کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

فیس بک کی اپسرا

الیاس ندوی رام پوری


وہ فیس بک کی ایک اپسرا تھی۔سرخ پھول پر بیٹھی ہوئی پیلے پروں والی تتلی کی طرح۔۔ ۔۔۔۔۔گنگناتی ہوئی اور اٹکھیلیاں کرتی ہوئی۔۔ ۔۔۔وہ خود کو جنت ارضی سے بتاتی تھی۔۔۔۔مگر اپنے ممتاز نقوش اور بے حد پرکشش خد و خال سے کسی پرستان کی پری جیسی لگتی تھی۔پڑھی لکھی اور سمجھدار قسم کی۔۔۔دراصل وہ اکاؤنٹینٹ تھی اور ادبی چیزیں محض اپنے شوق کی وجہ سے پڑھتی تھی۔یہ شوق اسے اس وقت لگا تھا جب وہ اپنے اندر بے چینیاں محسوس کرنے لگی تھی۔کسی تکلیف کے بغیر اور پیٹ بھرا ہوا ہونے کے باوجود۔کبھی اسے محسوس ہوتا کہ دل کے  آس پاس کے کسی حصے میں ایک آگ سی لگی ہوئی ہے۔پھر وہ شاور کے نیچے بیٹھ جاتی مگر یہ وہ پانی نہیں تھا جو اس آگ کو بجھا سکتا تھا۔اس کی ماں کہتی تھی کہ بیٹا اس عمر میں ایسا ہوتا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔کیوں ہوتا ہے یہ بتا پانا مشکل ہے۔۔۔۔پر ہوتا ہے سب کے ساتھ ہوتا ہے۔۔ ۔۔۔میرے ساتھ بھی ہوتا تھا۔میں نے تو اس آگ میں جل کر مزا لینے کی عادت بنا لی تھی۔۔ ۔۔۔

اس نے اپنے طورپر اس بے چینی کا علاج ادب اور شاعری میں تلاش کیا اور اسے لگا کہ یہاں اس کے لئے کافی سامان ہے۔

یہ بات اس نے مختلف مواقع پر بتائی تھی۔

پہلے اس نے میری ایک کہانی کو پسند کیا اور پھر خاص دوستوں کی فہرست میں مجھے بھی شامل کر لیا۔کافی دنوں تک وہ میری کہانیوں، افسانوں اور کہانی نما تحریروں کو پڑھتی اور پسند کرتی رہی۔جواب میں میں بھی اس کے کمینٹس کی دل کھول کر داد دیتا رہا۔۔ ۔۔۔۔۔

میں تم سے اتفاق کرتا ہوں۔کمینٹس کے لیے شکریہ۔تمہارے اندر ادب کو سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی اچھی سمجھ ہے۔۔۔گرچہ تم ادب کی طالبہ نہیں ہو۔۔ ۔۔۔پھر بھی تم جس طرح کی سوجھ بوجھ کے ساتھ تبصرہ کرتی ہو اس کے لیے مجھے تمہیں داد دینی ہی ہو گی۔شکریہ رینو۔۔ ۔۔۔۔۔۔تمہارے اس خوبصورت تبصرے کے لئے۔۔۔اور اس بات کے لیے بھی کہ تم میری تخلیقات کو دقتِ نظر سے پڑھتی ہو۔

اور پھر یوں ہوا کہ ہم دونوں چیٹنگ کرنے لگے۔۔ ۔۔۔

میں نے اپنے بارے میں زیادہ جانکاری اپلوڈ نہیں کی تھی۔۔۔۔اور اس نے بھی اپنے بارے میں کچھ زیادہ معلومات فراہم نہیں کی تھیں۔۔۔تاہم میرے ذہن میں اس کا ایک مبہم خاکہ ضرور تھا۔۔۔وہ میرے اپنے ہی ملک کی تھی، اکاؤنٹینٹ تھی، جاب کرتی تھی، مسلمان تھی اور ادبی چیزیں اپنے شوق سے پڑھتی تھی، اس کے گھر میں اس کے علاوہ اور کوئی اردو نہیں جانتا تھا۔۔ ۔۔۔اور اس نے فیس بک پر فرضی نام سے  آئی ڈی بنا رکھی تھی۔اس نے اپنا اصلی نام نیلو فر بتایا تھا۔وہ خوبصورت تھی، اس کی تصویر بہت کچھ بولتی تھی۔۔۔اور یہی میرے لیے بہت کافی تھا۔ میں نے کبھی یہ جاننے کی بھی کوشش نہیں کی کہ یہ اس کی اپنی تصویر ہے یا آئی ڈی کی طرح یہ بھی فرضی ہے۔۔۔سچ میں۔۔۔۔! اِس طرف کبھی خیال ہی نہیں گیا۔تصویر سے خیال ہٹا پاتا تو کہیں جاتا بھی۔۔۔۔میں بچپن ہی سے فریب خوردہ انسان رہا ہوں۔

ایک بار اس نے استفسار کیا کہ میں اور کیا کرتا ہوں تو میں نے بس اتنا ہی لکھا کہ بس کہانیاں لکھتا ہوں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔مگر اس نے مزید زور دے کر پوچھا۔۔۔۔ اور کیا کرتے ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔تو مجھے جھلاہٹ سی ہوئی اور میں نے جواب دیا کہ کہانیاں لکھنا اور پڑھنا بھی تو ایک کام ہی ہے۔۔ ۔۔۔۔۔اور لکھنے پڑھنے کی عادت اتنا وقت مانگتی ہے کہ کسی اور کام کے لیے وقت ہی نہیں رہ جاتا۔۔ ۔۔۔در اصل شروع کے ان دنوں میں میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مجھے ہلکے میں لے اور چیٹنگ جیسے واہیات فعل میں وقت گنوانے والے دوسرے لوگوں کی صف میں مجھے بھی کھڑا کرے۔۔ ۔۔۔میں ذرا مختلف قسم کا آدمی رہا ہوں او رمیں اپنی انفرادیت کو ہر قیمت پر باقی رکھنا چاہتا ہوں۔

پاسپورٹ سائز کی تصویر میں وہ بڑی دلکش لگتی تھی۔ اس نے پیلے رنگ کا ٹی شرٹ پہنا ہوا تھا۔ اور ٹھیک سینے کے ابھار پر ’’آئی ہیٹ یو ‘‘انگریزی الفاظ میں لکھا ہوا تھا۔اس کے بال کھلے ہوئے تھے جن کے سامنے والے حصے پر سنہرے رنگ کی پالش کی گئی تھی۔اس کے چہرے پر عجیب طرح کی معصومیت تھی، اس کے ایک پوسٹ کارڈ سائز کے فوٹو پر تقریباً دو ہزار لوگوں نے کمینٹس لکھے۔ ان میں سے تقریباً ایک چوتھائی نے ایک مختصر سا لفظ ’’کیوٹ‘‘ ہی لکھنا پسند کیا تھا۔شاید یہ لفظ اس کے نقوش کی بہتر ترجمانی کرتا تھا۔اتنے سارے لوگ غلط نہیں ہو سکتے۔۔ ۔۔۔ وہ حقیقت میں کیوٹ تھی۔

پھر ایک دن میں نے خدا جانے کس طرح کے احساسات کے تحت چیٹنگ باکس میں لکھ دیا’’ ویسے لکھنے پڑھنے والے لوگ کوئی دوسرا کام کر بھی نہیں سکتے۔‘‘

’’کیوں۔۔ ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟‘‘

 اس نے بس ’’کیوں ‘‘ لکھا اور اس کے سامنے ڈھیر سارے سوالیہ نشان لگا دئیے۔

’’ اس لیے کہ وہ اپنا اِیگو بہت زیادہ بڑھا لیتے ہیں۔ انہیں، لکھنے پڑھنے، کانفرنسیں کرنے اور محفلیں سجانے کے علاوہ باقی سارے کام ہیچ نظر آتے ہیں۔اور وہ ان میں اپنی توہین محسوس کرتے ہیں۔یا پھر شاید اس لیے کہ وہ باقی کسی بھی کام کے لیے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔کیونکہ وہ لکھنے پڑھنے کی وجہ سے  آرام طلب ہو جاتے ہیں اور اپنی صلاحیتیں کھو دیتے ہیں۔‘‘

’’مگر میں ایسا نہیں مانتی۔۔ ۔۔۔۔۔۔‘‘

اس کے ٹائپ کئے ہوئے الفاظ میں اس کے لہجے کی تندی صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔

’’کوئی بات نہیں۔۔ ۔۔۔ تمہیں اپنی رائے رکھنے کا پورا اختیار ہے۔آخر اب تم بچی تو نہیں رہیں۔۔۔اگر آج ہی تمہاری شادی کر دی جائے تو تم کل ہی ماں بن جاؤ گی۔‘‘میں نے اس کی ناگواری کو بھانپتے ہوئے اسے مزاح کا رخ دینے کی کوشش کی۔

 وہ ابھی نوعمر تھی۔۔۔۔زندگی کی لذتوں سے نا آشنا اور زندگی کی مشکلات سے بے پروا۔۔۔۔اس نے ابھی زندگی کا پھل بھی نہیں چکھا تھا۔۔ ۔۔۔۔جب وہ آن لائن ہوتی تو میرے دل و دماغ میں جیسے سوئیاں سی چبھتی ہوئی محسوس ہوتیں، یا ایسا لگتا کہ الفاظ معانی سے بھر گئے ہیں یا پنگھٹ پر شام اتر آئی ہے اور پانی بھرنے والی دوشیزائیں اور مائیں اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہی ہیں۔۔۔۔اپنے کولھوں اور سروں پر پانی سے بھرے گھڑے اٹھائے ہوئے اور چھوٹے بچوں کو اپنے  آگے دوڑاتے ہوئے۔ اس وقت مجھے محسوس ہوتا کہ میں ایک ہی جست میں کئی سال پیچھے چلا گیا ہوں، میری کھلنڈری عمر کے دن عود کر آئے ہیں اور کھڑکی کے باہر ہوا میں جھولتے ہوئے سرخ گلاب کی نازک پنکھڑیوں پر اوس گر رہی ہے۔میرے ہونٹ کسی اندرونی قوت کے ذریعہ خود بخود سکڑ جاتے اور تیز سیٹی جیسی  آواز کمرے میں گونجنے لگتی۔

’’ہوا اور پانی، قدرت کے دو فنکار ہاتھ ہیں، قدرت ان کی مدد سے روئے زمین پر بو قلمونی کرتی رہتی ہے۔۔۔۔‘‘

رینو اسی طرح کی اوٹ پٹانگ باتیں سوچتی اور فیس بک پر اپ لوڈ کرتی رہتی۔اس نے اپنی اس بات کی دلیل کے طور پر جنتِ ارضی کا ایک خوبصورت سا سین بھی دیا تھا۔ جس میں سامنے کی طرف لہریں لیتا ہوا دریا بہہ رہا تھا اور عقب میں ہری بھری بلند و بالا چوٹیاں نظر آ رہی تھیں۔سب سے  آخر میں نظر آنے والی چوٹیوں پر برف کی موٹی تہہ جمی ہوئی تھی۔دور کسی درخت کی ٹہنی پر جنگلی کبوتروں کا جوڑا جوانی کی سرمستیوں میں ڈوبا ہوا، خوف کے سایوں سے بے پروا، محبتوں کی جنتیں تعمیر کرنے میں مصروف تھا۔

تصویر بہت دلکش تھی۔۔۔۔نظروں کو خیرہ کر دینے والی۔۔ ۔۔۔۔۔مگر پتہ نہیں کس طرح میرا ذہن وادی کے ان لوگوں کی طرف چلا گیا جن کی زندگیاں گن پوائنٹ پر رکھی ہوئی ہیں۔جنہیں اس جنت نما وادی میں رہنے کی اجازت تو ہے مگر محبتوں کی جنتیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں۔جنت نشاں وادی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔جہاں گزشتہ ایک صدی میں کوئی نئی چیز تعمیر نہیں کی گئی سوائے ان گمنام قبروں کے جن کے بارے میں وادی سے باہر کے لوگ زیادہ نہیں جانتے۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اور میں اندر سے دکھی ہو گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔مگر میرے لیے یہ کوئی نیا تجربہ نہیں تھا جب مجھے ایک خوش کرنے والی چیز نے رنجیدہ کر دیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔میرے ساتھ اس سے پہلے بھی بارہا ایسا ہو چکا ہے جب میں شادی کی محفل سے نمناک اٹھا ہوں اور جنازے سے لوٹتے ہوئے ہنستا مسکراتا گھر میں داخل ہوا ہوں۔

’’ رینو کی تصویر پر ڈھائی ہزار کمینٹس میں ؛اور جنتِ ارضی کے  بطن میں ڈھائی ہزار بے نشان قبروں کی موجودگی میں ؛ آخر کیا مناسبت ہو سکتی ہے۔۔ ۔۔۔۔؟۔‘‘

رنجیدگی کے نامراد احساسات سے دکھتے ہوئے بعض ذہنی خلیوں سے میں نے سوچا۔

’’ہاہا۔۔۔۔ہاہا۔۔ ۔۔۔۔آج آپ خاصے مُوڈ میں لگ رہے ہیں۔۔ ۔۔۔لگتا ہے نائیلہ باجی  آج کل  آپ کا کچھ زیادہ ہی خیال رکھ رہی ہیں۔‘‘

پہلے تو مجھے لگا تھا کہ شادی کے دوسرے روز ماں بن جانے والی بات اس کو غصہ بھی دلا سکتی ہے۔مگر میں نے ہمت کر کے لکھ دیا اور جب اگلے لمحے اس کا جواب آیا تو رنجیدگی کے نامراد احساسات سے دکھتے ہوئے میرے تمام ذہنی خلئے عجیب طرح کی خوشگواری سے سرشار ہو گئے۔۔ ۔۔۔۔اس وقت مجھے اپنی سوجھ بوجھ پر اور بے خطر اقدام کرنے کی ہمتِ مردانہ پر یک گونہ فخر محسوس ہوا۔

’’یہ تم بات بات پر نائیلہ کو درمیان میں کیوں گھسیٹ لاتی ہو۔۔۔۔؟‘‘مگر میں نے قدرے ناگواری سے جواب دیا۔

اور پھر میں اپنے تمام تر ننگِ وجود کے ساتھ ایسی حسین وادی میں اتر گیا جو جنتِ ارضی سے زیادہ خوبصورت تھی۔

اس کے دوستوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔دنیا بھر کے لوگ اس کی اپلوڈ کی ہوئی چیزوں کو بے حد رغبت سے دیکھتے تھے اور جی جان سے کمینٹس کرتے تھے۔۔ ۔۔۔کبھی کبھی مجھے غصہ بھی  آنے لگتا کہ اس کے چاہنے والے کتنے زیادہ ہیں۔اگر وہ اوٹ پٹانگ سی کوئی چیز بھی اپلوڈ کر دیتی ہے تو اس کو لائک کرنے والوں اور اس پر کمینٹس لکھنے والوں کی جیسے لائن لگ جاتی ہے۔۔۔جیسے چیونٹیاں شکر کے دانے چننے کے لیے لائن لگا دیتی ہیں۔۔۔بوڑھے، بچے، لڑکے، لڑکیاں، عورتیں، ادیب اور غیر ادیب، مولوی اور غیر مولوی سب کے سب جیسے اپنے اپنے جامہ سے باہر آ گئے ہوں۔۔ ۔۔۔جبکہ میری اپلوڈ کی ہوئی چیزوں کو میرے بچپن کے دو چار دوست ہی لائک کرتے یا ہلکا پھلکا اور بے جان سا کمینٹ کرتے جس کے بین السطور سے جھوٹی تعریف منہ چڑھا تی ہوئی صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔۔۔ان کم بختوں کو جھوٹ بولنا بھی نہیں  آتا۔۔۔کم از کم جھوٹ کو اس طرح تو بولنا چاہئے کہ وہ پہلی نظر میں سچ جیسا نظر آئے۔۔۔۔میں جھلاہٹ کے عالم میں فیس بک سے لاگ آؤٹ ہو جانے کی سوچتا۔

مگر کچھ ہی پلوں میں جانے ایسا کیا ہو جاتا کہ احساس کہتری کے دوران کہیں سے میرا خیال سر نکالتا اور ایک ہی جست میں اس کے سینے کے ابھار پر جلی حروف میں لکھی ہوئی عبارت پر جا چپکتا۔

’’آئی ہیٹ یو۔۔۔‘‘ پتہ نہیں مجھے ایسا کیوں لگتا تھا کہ یہ مجھے چڑھا رہی ہے۔بظاہر نفرت کرنے کی کوئی وجہ سمجھ نہ آتی تھی۔اس کی تصویر سے، اس کے لفظوں سے اور اس کی پسند و نا پسند سے تو جیسے خوشبو اٹھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔پھر اس نے یہ کیوں لکھ رکھا ہے۔

مگر ’’آئی ہیٹ یو کا مطلب‘‘ آئی لو یو ‘‘ بھی تو ہوتا ہے۔اس سوچ کے  آتے ہی میرا وجود ایک خاص قسم کی ترنگ سے بھر جاتا۔

میرا خیال تھا کہ میں فیس بک کے استعمال سے تیزی سے بدلتے ہوئے وقت کا تعاقب کر سکوں گا اور برق رفتاری کے ساتھ تغیر پذیر حالات کا سارا حساب رکھ سکنے میں کامیاب ہو سکوں گا۔مگر میرا خیال غلط تھا۔ میں وقت کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک اپسرا کے تعاقب میں لگ گیا تھا، جبکہ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ تتلیاں ہر کس و ناکس کے ہاتھ نہیں  آتیں اور تتلیاں پکڑنے کی کوشش ہزار بکھیڑوں کو جنم دیتی ہے۔اس کے ساتھ ہی مجھے بچپن کا وہ واقعہ یاد آ گیا جب میں نے پیلے پروں والی تتلی پکڑنے کی کوشش کی تھی، مگر اچانک میں اوندھے منہ گرا اور سینے پر خاص دل کے مقام پر چوٹ کھائی۔۔ ۔۔۔اور نتیجے میں باجی کو امی کے ہاتھوں مار کھانی پڑی۔۔ ۔۔۔کیونکہ انہوں نے میری نگہداشت سے غفلت برتی تھی۔

’’اچھا۔۔ ۔۔۔۔! کہانیاں لکھنے کے ذاتی تجربے کے بارے میں کچھ بتائیں ؟‘‘

میں ابھی ہیٹ اور لَوْ کے چکر میں الجھا ہوا تھا کہ اس نے اگلا سوال جڑ دیا۔

’’کئی بار کئی کہانیاں اتنی  آسانی سے لکھ لیتا ہوں جتنی  آسانی سے سوئی میں دھاگہ ڈالا جاتا ہے اور کئی بار اتنی مشکل سے ایک کہانی لکھ پاتا ہوں جتنی مشکل سے کوئی عورت ایک بچے کو جنم دیتی ہے۔کہانیاں لکھنے کا فن بھی عجیب ہے۔۔۔بالکل عجیب۔شاید تم یقین نہ کرو۔۔۔مگر یہ عجیب ہے، دنیا کے ساتوں عجوبوں سے بھی زیادہ عجیب۔۔ ۔۔۔۔مگر آج کے دور میں کہانیاں لکھنے کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی حسن کے بازار میں متاع ہنر بیچتا پھرے۔ بازارِ حسن کی نزاکتوں سے بے خبر اور کہانیوں کے انجام سے بے پروا۔‘‘

’’ ایک اور سوال پوچھوں۔۔۔۔؟‘‘

’’ہاں۔۔۔بالکل، ایک ہی کیوں دس پوچھو۔‘‘

’’کہیں میں  آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کر رہی۔۔ ۔۔۔‘‘

’’ارے۔۔۔ارے۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔بالکل نہیں۔۔۔ یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔تم اور ڈسٹرب۔۔۔!!‘‘

’’ آپ زندگی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔۔ ۔۔۔؟‘‘

’’مطلب۔۔ ۔۔۔۔۔۔؟‘‘

’’مطلب یہ کہ زندگی حقیقت ہے یا سراب، پانی کا ایک بلبلہ ہے یاٹھوس پتھر۔۔ ۔۔۔۔۔زندگی سرتاپا عشق ومستی ہے یا سراسر زخم اور درد۔زندگی موت کی حریف ہے یا موت کی حلیف۔اور۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔سب سے بڑھ کر یہ کہ زندگی اور موت کی کشمکش کو آپ کیا نام دینا چاہیں گے۔یا اس کو بیان کرنے جائیں گے تو آپ کے الفاظ کیا ہوں گے۔‘‘

’’۔۔۔۔زندگی موت کے خلاف اعلان جنگ ہے۔۔۔۔جب تک ہم زندگی کے قیدی ہیں تب تک موت کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ مگر ایک دن۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ موت ہمیں زندگی کی قید سے نکال کر اپنا قیدی بنا لے گی۔ہمیں معلوم ہے کہ ہم یہ جنگ ہار جائیں گے پھر بھی ہمیں لڑنا ہے اور تا عمر لڑنا ہے۔۔۔۔اس وقت تک جب تک ہم ہار نہیں جاتے۔۔۔یہ اس دنیا کی شاید سب سے زیادہ انوکھی جنگ ہے جو ہارنے کے لیے لڑی جاتی ہے۔۔۔۔زندگی کے لیے لڑنا ایک ایسی جنگ لڑنا ہے جس کا نتیجہ ہمیں پہلے ہی سے معلوم ہے۔مگر پھر بھی ہم لڑتے ہیں کہ اس کے بنا کوئی چارہ نہیں۔ہم ایک نہ ایک دن موت کے قیدی ضرور بنیں گے مگر اتنی  آسانی سے نہیں۔۔۔۔موت ہمیں ڈرا نہیں سکتی۔ کسی بھی قیمت پر نہیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔نہیں بالکل نہیں۔۔ ۔۔۔ ہم آدم کی اولاد ضرور ہیں مگر آدم نہیں ہیں جنہوں نے موت سے ڈر کر گندم کھالیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔مگر نتیجہ کیا نکلا۔ یہی نا کہ وہ موت سے نہ بچ سکے۔ہمیں پتہ ہے کہ ہم بھی موت سے نہیں بھاگ سکتے۔۔ ۔۔۔۔مگر ہم ان میں سے نہیں جو آسانی سے شکار بن جاتے ہیں اور بہکاوے میں  آ جاتے ہیں۔کم از کم اماں حوّا کی طرح تو بالکل نہیں۔‘‘

’’اچھا۔۔ ۔۔۔۔!!!!‘‘

چیٹنگ باکس میں ایک لفظ ابھرا۔۔ ۔۔۔جس کی پرچھائیوں میں حیرت نمایاں تھی۔

’’آؤ۔۔۔چائے پیتے ہیں ‘‘ دور ڈائنگ ٹیبل پر رکھے ڈنر کے ٹھنڈا ہونے کی پروا کئے بغیر میں اس سے یونہی چائے کا پوچھتا۔

’’ابو جلدی  آئیے پلیز۔۔ ۔۔۔۔۔ہمیں بہت تیز کی بھوک لگی ہے۔‘‘

بچے ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے شور مچاتے رہتے اور میں اس کے ساتھ چیٹنگ کو کوئی خوشگوار موڑ دینے کے بارے میں سوچ رہا ہوتا۔

’’شکریہ!! میرے حصے کی بھی  آپ ہی پی لیجئے۔۔ ۔۔۔‘‘ اور پھر واقعی مجھے چائے کی طلب ستانے لگتی۔

’’آج تم نے کیا کھایا۔۔ ۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے ڈنر میں کیا لیا۔۔۔‘‘

’’ابھی تو کچھ نہیں لیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔شام میں  آفس سے لوٹتے ہوئے میموز کھا لئے تھے۔ اس لیے ابھی زیادہ بھوک نہیں۔۔۔۔اور میں تو ویسے بھی لیٹ فیٹ ہی کھاتی ہوں۔‘‘

’’اور آپ نے۔۔ ۔۔۔۔۔؟‘‘

’’میں نے۔۔ ۔۔۔۔۔؟؟‘‘

’’ہاں، میں  آپ ہی سے پوچھ رہی ہوں جناب۔کہاں کھوئے ہوئے ہیں۔۔۔کسی اور کے ساتھ بھی چیٹنگ چل رہی ہے کیا۔؟‘‘

’’نہیں تو۔۔ ۔۔۔۔میں تمہارے علاوہ کسی اور سے بات نہیں کرتا۔یہ تمہیں بھی پتہ ہے۔‘‘

’’تو پھر اتنی دیر سے جواب کیوں دے رہے ہیں۔۔۔۔؟‘‘

’’وہ دبئی سے ایک گدھا ہے۔۔ ۔۔۔۔میرے کالج کا دوست، وہ پریشان کرتا رہتا ہے۔‘‘

’’گدھا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔ یا گدھی۔۔ ۔۔۔؟‘‘

’’نہیں۔۔۔۔!  گدھا ہی ہے۔۔ ۔۔۔‘‘

’’ میں نے کوئی گدھی نہیں پالی۔سوائے ایک کے۔۔ ۔۔۔‘‘

’’اچھا۔۔۔۔!  کون ہے وہ۔۔۔؟‘‘

’’سوچئے۔۔۔۔!!  کون ہو سکتی ہے۔۔؟‘‘

’’ویسے لوگ خود کو پہچاننے میں ہمیشہ غلطی کرتے ہیں۔‘‘اور مصنوعی ہنسی ہنسنے کے چکر میں اپنا زیریں ہونٹ کاٹ کھایا۔

’’ہاہا۔۔ہاہا۔۔۔‘‘  اس نے ’ہا‘ کو اتنی بار لکھا کہ چیٹنگ باکس انہیں دو حرفوں سے بھر گیا۔

’’اچھا فیس بک کے بارے میں  آپ کی کیا رائے ہے۔۔ ۔۔۔۔۔میرے انکل کہتے ہیں کہ فیس بک کی لت اچھی نہیں۔۔۔خاص کر لڑکیوں کے لیے۔پتہ نہیں ہم کب تک لڑکے اور لڑکیوں میں فرق کرتے رہیں گے۔‘‘

’’ فیس بک ایک ایسی کھڑکی ہے جہاں سے ہم ظاہر اور پوشیدہ، تمام دنیا کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔اگر ہمیں یہ دیکھنا ہو کہ ہمارے اپنے۔۔ ۔۔۔۔بچے۔۔۔جوان اور بوڑھے۔۔۔۔کیا کیا گل کھلاتے پھر رہے ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔تو اس کے لیے جو سب سے مختصر اور  آسان راستہ ہے، وہ ہے فیس بک میں انٹری کا راستہ۔پچھلے وقتوں کے شہنشاہوں کا ضمیر جام جہاں نما رہا ہو یا نہ رہا ہو پر موجودہ وقت میں فیس بک جام جہاں نما ضرور ہے۔جمشید کو اپنے پیالے میں دنیا نظر آتی ہو یا نہ آتی ہو پر فیس بک پر لاگ اِن کرنے والے کو دنیا ضرور نظر آتی ہے۔۔ ۔۔۔۔آتی ہے اور پوری طرح آتی ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔اچھی بھی اور بری بھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔علمی بھی اور چھچوری بھی۔۔ ۔۔۔ساتر بھی اور برہنہ بھی۔۔ ۔۔۔ دنیا کے ساتوں عجوبے، قوس و قزح کے ساتوں رنگ اور زمین و آسمان کے چودہ طبق روشن نظر آتے ہیں اور پوری طرح آتے ہیں۔‘‘

’’ فنٹاسٹک۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔آخر آپ ادیب ہیں نا۔۔ ۔۔۔اسی لئے باتیں بنا لیتے ہیں۔‘‘

’’تم کہتی ہو تو چلو یونہی صحیح۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ویسے مجھے نہیں لگتا کہ مجھے ادیبوں کے پاس بھی پھٹکنا چاہئے۔ میں نے دل میں سوچا اور ہفتوں اور مہینوں تک اس کے لفظوں کی مہک سے محظوظ ہوتا رہا۔دراصل حقیقی تعریف وہی ہے جو کسی کو صنف مخالف سے ملے۔ کوئی عورت کسی مرد کی تعریف کرے یا کوئی مرد کسی عورت کے لئے قصیدہ لکھے۔مجھے معلوم ہے کی فن کی تعریف کے مقابلے میں شخصیت کی تعریف میں زیادہ رس ہے۔۔۔مگر وہ شخص جو اپنی شخصیت کی سحر آفرینی کھو چکا ہو اس کے لیے فن کی تعریف ہی بہت ہوتی ہے۔اور میرے ساتھ بھی یہی کیفیت تھی۔

’’کیا ادب کے ذریعے دنیا فتح کی جا سکتی ہے۔۔۔؟‘‘

’’دنیا کو تو ایک سوکھے پتے کے ذریعے بھی فتح کیا جا سکتا ہے۔۔ ۔۔۔ادب تو بڑی چیز ہے۔‘‘میں کبھی کبھی اس کے سوالوں کا یونہی اوٹ پٹانگ سا جواب دیتا۔

’’باتیں خوب بنا لیتے ہیں۔‘‘

’’عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں۔‘‘

’’واہ۔۔۔واہ۔۔واہ۔۔ ۔۔۔آپ کی باتیں بہت دلچسپ ہوتی ہیں  آپ سے دوستی کر کے اچھا لگا۔اور ہاں  آپ کی تحریر بھی بہت دلکش ہوتی ہے۔۔ ۔۔۔دل میں طوفان سا اٹھنے لگتا ہے اور فکر و خیال کی وادیوں میں جیسے بھونچال  آ جاتا ہے۔آپ کو پڑھتے ہوئے عجیب سی لذت اور سرمستی کا احساس ہوتا ہے۔‘‘

’’اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں۔۔۔دراصل یہ تمہاری عمر کا قصور ہے۔۔۔۔تمہاری ماں صحیح کہتی ہیں کہ اس عمر میں ایسا ہوتا ہے۔‘‘

’’ہوتا ہے۔۔۔۔میں مانتی ہوں مگر اس کی کوئی توجیہہ بھی تو ہو گی۔‘‘

’’یہاں  آدمی کو بہت کچھ ملا ہوا ہے مگر وہ اپنی طمع پسند طبیعت کے باعث ہمہ وقت محرومیوں کے احساسات کے ساتھ جیتا ہے، پھر یہی احساسات اس کی زبان اور قلم کی نوک پر آتے ہیں اور لفظوں کا پیکر تراش لیتے ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔اور جب ہم ادب پڑھتے ہیں تو ہمارے اندرون میں پہلے سے پل رہے محرومیوں کے ہزارہا قسم کے مردہ اور نیم مردہ احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔۔ ۔۔۔اور پھر ہم اُنہی کو گھونٹ گھونٹ پیتے ہیں۔۔۔یا یوں کہیں کہ ان کی جگالی کرتے ہیں اور ہمیں لذتوں کا احساس ہوتا ہے۔ادب پڑھنے سے خوابیدہ رسیلے خواب متحرک ہو جاتے ہیں۔اور اس لیے بھی ہمیں لذتوں کا احساس ہوتا ہے۔یہ لذتیں فی نفسہ ادب میں نہیں ہوتیں۔ایک فارسی کہاوت ہے کہ ایک کتا ریتی کو کھانے کی چیز سمجھ کر اس پر زبان رگڑنے لگا۔۔۔بار بار کی رگڑ سے اس کی زبان سے خون رسنا شروع ہو گیا اور وہ اپنے ہی خون کو گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔۔اور سمجھتا رہا کہ یہ لذت آمیز چیز اس ریتی سے نکل رہی ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔یہی کچھ حال ادب کے قاری کا بھی ہے کہ وہ ادب کی قراء ت کے دوران اپنا ہی درد گھونٹ گھونٹ پیتا ہے۔۔۔۔اور اپنے اندر پائے جانے والے رس کی جگالی کرتا ہے۔۔ ۔۔۔وہ کاغذ کی کشتی، وہ بارش کا پانی۔۔ ۔۔۔یہ عجیب طرح کا احساس ہے۔۔۔کاغذ کی کشتی اور بارش کے پانی کے بدلے ہمیں جنتیں مل گئی ہیں جن کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک زمرد کی ہے۔۔۔۔مگر ہم کاغذ کی کشتی اور بارش کے پانی کے لیے روتے ہیں۔۔۔یہ رونا دراصل کھوئی ہوئی چیزوں کے لیے رونا ہے۔۔چاہے موجودہ وقت میں ان کی کوئی قیمت ہو یا نہ ہو۔۔بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ کھوئی ہوئی چیز ہے اور ماضی میں اس سے ہمارا کوئی رشتہ رہا ہے۔۔میری تمام سرگزشت کھوئے ہوئے کی جستجو۔۔۔مجھے تو خوف آتا ہے کہ آدمی کہیں جنت میں بھی اپنی اِسی میلی کچیلی دنیاوی زندگی کو یاد کر کے روتا نہ پھرے۔‘‘

’’شاید۔۔ ۔۔۔۔!!!۔پر میں کچھ سمجھ نہیں پائی۔‘‘

’’اور اس میں بھی تمہاری کچھ غلطی نہیں۔۔۔ادب کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ سمجھ میں نہیں  آتا۔۔ ۔۔۔ادب صرف ذ  ہنی تعیش ہی نہیں ادب ذ  ہنی ورزش بھی ہے۔‘‘

’’ہاں۔۔ ۔۔۔وہ تو ہے۔‘‘

وقت اسی طرح اپنی رنگینیوں کے ساتھ آہستہ آہستہ گزرتا رہا۔۔۔۔اور اس پورے عرصے میں مجھے یہ خوش گمانی رہی کہ دنیا بنانے والے نے دنیا کو بہت لگن اور محنت کے ساتھ بنایا ہے۔

پھر اچانک یوں ہوا کہ وہ فیس بک سے غائب ہو گئی۔۔۔۔

مجھے وحشت سی ہونے لگی۔۔ ۔۔۔۔سب کچھ اتنی جلدی کیسے بدل گیا اور وہ بھی یوں ایک دم اچانک سے۔۔ ۔۔۔وہ اچانک سے  آئی تھی اور یوں اچانک سے چلی گئی۔۔۔۔جب چیزیں اچانک سے واقع ہوتی ہیں یا جلدی جلدی واقع ہوتی ہیں تو میں عجیب سی وحشت کا شکار ہو جاتا ہوں۔اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ دنیا بنانے والے نے دنیا کو اس طرح کیوں بنایا۔مجھے لوگوں کے مرنے کا اتنا غم نہیں کیونکہ لوگ پیدا ہی ہوتے ہیں مرنے کے لیے۔۔ ۔۔۔پر مجھے یہ چیز بہت ستاتی ہے کہ موت اتنی جلدی جلدی زمین پر کیوں اترتی ہے۔اور بار بار شکلیں بدل بدل کر کیوں  آتی ہے۔کبھی زلزلے، کبھی سنامی، کبھی فساد، کبھی انکاؤنٹر، کبھی بم دھماکے اور کبھی ڈرونز۔۔ ۔۔۔۔۔اور کبھی میزائیلوں کی بارش۔۔۔ایک بار آتی ہے اور ہزاروں کو لے جاتی مگر پھر بھی اس کا پیٹ نہیں بھر تاکہ اگلے روز پھر کسی دوسری شکل میں اتر آتی ہے اور وہ بھی بنا کسی پیشگی اطلاع کے۔آخر یہ بھی کوئی جینے میں جینا ہے کہ جیتے ہیں۔۔ ۔۔۔۔ مگر مرنے کے لئے اور وہ بھی مر مر کر۔

میں اپنی طبیعت میں گرانی محسوس کرنے لگا۔

’’کیا بات ہے ؟ طبیعت ٹھیک نہیں ہے کیا؟۔‘‘ نائلہ نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھا۔وہ چھوٹے چھوٹے دو بچوں کی ماں ضرور تھی مگر اس کی ہتھیلی میں ابھی تک وہی گرمی اور رعنائی تھی جو میں نے شب عروسی کی دھیمی دھیمی روشنی میں اس کی حنائی ہتھیلی کو بوسہ دیتے وقت محسوس کی تھی۔۔۔۔ جب میں نے ہمیشہ کے لیے اس کا ساتھ دینے عہد کیا تھا۔

میں نے اس کی  آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔۔ ۔۔۔۔ان میں ابھی تک میری وہی تصویر موجود تھی جو پہلی شب کے پہلے پہر میں اس نے اپنی  آنکھوں میں اس وقت محفوظ کی تھی جب میں اس کی  آنکھوں کے ساگر میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔میں جیسے شرمسار ہو گیا۔۔۔مجھے لگا جیسے میں نے اپنا عہد توڑ دیا ہے اور میں جانے انجانے میں اس کے ساتھ دغا کر بیٹھا ہوں۔۔ ۔۔۔مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔۔۔۔میں نے اس کا ہاتھ اپنے سینے پر کھینچ لیا۔۔۔اور اپنے من میں اس کے ساتھ کئے گئے عہدِ وفا کو از سر نو استوار کیا۔

سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہی تھا مگر ادھر کئی روز سے راحت آن لائن نہیں رہتا تھا۔میں نے اس طرف بالکل بھی دھیان نہیں دیا کہ رینو کے ایک دم غائب ہونے کے ساتھ راحت کے  آن لائن نہ ہونے میں بھی کوئی تال میل ہو سکتا ہے۔

اگلے دن جب سورج سوا نیزے پر آ گیا تھا، میں اپنا لیپ ٹاپ لئے باہر لان میں جا بیٹھا تاکہ دھوپ بھی سینکتا رہوں اور زیر طباعت افسانوی مجموعے پر کچھ کام بھی کر سکوں۔۔۔سورج کی حرارت سے جسم میں ذرا  ذرا گرمی  آئی تو میں نہ جانے کیوں نائیلہ سے کیے گئے رات کے وعدے کو بھول گیا اور ایک پلک جھپکنے کے برابر وقفے میں رینو کا رنگین تصور میرے فکر و خیال کو رعنائیوں سے بھر گیا۔میں نے کانپتے ہاتھوں سے لیپ ٹاپ کھولا اور رینو کو تلاش کرنے لگا۔۔ ۔۔۔۔۔۔مگر وہ بدستور غائب تھی۔

’’رینو۔۔۔۔! کہاں مر گئیں تم۔۔۔کچھ تو بولو، کچھ تو بتاؤ اپنے بارے میں۔۔تمہاری شکل سے اور تمہاری باتوں سے بالکل بھی نہیں لگتا تھا کہ تم اس طرح سے دغا دے جاؤ گی۔تم اچانک سے میری زندگی میں  آئیں۔۔۔زندگی کے پرسکون سمندر کو سنامیوں سے بھر دیا۔۔۔۔اور پھر اچانک غائب ہو گئیں۔۔۔اور بے تاب سمندر کا شور خاموش تاریکیوں میں ڈوب گیا۔۔۔تمہیں اگر جانا ہی تھا تو آئی ہی کیوں تھیں۔۔۔اور اگر جانا ضروری ہی تھا تو اتنی جلدی کیا تھی۔۔۔ اور پھر یہ اچانک غائب ہونے کی کیا تک بنتی ہے۔۔ ۔۔۔۔۔‘‘

شدت الم سے میری  آنکھیں خود بخود مند گئیں۔۔۔بند پلکوں کے شامیانے تلے رسیلے خواب تھرکنے لگے۔۔۔رینو پریوں کی طرح، سفید گھنے بادلوں سے نمودار ہوئی اور بڑے بڑے نیلے پردوں والے شامیانے میں اتر آئی۔۔۔ جب وہ رقص کرتے کرتے چکرا کر گر پڑی تو میں اس کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر خواب گاہ میں لے  آیا اور سو جان سے اس پر نچھاور ہونے لگا۔۔ ۔۔۔پھر اچانک کہیں سے نائیلہ ٹپک پڑی۔۔ ۔۔۔۔اس نے رینو کو میری خواب گاہ میں اس طرح آرام کی نیند لیتے ہوئے دیکھا تو وہ اپنا آپ کھو بیٹھی اور میری موجودگی کی پروا کئے بغیر اس پر پل پڑی۔۔۔۔او ر آخر کار اس کو دھکے مار مار کر گھر سے باہر نکال دیا۔۔۔

دفعتاً میری  آنکھ کھل گئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔گرم چائے کی پیالی میرے سامنے رکھی تھی جس میں سے ابھی تک بھاپ اٹھ رہی تھی۔۔۔مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ نائیلہ کب آئی اور کب چائے رکھ کر چلی گئی۔

’’چلو اچھا ہی ہوا۔۔۔ دوسرے اگر وعدے نہ نبھائیں تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ ہمیں ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں تاکہ ہم کسی سے کئے ہوئے اپنے وعدے نبھا لیں۔‘‘میں نے گرم چائے کی ایک چسکی لی اور اس بار میرے خیال کی رعنائیاں رینو کی بجائے نائیلہ کے تصور سے مہک اٹھیں۔

’’السلام علیکم۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔‘‘

میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔ ۔۔۔۔۔راحت چمکتی ہوئی  آنکھوں کے ساتھ مسکرا رہا تھا۔۔۔

’’تم۔۔ ۔۔۔؟‘‘

’’ہاں میں۔۔۔! دبئی والا گدھا۔۔۔۔تمہارے کالج کا دوست!۔۔ ۔۔۔۔نہیں !۔۔ رینو۔۔۔ تمہاری گدھی۔‘‘

’’ر۔۔ر۔۔۔ی۔۔۔۔رینو۔۔ ۔۔۔۔؟؟‘‘میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

’’ہاں۔۔ ۔۔۔۔واہ۔۔!پروفیسر صاحب۔۔۔!آپ تو بڑے پہونچے ہوئے  آدمی نکلے۔۔۔‘‘اور اس نے میرے کاندھے کو ہلکے سے تھپتھپایا۔

مجھے اپنے دل کے کسی مقام پر اسی طرح کی تکلیف کا احساس ہوا جس طرح کی تکلیف کا احسا اس وقت ہوا تھا جب میں بچہ تھا اور پیلی تتلی پکڑنے کی کوشش میں منہ کے بل گر پڑا تھا۔مگر اس بار باجی کو مار نہیں کھانی پڑی کیونکہ اب میں بچہ نہیں رہا تھا۔

٭٭٭