کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آرزو

اختر شیرانی


شیرین رستم جی اپنی بڑی بہن فیروزہ کی منتظر تھی جو کشمیر کی سیاحت سے واپس آنے والی تھی۔۔۔۔ دونوں بہنوں کو ایک دوسرے سے ملے پانچ ہفتے گزر چکے تھے اور آج فیروزہ اپنے شوہر کو راولپنڈی چھوڑ کر جہلم آ رہی تھی۔ تاکہ چند روز اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ گُزارے۔

مسز رستم جی ڈرائنگ روم میں تنہا بیٹھی تھی اور ایک کتاب سامنے رکھے اپنی تمام توجّہات کو اِس کے صفحات میں جذب کر دینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔ ہر ایک آہٹ پروہ چونک اُٹھتی تھی۔

آخرِ کار اُس کی بہن کی شکل نظر آئی۔۔۔۔ اور دونوں بہنیں دوڑ کر ایک دوسرے سے لپٹ گئیں۔۔۔۔ فیروزہ نے سفری پوشاک بدلی اور آپس کے ملنے والوں اور عزیزوں، دوستوں کے بارے میں چھوٹی بہن سے ہزاروں ہی سوالات کر ڈالے۔

جب اُس نے قریب سے اپنی چھوٹی بہن کو دیکھا تو۔۔۔۔۔۔ اُس کے دل کو دھکّا سا لگا۔ شیریں کے سیاہ اور چمک دار بالوں میں اُسے دو سپید  دھاریاں نظر آئیں۔۔۔۔ اور ابھی اِس کی عمر ہی کیا تھی۔۔۔۔ صرف سال۔ شیریں کے بال اُس زمانے میں سپید ہوئے تھے جب فیروزہ باہر تھی۔۔۔ اِن پانچ ہفتوں میں ضرور کچھ نہ کچھ بات ہوئی ہے۔۔۔۔ مگر کیا؟۔۔۔۔ کیسی۔۔۔۔ اُس نے پوچھنا چاہا۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔ ہمّت نہ ہوئی۔۔۔۔

چھوٹی بہن ایک اُداس اور دُکھ بھری ہنسی ہنس کر بولی "آپا میرے سپید بالوں کو دیکھ رہی تھیں تم؟ "

 "ہاں شیریں۔۔۔۔ تمہیں کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔۔۔۔ پیش آیا ہے۔۔۔۔ کوئی حادثہ۔۔۔۔ کوئی سانحہ۔۔۔۔ مجھے سچ سچ بتا دو۔۔۔۔ یاد رکھو جھوٹ بولو گی تومیں۔۔۔۔ سمجھ جاؤں گی۔ "

دونوں بہنیں آمنے سامنے کھڑی تھیں۔ چھوٹی لاش کی طرح سپید تھی۔۔۔۔ آخر اُس نے غمگین اور گلو گیر آواز  سے کہا۔ "آپا۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ ایک۔۔۔۔ ایک۔۔۔۔ ایک عاشق۔۔۔۔ "

وہ دھاڑ کر روتی ہوئی اپنی بڑی بہن کی گود میں گر پڑی۔

معاً اُس نے کہنا شروع کیا۔۔۔۔ تیزی سے۔۔۔۔ بخار کی سی ہذیانی حالت میں۔۔۔۔ وہ پھوٹ بہی۔۔۔۔ گویا اپنی ہولناک کہانی سنا کر دل کا بخار نکالنا چاہتی ہے۔۔۔۔ دونوں بہنیں گلے میں ہاتھ ڈالے صوفہ پر بیٹھ گئیں۔

 "آپا۔۔۔۔ آپا۔۔۔۔ میں نہیں جانتی مجھے کیا ہوا؟ میں اپنے آپ کو نہیں سمجھ سکتی۔۔۔۔ میرے اللہ، اب جب میں اِس بات کو سوچتی ہوں۔۔۔۔ دیوانی سی ہو جاتی ہوں۔۔۔۔ آہ عورتیں۔۔۔۔ ہم عورتیں کتنی کمزور ہیں۔۔۔۔ سچ مچ کمزور ہیں۔۔۔۔ کمزور دل۔۔۔۔ مردوں کے لئے اُن کو پھانسنے کی خاطر صرف ایک موثّر ایک رقیق، جذباتی لمحہ کافی ہوتا ہے۔

تم میرے شوہر کو جانتی ہو!۔۔۔۔ یہ بھی جانتی ہو کہ مجھے اُس سے محبّت ہے۔ اِس میں شک نہیں کہ وہ مجھ سے کئی سال بڑا ہے اور میری طرف کو بھی نہیں سمجھتا۔۔۔۔ تاہم کتنا شریف۔۔۔۔ کس قدر مہربان۔۔۔۔ آہ کس طرح۔۔۔۔ میں کبھی کبھی چاہتی ہوں کہ وہ وحشی ہوتا۔۔۔۔ ظالم ہوتا۔۔۔۔ ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتی ہوں کہ وہ کمزور بھی ہو۔۔۔۔ اور اِسی طرح میرا بنا رہے۔۔۔۔ میری ضرورت محسوس کرے۔۔۔۔ یہ بیوقوفی ہے۔۔۔۔ میں جانتی ہوں۔۔۔۔ مگر میں اِس خیال سے باز نہیں رہ سکتی۔۔۔۔

مجھے کبھی خیال تک نہ ہوا تھا کہ میں ایک بے وفا بیوی ثابت ہوں گی۔ خواہ میں۔۔۔۔ کسی ایسے مرد ہی سے کیوں نہ ملوں جس سے مجھے محبت ہو جائے۔۔۔۔ مگر آپا۔۔۔۔ میں ایک بے وفا ثابت ہوئی۔۔۔۔ حالانکہ میں نے کسی سے محبت بھی نہیں کی۔۔۔۔ کیونکہ اصلی چیز چاندنی رات تھی۔ خوبصورت دریا کے کنارے ایک خوبصورت چاندنی رات۔۔۔۔ !

اور پھر۔۔۔۔ میرا شوہر "ٹھنڈی "مٹّی کا بنا ہوا ہے۔ اُس کی سرد مہری، برودت۔۔۔۔ میرے جذبات پر اَوس سی چھڑک دیتی ہے۔۔۔۔ اُس کو غرور ہے کہ وہ اپنے خیالات اور جذبات پر قابو رکھتا ہے۔۔۔۔ اور اُس کا سینہ نازک و لطیف احساسات سے خالی ہے۔۔۔۔ آہ!۔۔۔۔ کس طرح۔۔۔۔ کس حسرت اور آرزو کے عالم میں مَیں نے ایک مرتبہ اُس سے کہا کہ۔۔۔۔ آج چاندنی رات ہے۔۔۔۔ کیا اِس چاندنی میں۔۔۔۔ اِس بھینی بھینی فضا میں۔۔۔۔ اِس ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں۔۔۔۔ اِس دھیمی دھیمی روشنی میں۔۔۔۔ تم مجھے پیار نہیں کرو گے ؟ مگر آہ! اُس کے جواب میں اُس نے مجھے ایک "نادان اور بے وقوف لڑکی "سے تعبیر کیا۔۔۔۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب دو ہستیاں ایک دوسرے سے محبت کرتی ہیں تو۔۔۔۔ اُن کے باہمی جذبات کی سرشاریوں میں ہزار درجہ اضافہ ہو جاتا ہے، اگر اُس وقت۔۔۔۔ فطرت کے تمام حسن و رنگ موجود ہوں۔۔۔۔ فضا میں بکھرے ہوئے ہوں۔۔۔۔ پھیلے ہوئے ہوں۔۔۔۔ !

میں۔۔۔۔ نادانی سے کہہ لو۔۔۔۔ یا کچھ۔۔۔۔ میں اُس وقت۔۔۔۔ اُس محشرستانِ نور و نگہت میں۔۔۔۔ اِس عالمِ رنگ و بو میں۔۔۔۔ ایک ایسے مرد کی خواہشمند تھی جو۔۔۔۔ منظر کی تمام لطافتوں کو، تمام رنگینیوں کو محسوس کرے۔۔۔۔ میری طرح۔۔۔۔ میرے برابر محسوس کرے۔۔۔۔  اور میرے تمام نازک اور گہرے۔۔۔۔ گداز اور لطیف احساسات کو زخمی نہ کرے ۔۔۔۔ بجھا نہ دے۔۔۔۔ پامال نہ کرے۔۔۔۔ !

ایک رات۔۔۔۔ میرا شوہر جلدی ہی بستر پر چلا گیا، اور میں۔۔۔۔ سونے سے پہلے ایک مختصر سی تفریح کے لیے چشمے کی طرف نکل آئی۔۔۔۔ آپا!۔۔۔۔ تم نے ایسی رات۔۔۔۔ ایسی حسین۔۔۔۔ ایسی شاندار رات نہیں دیکھی ہو گی۔۔۔۔ نہیں اپنی تمام سیاحتوں میں بھی نہیں دیکھی ہو گی۔۔۔۔ ہم چشمے کے قریب دیہات میں مقیم تھے۔۔۔۔ کائنات پر ایک نہایت حسین و جمیل چاندنی رات پھیلی ہوئی تھی۔ مسرور اور معطّر نسیم  نگہتیں برساتی ہوئی، اٹھکیلیاں کرتی ہوئی پھر رہی تھی۔۔۔۔ بلبلیں۔۔۔۔ خواب میں ڈوبے ہوئے شیریں اور موثّر نغمے گا رہی تھیں، میں از خود رفتگی کے عالم میں سبزے پر بیٹھ گئی اور خواب۔۔۔۔ آہ! محبت کا خواب دیکھنے لگی۔۔۔۔ اُس رات میں محبّت اور  رومان کی پیاسی تھی۔۔۔۔ اِس قدر پیاسی کہ اِس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس رات میں اپنی سادہ اور  بے کیف زندگی سے تھکی ہوئی تھی۔۔۔۔  بیزار تھی۔۔۔۔ اتنی تھکی ہوئی تھی۔۔۔۔ اِتنی بیزار تھی۔۔۔۔ کہ کبھی نہ ہوئی تھی۔۔۔۔ آہ!۔۔۔۔ کیا میں اپنی دوسری ہم سنوں کی طرح۔۔۔۔ دریا کے کنارے۔۔۔۔ چاندنی کی سہانی چھاؤں میں۔۔۔ ایک جوان عاشق کے ساتھ نہیں ٹہل سکتی؟۔۔۔۔ آہ! کیا میں بہار کی رات کے شیریں سایوں میں۔۔۔۔ دو مضبوط اور نوجوان بازوؤں سے گھری ہوئی۔۔۔۔ انتہائی جذباتی مسرّت سے بے خود نہیں ہو سکتی ؟۔۔۔۔ میں نے چیخنا چاہا۔۔۔۔ بے اختیار رونا چاہا۔۔۔۔ بے ضبط ہو کر۔۔۔۔ بیتاب ہو کر دھاڑیں مار مار کر رونا چاہا۔۔۔۔ اچانک میں نے اپنے پسِ پشت آہٹ سی محسوس کی۔۔۔۔ ایک۔۔۔۔ کوئی مرد کھڑا تھا۔۔۔۔ میری طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ جیسے ہی میں نے منہ پھیر کر اُس کی طرف دیکھا۔۔۔۔ وہ آگے بڑھا۔۔۔۔ میری طرف بڑھا۔۔۔۔ "تم رو رہی ہو خاتون۔ "

میں نے اُسے پہچان لیا۔۔۔۔ وہ ایک نوجوان تھا۔۔۔۔ جو کبھی کبھی گھرکے سامنے سے گزرا کرتا تھا۔۔۔۔ اور اِن سیر گاہوں میں اکثر۔۔۔۔ اکثر۔۔۔۔ میری طرف دیکھا کرتا تھا۔۔۔۔ حیرت سے مغلوب ہو کر میں اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے کہ۔۔۔۔۔ "میری طبعیت ناساز ہے۔۔۔۔ "

 "وہ میرے ساتھ ٹہلنے لگا۔۔۔۔ خاموش۔۔۔۔ ادب و احترام کے ساتھ ٹہلنے لگا۔۔۔۔ ہم میں باتیں ہونے لگیں۔۔۔۔ اور آہ!۔۔۔۔ آپا۔۔۔۔ آپا وہ منظر کو۔۔۔۔ تمام حسین مناظر کو بالکل اُسی طرح محسوس کرتا تھا۔۔۔۔ جس طرح میں۔۔۔۔ وہ اُنہی اشعار کو پسند کرتا تھا جنھیں میں پسند کرتی تھی۔۔۔۔ اُس نے دلکش اور سُریلی آواز سے گانا شروع کیا، کائنات کی ہر ایک چیز۔۔۔۔ میری آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔۔۔۔ صرف چھِٹکی ہوئی۔۔۔۔ کھِلی  ہوئی چاندنی۔۔۔۔ اور دریا کا کنارہ۔۔۔۔ نگاہوں میں بس رہا تھا۔۔۔۔ اور یہ سب کچھ اِس طرح اِس انداز سے ظہور پذیر ہوا گویا۔۔۔۔ کسی خواب کا حِصّہ ہو۔۔۔۔ کسی سحر آلود خواب کا۔۔۔۔ !

اور وہ مرد۔۔۔۔ وہ مرد۔۔۔۔ دوسرے دن وہ پھر وہاں ملا۔۔۔۔ چند منٹ باتیں ہوئیں۔۔۔۔ اُس نے۔۔۔۔ مجھے اپنا کارڈ دیا۔۔۔۔شیریں اپنی بہن کی گود میں گر پڑی اور اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا چشمہ بہہ نکلا۔۔۔۔

بڑی بہن نے نرمی اور  شفقت کے لہجہ میں کہا:۔

 "ننّھی بہن! اکثر اوقات ہم مردوں سے محبت نہیں کرتیں۔ بلکہ مردوں کی صورت میں خود محبت نمودار ہوتی ہے۔۔۔۔ اور اُس رات وہ مرد نہیں۔۔۔۔ بلکہ خود چاندنی رات تھی جوتم سے محبت کر رہی تھی۔۔۔۔ !

(فرنچ افسانہ)(ماپسان )