کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

چشم بد دور ٣

راجندر سنگھ بیدی


یہ واقعہ بھی سنیچر ہی کے روز ہوا۔ تم کہو گے کہ تمھارے ساتھ سب واقعات سنیچر ہی کو کیوں ہوتے ہیں؟ تو بولو میں کیا جواب دوں ۔ یہی کہہ سکتا ہوں نا، کہ ہفتہ کے باقی دِنوں میں تو میں واقعات کو ہوتا ہوں… بات سیدھی ہے، باقر بھائی۔ سنیچر کے دن میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے ایک دن پہلے کوئی چھٹّی نہیں ہوتی (ہاں، سال میں ایک دن ہوتی ہے۔ البتہ گڈ فرائی ڈے والے دن، لیکن چند لوگوں کی بدقسمتی سے بعض اوقات گڈ فرائی ڈے بھی اتوار کو آ پڑتا ہے اور ان کی تعطیل ماری جاتی ہے!) لیکن سنیچر کے روز کوئی ایسی قباحت نہیں ہوتی۔ ایسی سکّہ بند چھٹی آتی ہے کہ آدمی سب کی چھٹّی بُلا کے رکھ دیتا ہے۔ وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ سنیچر سے ایک دن پہلے اُسے جمعہ کی نماز پڑھنی پڑی تھی۔ نماز تو خیر فرض ہے، اتوار کو بھی۔ لیکن تم سچ بتاؤ، باقر بھائی۔ اپنی سلمیٰ کی قسم کھاؤ۔ کیا اتوار کو تمھاری نمازیں قضا نہیں ہوتیں! یہ سب باتیں تم سے میں اوپن اس لیے کہہ رہا ہوں، کہ تو دَہریا ہے، اگرچہ سید زادہ ہے۔ میں نے سب مذہبوں میں دیکھا ہے کہ جو لوگ بانیِ مذہب کی براہِ راست یا چَپ اولاد ہوتے ہیں، وہی مذہب اور اُس کے قوانین کو کم مانتے ہیں۔ ایک دن تم ہی کہہ رہے تھے نا؟— گئے تھے روزے بخشوانے، اُلٹی نماز گلے پڑی، کہا نہیں تھا تم نے؟ دیکھ— اب جھوٹ مت بول، مت کُفر تول… سنیچر کی صبح کو البتہ کائنات کے نمبر دو (پیسے نہیں) ستارے، جسے تم زُحل اور ہم ہندو لوگ سنیچر کہتے ہیں، کو تھوڑا رشوت دینی پڑتی ہے، اور بس۔ اور وہ رشوت بھی آج کل کی رشوت کے مقابلے میں کیا ہے؟ اس سے سو گنا زیادہ تو دہلی کے ایکا ایکی کے سفر میں ریلوے کا کنڈکٹر گارڈ لے جاتا ہے۔

پولس کی تو بات ہی چھوڑو۔ تمھارا حادثہ ہوا، چوٹ بھی لگی، گاڑی بھی ٹوٹی اور جب تھانے میں رَپٹ دینے کے لیے گئے ، تو محرّر یا ڈیوٹی افسر کیا ’’سیاں دھیرے سے، سیّاں چُپکے سے‘‘ کے انداز میں دراز آپ کے سامنے کھول دیتا ہے۔ سنیچر کے دن رشوت صرف اتنی ہے کہ بس مندر جاؤ ،جس کے بغل میں ایک دُکان ہو گی، ہمیشہ ہو گی، جہاں سے تیل، ناریل، ہار وغیرہ مل جائیں گے۔ وہاں سے سرسوں کے تیل کی ایک پلی خریدو۔ سرسوں کا نہ ملے تو کھوپرے ہی کا چلے گا، جو پچیس پیسے میں مل جائے گا۔ تیل ڈالنے کے لیے لوہے کی کٹوری تیل والا خود ہی دے گا اور اُس کے لیے کوئی الگ دام نہیں لے گا، کیوں کہ مُورتی پہ چڑھاوا ہو جانے کے بعد وہ کٹوری اپنے آپ تیل والے کے پاس چلی آئے گی، مع تیل کے۔ اگر تیل والا اور پانڈے جی آپس میں ملے ہوئے ہیں اور پتّی رکھے بیٹھے ہیں، تو ہمیں اس سے کیا ؟ ہم تو انجلی کر چکے ہیں۔ تیل والا شروع ہی میں جو آپ کو چند بوندیں کم دے گا۔ اسے ہی کٹوری کا کرایہ سمجھو۔ مندر میں ایک دن میں ہزاروں لوگ آتے ہیں تو ایک ایک بوند کر کے کَے بودیں ہوئیں؟ تم ایک بوند کو کم سمجھتے ہو؟ اگر وہ کم ہوتی تو شیخ سعدی کبھی نہ کہتے۔ اے کہ تو یک قطرۂ آبی… تو، لوہے کی کٹوری میں تیل، تیل میں چند دانے ماش کے اور ایک پیسا تانبے کا۔ پہلے تو یہی ہوتا تھا، لیکن آج کل تو تانبا رہا ہے نہ پیسا۔ پیسے کی جگہ پانچ دس پیسے نے لے لی ہے اور تانبے کی جگہ نِکل نے، جو کسی نہ کسی طرح سے تمھاری جیب سے نکل ہی آئے گا۔ یہ سب لے کے چلو، کیونکہ دیوتا لوگ بھی موقع شناس اور معاملہ فہم ہو گئے ہیں اور حالات کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا سیکھ گئے ہیں۔ وہ اُنھیں بھی گریہ پیشانی سے قبول کر لیں گے۔ بات یہ ہے، باقر—سنیچر کا تعلق ہر کالی چیز سے ہوتا ہے، جس کا دان واجب ہے۔ مثلاً لوہا، ماش، کالا کپڑا، چھتری، نمبر دو کا پیسا، تمھارا دل، فلم ، لیکن دان کے سلسلے میں تم لوہے کی کٹوری میں تیل تک ہی رہو۔ بہت وہ نہ اُڑو۔ ہاں جو کام پچیس پیسے میں ہو جائے، اُس کے لیے لاکھوں کا کیا سوچنا؟ تیل کی پلی میں اپنا منھ دیکھتے ہوئے مندر کو دہاؤ اور جاتے میں صرف تیل ہی میں دیکھو تمھیں اس میں اپنا چہرہ اپنے باپ کا دکھائی دے گا، جس میں کوئی شرم کی بات نہیں۔ ٹھاکر دوار پہنچو تو جوتا اُتار دو ۔ اُتار لو میں نے کب کہا ہے! آخر دہریے ہونا؟جوتا مندر سے باہر بیٹھی ہوئی عورت کی تحویل میں دے دو۔ یہ بہت ضروری ہے۔ تم عورت کو جانتے ہی ہونا۔ اگر تم جوتا اُس کے ہاتھ میں نہیں دو گے تو وہ خود لے لے گی، جوتے کے بعد مندر میں جاؤ اور باہر کا سب بھول جاؤ۔ مورتی کے سامنے سر نہوڑاؤ تو کسی عورت کا خیال دل میں نہ لاؤ، چاہے وہ اپنی ماں ہی کیوں نہ ہو۔ پھر کوئی جاپ، کسی اسمِ اعظم کا ورد کرو۔ اگر یاد نہیں تو نہ سہی۔ کوئی ایسی بات دل میں دہراؤ، جس میں کم سے کم وزن یا ترنم تو ہو۔ ایک بات تمھیں بتا دوں کہ سب دیوی دیوتا، پیر پیغمبر گد یعنی نثر کے بہت خلاف ہیں۔ اس لیے کچھ بھی یاد نہ آئے تو یہی کہتے جاؤ۔ لالہ موسیٰ چھ چھ پیسے، لالہ موسیٰ چھ چھ پیسے… یہ تمھیں ریل گاڑی کی آواز معلوم ہوتی ہے نا؟ ریل گاڑی ہمیشہ وہی کہتی ہے، جو تم کہتے ہو۔ ایسے ہی بھگوان بھی وہی کہتا ہے جو تم کہتے ہو۔ اُس کے کوش یا لغت میں ہر بات کا ایک ہی مطلب ہے—ہمہ اوست… لالہ موسیٰ نہیں پڑھ سکتے تو دیوی کی پرکرما ہی کرو—وہ سالا— رتن سنگھ کہتا ہے، پرکرما سے میں تھک جاتا ہوں۔ ابے— تھیئے، خارپشت کی اولاد، تو جو دن میں بیس چکّر اُس رانڈ مالا کے کاٹتا ہے تو کیا تین بھگوان کے گرد نہیں کاٹ سکتا؟ مندر سے باہر آؤ گے تو پہلا بَردان سنیچر کا یہ ملے گا کہ اوپر تمھارے اینگل سے تمھیں جوتی رکھنے والی کے دودھ دکھائی دیں گے، جن میں کوئی دودھ نہیں ہو گا۔ دوسرا یہ کہ چاہے تمھاری جیب میں پیسا بھی نہ ہو، مگر بے شمار بچّے تمھیں گھیر لیں گے— اور پکاریں گے، سیٹھ، او سیٹھ… بس دنیا میں جس کو عورت اور پیسا مل گئے، اُسے اور کیا چاہیے۔ معاف کرنا باقر بھیّا، میں بات ذرا لمبی اور گھُما پھرا کے کرتا ہوں۔پروموشن رک جانے سے میرا دماغ گھوم گیا نا۔ تمھارا جب اور جہاں جی چاہے، ٹوک دینا۔ جن تنتر میں آدمی کو یہی تو حق ہے کہ جھوٹ کو وہ چاہے نہ روکے، مگر سچ کو ضرور ٹوکے… بات میں سنیچر کی کر رہا تھا۔ لیکن فی زمانہ ایک بات اور دوسری میں ربط رکھنا بڑا کٹھن ہو گیا ہے۔ ہمارے سب شاعر اور ادیب اِس کے گواہ ہیں، پر وہ بھی کیا کریں۔ مہنگائی بھی تو کتنی بڑھ گئی؟ قدروں میں اتھل پتھل ہو گیا۔ ربط تو گیا ہی تھا، ساتھ ضبط بھی گیا۔ معلوم ہوتا ہے سمے نے ریسرپن کا ٹیکہ لگا دیا اور دماغ کا وہ حصہ ہی ماؤف ہو گیا جو بتاتا ہے کہ پہلے آپ یہ بات کر رہے تھے اور اب یہ کر رہے ہیں۔ انگریزی محاورے میں گفتگو کا تاگہ کچھ یوں ٹوٹتا ہے کہ جڑتا ہی نہیں۔ جوڑ میں تو صاف گانٹھ دکھائی دیتی ہے۔ اب تو زندگی تصوّر کے سائبیریا میں، کسی لیبر کیمپ میں گزارو۔ پھر کھانا پینا۔ اب اس بناسپتی کو کھا کر کوئی کسی بدکار یا سرکار سے کیا لڑے گا، جو بازار میں ملتا ہی نہیں؟ چھوڑو سب—— یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں جانور اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اُڑ جائیں گے کیسا رہا شعر؟ میں نے اسے ایک ٹرک کے پیچھے لکھا ہوا پڑھا تھا! دراصل شعر اپنے آپ میں اچھا ہوتا ہے نہ بُرا۔ اُس کا برمحل استعمال ہی اصلی بات ہے۔ یہ گُر میں نے مولانا آزاد کے دیوان ’’غبار خاطر‘‘ سے سیکھا ہے، باقر بھیّا! تم نے اُس دن کہا تھا نا کہ رہنے والے ہو تم کیرل کے، نام ہے تمھارا رامن، پھر اتنی اچھی اُردو تمھیں کیسے آتی ہے؟ بات یہ ہے کہ تعلیم میں نے عثمانیہ میں پائی۔ وہ تو میری ماں کے مر جانے اور آخر باپ کے ڈر جانے سے بند ہو گئی۔ لیکن پارٹی مین ڈیٹ پہ میں نے اُردو اور ایک حد تک فارسی میں خاصی بُدشد حاصل کر لی۔ کہیں پُور ا پڑھ جاتا، باقر میاں، تو میں بھی آج کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہوتا اور لڑکے لڑکیوں کا گھیراؤ کرتا۔ اب میں بالکل عوام میں سے ہو کر رہ گیا ہوں، جو مجھے آم کی جمع معلوم ہوتے ہیں۔ یوں مجھے عوامی انداز ہی کے شعر اچھے لگتے ہیں۔ غالب اور میر کی شاعری بالکل پسند نہیں۔ ہاں، کون دماغی کسرت کرے؟ ہے سنگ پر براتِ معاشِ جنونِ عشق اب تم ہی انصاف کرو کہ اگر ہم ہندستانی آدھی درجن اضافتوں کے متحمل ہو سکتے ہیں تو پھر سرکار کے خلاف ہمیں کیا وہ ہے؟ اور سنو—شیون میں شب کے ٹوٹی ہے زنجیر، میر صاحب بولو— میں تو اسے عوامی بنانے اور لطف اُٹھانے کے سلسلے میں میر صاحب کی جگہ میم صاحب پڑھ لیتا ہوں۔ اب بتاؤ ، میر کے کلام میں معنی پیدا ہوئے یا نہیں؟ عثمانیہ میں جب ہم غالب کا شعر پڑھتے تھے   ؎ دہن اُس کا جو نہ معلوم ہوا کھُل گئی ہیچمدانی میری تو بہت حیران اور پریشان ہوتے تھے کہ دہن اُس کا نہ معلوم ہوا، پھر اُن کی ہیچمدانی کیوں کھل گئی؟ تم ہی بتاؤ۔ اچھی بھلی روز مرہ میں فارسی ہیچمدانی کو گھُسیڑنا کہاں کی شاعری ہے؟ ہاں، اگر تم دھوتی پہ کوٹ اور نکٹائی پہننا چاہتے ہو تو تمھاری مرضی۔ میں سنیچر کی بات سے ذرا پَرے ہٹ گیا ہوں، لیکن آ رہا ہوں، اس کی طرف— یہ چشمہ میرا دیکھ رہے ہو نا؟ اس میں ڈبل کنویکس کے شیشے لگے ہیں۔ عام آدمی ان میں سے دیکھے تو چیونٹی بھی اسے ہاتھی لگے گی ۔ شاید اسی لیے میں روسی کونسلیٹ میں کام کرتا ہوں۔ کیوں کہ روسیوں کو ہر چیز اپنے اصل سے سو گُنا بڑی معلوم ہوتی ہے۔ عوام، دنیا بھر کے عوام کے لیے اُنھوں نے بہت کچھ کیا ہے۔ لیکن عوام کی اتنی گردان کی ہے کہ وہ خواص ہو گئے ہیں۔ تم دیکھنا اگلے پچاس برس کے اندر جو انقلاب آئے گا، وہ خواص ہی کا ہو گا۔ جس کی نیو سب انقلابیوں کی ماں فرانس میں سارتر اور ساربون کے طلبہ نے رکھ بھی دی ہے… میری یہ باتیں کونسلیٹ میں نہ کہنا اور نہ یہ بتانا کہ میں سنیچر ، راہو اور کیتو کی باتیں کرتا ہوں۔ نہیں میری چھٹّی ہو جائے گی، دھرم سے۔ روسیوں کا یہ ہے نا، کہ وہ کہتے نہیں، کرتے ہیں! رُوسی محنتی بہت ہیں۔ اُن کے دفتر میں جو کام کرتا ہے، اُس کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم ہندستانیوں میں خون ہے ہی نہیں، ہے تو اُن کے گروپ کا نہیں، شاید اُن کو پتا چل گیا ہے کہ ہر ہندستانی فطرتاً کام چور واقع ہوا ہے۔ اُس کا بس چلے، بے کار میں پگار ملے تو کبھی کام نہ کرے۔ مغرب میں ہر آدمی کی تمنا ،کہ وہ زندگی کے آخری سانس تک مصروف رہے۔ لیکن ہندستانی یہی سوچتا رہتا ہے کہ کب وہ ریٹائر ہو گا اور کام کے جھنجھٹ سے چھوٹے گا۔ بات وہ پانچ سال بعد کی کر رہا ہے۔ لیکن ٹانگیں ابھی سے پسارنا شروع کر دیتا ہے۔ مجھ سے پوچھو تو میں بتاؤں۔ ہندستانی دراصل کام ملنے سے پہلے ہی ریٹائر ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہاں کی آب و ہوا نہیں، بلکہ اُس کے کرم و عمل کا وہ فلسفہ ہے، جس پہ ضرورت سے زیادہ ہی زور دینے سے وہ بے عمل ہو گیا۔ نہ تھیسس کر بلند اتنا کہ ——ہر تقریر سے پہلے، اینٹی تھیسس تمھیں آ لے … ایک بات ہے، باقر بھائی کہ انسان آخر انسان ہے۔ روس اور امریکہ تو کیا، چاہے وہ ہندستان ہی کا کیوں نہ ہو۔ اسٹیک اور شاشلیک کی جگہ اِڈلی دوسا، مونگ کی دال، مُرغ مسلّم یا کڑاہ پرشاد ہی کیوں نہ کھاتا ہو، مگر زندگی کی ہر اچھی چیز اُسے بھی اچھی لگتی ہے— سنیچر کو مندر سے لوٹنے کے بعد میں نے انڈین ایکسپریس میں پڑھا کہ لِٹل ہٹ ریستوران میں آج مریانا ناچ رہی ہے۔ مریانا ناچتے وقت اپنے بدن پر کہیں صرف انجیر کا پتہ پہنتی ہے۔ ہاں بھائی، لوگ اِسے بھی پہننا ہی کہتے ہیں، پھر سامنے اپنے دودھ پہ وہ مسمریزم کے دو نقطے سے پینٹ کر لیتی ہے۔ حالاں کہ ہماری عورتیں تو کپاس کا کھیت کا کھیت اپنے بدن پر اُگا لیتی ہیں۔ میرے ایک دوست، ارے، تم ہی تو تھے، باقر، جس نے بتایا تھا کہ مریانا کا رنگ گورا ہے نہ کالا۔ بس عشق والا ہے۔ اُس کا باپ لبنانی ہے اور ماں عراقی اور یہ سب کچھ مل کر لوگوں کو مراقی بنا دیتا ہے۔ وہ زیتون کے تیل کی مالش سے اپنے بدن کو اتنا لچک دار بنا لیتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے، اُوپر کے حصّے کا نیچے سے کوئی تعلق ہی نہیں، جیسے ہماری ٹرالی بسیں ہوتی ہیں نا ،جس میں ٹرالی پر ڈرائیور ہوتا ہے اور پیچھے سواریاں اور ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر اُلٹ جاتی ہیں۔ مریانا کو دیکھنے والے بھی تو ایسے ہی اُلٹتے، زخمی ہوتے، مر جاتے ہیں… میں نے تمھیں کہا تھا نا کہ عورت کے بارے میں ہر مرد کا ایک فیٹش — خبط ہوتا ہے، چنانچہ میرا خبط اُس کی کمر ہے۔ اور تم جانو باقر بھائی، دنیا کے سب فساد عورت کی کمر سے شروع ہوتے ہیں! تو سنیچر کی ایک شام کو میں نے ولادی میر، اپنے فوری اُوپر کے افسر سے دو گھنٹے کی چھٹی مانگی، لیکن اُس نے اتنے رُباب سے ’’نیئت‘‘ (نہیں) کہا کہ مجھے اس کی نیّت پر شک پیدا ہو گیا۔ ایسی قطعیت صرف روسی ہی کے لہجے میں ہو سکتی ہے۔ اُس کے ساتھ والے میز پر ولادی میروارناف کافوری افسر نکولائی کرپاٹکن بیٹھا تھا۔ اب روسی دفتروں میں ایسا ہوتا ہے کہ آپ اپنے فوری افسر کے اوپر کے فوری افسر سے بات نہیں کرسکتے۔ اس لیے میں نے اپنی درخواست کو ولادی میروارناف ہی کے سامنے دہرایا، بیوی کی بیماری کا بہانہ بنایا۔ لیکن وہ جواب میں بولا۔ نہیں، گھنٹہ بھی نہیں۔ مجھے زیادہ بُرا اس لیے نہیں لگا کہ میں جانتا تھا، اس کی ہندی میری روسی سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ اس لیے گھونٹ کا خون پی کر رہ گیا۔ یعنی کہ چُپ ہو گیا۔ چُپ تو ہم پہلے ہی رہتے تھے، مگر اب اور بھی چُپ ہو گئے۔یہ اور بھی چُپ، کیا ہوتا ہے۔ یہ تم نہ جان سکو گے میری جان، کیونکہ تم دفتر کے بیابان میں کبھی کھوئے ہی نہیں… عام طور پر دفتر سے چھ بجے چھٹی ہو جاتی ہے۔ ابھی پورے دس منٹ باقی تھے کہ میں نے انوائسیس سمیٹنا شروع کر دیں اور ولادی میر کی طرف اس لیے نہیں دیکھا کہ وہ ضرور میری طرف دیکھ رہا ہو گا۔ میرے دماغ میں مریانا کے بارے میں اپنے آپ ایک نظم پل رہی تھی۔ مریانا، او مریانا، تیرے لیے آج۔ مر جانا… کیسی ہے؟ ارے نہیں باقر بھیّا۔ کہاں پشکن اور کہاں میں؟ لیکن یہ تم نے ٹھیک کہا تھا کہ میری نظم پشکن کی 1831 میں کہی گئی نظم،جب تو میری بانہوں میں ہوتی ہے، سے ملتی ہوئی ضرور معلوم دیتی ہے۔ انیسویں صدی کے شروع اور اس کے آخر تک اُردو کا ادیب تو یہی لکھا کرتا تھا۔ جب تو میری بانہوں میں ہوتا ہے! کچھ بھی ہو، مگر میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری یہ نظم ایک دم ’ تباہ زاد‘ ہے، اس میں کوئی سرقہ نہیں۔ شعر میں اگر تم مجھے جوشؔ سے ملاؤ تو مجھے بُرا نہیں لگے گا، البتہ کیوں کہ میں بھی آخر اُنہی کے وزن کا تخلص فرماتا ہوں۔ ہوش! جیسے تیسے بھی میں نے وہ دس منٹ گزارے ۔پھر روسی فراخ دل بھی ہوتا ہے۔ کیا بتاؤں، باقر، دس منٹ کے بعد مجال ہے جو ولادی میر نے ایک نظر بھی میری طرف پھینکی ہو۔ یا نکولائی کرپاٹکن نے ولادی میروار ناف کی طرف! کچھ دیر میں مَیں بس پکڑ کر لِٹل ہَٹ میں پہنچ گیا۔ لِٹل ہَٹ۔ دراصل ایک بڑے ہوٹل کا حصّہ ہے۔ اس کا نام ہی لِٹل ہے، ورنہ اچھی خاصی جگہ ہے اُس میں۔ چیزوں کی وسعت کو آخر پیمانے ہی سے تو نہیں ناپا جاتا۔ ہمارے سامنے اور بھی بہت کچھ ہے۔ دیکھو نا اتنی بڑی کائنات اور پھر اس میں ماں کی گود۔ میکرو کازم میں مائیکروکازم بمبئی شہر کی رونق بڑی ہے، یا سلمیٰ کی بانہوں کا سکوت؟ نصیبن کا برقع بڑا ہے یا مریانا کا انجیر کا پتّہ؟ اگر مالکوں نے دیواروں کو خاص رنگ کا اثر دے رکھا تھا، یا اُن پہ ایسے ہی تجریدی چہرے ٹانک رکھے تھے، تو محض لوگوں کو بھرمانے کے لیے۔ بعض وقت بدصورتی ارادے سے بھی پیدا کرنی چاہیے تاکہ دوسروں کو اپنا آپ خوبصورت لگے۔ آج کا آرٹ یہی سب تو کرتا ہے۔ لِٹل ہَٹ ، ہر عمر، ہر نوع کے لوگوں سے پٹا پڑا تھا۔ اس کی وجہ صرف مریانا کا ناچ، اُس کے بدن کا لوچ اور خوبصورتی ہی نہیں تھی، بلکہ وہ خلا بھی جسے پاٹنے کی خواہش شادی کے تیسرے چوتھے سال ہی مرد اور عورت میں پیدا ہو جاتی ہے۔ اور یا پھر زندگی کی سادہ سی حقیقت، کہ کچھ گھوڑے دوڑتے ہی اُس وقت ہیں، جب ساتھ والے دوڑیں۔ کونے میں مجھے ایک سیٹ نظر آئی، جس کے ایک طرف کوئی دُبلا پتلا منحنی سا آدمی بیٹھا تھا۔ وہ شکل سے لائبریرین معلوم ہوتا تھا… کمال کی بات ہے نا، باقر بھائی، تعارف پر وہ سچ مچ ہی یونائٹیڈاسٹیٹس انفارمیشن سروس کا اسسٹنٹ لائبریرین نکل آیا۔ تم کہو گے کہ لائبریرین کی کوئی خاص شکل ہوتی ہے؟ تو میں کہوں گا، ہاں۔ اُس کے چہرے ہی پہ کارڈ انڈکس ہوتا ہے۔ جیسے ہر شاعر کی ناک میں تھوڑی رطوبت اور منھ میں زیادہ لعاب ہوتا ہے۔ پھر لائبریرین کی آنکھیں یوں گھومتی ہیں، جیسے صفحے اُلٹ رہی ہوں۔ مریانا کی بات چھوڑو۔ اُس کی کمر تو صفیں اُلٹتی ہے… اس اندازے میں کبھی کبھی غلطی بھی ہو جاتی ہے۔ مثلاً ہر امریکن شروع میں بے حد ذہین نظر آتا ہے۔ مگر ’’جیسے ہی دُم اٹھاؤ، مادہ‘‘ والی بات۔ اُسے ڈی سی آٹھ ہوائی جہاز کے سب کل پُرزے معلوم ہوں گے، لیکن اپنے غسل خانے کی ٹونٹی، جس کی چوڑیاں گھس گئی ہیں، اُسے کیسے بند کرنا ہے وہ نہیں جان سکتا۔ یہ تم نے دیکھا ہی ہے نا کہ اکثر ملک سے آدمی پہچانا جاتا ہے اور آدمی سے ملک۔ یہ صرف ہندستان ہے۔ کشمیر سے لے کر راس کماری تک پھیلا ہوا ہندستان۔ ہر رنگ، ہر نقش کا مالک، جس کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ مگر جیسے ہی وہ منھ کھولتا ہے تو آدمی سر پیٹ لیتا ہے۔ دَھت! یہ تو وہی ہے! اس اسسٹینٹ لائبریرین نے اپنی انگریزی میں بہت امریکی غنغنہ پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن ہندی کہیں نہ کہیں سے اپنا منھ باہر نکال ہی لیتی ہے، بلکہ اس عمل میں ایک عجیب دوغلی سی چیز پیدا ہو گئی۔ ہندستانی غنغنہ! اُس نے جو بش شرٹ پہن رکھی تھی اس پہ لیکس، پلیکس کے فحش جملے چھپے ہوئے تھے۔ دھندلی سی پورنو تصویروں کے اوپر در ،پھر ان سب کو ایک بجلی رنگ کی وسیع و عریض نکٹائی نے ایک حد تک چھپا رکھا تھا۔ نیچے بیل بوٹم کے اُس نے جیسے ارادے سے پھونسڑے نکال رکھے تھے۔ چہرے پہ دونوں طرف پشکن کی طرح کی بڑی بڑی قلموں کے گپھے… گویا وہ عام آدمی اور ہپّی کے بیچ پیوند معلوم ہوتا تھا۔ وہ … کوئی کتاب ہونے کی بجائے اُس کا سر ورق تھا! یہ تم تھے؟ نہیں نہیں، تمھاری ہی طرح کا کوئی اور تھا، جس نے شادی کرنے کے لیے امریکہ سے ایک لڑکی ہپّی فیراگولو (جس کے آبا و اجداد اٹلی سے جا کر امریکہ میں آباد ہو گئے تھے) آئی تھی۔ خیر فیرا کو کرو فائر اور گولو کو مارو گولی، لیکن ایک بات اس نے آج کے ہندستانی نوجوانوں کے بارے میں بڑے پتے کی کہی تھی ۔ یہ … امریکنوں سے بھی کچھ زیادہ ہی امریکن ہیں۔ کیا مزے کی عورت تھی، باقر، ایسی عورت جو مرد سے ملے بِنا ہی اس سے کئی بار مل چکنے کا عالم پیدا کر لیتی تھی۔ آج کی دنیا میں سب سچ ہے، میرے بھائی۔ کل پڑھا نہیں کہ مرغ کو تکلیف دیے بغیر ہی لوگ مرغی سے انڈے پیدا کرنے لگے ہیں… میں پھر بہک گیا اور تم بھی مجھے نہیں ٹوکتے ۔تم بھی ذہنی طور پر وہ ہو … وہ … اب ہنستے کیوں ہو؟ پکڑے گئے نا؟ تم بھی اُس لڑکی کی طرح سے ہو، جس کے غسل خانے کا دروازہ غلطی سے کھلا رہ جاتا ہے، جی، غلطی سے! وہ ہپّی فیرا گولو … سیدھے مرغی سے انڈے… ہم مرد کی جمع، مردودوں کا کیا ہو گا، باقر بھیّا؟ ارے ہاں، میں بھول ہی گیا۔ یہ عورتوں کا سال ہے، اقوام متحدہ کے مطابق۔ عورتوں کو تم جانتے ہی ہو۔ کیسے وہ اپنی کمزوری کا افسانہ مشہور کر دیتی ہیں اور کمزوری کو بھول ہی جاتی ہیں۔ سال ختم ہونے دو ، اگر عورت سالی نے اسے صدی پہ نہ پھیلا دیا تو مجھے باپ کا نہ کہنا۔ میں مرد شوونسٹ نہیں۔ اگر صدیوں سے مرد نے اسے روندا ہے تو اب وہ اُسے روندے، مگر میں نے دیکھا ہے کہ وہ تو چپکے سے سامنے پڑی رہتی ہے، جیسے روندے جانے کی منتظر… خیر وہ اُسے روندے یا یہ اُسے روندے، بات ایک ہی ہے۔ عوام اور خواص کے جدل کی طرح … مگر، غضب خدا کا عورت جو حقّہ بھی نہیں پیتی، حقوق مانگتی ہے! ضروری بات تو بیچ ہی میں رہ گئی۔ پہلے سنیچر کاندھے پر چڑھ بیٹھا تھا، اب حیف کہ عورت سر پر سوار ہو گئی ہے… ضروری بات یہ ہے کہ وہ اپنا لائبریرین دوست بھی چشمہ لگاتا تھا۔ مجھ میں اور اس میں فرق یہ تھا کہ اس کے چشمے میں ڈبل کان کیو کے شیشے لگے تھے، جیسے میرے میں ڈبل کنویکس کے۔ عام، صحت مند نظر والا اگر ڈبل کان کیو میں سے دیکھے باقر بھائی، تو اسے ہاتھی بھی چیونٹی دکھائی دے گا۔ جیسے میرے میں سے چیونٹی بھی ہاتھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکنوں کو دنیا کے سب لوگ کیڑے مکوڑے نظر آتے ہیں۔ میں ویت نام اور مائی لائی کی بات نہیں کرتا، کیوں کہ جدیدیے مجھ پہ دزدیدہ ترقی پسند ہونے کا الزام لگا دیں گے۔ لیکن باقی دنیا ہی کا دیکھو۔ لیبیا اور اسرائیل میں انھوں نے کیا غدر مچایا ہے۔ ملکوں کو کیسے کیسے ہتھیار دے کر لڑوایا اور خود نفع کمایا ہے۔ شاید اس لیے کہ ان ملکوں کے اپنے ہتھیار کُند یا متروک ہو چکے ہیں۔ کوریا میں 80 فیصد جو لیکوریا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ پھر آیندے یا چلی کا حشر دیکھا ہی ہے نا تم نے؟ ارے وہ شیخ چلی دوسر ا تھا… جیسے میں اپنے ڈبل کنویکس کی وجہ سے روسی کونسلیٹ میں ہوں، وہ ڈبل کان کیو کی وجہ سے امریکی انفارمیشن سروس میں تھا۔ لیکن قدرت بھی ہم ہندستانیوں سے عجیب عجیب طرح سے بدلے لیتی ہے۔ اُس نے اچھی بھلی اسکاچ چھوڑ کر کنیڈا کی سی گرام کا آرڈر دے دیا، صرف اس لیے کہ وہ امریکا کا پڑوسی ہے۔ میں روسی، ڈرنے والا تھوڑے ہی تھا!میں نے بھی وودکا کی حکم کے طریقے سے فرمایش کی، جیسے روسی کرتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ وودکا روس کی نہیں، یہیں آس پاس کہیں کیرالہ میں کشید کی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ہم دونوں میں کشیدگی پیدا ہونے لگی۔ ابھی ہمارے احساسات نے کوئی واضح شکل اختیار ہی نہیں کی تھی کہ بیچ میدان کے کود کے آ گئی — مریانا! گوانی آرکسٹرا میں سے جھانجھے والے نے زور زور سے جھانجھے بجائے۔ پردے کے پیچھے سے بڑے کھرج والی پال رابسنی آواز آئی— مر … یا… نے…! مجھے نہیں معلوم تھا کہ مریانا کو مریانے بھی کہہ سکتے ہیں، یا کہتے ہیں۔ میرے اندر جو نظم پیدا ہو رہی تھی، ایکا ایکی بدنظمی کا شکار ہو گئی۔ سب قافیے غلط ہو گئے میرے۔ ہوش اُڑ گئے! پھر گوانی آرکسٹرا— اور مریانا کا ناچ۔ چھک چھک ۔ چھکا چھک۔ دھک دھک، دھکا دھک… ہے اے اے اے اے ے ے ے ے !— اور کمر! یہ سب نیگرواسپری چوال تھا اور نہ ہپّی ہریسنی میوزک۔ کوئی دوغلی چیز تھی، جو اب ہندستانی کے بجائے افریقی طنطنہ ہو گئی تھی۔ اصلی چھٹی تو ہوئی، جب مریانے نے کمر، ناف سے آواز نکال کر گانا شروع کیا—تم میرے لیے کیا لائے ہو؟ آرگل کی جُرابیں لائے ہو—اچھا کیا، اچھا کیا۔ تم میرے لیے کیا لائے ہو؟ موزنبیقی موتیوں کی مالا لائے ہو—اچھا کیا، اچھا کیا موں مارت کا عطر لائے ہو— اچھا کیا ، اچھا کیا میں تو تمھارے لیے کچھ نہیں لائی، جان!… میرے پاس تو ایک دل ہے، جو صرف تمھارے لیے ہی دھڑکتا ہے… اور پھر — اچھا کیا، اچھا کیا… ارے باقر میاں ، مرد بڑا اُلّو کا پٹھّا ہے … وہ جانتا بھی ہے کہ ہال میں اس ایسے سینکڑوں دوسرے—تیے بھی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ یہی سمجھتا ہے اور سمجھنا چاہتا ہے کہ وہ جو بھی کہہ رہی ہے، مجھی سے کہہ رہی ہے۔ لِٹل ہَٹ، میں لڑکیاں بھی تھیں، مگر ان کا مت پوچھو۔وہ یا تو مریانا کی نظروں سے مردوں کو دیکھ رہی ہوں گی اور یا پھر سیدھے اُس کے’لباس‘ کو۔حقیقت باقر بھائی ،جلیبی کی طرح سے سیدھی ہے۔ مرد سب سے زیادہ کیا پسند کرتا ہے؟—عورت! عورت سب سے زیادہ کیا پسند کرتی ہے— شاپنگ! اس سلسلے میں تم تیار ہو، باقر، چونکہ یہ عورتوں کا سال ہے۔ ہمارا تمھارا سب کچھ بک جانے والا ہے۔ ڈیمانڈ اتنا بڑھ جائے گا کہ سپلائی بند ہو جائے گی! ایک بات اور بھی ہے۔ آزاد ہو کر شاید یہ عورتیں ہماری عزت کرنے لگیں۔ ہم عورتوں کی جتنی عزت کرتے ہیں، یہ خو د عورتیں بھی نہیں جانتیں… تم ہی بتاؤ ہم نے کبھی کسی کو باپ بھائی کی گالی دی ہے؟ کیا بتاؤں ، دوست؟ مریانا کے ناچ گانے سے ’لِٹل ہٹ‘ کے رجنی گندھا اور ڈاھلیا تو ایک طرف، کیکٹس بھی مہکنے لگے تھے… دیکھو، اب تم شرارت مت کرو۔ خدا گواہ ہے کہ کیکٹس کے سلسلے میں میرا اشارہ قطعاً سردار جی لوگوں کی طرف نہیں ہے۔ ایسا کرو گے تو مجھے پٹوا دو گے، مروا دو گے… اگر میں ان کی بات کرتا تو کہتا کیکٹس بھی لہکنے لگے تھے، چہکنے لگے تھے۔ بہت وہ کرتا تو کہتا—بہکنے لگے تھے۔ مہکنے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے؟ کچھ دیر بعد مریانا اپنا لباس—انجیر کا پتّا بدلنے کے لیے اندر چلی گئی تھی اور میں ہوش میں آنے کے بجائے جوش میں آچکا تھا۔ قافیے میرے سامنے یوں کھل گئے جیسے میرا ذہن نور اللغات ہے۔ لیکن بدقسمتی سے میرا اُس اسسٹنٹ بلکہ اسسٹنٹ لائبریرین سے جھگڑا ہو گیا۔ بات یوں ہوئی کہ میں پہاڑی کی دھُن پر دھیرے دھیرے گانے لگا۔ پھر دماغ ہی تو ہے نا۔ میرا خیال اُس عظیم مغنّی سہگل کی طرف چلا گیا اور میں نے اُس کارڈانڈکس سے پوچھا— آپ کو یاد ہے، سہگل کب مرا تھا؟ جانتے ہو کیا جواب دیا اُس نے؟ بولا—ابھی ابھی، میرے سامنے ہی تو مرا ہے… میری سینس آف ہیومر کو تو تم جانتے ہی ہو، کتنی تیز ہے۔ روسیوں کی طرح سے۔ میں اُسی وقت سمجھ گیا! یہ امریکی سالے—واٹرگیٹ والے۔ اپنا اسلحہ دوسرے ملکوں میں بھیج کر انھیں لڑواتے ہیں۔ خود منافع کھاتے ہیں۔ ہم روسی بھی بھیجتے ہیں، لیکن اُن کے ہتھیاروں کو بے کار کرنے، دنیا میں امن لانے کے لیے۔ میں نے سوچا کیوں نہ میں اُن کے ہتھیار اُنہی پہ استعمال کروں۔ مجھے امریکی مارک ٹوئین یاد آ گیا۔ میں نے خالص روسی دبدبے سے اپنے مزاح کی حِس کو تھوڑا ڈل کر کے اُس سے پوچھا۔ آپ جانتے ہیں، ایک لائبریرین اور گدھے میں کیا فرق ہے؟ ہو سکتا تھا، اس آناً فاناً کے سوال سے سیدھے ہی لڑائی شروع ہو جاتی، لیکن وہ میرے تن و توش، تخلص ہوش، روسی جوش کو دیکھ کر تھوڑا ڈر گیا اور ل…لکنت سے بولا۔ مجھے نہیں معلوم! میں نے کہا، مجھے بھی نہیں معلوم… اور اپنے اس لطیفے پہ میں خود ہی اتنا ہنسا کہ آس پاس کے لوگ بھی ہنسنے لگے۔ وہ مقولہ ٹھیک ہی تو ہے کہ ہنسو تو دنیا تمھارے ساتھ ہنسے گی، روؤ تو —پھر بھی وہ ہنسے گی! چونکہ اس کو پتا چل چکا تھا کہ میں روسی کونسلیٹ میں کام کرتا ہوں، اس لیے اس نے سیدھے ہی روسیوں کی بُرائی شروع کر دی۔ مجھے بڑا تاؤ آیا، باقر بھائی… کوئی تمھاری تائی کو بھی گالی دے، یہ جانتے ہوئے کہ تم میرے جگری دوست ہو، تو بتاؤ وہ گالی تمھیں لگے گی یا مجھے! میں نے چشمہ اُتار کر میز پر پٹخ دیا اور ’’سی آئی اے‘‘ کو گالی دی۔ وہ کے جی بی کو بیچ میں لے آیا اور میرے چشمے کا جواب اپنے چشمے سے دیا۔ میں نے خالص پرولتاری انداز سے جوتا اُتار کر میز پر مارا، جیسے خرشچوف نے اقوم متحدہ کے جلسے میں مارا تھا۔ اس سے دونوں چشمے میز پر یوں اُچھلے جیسے وہ مُرغ ہیں اور آپس میں لڑ رہے ہیں… میں نے روزن برگ کے مار دیے جانے کی بات کی۔ میرا بس چلتا تو فیض کی نظم اُس کے منھ پہ دے مارتا… وہ سالا سکھاروف اور سولہٹزنسن پہ چلا آیا اور اُس کی گلاگ آر کی پیلیسگو سے حوالے دینے لگا… اُس موٹے تازے کتّے کی بات کرنے لگا، جو فرانس میں اس لیے چلا آیا تھا کہ اُس کے اپنے ملک میں روس میں کھانے کو تو بہت دیتے ہیں، مگر بھونکنے نہیں دیتے— میں نے اسٹووروں کی خلیج کا قصّہ چھیڑ دیا (سنا ہے خاص نام کا ترجمہ نہیں کرتے) اُس نے چیکوسلواکیہ سے زنا بالجبر کی بات کی (تو کیا عام کا ترجمہ کرتے ہیں؟) میں نے مافیا، کارٹل ، پورنو، بِلو فلموں — سب کو بیچ میں گھسیٹ لیا اور خوب ہی اس کی بے عزّتی کی۔ اب ہماری آوازیں اونچی ہو کر اِردگرد کی سب آوازیں کو بونا کیے دے رہی تھیں۔ ارے ارے ۔ اے یو ، لِسن، … سب بے کار ہو گیا تھا… یہ کیا مچھلی منڈی ہے؟… ایسے میں یہ سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا کہ برابر کی میز پہ بیٹھی ہوئی لڑکی اپنی جملہ محبت کو ہونٹوں تک لائے اور پوچھ سکے۔ کب ملو گے، جان، کہاں ملو گے؟ معلوم ہو رہا تھا کہ ہماری وجہ سے وہ کبھی، کہیں بھی نہیں مل سکتے۔ ’’تم بات کرتے ہو یینکی‘‘ میں نے چلاّ کر کہا، جس کی تہذیب ہی جمعہ جمعہ چارسو سال پُرانی ہے۔ جو کبھی مہیش یوگی کا سہارا لیتا ہے اور کبھی پر بھو پاد کی دُم سونگھتا ہے… ہرے رام، ہرے کرشن کے بچّے؟‘‘ ’’تو کیومِس کے نطفے…‘‘ اور ہم دونوں بیک وقت اُٹھ کھڑے ہوئے اور گرج گرج کر باتیں کرنے لگے ’’تم ہندستانی جاہل ہوتے ہو، بدتمیز ہوتے ہو‘‘ اُس نے کہا۔ دروازہ کھٹکھٹائے بغیر تو کمرے میں چلے آتے ہو۔‘‘ میں نے اسی پائیدار آواز میں کہا: ’’ہندستانی ہو گا تیرا باپ۔ تو جب اس دنیا میں آیا، کوئی دروازہ کھٹکھٹایا۔ اب تک ہم دونوں مکمل طور پر روسی اور امریکن ہو چکے تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہیں ہاٹ لائن پر سے آواز آ رہی ہے۔ رو کو، روکو۔ لیکن ہم دونوں اس بات کے لیے تیار تھے کہ بٹن دبائیں اور دونوں ملکوں کے آئی سی بی ایم چھوڑ کر نیویارک اور ماسکو کو تو تباہ کر دیں۔ اسلام آباد اور دہلی کا پھر دیکھا جائے گا… پہلے میز اُلٹی۔ پھر کرسیاں گریں۔ اُن کے بیچ میں سے ہوتا ہوا لِٹل ہٹ کا منیجر ہم تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ عورتوں کے سال والی ایک عورت بے ہوش ہو گئی، سالی۔ کچھ لوگ موقع کا فائدہ اُٹھا کر باہر بھاگ گئے اور بِل ادا کرنے کے عذاب سے چھوٹے۔ یہی نہیں کچھ لوگ دہشت کے عالم میں اندر گھس آئے۔ مریانا ونگ میں آدھی اندر، آدھی باہر دکھائی دے رہی تھی۔ چشموں کی غیر موجودگی میں صرف اتنا ہی دکھائی دے رہا تھا کہ وہ کالا گاؤن پہنے ہوئے ہے۔ اس سالے اسسٹنٹ نے مجھے ٹائی سے پکڑ رکھا تھا، مگر اس کے ہاتھ صاف کانپتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے اُس کی بش شرٹ کے کالر کو اتنے زور سے مروڑا کہ اُس کا گلا گھُٹ گیا۔ اُس کی آنکھیں باہر چلی آئی تھیں۔ باہر تو زبان بھی چلی آئی تھی، مگر تھوڑی سی… اب جس زبان سے وہ گالی دے رہا تھا، وہ کسی ملک کی نہ تھی۔ یہ وہی آواز تھی، جو زبان کی ایجاد سے صدیوں پہلے انسان غاروں میں بولا کرتا تھا… یا ہو سکتا ہے وہ کوئی فری میسنری ہو، کوئی اسپرانٹو۔ نہیں، اب مجھے یاد آتا ہے وہ۔ کُو کُو کُو کُو کلاں تھی! پھر ہندستانی فلم کی طرح سے جانے کہاں سے گلدان اس کے ہاتھ میں آ گیا اور اُس نے میرے سر پہ دے مارا۔ اگر ہمارے فلم ساز امریکی فلموں کی نقل نہ کرتے تو وہ کبھی ایسا نہ کرتا۔ میں چکرا گیا۔ جبھی ایک چیخ سی آئی۔ ’’گیٹ آؤٹ، ول یُو وو وو … ‘‘ اور ہال کے ایک طرف کی بتیّاں بجھ گئیں۔ اسپاٹ لائٹ ہمیں پر تھی، جیسے کہ تھیٹر میں مرکزی کرداروں پر ہوتی ہے۔ ’’دیکھا نہیں‘‘ اُس نے پاس آتے، پورا بازو باہر کے دروازے کی طرف پھیلاتے ہوئے کہا ’’رائٹز آف ایڈمیشن ریزروڈ‘‘ پاس کے کسی ستم ظریف نے اُس تحریر کی طرف دیکھا جو دروازے کے باہر لکھی ہوئی تھی اور اس طرف سے اُلٹی پڑھی جا رہی تھی۔ اُسے پہلے حرف ڈی دکھائی دیا، ریزروڈکا اور وہ بولا— ڈی فار ڈیول، ای فار ایول … لیکن منیجر کڑکا’’آپ باہر نکلتے ہیں یا میں پولس کو بلواؤں؟‘‘ اب سچّی بات ہے، باقر بھائی ، روسی ہونے کے باوجود میں تھوڑا ڈر گیا۔ ہاں اس جانبداری سے مجھے لینن پرائز تو کیا نہرو ایوارڈ بھی نہیں ملنے والا تھا۔ پولس کی دھمکی دیتے ہی منیجر بَیروں کی مدد سے خود ہی پولس ہو گیا۔ ہم نے میز کے نیچے ہاتھ مار کر چشمے ٹٹولے، اُٹھائے اور لڑتے بھڑتے باہر کی طرف لُڑھکے۔ وہ امریکی مجھ سے پہلے نکل گیا تھا، ورنہ میں تو اُس کے ساتویں بیڑے کا بحیرۂ عرب، بحر الہند تک پیچھا کرتا۔ حالاں کہ ہال کی بجھی ہوئی بتّیوں کے بحیرۂ اسود سے یہ سب کتنا بڑا فاصلہ تھا! لِٹل ہَٹ کے باہر آیا تو کوئی دھندلی سی سفید چیز جیسے اُڑتی ہوئی دکھائی دی۔ غالباً وہ اُس امریکی پلّے کی گاڑی ہو گی۔ میں نے صرف آواز سنی۔ ’’جلدی، شوفر، جلدی…‘‘ اپنے سسٹم سے بدلہ نہ نکال سکنے کی وجہ سے، میں ابھی تک ہانپ رہا تھا۔ جی چاہ رہا تھا، ایسے ہی مجھ سے کوئی تکرار شروع کر دے تو میں اُسے بتاؤں، جیسے اندر کی جارحیّت کو خارج کرنے کے لیے لوگ ریت کی بوریاں ٹانگ کر اُس پہ مُکّے مارتے ہیں۔ خواب میں بھیڑیے کے منھ میں ہاتھ ڈال کر اُسے پھاڑ کر ٹکڑے کر دیتے ہیں۔ ایسے ہی میں… مگر کوئی ماں کا لال سامنے نہ آیا اور میں اندازے سے بس اسٹینڈ کی طرف مُڑا۔ چشمہ لگایا تو سامنے ایک چابی لگی کھلونا بس، مجھے اسٹینڈ کی طرف آتی ہوئی دکھائی دی… ارے!؟ باقر بھائی… ہمارے چشمے بدل گئے تھے۔ اس جھگڑے فضیحتے میں وہ میرا چشمہ لے گیا تھا اور اس کا میرے ہاتھ میں آ گیا۔ فریم قریب قریب ایک ہی سے تھے، یا ہمیں ایسے لگ رہے تھے۔ اُس وقت گیارہ بجے تھے رات کے، جو میں نے یونیورسٹی کے گھڑیال میں کانوں سے دیکھے اور آنکھوں سے سُنے… میرا پہلا تجربہ بس کا تھا۔ اُس چشمے کے ساتھ۔ کچھ بھی نہ دکھائی دینے سے کچھ دکھائی دیناتو اچھا ہی تھا۔ چنانچہ میں نے وہ چشمہ پہنے رکھا، لیکن جب میں بس میں بیٹھنے کے لیے آگے بڑھا تو یوں لگا جیسے اتنے تنگ دروازے سے میں اندر کیسے جاؤں گا؟ لیکن اپنے بدن کو سکیڑ کر میں نے ڈیک پر قدم رکھا ہی تھا تو دیکھا کہ کوئی بچّہ بس پر چڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، چنانچہ میں نے اپنا پانُو پیچھے ہٹا لیا۔ ایسے ہی بچّے نے بھی کیا۔ شاید وہ میری بزرگی کا احترام کر رہا تھا۔ میں نے پھر قدم بڑھایا تو اس بچّے نے بھی ساتھ بڑھا دیا اور میں نے پھر کھینچ لیا۔ جبھی بس کنڈکٹر کی آواز آئی۔ ’’صاحب ، دا رو پِیے لا کیا؟‘‘… اور اُس نے میرا بازو پکڑ کر مجھے بس کے اندر گھسیٹ لیا اور سیٹ پر جا بیٹھایا۔ جب مجھے پتا چلا کہ وہ پانْو بچّے کا نہیں، میرا اپنا ہی تھا! بس کنڈکٹر کی آواز آئی۔ ’’دیکو… کوئی لفڑا نہیں کرنے کا آں؟‘‘وہ اب تک مجھے پیے ہوئے سمجھتا تھا۔ میں نے کہا ’’میں نے پی نہیں، کنڈکٹر، تھوڑی سی پی ہے۔ مگر میری نظر کمزور ہے۔‘‘ ’’تو پِر چشمہ کا ہے کو رکھا؟‘‘ وہ بولا۔ اب میں کہاں اتنی لمبی راون کہانی دُہراتا۔ میں نے صرف اتنا کہا ’’ورلی ناکا آ جائے تو مجھے اُتار دینا…‘‘ ’’ہو‘‘ اُس نے کہا۔ پیسے لیے، ٹکٹ دیا اور دوسری سواریوں کی طرف متوجہ ہو گیا۔ سیٹ پر بیٹھتے ہی میں نے اپنا چشمہ اُتار لیا— دیکھو، میں پھر اُسے اپنا ہی کہے جا رہا ہوں۔ عادت نہیں چھوٹتی نا، اس کے بغیر جیسے مجھے ہمیشہ لگتا تھا، آج بھی ویسے ہی لگا کہ بس کھڑی ہے اور سڑک کی روشنیاں اپنے گرد بے شمار کرنیں اور ہالے لیے نصف دائرے میں گھوم رہی ہیں۔ اور بڑے بڑے دھبّے ، نیلے پیلے، اُودے کالے، جو نظر آتے ہیں، نئی اور پُرانی بلڈنگیں ہیں۔ پھر اضطرار، محض اضطرار کی وجہ سے میں نے پھر چشمہ پہن لیا۔ میرے ساتھ کی سیٹ پر ایک بڑی پیاری دُلاری سی بچّی بیٹھی ہوئی تھی۔ جب مجھ میں پیار اُمڈتا ہے نا، باقر بھائی، تو میں اُس کی باڑھ کو روک ہی نہیں سکتا۔ میں ہم آغوشی بھی ریچھ کی طرح سے کرتا ہوں… میں کسی روسی سے کم ہوں؟… میں اُس بچّی کے گالوں پر چٹکی لینے ہی والا تھا کہ فوراً مجھے کچھ یاد آ گیا اور میں نے اپنا امڈا ہوا پیار، اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ ٹھیک ہی کیا میں نے، کیونکہ اگلے اسٹاپ پہ جب بس رُکی اور بچّی اُترنے کے لیے اُٹھی تو میں نے اپنا چشمہ اُتار کر دیکھا۔ جو خاکہ میرے پاس سے گزرا وہ ایک جوان بھرپور عورت کا تھا۔ اُس کا سامنا ! معلوم ہوتا تھا جیسے اپنے آپ سے ایک فٹ آگے چل رہا ہے۔ میں اپنی اضطراری عقل سے بچا، باقر بھائی، نہیں تو اس رات میں پِٹ گیا تھا۔ مزے سے بیٹھا میں یاد کے منھ میں اُس خوبانی کو پَپول ہی رہا تھا کہ بس کنڈکٹر کی آواز آئی — ’’ارے ارے … مشٹیک ہو گیا، سالا‘‘ وہ کہہ رہا تھا… ’’ورلی ناکا تو تین اسٹاپ اُدھر رہ گیا۔ اب ہم پربھادیوی کے بیچ ہوتا۔‘‘ ’’کنڈکٹر‘‘؟ میں غصّے سے اتنا ہی کہہ سکا۔ ’’اُترو، اُترو…لوکر… وہ بولا، وہ سامنے اسٹاپ ہوتا الٹا بس کا۔ چیکر آ گیا تو جیاستی پیسا دینے کو پڑیں گا…‘‘ جیسے کنڈکٹر نے میرا ہاتھ پکڑ کر بس پہ بٹھایا تھا، ایسے ہی پکڑ کر نکال بھی دیا۔ بس چل دینے کے بعد مجھے گالی یاد آئی۔ ایسا ہوتا ہے نا باقر بھائی؟ میں گھر کیسے پہنچا، یہ میں ہی جانتا ہوں۔ اپنے گھر کے بجائے دوسرے گھر میں غلطی سے گھُس جانے کی جو خوشی ہوتی ہے، مجھے تو وہ بھی نہ ہوئی۔ گھر پہنچ کر پانْو کو آنکھیں بنا کر سیڑھیاں چڑھا۔ جس دروازے کو میں اپنا سمجھا تھا ، وہ اپنا ہی نکل آیا۔ اندر داخل ہوتے ہی میں سیدھے کرسی پہ جا بیٹھا۔ تم تو جانتے ہو، اندھے کو بھی اپنے گھر کے سب موڑ توڑ کا پتا ہوتا ہے۔ بیوی کو بات بتائی تو اُس نے اس امریکن کو بہت گالیاں دیں۔ لیکن مجھے یوں لگا جیسے تصور میں اسے پھولوں کی چھڑی سے مار رہی ہے، کیونکہ عورت کی گالی میں وہ بات کہاں ہوتی ہے جو مرد کی گالی میں ہوتی ہے۔ اُس رات اور تو کچھ نہیں ہوا، باقر بھائی۔ میں نے عادت سے مجبور پھر چشمہ آنکھ پر رکھ لیا۔ جیسے ہی مُڑ کے دیکھا تو ایک بڑی پیاری، دُلاری سی گُڑیا عورت باہر جاتے، اندر آتے دکھائی دی ۔ ہے بھگوان! وہ میری ہی بیوی تھی؟ تم تو جانتے ہونا، باقر بھائی، للتا ایک عام روسی عورت کی طرح سے موٹی تازی ہے، اس کی کمر کمرہ ہے، لیکن اب… یہ سالے امریکی کیا پلک جھپکتے میں ستّر مِلی میٹر سے آٹھ مِلی میٹر کا پرنٹ بنا لیتے ہیں!میں نے بانہہ پسار کر اسے اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ جانے کب سے پیار کے لیے ترسی ہوئی، اس نے ذرا بھی مزاحمت نہیں کی۔ وہ مزاحمت بھی، جو عورتیں بہت دیر تک پیار نہ کیے جانے کے غصے میں کرتی ہیں۔ شاید اُس نے سوچا کہ انکار کیا تو یہ موقع بھی ہاتھ سے جاتا رہے گا۔ یہی نہیں۔ الٹا شاید عورتوں کا سال منانے کے سلسلے میں اُس نے مجھے اپنی بانہوں میں لے لیا اور دھیرے دھیرے… اُسے معلوم ہونے لگا کہ کوئی چیز اُس کے پیار کے راستے میں آ رہی ہے اور جلدی ہی اُسے پتا چل گیا۔ وہ بولی— ’’تم چشمہ کیوں نہیں اُتارتے؟‘‘میں نے ایک دم اُس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو جھٹک دیا— ’’خبردار!‘‘ اتوار کے دن ساؤتھ بمبئی بند ہوتا ہے، مگر نارتھ ۔ دادر، باندرہ کا علاقہ کھُلا رہتا ہے۔ آدمی چاہے تو ارجنٹ آرڈر دے کر دوسرا چشمہ بنوا سکتا ہے، لیکن انسان کو اتنی سادہ سی حقیقت بھی کون سمجھائے کہ چشمے تک پہنچنے کے لیے بھی تو چشمہ چاہیے، یا سورداس کے آشرم کا کوئی کرمچاری۔ اور پھر کون اتنے خرچ کا متحمل ہو؟ ہمیں ڈالروں کے حساب سے تنخواہ تھوڑے ملتی ہے؟ میرا اتوار جیسے گزرا، اُس سے تو شُکّر ، جمعہ ہی ہزار درجے اچھا تھا۔ وہی تمھاری بات کہ گئے تھے روزے بخشوانے، اُلٹی نماز گلے پڑی۔ اور پھر آپ سے دہریے، سنیچر اور اُس کے کوپ کو بھی نہیں مانتے، کوئی مانے بھی تو اُس کا کیریکٹر شیٹ خراب کر دیتے ہیں، جس سے ترقی رُک جاتی ہے… آدھا دن تو میرا یہی بات سوچنے میں گزر گیا کہ اُس کارڈ انڈکس کا دن کیسے گزرا ہو گا؟ انڈکس کی نوب ڈھونڈنے کے لیے بھی تو چشمے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور اگر وہ نوب اُسے ہُڈسن کار کا وِھیل معلوم ہونے لگے، تو وہ اپنا ہاتھ کھینچ لے گا۔ جانے اسے کیا ہوا اور کیا ہو رہا ہو گا؟ ہو سکتا ہے کہ اُس کے پاس اسپیئر چشمہ ہو، کیونکہ وہ امیر آدمی ہے۔ مگر اگلے روز پتا چلا کہ اُس کے پاس اسپیئر تھا لیکن چند ہی دن پہلے اُس ہاتھی کے انڈے نے، اپنا ہی پانو اپنے اسپیئر پہ رکھ دیا اور وہ کرنچ ہو گیا۔ دوسرا وہ بنوا نہ سکتا تھا، کیونکہ اُس کا آپٹیشین بھی ساؤتھ بمبئی ہی میں تھا۔ اُس نے یہ بھی بتایا کہ غلطی کا پتا چلتے ہی وہ لِٹل ہٹ، پہ لوٹ کے آیا کہ شاید مجھے میری غلطی کا پتا چل چکا ہے۔ اگر دو غلطیاں مل کر ایک ٹھیک نہیں ہو سکتیں، تو ایک غلطی دوسرے کے ساتھ تبادلے میں تو ٹھیک ہو سکتی ہے۔ میں نے تو خیر اِس لیے بھی پروانہ کی، کیونکہ اس چشمے میں مجھے اپنی غلطی بہت چھوٹی معلوم ہو رہی تھی اور میں چاہتا تھا اسے پتا چلے کہ اُس کی غلطی کتنی بڑی ہے۔ منیجر سے مِنّت کر کے مبادا کے انداز میں اُس نے لِٹل ہَٹ میں جھانکا، وہاں سب کچھ عظیم الشان تھا، لیکن میں نہیں تھا۔ اگر میں ہوتا تو اسے انسان کی انا کی طرح سے جِن دکھائی دیتا اور وہ بے ہوش ہو کر گر جاتا۔ لِٹل ہَٹ میں سے مریانا کی آواز، صرف آواز آ رہی تھی۔ معلوم ہوتا تھا، جیسے وہ گا رہی ہے— تم میرا چشمہ لے آؤ ہو، اچھا کیا، اچھا کیا…… اندر اُس کارڈ انڈکس ، اس کمپیوٹر کو کچھ گلابی ، کچھ گِرے دھبّے سے دکھائی دیے اور پھر ایک کالا دھبّا جو مسلسل ہِل رہا تھا۔ اُس نے بھی اضطرار میں چشمہ لگایا تو ایک دَم الٹا بھاگ نکلا، کیونکہ وہاں لِٹل ہَٹ میں، وہ کوئی بھینس لے آئے تھے اور وہ ناچ بھی رہی تھی! تھی وہ مریانا… میرے چشمے کا مہربانا! اپنے خوف، اپنی جھلاّہٹ میں اسی مبادا کے انداز میں وہ اپنے آپٹیشین کا پڑیا کی دُکان کے سامنے سے بھی گزر گیا کہ شاید دُکان کی چِنک میں سے کوئی روشنی کی کرن نظر آ جائے۔ لیکن کاپڑیا کی دُکان اور بھی بند دکھائی دے رہی تھی۔ ایک تو اس لیے کہ وہ واقعی بند تھی، دوسرے اس لیے کہ وہ اُسے دکھائی نہ دے رہی تھی۔ اور جب اُس نے میرے چشمے کو پہن کر دیکھا… اس مسلسل حماقت سے اسے یوں لگا کہ وہ ایسا گلی ور ہے جو جنّات کے ملک میں پہنچ گیا ہے۔ جہاں سب لوگ مل کر اس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ڈرا سہما ہوا وہ امریکی ہندستانی گھر پہنچا۔ شوفر اور گاڑی کی وجہ سے گھر پہنچنے میں اسے کوئی زیادہ دقّت نہ ہوئی۔ ہوئی بھی تو صرف اتنی کہ وی ٹی کا اسٹیشن ، کارپوریشن کی عمارت سب پومپیائی کے زلزلے میں اُسے اپنے آپ پر گرتا ہوا معلوم ہو رہا تھا۔ گھر کے بلند شہری دروازے کے اندر پہنچ کر، جب اُس نے سیڑھی پر قدم رکھا تو لڑکھڑا کر گِرا کیونکہ جسے وہ تیسری سیڑھی سمجھا تھا، وہ ابھی پہلی ہی تھی۔ اُسے چوٹ بھی آئی مگر کوئی زیادہ نہیں۔ گھر کے اندر پہنچا تو اُسے ایک گدھا چھلانگیں مارتا ہوا دکھائی دیا۔ اُسے بہت تاؤ آیا۔ کیونکہ وہ سمجھ ہی نہ سکا کہ گدھا بھی پالتو جانوروں میں سے ہو سکتا ہے۔ آخر اُس کی بیٹی جولی آئی اور اُس نے بتایا کہ بیک یارڈ میں جو دھوبی رہتے ہیں نا، پپّا۔ انھوں نے مجھے خرگوش دیا ہے! میں نے تو اُس رات بیوی سے پیار کیا تھا نا باقر بھائی، لیکن اُس کارڈ انڈکس اور کمپیوٹر کی اپنی بیوی سے لڑائی ہو گئی۔ اِس لیے کہ بیوی اُسے اپنی طرف آتا ہوا وجینتا ٹینک دکھائی دینے لگی تھی۔ اور جب اُس سے بچنے کے لیے اُس نے دروازے سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو اس کا سر پھٹ گیا، کیونکہ جسے اُس نے دروازہ سمجھا وہ دراصل کھڑکی تھی۔ سوموار کی صبح جب میں نو ساڑھے نو بجے، اپنے اندازے کے مطابق لِٹل ہَٹ کے باہر پہنچا تو وہ چوہا میرا انتظار کر رہا تھا، اپنی بچّہ گاڑی میں… میں امن کے انداز میں آگے بڑھا۔ وہ جنگ کے خوف سے پیچھے ہٹ گیا، لیکن تھوڑی دیر میں سمجھ کے اوپر آ جانے سے ہم دونوں نے چشمے اُتارے اور دو بھوتوں کی طرح سے ایک دوسرے پر بڑھے، بغیر کچھ کہے سُنے چشمے بدلے،— اب ہم دونوں ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے تھے۔ معاف کیجیے، کے سے جملے دُہرا رہے تھے۔ وہ کہہ رہا تھا، میرا قصور ہے۔ میں کہہ رہا تھا نہیں، میری حماقت … پھر اس نے بتایا کہ کل چشمے کے بغیر اس پہ کیا بیتی۔ کچھ دیر کے بعد مجھے ایسا لگنے لگا کہ وہ میں تھا… یا شاید میں وہ … میں نے جلدی سے کہا — ’’یااللہ‘‘ اور کان لپیٹ کر چل دیا۔