کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

نیچے سروں کا احتجاج

الیاس ندوی رام پوری


ایک کشادہ کمرے میں  آٹھ تخت ایک ایک بالشت کے فاصلے پر قرینے سے لگے ہوئے تھے، ان پر  آٹھ دس لڑکے دو دو اور تین تین کے گروہ میں بیٹھے کھانا کھانے میں مصروف تھے، چھت کے وسط میں لوہے کے ہک سے لٹکا ہوا پنکھا اس طرح چل رہا تھا جیسے ماضی کے دنوں کی سرمستیوں کو یاد کر کے رقص کر رہا ہو۔مدرسہ کی مسجد سے  آتی ہوئی عشا کی اذان کی  آواز کانوں میں رس گھول رہی تھی، نوعمر بنگالی مؤذن جب دو کلموں کے درمیان وقفہ کے لئے رکتا اور اپنی سانس درست کرتا تو پنکھے کی تیز گھومتی ہوئی پنکھڑیاں کمرے کی خاموش فضا میں سرسراہٹ پیدا کرنے لگتیں اور اس دوران لڑکے اپنے منہ کی باتوں کو جلدی جلدی اگلنے کی کوشش کرتے، ایسا کرنے کی غیر اختیاری کوشش میں کبھی کبھار سب ایک ساتھ ہی بول پڑتے، اتنے میں بنگالی مؤذن کی  آواز میناروں کی بلندیوں سے پھر ابھرتی اور دفعتاً سب خاموش ہو جاتے۔

عقب کی دیوار میں دو بڑی بڑی کھڑکیاں تھیں جو سبزی کے کھیت کی طرف کھلتی تھیں۔ یہ کھیت کسی بد مزاج آدمی کا تھا، وہ اکثر سبزیاں ہی بویا کرتا تھا اور سبزیوں میں بھی زیادہ تر آلو۔ شہر کے گندے پانی کی ایک پتلی سی نالی کھیت کے درمیان سے گزرتی ہوئی قریب کے ایک چھوٹے سے گندے تالاب میں جا گرتی۔بائیں ہاتھ کا کوئی کھلاڑی جب زور دار  شارٹ لگاتا تو گیند کمرے کی چھت کو پھلانگتے ہوئے سیدھے کھیت میں جا گرتی تھی۔کھیت کے مالک کی موجودگی میں کوئی بھی گیند اٹھانے کی جرات نہ کر سکتا تھا۔جب رات اپنی کالی چادر تان دیتی تو دو تین سائے چھوٹی سی دیوار کود کر کھیت میں رینگ جاتے، دس پندرہ منٹ کے بعد جب وہ سفیدے کے لمبے درخت سے لٹکے ہوئے بلب کی روشنی کے نیچے سے گزرتے تو ہم دیکھتے کہ ان کے ایک ہاتھ میں گیند ہے اور دوسرے کئی ہاتھوں میں تازہ نرم مٹی میں سنے ہوئے چھوٹے چھوٹے  آلو۔امتحان کے دنوں میں جب ہم ساری ساری رات پڑھا کرتے تو یہ آلو رُت جگے میں کافی مدد دیتے۔جب رات تیسرے پہر میں داخل ہونے لگتی تو چپکے چپکے  آلوؤں کی تہاری تیار کی جاتی اور اس خوف سے کہ کہیں دوسرے لڑکوں کو بھنک نہ لگ جائے گرم گرم نوالے بنا چبائے حلق سے اس طرح اتارے جاتے جیسے انگارے نگلے جا رہے ہوں۔کھیت کا مالک کئی مرتبہ ہماری شکایت کر چکا تھا۔

اس کمرے میں دو دروازے تھے جو سامنے میدان میں کھلتے تھے، یہ میدان انگریزی حرف  ’ L‘کی شکل میں بنے ہوئے ایک درجن کمروں کا برآمدہ تھا اور پچھم کی طرف سے مسجد کا کھلا ہوا حصہ۔عید کے دنوں میں یہاں چونے کے ذریعہ صفوں کے نشان بنا دئے جاتے اور باقی کے دنوں میں یہ لڑکوں کے لیے کرکٹ کا میدان ہوا کرتا۔مدرسہ کی طرف سے جب کوئی جلسہ ہوتا تب بھی یہی میدان کام آتا۔

کمرے میں فرش کی جگہ اینٹیں بچھی ہوئی تھیں، دروازوں کے بیچ میں دیوار سے لگی ہوئی لکڑی کی ایک بڑی سی الماری کھڑی تھی، جس میں لڑکوں کا سامان الٹا سیدھا بھرا رہتا، صندوق، بریف کیس، گتے کے ڈبے اور کھانے کے برتن، پیالیاں، پلیٹیں اور پلاسٹک کے  مگ وغیرہ، بعض لڑکے اپنے بنا دھلے کپڑے بھی کونوں کھدروں میں ٹھونس دیا کرتے تھے۔ہر روز صبح سات بجے سے دوپہر ایک بجے تک یہ کلاس روم ہوتا تھا اور اس کے بعد اگلے دن صبح تک رہائشی کمرہ۔ ایک مسجد اور بارہ کمروں پر مشتمل یہ ایک مدرسہ تھا۔ یہاں ہر چیز کی دہری حیثیت تھی، مسجد نماز کے اوقات میں مسجد ہوتی اور کلاس کے وقت میں درس گاہ، کمرے تعلیم کے وقت میں کلاس روم ہوتے اور دوسرے وقت میں ہاسٹل۔لڑکے طالب علم بھی ہوتے اور مدرسہ کے خدمت گار بھی، اساتذہ معلم بھی ہوتے، ممتحن اور ایڈمنسٹریٹر ز بھی۔

 دو ٹیوب لائٹس 15x12کے اس بڑے سے کمرے کو دودھیائی روشنی میں نہلا رہی تھیں۔اور اس وقت آٹھ دس لڑکے شام کا کھانا کھانے میں اس طرح مصروف تھے جیسے ان کے سروں پر فرشتے بیٹھے ہوں اور وہ احتراماً سر جھکائے ہوئے ہوں۔

’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ بنگالی مؤذن آخری کلمہ ادا کر رہا تھا۔

’’استاد!۔۔ کھانا کھا لیا آپ نے۔۔۔ آپ کو دال میں مہک نہیں  آ رہی۔۔۔؟‘‘

درجۂ حفظ کے دو تین لڑکے کمرے میں داخل ہوتے ہی مجھ سے مخاطب ہوئے۔ عصر سے مغرب کے درمیانی وقفہ میں چند لڑکے مجھ سے کراٹے سیکھا کرتے تھے، اور اسی نسبت سے بعض لڑکے مجھے ’استاد‘ بھی کہا کرتے تھے اور ہر طرح کے ہنگامی حالات میں مجھ سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ میں ان کی اگوائی کروں، بطور خاص ایسے معاملات میں جہاں پٹنے پٹانے کا خدشہ لگا ہو۔

’’مہک۔۔ہاں۔۔۔آ تو رہی ہے۔۔مگر اب تو میں پیٹ بھر کے کھا چکا ہوں ‘‘میں نے لقمہ ناک کے پاس لے جا کر دو تین لمبے لمبے الٹے سانس کھینچے۔

’’اور اس میں ہے ہی کیا سوائے پانی کے۔۔۔دال تو اس میں کہیں سے کہیں تک نظر ہی نہیں  آ رہی۔۔۔‘‘دوسرا لڑکا آگے بڑھ کر بولا اور ہمارے سامنے سے پلیٹ اٹھا لی۔کمرے کے دوسرے تمام لڑکے بھی ان کی طرف متوجہ ہو چکے تھے۔

’’جب سے مہتمم صاحب باہر دورے پر گئے ہیں تب سے منشی جی نے روز روز یہی ناٹک کر رکھا ہے۔ چلئے۔۔ ۔۔۔آج اسٹرائک کریں گے۔۔ ۔۔۔۔نہیں چاہئے ہمیں ایسا کھانا۔۔۔۔چلئے اٹھئے۔۔۔دال واپس بھگونے میں ڈال دیتے ہیں۔۔‘‘نو واردوں کے چہروں پر غصہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔

’’اور روٹی بھی کتنی کچی ہے ‘‘ہمارے کمرے کے ایک لڑکے نے لقمہ دیا۔

’’ہاں۔۔! جب سے یہ نئی باور چن آئی ہے تب سے کھانا ڈھنگ کا مل ہی نہیں رہا ہے۔۔ میرا تو من ہی نہیں کرتا اس کے ہاتھ کی روٹی کھانے کو۔۔ڈھنگ سے ہاتھ بھی نہیں دھوتی۔۔اس سے تو وہ پہلے والی دادی اماں ہی ٹھیک تھیں۔۔۔‘‘میرے ساتھ کھانے والے لڑکے نے ایسے منہ بنایا جیسے کوئی بدبو دار جگہ سے گزرتے ہوئے منہ بناتا ہے۔

’’تم کہتے ہو تو ٹھیک ہے۔۔ ۔۔۔۔میں تمہارے ساتھ ہوں۔چلئے۔۔۔‘‘

میں نے اپنے ہاتھ کا آخری نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔ حالانکہ میرا پیٹ بھر چکا تھا۔ میری پلیٹ میں تھوڑی سی دال باقی تھی اور شاید ڈیڑھ روٹی۔میں ان کے ساتھ ہولیا اور باقی کے تمام کمروں میں گھوم کر دیگر لڑکوں کو بھی کھاتے سے اٹھا لیا۔۔ ۔۔۔۔۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب نے اپنی پلیٹوں میں بچی ہوئی دال واپس بھگونے میں ڈال دی۔ذرا سی دیر میں بھگونہ آدھا بھر چکا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ایک شریر لڑکا بھاگا بھاگا گیا اور ایک جگ پانی لے کر دال میں ڈال دیا۔دال جو پہلے ہی سے پتلی تھی اب نینی تال کے تلّی تال کا منظر پیش کر رہی تھی۔

یہ جمعہ کی ایک کالی رات تھی، جو در و دیوار، میدان اور کمروں کے سامنے کھڑے سفیدے کے اونچے اونچے درختوں سے اسی طرح لپٹی ہوئی تھی جس طرح اجگر چندن کی ڈالیوں سے لپٹے رہتے ہیں۔اگلے دن چھٹی تھی، قرب و جوار کے بہت سارے طلبہ اور اساتذہ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تھے، درجۂ حفظ کے لڑکوں کو سبق یاد کرنے کی فکر نہ تھی۔اور اس لیے بھی ان کی رگِ شرارت تیزی کے ساتھ پھڑک رہی تھی۔

عید تو سال میں دو بار ہی  آتی ہے مگر مہتمم صاحب جب جمعہ کے خطبہ میں فضائلِ جمعہ بیان کرتے تو یہ بھی بتاتے تھے کہ جمعہ ہفتہ کی عید ہے۔ اور لڑکوں کے لئے جمعہ عید ہی کا دن تھا، شاید اس لیے کہ یہ دن چھٹی کا دن جو ہوتا تھا۔اس دن وہ شہادت کی انگلی کے برابر موٹی اور ایک ہاتھ لمبی شہتوت کی چھڑی کے خوف کا بھوت اپنے سروں سے اتار پھینکتے تھے۔جمعرات کی دوپہر سے لے کر جمعہ کو مغرب کی اذان تک یہ بھوت ان سے اسی طرح بھاگتا تھا جس طرح کچی مسجد کے امام صاحب کے تعویذ سے بھاگا پھرتا ہے۔لڑکوں کو تو یقین نہیں  آتا تھا مگر کھانا بنانے والی چاچی کہتی تھیں کہ امام صاحب کے تعویذ سے بڑے سے بڑا بھوت بھی اس طرح بھاگتا ہے کہ پھر کبھی واپس نہیں لوٹتا۔مگر جیسے ہی مغرب کی نماز ختم ہوتی یہ بھوت دوبارہ ان کے سروں پر سوار ہو جاتا اور انہیں لگتا کہ چاچی جھوٹ بولتی ہیں۔ہم میں سے کسی نے بھی اپنی  آنکھوں سے بھوت نہیں دیکھا تھا پھر بھی ایسا لگتا تھا کہ بھوت ہوتے ضرور ہوں گے۔

’’عارف۔۔۔اقبال۔۔۔سہیل۔۔چلو باہر نکلو کمروں سے۔۔‘‘

نماز کے بعد جب نمازی اپنے گھروں کو لوٹ جاتے اور درجۂ حفظ کے طلبہ پڑھائی کے وقت سے چند منٹ چرا کر اپنے کمروں میں جا گھستے اور مٹر گشتی کرنے لگتے تو معاً بعد قاری صاحب کی گرجدار آواز اندھیرے اور ہوا کا سینہ چاک کرتی ہوئی لڑکوں کے اعصاب پر اس طرح گرتی کہ اگلے پانچ منٹ میں تمام لڑکے قرآن شریف کھول کر بیٹھ جاتے اور  آگے پیچھے ہلتے ہوئے زور زور سے سبق یاد کرنے لگ جاتے۔قاری صاحب اکثر انہیں لڑکوں کا نام لے کر پکارا کرتے تھے۔

’’کھوں۔۔۔کھوں۔۔کھوں۔۔حرام خورو! کچھ تو شرم لحاظ کرو۔۔۔۔کیوں گال پھول رہے ہیں تمہارے۔۔۔پکی پکائی مل رہی ہے نا۔۔ اس لیے۔۔۔ارے شیطان کے بچو!۔۔کچھ تو خدا کا خوف کھاؤ۔۔ ۔۔۔۔۔‘‘منشی جی کھانستے ہوئے کمرے سے نکلے اور چھوٹے لڑکوں پر برس پڑے۔ منشی جی مہتمم صاحب کی عدم موجودگی میں لڑکوں کی دیکھ بھال کرتے تھے، انہوں نے پہلے تو خود ہی اس مسئلہ کو سلجھانے کی کوشش کی مگر جب حالات حد سے زیادہ بگڑتے اور بے قابو ہوتے دیکھے تو فوراً قاری صاحب کو بلا بھیجا، جو آج جمعہ کی چھٹی کی وجہ سے اپنے گھر چلے گئے تھے۔قاری صاحب پانچ چھ لڑکوں کے جلو میں دروازے سے ہی ہانک لگاتے ہوئے مدرسہ میں داخل ہوئے۔

’’باہر نکلو سب لوگ۔۔۔۔ادھر آؤ میدان میں۔۔۔بتاؤ کیا بات ہے۔۔۔چلو نکلو باہر۔۔۔ارے سنا نہیں تم لوگوں نے۔۔۔۔نکلو باہر‘‘

تھوڑی بہت نان نکر اور گھسر پسر کے بعد ایک ایک کر کے تمام لڑکے میدان میں جمع ہونے لگے، پہلے چھوٹے لڑکے باہر نکلے اور پھر بڑے لڑکے زبردستی اپنے پیروں کو گھسیٹتے ہوئے میدان میں جمع ہونے لگے۔

’’کیوں بے نسیم! کھانا کھایا تو نے۔۔ ۔۔۔۔۔۔؟‘‘

قاری صاحب کی مخصوص چھڑی جسے درجۂ حفظ کے لڑکے اچھی طرح پہچانتے تھے، ہوا میں لہرائی اور قطار کے ایک سرے پر سہمے سہمے کھڑے  آٹھ سالہ نسیم کی  آنکھوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی اس کے سینے پر خاص دل کے مقام پر آ کر ٹھہر گئی۔ان کی  آواز میں گرج تھی اور  آنکھوں میں لال لال ڈورے، وہ سفید کرتہ پاجامہ پر کالی صدری پہنے ہوئے تھے، چہرے پر جلال تھا اور سینہ میں یہ عزم کہ وہ اس بغاوت کو چشم زدن میں فرو کر لیں گے۔

نسیم کی ایک اچٹتی ہوئی نگاہ اس کے کاندھے کے اوپری حصہ کو چھوتی ہوئی ان لڑکوں کی  آنکھوں کی پتلیوں پر جا کر چپک گئی جنہوں نے اسے کھانے سے روکا تھا اور  پھر دوسری نگاہ اس کے سینے میں اترتی ہوئی چھڑی اور قاری صاحب کے ہاتھ پر پھسلتی ہوئی ان کی ناک کے دونوں طرف کے ڈھلان پر اتر کر رخساروں پر پھیل گئی۔ایک لمحے کے لیے اس نے سوچا کہ اگر آج اس نے ’نہیں ‘ کہا تو وہ قاری صاحب کی نظروں سے ہمیشہ کے لیے گر جائے گا اور ان کی محبت اور پیار کو کھودے گا۔ چار ماہ پہلے جب اس کے ابو اسے یہاں لے کر آئے تھے تو قاری صاحب نے کتنی محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا اور اس کے ہم عمر اپنے بیٹے کے پہلو میں بیٹھنے کو جگہ دی تھی۔اور پھر محض ایک ہفتہ کے اندر دونوں ایک دوسرے کے جگری دوست بن چکے تھے۔اس کے گاؤں کا لڑکا اشرف اسی لیے اس سے جلنے بھی لگا تھا کیونکہ وہ خود قاری صاحب کے لڑکے سے دوستی کرنا چاہتا تھا۔۔یکبارگی اسے لگا کہ اس ’نہیں ‘ کا اثر سیدھا اس کی دوستی پر بھی پڑ سکتا ہے۔اور اشرف اس موقع کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اس نے خیالوں میں اشرف کو کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھا، پھر اس نے دیکھا کہ وہ قاری صاحب کے لڑکے کے گلے میں ہاتھ ڈالے اس طرح گھوم رہا ہے جیسے وہ خود ہی قاری صاحب کا لڑکا ہو۔اس نے ایک لمبا سانس کھینچا۔۔ ۔۔۔۔۔پوری قوت جمع کی اور ایک لفظ باہر ہوا میں اچھال دیا۔

’’جی۔۔۔‘‘

’’جی کیا۔۔ ۔۔۔۔۔؟‘‘قاری صاحب نے چھڑی کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔۔۔۔اور وہ پیچھے کو گرتے گرتے بچا۔

’’جی۔۔ ۔۔۔جی کھا لیا‘‘  اس سے پہلے کہ چھڑی کو ایک اور جھٹکا لگتا اس نے جلدی جلدی جگالی کی اور پورا جملہ اگل دیا۔

’’پیٹ بھر گیا۔۔؟‘‘

’’جی۔۔۔بھر گیا‘‘

چشم زدن میں چھڑی اس کے سینے سے اٹھی، ہوا میں لہرائی اور تڑاخ تڑاخ دو بار اس کے کولہوں سے ٹکرائی۔

’’تو چل یہاں سے۔۔۔۔کمرے میں جا کر بیٹھ چپ چاپ‘‘

نسیم کولہے کو سہلاتا ہوا کمرے کی طرف بھاگا اور کواڑ کی اوٹ لے کر کھڑا ہو گیا۔

چھڑی ایک سینے سے دوسرے سینے کی طرف منتقل ہوتی رہی اور چھوٹے بڑے جبڑے اسی ایک جملہ کی جگالی کرتے رہے جو نسیم نے ان کے سامنے اگلا تھا۔

’’اور تو نے۔۔ ۔۔۔۔؟‘‘

’’جی۔۔۔کھا لیا‘‘

اور تو نے۔۔ ۔۔۔۔حامد؟‘‘

’’جی۔۔میں نے بھی کھا لیا‘‘

جو لڑکے شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ جملہ دہراتے گئے وہ دو دو قمچیاں انعام کے طور پر پاتے گئے۔یہاں تک کہ اب ان لڑکوں کی باری  آئی جواس پورے معاملے میں لیڈر بنے ہوئے تھے۔

’’کیوں بے ارشد۔۔۔۔تو نے کھایا۔۔؟‘‘

چھڑی کی نوک ایک چوڑے چکلے سینے پر جم گئی۔قاری صاحب نے اپنے حوصلوں کو یکجا کیا، ایک دو بار پلکیں جھپکائیں اور اعصاب میں تناؤ پیدا کرتے ہوئے چھڑی کو جنبش دی۔ایک لمحے کے لیے انہیں لگا کہ اصل معرکہ تو اب شروع ہوا ہے۔

’’بول۔۔ ۔۔۔۔بولتا کیوں نہیں۔۔ایسے کیا دیکھ رہا ہے۔۔ ۔۔۔کھا جائے گا مجھے۔۔‘‘ اب وہ پہلے سے زیادہ تن کر بول رہے تھے۔

میں سب سے  آخر میں تین چار لڑکوں کے بعد کھڑا تھا، میرا دماغ پھرکی کی مانند تیزی سے گھوم رہا تھا، میں سوچ رہا تھا کہ یہ لڑکے کچھ ہمت دکھائیں گے اور پانسہ پلٹ جائے گا۔پھر سب کچھ ویسا ہی ہو گا جیسا ہم نے پلان کیا ہے۔ہماری بات سنی جائے گی اور منشی جی اور کھانا بنانے والی چاچی کو ڈانٹ پلائی جائے گی۔ اور پھر ہمیں اس پانی کی طرح پتلی دال سے اور ادھ پکی روٹیوں سے چھٹکارا مل جائے گا۔ہوا کا ایک جھونکا میر ی پیشانی کے بالوں کو چھوتا ہوا گزر گیا، اس نے میرے دماغ کی ہانڈی میں پکتے ہوئے اس خیال کو اس طرح بدل دیا جس طرح ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبانے سے چینل بدل جاتا ہے۔ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے کی بات ہے جب میں اکیلا کھڑا رہ گیا تھا۔ میرے جسم میں جھری جھری پیدا ہوئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔کیا اس بار بھی۔۔۔۔میرے اعصاب میں کرنٹ دوڑنے لگا۔ ہم پانچ لڑکے تھے جو بلا اجازت باہر گھومنے چلے گئے تھے اور جب شام کو اندھیرے منہ مدرسہ میں داخل ہوئے تو اچانک مہتمم صاحب سے مڈبھیڑ ہو گئی۔جیسے وہ ہمارے انتظار میں بیٹھے تھے۔پوچھ تاچھ شروع ہوئی اور سب ایک دوسرے کے کاندھے پر بندوق رکھ کر چلا نے لگے، سب نے جھوٹ بولا اور بہانے کیے۔۔کچھ چھوٹ بھی گئے اور کچھ کو سزا بھی ملی۔حالانکہ مدرسہ میں داخل ہونے سے پہلے سب نے پلان بنایا تھا کہ سب ایک ہی بات کہیں گے۔ میں اس وقت بھی سچ بولا تھا اور اپنی بات پر قائم رہا تھا۔۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سب سے زیادہ مار مجھ ہی کو لگی تھی۔

’’جی۔۔۔ کھا لیا۔۔۔‘‘

 ارشد کے منہ سے بھی جب یہی جملہ نکلا اور میری سماعتوں سے ٹکرایا تومیں خیالات کی وادی سے نکل کر لمحۂ موجود میں  آ کھڑا ہوا۔مجھے اس سے ایسی توقع نہ تھی۔ یہ وہی لڑکا تو تھا جس نے مجھے کھانا کھاتے سے اٹھایا تھا اور احتجاج میں شریک کیا تھا۔مجھے لگا جیسے میرے پیروں تلے سے زمین آہستہ آہستہ کھسک رہی ہے اور یہ کالی رات مجھ پر اسی طرح آگرے گی جس طرح کالی چمگادڑیں اپنے شکار پر گرتی ہیں۔

’’تڑاخ۔۔۔تڑاخ۔۔۔‘‘ دو چھڑی ارشد کے داہنے بازو پر لگیں۔۔۔اور وہ بے پروائی کے ساتھ قطار سے نکل کر دوسری طرف جا کھڑا ہوا۔ارشد کے اس طرح پگھل جانے سے باقی لڑکوں کی بھی سٹی گم ہو گئی، ان کے سروں میں سمایا ہوا احتجاج کا بھوت بغلیں جھانکنے لگا۔اور وہ بھی قاری صاحب کی  آتش نگاہ سے اسی طرح پگھل گئے جس طرح جون کے مہینے میں گرم لو سے  آئس کریم پگھل جاتی ہے۔

تاریخ اپنے  آپ کو دہرا رہی تھی، آج بھی بالکل وہی منظر تھا۔میں نے ارشد کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا، جی میں  آیا کہ اس کی ناک توڑ دویا اس کی ریڑھ کی ہڈی پر اتنی زور سے لات ماروں کہ یہ پھر کبھی اٹھ نہ سکے۔۔۔۔میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ چھڑی کی نوک مجھے اپنے سینے میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔

’’اور۔۔ تو نے۔۔۔؟‘‘قاری صاحب نے میرا نام لیے بغیر اور مجھ سے نظریں چار کئے بنا مجھے مخاطب کیا۔

 دوسرے لڑکوں کے برعکس میں کھانا کھا چکا تھا۔۔۔اس لیے میں اگر ’ہاں ‘ کہتا تب بھی جھوٹ نہ ہوتا اور اگر ’’نہیں ‘‘کہتا تب بھی میرے پاس اس کا جواز تھا کہ دوسری صورت میں احتجاج کا فائدہ ہی کیا نکلتا۔۔۔مگر اب تو میں تنہا ہی میدان میں کھڑا تھا باقی سب لڑکے دروازوں اور درختوں کی اوٹ لیے کھڑے تھے۔۔۔اس لیے اب میری ’’ہاں ‘‘ یا’’ نہیں ‘‘ سے کچھ بھی ہونے والا نہ تھا۔۔میری  آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔ ۔۔۔۔۔میں دل ہی دل میں ان لڑکوں کو لعن طعن کر رہا تھا جنہوں نے مجھے اس احتجاج میں گھسیٹا تھا۔۔ ۔۔۔اور اب مجھے اس طرح تنہا چھوڑ دیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔میرا سر چکرانے لگا اور مجھے پہلی بار زمین گھومتی ہوئی معلوم ہوئی۔۔ ۔۔۔۔میں نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں پہلی بار ان لوگوں کو موٹی سی گالی دی جنہوں نے ایک سائنسداں کو صرف اس لیے سزا دی تھی کہ وہ زمین کی گردش کا قائل تھا۔۔ ۔۔۔اتنی موٹی گالی میں نے  آج تک کسی اور کو نہیں دی تھی۔۔ ۔۔۔میں نے ایک لمبا سانس کھینچا۔۔اپنے بھاری جبڑوں تلے چند حروف چبائے اور ذہن میں ایک جملہ ترتیب دیا۔۔۔مجھے اپنی  آنکھوں کے سامنے چھڑی ناچتی ہوئی دکھائی دی۔۔۔۔اور اس کے لمبے لمبے نوکیلے دانت بھی۔۔۔۔ایسا لگ رہا تھا کہ یہ ابھی چشم زدن میں میرے جسم میں پیوست ہو جائیں گے۔۔۔۔میں نے جملہ کی ترتیب مکمل کی اور اگلے لمحے قاری صاحب کے کانوں کی سیدھ میں اچھال دیا۔۔۔

’’میں نے نہیں کھایا۔۔ ۔۔۔۔دال میں کچے تیل کی مہک آ رہی تھی۔۔۔اور۔۔ ۔۔۔۔اور روٹیاں بھی کچی تھیں۔۔۔۔‘‘یہ کہتے کہتے میری  آنکھیں خود بخود مند گئیں۔

فیصلہ ہو چکا تھا، احتجاج فرو کیا جا چکا تھا اور میرا کچھ بھی بولنا بے کار تھا۔۔۔میں نے  آنکھیں کھولیں۔۔۔۔میری نظر قاری صاحب کی پیٹھ سے ٹکرائی۔۔ ۔۔۔وہ دوسری طرف منہ کئے منشی جی کو تاکید کر رہے تھے کہ آئندہ کھانے میں احتیاط برتی جائے۔۔۔۔اب میں حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہا تھا۔۔۔دور کھڑے ہوئے لڑکے بھی تیز تیز پلکیں جھپکا رہے تھے۔۔۔جیسے انہیں اپنی  آنکھوں پر یقین نہ آ رہا ہو۔۔ ۔۔۔۔۔۔مجھے دوقمچیاں انعام میں کیوں نہ ملیں۔۔۔جبکہ سب نے سچ بولا تھا اور میں نے جھوٹ۔۔۔سب نے سرینڈر کیا تھا اور میں نے احتجاج جاری رکھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔میں نے سوچا اور فتحمندی کے گرم احساس سے ایڑیاں اچکاتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھا اور چادر سے منہ ڈھک کر لیٹ گیا۔چند منٹ بعد ارشد اور اس کے ساتھی  آئے اور معذرت کرنے لگے۔۔ ۔۔۔وہ پکار رہے تھے۔۔۔۔استاد۔۔ ۔۔۔۔۔استاد۔۔ ۔۔۔۔۔اور میں ایسے بودے لڑکوں کے ساتھ آئندہ کسی احتجاج میں شریک نہ ہونے کی قسم کھا رہا تھا۔

٭٭٭