کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ہزاروں سال پہلے

اختر شیرانی


ہزاروں سال پہلے کا ذکر ہے !

یونان کی اصنامی سر زمین کی آغوش میں، ایک شاعر کی نغمہ پیکرہستی پرورش پا رہی تھی۔۔۔۔۔ !

اُس کا آبائی پیشہ باغبانی تھا۔۔۔۔ وہ خوشگوار مشغلہ، جس میں دن رات پھولوں سے کھیلنے اور  اُن کی نشہ آلود رنگینی و نکہت میں ڈوبے رہنے سے بھی دل گھبرا جاتا ہے۔۔۔۔ جوافرادحُسن و جمال کی رعنائیوں اور  رنگ و بُو کی دلآویزیوں سے تھک جائیں، اُن سے زیادہ خوش نصیب، اِس خاکدانِ ہستی کی کثافتوں میں اور  کون ہو سکتا ہے۔۔۔۔ ؟

شعروموسیقی سے اُس کو فطری لگاؤ تھا۔ آغازِ طفلی ہی سے، وہ اِن کودو بے نام آرزوؤں کی صورت میں، اپنے دل و دماغ کی معصوم فضاؤں میں موجزن پاتا تھا!

شاعری، موسیقی اور گُلبازی کامستانہ اجتماع ہی کیا کم تھا کہ عمر کے پندرھویں سال میں اُس کو، ایک اور عجیب و غریب اور تند و بے پناہ،  مگر گمنام جذبے کا اپنے سینے میں احساس ہوا۔۔۔۔ اُس کافر جذبے کا احساس، جسے شباب باختہ افراد کمالِ حسرت سے یاد کرنے کے عادی ہیں۔۔۔ !

یہ وہ زمانہ تھا۔۔۔۔ کہ دُنیا شباب و دوشیزگی کی والہانہ پرستاربنی ہوئی تھی! فضائے ہستی پر، شعروموسیقی کی آسمانی پریاں، اپنے رنگین اور طلائی پروں کے ساتھ چھا رہی تھیں، اور تمام کائناتِ ارضی پر "دیوتائے عشق "اور اُس کے شوخ و شریر تیروں کی خدائی تھی۔۔۔۔ !

نوجوان شاعر، اِس دنیا میں تنہا تھا، اورشہرسے باہر، ایک بہشت تمثال باغ میں، اپنی زندگی کے بے خود و بے قرار دن، اور جوانی کی بے خواب وسرشار راتیں گزار رہا تھا۔۔۔۔ اُس کے دن بِربط نوازی اور نغمہ سرائی میں بسر ہوتے تھے اور اُس کی راتیں نامعلوم خیالی جنّتوں کے سنہری خوابوں میں کٹتی تھیں۔

ایک شاہکارِ شعرو شباب

بالآخر۔۔۔۔ اُس کی خلش ہائے شعر و شباب سے معموراورسرمستی ہائے نغمہ و خیال سے چُور، زندگی پر ایک دورِ عروج وہ بھی آیا کہ کھِلے ہوئے پھولوں سے اُسکی توجّہ کم،۔۔۔۔ اور رفتہ رفتہ زائل ہوتی گئی اور مست بھرے نغموں سے، اُس کا شوق تشنہ رہنے لگا۔۔۔۔ البتہ نا شگفتہ کلیوں اور  پُر از خیال و اِضطراب نغموں سے اُسکی دلچسپی، روز افزوں ترقّی کرنے لگی۔۔۔۔ یہاں تک کہ اگر کوئی اُس سے سوال کرتا تو شاید وہ کبھی نہ بتلا سکتا کہ اُس کے ذوقِ شعری میں یہ خاموش اور عمیق انقلاب کیونکر رُو نما ہوا۔۔۔۔ ؟

اُس کے، اُس زمانے کے شاعرانہ خیالات واحساسات کی حسین ترین یادگار شاید وہ شگفتہ نظم ہے، جواُس نے کلیوں پر لکھی تھی اور جس کا مطالعہ آج تک یونانی شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کے وجدانِ ذوق کا وظیفۂ ادبی بنا ہوا ہے۔۔۔۔ !

بہت کم لوگوں کو علم ہو گا کہ جس رات اُس نے اِس نظم کو، اِلہامی انداز میں موضوعِ افکار بنایا۔۔۔۔ اُس کی حالت کس درجہ کھوئی ہوئی، اور وارفتگی سے لبریز تھی۔۔۔۔ یاوہ رات کے اوّل حصّے سے، جبکہ طلوعِ ماہتاب کی ہلکی ہلکی روشنی، فضاؤں میں ایک غُبار آلود کُہر کی طرح بکھر رہی تھی۔۔۔۔ آخر حصّے تک مسکراتی ہوئی کرنوں کی پھیلی ہوئی چھاؤں میں۔۔۔۔ اِس نظم کو گاتا رہا۔۔۔۔ اور ایک ناقابلِ اظہار سرمستی و نشاط کے عالم میں اپناننّھاساحسین و زر کار بربط بجاتا رہا۔۔۔۔ یہاں تک کہ باغ کے نگہت معمور کُنجوں میں، خوش اِلحان طُیور کی فطرت سرائیاں دفعتاً بیدار ہو گئیں اور لہک لہک کراُسکی ہم نوائی کا فرض ادا کرنے لگیں۔

نہ پھولوں کی تمنّا ہے، نہ گُلدستوں کی حسرت ہے

مجھے  تو  کچھ  اِنہی  بیمار کلیوں سے محبت ہے

بے موسم کے پھُول

اُسی زمانے میں ہاں اُسی سنہرے زمانے میں، جس کو زندگی کی صنعت و لطافت کا دورِ عروج کہنا چاہیئے، یونان کے جلیل القدر شاہزادوں اور بہادر نوجوانوں میں، سپارٹا کی حسین شہزادی کا یہ اعلان گونج رہا تھا کہ جو شخص بے موسم کے پھُول لا کر دے گا، شہزادی اُس سے شادی کرے گی۔۔۔۔۔ !

یہ شہزادی اپنے حُسن و جمال اور  رعنائی و دِلربائی کی بنا پر، دُور دُور کی فضاؤں کی سجدہ گاہِ خیال بنی ہوئی تھی، وہ پھولوں کی حد درجہ فریفتہ تھی، اور خزاں کے موسم میں بھی، پھولوں سے محروم رہنا، اُس کو گوارا نہ تھا۔۔۔۔ !

خزاں کا دَور شروع ہو چکا تھا، باغوں میں چاروں طرف، بے برگی وافسُردگی کا منظر رُو نما تھا۔۔۔۔ مگر شہزادی کی شرط سے (جو حقیقتاً شہزادی  کے آسمانی اور ملکوتی حُسن کا ادنیٰ اعتراف تھی) عہدہ برا ہونے کے لیے بیسیوں شہزادے اور  پہلوان قسمت آزمائی کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔۔۔۔ بے موسم کے پھولوں کی تلاش میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھا گیا۔ اکثر نے ہار تھک کر، آسمانی دیوتاؤں سے اِلتجائیں کیں، دعائیں مانگیں، مَنّتیں مانیں،۔۔۔۔ مگر گُلِ مراد ہاتھ نہ لگا، پرنہ لگا۔۔۔۔ اور تلاش وجستجوکی ایک طویل مدّتِ آوارگی کے بعد، یہ طغیانیِ جوش و خروش، جھکتے ہوئے طوفان، اورشکست ہوتے ہوئے حباب کی طرح فرد ہو گئی۔۔۔۔

شہزادی کا اعلان، شہزادوں اور  پہلوانوں ہی تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ ایک صلائے عام تھی، جس پر ہر غریب و امیر کو اپنی اپنی تلاش وجستجو کی بنیاد رکھنے کی اجازت تھی اور یہی وجہ تھی کہ نوجوان شاعر بھی اِس دلچسپ اعلان سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا۔۔۔۔ اُس نے اپنے باغ کے مُرجھائے ہوئے پودوں کی طرف حسرت بھری نگاہ سے دیکھا، مگرحسرت بھری نگاہ پھُول نہیں پیدا کر سکتی تھی۔۔۔۔ ! ! 

شعر و نشاط کے موسم میں!

نوجوان شاعر کی معصومیتِ شباب میں، شہزادی کے اِس اعلان نے، ایک خاموش مگر پُر از اِضطراب ہیجان پیدا کر دیا تھا۔۔۔۔ وہ ایک ایسا پُرسکون دریا تھا، جس کی تہ میں تلاطم برپا ہو!

اُس کی تمنّا اور پاکیزہ زندگی، نشاط و بیخودی کے اُس دورسے گزر رہی تھی، جبکہ کائناتِ ہستی کا ہر ایک ہلکے سے ہلکا جھونکا، معصوم روحوں میں، ایک گُدگُدی بن کر اُتر جانے کا عادی ہوتا ہے۔۔۔۔ اُس کے لیے دُنیا کچھ نہ تھی، مگر ایک لذّتِ محیط! ایک نشاطِ رقصاں!۔۔۔۔ اُس کے نزدیک زندگی کے کوئی معنی نہ تھے، لیکن ایک نویدِ کیف! ایک پیامِ سرشاری!۔۔۔ جوانی کا کافر ماجرا احساس۔۔۔۔ اور احساس بھی اوّلیں، اُس کے اُبلتے ہوئے سینے میں کوئی نامعلوم شے بیتاب تھی! اور اُس کے دھڑکتے ہوئے دل کے تاروں میں ایک خاموش مگر بے ضبط جوش لرز رہا تھا۔۔۔۔۔۔ !

حقیقت میں اُس کی موجودہ زندگی اِک موسمِ نشہ وسّروراور ایک عالمِ نگہت ونُورسے مراد تھی جس کی وارفتہ کاریاں اُسے سراپا اِضطراب اور سراپا اِلتہاب بنائے ہوئے تھیں۔۔۔۔ پرستش و عبودیت کا ایک پُرسکوت مگر بے قرار جذبہ تھا، جواُس کی رگ و پے میں جاری و ساری تھا۔۔۔۔ !

کچھ اِنہی۔۔۔۔ کچھ ایسی ہی، بے اختیاریوں کی کشش تھی، جواُسے ایک عالمِ سرخوشی میں، کشاں کشاں قریب کے سبزہ زاروں میں لے جاتی تھی۔۔۔۔ اورپھرسبزے پر ایک بے خودانہ لغزش! فضا میں ایک شاعرانہ نغمہ! یاپھرسنسان وُسعت میں ایک آوارہ، ایک لا اُبالیانہ، ایک بے پروایانہ خرام۔۔۔۔ اُس کی حساسیت کا مقصودِ بیخودی ہوتا تھا۔۔۔۔ !

ایک رات۔۔۔۔ جبکہ چاندنی کی شفّاف اور سیمگوں شعاعیں، دنیا کی وسعتوں میں نُوروسرور کے پھُول برسا رہی تھیں۔۔۔۔ نوجوان شاعر کی مستانہ خرامی، اُس کوحسبِ دستوراپنے مسکن سے دُور، بنفشے کی خزاں رسیدہ وادی میں آوارہ کر رہی تھی۔۔۔۔ شباب کے حسین و لبریزِ شعریت نغمے، اُس کی زبان پر جاری تھے۔۔۔۔ وہ نغمے، جن کے پردوں میں معصومّیتِ خیال اور حرارتِ شباب کے شعلے دبے ہوئے تھے۔۔۔۔ اور وہ اپنی سرودخوانیوں میں مست، شعر طرازیوں میں سرشار، ایک بیخودی وسُکرکی حالت میں۔۔۔۔ گھنیرے درختوں سے لدی ہوئی، چھُپی ہوئی وادیوں کو طے کرتا ہوا دُور بہت دُور، ایک سادہ و بے رنگ سبزہ زار میں نکل آیا تھا، جس میں کوئی درخت نہ تھا! کوئی پودا نہ تھا!۔۔۔۔۔۔۔ مگر ایک۔۔۔۔ قدرشناس نگاہوں سے دُور ایک لالہ۔۔۔۔ ایک لالۂ صحرائی۔۔۔۔ ! !

شاعر اور لالۂ صحرائی

 ‘‘۔۔۔۔ میری رنگینیاں غارت ہو چکی ہیں اور میری نگہتیں آوارہ، میری شادابیاں تباہ ہو چکی ہیں، اور میری بہاریں مضمحل!۔۔۔۔ یہ خزاں کا بے کیف موسم، یہ صحرا کی بے رنگیاں۔۔۔۔ ! نہ دامانِ اَبرکی سرشاریاں نصیب ہیں۔ نہ آغوشِ جوئبار کی تر و تازگیاں۔۔۔۔ مگر آہ! یہ صحرائی فضا میں گونجتی ہوئی تھرّائی ہوئی موسیقی۔۔۔۔ ! جو ایک بھُولے بِسرے خواب کی طرح، مجھ میں بالیدگیِ نشاط پیدا کر رہی ہے۔۔۔۔ کاش میں اِسے قریب سے۔۔۔۔ بہت قریب سے، اپنے دامنِ افسردگی میں بھر لوں۔۔۔۔ !  آ! نوجوان آنے والے، بہار کے نغمے سنانے والے شاعر! آگے آ! اور مجھے بہار کا ایک مستانہ نغمہ سنا۔۔۔۔ ! "

 ‘‘۔۔۔۔ معلوم ہوتا ہے، اِس ویران وسعت میں، اِس سنسان فضا میں کسی بلبل کی آواز اِنتشارِ نگہت میں مصروف نہیں ہوتی۔۔۔۔ ! "

نوجوان شاعر نے افسوس کے لہجے میں کہا:۔

 "بلبل! آہ، بلبل کہاں؟ جب منّتِ باغبان سے محرومی ہو تو بلبل کی آواز کیوں کر نصیب ہو سکتی ہے۔۔۔۔ بلبل و گل کی رنگینیوں اور  شادابیوں میں جس خون کی سرخی صَرف ہوتی ہے، اُس کی تعمیر باغبان کے پسینے کی منّت کش ہوا کرتی ہے۔۔۔۔ کیونکہ اگر باغباں نہ ہو تو باغ نہ ہو، پھُول نہ ہوں! اُن کی نگہت افشانیاں نہ ہوں۔۔۔۔ اور یہ نہ ہوں تو بلبل کہاں سے آئے ؟ اُس کی نغمہ طرازی کس لئے ہو؟ نغموں میں گدازِ شعریت اور فشارِ جذبات کا رنگ کیونکر پیدا ہو۔۔۔۔ ؟ "

یہ سن کر نوجوان باغبان مسکراپڑا۔۔۔۔ اور لالۂ صحرائی کے پاس آ کر، مست بھری نگاہوں سے، اُس کی خزاں رسیدہ حالت کا مطالعہ کرنے لگا۔۔۔۔ کس قدر دلگداز منظر، کیسامرجھایا ہو اسماں تھا۔۔۔۔ !

بربط کے تاروں نے !

لالۂ صحرائی نے پھر غیر معمولی اشتیاق کے لہجہ میں کہا "بہار کا نغمہ! حسین مغنّی!۔۔۔۔ اِس چاندنی رات میں، تیری معصوم صورت، لازوال اور مقدس دیوتاؤں کی طرح، پُر عظمت اور شاندار نظر آتی ہے۔۔۔۔ خدارا ایک بہار کا  نغمہ سُنا،۔۔۔۔ میری کُملائی ہوئی کلیاں، مدّت سے ایک شاداب برساتی راگ کی پیاسی ہیں اور میری سوکھی ہوئی پتّیاں نشاطِ بہار کے مستانہ ترانوں کے لیے دامن دراز۔۔۔۔ خوبصورت باغبان! مجھے ایک ایساپُرکیف نغمہ سنا، جیسا کہ عظیم الشان باغوں میں، مسکراتے ہوئے پھولوں کے حضور میں، کوئی بلبل، اُس وقت سناتی ہے جب تمام نگہت بھری فضاؤں پر، انوارِ صبح گاہی اور جلوہ ہائے طلائی کاحسین پردہ پڑ جاتا ہے، اور رنگین و معصوم کلیوں کی پیالیاں، اِس شرابِ نُور و نغمہ کو مچل مچل کر اپنے دامن میں بھر لینا چاہتی ہیں۔۔۔۔ ! "

نوجوان شاعر نے  اپنا بربط سنبھالا اور۔۔۔۔ بیک جُنبشِ انگشت، فضا میں ایک زخمی راگ پھیل گیا۔۔۔۔ اور دیر تک اِسی طرح بربط بجاتا رہا! اور جوش و خروش کے عالم میں بجاتا رہا۔۔۔۔ مگر لالے کی بیقراری وافسردگی کو ذرا تسکین نہ ہوئی۔۔۔۔

بالآخر لالے نے کہا:۔

 "بربط کے تاروں نے اپنے عجز کا اعتراف کر لیا ہے، اُن کے پردوں میں میرے درد کی دوا نہیں۔۔۔۔ میری شادابیِ حیات، تیرے نورانی گلے کی رگوں  میں خوابیدہ ہے۔۔۔۔ اور خدائے خدایاں ( جیوپیٹر ) کی بھی یہی تقدیر ہے ! "

سرودِ شبانہ!

ہیبت ناک صحرا میں، جس کی ویرانی و وحشت کو، چاندنی نے حسین بنا دیا تھا ایک آبشارِموسیقی موجیں مارنے لگا، ایسامعلوم ہونے لگا گویا زمین وآسمان نے، اپنی تمام ارضی وسماوی موسیقی کے لا تعداد خزانوں کے دروازے کھول دیئے ہیں۔۔۔ اور فضائے لامتناہی  میں، چارسُو، پُر شور نغموں کے طوفان اُمنڈ رہے ہیں۔۔۔۔ !۔۔۔۔ نغمے کی پہلی ہی جنبش نے ملکہ بہار جادو کے سحرِبہارکامنظرجلوہ نما کر دیا۔۔۔۔ لالے کی زخمی افسردگیوں نے بہار و شادابی کی کروٹ لینا شروع کی۔۔۔۔ شاخوں میں نور و نگہت کی روح سمانے لگی۔۔۔۔ پتیوں میں تر و تازگیِ حیات کی لہر دوڑ گئی۔۔۔۔ رگ رگ میں رنگینیوں اور شادابیوں کے طوفان مسکرانے لگے۔۔۔۔ اور  لالہ صحرائی ہرا بھرا نظر آنے لگا۔۔۔۔ !

نوجوان شاعر کی حیرت سامانیاں، اندازہ سے باہر تھیں۔۔۔۔ اُس کے خواب و خیال میں بھی نہیں آ سکتا تھا کہ محض اُس کے سرودِ شبانہ کے اثر سے لالہ صحرائی بے موسم کے پھول کھلا سکتا ہے۔۔۔۔۔

 ‘‘۔۔۔۔ او نوجوان شاعر! تجھ پر دیوتاؤں کی برکت کاسایہ ہو! تیری نوجوانی اِسی طرح شاداب رہے ! اور تیری معصومیت اِسی طرح تر و تازہ!۔۔۔۔ تیرے مقدّس اور معصوم نغموں نے مجھے نئی زندگی بخشی ہے، اور اگرچہ اِس آبِ حیات کا اثر صرف صبح تک رہے گا۔ تاہم عدم کے ایک طویل اور ناگوارسکون وجمودسے، بہرحال، زندگی، آہ، خوبصورت اور شیریں زندگی، رنگین اور شاداب زندگی کے چند لمحے زیادہ قیمتی ہیں۔۔۔۔ دُنیا زندگی کی حریص ہے، اور میں بھی اِس سے مستثنیٰ نہیں۔۔۔۔ انسان نادان ہے، جو موت کا ذائقہ چکھے بغیر موت کو زندگی سے زیادہ پُرسکون اور  راحت افزا بتاتا ہے۔ مجھ سے پوچھو، میں نے موت اور زندگی، دونوں کی کیفیتوں سے لطف اُٹھایا ہے۔۔۔۔ زندگی، آہ زندگی، اِن دُور کے خوابوں سے کہیں زیادہ حسین ہے۔۔۔۔ بہرحال اب جب کبھی تیرے باغ کے پھُول ختم ہو جائیں، اور لالہ ویاسمین کی ٹہنیوں پر ایک مرجھائی ہوئی کلی بھی نظر نہ آئے۔۔۔۔ تواُس وقت تُو میرے پاس آنا اور مجھے ایک ایساہی بہار پرور نغمہ سنا کر، جس قدر پھولوں کی ضرورت ہولے جانا! "

نوجوان شاعر نے فرطِ مسرّت سے بیخود ہو کر، بہت سے پھول توڑ کر دامن میں بھر لئے۔۔۔۔ اور اب وہ بیقرار تھا کہ کسی طرح شاہزادی تک پہنچ جائے۔

شہزادی کے آستانے تک

اُسی صبح، شہزادی کے آستانے پر، ایک نوجوان شاعر بربط ہاتھ میں لئے دامن میں پھُول بھرے، شہزادی کے حُسن و جمال کی شان میں شعر گاتا، اور نغمے سناتا۔۔۔۔ نظر آیا۔۔۔۔ جس کی زبان پر یہ شعر تھا

طلب سے چُنتے پھرتے ہیں ہم پھول گلشن  میں

صبا  شاید  گرا  دے  اُن کو  جا کر تیرے  دامن  میں!

۔۔۔۔ شہزادی کو مطّلع کیا گیا۔۔۔۔ اور یہ مفلوک الحال، مگرمجسّم نغمہ و شعر نوجوان، فوراً شہزادی کے حضور میں بلا لیا گیا۔۔۔۔ !

شہزادی، اپناننّھاسازرنگارتاج پہنے، ایک مخملی صوفے پر آرام فرما تھی۔۔۔۔ شاعر آگے بڑھا اور اُس کے نازنین قدموں پراُس نے اپنا دامن خالی  کر دیا۔۔۔۔ مسند پر لالے کے شاداب و شگفتہ پھولوں کا ڈھیر نظر آنے لگا۔

یہ دیکھ کر شہزادی، اپنی معصوم اور طِفلانہ مسرّت کے جوش کو ضبط نہ کر سکی۔ بے اختیاراُس کی زبان سے نکل گیا:۔

 "آہا ! کیسے پیارے پھُول ہیں! "

اور۔۔۔۔۔۔۔ وہ جلد جلد پھولوں کوسمیٹنے لگی!

شاعر نے اُنہی پھولوں کا ایک خوبصورت ہار نکالا اور چاہا کہ شہزادی کے گلے میں ڈال دے۔۔۔۔ اِتنے میں شاہزادی کی ایک خواص آگے بڑھی اور  بولی:۔

 "ٹھہرو! ابھی اِس کا وقت نہیں آیا! ہماری شہزادی کو پھولوں سے بہت محبت ہے، اِس لیے پہلے تمھیں ایک ماہ تک اِس شرط کی کامیابی کا ثبوت دینا پڑے گا! "

شاعر نے جواب دیا "میں اِسکی تعمیل کروں گا، مگر کہیں خزاں کا تمام موسم اِسی امتحان میں نہ گزر جائے، میری تمنّا ہے کہ ایک مہینے کے اندر اندر مجھے شہزادی کے گلے میں ہار ڈالنے کی اجازت دی جائے "

شہزادی کی شرمگیں آنکھوں میں ایک ہلکی ہلکی مسکراہٹ جھلکنے لگی۔

وظیفۂ صبح گاہی!

اور۔۔۔۔ اب نوجوان شاعر نے، جس کی سرشارجوانی اور پُر شوق شاعری طوفان کی طرح بے تاب تھی، اپنا وظیفۂ صبح گاہی بنا لیا تھا۔۔۔۔ کہ وہ روز پچھلی رات کو اُٹھ کر صحرا کی طرف جاتا۔۔۔۔ اور چند لمحے لالۂ صحرائی کے پاس بیٹھ کر ایک ایسا اَچھوتا نغمہ سناتا۔ جس کے اثر سے لالے کی شاخوں پر شوخ و شاداب پھول کھل جاتے۔۔۔۔ شاعر اُن کو اپنے دامن میں بھر کر لے آتا اور شہزادی کے قدموں پرلے جا کر ڈال دیتا۔۔۔۔ خزاں کا ایک مہینہ اِسی قسم کی گُل آفرینی اور گُل چینی میں ختم ہو گیا۔۔۔۔ !

 "میرے شاعر "!

 ‘‘۔۔۔۔ میرے شاعر! کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ جب خزاں کے اِس دَور میں، کسی کو پھولوں کی ایک پنکھڑی تک نصیب نہ ہو سکی، تم ہر صبح اِتنے اور ایسے شگفتہ پھُول لے آتے ہو۔۔۔۔ ! آخر یہ پھُول کہاں سے لاتے ہو۔۔۔۔ ؟ "

عروسی کی پہلی رات۔۔۔۔۔ نے شاعر کے شباب و شعر کی دنیا میں ایک ہنگامۂ ذوق برپا کر دیا تھا۔۔۔۔۔ شہزادی نے شرمائے ہوئے لہجے میں دریافت کیا۔۔۔۔ مگر نوجوان شاعر! اُس کے سوال کا کوئی جواب نہ دے سکا، کیونکہ وہ خود نہیں جانتا تھا کہ اُس کے نغمے کے اثرسے لالہ کیونکر پھُول کھلا دیتا ہے۔۔۔۔ ؟

 "کیا تم ساحرہو؟ کیا یہ پھُول کسی دیوتا کی مدد سے حاصل ہوتے ہیں؟ "

 "نہیں!۔۔۔۔ صرف اِتنا جانتا ہوں کہ دُور تمھارے محل سے بہت دُور، ایک سنسان جنگل میں، ایک لالے کا پودا ہے۔۔۔۔ جب میں اُسے ایک گیت سُناتاہوں تو وہ پھُول کھِلا دیتا ہے،۔۔۔۔ یہ مجھے خود بھی نہیں معلوم کہ وہ ایسی کونسی چیز میرے نغموں میں ہے، جس کی تاثیر لالے میں پھُول پیدا کر دیتی ہے۔۔۔۔ ! "

 "کیسے تعجّب کی بات ہے !۔۔۔۔ مگر ہائیں، کیا صبح ہو گئی؟۔۔۔۔ تارے جھلملانے لگے۔۔۔۔ "

 "تو کیا صبح ہو گئی، کہیں مجھے تمھارے پھُول لانے میں دیر نہ ہو جائے۔۔۔۔ "

۔۔۔۔ آج کی رات۔۔۔۔ ! جبکہ دو روحوں نے، دو روحوں کی محبت نے باہم پیمانِ وفا باندھا تھا۔۔۔۔ جوشِ خلوص اور نشاطِ محبت کے رقیق اثرات میں۔۔۔۔ کیا ہرج تھا، اگر شہزادی کہہ دیتی کہ "اب مجھے پھُولوں کی ضرورت نہیں "اب  تو مجھے وہ پھُول مل گیا ہے، جس کی بہارسے یہ تمام تر کائناتِ ارضی زندہ ہے۔

 "اور  اِس طرح شہزادی اپنے حسّاس شاعر کو روک لیتی۔۔۔۔ مگر عورت! آہ، عورت! کس درجہ ستم ظریفی کا پیکر ہے۔۔۔۔ !

شاعر گھبرا کربسترسے اُٹھا، اور پچھلی رات کے جھلملاتے ہوئے تاروں نے دیکھا کہ وہ ایک ادائے بیخودی، ایک انداز اِضطراب کے ساتھ صحرا کی طرف جا رہا تھا اُس کی رفتار مستانہ تھی اور اُس کی ہیئتِ نشاط آلود۔۔۔۔ ہرچند کہ اُس کی مسرتوں کی کوئی انتہا نہ تھی۔۔۔۔ مگر اُس کی صورت اُس بیمار کی سی نظر آتی تھی جس نے ابھی ابھی غسلِ صحت کیا ہو۔۔۔۔ اُس کی روح کچھ ایسا اضمحلال محسوس کرتی تھی،  جیسے وہ کلی، جس سے خزاں نے رنگ و بو چھین لیا ہو، اُس کی ظاہریت و معنویت بحیثیتِ مجموعی، ابر کے اُس رنگین پارے کی طرح تھی، جو برس کر کھُل سا گیا ہو، یاپھراُس بجلی کی طرح جوبرستے ہوئے بادلوں میں جھلملایا کرتی ہے۔۔۔۔ !  حسبِ معمول! لالۂ صحرائی کی پتیوں پراُداسی چھا رہی تھی۔۔۔۔ اور  بالو ریت کے ذرّوں کو چومنے کے لئے سورج کی پہلی کرن، آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ جس وقت شاعر، اپنی پھولوں سے کھیلنے والی "دلہن "کے لئے پھول لینے لالۂ صحرائی کے پاس آیا۔۔۔۔

اُس نے اپنے بربط کے تاروں کو بیک حرکتِ انگشت چھیڑا اورحسبِ معمول وہی بہار پرور نغمہ سنانے لگا۔۔۔۔ وہ گاتا رہا اور برابر گاتا رہا۔۔۔۔ گُزری ہوئی رات کوسرمستیوں کی تکان کے باوجود، اُس کی روح۔۔۔۔ آج، ایک عورت، ایک پیکرِ جمال عورت کے ہونٹوں سے ٹپکنے والی شرابِ زندگی سے مخمور تھی۔۔۔۔ اور جب کبھی اُسے رات کے خواب نما واقعات کا خیال آتا۔ اُس کی مضمحل حالت میں، ایک فوری جوش پیدا ہو جاتا تھا۔۔۔۔ !

بالآخر۔۔۔۔ اُس کا نغمہ ایک نگاہِ اُمیدسے تبدیل ہو گیا۔۔۔۔ اور اُس نے پھولوں کو توڑ کر، دامن میں رکھ لینے کے ارادے سے لالے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔ اُف۔۔۔۔ کس قدرمایوس نظارہ تھا۔۔۔۔۔ ! !

لالے کی شاخیں پھولوں سے محروم تھیں۔۔۔۔ !

وہ حیرت اور پریشانی کے عالم میں گھبرا کر کھڑا ہو گیا، اور آنکھیں مل مل کر، پودے کے چاروں طرف پھرپھرکراُس کی شاخوں کو، اُس کی پتیوں کو گھُور گھُور کر دیکھنے لگا، مگر لالے میں کوئی پھول نہیں کھِلا تھا۔۔۔۔ !

 "یک بیک۔۔۔۔ لالے کی افسردہ مگر پُر جوش آواز بلند ہوتی ہے :-

 ‘‘۔۔۔۔ بے وقوف انسان! میرے پھولوں کو صرف معصوم نوجوانوں کے نغمے اور دوشیزہ نازنینوں کے سانس زندہ کر سکتے ہیں۔۔۔۔ ! تم سے احمقوں کی آواز، جو اپنے شباب کو آلودہ و داغدار کر چکے ہوں، اور کسی عورت کا دامن چھُو آئے ہوں۔۔۔ میرے پھولوں میں شگفتگیِ حیات نہیں پیدا کر سکتی، وہ شگفتگیِ حیات جو صرف نوجوانوں کے نغموں کا حِصّہ ہے !۔۔۔۔ شادی ہو یا گناہ۔۔۔۔ شباب کی آلودہ دامنی، دونوں جگہ رُو نما ہوتی ہے۔۔۔۔ اِس لئے اب جاؤ، اور عمر بھر اپنے شباب رفتہ کا ماتم کرتے رہو۔۔۔۔۔ "

آخری پھول!

صبح کو، آفتاب کی طلائی کرنوں نے دیکھا کہ لالے کے پاس ایک نوجوان کی لاش پڑی ہوئی ہے۔۔۔۔ اور  لالے کی شاخ پر ایک بُلبل کچھ ایسا ماتمی نغمہ سنا رہی ہے۔

 "نوجوان شاعر مر گیا "

 "وہ جس کے نغمے بے موسم کے پھول کھلا دینے پر قادر تھے ! اور  جس کی آواز معصومیتِ شباب سے لبریز تھی "

اُس پر بے صبری کا الزام نہیں لگایا جا سکتا!۔۔۔۔۔۔ اُسے معلوم نہ تھا کہ پھولوں کی شگفتگی کا راز۔۔۔۔ صرف اُس کی معصومیت میں پنہاں ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ اب۔۔ یہاں ایک دائمی، ایک ابدی نیند سورہا ہے !

اُدھر شہزادی پھولوں کے انتظار میں بیٹھی ہے ! اب یہ قیامت تک اِسی طرح سوتا رہے گا۔

دیکھیں۔۔۔۔۔۔ شہزادی کب تک انتظار کرتی ہے "!

بُلبل کا نغمہ ختم ہو گیا، لالے میں کچھ پھول بھی کھل گئے مگر اُن میں وہ شگفتگی و شادابی نہ تھی جسے صرف ایک نوجوان کی معصوم آواز کا خون ہی پیدا کر سکتا ہے۔۔۔۔۔ ! !

***