کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پشیمان

اختر شیرانی


 "شباب، عصمت، اور دوشیزگی ایک ہی چیز کے تین نام ہیں! "

 "جو لوگ اپنی معصومیت کو غارت کر دیتے ہیں، وہ شباب کی حقیقت سے بے خبر رہتے ہیں! "

 "جس طرح ایک ایسے پھول کو، جس سے رنگ و بُو چھین لئے جائیں پھول کہلانے کا حق نہیں رہتا۔ اُسی طرح ایک نوجوان کو اُس کی عصمت و دوشیزگی جدا کر لینے کے بعد، نوجوان کہنا حقیقت کا گناہ ہے ! "

 "ایک نو عمر شخص، اپنی جوانی لُٹانے کے باوجود نو عمر کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے، مگر جوان نہیں کہلا سکتا۔ "

 "شادی ایک جائز گناہ کا نام ہے اور گناہ گناہ برابر ہیں نتیجہ دونوں کا ایک ہے یعنی، عصمت و دوشیزگی کی بربادی۔ "

 "شادی دو گناہوں کی ایک متحدہ شکل کو کہتے ہیں جسے مذہب روا رکھتا ہے۔ "

 "شادی مادّیات کے لحاظ سے، ایک مزیدار سودا ہے جس میں طرفین ایک دوسرے کے ہاتھوں فروخت ہو جاتے ہیں! مگر "اِس مشترک دو عملی " میں "ماہیّتِ شباب "خسارے میں پڑ جاتی ہے۔ "

 "شادی کرنے والے لوگ، کبھی جوان نہیں ہوتے، اچھے خاصے "آدمی "ہو جاتے ہیں، حالانکہ "آدمیت "محض ایک "حماقت "ہے اور "شباب "ایک روحانی لذّت، ایک ملکوتی کیفیت اور ایک فردوسی شگفتگی و شادابی کا نام ہے ! "

 "حقیقتِ شباب کی اچھُوتی نزاکتیں، نفسانیت کی ٹھیس کبھی نہیں برداشت کر سکتیں! یہ صرف بشریت کی "مجبورانہ  بد ذوقی "ہے ! "

 "شباب کا بہترین مصرف یہی ہے کہ اِسے صرف نہ کیا جائے۔ "

 "انسان کے لئے بہت سی شریعتیں ہیں مگر شباب کے لیے صرف ایک، اور وہ اُس کی پارسائی ہے۔ "

 "زہاد و عباد کی پاکبازی، مذہب اور خدا کے خوف سے ہوتی ہے مگر شباب کے قدردانوں کی پاکبازی صرف شباب کے لیے اور یہی اِس کی شعریت کی اوّلین خصوصیت ہے ! "

 "حقیقت میں نوجوان وہ ہے جو اپنی معصومیت اور پارسائی کو مادّی لذائذ کی آلودگیوں سے داغدار نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔ ایسی ہستیاں ہمیشہ جوان رہتی ہیں، جیتی ہیں اور۔۔۔۔۔۔ جوان ہی مرتی ہیں! "

 "صباح " کا پرچہ، نشاطی کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور میز پر سے قہوہ کی ایک خالی پیالی کو ساتھ لیتا ہوا رنگین قالین پر آ گرا۔۔۔۔۔۔۔ سامی بِک کا یہ زبردست مضمون، جس کے اچھوتے بیانات، شباب اور حقائقِ شباب کے بارے میں، ایک عجیب و غریب نظریہ پیش کرنے کے مدّعی تھے۔ نشاطی کی شاعرانہ طبیعت کو مبہوت اور حیران کرنے کو بجلی کی طرح سریع الاثر ثابت ہوا۔ خیالات کے طوفانی ہجوم نے اُسے مہلت نہ دی کہ وہ حسبِ عادت، کتاب کا احترام مّدِ نظر رکھتے ہوئے، صباح کو زمین پرسے اُٹھا لیتا، یا قہوہ کی خوشنما گلابی پیالی کے۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹکڑوں کو جو گلاب کی پنکھڑیوں کی طرح فرش پر بکھر رہے تھے، دیکھتا۔۔۔۔۔۔۔ کم از کم ایک نگاہِ غلط انداز ہی سے سہی!

اُس کا شعریت پرداز تخیّل، ایک ایسی خواب نما اور نشاط آلود، بہشت کی سیر کر رہا تھا، جس کی نکہت آباد فضاؤں میں، جوانیاں ہی جوانیاں لہرا رہی تھیں! ایک ایسا غبار نما پرستان، جس کی دھندلی، مگر شراب آگیں ہواؤں پر شباب اور صرف شباب کی غیر مرئی، مگر محسوس کیفیتیں تیر رہی تھیں، اُسے ذرا بھی ہوش نہ تھا کہ وہ کہاں ہے ؟ قسطنطنیہ میں اپنے آبائی محل میں، یا برلن میں، جہاں سے وہ پورے پانچ سال کے بعد اِسی ہفتہ اپنے وطن واپس آیا تھا۔ اُس کے دماغ کی سطحِ خیالی پر دو آتشیں لکیریں جھلملا رہی تھیں۔ جن پر "شباب "اور "عصمت "لکھا ہوا محسوس ہوتا تھا، دو طوفانی راگنیاں گونج رہی تھیں۔ جن سے "شباب "اور "عصمت "کے الفاظ مچلتے سنائی دیتے تھے !

اب اُس کے دل میں سامی بک کے خلاف ہلکا سا رشک کا احساس پیدا ہوا۔ جس طرح ایک مہین سوئی کی نوک، جسم کو چھو لیتی ہے۔۔۔۔۔۔ کچھ ایسی ہی تلخی آمیز خلش کی شکل میں، سامی بک کا نام اُسے یاد آیا۔۔۔۔۔ یہ جدّت آمیز خیالات جو ترکی زبان کے اِس شہرہ آفاق اور ہردلعزیز شاعر اور ادیب نے ظاہر کیے تھے کیا وجہ ہے کہ نشاطی کی زبانِ قلم سے ادانہ ہو سکے ؟ آخر وہ بھی شاعر تھا، ادیب تھا! نوجوان اور حقیقت میں معصوم نوجوان تھا! پھر یہ کیوں ہوا کہ اب تک اُس کے قیامتِ آشوب نے خود اپنی حقیقت اُس سے چھُپائی؟ ہاں وہ کس لیے نشاطی کی ذہنی فضا میں جھلملا کر، اُس کی زبانِ قلم سے چھلک نہ پڑا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "اور لطف یہ ہے کہ میں تو ‘‘۔۔۔۔۔۔۔ وہ سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ "میں  تو ابھی تک زندگی کی اُن "بد عنوانیوں "سے بچا رہا ہوں جو اِس سامی بک کے قول کے مطابق، شباب کی عصمت و پارسائی کو غارت کر دیتے ہیں! حالانکہ وہ شادی کی غیر شاعرانہ اور شباب آزار حرکت سے آلودہ دامن ہو چکا ہے ! تعجب ہے، ایسا گنہگارِ شباب شخص تو شباب کے تقدّس و روحانیت کو، اِس طرح حقیقت کی روشنی میں لے آئے اور میں ‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس نے کسی قدر غصہ کے انداز میں کہا "میں واقعتاً ایک معصومِ شباب ہو کر، شباب کے حقیقی معارف سے بیگانہ ہوں؟ مگر کچھ پروا نہیں ‘‘۔۔۔۔۔۔ اُس نے سوچتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔  "میرے لیے ایک امتیازی فخر اب بھی محفوظ ہے۔۔۔۔۔۔  سچ تو یہ ہے کہ اصل چیز عمل ہے، اور میرے لیے، خدا کا شکر ہے کہ عملی دنیا کا دروازہ اب تک کھلا ہے جس میں سامی بک کبھی داخل نہیں ہو سکتا۔ میں ہمیشہ شادی سے بھاگتا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔زہرہ۔۔۔۔۔۔۔ اُسے بچپن کی کوئی بات یاد آ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "اب تو زہرہ جوان ہو گئی ہو گی، وہ بھی کیا زمانہ تھا، جب ہم اکٹھے کھیلتے تھے ! اب تو وہ پوری عورت ہو گئی ہو گی۔ آج کل لڑکیاں بہت جلد جوان ہو جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔ خیر کسی دن جاؤں گا۔۔۔۔۔ اوہو! یہ تومیں بھُول ہی گیا تھا۔ صباح کے ایڈیٹر اُسی کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے یہاں آئے، ایک ہفتہ سے زیادہ  ہوا مگر میں اب تک اُن سے نہیں ملا، جاؤں گا تو بڑے میاں سر کھالیں گے ! نہ معلوم یہ اِتنے بکّی کیوں ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔ خیر، چچا ہوتے مجھے اُن کی عزت کرنی چاہیئے، اور وہ بھی تو مجھ پر کتنے مہربان ہیں! جب میں اُن سے کہوں گا کہ میں نے سامی بک کے خیالات پر عمل درآمد کرنے کی ٹھان لی ہے تو وہ کیسے متعجب ہوں گے !۔۔۔۔۔۔۔۔ بیحد متعجب اور کوئی تعجب نہیں، اگر وہ نصیحتوں کے تلخ گھونٹ بھی حلق سے نیچے اتارنا چاہیں! بہر کیف، اب میں اپنی جگہ سے بال برابر تو ہٹوں گا نہیں میں دُنیا کو عملاً دِکھانا چاہتا ہوں کہ شباب کی عصمت کیا ہوتی ہے ؟ اور اُسے کیونکر محفوظ رکھتے ہیں؟ انشاءاللہ! اُس نے کسی قدر مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ "وہ دِن دُور نہیں، جب میں لوگوں کے خیالات کے سٹیج پر ایک "فرشتۂ شباب " بن کر نمودار ہوں گا۔۔۔۔۔۔۔ اور اپنے تئیں اِس بات کا مستحق بناؤں گا کہ دُنیا بھر کے افسانہ نگار اور شاعر اپنی رومانی روایات میں مجھے ایک "رب النوع "کی حیثیت سے یاد کریں! مگر۔۔۔۔۔ دُنیا سے کیا غرض ہے ؟ مجھے تو صرف اپنی ذات، اور اپنے شباب سے سروکار ہے، خیر جہاں یہ شعریت، میرے شباب کو چار چاند لگا دے گی، وہاں کیا ہرج ہے، اگر دُنیا کی بد مذاقی کی آنکھوں میں چکا چوند پیدا کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال اب مجھے چچا نیازی سے ضرور ملنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔

 "آفندم! کیا اور قہوہ حاضر کیا جائے ؟ ایں یہ تو۔ "

ایک حبشی خواجہ سرا کی آواز، کمرہ میں گونج اُٹھّی اور وہ پیالی کے ٹکڑے اُٹھانے لگا۔ "اے۔۔۔۔۔۔۔۔ ! تجھے معلوم ہے نا، چچا نیازی نے نیا مکان کہاں بنوایا ہے ؟ سُنا برخوردار! نشاطی نے حسب عادت مذاقیہ لہجہ میں کہا اور حبشی غلام نے اِس عزّت افزائی پر خوش ہو کر دانت نکال دئیے۔

کیوں آفندی! کیا اپنی دلہن کو دیکھنے جائیے گا؟ منہ لگے خواجہ سرا نے پوچھا اور پھر اپنے سیاہ ہونٹوں سے سپید سپید دانت چمکاتے ہوئے پیالی کے ٹکڑے اُٹھانے لگا۔ "ابے دلہن کیسی؟ بدمعاش کہیں کا! ‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نشاطی نے ایک ڈانٹ بتائی۔

 "آفندی! یہاں تو سب میں مشہور ہے کہ آپ کی شادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "

 "چل دور ہو پاجی! جا کے موٹر باہر نکال۔ "

اور خواجہ سرا بدستور خواہ مخواہ، دانتوں کی نمائش کرتا ہوا کمرہ سے باہر نکل گیا۔