے  اور بچّے  ایک بار پھر موم بتّیوں  کے  خریدنے  پر مچل گئے۔

’’ممّی یہ بتّیاں  بہت باریک ہیں۔ بہت جلد بجھ جائیں گی‘‘۔

جم منمنانے  لگا۔

’’ہاں  ممّی یہ بجھ جائیں  گی تو سانتا کلاز ہمارا دریچہ کیسے  دیکھے  گا‘‘۔ پنٹو بھی مچلا۔

لیکن وہ جانتی تھی کہ ان پہیوں  پر  سانتا کلاز کا آنا  منحصر نہیں! انھیں  جو کچھ سانتا کلاز سے  ملنا ہے  وہ تو پہلے  ہی سے  مقدّر ہو چکا

 ہے۔ وہ سانتا کلاز کی بے  پہیّوں  کی گاڑی میں  نہیں، اس وقت اس کے  تھیلے  ہی میں  ہے۔ لیکن پھر بھی اس نے  بچّوں  کے  تصوّر کو مجروح کرنا پسند نہیں  کیا:

’’نہیں  یہ ٹھیک ہیں، یہ بجھیں  گی نہیں۔ ہم انہیں  سوتے  وقت جلائیں  گے۔ پھر تو یہ دیر تک جلتی رہیں  گی۔ ‘‘

’’لیکن ممّی اگر سانتا کلاز پہلے  ہی گزر گیا تو؟‘‘

اور وہ ایک دم ٹھٹھک کر رہ گئی۔ وہ کر بھی کیا سکتی ہے ؟ سانتا کلاز تو گزر بھی چکا! یہ  بے  چارے  بچّے  کیا جانیں۔ انھیں  کیا خبر کہ وہ سانتا کلاز کے  لئے  خواہ  کتنا ہی اہتمام کریں  لیکن سانتا کلاز  ان  کو اس سے  زیادہ  نہیں  دے  سکتا جتنا اس کے  والدین سہارا دے  سکتے  ہیں۔

’’نہیں   ایسا نہیں  ہے ‘‘۔ اس نے  ایک بار پھر  بچّوں  کو دلاسا دیا:

’’سانتا کلاز تمہارے  سونے  سے  پہلے  کیسے  گزر جائے  گا؟‘‘

لیکن یہ ایک اور جراحت تھی جس نے  اس کو اور بھی زیادہ  پژمردہ کر دیا تھا۔ دوسرے  بچّے  ہنستے  اور شور کرتے  ہوئے  فٹ پاتھ  پر سے  گزر رہے  تھے  اور ان کے  والدین اچھّے  اچھّے  کھلونے  خرید رہے  تھے  لیکن جب بھی اس کے   بچّوں  نے  کسی اچّھے  کھلونے  کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے  فوراً ان کو  بہلا دیا۔

’’دیکھو، یہ اچّھا نہیں  ہے، یہ بہت مہنگا ہے، یہ بہت جلد  ٹوٹ جاتا ہے، بس ہاتھ میں  لیتے  ہی لیتے ‘‘۔

اور بچّے  اس کی باتوں  پر یقین نہ کرتے  ہوئے  بھی مان جاتے  تھے، کیوں  کہ وہ ابھی پنٹو اور ٹام  اور جم تھے۔ مرتھا اور ہیرس  نہ تھے۔ وہ حسرت سے  کھلونوں  کی طرف تکتے  رہ جاتے  تھے، اور اس کے  دماغ میں   چنگاریاں   سی چھوٹنے  لگتی تھیں۔ بھلا وہ مسرّت بھی کیا جو دولت سے  خریدی جائے ؟۔ وہ انبساط اور خوشی بھی کیا جو بغیر داموں  دستیاب نہ ہو سکے ؟ وہ خوش رہنا چاہتی ہے۔ غم کی، مایوسی کی، ہلکی سی سیاہی بھی دلوں  کے  تقدّس پر طاری ہوتے  دیکھنا نہیں  چاہتی تھی۔ لیکن اس کا مداوا کیا ہے ؟ کچھ بھی نہیں ؟ وہ اس طرح بازار میں  گھومتے   گھومتے  اکتا چکی تھی!

۔ ۔ ’’ہیرس، اب چلنا چاہیئے۔ وقت کافی ہو چکا ہے ‘‘۔

’’ہاں  چلو، اب ہم کچھ خریدیں  گے  بھی تو نہیں ‘‘۔

ہیرس نے  کچھ ایسے  انداز میں  کہا جیسے  کچھ خریدتا اب اس کے  بس میں  بھی نہیں  رہا تھا۔ وہ خود  یہی سمجھ رہی تھی۔ وہ دونوں  واپس ہونے  لگے  لیکن بچّے  بضد ہو گئے۔ وہ ابھی کچھ دیر اور گھومنا چاہتے  تھے۔

’’مگر دیکھو نا، ابھی تو کنسرٹ بھی دیکھنا ہے۔ وہاں  نہ چلو گے  کیا؟‘‘

اور بچّے  ایک بار پھر  بہلاوے  میں  آ گئے۔ اور سب گھر واپس آ گئے  لیکن بچّے  کیا وہ خود بھی یہ محسوس کر رہی تھی کہ گھر اب پہلے  کے  مقابلے  میں  اور بھی سنسان ہو گیا ہے، ایک عجب بے  کیفی چاروں  طرف چھا گئی ہے۔ کرسمس بازار کے  ہنگامے، اور پھر ہنگامے  کے  مقابلے  میں  یہ کامل سکوت! یہ ناقابل برداشت تھا۔ اس لئے  سب نے   ہی جلدی جلدی دوپہر کا لنچ  کھایا اور کنسرٹ کے  لئے   کلیسا کی طرف  چل دیے۔ راستہ بھر وہ عجیب کیفیت محسوس کرتی رہی۔ جیسے    وہ افسردہ بھی تھی اور نہیں  بھی تھی  جیسے  اس کا دل گھبرا بھی ریا تھا اور جیسے  دل میں  کوئی خواہش  اور کوئی تمنّا بھی نہ تھی۔

کنسرٹ کے  لئے   کلیسا  کے   کمپاؤنڈ میں   شامیانوں   کو خوب  سجایا گیا تھا۔ سہ  پہر کی سنہری پڑتی ہوئی دھوپ  اپنی لطیف  تمازت سے  محروم ہوتی جا رہی تھی۔ کالونی کے  بسنے  والے   بے  پایاں   مسرّت میں   ڈوبے  ہوئے   کلیسا  کے  سامنے   چہل قدمی کر رہے  تھے  اور غیر مسیحی مہمان، مسیحیوں  کے  ساتھ  بڑے  محبّت آمیز  لہجے  میں  گفتگو کر رہے  تھے۔ کنسرٹ کے  شروع ہونے  میں  کافی دیر تھی۔ ابھی  پورے  مہمان نہیں  آئے  تھے۔ ٹام، جم اور پنٹو اس کے  پاس سے  جا کر دوسرے  بچّوں  کے  ساتھ کھیلنے  لگے  تھی۔ لیکن اس  وقت بھی اس کا دل دکھ رہا تھا۔ وہ  بچّے  کھیل نہیں  رہے  تھی، بس استعجاب کے  ساتھ کھڑے  ہوئے  دوسروں  کو  کھیلتے  اور شرارتیں  کرتے  دیکھ رہے  تھے، انہیں  کھیلنے  کا موقع کہاں  ملتا۔ ان کے  پاپلین اور گبردن کے  ارزاں  کپڑوں  میں   اتنی  جاذبیت کہاں  تھی کہ وہ خوش پوش سجے  سجائے  بچّوں  کو  اپنی طرف  متوجہ  کر سکے۔

’’ہیرس! یہاں  کھڑے  رہنے  سے   بہتر ہے  کہ ہم اندر چل کر  بیٹھیں۔ ‘‘ اس نے  ناقابل برداشت اذیت کے  ساتھ اپنے  شوہر کو مخاطب کرتے  ہوئے  کہا۔

’’ہاں  تم بچّوں  کو پکار لو۔ ‘‘ ہیرس نے  کچھ اس  طرح جواب دیا جیسے   اس  ماحول میں   دولت  اس کا منہ چڑا رہی ہو۔

اس نے  بچّوں  کو بلا لیا اور وہ سب پچھلی بنچوں  پر  جا کر بیٹھ گئے  اگلی بنچیں  ان کے  لئے  نہیں  تھیں۔ ان پر ناموں  کی چٹیں  چسپاں  تھیں۔ معزز مسیحیوں   کے  لئے! جو چمکتی ہوئی کاروں  میں، بہترین ملبوسات میں  آئیں  گے  اور ان مہمانوں  کے  لئے  جنہیں  ان مسیحیوں  نے  مدعو کیا ہو گا البتّہ وہ مہمان  جن کو مرتھا کے  جیسے  خاندانوں  نے  مدعو کیا ہو گا وہ ان کی اپنی ہی صفوں  میں  بیٹھیں  گے۔ بہ قاعدہ وہ اپنی عمر کے  اس سال تک  دیکھتی آئی تھی لیکن یہ آج ہی کیوں  اس کی آنکھوں   میں  کھٹک رہا تھا، وہ  یہ سمجھنے  سے   قاصر تھی۔ بس یہ ایک گتھّي ذہن میں  لئے  وہ بے  آرام سی بیٹھی رہی۔

کنسرٹ شروع ہونے  سے  پہلے  اس نے  کئی بار سوچا کہ وہ واپس چلی جائے، یہاں  آنے  سے  اس کی بے  کیفی اور خلش میں  کوئی کمی نہیں  ہوئی ہے۔  بلکہ اذیت کا احساس اور بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے  اور خود کو اور بھی زیادہ پستی میں  گرا ہوا محسوس کر رہی ہے۔ مگر ٹام، جم اور پنٹو کی دلچسپی کی خاطر وہ اپنی مرضی کے  مطابق ایسا نہ کر سکی۔ بس اسی وجہ سے  وہ خود کو بنچ میں  مقیّد کئے  رہی۔ یہاں  تک کہ آہستہ آہستہ آرکسٹرا کا ترنّم فضا میں  گونجنے  لگا۔ اس کا ذہنی کھنچاؤ کسی حد تک کم ہو گیا اب وہ خود کو قدرے  پر سکون محسوس کرنے  لگی۔ پھر بھی اسے  یہ پتہ نہ چلا کہ کنسرٹ کب شروع ہوا۔ وہ اس وقت چونکی جب تالیوں  کا شور بُری طرح گونج اٹھا  یا وہ  یہ فینسی ڈریس کی نمائش تھی! کیرول کی بچّی انجیلا ایک مفلوک الحال گداگری کے  لباس میں  اسٹیج پر کھڑی تھی۔ اس کے  ہاتھ میں  ایک بڑا بد ہیئت کاسہ تھا۔ اس کے  ناخنوں  پر قیمتی پالش دور سے  چمکتی ہوئی نظر آ رہی تھی اور ہونٹوں  پر لپ اسٹک کی سرخی اس روپ کا  اور بھی زیادہ مذاق اڑا رہی تھی۔ اس کے  ہونٹوں  پر  بڑی ہی تلخ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس کے  ذہن میں  کسی نے  چٹکی لے  لی۔ زردسیم کے  ڈھیروں  سے  کھیلنے  والی انجیلا کے  جسم پر یہ لباس اس قدر تحسین کا مستحق ہے  اور خود کالونی کے  ناقابل  التفات کونوں  میں  کو واٹروں  میں  پڑے  ہوئے  انسان  معمولی سے  التفات کے  حقدار بھی  نہیں ؟ ان کا افاسنوی بہروپ  بھی تمام نظروں  میں  کھب  جاتا ہے  اور حقیقی پیکر کسی کو بھی متوجّہ نہیں  کر پاتے ؟

اُف۔ دنیا حقیقت سے  نظریں  چرا کر کس نہ معلوم  رخ پر، کس نہ معلوم  منزل کی طرف بھاگی چلی جا رہی ہے ؟ آخر اس طرح ایک چیز کو اس کے  اس کے  مقام سے  ہٹا کر کسی ناموزوں  جگہ پر رکھ دینے  سے  کیا حاصل؟ پالش لگے   ناخنوں  اور مرمریں  سفید انگلیوں  میں  یہ کاسہ کیوں  پکڑا دیا گیا ہے ؟ اس کے  ذہن میں  پنٹو کے  جملے  بازگشت کرنے  لگے۔ ’’فلٹن ہماری ہنسی اڑا رہا تھا۔ کہتا تھا ہمارے  کپڑے  خراب ہیں  اور ہم برے  ہیں  اور ہم سے  اس کی ممّی اور پایا بات کرنا بھی پسند نہ کریں  گے  اور وہ ایسے  لڑکوں  کو اپنے  ساتھ کھلانا نہیں  چاہتا۔ ‘‘ ہاں  ٹھیک ہے  وہ کیرول کی بچّی  انجیلا تو نہیں۔ تمام خوشیاں  اور تمام  مسرّتیں  اور تمام توجّہات کا صرف ایک مرکز؟ یہ دولت؟ یہی جسے  انسان کے  اپنے  ہاتھوں  نے  جنم دیا تھا۔ مگر یہ تو آج خود انسانوں  کو جنم دے  رہی ہے۔ ایسے  بڑے  انسانوں  کو جو انجیلا  کے  باپ اور چچا جن کے  لئے  چرچ کی نشستوں  میں کارڈ لگتے  ہیں۔ یہ کیسا صنم ہے  جو انسانی ہاتھوں  سے  تراشا گیا اور انسانی  پرستش کا  واحد حقدار بن گیا۔ کیا انسان خود اپنے  ہی ہاتھوں  مجبور ہے۔ اوہ خداوند!

وہ کچھ اسی طرح سوچ رہی تھی کہ اسٹیج پر مارگرٹ کا بچّہ ہیپر  سانتا کلاز کے  روپ میں   نمودار ہوا۔ ایک بار پھر تالیوں  کے  شور سے  فضا گونج اٹھی لیکن اس کا خون پھر کھول اٹھا۔ یہ کیا مذاق ہے ؟ کیا یہ ہماری خوشیوں  کے  ٹھیکے  دار بن بیٹھے  ہیں ؟ کیا سانتا کلاز بھی ہماری تحقیر کرنے  پر اتر آیا ہے۔ سانتا کلاز  کیا تم یہ احساس دلا رہے  ہو؟ اسی لئے  نا کہ ہم تمہارے  سیم و زر سے  خریدنے  کے  لائق نہیں ؟ بڑی بے  کلی کے  ساتھ پہلو بدلتی رہی۔ وہاں  بیٹھا رہنا  اب آزمائش بن گیا تھا۔ ہر مظاہرہ اسے  منہ چڑاتا تھا لیکن پھر جلد ہی وہ مختصر سی تمثیل شروع ہو گئی  جس میں  یسوع کا بچپن اور ان کی تبلیغ دکھائی گئی تھی۔

اس نے  اطمینان کا سانس لیا کم از کم اب ہی وہ ان تفاوتوں  سے  چھٹکارا پا سکے  گی جن سے  اب تک وہ اپنا پیچھا چھڑا نہ سکی تھی۔ لیکن یہ کیا؟ یسوع کے  حواری فلٹن، انجیلا رابرٹ اور پیٹر؟ اور یسوع کے  دشمن، کواٹروں  میں  بسنے  والے  ڈنکن، جونی، ہیلی، اسپیرو! کیا اس دنیا کی وسعتوں  سے  پرے  بھی یہ اپنی دولت کا جال پھینکنے  سے  باز نہ رہے۔ کیا انسان کے  قالب کے  اندر کوئی بھی جھانک کر دیکھنے  والا نہیں ؟ یہ اندھیر ہے، یہ بے  انصافی ہے، یہ ظلم ہے۔ اس کے  اندر نفرت کا  ایک مہیب جوالا مکھی پھوٹ پڑا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ وہاں  سے  نکل کر بھاگ جائے۔ لیکن ٹام، جم اور پنٹو  کی دلچسپیاں  بھاری بیڑیاں  بن کر  اس کے  پیروں  میں  پڑ گئیں۔ وہ اپنے  آپ پر جبر کئے  بیٹھی رہی اور اس کی شر باتوں  میں  خون کھولتا رہا۔

کنسرٹ ختم ہونے  کے  بعد  جب وہ وہاں  سے  اٹھی تو ایک  اضطراب کے  عالم میں  اس کی نس نس اس طرح دکھ رہی تھی جیسے  وہ برسوں  کی بیماری کے  بعد بستر علالت سے  اٹھی ہو۔ اس کی آنکھیں  جل رہی تھیں  اور شام کی خنکی کے  باوجود اس کے  ہونٹ خشک پڑ چکے  تھے۔

جب وہ گھر میں  داخل ہوئی تو سورج قریب قریب ڈوب چکا تھا۔ اس نے  جلدی جلدی  چائے  بنا کر سب کو پلائی۔ بچّے  باہر کھیلنے  چلے  گئے  اور ہیرس پاس کے  کوارٹر میں  جونی کے  باپ سے  خوش گپّي کرنے  چلا گیا۔ لیکن وہ سامنے  باؤنڈری کے  اندر کھلنے  والی کھڑکی کے  پاس کھڑی ہو گئی۔ اس کی پرانی ساری کے  پردے  اب بھی ہلکے  ہلکے  ہل رہے  تھے۔ مگر ہوا بے  کیف تھی۔ بچّے  شام کے  دھندلکوں  میں  دن بھر کے  تمام واقعات سے  بے  پرواہ ہو کر کھیل رہے  تھے، چیخ رہے  تھے  اور ہنس رہے  تھے۔ ان کی زبانوں  سے  مناجاتوں  کے  ٹکڑے  ادا ہو رہے  تھے۔ وہ ان کو دیکھتے  ہوئے  بھی نہ معلوم کہاں  گم تھی۔ ان کے  ان مشغلوں   کا اسے  ذرا بھی پتہ نہ تھا۔

تاریکی جب کافی بڑھ گئی تو اسے  کوارٹر میں  اندھیرے  کا احساس ہوا۔ اس نے  لیمپ روشن کیا اور پھر دریچے  میں  کھڑی ہو گئی۔ آج دن بھر کے  واقعات اس کے  دماغ کو بری طرح جھنجھوڑ رہے  تھے۔ معاً اسے  خیال آیا یہ رات سانتا کلاز کی آمد کی رات ہے۔ اس نے  آتشدان کی کارنس کی طرف مڑ کر دیکھا۔ بچّے  اپنے  موزے  لٹکا چکے  تھے۔ اس کے  ہونٹوں  پر ایک  زہر خند پھر پھیل گیا۔ اس نے  ہیرس کا ایک بڑا موزہ اٹھایا اور ایک کیل سے  آتش دان میں، بالکل غیر ارادی طور پر لٹکانا ہی چاہا تھا کہ ہیرس کمرے  میں  داخل ہوا اور استعجاب سے  اس کی طرف دیکھنے  لگا۔

’’مرتھا۔ تمہیں  سانتا کلاز سے  تحفہ چاہیئے  کیا؟‘‘

وہ مڑ کر چپ چاپ خالی خالی نظروں  سے  اسے  دیکھنے  لگی۔ لیکن وہ تو بس صرف کھلونوں  سے  بہلاتا ہے، سچّی خوشی سے  نہیں!‘‘ ہیرس مسکرانے  لگا مگر اس کے  چہرے  کا پھیکا پن اس مسکراہٹ کو  دھندلا کر رہا تھا۔ مرتھا کے  ہاتھ سے  موزہ گر گیا۔ اس کی آنکھیں  بے  مقصد اسے  تکتی رہیں۔ سچّی خوشی؟ سچّی خوشی! سچّی خوشی کہاں  میسّر ہو گی؟ کہاں  آخر؟ اے  خدا۔ ۔ !

 

                                                         ( ۱۹۵۶ء  )