کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مولسری کے پھول

اختر شیرانی


 

اُس دن کے بعد کتنی بہاریں آئیں اور چلی گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

اُس وقت سے اب تک ہر بہار میں، جب بھی پھولوں کاموسم قریب آتا ہے اُس دن کے تاثّرات میری نگاہوں میں مجسّم ہو جاتے اور آنکھوں میں بے اختیار آنسوبھر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ !

بہار یا، برسات کا آغاز تھا۔ ہم حسبِ معمول اپنے مخصوص ساحلی ٹیلے پر بیٹھے ہوئے، غروب آفتاب کاسہاناسماں دیکھ رہے تھے۔ دریا کی ہلکی ہلکی دھیمی دھیمی لہریں آپس میں ٹکراتی اور چُہلیں کرتی ہمارے سامنے گزر رہی تھیں۔ کامل سکوت کا عالم تھا۔ جسے کبھی کبھی موجوں کی ٹکّریں، چرواہوں کی صدائیں یا دُور دراز کی راہوں سے آنے جانے والے چھکڑوں کی آوازیں چھیڑ دیتی تھیں۔ اِس کے سواکوئی چیز ایسی نہ تھی جس سے خیالات اور افکار کی یکسوئی و خاموشی کوٹھیس لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ّ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس کی آنکھیں اُفق پر جمی ہوئی تھیں اور وہ بادلوں کی قرمزی رنگ قطاروں میں محو تھا۔۔۔۔ قریب کے کھیتوں سے آنے والی، عنفوانِ بہار کے ابتدائی سانسوں کی بھینی بھینی خوشبو، ہمارے دماغوں کو مست ومسرورکر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دریا کے اُس پار جہاں تک نظر کام کرتی تھی، کشت زاروں کے زمرّدیں مناظراورسبزے کی وہ ابتدائی مخملی صورتیں، جو ابھی سبزہ نہ بنی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھوں کو طراوت بخش رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُس کی آواز میں، ہمیشہ کی طرح حسرت و غم کی تاثیر موجود تھی۔۔۔۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ، رُکتے رُکتے، جھجکتے جھجکتے باتیں کرتا تھا۔۔۔۔دفعتاً اُس نے اپنی نگاہوں کو اُفق سے ہٹا کر دریا کی طرف متوجّہ کر دیا اور مقابل کے ساحل پر بچھے ہوئے سبزہ زاروں کو ایک نظر دیکھ کر مجھ سے پوچھا:۔

 "درختوں میں پھول آنے لگے ہونگے، اب تو۔۔۔۔۔۔۔ ؟ "

 "میرا خیال ہے آس پاس کے باغوں میں تو نہیں۔ "

 "مولسری میں کب تک آئیں گے ؟ "

 "شاید بیس روز تک "

پھر میں نے دریافت کیا:۔

 "مولسری کے پھُول بہت پسند ہیں آپ کو؟۔۔۔۔۔۔ آپ نے پچھلے چند دنوں میں دو تین مرتبہ یہی سوال دُہرایا ہے۔۔۔۔۔ ؟ "

 "صرف۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کومولسری کے پھول پسند نہیں؟ کیسے خوش نما معلوم ہوتے ہیں؟

 "کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔ بڑے خوبصورت۔۔۔۔۔۔ مگردوسرے پھول بھی تو کچھ کم نہیں۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً بیلا، ہزارہ، جوہی اور چنبیلی کے پھولوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ "

 "ہاں۔۔۔۔۔۔ مگرمولسری کے پھُول۔۔۔۔۔۔ وہ مجھے کچھ اسرارآلودسے نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اُن کی سفیدی۔۔۔۔۔۔۔ "اور وہ خاموش ہو گیا۔

میں نے اصرار کیا کہ اپنی بات تو پوری کیجئے۔

 "مولسری کے پھولوں سے میری زندگی کی ایک تلخ یاد وابستہ ہے۔۔۔۔۔ اجازت ہو تو عرض کروں۔۔۔۔۔۔۔ "

۔۔۔۔۔۔۔ اُس کا لہجہ پہلے سے زیادہ گہرا اور غم انگیز ہو گیا۔

 "ہماری شادی کو ایک سال گزرا تھا ہمارے ازدواجی تعلّقات نہایت صمیمانہ اور بے تکلّفانہ تھے۔۔۔۔۔ بدقسمتی سے شادی کے چھ ماہ بعد ا اُسے ایک موذی مرض نے آ گھیرا۔ اُس کے قویٰ روز بروز تحلیل ہونے لگے۔۔۔۔۔ جاڑوں کاساراموسم بیماری میں کٹا۔۔۔۔۔۔ اخیر دنوں میں کسی قدر افاقہ ہوا اور وہ سہارے کے بغیر اپنی جگہ سے ہلنے جُلنے اور چلنے پھرنے کے قابل ہو گئی۔ ہم نے اُس کا چھپرکھٹ کمرے سے نکال کر دالان میں اُس دروازے کے پاس رکھا جو پائیں باغ میں کھُلتا تھا۔ جب کبھی دروازہ کھُلا ہوتا۔ وہ پائیں باغ کی طرف دیکھتی رہتی۔ کبھی دروازے میں جا کھڑی ہوتی اور اُس کی نظریں درختوں کے ہجوم کا جائزہ لینے میں محو ہو جاتیں۔ اُن درختوں کے درمیان اور دروازے کے بالکل سامنے مولسری کا ایک شاندار درخت تھا۔ جس کی بعض شاخیں دروازے تک سایہ زن تھیں اور اِسی لیے یہی درخت دیکھنے والوں کی نگاہوں کو، سب سے پہلے اپنی طرف متوجّہ کر لیتا تھا۔ وہ مولسری کے پھولوں کو خصوصیت کے ساتھ بہت پسند کرتی تھی اور اُس کی دلی آرزوؤں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جب مولسری کے پھُول کھلنے لگیں تو وہ اپنی ماں اور بہنوں کو بلائے اورسب مل جل کراِس درخت کی گھنیری چھاؤں میں برسات کی رنگ رلیاں منائیں۔ جھولا جھولیں اور ملہار گائیں۔۔۔۔۔ جب کبھی دروازہ کھُلا ہوتا وہ مولسری کے درخت کی طرف ٹکٹکی باندھ لیتی اور بار بار مجھ سے دریافت کرتی:۔

 "مولسری میں پھول کب آئیں گے ؟ "

میں جواب دیتا۔ "چند رو ز تک۔۔۔۔۔۔۔ "

اور وہ حسرت بھرے لہجے میں دریافت کرتی۔ "کیا میں اُس وقت تک زندہ رہوں گی؟ "یہ کہتے ہوئے اُس کی غزالی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے اور اُس کے بیماری زدہ مگر ماہتابی رُخساروں پر بہہ نکلتے۔ اِس پروہ اپنے تاثّرات کو مجھ سے چھُپانے کے لیے آنچل سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیتی۔۔۔۔۔۔۔ راتوں کو اکثر جب میں اُس کابخارسے جلتا ہوا ہات اپنے ہات میں لیے اُس کی پائنتی پر بیٹھا ہوتا، بخار کے ہذیانی عالم میں بے اختیاراُس کی زبان سے بار بار یہی جملہ نکلتا۔

ہوش کی حالت میں بھی، مایوسی کی نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے، اپنی لرزتی ہوئی کمزور آواز میں مجھ سے پوچھا کرتی۔

 "مولسری میں پھُول کب آئیں گے "؟

اُس وقت اُس کی آواز میں ایسا تاثّر اتنا درد اور اِس درجہ حُزن ہوتا کہ میں اپنے سینے کو شق اور دل کو پارہ پارہ ہوتامحسوس کرتا۔۔۔۔۔۔ اُس کی نوجوانی اور ناتوانی سے ہر اپنے پرائے کا جگر خون تھا۔۔۔۔۔۔

آفتاب طلوع ہونے والا تھا کہ میں اُس کے چھپرکھٹ کے قریب گیا۔ وہ جاگ رہی تھی۔ میں نے اُس کی نبض دیکھی۔ بڑی آہستہ رفتار سے چل رہی تھی۔ تنفّس میں بھی ایک خاص قسم کی تنگی اور گرفتگی موجود تھی۔ اُس کی آنکھیں گھبرائی ہوئی سی اِدھر اُدھر نگراں تھیں۔

میں آہستہ سے اُس کے پاس بیٹھ گیا۔ اُس نے اپنے کمزور لرزتے ہاتھوں سے میرا ہات تھام لیا اور اپنے ہونٹوں سے چھوتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ کسی قدر غیر مفہوم اور شکستہ و بے ربط الفاظ میں۔۔۔۔۔۔ مولسری کے پھولوں والا۔۔۔۔۔۔۔ فقرہ دُہرایا۔ اُس نے دُہرایا یا شاید غیر ارادی طور پر ادا ہوا۔ اُس کی آنکھوں میں غیر معمولی اور غیر قدرتی چمک تھی اُس کی پیشانی پر ٹھنڈے پسینے کے قطرے اُبھر آئے تھے۔ ایک رقّت انگیز اور فریاد آمیز اندازسے اُس نے اپنے کانپتے ہوئے ہات میری گردن میں ڈال دیے۔ سیاہ درخشاں آنکھوں سے آنسوؤں کے دو قطرے اُبل پڑے۔ نازک و ناتواں ہونٹ  ہلے۔۔۔۔۔ اور تھرتھراتے ہوئے کچھ یونہی سے کھُلے۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ "ماں ‘‘۔۔۔۔۔ "بہن ‘‘۔۔۔۔۔ اور کچھ ایسے لفظ جیسے "مولسری ‘‘۔۔۔۔۔ درخت اور  "پھول "اُسکی بانہیں ڈھیلی پڑ گئیں۔۔۔۔۔ اور آہستہ آہستہ میری گردن سے جدا ہو کربسترپرجاگریں۔۔۔۔۔۔آخری لفظ جواُس کے ہونٹوں سے نکلا "اللہ "کا غیر فانی نام تھا۔۔۔۔۔ اُس کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔۔ ایک حرف تک نہیں۔۔۔۔۔ کچھ کہے سنے بغیر۔۔۔۔ کوئی اشارہ کیے بغیر۔۔۔۔۔ نہ تشنّج کی علامتیں۔۔۔۔۔۔ نہ جانکنی کی زحمتیں۔۔۔۔۔۔ اور وہ رخصت ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔ قیامت تک کے لیے !

_____________________

عصر کے قریب اُس کو سپردِخاک کر کے گھر پہنچا۔ آہستہ سے اُس کے کمرے کا دروازہ کھولا۔ در و دیوار پراداسی طاری تھی۔۔۔۔۔۔۔ دالان میں آیا۔ گزرے ہوئے دنوں کی طرح، آج بھی چاروں طرف ایک غم انگیزسکوت طاری تھا۔۔۔۔۔ غم انگیز اور ماتم آمیز!۔۔۔۔۔ پائیں باغ کا دروازہ کھولا۔ درختوں پر نظر پڑی۔ اُن شاخوں پر۔۔۔۔۔۔۔ مولسری کی اُن شاخوں پر، جو دروازے تک پھیلی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔ اور دیکھا۔۔۔۔۔۔ میں نے دیکھا کہ مولسری کی شاخوں کے عین وسط میں، ایک تازہ پھول کھِلا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ برسات کی پہلی بوند کی طرح۔۔۔۔۔۔ سورج کی اولّین کرن کی طرح۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔  بہار کی آنکھ کے آنسو کی طرح۔۔۔۔۔۔۔ ! "

میراساتھی خاموش ہو گیا۔۔۔۔۔ وفورِ جذبات نے اُسے زیادہ کچھ کہنے نہ دیا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسوبھرآئے تھے۔۔۔۔۔۔ آفتاب غروب ہو چکا تھا۔ اُفق پر تاریکی پھیل رہی تھی۔ درختوں کے تنے دیو قامت راز آلوداورپُراسرارسے دکھائی دیتے تھے۔۔۔۔۔۔۔ ہوا میں سردی یا اول سردی محسوس ہوتی تھی۔۔۔۔۔ ہم اپنی جگہ سے اُٹھے اور جب اپنے گھر جانے لگے تواُس نے دریافت کیا۔

کیا اِس سال مولسری کے پھولوں کی بہار دیکھ دسکوں گا؟ "

۔۔۔۔۔۔ چند روز بعد مجھے ایک ضرورت سے پردیس جانا پڑا۔ ایک ہفتے کے بعد جب میں لوٹا تو میں نے دیکھا کہ مولسری کے درختوں پر پھولوں نے چھاؤنی چھا رکھی ہے۔ کوئی چھوٹا بڑا درخت ایسا نہ تھا جو پھولوں میں غرق نہ ہو۔۔۔۔۔۔ مگر میرے ساتھی کا کہیں پتہ نشان نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔ کہاں چلا گیا؟ !۔۔۔۔۔۔۔ نہیں معلوم۔۔۔۔۔۔ زمین کھا گئی یا آسمان!

اِس واقعے کو گزرے کئی سال ہو چکے۔ مگرہرسال، جب بھی برسات آتی اور مولسری کے درختوں میں پھول کھلتے ہیں۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنا وہ ساتھی اور اُس کا قصّۂ غم یاد آتا ہے اور کچھ دیر کے لیے مغموم کر جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ !

آہ مجبور انسان۔۔۔۔۔۔۔۔ !

کون جانے، اب کے برس مولسری کے پھولوں کی بہار دیکھنی میری قسمت میں بھی لکھی ہے یا نہیں؟ ؟ ؟

(فارسی سے )