کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سیب کا درخت

اختر شیرانی


پرانے مکان کے ساتھ دو بغیچے تھے۔ پہلا جسے ہم "جنگلی بغیچہ "کہا کرتے تھے، سبزی کی کیاریوں کے دوسری طرف واقع تھا جس میں کچّے اور کڑوے شاہ دانہ، آلوبخارا اور صاف و شفّاف رنگ کے پیلے پیلے آلوچوں کے پیڑ اُگے ہوئے تھے بڑے بڑے گھنیرے درختوں کے سائے نے اُس بغیچے کو اندھیرے میں چھپا رکھا تھا۔ اندھیرے کے ڈر سے ہم نہ تو وہاں کھیلنے جاتے تھے اور نہ گرے پڑے پھل اُٹھا لانے کی جرأت کرتے تھے۔ البتہ اُس کے بیچوں بیچ چاروں طرف سے کھُلے ہوئے صحن میں ہر سوموار کی صبح کو ہماری ملازمہ اور دھوبن مختلف کپڑے مثلاً دادی امّاں کا شب خوابی کا لباس، ابّا کی دھاری دار قمیض۔ نوکر کے اونی پاجامے اور خادمہ کے غلیظ اور بدنما گھٹنّے دھوکر سُکھانے کے لیے لے جاتی تھی۔ دوسرا بغیچہ مکان سے بہت دور اور نظروں سے چھُپا ہوا، ایک چھوٹی سی پہاڑی کے دامن میں چوپالوں کے باڑوں کے کناروں تک پھیلا ہوا تھا۔ چمکدار اور نیلے کیکروں کے جھنڈ تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کی پھیلی ہوئی شاخیں، اپنی درانتیوں کی طرح لہراتی ہوئی پتیوں کے ساتھ نیچے کو جھُکی پڑتی تھیں۔

پھل دار پیڑوں کے نیچے اتنی موٹی اور بھّدی گھاس اُگی ہوئی تھی کہ جب کوئی اُدھر سے گزرتا تو اُس کے جوتے اور پَیر اُس میں اُلجھ کر رہ جاتے تھے۔ یہ گھاس گرمی کے دنوں میں بھی گیلی رہتی تھی۔ آندھی کے تیز اور طوفانی جھونکوں کے زور سے گرے ہوئے پھلوں کی تلاش میں کوئی وہاں جاتا اور گھاس کے اُلجھیڑوں سے اپنے پیر چھڑانے کے لیے اُسے ہاتھوں سے اِدھر اُدھر ہٹاتا تو اُس کی نمی کا اچھی طرح احساس ہوتا تھا۔ پرندوں کے کُترے ہوئے پھل، ادھ کھائی ناشپاتیاں کچلی ہوئی بہِیاں، جن پر چڑیوں کی چونچ کے نشان ہوتے تھے بڑی تعداد میں گھاس پر اِدھر اُدھر بکھرے پڑے رہتے تھے اور اُن کو نمک لگا لگا کر کھانے سے بڑا مزہ آتا تھا۔ سوندھی سوندھی خوشبو اتنی اچھی ہوتی تھی کہ اُن کو کھانے کی بجائے سونگھنا ہی بھلا معلوم ہوتا تھا۔

ایک سال اُس بغیچے میں، ایک ایسے درخت کا پتہ لگا۔ جس کی حفاظت اور نگہداشت کی سب کو فکر ہو گئی۔ یہ درخت سیب کا تھا، جسے ایک دن شام کو کھانے کے بعد چہل قدمی کرتے ہوئے ابّا جان اور اُن کے ایک دوست نے معلوم کیا تھا۔

 "سبحان اللہ۔ "ابّا جان کے دوست نے سیب کے درخت کو اتفاقیہ دیکھ لینے پر کہا۔ "کیا یہ ایک۔۔۔۔۔۔ نہیں؟ "

اور جس طرح کسی ننھے پودے پر کوئی ایسی چڑیا بیٹھی ہو۔ جس کا ہمیں نام نہ معلوم ہو اور ہم اپنی سمجھ کے مطابق کوئی اچھا سا نام رکھ دیں۔ اُس طرح ابا جان کے دوست نے اِس درخت کو ایک شاندار نام سے یاد کیا۔

 "بے شک! تمھارا خیال صحیح ہے ! "ابا جان نے آہستہ سے کہا۔ حالانکہ واقعہ یہ تھا کہ اُن کو پھل دار درختوں کے نام تک معلوم نہ تھے۔

 "سبحان اللہ! "اُن کے دوست نے دوبارہ کہا۔ "کتنے خوبصورت سیب ہیں شاید ہی کہیں اِن کا ثانی نظر آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنے شاندار! مگر اِن کو کچا نہ توڑ لینا؟

 "نہیں نہیں۔۔۔۔ واقعی یہ خوب صورت ہیں۔ "ابا جان نے درخت کی طرف ایک نئی دلچسپی سے دیکھتے ہوئے مگر بے پروائی کے انداز میں کہا۔

کیسے نادر سیب ہیں۔۔۔۔ بہت ہی نادر۔۔۔۔۔۔  آج کل انگلستان میں ایسے سیب شاذ و نادر ہی کہیں نظر آئیں گے۔ یہ کہہ کر مہمان نے والد کی خوشی کو انتہائی درجے تک پہنچا دیا۔

والد ایک خود ساختہ انسان تھے۔ اور جو قیمت اُنہوں نے اپنے مکان اور  زمین کی ادا کی تھی وہ اُن کے لیے بہت زیادہ اور تکلیف دہ تھی۔ اِس لیے اُن کو اپنی خریدی ہوئی کسی چیز کی تعریف سے بڑھ کر کسی بات سے خوشی نہیں ہو سکتی تھی۔ وہ ابھی تک جوان اور ذی حِس تھے وہ اب تک کبھی کبھی سوچتے تھے کہ آیا اُن کو روپے میں پورے سولہ آنے کی چیز ملی ہے یا نہیں؟ وہ اب بھی کبھی چاندنی راتوں میں، اِدھر اُدھر ٹہلتے ہوئے گھنٹوں، اپنی دفتر کی روزانہ حاضری سے نجات۔۔۔۔۔۔ اور ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کرنے کی بابت سوچا کر تے تھے !

اب جو اُن کو معلوم ہوا کہ اُن کے باغیچے میں سیب کا ایک قیمتی درخت ہے ایسا شاندار درخت جسے اُن کے انگلستان کے رہنے والے دوست نے بھی رشک و حسد کی نظروں سے دیکھا تھا تو اُن کی خوشی کی کوئی حد نہ رہی۔

 "بچّو! اِس درخت کونہ چھیڑنا سنتے ہو میں کیا کہہ رہا ہوں ؟ "ابا نے کسی قدر نرمی مگر استقلال کے لہجے میں کہا۔ مگر اپنے دوست کے چلے جانے کے بعد ایک بالکل نئے انداز میں اتنا اضافہ اور کر دیا کہ "اگر میں نے کبھی بھی تم میں سے کسی کو اِن سیبوں کو چھیڑتے ہوئے دیکھا، تو یاد رکھنا، چابک سے تمھاری اچھی طرح خبر لوں گا۔ "

اُس دن کے بعد سے والد کا معمول ہو گیا کہ وہ ہر اتوار کی صبح، اِس حالت میں کہ ہم دونوں بہن بھائی دُم کی طرح اُن کے ساتھ لگے رہتے تھے۔ بنفشہ  کی پگڈنڈی پر ٹہلتے ہوئے۔ سفید گلاب کی پھلواری سے گزر کر پہاڑی کے دامن والے بغیچے میں پہنچ جاتے تھے۔

ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے سیب کے درخت کو بھی اپنی نئی شان اور قیمت کا علم ہو گیا ہے۔ وہ ایک مغرور دوشیزہ کی طرح اپنے ساتھی سے الگ تھلگ، اپنے خوشوں اور جھمکوں کے بوجھ سے کسی قدر جھُکا ہوا، اپنی چمک دار پتیاں، برسانے میں محو نظر آتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ والد کی نظروں میں اُس کی اہمیت بہت بڑھ گئی تھی۔ اُسے دیکھ کروہ خوشی کے مارے پھولے نہ سماتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں معلوم تھا کہ وہ پھولے نہیں سماتے۔ وہ اپنی پشت پر ہاتھ رکھے سامنے کی طرف نظریں جما دیتے تھے۔ سامنے جہاں حُسنِ اتفاق کی یہ سر سبز مثال مجسّم و متشکّل تھی۔ وہ مثال کہ زمین کا سودا طے کرتے وقت کسی کو اس کا سان  و گمان بھی نہ تھا۔ یہ درخت اُس وقت کسی شمار قطار میں نہ تھا۔ اُس کی ایک حبّہ قیمت تک نہ دی گئی تھی اور آج۔۔۔۔۔۔۔ آج یہ حالت تھی کہ اگر تمام مکان جل کر کوئلہ ہو جاتا تو  والد کو اتنی پروا ہر گز نہ ہوتی جتنی اِس درخت کی بربادی سے تکلیف پہنچنے کا امکان تھا۔

میں اور بوگی مل کر اِس درخت کے پاس کھیلا کرتے تھے۔ اِس حال میں کہ بوگی کے ہاتھ اُس کی پیٹھ پر ہوتے تھے۔ اور ایک گول ٹوپی اُس کے سر پر۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اُس کے گھٹنے جھُکے ہوئے، جن پر خار دار پودوں اور جھاڑیوں کی رگڑ سے خراشیں نظر آتی تھیں۔

سیبوں کا زردی مائل سبز رنگ، خالص زردی سے بدلنے لگا۔ اُن پر گہرے بادامی رنگ کی لکیریں پیدا ہونے لگیں۔ کچھ دن بعد بادامی رنگ مٹنے لگا اور اُس کی جگہ سرخی پھیلنے لگی۔ رفتہ رفتہ سُرخی نہایت لطیف اور گہرے قرمزی رنگ کی صورت میں چاروں طرف پھیل گئی۔

آخر ایک دن ابّا جان نے اپنی واسکٹ کی جیب سے سیپ کے دستے کا چھوٹا سا چاقو نکالا اور سیب کے درخت پر چڑھ کر نہایت آہستگی اور احتیاط کے ساتھ ایک ٹہنے سے دو سیب توڑے۔

 "کتنے گرم ہیں۔ "وہ تعجب کے لہجے میں چلّائے "حیرت انگیز۔۔۔۔۔۔۔۔ شاندار۔ ‘‘۔۔۔۔۔۔ وہ خوشی کے عالم میں دونوں سیبوں کو اپنے ہاتھوں میں اچھال رہے تھے۔

 "اِدھر دیکھو! "درخت سے اُتر کر اُنھوں نے کہا۔ "کہیں بھی کوئی دھبّہ یا نشان نظر نہیں آتا۔ "

وہ سیبوں کو ہاتھ میں لیے ایک گرے ہوئے درخت کے ٹہنے پرجا بیٹھے۔ ہم دونوں بہن بھائی جو جھاڑیوں سے اُلجھتے اور گرتے پڑتے ٹھوکریں کھاتے اُن کے پیچھے پیچھے گئے تھے۔ اُن کے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔ اُنھوں نے ایک سیب گود میں رکھا اور دوسرے کو ہاتھ میں لے کر چاقو کھولا۔ پھر نہایت صفائی اور احتیاط سے سیب کے دو ٹکڑے کیے۔

 "آہاہا۔ ذرا اِس کی طرف دیکھو! "وہ فرطِ خوشی سے چلّائے۔

 "ابا! ! "ہم سے بھی اپنی معصومانہ خوشی ضبط نہ ہوئی۔ چھلکے کے سُرخ رنگ کے اندر سے سفید گودا بہت ہی بھلا معلوم ہوتا تھا۔ بیچ میں چمکدار اور سیاہ رنگ کے بیج بہت ہی خوب صورتی سے جمے ہوئے تھے۔ جس سطح پروہ جمے ہوئے تھے اُس کا رنگ بادامی تھا۔ جیسے تمام سیب کو شراب میں ڈبویا گیا ہو۔

 "ایسے سیب تو کبھی بھی دیکھنے میں نہیں آئے۔ "ابّا نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ "اگر میں منع نہ کرتا اور تم اِن کو توڑ لیتے تو یہ سیب ایسے ہر گز نہ ہوتے۔ "

وہ سیب کے ٹکڑے کوا پنے ناک کے قریب لے گئے اور بولے ’کیسی لذیذ خوشبو ہے۔۔۔۔۔۔۔ لذیذ! "یہ کہہ کر اُنھوں نے آدھے سیب کے ٹکڑے کیے۔ اور ایک ایک ٹکڑا میرے اور بوگی کے حوالے کیا۔

 "ابھی نہ کھانا "ابّا نے کہا۔۔۔۔۔۔۔ ہم اپنے اپنے حصّے کے ٹکڑے ہاتھ میں لیے اور خاموش بیٹھے رہے۔ اِس کے بعد اُنھوں نے باقی نصف سیب کے بھی پوری نفاست اور احتیاط سے دو ٹکڑے کیے اور ہمیں کھانے کی اجازت دی۔

میری نظریں بوگی پر جمی ہوئی تھیں۔ ہم نے ایک ساتھ اپنے اپنے ٹکڑے پر منہ جو مارا ہمارا منہ سیب کے گودے سے بھر گیا۔ گودا بہت سخت اور  بے حد کڑوا تھا۔ نہایت بدمزہ اور ناگوار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

 "کیوں کیسا ہے ؟ "والد نے انتہائی مسّرت کے عالم میں پوچھا۔ اُنہوں نے اپنے حِصّے کے سیب کے چار ٹکڑے کر لیے تھے۔ اور چاقو کی نوک سے اُس کے بیج نکال رہے تھے۔

 "کیوں ؟ "اُنہوں نے پھر دریافت کیا۔ میں نے اور بوگی نے سیب کو جلدی جلدی چباتے ہوئے پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ چبانے اور نگلنے کی اِس مختصر اور ایک لمحی مدّت میں ہم نے ایک طویل اور خاموش گفتگو آنکھوں آنکھوں میں کر لی اور ایک عجیب اور معنی خیز مسکراہٹ ہمارے ہونٹوں پر پیدا ہو گئی۔

 "بہت مزیدار! "ہم نے بالکل چھوٹ کہا۔ "ابا "بہت ہی مزے دار بہت ہی خوش ذائقہ! "

مگر ہماری غلط گوئی کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ابّا نے سیب کا ٹکڑا فوراً تھوک دیا اور پھر وہ کبھی اُس سیب کے درخت کے پاس تک نہ پھٹکے۔

(انگریزی افسانہ)