کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ریورس گیئر

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل


روپا کو اس پر اسرار سی کائنات اور اس پر بسنے والے انسانوں کے بارے میں جاننے میں بچپن سے ہی بہت دل چسپی تھی۔ اس لیے اسے پامسٹری، ٹارو کارڈز۔ علم حروف اور علمِ نجوم کے بارے میں جہاں کہیں کوئی مواد نظر آ جاتا اسے پڑھے بغیر چین سے نہیں بیٹھتی تھی۔ ہر سال بڑے اہتمام سے نئے سال کے لیے ہاروسکوپ کی کتاب خرید کر دیکھتی کہ آنے والے سال کی پیشن گوئیاں کیا تھیں۔ اخباروں رسالوں میں چھپنے والے ’’ آپ کا ہفتہ کیسا ہو گا۔ ‘‘ کے صفحات ہمیشہ اس کی دل چسپی کا مرکز ہوتے مگر یہ الگ بات تھی کہ پڑھنے کے فوراً ہی بعد اسب اس کے ذہن سے محو ہو جاتا گویا اسے صرف پڑھنے کی حد تک دل چسپی تھی مگر عمل کا خانہ خالی ہی تھا۔

میں اکثر اس کی اس عادت سے چڑ جاتی تھی ’’کیا تم ہر وقت برجوں اور ستاروں کے چکر میں پڑی رہتی ہو۔ ‘‘ تو وہ ہنس کر جواب دیتی کہ ’’یار بس ذراانٹرسٹنگ ہے اس میں کیا ہرج ہے ہم کون اس پر عمل کرنے جا رہے ہیں۔ ویسے تم اگر تھوڑا بہت علم نجوم کے بارے میں جان لو تو کوئی نقصان نہیں ہو جائے گا۔ کریکٹر ریڈنگ تو ہمیشہ بڑی زبردست ہوتی ہے ان کتابوں میں۔ کم از کم لوگوں کی شخصیت بارے میں کچھ معلومات ہی مل جاتی ہیں۔ ‘‘

آج کالج میں پورے دو پیریڈز فری تھے اور میری شامت  آ گئی تھی کیونکہ روپا کہیں سے علم نجوم کی دو موتی موٹی کتابیں اٹھا لائی تھی گویا آج اس نے علم نجوم پر مجھے لکچر دینے کا پورا پورا پروگرام بنا رکھا تھا۔

میں اگر اسے کہتی کہ یہ میرے مذہب کے خلاف ہے کہ ہم مستقبل کا حال جانتے پھریں تو وہ تنک کر کہتی کہ ’’مذہبی نقطہ نظر سے علم نجوم نہ تو مذہب کا حصہ ہے اور نہ ہی عقیدہ۔ ۔ ۔ ۔ فقط حساب کا ایک قاعدہ ہے۔ جیسے ہر شخص واچ دیکھ کر ٹائم بتا سکتا ہے۔ اسی طرح ستاروں کا حساب دیکھ کر یہ بتایا جا سکتا ہے کہ کون سا ستارہ کس برج میں ہے۔ اور اس وقت دنیا پر اپنے کیسے اثرات چھوڑ رہا ہے۔ ‘‘ وہ بالکل جوتشیوں کے سے انداز میں مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتی۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وہ بولی کہ ’’ستارے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک سٹیشنری یعنی جامد اور دوسرے جو اپنے محور اور دوسرے ستاروں کے گرد گھومتے ہیں البتہ جامد ستاروں کے گرد گھومنے والے ستاروں نے اپنے ایسے مقام بنائے ہوئے ہیں جنہیں علم نجوم میں برج کہا جاتا ہے۔ اور کل بارہ برج ہیں۔ کچھ پتہ چلا تمہیں میڈم۔ ۔ ۔ ‘‘روپا نے اپنے علم کا روپ جھاڑتے ہوئے کہا۔

میں روپا کی ستاروں کے بارے میں ایوئرنس سے کچھ مرعوب سی ہو گئی تھی اور اس بارے میں کچھ مزید جاننے کی خواہش میرے اندر انگڑائیاں لینے لگی تھی۔

’’اچھا چلو بولو کیا کہتے ہیں تمہارے برج۔ ‘‘میں نے قدرے لاپرواہی سے کہا۔ تو روپا تو بس ایسی رواں ہوئی کہ وہ کہے اور سنا کرے کوئی۔ ۔ ۔ ’’ہاں تو میں بتا رہی تھی کہ کل بارہ برج ہوتے ہیں۔ اور ان کے مختلف نام ہیں۔ ہر برج ایک نہ ایک ستارہ کی ملکیت ہوتا ہے یعنی کوئی نہ کوئی اس کا حاکم یعنی رولنگ پلینٹ ہوتا ہے اور یہی برج انسانوں کی طرح آپس میں دوستی اور دشمنی بھی رکھتے ہیں۔ ‘‘ علم نجوم میں میری دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی اور میں نے منہ سے کچھ کہے بغیر ہی روپا کی طرف پر شوق نگاہوں سے دیکھا تو وہ بغیر رکے کہنے لگی ’’ہرایرہ غیرہ نتھو خیرہ قسمت کا حال نہیں بتا سکتا۔ اس کے لیے علم نجوم سے پوری طرح واقفیت بے حد ضروری ہے کہ ایسے شخص کو برجوں اور ستاروں کے چکر کا علم پوری طرح آتا ہو اور اگر اس کا علم ادھورا اور ناقص ہو گا تو خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ ‘‘ وہ اپنی ہی لہر میں بولے چلی جا رہی تھی۔

میں نے بے صبری سے پوچھا ’’برجوں اور ستاروں کے بارے میں کچھ اور بھی کہو گی کہ نہیں میڈم جوتشی‘‘ تو وہ زیر لب مسکرا کر گویا ہوئی ’’کل بارہ برج ہیں جن میں حوت، حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، دلو اور جدی ہیں۔ آسمان میں گھومنے والے سات ستارے ہیں۔ اور دو ستارے ان کے امدادی یعنی ہیلپرز ہیں۔ ان ستاروں میں سورج، قمر، مریخ، زحل، مشتری، عطارد، اور زہرہ ہیں جبکہ امدادی ستارے یورنیس اور نیپ چون ہیں اور ان تمام ستاروں اور برجوں کے یونانی زبان میں مختلف نشانات یعنی سمبل دئیے گئے ہیں۔ ’’How Interesting‘‘۔ ۔ ۔ میں اپنے ذوقِ جستجو کو مزید نہ چھپا سکی تو روپا خوش ہو کر بولی۔ ’’اب آئی ہو ناں سیدھی راہ پر میڈیم۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘بالکل جیسے ہم میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں اسی طرح ستاروں کی بھی دشمنیاں اور دوستیاں ہوتی ہیں۔ ‘‘ ’’اچھا تو بتاؤ کہ ہمارے ستاروں میں آپس میں دشمنی ہے کہ دوستی۔ ‘‘ میں نے بے صبری سے پوچھا۔

روپا میری بات سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ ’’خاک دوستی ہو گی ہر وقت تو تکرار ہوتی رہتی ہے۔ پھر بھی بتاتی ہوں۔ تمہارا برج جوزا ہے اور تمہارا حاکم ستارہ عطارد ہے۔ اور اس کے دوست ستارے قمر، زحل اور زہرہ ہیں۔ مریخ اور مشتری اس کے پکے دشمن۔ جبکہ سورج نہ اس کا دوست ہے نہ دشمن۔ ‘‘ میں نے جلدی سے لقمہ دیا روپا تمہارا ستارہ ضرور سورج ہی ہو گا کیونکہ کبھی تو تم بڑی دوستی بھگارتی ہو اور کبھی جانی دشمن نظر آتی ہو۔ ‘‘ ’’نہیں میڈم میرا ستارہ زہرہ ہے۔ دوست ہوں تمہاری بیوقوف لڑکی۔ ‘‘ اس نے جل کر کہا۔ بس تمہارا لیکچر پورا ہو گیا یا ابھی کچھ اور باقی ہے۔ ‘‘ میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تو روپا بے صبری سے بولی۔ ’’ارے نہیں بھئی۔ ابھی تو بہت کچھ ہے بتانے لائق۔ ۔ ۔ جانا مت۔ ‘‘ وہ التجا کرتے ہوئے بولی۔

 ’’ان ستاروں کی رنگت بھی الگ الگ ہوتی ہے۔ جیسے سورج، سرخ اور قمر سفید ہوتا ہے۔ زہرہ سفید سیاہی مائل تو مریخ سرخ۔ مشتری پیلے رنگ کا جبکہ عطارد سبز اور زحل جیٹ بلیک ’’اوہو تو جبھی کہوں یہ سفید رنگت ہر وقت دھواں دھواں سی کیوں رہتی ہے۔ تمہاری زہرہ کی بچی۔ ۔ ۔ ۔ میں نے طنزاً کہا تو روپا کہاں پیچھے رونے والی تھی فوراً بولی اور تم عطارد کی اولاد ساون کے اندھے کی طرح تھیں ہر طرف ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے۔ ‘‘ اس نے سبز رنگ پر بھرپور وار کیا۔ تو میں بجائے غصے میں آنے کے کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ ’’اور سنومیڈم ستارے مذکر اور مونث بھی ہوتے ہیں۔ ان کی نحوست بھی ہوتی ہے اور یہ الٹی چال بھی چلتے ہیں۔ ‘‘ روپا نے مزید علمیت بھگارتے ہوے کہا۔ ’’تمہارا ستارہ تو مذکر ہی ہو گا روپا جو ہر وقت جوشیلے مردوں کی طرح لڑائی جھگڑے پر آمادہ رہتی ہو۔ ‘‘ میں نے گویا اس کا مذاق اڑایا تو روپا تنک کر بولی ’’نہیں زہرہ مونث ستارہ ہے۔ یعنی خالص فیمنسٹ اور عطارد مخنث ہے یعنی نہ مرد نہ عورت۔ بس دونوں کے درمیان کی کوئی چیز ہے میرے بجائے تم اپنی فکر کرو جان من۔ ‘‘ روپا نے ہاتھ نچاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ کیا بیہودگی ہے میں نے قدرے غصے سے کہا، تم بکواس کر رہی ہو۔ ‘‘ قسم لے لو ایسا ہی لکھا ہے کتاب میں۔ لو دیکھ لو۔ ‘‘ اس نے کتاب میرے آگے کرتے ہوئے کہا۔

مجھے کوئی کتاب نہیں دیکھنی ہے یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ ’’ہر عورت کے اندر کچھ مرد اور ہر مرد کے اندر کچھ عورت ہوتی ہے تو تمہارا ستارہ کونسی نئی بات بتا رہا ہے۔ افلاطون کی اولاد۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اسی بحث و تکرار میں کافی وقت گزر چکا تھا۔ میں نے تقریباً اٹھتے ہوئے کہا کہ ’’بس اب اگلا پیریڈ شروع ہونے والا ہے۔ چلتے ہیں، آج کے لیے اتناہی کافی ہے۔ ‘‘

روپا نے جلدی سے میرا ہاتھ پکڑ کر گویا اٹھنے سے منع کر دیا۔ ’’ اب کیا ہے۔ ‘‘ میں ذرا جُز بُز ہو کر بولی۔ ’’مگر سب سے زیادہ دل چسپ بات ستاروں کے بارے میں تو تم نے سنی ہی نہیں۔ ‘‘ اب وہ کیا ہے۔ جلدی سے بتا دو۔ ‘‘ میں نے بے صبری سے کہا۔

’’ذرا دم تو لو۔ غور سے سننے والی بات ہے میڈم۔ ستارے سیدھی اور الٹی چال بھی چلتے ہیں۔ جب سیدھے جا رہے ہوں تو ایسی حالت کو مستقیم یعنی صراط مستقیم کہتے ہیں جیسے تم چلتی ہو۔ اسے ہندی زبان میں مارگی کہا جاتا ہے۔ مگر جب کوئی دوسرا ستارہ اپنی کشش سے سیدھی چال والے ستارے کو اپنی طرف کھینچتا ہے تو اس کی چال الٹ ہو جاتی ہے۔ جسے اردو میں رجعت، ہندی میں وکری اور انگریزی میں ریٹروگریڈ موومنٹ کہتے ہیں۔ جیسے گاڑی ریورس گیئر میں جاتی ہے۔ ‘‘’’ اچھا تو تم ہو وہ الٹی چال والا ستارہ جو مجھ جیسی سیدھی سی لڑکی کو اپنی کشش سے الٹا سیدھا کرتی رہتی ہو۔ ‘‘ میں نے مذاقاً کہا تو روپا برا سا مان گئی۔

’’ارے سوائے چاند اور سورج کے باقی سب ستارے الٹی سیدھی چال ہی چلتے ہیں۔ اس لیے تمہارے ستارے کی کشش مجھے بھی الٹی سیدھی کرتی رہتی ہے۔ صرف میں ہی مجرم نہیں ہوں۔ تم بھی برابر کی شریک ہو۔ ‘‘روپا نے گویا بدلہ لیتے ہوئے کہا تو ہم دونوں نے ہی زبردست قہقہہ لگا دیا۔ ’’اچھا تو اب چلو۔ پیریڈ تو مِس ہو گیا۔ گھر جلدی پنچنا ہے ورنہ اماں میری چال الٹی کر دیں گی۔ ‘‘ یہ کہہ کر میں تو وہاں سے گیٹ کی طرف بھاگی جہاں طارق بھیا نہ جانے کب سے گاڑی لیے میرا انتظار کر رہے تھے اور میں علم نجوم کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف تھی۔

آج سڑک پر ٹریفک کا رش معمول سے کچھ زیادہ ہی تھا کیونکہ ایسٹر کی چھٹیوں کے لیے آج سکولوں کا آخری دن تھا اور حد نظر تک سڑک پر گاڑیوں کی طویل قطاریں نظر آ رہی تھیں۔ بھیا اپنی نئی نویلی دھان پان سی اسپورٹس منی کوپر بڑے اسٹائل سے چلا رہے تھے جبکہ مجھے اتنی ٹریفک سے سخت وحشت ہو رہی تھی کیونکہ اماں نے آج گھر جلدی آنے کے لیے کہا تھا۔ ’’پہلے تو روپا کی بچی کے ستاروں اور برجوں نے سارا وقت لے لیا اور اب ٹریفک نے گویا رینگنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ ‘‘ میں منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔ یونہی چلتے رکتے ٹریفک ایک ڈھلوانی سڑک پر آ گئی۔ ہمارے بالکل آگے ایک بڑی سی لینڈ کروزر جا رہی تھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد مجھے یوں لگا جیسے وہ گاڑی آگے کی بجائے پیچھے کی طرف آ رہی ہے یعنی ریورس گیئر۔ میں نے جلدی سے بھیا کو خبردار کیا کہ ’’صرف مجھے ہی ایسا لگ رہا ہے یا واقعی یہ گاڑی پیچھے کی طرف آ رہی ہے۔ ‘‘ بھیا نے یکدم ہارن بجانا شروع کر دیا کیونکہ گاڑی واقعی پیچھے آ رہی تھی۔ خدا جانے کیا معاملہ تھا۔ آگے والا ڈرائیور نشے میں تھا یا اناڑی تھا کہ اتنے ہارن بجانے کے باوجود لینڈ کروزر نے بھیا کی نئی نویلی گاڑی کا حشر کر دیا گویا ستارے الٹی چال چل رہے تھے۔

بھیا غصے میں پھنکارتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلے تو دوسری طرف لینڈ کروزر سے نکلنے والی ایک ادھیڑ عمر ایشین عورت تھی۔ مجھے پورا یقین تھا کہ اگر عورت کی بجائے ڈرائیور مرد ہوتا تو بھیا اس کی ایسی خبر لیتے کہ وہ زندگی بھر کے لیے ڈرائیونگ کرنا بھول جاتا۔ مگر بھیا نے دھیرج رکھتے ہوئے خاتون سے اس کی انشورنس کی تفصیلات طلب کیں تو وہ بحث پر اتر آئی کہ ’’اس ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ اگر میں ریورس گیئر میں کسی گاڑی کو ٹکر ماروں تو میں ہرجانہ بھروں۔ ‘‘ اب تو بھیا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ ایسی احمقانہ بات سن کر میری تو ہنسی ہی نکل گئی۔

یہ محترمہ کہاں رہ رہی ہیں۔ انگلینڈ یا چیچو کی ملیاں۔ اور جس قانون کا یہ ذکر کر رہی ہیں۔ شاید انہوں نے اپنی کچن کیبنٹ میں بنایا ہے۔ اب تو بھیا کا پارہ بہت اونچائی پر جا رہا تھا۔ ’’قد سے بڑی گاڑی لے کر باہر نکلی ہو ڈرائیونگ تو سیکھ لینی تھی۔ اتنی ٹریفک میں تم ریورس گیئر کس خوشی میں لگا رہی تھیں کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا تھا کہ پیچھے گاڑی ہے۔ ‘‘ بھیا اسے بے نقط سنا رہے تھے۔ ’’دراصل آپ کی گاڑی اتنی چھوٹی ہے کہ نظر ہی نہیں آئی۔ ‘‘ عورت نے دلیل پیش کی۔ بجائے کسی قسم کی شرمندگی یا افسوس کے وہ عورت عجیب ڈھٹائی سے باتیں کر رہی تھی۔

بھیا نے مزید انتظار نہ کرتے ہوئے پولیس کو فون کر نا چاہا تو اس عورت نے جھٹ سے پینترا بدل لیا۔ ’’دراصل میرا خاوند ہی انشورنس کے کام کو ڈیل کرتا ہے۔ مجھے اپنی انشورنس کمپنی کا علم نہیں ہے۔ مگر گھر  جا کر آپ کو فون کر کے بتا دوں گی۔ ‘‘ بھیا نے اپنا وزٹنگ کارڈ اسے دیا تو وہ اسے پڑھے پڑھتے چونک سی گئی۔ کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ ’’تو آپ پاگلوں کے ڈاکٹر ہیں۔ اور مجھے بھی پاگل سمجھ کر مجھ پر چلاّ رہے ہیں۔ میں تو بس گاڑی کو ریورس گیئر میں ڈال کر ٹریفک میں سے نکلنا چاہ رہی تھی کہ آپ سے جا ٹکرائی۔

 ’’مجھے پورا یقین ہے کہ تم ضرور کسی دماغی خلفشار کا شکار ہو وگرنہ ایسی بیہودہ حرکت ٹریفک کے ایسے رش میں۔ کوئی سمجھ دار انسان نہیں کر سکتا۔ ‘‘ بھیا دھاڑے۔ ۔ ۔ ۔ میں نے مسکراتے ہوئے سوچا کہ آج تو واقعی ستارے الٹی چال چل رہے ہیں وگرنہ ایسی بھیڑ میں ریورس گیئر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

٭٭٭