کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

لجا

الیاس ندوی رام پوری


اُس کے دماغ میں ایک زور دار دھماکہ ہوا اور وہ سیدھاہو کر بیٹھ گیا۔ابھی اس کے کپ میں  آدھی سے زیادہ چائے باقی تھی، اس نے ایک ہی چسکی میں کپ خالی کر دیا اور ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گیا۔شام کے ساڑھے نو بج رہے تھے، ٹی وی پر مقامی خبریں نشر کی جا رہی تھیں۔ فی الوقت جو خبر اس کے دماغ میں دھماکے کا سبب بنی تھی وہ کوئی نئی نہیں تھی۔ پچھلے پندرہ دنوں سے سوامی اسیمانند کے اقبالیہ بیان کو لے کر میڈیا میں کافی چرچا تھا۔ تقریباً تمام ہی نیوز چینلز خصوصیت کے ساتھ سوامی سے متعلق خبریں نشر کر رہے تھے۔دراصل اس کے دماغ میں دھماکے کا سبب متعلقہ نیوز سے پیدا ہونے والا ایک خیال تھا۔جو بجلی کی طرح اس کے دماغ کی شریانوں میں کوندا تھا اور دماغ کی دیواروں پر چنگم کی طرح چپک گیا تھا۔

وہ گزشتہ کئی دنوں سے اپنے طور پر یہ جاننے کی کو شش کر رہا تھا کہ اس کا دوست ان دنوں بجھا بجھا سا کیوں لگ رہا ہے، کئی بارا س کے دل میں  آیا کہ اس سے دریافت کرے مگر ہر بار کچھ سوچ کر رہ جاتا۔اس نے کئی طرح کے اسباب پر غور کیا اور کئی سارے خیالات اس کے دماغ میں  آئے بھی مگر سب ایک ایک کر کے ادھر اُدھر رینگ گئے۔ان میں سے کوئی بھی اس کے دماغ کہ تہہ میں کنڈلی مارکر نہ بیٹھ سکا۔

آنند کمار اس کے بچپن کا دوست تھا، اس کے اچھے برے دنوں کا ساتھی۔ہنس مکھ اور زندہ دل۔اس نے اپنی زندگی میں بہت سارے نشیب و فراز دیکھے تھے مگر اس طرح سے تو وہ کبھی بھی نہیں ٹوٹا تھا۔ اگر کبھی جانے انجانے میں ٹوٹ بھی جاتا تھا تو اپنے دل کے سارے ٹکڑے ایک ایک کر کے اس کے سامنے ڈھیر کر دیتا تھا۔وہ ان تمام ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو یکجا کرتا، انہیں ایک دوسرے سے جوڑتا اور ایک نیا دل تیار کر دیتا۔۔۔ اور ایک بار پھر آنند کی زندہ دلی لوٹ آتی۔ مگر اس بار وہ ٹوٹا تو کچھ اس طرح ٹوٹا کہ اس کے وجود پر پراسرار خاموشی چھا گئی، جوں جوں دن گزرتے جا رہے تھے اس کی خاموشی میں پراسراریت کی مزید گرہیں لگتی جا رہی تھیں۔کسی اور کے لیے یہ بات اتنی تکلیف دہ نہ رہی ہو تا ہم اس کے لیے یہ بات بہت تکلیف دہ تھی۔ ایک بات اور بھی تھی جو اس سے بھی زیادہ تعجب خیز تھی۔اس بار آنند نے اپنے دل کے ٹکڑے کسی کے  آگے ڈھیر نہ کئے۔۔۔یہاں تک کہ خود اس کے  آگے بھی نہیں۔۔

اب جب کہ ایک خیال اس کے دماغ میں بجلی کے موافق کوندا تھا اور رگ و پے میں اتر گیا تھا تو اس نے  آنند کی سربستہ خاموشی کے تار کی گرہیں کھولنے کی سوچی۔ چائے کا خالی کپ میز پر رکھا، ٹی وی سوئچ آف کیا اور اہل خانہ کو بنا کچھ بتائے دروازے سے باہر نکل گیا۔

دروازہ کھلا تو ایک سرد ہوا کے جھوکے نے اس کا استقبال کیا، یخ بستہ ہوا کی ایک سرد لہر اس کے پورے وجود میں اوپر سے نیچے تک اترتی چلی گئی۔وہ ہوا کی مخالف سمت میں لمبے لمبے قدم رکھتا ہوا چلتا رہا، کوئی دس منٹ کی مسافت کے بعد ایک جانے پہچانے دروازے پر دستک دی۔ اس سے پہلے اس نے کبھی دستک نہیں دی تھی کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی، وہ جب بھی اس گھر میں  آیا کرتا تو جیسے گھر خود آگے بڑھ کر اس کا استقبال کرتا۔مگر اس بار ایسا نہیں ہوا اور اس کو دستک دینی پڑی۔

’’کون  ؟۔۔‘‘  ایک معصوم نسوانی  آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔

’’میں ہوں۔۔۔  کلیم ‘‘

’’اوہ۔۔انکل، آپ۔۔اندر آئیے نا۔۔‘‘یہ آنند کمار کی بیٹی تھی۔ شاید وہ دوسرے کمرے میں تھی اور دروازے پر دستک سن کر تیزی سے دوڑتی ہوئی  آئی تھی، اسی لیے اس کے سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں۔

’’ اندر آئیے نا، انکل۔۔آپ بھی کیا اجنبیوں کی طرح دروازے پر کھڑے ہوئے ہیں ‘‘

’’ابو کہاں ہیں بیٹا؟۔‘‘

’’ابو۔۔ وہ تو باہر گیے ہیں۔۔اور کچھ بتا کر بھی نہیں گئے۔۔بس آتے ہی ہوں گے۔جب تک آپ بیٹھئے۔میں  آپ کے لیے  چائے بنا کر لاتی ہوں۔‘‘

اس نے کچھ جواب نہ دیا اور الٹے پاؤں واپس ہولیا۔ پریتی اس کا منہ تکتی رہ گئی۔ اس نے انکل کا یہ رویہ اور بجھا بجھا چہرہ اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔

’’ ابو، ابھی  آپ کہاں گئے تھے ؟‘‘

’’کہیں نہیں بیٹ        ا، بس یونہی چہل قدمی کرنے گیا تھا‘‘

گیارہ سالہ نعیم اپنے ابو کے اس جواب سے مطمئن نہیں ہوا۔

’’مگر اس طرح چپکے سے نکل گئے، امی پریشان ہو رہی تھیں ‘‘

وہ خاموش رہا اور اپنے سونے کے کمرے کی طر ف چلا گیا۔

بستر پر نیم دراز ہو کر رضائی کو سر تک کھینچا اور خیالوں میں گم ہو گیا۔

وقت الٹے پاؤں تیزی سے دوڑنے لگا اور وہ چند لمحوں میں تیس سال پیچھے چلا گیا، یہ ایک چاندنی رات کا پہلا پہر تھا، ابھی رات نے داؤد نگر کے سینے پر اپنے پر پھیلانے شروع کیے تھے، سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے دو رویہ درختوں پر، در و دیوار پر، چھت اور بالکنی پر اور باہر میدان میں دور دور تک چاندنی چھٹکی ہوئی تھی، داؤد نگر کا چھوٹا سا محلہ حمیر پور بقۂ نور بنا ہوا تھا۔ باہر گلی میں بچے دھما چوکڑی مچا رہے تھے، ان میں روحی بھی تھی اور روحینی بھی، رحیم بھی تھا اور رامو بھی، لالہ موہن داس کا اکلوتا بیٹا بھی تھا اور پان والے شفیق بھائی کا پوتا بھی، آنند بھی تھا اور کلیم بھی۔یہ سب ایک دوسرے کے ناموں سے واقف تھے مگر ان کے معانی سے ناواقف تھے۔ سب بچے دو ٹولیوں میں بٹے ہوئے تھے، ایک ٹولی تاریک جگہوں میں چھپتی پھر رہی تھی اور دوسری ٹولی اس کے تعاقب میں دیواروں اور درختوں کے پیچھے تاک جھانک کر رہی تھی۔کھیل اسی طرح چلتا رہا، یہ عجیب کھیل تھا اس میں نہ ہار کا غم تھا اور نہ جیتنے کی خوشی۔نہ کوئی تعریف کرنے والا ہوتا اور نہ کوئی غلطیاں نکالنے والا، یہ سب بچے خود ہی کھیلتے اور خود ہی دیکھتے تھے۔کبھی روحی چھپتی پھرتی اور روحینی اس کا پیچھا کرتی اور کبھی روحینی چھپتی پھرتی اور روحی اس کے تعاقب میں دوڑتے دوڑتے ہانپنے لگتی۔یہ محض اتفاق نہ تھا کہ کلیم اور  آنند ہمیشہ ایک ہی طرف رہتے تھے، آج رات بھی وہ دونوں ایک طرف ہی تھے، البتہ یہ اتفاق ضرور تھا کہ اس بار بھی انہیں کی ٹولی فتح یاب ہوئی تھی۔

اس نے سڑک کنارے سے پتھر اٹھا یا اور سامنے کھڑے چھوٹے گھنے درخت کی طرف اچھال دیا۔ چڑیوں کا ایک غول چین چیں کرتا ہوا آسمان کی طرف اڑا اور چھوٹا سا ایک چکر کاٹ کر چیں چیں کرتا ہوا واپس درخت کی ننھی ننھی ٹہنیوں میں سما گیا۔

’’یہ کیا کیا تم نے۔۔۔یہ چڑیوں کے  آرام کا وقت ہے، ایسا کرنے سے انہیں تکلیف ہوتی ہے اور کسی بھی جیو کو تکلیف دینا پاپ ہے ‘‘

آنند نے کلیم کے گلے میں باہیں ڈالتے ہوئے کہا۔

اور دونوں دوسرے بچوں سے دور اسکول کی سیڑھیوں پر جا بیٹھے، لمحات کی چین دھیرے دھیرے پیچھے کی طرف سرکتی رہی اور چاندنی  آہستہ آہستہ اپنے جوبن کی طرف بڑھتی رہی۔۔۔

فجر کی اذان کی  آواز سے اس کی  آنکھ کھل گئی اور وہ چشم زدن میں ماضی کی سیڑھیاں عبور کرتا ہوا ہال میں  آ کھڑا ہوا۔

کل جب دیر رات آنند گھر لوٹا تو پریتی اس کی  آنکھوں میں جھانک کر دیکھنے لگی۔

’’ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘

اور اس نے نظریں بچالیں

’’کچھ نہیں۔۔۔وہ انکل  آئے تھے اور  آپ کو پوچھ رہے تھے۔‘‘

’’تو تم نے کیا کہہ دیا ان سے ‘‘

’’میں کیا کہتی۔۔میں نے بیٹھنے کو کہا، چائے کو پوچھا۔۔ مگر وہ دروازے ہی سے واپس چلے گیے۔ وہ کچھ پریشان لگ رہے تھے۔۔پتہ نہیں کیا بات ہے ؟ آپ کو تو پتہ ہو گانا ابو‘‘

اس نے کچھ جواب نہ دیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا۔

دوپہر کے دو بج رہے تھے، باہر ملگجی دھوپ پھیلی ہوئی تھی، کل کے مقابلے  آج کا موسم قدرے بہتر تھا مگر ابھی ہوا میں تیزی تھی۔کالج سے واپسی پر اس نے سیدھے کلیم کے گھرکا رخ کیا۔

’’ آ گئے تم۔۔۔؟‘‘

آج خارق عادت تیکھی نظروں نے اس کا استقبال کیا۔

’’ہاں ! آ گیا، بولو کیا بات ہے۔۔رات گھر گئے اور دروازے ہی سے لوٹ آئے۔ تھوڑا انتظار کر لیتے تو بوڑھے نہیں ہو جاتے ‘‘

’’کیا بات ہے۔آج کل بڑے اکھڑے اکھڑے لگ رہے ہو۔۔؟‘‘

کلیم نے  آنند کی  آنکھوں کی پتلیوں میں جھانک کر دیکھا۔

’’کیا بات ہے، میں تمہیں بہت فکر مند دیکھ رہا ہوں ‘‘

کلیم نے اس کے مضرابِ نفس کو چھیڑا۔

مگر ادھر سے کوئی جواب نہ ملا۔ کچھ دیر ماحول پر سکوت چھایا رہا۔ گھر کی بوجھل بوجھل فضا میں دم گھٹنے کا احساس دونوں کو ستانے لگا۔

نو خیز نیوز ریڈر کی کھنکھناتی ہوئی  آواز ساکت فضا میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔

آج بیس دن بعد بھی ٹی وی پر اسیمانند سے متعلق خبریں تسلسل کے ساتھ دکھائی جا رہی تھیں، کئی ٹی وی چینلز خصوصی رپورٹیں پیش کر رہے تھے، چار آنکھیں اسکرین پر جمی ہوئی تھیں اور دو سر زانوں پر رکھے ہوئے تھے۔

’’اسے بند کر دو‘‘ اس نے ٹی وی کی طر اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ آنند کے لہجے میں جھنجلاہٹ تھی۔

’’لیکن کیوں۔۔ ۔۔۔۔؟‘‘

’’نہیں سنا جاتا مجھ سے یہ سب۔۔۔تنگ آ گیا ہوں میں یہ سب دیکھتے دیکھتے۔۔۔دیکھو مجھے کیا حالت ہو گئی ہے میری، کاٹو تو بدن میں خون نہیں۔‘‘

اب اس کا خیال یقین میں بدل چکا تھا، اس نے  آنند کے دونوں ہاتھ اپنے لرزتے ہاتھوں میں تھام لیے۔۔۔

’’آنند! ہوش کے ناخن لو۔۔! سنبھالو اپنے  آپ کو۔۔۔۔، کل جب اے ٹی ایس اندھی بہری ہو کر میرے پیچھے بھاگ رہی تھی، تب میری بھی یہی حالت تھی، بلکہ اس سے بھی زیادہ بری، میں اپنی پوری طاقت سے دوڑ رہا تھا اور تحقیقاتی ایجنسیاں، پولس اور میڈیا میرا تعاقب کر رہی تھیں۔۔۔ میں اور کتنی دیر بھاگ سکتا تھا۔۔ انہوں نے ایک آخری جست لگائی اور مجھے پیچھے سے پکڑ لیا، میری قمیص کے چاک ادھڑ گئے اور میں نیم برہنہ ہو گیا، پھر مجھے میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا اور ساری دنیا کے سامنے عریاں کر دیا۔دنیا میرے  آنکھوں کے سامنے اندھیری ہو گئی۔ غیر مجھ پر تھوکنے لگے اور میرے اپنے مجھ سے بھاگنے لگے۔۔ایک بار تو میں نے خود ہی اپنے ضمیر کی عدالت میں خود کو مجرم قرار دے لیا۔۔۔اس وقت تم بھی میرا درد نہ سمجھ سکے۔۔میں نے تم سے فریاد نہ کی اور تم نے پوچھنے کی ضرورت نہ سمجھی۔میں نے اپنے لب سی لیے اور تم نے اپنے لب سی لیے۔۔۔ آنند! تمہیں کیسے بتاؤں۔بے بسی اور تشنج کی ایک کیفیت تھی جو گھر سے بازار تک، بازار سے کالج تک اور کالج سے پارلیمنٹ تک مستقل میرا پیچھا کر رہی تھی۔۔۔مگر میں پھر بھی تم سے اسی طرح ملتا رہا جس طرح پہلے ملا کرتا تھا۔۔۔ بچپن میں اور جوانی کے دنوں میں۔۔۔میں جب جب بھی تم سے ملتا تھا، اپنے چہرے پر مصنوعی غلاف چڑھا لیا کرتا تھا۔تاکہ میرا اضطراب تمہاری خوشیوں کو میلا نہ کر دے۔۔۔میں ایسے چہرے کے ساتھ تم سے ملتا رہا جس سے تم آشنا تھے۔۔۔وہی جسے تم نے چاندنی رات میں کالج کی سیڑھیوں پر دیکھا تھا، چاند کی مخالف سمت میں، چاند کو منہ چڑھا تا ہوا۔۔۔

اور آج جب کیمرے کا رخ تمہاری طرف ہے تو تم ٹوٹ کر بکھر گئے ہو۔دنیا سے چھپنے کی کوشش کر رہے ہو اور مجھ سے بھی نظر چرا رہے ہو۔آنند ! میں تمہاری تکلیف سمجھ سکتا ہوں۔۔۔۔کیوں کہ میں اس آگ کے دریا سے گزر چکا ہوں۔۔

خدا کرے تمہارے بارے میں بھی یہ سب کچھ جھوٹ ثابت ہو جائے۔۔۔ جس طرح میرے بارے میں سب کچھ جھوٹ ثابت ہو گیا۔۔۔‘‘

آنند کا سر جھکا ہوا تھا اور اس کی  آنکھوں سے ڈھلکتے شبنمی قطرے کلیم کے دل کی گہرائیوں میں ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔

٭٭٭