کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

نپولین کی محبوبہ

اختر شیرانی


نپولین ملک پر ملک مسخّر کرتا اور فتح کے پرچم اُڑاتا مصر پہنچ چکا تھا کہ یکایک برطانوی بیڑے نے فرانسیسی جہازوں کا محاصرہ کر کے اُنھیں بے کار کر ڈالا اور یورپ کا فاتحِ اعظم کچھ عرصہ کے لیے مصر میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ رہنے پر مجبور ہو گیا۔ لیکن نپولین نے جیسی بے قرار طبعیت پائی تھی ویسے ہی قدرت کی طرف سے اُس کے لیے سامان ہو جاتے تھے۔ اگر جنگ کا دیوتا تھوڑے دنوں کے لیے مہلت دیتا تو کام دیو آن موجود ہوتا اور نپولین ملکی فتوحات کی جگہ نسوانی دلوں کی تسخیر میں مشغول ہو جاتا۔

بیکاری کے دنوں میں نپولین قدرتی طور پر بہت بے قرار تھا۔ مصر کے ایک عرب سردار نے شہنشاہ کی خوشنودی کے لیے چند حسین کنیزیں منتخب کر کے اُس کی خدمت میں تحفہ بھیجیں۔ لیکن اُن میں سے کوئی نپولین کو پسند نہ آئی۔ اِس لیے سب کی سب واپس کر دی گئیں۔ اُن کا حسنِ ملیح۔ گدرایا ہوا جوبن، ناز اور کرشمے بے شک بہت دل کش تھے۔ لیکن اُن کی کمر کی لچک مغربی تتلیوں کا مقابلہ نہ کر سکتی تھی اور یہ عیب نفاست پسند شہنشاہ کی نظر میں بہت بڑا تھا۔

آخر قدرت نے نپولین کے دل کی تسکین کا سامان کر دیا۔ ایک دن قاہرہ کے بازار میں ایک نوجوان فرانسیسی حسینہ نظر پڑی جسے دیکھتے ہی شہنشاہ کا صبر و قرار جاتا رہا۔ حسینہ گھوڑے پر سوار تھی۔ جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی تو نپولین نے اپنے جرنیل سے پوچھا۔ "یہ عورت قاہرہ کیسے آ گئی؟ "

جرنیل سب کچھ سمجھ چکا تھا۔ عرض کی کہ یہ ایک لفٹنٹ کی بیوی ہے اگرچہ حضور نے حکم دے رکھا تھا کہ کوئی سپاہی اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جائے مگر یہ مردانہ لباس میں یہاں آ پہنچی۔ اِس کی پوشیدہ آمد کا راز آج سے چند روز پہلے کسی کو معلوم نہ تھا۔

نپولین کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ "اتنی دلیری۔ اُف کتنی خوبصورت ہے یہ! "

دوسرے ہی دن میڈم فورے حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ایک دعوتی کارڈ پڑھ رہی تھی۔ جو اُسے جرنیل کی طرف سے موصول ہوا تھا۔ شام کو خاوند سے ذکر کیا تو وہ آپے سے باہر ہو گیا۔ کہنے لگا:۔

میں تمہیں ہر گز اِس دعوت میں شریک ہونے کی اجازت نہ دوں گا۔ اگر بلانا تھا۔ دونوں کو بُلاتے۔ تمہیں بُلا لینا اور مجھے نظر انداز کر دینا میری کھلی ہوئی توہین ہے۔ "

لیکن میڈم فورے خاوند کی ہم خیال نہ تھی۔ اُس کے نزدیک یہ ایک غیر معمولی عزّت تھی۔ اِس لیے وہ اِس موقع کو ہاتھ سے کھو دینے کے لیے تیار نہ تھی۔ اُس کے علاوہ نا جائز اولاد اور خوب صورت عورت عام طور پر چنچل اور ضدی ہوتی ہے میڈم فورے بھی ایک کنواری ماں کی بیٹی تھی۔ اِس لیے اُسے اپنے خاوند کا یہ رویّہ بہت برا معلوم ہوا اور وہ منع کے باوجود دعوت میں چلی گئی۔

جب وہ اپنی شوخ نگاہوں سے دیکھنے والوں کے دلوں کو برماتی اور مُردہ دل زاہدوں کے سینوں میں ہلچل پیدا کرتی ہوئی جرنیل کے مکان پر پہنچی تو وہاں جرنیل۔ اُس کی بیوی اور تین دوسرے مہمانوں کے سوا کوئی نہ تھا۔ کچھ دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ میڈم فورے پردیس میں عیش و مسرّت کا یہ موقع پا کر بہت خوش تھی۔ اتنے میں یکایک دروازہ کھلا اور سب کے سب تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میڈم فورے نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو فرانس کا بادشاہ اور یورپ کا سب سے بڑا فاتح ایک بے ہنگم سا سبز کوٹ پہنے اُس کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ تو جرنیل نے بہترین فواکہ کی طشتریاں اُٹھا کر اُس کے سامنے رکھ دیں۔ لیکن وہ کہنے لگا مجھے اِن کی ضرورت نہیں۔ البتہ تمھاری خاطر سے تھوڑا سا قہوہ پئے لیتا ہوں۔

مہمان کھانے میں مصروف ہو گئے مگر نپولین ٹکٹکی لگائے میڈم فورے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پالین یعنی میڈم فورے کو بھی اِس بات کا احساس تھا کہ وہ اتنی بڑی شخصیت کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اُس کا دل بلّیوں اُچھل رہا تھا۔ لیکن کچھ دیر کے بعد نپولین چپ چاپ وہاں سے اُٹھ کرچلا گیا۔ بظاہرسب لوگ نپولین کے اِس طرح چلے جانے پرحیران تھے۔ لیکن میڈم فورے کواِس سے بہت صدمہ ہوا کیونکہ اُس نے نپولین کی توجّہ سے بہت سی اُمیدیں قائم کر لی تھیں۔

لیکن سب سے زیادہ گھبراہٹ کا اظہارجرنیل کی طرف سے ہوا۔ اُس کے ہاتھ سے قہوہ کی پیالی چھوٹ کر زمین پرگرپڑی اور اُس کے چند چھینٹے میڈم فورے پربھی پڑگئے۔ جن کے باعث اُس کا خوشنمافراک خراب ہو گیا۔ جرنیل نے اُس سے معذرت کی۔ لیکن جرنیل کی بیوی کہنے لگی۔ تم اندر چلو۔ یہ کپڑے اُتارڈالو۔ میں تمھیں اپنانیافراک دیتی ہوں وہ پہن کرجانا۔

پالین اُٹھ کراندرچلی گئی۔ لیکن ابھی وہ مناسب کپڑوں کے متعلق غور ہی کر رہی تھی کہ نپولین کمرہ میں داخل ہوا۔ دوسرے ہی لمحے۔ اُس کی کمر کے گردبادشاہ کے طاقتورہاتھ حمائل تھے اورلبوں پربوسوں کاتاربندھ رہا تھا۔ اُس رات پالین بڑی رات گئے نپولین کی خواب گاہ سے نکلی۔ اُس وقت اس کے ہونٹوں پرایک خوب صورت گیت کھیل رہا تھا۔ اوردل کی گہرائیوں میں ایک نہایت ہی اہم اور بہت ہی محبوب راز پوشیدہ تھا۔

چند روز کے بعدلفٹنٹ فورے کے سپردایک بہت بڑی خدمت کی گئی۔ اُس کے پاس نپولین کے خفیہ کاغذات تھے اوروہ شاہی جہاز میں سوارہو کرفرانس جا رہا تھا۔ لیکن اُس کی بیوی میڈم فورے کوفرانس بھیجنامناسب نہ تھا۔ اُسے سمجھادیا گیا۔ بلکہ اُسے مصرہی میں رہنے دیا گیا۔ کیونکہ اِس میں جان کاخطرہ تھا۔ لفٹنٹ فورے اپنی اِس عزّت افزائی پربڑاخوش تھا۔ وہ پھولانہ سماتا تھا کہ اِس قدراہم کام اُس کے سپرد کیا گیا ہے۔ لیکن بحیرہ روم میں ایک برطانوی جہازنے اُس کے جہازپرحملہ کر دیا اورتوپوں کے زورسے فرانس کے شاہی جہاز پرقبضہ کر لیا۔ ذرا سی دیر کے بعدانگریزافسراُس جہاز پرآدھمکے۔ اُن میں برطانیہ کامشہورجاسوس بارنیٹ بھی تھا۔ وہ لفٹنٹ فورے کواپنے کمرہ میں لے گیا۔ اوروہاں کچھ ایسی باتیں کیں کہ لفٹنٹ جوش میں آ کرکہنے لگا:۔

تم جھوٹ بکتے ہومجھے نپولین اور اپنی بیوی پراعتبارہے۔ تم دشمن کے جاسوس ہو۔ میں دشمن کی بات کا اعتبارکیوں کروں ؟ "

بارنیٹ نے جواب دیا: "اگرتم  چاہوتو سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہو۔ میرے ساتھ مصرچلو۔ وہاں اگرذرا سی ہمّت سے کام لوتو اپنی بیوی کواپنے بادشاہ کیآغوش میں دیکھ لوگے۔ "قاہرہ پہنچ کربارنیٹ نے لفٹنٹ کوایک شخص کے ساتھ کر دیا اورکہا "جاؤاورجو کچھ میں نے کہا تھا۔ اُس کاثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔ بس ذرا سی ہمّت درکارہے۔ "لفٹنٹ نپولین کی خواب گاہ کی طرف چلا۔ پہرہ دار اُونگھ رہا تھا۔ آگے بڑھاتوفرانسیسی سپاہی بھی خواب آلود آنکھوں سے اُس کی وردی دیکھ کر مطمئن ہو گئے اور وہ سیدھاخوابگاہ کی طرف بڑھتا گیا۔

دروازہ اندر سے بند تھا۔ لیکن ایک ہی دھکّے میں کھُل گیا۔ لفٹنٹ نے دیکھا کہ اُس کی بیوی ایک آراستہ اور مکلّف پلنگ پر لیٹی ہوئی ہے۔ غصّے اور انتقام کی آگ بھڑک اُٹھی۔ چاہتا تھا کہ پستول کی ایک ہی گولی سے اِس خوب صورت ناگن کا خاتمہ کر دے لیکن پھر ارادہ بدل لیا۔ وہ اُسے اذیتیں دے دے کر ہلاک کرنا چاہتا تھا اور  پستول سے مار ڈالنا گویا اُس بے وفا پر رحم کرنا تھا۔ اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو ایک ہنٹر دکھائی دیا۔ وہی اُٹھا لیا اور اندھا دھُند بیوی کے برہنہ جسم پربرسانے لگا۔

پالین پہلے تو دہشت کے مارے خوف زدہ تھی لیکن پھراُس کی چیخیں نکل گئیں۔ سنتری پہرے دار دوڑے آئے لیکن دروازہ اندرسے بند تھا۔ یکایک ایک اندرونی دروازہ کھلا اور ایک شخص شب خوابی کے لباس میں اندر داخل ہوا۔ لفٹنٹ نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو نپولین تھا۔ اُس کی آنکھوں سے شعلے برسنے لگے۔ دیوانہ وار نپولین کی طرف بڑھا۔ اُسوقت اُسکے ہاتھ میں پستول تھا۔ اور لبوں پر ایک وحشیانہ مسکراہٹ۔ یورپ کا فاتحِ اعظم اور یورپی اقوام کی قسمتوں کا مالک اُس وقت ایک معمولی لفٹنٹ کے ہاتھ میں تھا۔ دانت پیستے ہوئے اُس نے کہا "یہ کتاسمجھتا ہے کہ میری بیوی کو چُرا کراُس کی محبّت پر ڈاکہ ڈال کر اور میرا آرام وسکون برباد کر کے خود عیش اُڑائے گا۔ میں ابھی مزہ چکھائے دیتا ہوں۔ "

وہ سوچنے لگا کہ سینکڑوں لڑائیوں کا فاتح آج میرے قابو میں ہے۔ اب دو زانو ہو  کر مجھ سے رحم کی درخواست کرے گا اور کہے گا کہ بہادر لفٹنٹ میرا قصور معاف کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں اِسی پستول سے اِسے کتے کی موت مار ڈالوں گا۔ "

لفٹنٹ یہ سوچ رہا تھا۔ اور نپولین اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وقارواستقلال کی تصویر بنا اُس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ لفٹنٹ کی نگاہیں فاتح اعظم کی نگاہوں کی تاب نہ لاسکیں۔

یہ آنکھوں کی لڑائی دراصل جبروت، قوّتِ ارادی اور استقلال کی لڑائی تھی غریب سپاہی کو شہنشاہ کی مسحورکن نگاہوں نے بے دست و پا کر دیا۔ وہ پریشان نظر آنے لگا۔ اُسے شب خوابی کے لباس میں بھی نپولین ویساہی قاہر اور خوفناک معلوم ہونے لگا جیسا میدان جنگ میں۔ اُس کے ہاتھوں سے پستول گر پڑا۔ نپولین نے فوجی انداز میں حکم دیا۔ "دروازہ کھولو۔ "لفٹنٹ نے حکم کی تعمیل کی اور چپ چاپ باہر نکل گیا۔

لفٹنٹ فورے کو موت کی سزانہیں دی گئی۔ نپولین اپنی محبوبہ کے خاوند سے مزید انتقام نہیں لینا چاہتا تھا۔ اُسے آم کھانے سے غرض تھی۔ درخت کاٹنے سے کام نہ تھا۔ وہ تو صرف پالین کے حُسنِ جہاں سوز کی بہار لُوٹنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ اُس وقت تک جب تک کہ اُس کی طبیعت کسی اور طرف مائل نہ ہو جائے۔

نپولین (فاتح اعظم یورپ) کے عشق کا یہی انداز تھا۔

(انگریزی افسانہ)