کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

انصاف

انجینئر محمد فرقان سنبھلی


۳۰ستمبر ۲۰۱۰ء ! الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبینچ بابری مسجد ملکیت مقدمے کا عجیب و غریب فیصلہ سنا چکی تھی۔ ثبوت پر اعتقاد کو فوقیت دیتے ہوئے جج صاحبان نے ایک ایسا فیصلہ سنادیا تھا جس سے ایک فریق اور اس کے ہمنواؤں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے تھے۔ٹی وی چینلوں پر فیصلے کو لے کر تنقیدی نشریات جاری تھیں۔ شہر کے گنجان آبادی والے علاقے کے ایک گھر میں کئی دوست چائے کی چسکیوں کے درمیان ٹی وی پر نظریں گڑائے تھے۔

’’حدہو گئی یہ تو‘‘ ۔ احسان نے مایوسی کے عالم میں کہا۔

’’یہ بھی بھلا کوئی فیصلہ ہے۔‘‘  منجیت سنگھ بھی بولے بنا نہ رہ سکا۔

’’کیوں بھئی اس فیصلے میں کیا برائی ہے۔ تینوں فریقین کو برابر جگہ تو  مل گئی ہے نا۔‘‘  ارجن تیاگی نے فیصلے کی حمایت میں ووٹ دیا۔

’’کیا اعتقاد کی بنیاد پر عدالتیں فیصلہ کر سکتی ہیں ‘‘ ۔ احسان نے بری طرح جھنجھلا تے ہوئے کہا۔’’اگر آئین اور ثبوت کو نظر اندا ز کر کے فیصلے دیئے جانے لگے تو کتنا بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے کسی نے سوچا بھی ہے ‘‘ ۔

’’بیشک عدالتوں کو ثبوت کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے ورنہ تو آئین کا نفاذ مشکل ہو جائے گا اور ہر طرف بدامنی پھیل جائے گی ‘‘ ۔منجیت نے چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔

’’جس طرح اعتقاد کی بنیاد پر فیصلہ ہندوؤں کے حق میں کیا گیا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ فیصلے کے پس پشت مذہبی تعصب کارفرما ہے۔‘‘ مائیکل نے بھی بحث میں حصہ لیا۔

’’اگر ہمارے فاضل جج صاحبان خود کو مذہب سے بالاتر نہیں رکھ سکتے تھے تو بہتر تھا کہ وہ ججی کے فرائض سے خود ہی ہٹ جاتے اور کسی دیگر کو یہ ذمہ داری دے دیتے۔ ‘‘ منجیت سنگھ نے کہا تو تینوں اس کا منھ دیکھنے لگے۔

’’یہ بھلا کیسے ہو سکتا تھا۔‘‘ ارجن نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔

’’دنیا میں کون سا کام ممکن نہیں ہے دوست۔ ‘‘ احسان نے منجیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا۔

’’ہمارے پیارے نبی ؐ نے تو خود ایسا کیا تھا جب کہ ان کے سامنے ان کے داماد کا مقدمہ پیش ہوا تھا۔‘‘

’’چلو دوست تم ہمیں سناؤ کہ کیسے تمہارے نبی ؐ نے مثال قائم کی تھی۔‘‘ تینوں ہمہ تن گوش ہو گئے۔

٭

’’زینب ؓ…خیریت تو ہے بیٹی‘‘

حضرت خدیجہؓ نے زینبؓ کو پسینے میں شرابور وحشت زدہ ہرنی کی طرح گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو بے اختیار ان کی طرف لپکیں۔ زینبؓ کو بانہوں میں بھر کر محبت بھرے لہجے میں بولیں :

’’کیا ہوا بیٹی… تم اس قدر بدحواس سی کیوں ہو؟‘‘

’’اماں … میں نے دین اسلام میں مکمل شمولیت کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘‘ زینبؓ نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا اور اپنے اندر طویل عرصہ سے جاری کفرو ایمان کی جنگ کی پوری داستان خدیجہؓ کے گوش گزار کر دی۔

خدیجہؓ زینبؓ کو ساتھ لے کر حضور اکرمؐ کے پاس پہنچی۔ انھیں زینبؓ کے دل کا حال کہہ سنایا۔ زینبؓ کے فیصلے پر حضور ؐ بہت خوش ہوئے اور ان کی آنکھ سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔

’بیٹی میرے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کوئی اور نہیں کہ تم داخل اسلام ہو جاؤ۔مگر بیٹی …‘‘

’’مگر کیا ابّا جان‘‘

’’یہ راہ بڑی پر خار ہے بیٹی ‘‘ ۔حضورؐ نے آگاہ کیا۔

’’مجھے علم ہے ابا جان‘‘ ۔ زینبؓ پر عزم تھیں۔

’’داخل اسلام ہوتے ہی تمہارا سسرال سے رشتہ بھی منقطع ہو جائے گا۔‘‘

’’لیکن اللہ سے تو رشتہ جڑ جائے گا۔‘‘

’’اور ابوالعاص… اس کے بارے میں بھی تم نے سوچ لیا ہے ‘‘ ۔

زینبؓ حضورؐ کی بات مکمل ہوتے ہی زار و قطار رونے لگیں۔ شوہر کی محبت اور تڑپ ان کے چہرے سے عیاں تھی۔زینبؓ بے حد جذباتی ہو گئی تھیں۔

’’اب تک ان ہی کی وجہ سے مجبور تھی ورنہ دل تو کب کا اللہ کی وحدانیت پر ایمان لا چکا تھا۔‘‘ زینبؓ کا گلا رندھ گیا تھا۔ ’’میں جانتی ہوں ابا حضور ؐ کہ ہمارا جدا رہنا مشکل ہے لیکن مجھے امید ہے کہ وہ بھی جلد اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ تب میں ایک مرتبہ پھر ان کی خدمت کر سکوں گی۔‘‘

حضور ؐ بیٹی کے جذبۂ ایمان سے بہت متاثر ہوئے اور انھوں نے زینبؓکو ڈھیروں دعائیں دیں۔’’اللہ تم پر رحمت کی بارش فرمائے اور وہ دن جلد آئے کہ ابوالعاص بھی راہ حق پر آ جائے۔ ‘‘

٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو نبوت ملے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔نئے دین میں کم ہی لوگ شامل ہوئے تھے لیکن اس نے مکہ میں ہلچل پیدا کر دی تھی۔ مشرکین حضورؐ کے خلاف لام بند ہونے لگے تھے۔ نئے دین میں حضورؐ کی بیٹی زینب ؓ اور ان کے داماد ابوالعاص ابن الربیع بقیط بھی شامل نہیں تھے۔ ان کی شادی حضورؐ کی نبوت سے قبل ہو چکی تھی۔ ابوالعاص حضرت خدیجہؓ کی سگی بہن ہالہ کے بیٹے تھے۔ حضورؐ نے ابوالعاص کو ان کی نیک فطرت اور پاکیزہ خصلت کے سبب زینبؓ کے لیے منتخب کیا تھا۔ جبکہ ہالہ بھی زینبؓ کی عادات اور اخلاق میں شائستگی کی وجہ سے انھیں پسند کرتی تھیں۔دونوں شادی کے بعد اپنی ازدواجی زندگی سے پوری طر ح مطمئن تھے۔

بعد نبوت جب زینبؓ مائکے جاتیں تو اپنے والد کی ایمان سے بھری باتیں سن کر دم بخود رہ جاتیں۔ دھیرے دھیرے ان کے اندر بھی ایمان کی شمع روشن ہونے لگی تھی۔لیکن ابوالعاص کو کسی مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ اپنے کاروبار اور زینبؓ کی قربت میں ہی خوش تھے۔ زینبؓ نے نئے دین کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کسی سے نہیں کیا تھا۔وہ ابوالعاص کے مذہب کے متعلق خیالات سے واقف تھیں اس لیے انھیں بھی اپنے جذبات سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ ان کے اندر کفر و ایمان کے درمیان جنگ جاری تھی۔زینبؓ کو جب محسو س ہوا کہ اب اللہ پر ایمان اس قدر مضبوط ہو چکا ہے کہ بد عقیدہ شوہر کی محبت بھی ان کے قدموں کو نہیں روک سکتی تو انھوں نے دین اسلام میں داخل ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا اور وہ سسرال کو خیرباد کہہ کر مائکے چلی آئیں۔

حضورؐ نے اگلے ہی دن زینبؓ کو کلمہ پڑھا کر مشرف بہ اسلام کر لیا۔ یہ خبر اہل مکہ پر بجلی بن کر ٹوٹی۔ خبر نے اہل مکہ کو بے حد متفکر کر دیا تھا۔ وہ فکر مند تھے کہ اب اسلام نے بڑے گھرانوں پر بھی ہاتھ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔

حضورؐ کی دو بیٹیاں رقیہؓ اور ام کلثومؓ ابولہب ہاشمی کے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے منسوب تھیں۔ حضورؐ کے ذریعہ اعلان حق بلند کرنے اور بتوں کی پوجا ترک کرنے کو کہنے پر ابولہب سخت ناراض ہو گیا تھا۔ابو لہب نے اپنے دونوں بیٹوں کو غضبناک لہجے میں حکم دیا۔

’’میں تمھیں حکم دیتا ہوں کہ تم رقیہؓ اور ام کلثومؓ سے اپنا رشتہ منقطع کر لو۔‘‘

دونوں والد کے احکام پر بہت حیران ہوئے اور ایک دوسرے کے چہرے کو تکنے لگے۔

’’لیکن ابّا … ‘‘ عتبہ نے کچھ کہنے کے لیے منھ کھولا۔

’’میرا حکم ہے تم ایسا کرو۔‘‘ ابو لہب نے سخت لہجے میں کہا۔

’’لیکن کیوں …؟‘‘ عتیبہ نے جاننا چاہا۔

’’ اس لیے کہ ان کے باپؐ نے ہمارے بتوں سے بغاوت کی ہے۔‘‘

’’مگر اس میں رقیہؓ اور ام کلثومؓ کا کیا قصور …‘‘  عتیبہ نے احتجاج کیا۔

’بھلے ہی نہ ہو…لیکن اس سے ان کی حوصلہ شکنی تو ہو گی۔‘‘  ابو لہب کا لہجہ مزید تیز ہو گیا تھا۔ ’’اور مجھے یقین ہے کہ تم میرے حکم کو ضرور مانو گے۔‘‘

ابو لہب نے بہ غور دونوں بیٹوں کو باری باری دیکھا۔ دونوں بیٹوں نے فوراً اپنے سر خم کر دیئے۔ ابو لہب کا چہرہ مسرت سے کھل اٹھا۔ بیٹوں پر فتح کی روداد سنانے   ابو لہب کفار مکہ کے پاس دوڑ گیا۔ کفار مکہ نے ابو  لہب کے کارنامے کو بہت سراہا۔ نتیجہ یہ کہ ابو لہب کفار مکہ کی جماعت لے کر ابو العاص کے گھر بھی جا دھمکا۔

ابو  لہب نے اپنے بیٹوں کے کارنامے کو فخریہ انداز میں بیان کرتے ہوئے ابوالعاص سے کہا ’’تمہیں بھی اب زینبؓ سے رشتہ توڑ لینا چاہیے۔‘‘

’’میں ایسا نہیں کر سکتا۔‘ ‘ابو العاص نے دو ٹوک انداز میں منع کر دیا۔ ابوالعاص زینبؓ کے چلے جانے سے رنجیدہ تو تھے لیکن بیوی سے محبت ابھی سرد نہیں ہوئی تھی۔

’’توہم سمجھ لیں کہ تم بھی نئے مذہب کے دامن گیر ہو گئے ہو۔‘‘

’’بالکل نہیں۔ میں کسی مذہب کا پرستار نہیں۔‘‘

’’تو پھر وعدہ کرو کہ تم زینب ؓ کو محمد ؐ کے گھر ہی چھوڑ دو گے۔ اسے واپس نہ لاؤ گے۔‘‘

’’میں آپ سے اجازت چاہوں گا کہ مجھے زینبؓ کو گھر واپس لانے دیا جائے۔ ‘‘ ابوالعاص نے ابو لہب سے مودبانہ گزارش کی۔

’’اب یہ ممکن نہیں ابوالعاص۔‘‘  ابو لہب غصے سے بے قابو ہو رہا تھا۔ مصلحتاً ضبط کے ساتھ بولا۔ ’’قبیلہ قریش میں خوبصورت اور خوب سیرت  لڑکیوں کی کمی نہیں ہے ابوالعاص۔ ہم تمھاری شادی ان میں سے کسی سے بھی کرادیں گے جسے تم پسند کروگے۔‘‘

’’میری پہلی اور آخری پسند زینبؓ ہے۔‘‘

’’زینبؓ …زینبؓ…زینبؓ میں ایسا کیا ہے جو تم اپنے قبیلے سے بغاوت پر …‘‘

’’زینبؓ میری بیوی ہے اور اس جیسا خلوص ،محبت اور خدمت گزاری اہل قریش کی کسی اور لڑکی میں ممکن نہیں۔ بے شک زینبؓ کا بدل ممکن نہیں۔‘‘

ابوالعاص نے ابو لہب کو مزید غصہ دلا دیا تھا۔ وہ تیز لہجے میں بولا۔

’’تم جس کے لیے مرے جا رہے ہو وہ خود تمہیں چھوڑ کر جا چکی ہے۔ اسے تمہاری فکر ہوتی تو وہ تمھیں یوں چھوڑ کر نہیں چلی جاتی۔ ‘‘ ابو لہب نے ایک اور داؤ کھیلا۔

’’مجھے زینبؓ کے جانے کا ملال نہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ وہ اپنے ضمیر کے ساتھ رہی۔ ‘‘

’’صاف کیوں نہیں کہتے کہ تم نے بغاوت کا پورا ارادہ کر لیا ہے۔ ‘‘

’’نہیں …بلکہ میں زینبؓ کی واپسی کا مطالبہ…‘‘

’’خاموش ابوالعاص کہ تمہارے منھ سے بغاوت کی بو آ رہی ہے۔ خبردار ہو کہ اب تم ہمارے دشمن ہو۔‘‘  ابو لہب غصے سے پاگل ہو گیا تھا۔وہ ابواالعاص کو دھمکا کر واپس چلا گیا۔

ابوالعاص نے بھلے ہی اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن وہ حضورؐ کی بے حد عزت و احترام کرتے تھے۔ ابوالعاص کو یقین تھا کہ وہ زینبؓ کی واپسی کا مطالبہ نہیں ٹھکرائیں گے۔ اسی یقین کے سہارے ابوالعاص حضورؐ کے گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔

ابوالعاص جب اپنی سسرال پہنچے تو حضورؐ صحابہ ؓ کے ساتھ نماز میں مشغول تھے۔ ابوالعاص انھیں نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے لگے۔ انھیں بھی اس روح پرور منظر نے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ انھیں محسوس ہوا کہ ایک عجیب سا سکون ان کے اندر اتر آیا ہے۔ نماز کے بعد جب صحابہؓ رخصت ہو گئے تو ابوالعاص نے حضورؐ سے زینبؓ کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

’’کیا تمھیں معلوم نہیں کہ زینبؓ اب دین اسلام میں داخل ہو چکی ہے۔‘‘  حضورؐ نے ابوالعاص سے سوال کیا۔

’’مجھے معلوم ہے جنابؐ۔‘‘

’’اسلام کے مطابق اب اس کی واپسی ممکن نہیں۔‘‘

’’پھر بھی میرا مطالبہ ہے کہ آپؐ زینبؓ کو میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دیں۔‘‘

’’لیکن کیوں …؟‘‘

’’اس لیے کہ آپ ؐ کے اعلان حق     اور بتوں کی پرستش ترک کرنے کے اعلان سے اہل مکہ ناراض ہیں او زینبؓ کے قبول اسلام نے انھیں مزید ناراض کر دیا ہے۔‘‘

’’پھر…‘‘

’’اگر زینبؓ یہاں رہیں گی تو یہ لوگ آپؐ اور آپ کے صحابہؓ سے دشمنی کریں گے۔‘‘

’’لیکن میں ان سے لڑنا نہیں چاہتا۔‘‘

ابوالعاص نے فوراً کہا۔ ’’ اگر آپ ؐ زینبؓ کو میرے ساتھ جانے دیں گے تو ان کا عتاب مجھ پر نازل ہو گا۔ آپ ؐ اور آ پکے صحابہ ؓ محفوظ رہیں گے۔ ‘‘

حضورؐ سوچ میں پڑ گئے۔ ’’مجھے اپنی فکر نہیں لیکن صحابہؓ کے لیے مجھے تمہاری تجویز کو ماننا ہو گا۔‘‘ حضورؐ نے مزید ارشاد فرمایا۔’’مجھے امید ہے کہ تم زینبؓ کو اس کے دین سے غافل کرنے کی کوشش نہیں کرو گے۔‘‘

’’میں بھلے ہی کسی دین کا پیروکار نہیں لیکن کسی کے مذہب میں مداخلت بھی میرا اصول نہیں۔‘‘

حضورؐ جانتے تھے کہ ابوالعاص کتنا بھی بد مذہب کیوں نہ ہو لیکن وہ بات کا سچا اور پکّا ہے۔  انھوں ؐ نے زینبؓ کو ابوالعاص کے ساتھ وداع کر دیا۔

٭

مکہ میں حضورؐ کے ذریعے نئے دین کی آمد نے جو ہلچل مچائی تھی اس کی وجہ سے حضورؐ اور مسلمانوں پر مشرکین نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی۔ حضورؐ صحابہ ؓ کے لیے فکر مند تھے کہ اللہ کی طرف سے ہجرت کا حکم صادر ہوا۔ مسلمانوں کا قافلہ مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ مدینہ پہنچ کر مسلمان دین کی تبلیغ میں بے خوف و خطر  مصروف ہو گئے۔

ہجرت کے دوسرے ہی سال مشرکین بڑے کروفر کے ساتھ مکہ سے بڑا لشکر لے کر تحریک اسلامی کو کچلنے کی غرض سے مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ مجبوراً حضورؐ کو بھی جنگ کے لیے تیار ہونا پڑا۔کفار نے حضور ؐ کے چچا عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کے بڑے بھائی عقیلؓ کو تو اپنے ساتھ ملا ہی لیا تھا ساتھ ہی ابوالعاص کو بھی جنگ میں مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے آمادہ کر لیا تھا۔ تین سو تیرہ جہادیوں کا اسلامی لشکر جنگ بدر میں اپنے جوش و جذبے اور اللہ کی مدد سے فتح یاب ہوا۔ بہت سے مشرکین قیدی بنا لیے گئے۔ ابوالعاص بھی ابن جبیر ؓ انصاری کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔

سبھی جنگی قیدیوں کو حضورؐ کے سامنے پیش کیا گیا۔بہت سے قیدی ایمان لے آئے تھے اور بہت سے قیدیوں کے گھروں سے فدیہ آ چکا تھا اس لیے انھیں رہائی مل گئی تھی۔زینبؓ کو جب ابوالعاص کی گرفتاری کا علم ہوا تو انھوں نے اپنے دیور عمرو بن الربیع کے ہاتھ وہ بیش قیمتی ہار بطور فدیہ بھجوا دیا جو کہ حضرت خدیجہؓ نے انھیں جہیز میں دیا تھا۔

ابوالعاص کو جب حضور ؐ کے سامنے پیش کیاگیا تو وہ ؐ بہت دیر تک ابوالعاص کو دیکھتے رہے۔ حضورؐ نے جب فدیہ بطور بھیجا گیا ہار دیکھا تو ان کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ حضورؐ نے صحابہ سے کہا ’’میں ابوالعاص کا فیصلہ تم لوگوں پر چھوڑتا ہوں۔‘‘

اتنا کہہ کر وہ ؐ گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ صحابہؓ نے جب حضورؐ کو اشکبار دیکھا تو وہ خود بھی رنجیدہ ہو گئے۔ انھوں نے سمجھا کہ ہار دیکھ کر حضورؐ اپنی بیٹی کو دیکھنے کے لیے تڑپ اٹھے ہیں۔

صحابہؓ نے فیصلہ دیا ’’ابوالعاص کو رہا کر دیا جائے گا لیکن انھیں وعدہ کرنا ہو گا کہ وہ مکہ پہنچ کر زینبؓ کو حضورؐ کے پاس بھیج دیں گے اور فدیہ بطور بھیجا گیا ہار بھی واپس کر دیا جائے گا۔ ‘‘

ابوالعاص رہا ہو کر اپنی قوم میں واپس لوٹ گئے۔لیکن زینبؓ کو مدینہ بھیجنے کا وعدہ نبھانا نہیں بھولے۔زینب ؓ کی جدائی میں وہ غمگین رہنے لگے تھے۔ غم ہلکا کرنے کے لیے انھوں نے خود کو کاروبار میں بری طرح مصروف کر لیا۔ادھر زینبؓ بھی ابوالعاص سے جدائی کا غم برداشت نہیں کر پار ہی تھیں۔انھوں نے بھی خود کو دین کی خدمت میں اس طرح غرق کر لیا کہ ابوالعاص کی جدائی کا غم بھول جائیں۔ لیکن دونوں کو پوری طرح قرار میسر نہیں ہوا۔

ابوالعاص کاروباری سلسلہ میں مشرکین کے قافلے کے ساتھ ملک عراق روانہ ہوئے تھے کہ راستہ میں اسلامی لشکر سے اس قافلے کی مڈبھیڑ ہو گئی۔ایک مرتبہ پھر اسلامی لشکر کامیاب ہوا اور مشرکین کو گرفتار کر لیا گیا۔ صرف ابوالعاص ہی کسی طرح وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو سکے۔ اتفاق سے وہ زینبؓ سے جا ملے اور زینبؓ نے انھیں اپنی پناہ میں لے لیا۔

جب حضورؐ کے سامنے تمام قیدیوں کو پیش کیا گیا تو زینبؓ نے ابوالعاص کے سلسلہ میں انکشاف کیا کہ وہ ان کی پناہ میں ہیں۔ حضورؐ کو اس با ت کا قطعی علم نہ تھا۔ا س لیے انھیں تعجب ہوا۔

حضورؐ نے صحابہؓ سے ارشاد فرمایا۔

’’آپ سب نے سنا کہ زینبؓ نے کیا کہا‘‘

’’ہاں رسول ؐ اللہ ہم نے خوب سنا۔‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا۔

حضورؐ نے مزید فرمایا ’’قسم اس ذات پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے زینبؓ کے بتانے سے قبل مجھے کچھ علم نہ تھا کہ ابوالعاص کہاں ہے۔‘‘

حضورؐ نے آگے کہا ’’اگر کوئی ادنیٰ مسلمان بھی کسی کو پناہ دے تو سب پر لازم ہے کہ وہ اسے پناہ دیں۔‘‘

حضورؐ نے فوراً منصف کی حیثیت کو تر ک کر دیا۔اور فرمایا ’’میں ابوالعاص کا معاملہ صحابہؓ کے سپرد کرتا ہوں کہ وہ فیصلہ کریں۔ ‘‘ اتنا کہہ کر حضورؐ گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ جہاں زینبؓ ان کی منتظر تھیں۔

’’بابا جان …ابوالعاص …‘‘

’’بیٹی ابوالعاص تمہاری پناہ میں ہے اس لیے اس کی خاطر تواضع کا خاص خیال رکھنا لیکن اس سے باہمی ربط و ضبط بھی نہ بڑھانا۔‘‘

’’بابا جان …ابوالعاص اپنا وہ مال واپس چاہتے ہیں جو کہ لشکر نے ان سے لیا تھا۔‘‘ زینبؓ نے عرض کیا۔

حضورؐ نے بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا  ’’بیٹی اب یہ صحابہؓ کے درمیان کا معاملہ ہے کہ میں یہ اختیار انھیں دے چکا۔اگر وہ واپس دینا چاہیں گے تو ابوالعاص کو مل جائے گا ورنہ میں مجبور ہوں۔ ‘‘

زینبؓ نے جب یہ سنا کہ حضورؐ نے ابوالعاص کا معاملہ صحابہؓ پر چھوڑ دیا ہے تو ہ شدت جذبات سے رو پڑیں۔

’بابا جان …آپ نے کتنے ہی قیدیوں کو رہا کر دیا۔ پھر کیا ابوالعاص ان سے بھی گئے گزرے ہیں کہ آپ نے انھیں صحابہؓ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔‘‘ زینبؓ کا شکوہ زبان پر آہی گیا تھا۔

حضورؐ بیٹی کے شکوہ پر تڑپ اٹھے۔ انھوں نے زینبؓ سے کہا۔

’’بیٹی میں نے کہا نہ تھا کہ دین کی راہ میں بہت کانٹے ہیں۔‘‘

’’لیکن بابا…‘‘

’’اسلام اور اللہ کی راہ میں ہمیں ثابت قدم رہنا ہو گا بیٹی۔‘‘

’’پر ابوالعاص کا فیصلہ بھی تو آپ خود کر سکتے تھے۔‘‘

’’ کیا تم نہیں جانتیں کہ ابوالعاص مجھے بھی عزیز ہے لیکن اس کا فیصلہ اگر میں خود کرتا تو طرفداری کے جرم کا مرتکب ہو سکتا تھا۔ کیونکہ ابوالعاص آخر کو میرا داماد ہے۔ اس لیے میں نے اسے صحابہؓ کے حوالے کر دیا کہ وہ اسلام کی روح کے مطابق فیصلہ کر لیں۔‘‘

٭

’’اس طرح حضورؐ کے انصاف اور ان کے اخلاق حسنیٰ کا ہی اثر تھا کہ ابوالعاص کے دل میں ایمان کی شمع روشن ہو گئی اور وہ مکہ واپس گئے تووہاں اپنے تمام قرض چکا کر واپس لوٹ آئے اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔‘‘

تینوں دوست احسان کی زبان سے نکلے الفاظ کو سن کر مبہوت ہو گئے تھے۔

 

٭٭٭