کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ماں کی مامتا

اختر شیرانی


امیر تیمور گورکانی درّۂ کانہول میں جو گلاب و یاسمین کے سرخ و سفید پھولوں کے ایک حسین ابر پارے سے چھپا ہوا تھا،عیش و نشاط اور  ناؤ نوش میں مشغول تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔ سمر قندی شاعروں نے اِس درّے کو "پروازِ گل "کے نام سے موسوم کیا تھا۔ اِس دلچسپ مقام سے شہر کے تمام آسمان شکوہ مینار اور مساجد و معابد کے سبز گنبد بخوبی نظر آتے تھے۔۔۔۔۔۔۔ درّہ کی لمبائی کے گرد پندرہ ہزار رنگین قناتیں بڑے بڑے پنکھوں کی طرح زمین پر قائم تھیں اور اُن پر دیبا و پرنیاں کی جھنڈیاں۔۔۔۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا تھا، جاندار پھول ہوا میں تیر رہے ہیں۔

تیمور کا خیمہ اِن قناتوں اور چھولداریوں کے درمیان ایک خوبصورت ملکہ کی طرح نظر آتا تھا۔ جو اپنی خواصوں اور  کنیزوں کے حلقہ میں کھڑی ہو۔۔۔۔۔۔ اُس کے خیمے کی قنات، زمین کا مربّع حِصّہ گھیرے ہوئے تھی۔ جس کے چاروں حِصّے تقریباً سو قدم طویل اور تین نیزوں کے برابر بلند تھے۔ خیمہ بارہ طلائی ستونوں پر قائم تھا۔ جو درمیانی حِصّے کے نیچے نصب تھے اور اِس غرض سے کہ کہیں یہ رنگ و بو کا ارضی ابر آسمان کی طرف نہ اُڑ جائے، پانسو سُرخ ریشمیں طنابوں کے ساتھ محکم کر دیا گیا تھا۔ خیمے کے چاروں گوشوں میں ایک ایک چاندی کا بنا ہوا شاہین جو صنعت کا نفیس ترین نمونہ تھا بٹھایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ خیمے کے بیچ میں پانچواں شاہین خود تیمور تھا۔۔۔۔۔۔ وہ شہنشاہ جو نہیں جانتا تھا، مغلوب ہونا کسے کہتے ہیں؟

تیمور کا لباس بہت کشادہ تھا۔ جو آبی رنگ کی زیبا سے تیار کیا گیا تھا اُس پر پانچ ہزار سے زیادہ مروارید کے دانے ٹکے تھے۔ سر  پر سفید اور شکستہ کلاہ جس کے نیچے سے اُس کے سپید و سیاہ بال باہر نکل رہے تھے۔ اُس کی آنکھوں سے جو چاروں طرف نگران تھیں، خون کا جوش اُبل رہا تھا!

اُس کی آنکھیں چھوٹی اور تنگ تھیں، مگر ہر چیز کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔۔ دیکھ سکتی تھیں۔۔۔۔۔ اُن سے زہر کی سی سردی اور خنکی ٹپک رہی تھی! شہنشاہ کے کانوں میں سراندیپ کے عقیق کے دو گوشوارے تھے۔ رنگ میں حسین و جمیل دوشیزاؤں کے ہونٹوں سے ملتے جُلتے ! !

خیمے میں نہایت نفیس اور قیمتی قالین بچھے تھے جن پر عیش و عشرت کا سامان مہّیا تھا۔ ایک طرف مُغنیّوں اور سازندوں کا ہجوم تھا۔۔۔۔ تیمور کے نزدیک اُس کے عزیز و اقربا، دوسرے بادشاہ، خوانین اور فوجی افسر بیٹھے تھے۔ سب سے زیادہ نزدیک اُس کے دربار کا شاعر "کرمانی ‘‘۔۔۔۔۔۔ اپنے کیفِ معنوی میں مخمور نظر آتا تھا!

یہ وہی کرمانی ہے جس سے ایک دن تیمور کی اِس طرح گفتگو ہوئی تھی۔

 "کرمانی! اگر مجھے فروخت کیا جائے تو تم کتنے میں خریدو گے ؟ تیمور نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

 "پچیس سپاہیوں کے معاوضے میں۔ "کرمانی کا جواب تھا۔ یہ تو صرف میرے زریں پٹکے کی قیمت ہے ! "تیمور نے غضبناک ہو کر کہا۔

 "میں نے بھی تو اِسی پٹکے کی قیمت لگائی۔ ورنہ خود آپ کی ذات کے لیے تو کوئی ایک درم بھی نہ دے گا۔ کرمانی نے بیباکی سے جواب دیا۔

کیسا زبردست اور جابر شہنشاہ!۔۔۔۔ کس قدر دہشت انگیز! !۔۔۔۔ کس قدر ہولناک! ! !۔۔۔۔۔ اور کرمانی کی یہ بے خوف گفتگو! !۔۔۔۔۔کیا اِس حق گو شاعر کی شہرت، تیمور کی شہرت سے زیادہ بُلند ہونے کا حق نہیں رکھتی؟

یکایک۔۔۔۔۔ اِس بزمِ نوشا نوش کے مترنّم اور خوشگوار، ہنگاموں میں ایک آواز۔۔۔۔۔ جس طرح بادلوں سے بجلی کوند جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ "یئیلدرم بایزید "کے مغلوب کرنے والے کے کانوں میں آئی۔

یہ آواز۔۔۔۔۔۔ ایک عورت کی آواز تھی جو ایک غضبناک شیرنی کی طرح سنائی دی! !

تیمور کے انتقام جُو اور زخمی دل کو، جو اُس کے فرزندِ دلبند کے ضائع ہو جانے کے سبب سے تمام دُنیا اور دُنیا والوں کے خلاف غیظ و غضب سے لبریز ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔ یہ آواز ایک آشنا سی آواز معلوم ہوئی! جامِ عشرت اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ اُس کے لبوں پر ایک اضطراری لہر دوڑ گئی۔ یہ لہر کہہ رہی تھی۔ "یہ دلخراش آواز کہاں سے آئی؟ "

حکم کی تعمیل "بندگانِ دولت "کی گھبراہٹ نے کی، جو چاروں طرف دوڑ گئے تھے۔ شہنشاہ کو جواب ملا۔ "یہ ایک دیوانی عورت کی آواز ہے جو کسی طرح یہاں تک پہنچ گئی ہے۔ شکل و صورت سے فقیرنی معلوم ہوتی ہے، عربی میں گفتگو کرتی ہے اور "فرمانروائے بحر و بر "کی آستاں بوسی کی خواہشمند ہے "!

 "فوراً حاضر کی جائے "! ! تیمور نے حکم دیا اور۔۔۔۔۔ عورت خیمے میں داخل ہوئی۔۔۔۔۔۔ برہنہ پا! پھٹے ہوئے کپڑے ! سینہ چھُپانے کے لیے اپنی زلفیں بکھیرے ہوئے ! چہرہ کا رنگ اُڑا ہوا۔۔۔۔۔۔ بغیر کسی کپکپاہٹ کے، جو ایسے با جاہ و جلال اور ہیبت ناک شہنشاہ کی موجودگی کا ادنیٰ سا خراج تھا۔۔۔۔۔ اُس نے دونوں ہاتھ شہنشاہ کی طرف پھیلا دیے اور بے باکانہ۔۔۔۔۔ خود فراموشانہ لہجہ میں گویا ہوئی:۔

 "کیا تُو ہی وہ فرمانروا ہے جس نے سلطان بایزید کو مغلوب کیا ہے ؟ "

ہاں میں ہی ہوں۔۔۔۔۔۔ میں نے ہی بایزید کو اور بایزید ایسے کئی بادشاہوں کو مغلوب کیا ہے ! بتا تُو کیا چاہتی ہے ؟ "تیمور نے جواب دیا۔

 "سُن اے امیر! تُو جو کچھ بھی ہے اور جس حیثیت میں بھی ہے پھر بھی ایک آدمی ہے ! لیکن میں۔۔۔۔۔۔ آہ! میں ایک ماں ہوں۔ تُو موت اور  ہلاکت کی خدمت کرتا ہے، میں زندگی اور سلامتی کی خدمت کرتی ہوں۔۔۔۔۔ تُو انسان کو ہلاک کرتا ہے۔ میری گود میں اُس کی پرورش ہوتی ہے۔ مجھے بتلایا گیا ہے کہ تیرے عقیدے میں انصاف کرنا توانائی میں داخل ہے۔ مگر مجھے یقین نہیں آئے گا، جب تک تُو میری فریاد کو، میری داد کو نہیں پہنچے گا۔ "عورت نے کمالِ تمکین و وقار کے لہجہ میں کہا۔ "اِس لیے کہ میں ایک ماں ہوں! ایک دُکھیاری ماں! ! "

تیمور نے عورت کی بے خوفی اور بے پروائی کو حیرت سے دیکھا۔ اُس کو بیٹھنے کی اجارت دی۔ "میں سُن رہا ہوں، تم اصل واقعہ سناؤ۔ "

عورت، شہنشاہ کے سامنے چار زانو ہو بیٹھی اور کہنے لگی۔ "امیر! میں سالرمو کی رہنے والی ہوں۔۔۔۔۔۔۔ تُو نے ہر گز اِس جگہ کا نام نہ سنا ہو گا۔ کیونکہ وہ دُور ہے۔۔۔۔۔ یہاں سے بہت ہی دُور!۔۔۔۔۔ میرا باپ اور شوہر ماہی گیر تھے۔ ایک دن بحری قزّاقوں نے چھاپا مارا اور ‘‘۔۔۔۔۔ اُس نے روتے ہوئے کہا۔ "دونوں قتل کر ڈالے۔ میرے ‘‘۔۔۔۔۔۔ اُس کی ہچکی بندھ گئی۔۔۔۔۔۔۔ "میرے لختِ جگر کو جو نہایت خوب صورت تھا۔ "تیمور کے منہ سے آہ نکل گئی۔ اُس نے دل ہی دل میں کہا۔ "خوبصورت!۔۔۔۔۔۔۔ میرے لڑکے جہانگیر کی طرح؟ آہ! "عورت نے اپنا قِصّہ جاری رکھتے ہوئے اور آنکھوں سے سیلابِ درد بہاتے ہوئے کہا۔ "بے رحم قزّاق میرے لڑکے کو پکڑ کر لے گئے۔ آج چار سال!۔۔۔۔۔۔ آہ! پورے چار سال گزرے کہ میں اُس کی تلاش میں دیوانہ وار چاروں طرف پھرتی ہوں مگر کہیں پتہ نشان نہیں ملتا۔۔۔۔۔ امیر! میں سمجھتی ہوں۔ میرا لڑکا تیرے  پاس ہے، کیونکہ بایزید کے لشکر نے اُن بحری قزّاقوں کو گرفتار کر لیا تھا اور تُو نے بایزید کو شکست دے کر اُس کا سب کچھ چھین لیا ہے۔۔۔۔۔۔ضرور ہے کہ میرا لڑکا تیرے پاس ہو گا اور اِس لیے میں چاہتی ہوں تُو اُسے میرے سپرد کر دے "!

حاضرینِ  دربار عورت کی باتوں پر ہنس پڑے "یہ دیوانی ہو گئی ہے ‘‘۔

شاعر کرمانی نے کہا۔ "ہاں یہ دیوانی ہے۔ مگر ایک ماں کی طرح "!

تیمور نے دریافت کیا۔ "بڑھیا! تُو کس طرح اِس قدر دُور دراز راستوں سے اِس جگہ آ پہنچی ؟ تُو نے ایسے ایسے پہاڑ اور جنگل کیونکر طے کئے ؟راستے میں وحشی لُٹیروں اور  ڈاکوؤں کے ہاتھوں سے کیسے بچی؟ "

آہ! ماں کی محبّت! !۔۔۔۔۔۔ ماں کی ہمیں پرستش کرنی چاہئیے۔ دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے، جو ماں کی محبّت کے راستے میں حائل اور مانع ہو سکے انسان کے تمام کامل صفات و حسنات۔۔۔۔۔۔  سب ماں کے دودھ کی چھاؤں میں پرورش پاتے ہیں۔۔۔۔۔ ! ! پھُول، آفتاب کے بغیر پیدا نہیں ہوتا۔ نیک بختی محبّت کے بغیر نصیب نہیں ہوتی! محبّت، عورت کے بغیر ممکن نہیں اور شاعر اور سپاہی کوئی بھی ماں کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔ !

مظلوم عورت نے مکرّر کہا۔ "تیمور! میرا لڑکا مجھے دلا دے ! "

شاعر کرمانی بولا۔ "ماؤں کی ہمیں پرستش کرنی چاہئیے۔ اِس لیے کہ وہ ہمارے لیے بڑے بڑے آدمی پیدا کرتی ہیں اور آدمیوں کو بلند مرتبہ پر پہنچاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ارسطو، فردوسی اور سعدی اپنی شہد آمیز شیریں زبانی کے ساتھ۔۔۔۔۔ عمر خیّام اپنی شراب کی سی زہر آلود رباعیوں کے ساتھ۔۔۔۔۔۔  سکندر، ہومر اور بہرام گور۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب عورت کے، ایک ماں کے بچّے ہیں "!

تیمور اُس وقت عورت کی باتوں سے کسی گہری فکر میں چلا گیا۔ پھر سر اُٹھا کر۔۔۔۔۔ اُس نے حکم دیا کہ "تین سو شہسوار فوراً اُس لڑکے کی تلاش میں روانہ ہو جائیں، جو شخص ڈھونڈ کر لائے گا۔ اُسے انعام دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔ "پھر اُس نے آہ بھر کر  کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ "میں سمجھ گیا۔ یہ عورت اِس قدر بے پروا اور بے خوف کیوں ہے ؟ چونکہ وہ ماں ہے !۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک محبّت کرنے والی ماں! اور کوئی ماں نہیں ہوتی جو محبّت نہ کرتی ہو! ! لڑکے کے کھو جانے سے اِس کے دل میں آگ سی بھڑک رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسی آگ! جو برسوں تک، قرنوں تک شرارے چھڑک سکتی ہے۔ "

تیمور کے حکم جاری کرنے پر کرمانی کی شاعرانہ اور درد آشنا روح وجد میں آ گئی اور اُس نے فی البدیہہ یہ اشعار موزوں کر  لیے :۔

ماں

یہ کون نغمہ ہے ساری دنیا کے  نغمہائے  طرب  سے  شیریں

جو  انجمِ  آسمان  و  گلہائے  باغ کا عکس بن رہا  ہے

  

کوئی بتائے  بھلا وہ  کیا  ہے ؟

زمانہ  کے  اہلِ  ذوق  میں  سے  ہر  ایک کا یہ خیال ہو گا

کہ  وہ  محبت ہے،  جس  سے  یہ خاکدانِ  تیرہ  سنور رہا ہے

 حریمِ ہستی مہک  رہا  ہے !

وہ  چیز، جو  آفتابِ  نصف النّہار اُردی بہشت سے  بھی

ہزار درجہ  زیادہ اچھی ہے، خوبصورت ہے، خوشنما  ہے

 کوئی بتائے بھلا  وہ  کیا  ہے ؟

فضائے شبگوں میں مَیں نے دیکھے ہیں مسکراتے ہوئے ستارے

میں جانتا ہوں کہ چشمِ محبوب سارے پھولوں سے خوشنما ہے

 شراب  گوں  ہے، شراب  زا ہے !

میں  جانتا  ہوں  کہ  اس  کا  اِک  ہلکا  ہلکا  سا نازنیں تبسّم

دل شکستہ کے حق  میں کس درجہ  مہر انگیز و مہر زا  ہے

 لبِ تکلّم کا معجزہ  ہے ! کرشمہ آرائی ہائے احساسِ حسن  کے  باوجود  اب  تک

نہ  کہہ  سکا  کوئی  شاعر  آخر، وہ  نغمۂ دل پذیر  کیا ہے ؟

 

جو سب  سے بہتر ہے، دلربا  ہے

مگر  میں  کہتا  ہوں  اب  کہ  وہ نغمہ  آہ!وہ  دلگداز  نغمہ

جو ساری  دنیا  کے  سارے  رنگیں  ترانوں  کا اصل مبتدا ہے

 جو  قلبِ  فطرت  کا  آئینہ  ہے !

وہ نغمہ،  وہ کائنات کا،کائنات کا سحر کار  دل ہے ! !

وہ دل کہ جس کا جہان والوں نے پیار  سے  نام  ماں  رکھا  ہے ! !

 

 

وہی محبت  کی  ابتدا  ہے ! !

وہ  ہی  محبت کی  انتہا  ہے ! !